مشاہیر صحابہ کی قبریں نامعلوم کیوں ہیں۔

بابر تنویر نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏اکتوبر، 28, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,321
    مشاہیر صحابہ کی قبریں نامعلوم کیوں ہیں۔
    بلند پایہ صاحب قلم اور مشہور مؤرخ استاذ رفیق اپنی کتاب " أشهر مشاهير الاِسلام" میں ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے اخیر میں " كلمة في القبور" کا عنوان قائم کرکے لکھتے ہیں:

    " اس عنوان کے تحت میرا مقصد قبروں کی تاریخ مرتب کرنا نہیں ہے جیسا کہ نواویس، اہرام مصر اور دوسرے آثار و ثنیت کی تاریخیں مرتب کی گئی ہیں۔ بلکہ قاری کے ذہن و فکر کو اس نقطہ کی طرف منعطف کرنا ہے کہ امین الامۃ ابو عبیدہ ابن الجراح جیسے عظیم فاتح اور ہیرو اور دیگر جلیل القدر صحابہ کی قبروں کی تعیین میں اتنا زیادہ اختلاف کیوں ہے؟ حالانکہ یہ سب وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے بڑی بڑی سلطنتوں کو زوید نگین کیا اور عظیم مملکت اسلامیہ کی بنیاد رکھی جو فاتحانہ عزائم کی مالک تھیں اور فضل و احسان اور تقوی و صلاح میں اس بلند مقام پر فائز تھیں کہ انبیاءکے علاوہ اولین و آخرین میں کسی کی وہاں تک رسائی نہ ہوسکی۔

    مؤرخین نے ان اعاظم رجال کے حالات اس بسط وتفصیل کے ساتھ لکھے ہیں اور ان کے فاتحانہ کارناموں کی جمع تدوین کے طرف اس جزرسی کے ساتھ توجہ دی ہے کہ مزید طلب کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی۔ اس طرح انہوں نے بلاشبہ دین و ملت کی بے مثال خدمت انجام دی ہے۔ لیکن ایک عام ناظر جب یا تاریخیں اور تذکرے پڑھتا ہے تو اسے یہ صورت حال دیکھ کر سخت حیرت اور تعجب ہوتا ہے کہ ان اعاظم رجال کی قبروں کا کوئی نام و نشان نہیں ملتا۔ مؤرخین یہ بھی نہیں بتاتے کہ یہ عطیم الشان ہستیاں کہاں دفن کی گئیں۔ حالانکہ یہ بلند پایہ مشاہیر جلالت قدر، عظمت شان اور عالمگیر شہرت کے مالک تھے۔ دین و ایمان کی طرف سبقت اور دعوت قرآن کی نشر و اشاعت کی جو فضیلت انہیں حاصل تھی اس کی وجہ سے وہ دلوں پر حکمرانی کر رہے تھے۔ ان صنادید اسلام کا تذکرہ پڑھتے وقت قاری کے ذہن میں کم ازکم یہ بات ضرور آتی ہوگی کہ ان کی قبریں معلوم اور معروف و مشہور ہوں گی۔ بلکہ ان پر اونچے اونچے مقبرے، خوش رنگ قبے اور دیدہ زیب گنبد بنے ہوں گے۔ ان کے صلاح و تقوی اور ایمان و اخلاص اور شرف صحبت نبوی کے اعتراف میں تو ان کے فاتحانہ کارناموں ہی کی یاد میں جن کی نظیر پیش کرنے سے بڑے بڑے سلاطین قاصر ہیں، ان کی یادگاریں قائم کی گئی ہوں گی، ۔۔۔۔۔۔ مگر امر واقعہ اس کے بالکل برخلاف ہے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان مشاہیر اسلام کی قبریں مؤرخین اسلام کے نزدیک کیوں قابل اعتناء نہ ہوئیں؟ اور وہ قبریں کیسے بے نام و نشان ہوگئیں۔ جن میں اکابر صحابہ تبع تابعین آرام فرما ہیں، حتی کہ ارباب سیر ان کے مقام دفن تک کی تعیین میں مختلف الرائے ہیں۔ کوئی کسی شہر میں بتاتا ہے کوئی کسی شہر میں۔ بعض ملکوں میں صحابہ کی جو قبریں پائ جاتی ہیں ان کی بنیاد محض ظن و تخمین پر ہے اور بعد میں لوگوں نے پر مقبرے تعمیر کردیے ہیں۔ آخر ان مشاہیر صحابہ و تابعین کی قبریں کیونکر ضائع ہوگئیں اور گوشہ گم نامی میں کھو گئیں۔ حالانکہ مشاہدہ یہ ہے کہ قبروں کے ساتھ مسلم قوم کی خاص عنایت رہی ہے۔ اونچی اونچی قبری بنانا، قبروں پر قبے اور مسجدیں تعمیر کرنا اس قوم کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ خصوصا ان ظالم امرا و سلاطین کی قبروں پر جن کا دین اسلام میں کوئی خاص مقام اور قابل ذکر کردار نہیں ہے۔ اسی طرح ان نام نہاد مشائخ اورگمراہ صوفیوں کی قبروں پر جن میں اکثر اسلامی احکام تک سے ناواقف اور بے بہرہ ہونے تھے۔ ان امرا و صوفیاء کو حضرت ابو عبیدہ بن الجراح وغیرہ اکابر صحابہ سے کیا نسبت۔ صحابہ نے دین کو سرسبز و شاداب حالت میں پایا اور تقوی و فضیلت میں بلند ترین مقام پر فائز ہوئے۔

    ‏ " بہر حال ایک عام قاری کے ذہن میں مذکورہ بارا خلش پیدا ہوتی ہے، لیکن سلف صالحین کے حالات کا صحیح تجزیہ کرنے سے یہ خلش بہ آسانی زائل ہوجائے گی اور مذکورہ سوال کا جواب مل جاۓ گا۔۔"

    " صحابہ و تابعین اپنے زمانہ میں مشاہیر و اخیار اور سر آمد روزگار ہستیوں کی تعظیم کا جذبہ کچھ کم نہ رکھتے تھے۔ مگر وہ تعظیم و احترام اسلامی حدود میں کرتے تھے، قبروں کو پختہ بنانے اور بوسیدہ ہڈیوں کی تعظیم سے نفرت کرتے تھے، کیونکہ صاحب شریعت بیضا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ وہ جانتے تھے کہ دین حنیف بت پرستی کے ہر نشان اور تعظیم رفاقت کے تمام آثار، قبروں پر جلوس ار مراقبہ وغیرہ کو محو کردینا چاہتا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ بہترین قبریں وہ ہیں جو بے نام و نشان ہوں، ان کا عقیدہ یہ تھا کہ روشن یادگار اعمال صالحہ کی یادگار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کی نسلوں کو کبار صحابہ اور بے مثال مجاہدین میں سے اکثر کی قبروں کا کوئی علم ہی نہیں ہے بعض کا کچھ علم ہے بھی تو موضع قبر میں مؤرخین کی آراء مخالف اور رایوں کے بیانات باہم متناقص ہیں۔"

    " اگر قرون اولی میں قبروں اور ان پر قبے اور مسجدیں تعمیر کرکے انہیں محفوظ کرنے کا کجھ بھی اثر و رواج رہا ہوتا تو یہ محولہ بالا اختلاف نظر نا آتا اور کبار صحابہؓ کی قبریں آج بھی تعیین کے ساتھ معلوم ہوتیں، جیسا کہ بہت سے مکار صوفیاء و مشائخ کی قبریں معلوم و محفوظ ہیں اور ان پر اہل بدعت طریقہ سلف کے خلاف مشاہد و مقابر تعمیر کیے ہوئے ہیں، حتی کہ اکثر مزارات و مشاہد قدیم قوموں کے ہیاکل اور استھان کے نمائندگی اور وثنیت کا اس قبیح ترین صورتوں کے ساتھ اعادہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، خدا پرستی سے ان کو دور کا بھی واسطہ نہیں رہ گیا ہے۔ یہ سب شرک کے اڈے بنے ہوئے ہیں، اگر مسلمان بہ ارادہ عبرت اس پہلو پر غور و فکر کرتے ہیں کہ ان صحابہ کی قبریں کیوں ضائع اور گمنام ہوگئیں جن کے ذریعہ ان (مسلمانوں) کو دین ملا اور جن کے ذریعہ اللہ نے دین کی نصرت فرمائی تو یہ مسلمان قبروں پر قبے تعمیر کرنے اور ان کی تعظیم کرنے کی جسارت نہ کرتے، کیونکہ اس کی نہ تو شریعت اجازت دیتی ہے نہ عقل و بصیرت، نیز وہ ان صحابہ و تابعین کی روش کے بھی خلاف ہے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت دین اسلام کے اسرار و رموز اور مصالح احکم کو ہم تک پہنچایا مگر تف! ہم نے انہیں ضائع کر دیا اور دین کو ایک تماشا بنا ڈالا۔"

    من از بیگانہ گان ہر گز نہ نالم
    کہ بامن آنچہ کرد آنن آشنا کرد۔

    (مجھے اجنبی سے کوئی شکایت نہیں، کیونکہ میرے خلاف جو کیا ہے وہ میرے آشنا نے کیا ہے)

    قبروں کے تئیں اسلام کا موقف کیا ہے؟ صیح مسلم میں ابو الہیاج اسدی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا " میں تمہیں اس مہم پر نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا وہ یہ کہ کسی مجسمہ کو مٹائے بغیر نہ رہوں اور کسی اونچی قبر کو برابر کیس بغیر نہ چھوڑو" صحیح مسلم ہی کی ایک اور حدیث ثمامہ بن شفی سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ رومی علاقہ کے ایک مقام روڈس پہنچے، وہاں ہمارے ایک ساتھی کی وفات ہوگئ، فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ قبر زمین کے برابر رکھی جائے، پر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ تسویہ قبور کا حکم دیتے تھے۔"

    " یہ ہے قبروں کے بارے میں اسلام کا مزاج جسے امانت نبوی کے حاملین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہم تک پہنچایا اور عہد امانت کو مؤکد کردینے کے لیے فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرف بہ حرف تعمیل کی تاکہ ہم ان کے نقوش قدم کی پیروی کریں اور ان کے نبی کی سیرت طیبہ سے ہدایت یاب ہوں لیکن ہو اپنی کوتاہ فہمی اور کور عقلی کی وجہ سے ان جزئیات کی حقیقت کا اداک کرنے سے قاصر رہے اور تشریح الہی کی حکم تک رسائی نہ پا سکے، وہ حکمت و مصلحت یہ تھی کہ شرک و بت پرستی کے ہر راستے کو مسدود اور تمام چھوٹے بڑے سوتوں کو بند کر دیا جائے تاکہ وہ مسلم معاشرہ میں داخل ہونے کے لیے کسی طرح راہ نہ پاسکے، مگر ہم نے اس حکمت کی کوئی پروا نہیں کی اور شریعت کے بجائے ناقص عقل کو حکم بنا لیا اور ابتدا‌ءً پختہ قبریں بنانے کو ایک جزئی مسئلہ سمجھ کر جائز قرار دے لیا، لیکن رفتہ رفتہ یہ چیز کلیات دین میں شامل ہوگئ اور دین میں خلل اور عقیدہ توحید کی بربادی کا سبب بن گئی، کیونکہ ہم تعظیم قبور کی راہ پر برابر آگے ہی بڑھتے گئے، قبروں پر مساجد و مشاہد تعمیر کرنے لگے، نذو نیاز اور دیگر عبادات و قربات کے لیے قبروں کی بوسیدہ ہڈیوں کو مرجع و مقصود بنا لیا اور یوں ہم منکرات کی دلدل میں دہنستے ہی چلے گئے جس سے بچانے ہی کی خاطر شریعت نے ہمیں قبروں کو بے نام و نشان رکھنے کا حکم دیا تھا، ہم اب بھی شریعت کی حکمت و مصلحت سے برابر غفلت برت رہے ہیں اور حق سے کشمکش کر رہے ہیں کہ نتیجتاً ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہم بھی ہلاک و برباد ہوجائیں۔"

    انتھی کلام الاستاذ رفیق بک۔

    اقتباس از : قبروں پر مساجد اور اسلام
    تالیف : محدث العصر ناصر الدین البانی
    ترجمہ محفوظ الرحمن فیضی
    کمپوزنگ براۓ اردو مجلس بابر تنویر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    جزاک الله خیرا
     
  3. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,869
    جزاک الله خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں