حقیقت بدعت کے جواب کا الجواب

آبی ٹوکول نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اپریل 26, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. آبی ٹوکول

    آبی ٹوکول محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 18, 2008
    پیغامات:
    158
    اسلام علیکم محترم قارئین کرام کچھ عرصہ قبل ہم نے حقیقت بدعت کے نام سے ایک مقالہ ترتیب دیا جس پر محترم باذوق صاحب نے چند اعتراضات وارد کیے تھے گو کہ ابھی انھوں نے اپنے اعتراضات مکمل نہیں کیے لیکن بہت عرصہ بیت چکا اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے لہذا جتنے اعتراضات اب تک وہ کر چکے ہیں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کا جواب دے دیا جائے اور جو بعد میں کریں گے ان کا جواب بعد میں دے دیا جائے گا۔ طریقہ کار ہمارا یہ ہوگا کہ پہلے باذوق صاحب کے اعتراض کو نقل کریں گے اور پھر اسے کوٹ کرکے سرخ رنگ سے نمایاں کریں گے پھر نیچے اس کا جواب نقل کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔

    محترم جناب باذوق صاحب آپ کا پوری حدیث نقل کرنا بھی ہمارے مدعا کے معارض نہیں ہے کیونکہ ہمارا دعوٰی ہے اشیاء میں اصل اباحت ہے اور ہم نے اسی دعوٰی کو بدعت کی وضاحت کے لیے بنیاد بنایا ہے اور اس حدیث میں وماسكت عنہ فہو مما عفا عنہ کے جو الفاظ ہیں ان میں ما اپنے عموم پر ہے اور اس میں ہر چیز داخل ہے لہذا آپکو چاہیے کہ اس ما کی عمومیت سے کسی بھی چیز کی تخصیص کے لیے اپنے دعوے کے ثبوت کے بطور کوئی دلیل نقل کریں وگرنہ آپکی بات میں کسی صاحب علم کے لیے کوئی وزن نہیں ہے

    ہمیں انتہائی افسوس ہوا کہ آپ جیسا صاحب علم شخص اتنا بھی نہیں جانتا کہ مباح کیا ہوتا ہے اور اس کے احکام کیا ہوتے ہیں ۔آیئے ہم سب سے پہلے آپکی خدمت میں مباح کی تعریف پیش کریں ۔
    مباح کی لغوی تعریف
    مباح کا لفظ اباحت سے مشتق ہے ۔ عربی لغت میں اباحت کا اطلاق درج زیل معنوں میں ہوتا ہے ۔
    ظاہر ہونا ، جائز آزاد اور غیر ممنوع ، گھر کا صحن ۔
    (ابن منظور ، زبیدی، فیروز آبادی، فیومی، جوہری۔ بحوالہ الحکم الشرعی ڈاکٹر طاہر القادری ص 214)
    مباح کی اصطلاحی تعریف:
    ھو ما خیر الشارع المکلف فعلہ وترکہ
    شارع کا مکلف کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے دونوں کا اختیار دینا مباح کہلاتا ہے۔
    مالا یمدح علی فعلہ ولا علی ترکہ۔
    جس کے کرنے اور چھوڑنے پر کوئی مدح نہ کی گئی ہو
    مالا یتعلق بفعلہ ولا ترکہ مدح و لازم
    جس کے کرنے اور چھوڑنے پر مدح یا سزا کا کوئی تعلق نہ ہو
    (آمدی ،غزالی،، السنوی، عبدالوھاب ،الشوکانی، بیضاوی،بحوالہ الحکم الشرعی ص215)
    مباح کا حکم ​
    مباح کا حکم یہ ہے کہ اس کے فعل پر یا ترک پر نہ ثواب ہوتا ہے اور نہ عتاب
    (الزحیلی بحوالہ الحکم الشرعی ص 215)
    اب ہم اس طرف آتے ہیں کہ مباح کا حکم بیان کرنے کے باوجود آپ کو اس عبارت سے جو دھوکا ہوا ہے وہ کیا ہے؟
    میرے بھائی پہلی بات تو یہ ہے کہ مباح وہ شئے کہ جس کے کرنے اور نہ کرنے پر شرع نے کوئی پابندی نہیں لگائی بلکہ اس کو مطلق بندوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اسی لیے اس کو مباح بھی کہتے ہیں کہ اس کرنے یا نہ کرنے میں اختیار ہر بندے کے پاس ذاتی ہوتا ہے۔ رہا یہ سوال کہ میلاد النبی کو بطور خوشی منانا اور عرس کرنا وغیرہ کیا یہ سب افعال و اعمال ہیں یا محض اشیاء تو اس کے لیے عرض ہے کہ اعمال و افعال اور اشیاء میں جو فرق ہے اس کو واضح کرنا اب آپ ہی کی ذمہ داری ہے نہ کے ہماری ۔ اب آپ ہی بتایئے کہ اشیاء اور افعال و اعمال کے درمیان کیا فرق ہے؟ جبکہ ہمارے نزدیک تو لفظ شیاء مطلق ہے اور اعمال و افعال وغیرہ یہ سب اسی کے اطلاقات ہیں اور دلیل ہماری قرآن پاک کی مشھور آیت ہے کہ جس میں رب قادر کریم فرماتا ہے کہ : اذا اراداللہ شیاء کن فیکون
    یہان بھی اللہ پاک مطلق لفظ شیاء فرمایا ہے اور اسی مطلق شیاء سے مراد اسکی ہر ہر مخلوق بھی ہے کہ جس میں انسان کی ذات سے لیکر اس کے اعمال تک سبھی آجاتے ہیں اللہ پاک ان سب کا خالق ہے جیسا کہ اللہ پاک ایک اور جگہ قرآن پاک میں فرماتا ہے ۔ ۔ ۔
    واللہ خالقکم بما کنتم تفعلون ۔
    ترجمہ اللہ تمہارا بھی خالق ہے اور جو کچھ کرتے ہو ہو (یعنی تمہارے افعال) ان کا بھی خالق ہے ۔
    آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جب اللہ پاک نے اپنی قدرت خلق کا مطلق ذکر کیا یعنی جب اپنی صفت قدرت کو مطلق رکھا تو لفظ شیاء کا استعمال کیا ۔ یہاں پر لفظ شیاء ہمارے مدعا کی بین دلیل ہے کہ شیاء سے تمام اشیاء مراد ہیں چاہے وہ کسی کی زات ہو یا اعمال و افعال ۔

    اب رہا آپکا یہ شبہ کہ میلاد النبی اور عرس وغیرہ کو ثواب سمجھ کر منایا جاتا ہے اس لیے یہ مباح کی تعریف میں نہیں آتے یہ بھی محض آپ کو دھوکا ہوا ہے اور اصل میں آپ بات کی حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے دیکھیئے میلاد منانا(آجکل کی ہیت مخصوصہ کے اعتبار) اپنے حکم کی اصل کے اعتبار سے مباح ہی ہے لیکن میلاد منانے کے پیچھے جو نظریہ کارفرما ہے وہ ہے تعظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تعظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قرآن پاک حکم بھی ہے اور قرآن پاک کے اس حکم کا یہ تقاضا بھی ہے کہ جو بھی مسلمان تعظیم مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم بجا لائے اس کو اس کا اجر و ثواب ضرور ملنا چاہیے ۔ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ کسی بھی کام کہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہونا ایک الگ امر ہے اور اسی اختیار کو یہاں مباح کہہ دیا گیا ہے اب ظاہر ہے انسان کوئی بھی کام کرئے گا یا تو وہ شریعت کے مزاج کے خلاف ہوگا یا پھر شریعت کے مزاج کے عین مطابق ۔ اب یہی مطابقت فاعل کو یا تو جزا کی طرف لے جائے گی یا پھر سزا کی طرف ۔ اوپر اعتراض میں جتنی بھی اشیاء کا آپ نے ذکر کیا وہ سب اپنے حکم اصلی کے اعتبار سے مباح ہی کہلائیں گی کیونکہ شارع کا ان پر کوئی واضح حکم موجود نہیں اسی لیے وہ مباح ٹھریں گی ۔کیونکہ اگر شارع نے ان کو کرنے کا حکم دیا ہوتا تو وہ یا تو فرض یا پھر واجب یا پھر سنت شمار ہوتیں اور اگر شارع نے ان سے منع کیا ہوتا تو وہ پھر حرام یا مکروہ تحریمی یا پھر تنزیہی قرار پاتیں لیکن شارع خاموش ہے اس لیے وہ اپنے کرنے یا نہ کرنے کے اعتبار سے تو مباح ہیں لیکن اگر ان میں کوئی علت ایسی پائی جائے جو کہ شریعت کے خلاف ہوتو پھر ایسی اشیاء کبھی ناجائز اور کبھی مکروہ (تحریمی یا تنزیہی) بھی قرار پائیں گی اور اگر ان میں کوئی ایسی علت نہ پائی جائے جوکہ شریعت کے خلاف ہو بلکہ اس کے برعکس ان میں کوئی ایسی بات پائی جائے جو کہ عین منشاء شریعت ہو تو ایسی تمام اشیاء اپنی اصل کے اعتبار سے مباح اور اپنے وقوع میں شریعت کے منشاء کےا عتبار سے کبھی مستحب اور کبھی سنت اور کبھی کبھی واجب بھی قرار پاتیں ہیں ۔ اسی لیے فقہاء اور محدثین نے اباحت کے اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اسی کو بنیاد بناتے ہوئے بدعت کی بھی پانچ اقسام بیان کی ہیں جو کہ آگے چل کر ہم نقل کریں گے مستند حوالہ جات سے سر دست تو مباح کی وضاحت پیش نظر تھی اور میں امید کرتا ہوں کہ میں اپنے قارئین سمیت باذوق صاحب کی ا لجھن بھی دور کرنے میں کامیاب ہوچکا ہوں گا۔

    سب سے پہلے تو ہمارا اس عبارت پر یہ سوال ہے کہ یہاں عبادت سے کیا مراد ہے ؟
    علامہ غلام رسول سعیدی اسی بات کی وضاحت میں جناب سرفراز خاں صفدر صاحب سے اپنی کتاب توضیح البیان میں پوچھتے ہیں کہ اگر امور دینیہ سے زکر اذکار اور خالص عبادات مثلا نماز روزہ مراد ہیں تو ظاہر ہے کوئی بھی مسلمان عید میلاد پر اظہار خوشی کو اس قسم سے نہیں جانتا پس اس کا بدعت اور حرام ہونا کیسے ٹھرے گا۔

    علامہ غلام رسول سعیدی کی یہ عبارت عبادات منصوصہ کے بارے میں ہے یعنی پنج وقت نماز ،روزہ اور اسی طرح وہ تمام عبادات کہ جن کے بارے میں شارع نے واضح احکام اُنکی ترتیب ، ترکیب ،اور اوقات وغیرہ مقرر فرمادیئے ہیں اب شارع کی عائد کردہ پابندی کے بعد کوئی شخص اگر کسی ایک فرض نماز کو کسی دوسری فرض نماز کے وقت میں یا پھر پانچ کی جگہ چھٹی فرض نماز ایجاد کرئے گا تو وہ اس عبارت کا مستحق ٹھرے گا نہ کہ کوئی ایسا شخص جو کہ کوئی بھی نفل نماز اپنی مرضی سے ان تمام اوقات میں کہ جن میں نفل پڑھنا منع نہیں ہے جتنے چاہے نفل پڑھے اور ثواب کی نیت سے پڑھے تو اس میں کوئی حرج نہ ہوگا کیونکہ نفل نماز تو ہے ہی وہ نماز کہ جس کو جس قدر بھی پڑھنے پر شارع نے بندے کو اختیار دیا ہے اب متنفل یہ نہیں دیکھے گا کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں وقت میں فلاں جگہ اتنی اتنی تعداد میں نفل پڑھے ہیں کہ نہیں؟ امید کرتا ہوں بات آپ کی سمجھ میں آگئی ہوگی۔

    آپکے اس عجیب و غریب مقولے کی مضحکہ خیزی پر کوئی بھی صاحب فھم آدمی آپ کو داد دیئے بغیر نہ رہ سکے گا کہ عجب مضحکہ خیزی ہے کہ ایک چیز جو کہ دین ہو اور اس کو حاصل کرنے کے لیے یا اس تک پہنچنے کے لیے جو زریعہ استعمال کیا جائے وہ دین نہ ہو بلکہ اس کا غیر ہو پہلی بات تو یہ ہے کہ دینی اور دنیاوی کی یہ تفریق بذات خود تعریف کی محتاج ہے کہ کن کن امور کو دینی اور کن کن امور کو دنیاوی کہا گیا ہے اور اگر کہا بھی گیا ہے تو کن معنوں میں کہا گیا ہے ۔ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو جب ہم دین اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں تو یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ دین اسلام ایک عالمگیر اور ہمہ جہت دین ہے کہ جس میں قیامت تک کہ ‌آنے والے تمام مسائل کا حل ہے چاہے وہ کسی بھی عنوان کے تحت ہوں اور یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور دوسری طرف جب ہمیں آپس کے مسائل میں کہیں ایک دوسرے سے اختلاف ہوجائے تو ہم دین اور دنیا کو الگ الگ گرداننے لگتے ہیں ایں چہ بوالعجبی است؟
    مجھے آپ یہ بتائیں کہ آخر وہ کون سے امور ہیں کہ جن کے بارے میں دین ہماری رہنمائی نہیں کرتا یہاں تو سوئی سے لیکر کپڑا کی تیاری تک جوتا پہننے سے لیکر مرنے تک بلکہ اس سے بھی بعد قبر میں دفنانے اور پھر خود قبر کے بارے میں بھی آداب و احکامات موجود ہیں آپ کس کس چیز کو دین اور دنیا کی تقسیم قرار دے کر اپنی جان چھڑائیں گے ۔
    آپ کہتے ہیں کہ جو کوئی بھی درس نظامی کو اختیار کرتا ہے تو کیا وہ اسے دین سمجھتا ہے ؟ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا درس نظامی کرنا آپکے نزدیک بے دینی ہے؟ تو گویا آپکے نزدیک مدرسوں میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کرنا بھی بے دینی ہے اور اس کے لیے وسائل اختیار کرنا بھی دین نہیں ہے وہ چاہے کہیں سے بھی اختیار کرلیں اور جو مرضی اختیار کرلیں ان کا دین سے کوئی تعلق نہ ہوگا اس طرح تو جس کو جو چیز چاہے گا وہ کرتا پھرے گا اور کہے گا یہ چیز میں دین سمجھ کر تو نہیں کررہا اس لیے مجھ پر کوئی جز ا اور سزا نہیں میں نے تو فلاں کا حق دنیا سمجھ کر مارا ہے اور میں نے فلاں کے ساتھ دنیا سمجھ کر زیادتی کی ہے وغیرہ وغیرہ ارے باذوق صاحب کیا ہوگیا ہے آپ کو ؟
    میرے ساتھ اس مسئلہ میں اختلاف کرنے میں آپ یوں الجھے کہ دین کو دنیا اور دین دو علیحدہ علیحدہ شقوں میں تقسیم کردیا اور اس پر مستزاد یہ کے آپ کا قلم یوں بہکا کہ درس نظامی کو بھی بے دینی سے تعبیر کردیا حالانکہ اس میں خالص قرآن و سنت کی تعلیم دی جاتی ہے ۔
    اور اوپر مسلم شریف کی جس حدیث کو آپ نے دین اور دنیا کی تقسیم وضع کرنے کے لیے تختہ مشق بنایا ہے اس میں دنیا کے لفظ سے مراد دین اور دنیا کی الگ الگ تقسیم نہیں ہے بلکہ وہاں دنیا کا لفظ اپنے عمومی اطلاق کے اعتبار سے آیا ہے نا کہ دین کے مقابلے میں آیا ہے ۔۔ ۔ ۔ ۔ جیسے ہمارے ہاں پنجابی اور اردو میں ایک لفظ دنیا داری بولا جاتا ہے اب سے جاہل لوگ تو دین اور دنیا کا الگ الگ ہونا مراد لے سکتے ہیں لیکن کسی بھی صاحب فھم آدمی پر یہ اچھی طرح روشن ہے ہے کہ دنیا داری کو کوئی بھی ایسا معاملہ نہیں ہے کہ جس کے بارے میں دین ہماری رہنمائی نہ فرماتا ہو ۔
    کائنات میں جتنی چیزیں ہیں انکے استعمال یا عدم استعمال اور جتنے عقیدے ہیں انکے ماننے یا نہ ماننے اور جتنے امور ہیں انکے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں ہمیں کوئی نہ کوئی حکم شرعی ضرور ملتا ہے چاہے وہ دلائل اربعہ کے خصوص سے ثابت ہو یا پھر عموم سے مسلم شریف کی یہ حدیث ہمارے مدعا پر واضح دلیل ہے کہ جس کا مفھوم یہ ہے کہ ۔ ۔
    حضرت سلمان فارسی سے روایت ہے کہ کفار نے آپ سے کہا کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ہر چیز بتاتے ہیں یہاں تک کے رفع حاجت کا طریقہ بھی بتاتے ہیں آپ نے جواب دیا ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    (مسلم ‌شریف‌) اس حدیث میں کل شئی کہ لفظ سے پتا چلا کہ دین کل کو محیط ہے کوئی بھی شئے دین سے باہر نہیں اور اگر آپ کو اب بھی اصرار ہے دین اور دنیا کی تقسیم پر اور اسی اصرار کی بنیاد پر آپ درس نظامی کو بھی دنیا سے تعبیر کرنے پر مصر ہیں تو پھر آپ کو آپ کے مدارس کی بے دینی مبارک ہو خدا کا شکر ہے کہ آپکو آپکے مقام کا بذات خود احساس ہوگیا ۔ ا سکے علاوہ بھی آپ نے مساجد میں لاوڈ اسپیکر اور لائٹیں وغیرہ لگوانا اور یوں پنکھوں اور گرمیوں میں اے سی اور سردیوں میں ہیٹر وغیرہ کا ھدیہ کرنا یہ سب بے دینی اور دنیاوی امور لگتے ہیں میرا ان سب پر آپ سے صرف ایک سوال ہے کہ اگر کوئی شخص ان میں سے کسی بھی چیز کا ھدیہ مسجد کو دیتا ہے تو کیا اس کو اس کا ثواب ملے گا یا نہیں اور اگر ملے گا تو یہ آپ کے قاعدے کے مطابق تو دنیاوی امور میں سے ہے پھر کیون ملے گا اور اگر نہیں ملے گا تو کیون نہیں ملے گا جب کے لوگ ثواب کی خاطر ایسا کرتے ہیں؟
    اس کے علاوہ آپ نے جتنے بھی علماء کی عبارات بدعت کو دینی امور میں کسی نئی چیز کے داخل کرنے پر وارد کیں ان میں سے کوئی بھی ہمارے خلاف نہیں کیونکہ ہمارے نزدیک دین اور دنیا کی الگ الگ تقسیم ان معنوں میں جائز نہیں کہ جن معنوں میں آپ فرمارہے ہیں رہا فاضل بریلوی کا حوالہ تو سردست جو حوالہ نمبر آپ نے دیا ہے میں نے انٹر نیٹ پر وہ تلاش کیا ہے جلد نمبر 11 میں صفحہ نمبر 41 پر ایسا کو ئی مسئلہ نہیں ہے فتاوٰی رضویہ میں لہذا آپ سے گذارش ہے کہ آپ اس حوالہ کی یا تو پوری عبارت اسکین کر کے لگائین یا پھر نیٹ سے ہی اس عبارت کا مکمل حوالہ بطور لنک پیش کریں۔
    تب تک ہمارے نزدیک فاضل بریلوی علیہ رحمہ کی اس عبارت سے یہی مقصود ہے کہ تمباکو نوشی ایک ایسا دنیاوی فعل ہے کہ جس پر شریعت نے کوئی ممانعت نہیں فرمائی اور چونکہ اپنی اصل کے اعتبار سے یہ ایک دنیاوی فعل ہے اس لیے اس کو اپنے عموم پر ہی برقرار رکھتے ہوئے فاضل بریلوی نے امور دنیا میں سے ایک امر قرار دیا ہے نہ کہ یہاں پر انکی مراد دین اور دنیا کی تقسیم ہے ۔


    اپنے اس اقتباس میں آپ نے لفظ بدعت کو شرعی بدعت کے ساتھ خاص کیا ہے میں پوچھ سکتا ہوں کہ یہ تخصیص آپ نے کس امر کی بنیاد پر فرمائی ہے ؟
    دیگر آپ کا یہ کہنا کہ یہ کوئی شرعی بدعت نہیں بلکہ اللہ کی مدد ہے تو عرض ہے کہ اللہ کی یہ مدد دین کے مکمل ہوجانے کے بعد کیوں وقوع پذیر ہوئی کیا وجہ تھی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایسا نہیں کیا گیا حالانکہ صحابہ کرام آپ کے دور میں بھی دور دراز کے علاقوں تک پہنچ گئے تھے اور پھر خلفائے راشدین کے دور میں ایسا کیوں نہیں کیا گیا؟ حالانکہ اس وقت تک دین کا عجم میں پھیل جانا کوئی اختلافی امر نہیں ہے؟ رہا وہ مغالطہ جو کہ آپ کی اس عبارت سے آپکو درپیش ہے تو اس کا جواب خود ہی آپ کی عبارت کے اگلے حصے میں موجود ہے کہ قرآن پاک بلاشبہ مکمل تھا لیکن عجمی کیوں کے قرآن پاک بغیر زیر زبر کے صحیح طریقے سے پڑھ نہیں سکتے تھے ا سلیے قرآن پاک پر اعراب کا اضافہ کیا گیا اور یہ اضافہ بظاہر تو اضافہ ہی تھا مگر اس سے قرآن کی تلاوت جوں کی توں ہی رہی اس کے معنٰی اور مفھوم میں کوئی فرق نہ پڑا اس لیے اس کو قرآن میں اضافہ نہیں کہہ سکتے کہ ان اعراب کی وجہ سے عجمی لوگ بھی بالکل اسی طرح قرآن تلاوت کرنے لگے کہ جیسا قرآن کریم تھا یا جیسے عربی تلاوت کیا کرتے تھے فرق صرف اتنا رہ گیا کہ عرب لوگ آج بھی بغیر اعراب کے قرآن کی تلاوت بالکل ٹھیک ٹھیک اسی طرح کرتے ہیں جیسا کہ ہم لوگ اعراب کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں امید کرتا ہوں آپکی الجھن دور ہوگئی ہوگی۔


    آپکے پیش کردہ ان تمام حوالاجات پر ہماری طرف سے عرض ہے کہ اول تو یہ تمام حوالاجات ہماری ہی تائید میں ہیں نہ کہ آپکی تائید میں اور اگر بالفرض محال آپکو ہماری بات منظور نہیں تو آپکو چاہیے تھا کہ ان تمام حوالاجات کی مکمل عبارات نقل فرماتے تاکہ آپ پر عمارا مدعا کھل واضح ہوجاتا اور بات نکھر کر سامنے آجاتی کہ جو ہم کہہ رہیں تمام فقہاء اور محدثین کی بھی وہی رائے ہے لیکن آپ نے نہ جانے کیوں تمام عبارات مکمل نقل نہیں کیں اب اسے ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ علمی میدان اور خاص طور پر استدلالی میدان میں اس قسم کی حرکت کو اچھے نظریے سے نہیں دیکھا جاتا مگر تاہم ہم آپ پر حسن ظن ہی رکھتے ہیں اور ان تمام عبارات کو مکمل نقل نہ کرنے کو آپکی چُوک سے ہی تعبیر کرتے ہیں۔ اب ترتیب وار آپکی نقل کردہ عبارات کا مکمل متن ڈاکٹر طاہر القادری کی کتاب البدعۃ عند الائمہ والمحدثین سے حاضر ہے صرف امام ابن کثیر اور ابن رجب حنبلی کا حوالہ چھوڑ کر کہ اس پر ہم نے آپ سے پہلے ہی سوال کیا ہے کہ بدعت کی تقسیم شرعی اور لغوی کرنے کی کیا دلیل ہے؟نیز یہ کہ ان کی عبارات بھی در اصل ہمارے ہی حق میں ہیں کہ وہ بدعت کو شرعی اور لغوی اعتبار سے تقسیم کرنے کے قائل ہیں اور ہم حسنہ اور سئیہ کے اعتبار سے۔
    اِمام علی بن اَحمد ابن حزم الاندلسی رحمۃ اللہ علیہ (456 ھ)
    اِمام ابن حزم اندلسی اپنی کتاب ’’الاحکام فی اُصول الاحکام‘‘ میں بدعت کی تعریف اور تقسیم بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :

    4. والبدعۃ کل ما قيل أو فعل مما ليس لہ أصل فيما نسب إليہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم و ہو في الدين کل مالم يأت في القرآن ولا عن رسول اﷲ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم إلا أن منہا ما يؤجر عليہ صاحبہ و يعذر بما قصد إليہ من الخير و منہا ما يؤجر عليہ صاحبہ و يکون حسنا و ہو ماکان أصلہ الإباحۃ کما روي عن عمر رضي اللہ عنہ نعمت البدعۃ ہذہ(1) و ہو ما کان فعل خير جاء النص بعموم استحبابہ و إن لم يقرر عملہ في النص و منہا ما يکون مذموما ولا يعذر صاحبہ و ہو ما قامت بہ الحجۃ علي فسادہ فتمادي عليہ القائل بہ. (2)

    ’’بدعت ہر اس قول اور فعل کو کہتے ہیں جس کی دین میں کوئی اصل یا دلیل نہ ہو اور اس کی نسبت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کی جائے لہٰذا دین میں ہر وہ بات بدعت ہے جس کی بنیاد کتاب و سنت پر نہ ہو مگر جس نئے کام کی بنیاد خیر پر ہو تو اس کے کرنے والے کو اس کے اِرادئہ خیر کی وجہ سے اَجر دیا جاتا ہے اور یہ بدعتِ حسنہ ہوتی ہے اور یہ ایسی بدعت ہے جس کی اصل اباحت ہے۔ جس طرح کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نعمت البدعۃ ہذہ قول ہے۔ اور یہ وہی اچھا عمل تھا جس کے مستحب ہونے پر نص وارد ہوئی اگرچہ پہلے اس فعل پر صراحتاً نص نہیں تھی اور ان (بدعات) میں سے بعض افعال مذموم ہوتے ہیں لہٰذا اس کے عامل کو معذور نہیں سمجھا جاتا اور یہ ایسا فعل ہوتا ہے جس کے ناجائز ہونے پر دلیل قائم ہوتی ہے اور اس کا قائل اس پر سختی سے عامل ہوتا ہے۔‘‘

    1. مالک، المؤطا، باب ما جاء في قيام رمضان، 1 / 114، رقم : 250
    2. بيہقي، شعب الايمان، 3 / 177، رقم : 3269
    3. سيوطي، تنوير الحوالک شرح مؤطا مالک، 1 / 105، رقم : 250
    4. ابن رجب حنبلي، جامع العلوم والحکم، 1 / 266


    ابن حزم الاندلسي، الاحکام في اُصول الاحکام، 1 : 47
    آپ نے دیکھا قارئین درج بالا عبارت میں بولڈ کیئے گئے نیلے رنگ کے الفاظ کس طرح ہمارا مدعا ثابت کررہے ہیں۔

    (13) اِمام ابو اسحاق ابراہیم بن موسيٰ الشاطبی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 790ھ
    )
    علامہ ابو اسحاق شاطبی اپنی معروف کتاب ’’الاعتصام‘‘ میں بدعت کی اقسام بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 16.

    ہذا الباب يُضْطَرُّ إِلي الکلام فيہ عند النظر فيما ہو بدعۃ وما ليس ببدعۃ فإن کثيرًا من الناس عدوا اکثر المصالح المرسلۃ بدعاً و نسبوہا إلي الصحابۃ و التابعين و جعلوہا حجۃ فيما ذہبوا إليہ من اختراع العبادات وقوم جعلوا البدع تنقسم بأقسام أحکام الشرعيۃ، فقالوا : إن منہا ما ہو واجب و مندوب، وعدوا من الواجب کتب المصحف وغيرہ، ومن المندوب الإجتماع في قيام رمضان علي قارئ واحد. و أيضا فإن المصالح المرسلۃ يرجع معناہا إلي إعتبار المناسب الذي لا يشہد لہ أصل معين فليس لہ علي ہذا شاہد شرعيّ علي الخصوص، ولا کونہ قياساً بحيث إذا عرض علي العقول تلقتہ بالقبول. وہذا بعينہ موجود في البدع المستحسنۃ، فإنہا راجعۃ إلي أمور في الدين مصلحيۃ. في زعم واضعيہا. في الشرع علي الخصوص. وإذا ثبت ہذا فإن کان إعتبار المصالح المرسلۃ حقا فإعتبار البدع المستحسنہ حق لأنہما يجريان من واد واحد. وإن لم يکن إعتبار البدع حقا، لم يصح إعتبار المصالح المرسلۃ.

    ’’اس باب ميں یہ بحث کرنا ضروری ہے کہ کیا چیز بدعت ہے اور کیا چیز بدعت نہیں ہے کیونکہ زیادہ تر لوگوں نے بہت سی مصالح مرسلہ کو بدعت قرار دیا ہے اور ان بدعات کو صحابہ کرام اور تابعین عظام کی طرف منسوب کیا ہے اور ان سے اپنی من گھڑت عبادات پر استدلال کیا ہے۔ اور ایک قوم نے بدعات کی احکام شرعیہ کے مطابق تقسیم کی ہے اور انہوں نے کہا کہ بعض بدعات واجب ہیں اور بعض مستحب ہیں، انہوں نے بدعات واجبہ میں قرآن کریم کی کتابت کو شمار کیا ہے اور بدعات مستحبہ میں ایک امام کے ساتھ تراویح کے اجتماع کو شامل کیا ہے۔ مصالح مرسلہ کا رجوع اس اعتبار مناسب کی طرف ہوتا ہے جس پر کوئی اصل معین شاہد نہیں ہوتی اس لحاظ سے اس پر کوئی دلیل شرعی بالخصوص نہیں ہوتی اور نہ وہ کسی ایسے قیاس سے ثابت ہے کہ جب اسے عقل پر پیش کیا جائے تو وہ اسے قبول کرے اور یہ چیز بعینہ بدعات حسنہ میں بھی پائی جاتی ہے کیونکہ بدعات حسنہ کے ایجاد کرنے والوں کے نزدیک ان کی بنیاد دین اور بالخصوص شریعت کی کسی مصلحت پر ہوتی ہے اور جب یہ بات ثابت ہو گئی تو مصالح مرسلہ اور بدعات حسنہ دونوں کا مآل ایک ہے اور دونوں برحق ہیں اور اگر بدعات حسنہ کا اعتبار صحیح نہ ہو تو مصالح مرسلہ کا اعتبار بھی صحیح نہیں ہو گا۔
    ‘‘

    شاطبی، الإعتصام، 2 : 111

    علامہ شاطبی ’’بدعت حسنہ‘‘ کے جواز پر دلائل دیتے ہوئے مزید فرماتے ہیں ​
    :

    : فواﷲ لو کلفوني نقل جبل من الجبال ما کان أثقل عليّ من ذلک. فقلت : کيف تفعلون شيئًا لم يفعلہ رسول اﷲ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ؟ فقال أبوبکر : ہو واﷲ خير، فلم يزل يراجعني في ذلک أبوبک. أن أصحاب رسول اﷲ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اتفقوا علي جمع المصحف وليس تَمَّ نص علي جمعہ وکتبہ أيضا. . بل قد قال بعضہم : کيف نفعل شيئاً لم يفعلہ رسول اﷲ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم؟ فروي عن زيد بن ثابت رضي اللہ عنہ قال : أرسل إِليّ أبوبکر رضي اللہ عنہ مقتلَ (أہل) اليمامۃ، و إِذا عندہ عمر رضي اللہ عنہ، قال أبوبکر : (إن عمر أتاني فقال) : إِن القتل قد استحرّ بقراءِ القرآن يوم اليمامۃ، و إِني أخشي أن يستحرّ القتل بالقراءِ في المواطن کلہا فيذہب قرآن کثير، و إِني أري أن تأمر بجمع القرآن. (قال) : فقلت لہ : کيف أفعل شيئًا لم يفعلہ رسول اﷲ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ؟ فقال لي : ہو واﷲ خير. فلم يزل عمر يراجعني في ذلک حتي شرح اﷲ صدري لہ، ورأيت فيہ الذي رأي عمر. قال زيد : فقال أبوبکر : إنک رجل شاب عاقل لا نتہمک، قد کنت تکتب الوحي لرسول اﷲ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ، فتتبع القرآن فاجمعہ. قال زيد ر حتي شرح اﷲ صدي للذي شرح لہ صدورہما فتتبعت القرآن أجمعہ من الرقاع والعسب واللخاف، ومن صدور الرجال، فہذا عمل لم ينقل فيہ خلاف عن أحد من الصحابۃ. (1). . . . حتي اذا نسخوا الصحف في المصاحف، بعث عثمان في کل افق بمصحف من تلک المصاحف التي نسخوہا، ثم امر بما سوي ذٰلک من القراء ۃ في کل صحيفۃ أو مصحف أن يحرق. . . . ولم يرد نص عن النبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم بما صنعوا من ذلک، ولکنہم رأوہ مصلحۃ تناسب تصرفات الشرع قطعا فإن ذلک راجع إلي حفظ الشريعۃ، والأمر بحفظہا معلوم، وإلي منع الذريعۃ للاختلاف في أصلہا الذي ہوالقرآن، وقد علم النہي عن الإختلاف في ذلک بما لا مزيد عليہ. واذا استقام ہذا الأصل فاحمل عليہ کتب العلم من السنن و غيرہا إذا خيف عليہا الإندراس، زيادۃ علي ما جاء في الأحاديث من الأمر بکتب العلم. (2) ’’

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ قرآن کریم کو ایک مصحف میں جمع کرنے پر متفق ہو گئے حالانکہ قرآن کریم کو جمع کرنے اور لکھنے کے بارے میں ان کے پاس کوئی صریح حکم نہیں تھا۔ ۔ ۔ لیکن بعض نے کہا کہ ہم اس کام کو کس طرح کریں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا جبکہ یمامہ والوں سے لڑائی ہو رہی تھی اور اس و قت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے کتنے ہی قاری شہید ہوگئے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ قراء کے مختلف جگہوں پر شہید ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کا اکثر حصہ جاتا رہے گا۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن مجید کے جمع کرنے کا حکم دیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں وہ کام کس طرح کرسکتا ہوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا تو انہوں نے مجھے کہا خدا کی قسم یہ اچھا ہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس بارے میں مجھ سے بحث کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعاليٰ نے اس معاملے میں میرا سینہ کھول دیا۔ میں نے بھی وہ کچھ دیکھ لیا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا حضرت زید کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر نے مجھے فرمایا آپ نوجوان آدمی اور صاحب عقل و دانش ہو اور آپ کی قرآن فہمی پر کسی کو اعتراض بھی نہیں اور آپ آقا علیہ السلام کو وحی بھی لکھ کر دیا کرتے تھے۔ آپ قرآن مجید کو تلاش کرکے جمع کردیں تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا خدا کی قسم اگر آپ مجھے پہاڑوں میں کسی پہاڑ کو منتقل کرنے کا حکم دیں تو وہ میرے لیے اس کام سے زیادہ مشکل نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ اس کام کو کیوں کر رہے ہو جسے آقا علیہ السلام نے نہیں کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا خدا کی قسم اس میں بہتری ہے۔ تو میں برابر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بحث کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعاليٰ نے میرا سینہ کھول دیا جس طرح اللہ تعاليٰ نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما کا سینہ کھولا تھا۔ پھر میں نے قرآن مجید کو کھجور کے پتوں، کپڑے کے ٹکڑوں، پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے تلاش کرکے جمع کردیا۔ یہ وہ عمل ہے جس پر صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے کسی کا اختلاف نقل نہیں کیا گیا۔ ۔ ۔ حتی کہ جب انہوں نے (لغت قریش پر) صحائف لکھ لیے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تمام شہروں میں ان مصاحف کو بھیجا اور یہ حکم دیا کہ اس لغت کے سوا باقی تمام لغات پر لکھے ہوئے مصاحف کو جلا دیا جائے۔ ۔ ۔ حالانکہ اس معاملہ میں ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی حکم نہیں تھا لیکن انہوں نے اس اقدام میں ایسی مصلحت دیکھی جو تصرفات شرعیہ کے بالکل مناسب تھی کیونکہ قرآن کریم کو مصحف واحد میں جمع کرنا شریعت کے تحفظ کی خاطر تھا اور یہ بات مسلّم اور طے شدہ ہے کہ ہمیں شریعت کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے اور ایک لغت پر قرآن کریم کو جمع کرنا اس لیے تھا کہ مسلمان ایک دوسرے کی قرات کی تکذیب نہ کریں اور ان میں اختلاف نہ پیدا ہو اور یہ بات بھی مسلّم ہے کہ ہمیں اختلاف سے منع کیا گیا ہے اور جب یہ قاعدہ معلوم ہو گیا تو جان لو کہ احادیث اور کتب فقہ کو مدون کرنا بھی اسی وجہ سے ہے کہ شریعت محفوظ رہے، علاوہ ازیں احادیث میں علم کی باتوں کو لکھنے کا بھی حکم ثابت ہے۔‘‘
    1. بخاري، الصحيح، 4 : 1720، کتاب التفسير، باب قولہ لقد جاء کم رسول، رقم : 4402
    2. بخاري، الصحيح، 6 : 2629، کتاب الاًحکام، باب يستحب للکاتب أن يکون اميناً عاقلاً، رقم : 6768
    3. ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 283، کتاب التفسير، باب من سورۃ التوبۃ رقم : 3103
    4. نسائي، السنن الکبريٰ، 5 : 7، رقم : 2202
    5. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 13، رقم : 76
    6. ابن حبان، الصحيح، 10 : 360، رقم : 4506

    شاطبي، الاعتصام، 2 : 115
    آپ نے دیکھا قارئین کرام کے علامہ شاطبی کی مکمل عبارت کس طرح ہماری ایک ایک بات کی مضبوط دلیل ہے ۔اور یہی کچھ ہم نے بھی اپنی بات کے آغاز میں فرمایا تھا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں