آئیں [you] ایک حدیث کا اضافہ کریں

کارتوس خان نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اپریل 30, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. اھل السنۃ

    اھل السنۃ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 24, 2008
    پیغامات:
    295
    رسول اللہ صلی نے فرمایا:
    تم جنت میں نہیں جا سکتے جب تک ایمان نہ لاؤ
    تم ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو
    کیا تمہیں ایسی چیز بتائوں کہ جس کے کرنے سے تم آپس میں محبت کرنے لگو
    "سلام" کو عام کرو۔ مسلم
     
  2. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    369
    السلام و علیکم
    کچھ عرصہ پہلے یہ اوپر والی حدیث میں‌نے لکھی تھی۔ کمی بیشی اللہ تعالٰی معاف فرمائیں آمین۔
    آج صحیح مسلم (مختصر) کا مطالعہ کرتے ہوئے یہی حدیث سامنے آئی تو سوچا یہ والی بھی پوسٹ کردوں کیونکہ یہاں‌تھوڑی تفصیل زیادہ ملی ہے:

    باب دشمن کے ساتھ آمنا سامنا کرنے کی آرزو نہ کرنا، لیکن جب آمنا سامنا ہو، تو صبر کرنا چاہیئے
    حدیث نمبر 1126
    ابو النضر سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی جو کہ قبیلہ اسلم سے تعلق رکھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، کی کتاب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نےعمر بن عبیداللہ کو کہ جب وہ حروریہ کی طرف (لڑائی) کے لیئے نکلے، تو لکھا اور وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل کی خبر دینا چاہتے تھے کہ جن دنوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن سے لڑائی کی حالت میں‌تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زوالِ آفتاب تک انتظار کیا پھر لوگوں (صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم اجمیعن) میں‌کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! دشمن سے (لڑائی) ملاقات کی آرزو مت کرو اور اللہ تعالٰی سے سلامتی کی آرزو کرو۔ (لیکن)جب آمنا سامنا ہو جائے تو صبر سے کام لو اور جان رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور یوں‌دعا فرمائی کہ اے اللہ! کتاب نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے، اور جتھوں‌کو بھگانے والے، ان کو بھگا دے اور ان پر ہماری مدد فرما۔
    (آمین ثم آمین)
    واللہ اعلم
     
  3. شاہد جمیل حفیظ

    شاہد جمیل حفیظ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2007
    پیغامات:
    35
    حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دو قسم کی آوازیں ایسی ہیں جن پر دنیا و آخرت میں لعنت کی گئی ہے۔
    ایک خوشی کے موقع پر باجے تاشے کی آواز
    دوسرے مصیبت کے موقع پر آہ وبکا اور نوحہ کرنے والی آواز
     
  4. era meer

    era meer -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 28, 2008
    پیغامات:
    220
    زکوٰہ ادا نہ کرنے کا انجام

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”جس شخص کو اللہ تعالٰی نے مال دیا، پھر اس نے اس کی زکوٰہ ادا نہیں کی تو اس کا مال قیامت کے دن نہایت زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کرلے گا۔ جس کے (سر پر) دو سیاہ نقطے ہوں گے اور وہ قیامت کے دن اس (کے گلے) کا طوق بن جائے گا پھر وہ سانپ اس کے دونوں جبڑوں کو پکڑے گا اور کہے گا، میں تیرا مال ہوں۔ میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت فرمایا: ”وہ لوگ جو اس چیز میں بخل کرتے ہیں جسے اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے اچھا ہے۔ بلکہ یہ ان کے حق میں برا ہے جو کچھ انہوں نے بخل کیا ہوگا۔ آگے وہی قیامت کے دن ان (کے گلے) کا طوق بن جائے گا”۔
    (بخاری و مسلم)
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,859
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:٫٫ من لم یحافظ علیھا لم تکن لہ نورا ولا نجاة و لابرھان وکان یوم القیامة مع قارون و فرعون و ھامان وأبی بن خلف،، ٫٫جس نے نماز کی حفاظت نہیں کی(اسے ادا نہیں کیا)تو اس کے لئے نہ کوئی روشنی ہوگی نہ نجات اور نہ کوئی دلیل،(وہ بے نمازی )قیامت کے دن قارون فرعون ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا،،(دارمی کتاب الرقاق باب:١٣حدیث:٢٧٢٤ )
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,859
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    عن ابی ھریرہ رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ قال:
    [ar]”بادروا بالاعمال فتنا کقطع اللیل المظلم۔ یصبح الرجل مومناً ویمسی کافراً اویمسی مؤمنا ویصبح کافراً یبیع دینہ بعرض من الدنیا“[/ar]
    (رواہ مسلم)

    نیک اعمال کی جلدی کرلو اس سے پہلے کہ کچھ ایسے فتنے آئیں جو رات کے سیاہ پردوں کی طرح (چھا جانے والے) ہوں۔ آدمی صبح کو مومن ہوگا تو شام کو کافر ہوا ہوگا۔ یا شام کے وقت مومن ہوگا تو صبح تک کافر بنا ہوگا۔ دنیا کے کسی لالچ کے عوض آدمی اپنا دین بیچ دیا کرے گا“۔

    پس فتنوں کے دور میں نواقض اسلام، (یعنی وہ باتیں جن کے ارتکاب سے آدمی حالت ایمان سے حالت کفر میں چلا جاتا ہے،) کا علم رکھنا اور ان سے بے حد خبردار رہنا اور دوسروں کو خبردار کرنا اس حدیث کی رو سے اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔
     
  7. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    عقیدہ توحید کی فضیلت

    (( عن عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من شھد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ ورسولہ وان عیسی عبداللہ ورسولہ وکلمتہ ، القاھا الی مریم و روح منہ والجنۃ حق والنار حق ادخلہ اللہ الجنۃ علی ما کان من العمل )) ( رواہ البخاری و مسلم )

    ” حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جو اس نے مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا اور اس کی طرف سے روح ہیں اور جنت برحق ہے دوزخ بھی برحق ہے اللہ اسے جنت میں داخل کر دے گا خواہ وہ کیسے ہی عمل کرتا رہا ۔ “
     
  8. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    اللہ پر بھروسہ
    عن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قال کنت خلف النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا غلام انی اعلمک کلمات احفظ اللہ یحفظک ، احفظ اللہ تجدہ تجاھک اذا سالت فاسال اللہ واذا استعنت فاستعن باللہ واعلم ان الامۃ لواجتمعت علی ان ینفعوک بشیءلم ینفعوک الابشی ءقد کتبہ اللہ تعالی لک وان اجتمعوا علی ان یضروک بشیءلم یضروک الابشیءقدکتبہ اللہ تعالی علیک رفعت الاقلام وجفت الصحف ( رواہ الترمذی )

    ” حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں کسی سواری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اے لڑکے میں تجھے کچھ باتیں سکھاتا ہوں اللہ کا لحاظ کرو اللہ تمہارا لحاظ کرے گا ۔ اللہ کا لحاظ کرو تم اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے جب بھی سوال کریں تو اللہ سے سوال کریں اورجب کبھی امداد طلب کریں تو اللہ ہی سے مدد مانگیں اور خوب جان لیں کہ اگر پوری قوم تجھے کچھ فائدہ پہنچانے کے لئے جمع ہو جائے تو وہ تمہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتی ، سوائے اس کے جو اللہ نے تیرے لئے رکھا ہوا ہے اور اگر اس بات پر جمع ہو جائے کہ تیرا کچھ نقصان کردے تو وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکتی سوائے اس نقصان کے جو اللہ نے پہلے ہی لکھ دیا ہے ۔ قلم اٹھا لئے گئے ہیں اور رجسٹر خشک ہو گئے ہیں “ ۔ ( ترمذی )
     
  9. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    دنیا سے بے نیازی

    (( عن سھل بن سعد قال: کنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بذی الحلیفۃ۔ فاذا ھو بشاۃ میتۃ شائلۃ برجلھا فقال: اترون ھذہ ھینۃ علی صاحبھا؟ فوالذی نفسی بیدہ للدنیا اھون علی اللہ، من ھذہ علی صاحبھا، ولو کانت الدنیا تزن عند اللہ جناح بعوضۃ، ما سقی کافرا منھا قطرۃ ابدا )) ( سنن ابن ماجہ، الزھد، باب مثل الدنیا، حدیث:4110 )

    ” حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم ذوالحلیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مردہ بکری دیکھی جو اپنا پاؤں اوپر اٹھائے ہوئے پڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا سمجھتے ہو؟ یہ بکری اپنے مالک کے لئے بیکار ( ذلیل ) ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک جتنی حقیر ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی حیثیت اور قدر و قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو اس دنیا سے کبھی بھی ایک قطرہ پینے کو نہ دیتا۔ “

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں دنیا کی قدر و منزلت کی مثال مردہ بکری سے دی ہے۔
     
  10. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    سب سے بڑا گناہ

    عن عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہما قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان من اکبر الکبائر ان یلعن الرجل والدیہ قیل یا رسول اللہ وکیف یلعن الرجل والدیہ؟ قال یسب الرجل ابا الرجل فیسب اباہ ویسب امہ فیسب امہ (رواہ البخاری )

    ’’ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی انسان اپنے والدین پر لعنت بھیجے ۔ آپ سے عرض کیا گیا والدین پر کوئی کیسے لعنت کر سکتا ہے آپ نے فرمایا وہ اس طرح کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کے باپ کو گالی دیتا ہے وہ اس کے جواب میں اس کے باب کو گالی دیتا ہے ایک شخص کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے نیتیجاً وہ اس کی ماں کو گالی دے گا ‘‘ ( بخاری )
     
  11. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    اللہ کا صبر

    عن ابی موسی الاشعری رضی اللہ عنہ قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ما احد اصبر علی اذی سمعہ من اللہ یدعون لہ الو لد ثمی یعا فیہم ویرزقہم ( رواہ البخاری )

    حضرت ا بو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکلیف دہ بات سن کر صبر کرنے والا اللہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں ہے مشرک کہتے ہیں اللہ کی ا ولاد ہے مگر وہ ان کی ان باتوں کے باوجود انہیں عافیت میں رکھتا ہے اور روزی عطا فرماتا ہے ۔ ( بخاری )
     
  12. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    تین مساجد کی فضیلت اور آداب
    ((عن سعید بن المسیب عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا تشد الرحال الا الی ثلاثۃ مساجد المسجد الحرام ومسجدی ھذا والمسجد الاقصیٰ)) (رواہ البخاری)

    حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے وہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کہ تین مساجد کی زیارت کے علاوہ کسی بھی مقام کی زیارت کے لئے باقاعدہ اہتمام کر کے نہ جایا جائے۔ مسجد حرام اور میری مسجد یعنی مسجد نبوی صلی اللہ علیہ اور مسجد اقصیٰ۔ “ اس حدیث کو امام بخاری نے بیان کیا۔
     
  13. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    اللہ کا بندوں پر اور بندوں کا اللہ پر حق

    (( عن معاذ رضی اللہ عنہ قال: کنت ردف النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی حمار یقال لہ: عفیر، فقال: یا معاذ! وھل تدر حق اللّٰہ علی عبادہ؟ وما حق العباد علی اللّٰہ؟ قلت: اللّٰہ ورسولہ اعلم، قال: فان حق اللّٰہ علی العباد ان یعبدوہ ولا یشرکوا بہ شیئا، وحق العباد علی اللّٰہ ان لا یعذب من لایشرک بہ شیئا۔ فقلت: یا رسول اللّٰہ! افلا ابشر بہ الناس؟ قال: لاتبشرھم فیتکلوا )) ( صحیح البخاری، الجہاد والسیر، باب اسم الفرس والحمار، حدیث: 2856)

    ” حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں ( ایک سفر میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھاجس کا نام عفیر تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ کے اپنے بندوں پر کیا حقوق ہیں؟ اور بندوں کے اللہ پر کیا حق ہیں؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ بنائیں، اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بناتے انہیں عذاب نہ دےں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں اس بات کی لوگوں کو اطلاع نہ دے دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو مت بتاؤ وہ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں گے۔ “
     
  14. era meer

    era meer -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 28, 2008
    پیغامات:
    220
    روزہ اور زکوٰہ

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”ہر چیز کی زکٰوہ ہوتی ہے اور جسم کی زکوٰہ روزہ ہے”۔
    (ابن ماجہ)
     
  15. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    369
    السلام و علیکم لوگو

    جزاک اللہِ خیراً و کثیراً

    (حدیث اپنے مفہومی انداز میں‌پیش ہے)
    حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے،
    اللہ کے رسول، صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    "تمہارا رب بہت سخی اور دینے میں‌بہت کشادہ اور آزاد ہے۔ اور اسے اپنے بندے کے خالی ہاتھ واپس کرتے ہوئے شرم آتی ہے جب بندہ اسکے آگے ہاتھ بلند کرتا ہے (دعا کے لیئے)

    سنن ابو داود
    حدیث نمبر :1483
     
  16. era meer

    era meer -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 28, 2008
    پیغامات:
    220
    قبر بنانے کے متعلق ہدایات

    حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پکی بنانے سے اس پر عمارت بنانے سے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے”۔
    (مسلم)
     
  17. پیاسا

    پیاسا -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2008
    پیغامات:
    324
  18. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
    ،
    اس پوسٹ کو سرسری سا پڑھکر آگے نہ بڑھ جائیے بلکہ آج سے اپنا معمول بنا لیجیے کہ اٹھتے بیٹھتے، جاگتے سوتے،کھاتے پیتے،چلتے پھرتے ہر وقت ہر حال میں ہر جگہ اللہ کو یاد کرنا ہے۔اللہ کا ذکر کرنے کیلئے ہمیں کسی خآص عمل کی ضرورت نہیں،اگر آپ نے کوئ اچھی چیز دیکھ کر سبحان اللہ کہہ دیا یہ بھی اللہ کو یاد کرنا ہوا۔ ہمیں دن بھر میں اللہ کی صناعی کتنی ہی چیزوں میں نظر آتی ہے، کسی نے آپ کو ایک روٹی کا نوالہ ہی کھلا دیا آپ نے الحمدللہ کہہ دیا یہ اللہ کو یاد کرنا ہوا۔ کمپیوٹر کھولنے سے پہلے بسم اللہ پڑھیں یہ اللہ کو یاد کرنا ہوا،غرض چھوٹی سے چھوٹی بات اور حرکت پر اللہ کو یاد رکھیں۔صبح کلمہ پڑھ کر اٹھیں اور رات کو کلمہ پڑھ کر سوئیں۔

    ذکر اللہ کی عظمت (قران حکیم کی روشنی میں)

    تم میرا ذکر کرو ،میں بھی تمہیں یاد کرونگا،میری شکر گزاری کرو اور ناشکری سے بچو۔(البقرہ۔152)

    اور بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان سب کے لئے اللہ نے مغفرت اور بڑا اجر تیار رکھا ہے۔(الاحزاب۔35)


    اے شخص اپنے رب کی یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ، اور بلند آواز کے بغیر، صبح و شام اور اہل غفلت میں سے نہ ہو جانا۔(الاعراف۔205)


    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن کی نماز
    کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خریدو فروخت چھوڑ دو،یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم سمجھو تو۔
    پھر جب نماز ہو چکے تو زمین پر پھیل جاوٴ اوراللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو بکثرت یاد کرو تاکہ تم فلاح پالو۔(جمعہ-10۔9)


    اور صبح شام اپنے پروردگار کا نام لیتے رہو اور رات کو بڑی دیر تک اسکے آگے سجدے کرو اور اسکی تسبیح بیان کرتے رہو۔(دھر۔26۔25)


    بیشک اس نے فلاح پالی جو پاک ہو گیا۔اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔(الاعلے’۔15۔14)


    تم جب فارغ ہو تو عبادت میں محنت کیا کرو اور اپنے رب کی طرف دل لگاوٴ۔(الم نشرح۔8۔7)


    ان گھروں میں جن کے بلند کرنے، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے حکم دیا ہے،وہاں صبح و شام اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اور زکواۃ دینے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈر جاتے ہیں جس دن دل اور آنکھیں خوف سے الٹ پلٹ ہو جائینگی۔(النور 37-36)


    اور نماز قائم کرو اور زکواۃ دو اور رکوع کرنے والوں کیساتھ رکوع کرو۔(البقرہ۔43)

    1بیشک میں ہی اللہ ہوں میرے سوا عبادت کے لائق اور کوئ نہیں پس تو میری ہی عبادت کر اور میری یاد کیلئے نماز قائم رکھ۔(طہ’۔4)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

    اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا زندہ اور مردہ کی سی ہے۔(بخاری مع الفتح۔11/20

    اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    -
    اللہ تعالی فرماتے ہیں، میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جب وہ مجھے یاد کرے تو میں اسکے ساتھ ہوں،اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے تو میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں،اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرے تو میں اسے ایسی جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس سے بہتر ہے،اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آئے تو میں ایک ہاتھ اسکے قریب آتا ہون،اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آئے تو میں دونوں ہاتھ پھیلا نے کے برابر اسکے قریب آتا ہوںاور اگر وہ چل کر میرے قریب آئے تو میں دوڑ کر اسکے پاس آتا ہوں۔(بخاری۔171/8، مسلم 2061/4)


    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

    جو شخص کسی ایسی جگہ بیٹھا جس میں اسنے اللہ کو یاد نہیں کیا تو وہ اللہ کی طرف سے اس پر نقصان کا باعث ہوگی اور جو شخص کسی جگی لیٹا اور اسنے اللہ کو یاد نہیں کیا تو وہ اس پر اللہ کی طرف سے نقصان کا باعث ہوگی۔(ابو داود 264/4۔ صحیح الجامع۔342/5)
     
  19. سعدیہ

    سعدیہ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جون 26, 2008
    پیغامات:
    3
    اعمال کا دارومدار نیت پرہے۔
     
  20. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    اسلام علیکم ورحمت اللہ و برکاتہ،

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی دن میں سو مرتبہ یہ کلمہ کہے۔

    لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک، ولہ الحمد،و ھو علی کل
    شی قدیر۔
    (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اکیلا ہے وہ اسکا کوئی شریک
    نہیں اسی کے لئے ملک اور اسی کیلئے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
    تو یہ کلمہ اسکے لئے دس گردنوں کے آزاد کرنے کے برابر ہوگا۔اور اسکے لئے سو نیکیاں لکھی جائینگی اور اس سے سو برئیاں مٹائی جائینگی۔اور یہ کلمہ اسکے لئے شام ہونے تک سارا دن بچاوٴ کا ذریعہ بنا رہے گااور کوئی اسکے عمل سے افضل عمل لیکر پاس نہیں آئیگا سوائے اس شخص کے جس نے اس سے زیادہ عمل کیا ہو۔(بخاری 4/95، مسلم 4/2071)

    اور جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ( پاک ہے اللہ اور اپنی تعریف کے ساتھ ) ایک دن میں سو مرتبہ کہے اسکے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں خواہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔(بخاری 7/168۔ مسلم 4 2071)

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو کلمے زبان پر ہلکے ہیں میزان میں بھاری ہیں اور رحمٰن کو محبوب ہیں۔

    سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔( پاک ہے اللہ اور اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے اللہ عظمت والا۔( بخاری 7/168، مسلم 4/2072)

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں یہ کلمے کہوں تو مجھے اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔( یعنی یہ کلمات کہنا تمام دنیا سےزیادہ محبوب ہے)۔
    سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا الہ الا اللہ، و اللہ اکبر۔( مسلم 4/2072)

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص یہ کلمہ کہے اسکے لئے جنت میں ایک کھجور کا درخت لگا دیا جاتا ہے۔

    سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا الہ الا اللہ، و اللہ اکبر۔( ترمذی 5/511، حاکم 1/501)

    اللہ تعالی کا سب سے محبوب کلام چار کلمات ہیں۔
    سبحان اللہ، والحمد للہ،ولا الہ الا اللہ، و اللہ اکبر۔ان میں سے جس سے ابتدا کرلو تمہیں کوئی نقصان نہیں۔( مسلم 3/1685)

    جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہتر دعا الحمد للہ ہے اور سب سے بہتر ذکر لا الہ الا اللہ ہے۔( ترمذی 5/462، ابن ماجہ 2/1249، حاکم 1/503)

    براہ مہربانی ان کلمات اور اذکار کو روزانہ کا معمول بنالیں چلتے پھرتے ذکر کریں۔ ذکر کی برکت سے دل نرم ہوتے ہیں اور دلوں کی سختی دور ہوتی ہے اور کام آسان ہوتے ہیں۔

    والحمد للہ رب العالمین۔
    والسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں