کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے پیارے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کا چہلم منایا تھا؟

عائشہ نے 'ماہِ صفر' میں ‏دسمبر 13, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ا
    ماشاء اللہ اچھی بات ہے کہ آپ احادیث کو حجت بنارہے ہیں لیکن کیا خوب ہوتا کہ آپ میلاد کو ثابت کرنے کیلئے بھی احادیث لکھ دیتے ۔ ویسے صحیح مسلم کی یہ حدیث دیکھیں:
    حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ جَمِيعًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ
    ترجمہ : ابوجعفر محمد بن صباح، عبداللہ بن عون ہلالی، ابراہیم بن سعد، ابن صباح، ابراہیم بن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف، قاسم بن محمد، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے ہمارے احکام میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس سے نہ ہو تو وہ مردود و نامقبول ہے۔
    صحيح مسلم » كتاب الأقضية » باب نقض الأحكام الباطلة ورد محدثات الأمور، حديث:1999
    اس حدیث نے آپ کی ذکر کی گئی حدیث کی وضاحت کردی ہے کہ دین میں نئے امور بدعات اور مردود ہیں۔ جہاں تک اسلام میں اچھے طریقے کی بات ہے تو بھائی میرے اچھے طریقوں میں بدعات کہاں سے آگئیں جبکہ بدعات کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شر الامور کہا ہے۔
    اچھا طریقہ سنت کو زندہ کرکے بھی نکالا جاسکتا ہے ۔ مثال کے طور پر نماز کے بعد اذکار کو ایک پوسٹر کی شکل دینا یا پھر کارڈ کی شکل میں تقسیم کرنا تاکہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر عمل پیرا ہو ں یا سوشل میڈیا وغیرہ پر ان کو پھیلانا۔ دعائیں وہی ہیں لیکن پھیلانے کا اچھا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔
    اب سوال یہ ہے کہ عید میلاد کے نام پر کونسے نیک کام ہورہے ہیں؟؟؟؟ ڈانس ہورہے ہیں، فضول خرچیاں ہورہی ہیں، عجیب وغریب قسم کی خرافات ہورہی ہیں، نعلین پر اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھ کر گستاخیاں ہورہی ہیں، کاروبار کو تباہ کیا جارہا ہے، جلوس کے نام پر ٹریفک کا نظام خراب کیا جارہاہے، اور لوگوں کی زندگی کو تنگ کیا جارہاہے۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    روزہ صرف بارہ ربیع الاول کو رکھتے تھے یا پیر کو۔ کونسا میلادی ہے جو اس سنت پر عمل کررہا ہے ۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بارہ ربیع الاول کو روزہ رکھتے تھے اگر ہاں تو پھر یہ یہی عید میلاد کے رد کیلئے کافی ہے کیوں کہ عید والے دن روزہ رکھنا حرام ہے۔

    مکرمی جناب !
    جی ہاں بدعت کو نکالنے کا انجام یہی ہوتا ہے۔ میلاد کے نام پر جو کرسمس کی طرح غیروں کی نقالی کی جارہی ہیں اور الیاس قادری سمیت نعلین پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھوا کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرکے شکوک وشبہات پیدا کررہے ہیں یہ بدعات ہی نکالنے کا نتیجہ ہے۔
    میلادی صحابہ کرام سے بڑھ کر ہیں۔ قیامت والے دن تمام صحابہ کرام اس اجر سے محروم ہوں گے ، تابعین اور تبع تابعین اور شیخ عبد القادر جیلانی رحمھم اللہ اجمعین اس اجر سے محروم ہوں گے، امت مسلمہ کے بہت سارے لوگ اس کا اجر نہیں پائیں گے صرف میلادیوں کو یہ نصیب ہوگا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    جناب محترم!
    تو پھر ان آیات کا کیا مطلب بنتا ہے:
    وَلَقَدْ جَاءَكُم مُّوسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِن بَعْدِهِ وَأَنتُمْ ظَالِمُونَ
    وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَكٍّ مِّمَّا جَاءَكُم بِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولًا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ

    یہاں پر بھی ان نبیوں کی آمید کا ذکر ہے معجزوں کے ساتھ موسی اور یوسف علیھما السلام کا ، تو پھر ان سب نبیوں کا میلاد کیوں نہیں منایا جاسکتا جبکہ قرآن وحدیث میں اس کی ممانعت بھی نہیں۔ لیکن بریلوی گیارہواں شوق سے مناتے ہیں گویا ان کے نزدیک شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا رتبہ ان سے بڑھ کر ہے !
    جہاں تک من انفسکم کا ذکر ہے تواس سے عید میلاد ثابت ہی نہیں ہوتا ورنہ عملی طور پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اس کا نمونہ پیش کرتے۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 21, 2015
    • متفق متفق x 1
  4. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29
    سب سے پہلے تو آپ کو قرآن کی آیت اور کوئی مستند حدیث پیش کرنی چاہیئے جو میلاد مصطفی ﷺ کو بدعت قرار دیتی ہو۔

    میلاد مصطفی ﷺ تو طریقہ خداوندی ہے۔ میں نے اوپر صرف ایک سورت توبہ آیت 128 بیان کی ہے۔ اس کے علاوہ بھی قرآن پاک میں جا بجا ذکر میلاد مصطفی ﷺ موجود ہے۔

    میلاد کا ذکر قرآن میں ہے ، میلاد کی خوشی نبی پاک ﷺ نے خود منائی ہے۔ کیا پھر بھی ہم میلاد مصطفی ﷺ کو بدعت کہہ دیں۔۔!!

    صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ذکر ہے کہ جب آپ ﷺ سے پیر کا روزہ رکھنے کی وجہ پوچھی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسی دن میں پیدا ہوا تھا اور اسی دن قرآن کا نزول شروع ہوا تھا۔

    آج کوئی مسلمان نبی پاک ﷺ کی خوشی منائے تو اسے بدعت قرار دیا جاتا ہے۔ جب ان مسلمان بھائیوں سے پوچھا جائے کہ آخر کس دلیل اور کس قرآن و حدیث کی رو سے یہ بدعت ہے تو فورن جواب دیا جاتا ہے کہ نبی پاک ﷺ کے دور میں یا صحابہ نے کبھی میلاد مصطفی ﷺ کا جلوس نہیں نکالا تھا ، اس لیئے یہ بدعت ہے۔

    جب ان مسلمان بھائیوں کی خدمت میں صحیح مسلم کی حدیث پیش کر کے یہ بتایا جائے کہ دین میں اچھے کاموں کی گنجائش تو موجود ہے اور ہر نئے کام کو آنکھیں بند کر کہ بدعت قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ کام ، وہ عمل کسی بھی قرآنی آیت یا کسی بھی حدیث کی صریح خلاف ورزی نہ ہو تو ہمارے وہ مسلمان بھائی صحیح مسلم کی اس مستند حدیث کے واضح الفاظ کو پڑھہ کر ، سمجھہ کر بھی انکار کر دیتے ہیں اور دین میں شامل کیئے گئے ہر اچھے کام کو فورن بدعت کہہ دیتے ہیں۔ ۔۔!!!!

    اگر دین میں کسی بھی اچھے کام کو شرع کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو پھر صحیح مسلم کی مذکورہ حدیث کا کیا مفھوم سمجھنا چاھیئے۔۔۔۔!!!؟؟؟

    کیا ہم اعراب قرآنی کو بدعت قرار دے کر نکال دیں۔۔۔۔!!!؟؟؟
    کیا ہم موجودہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کی جدید تعمیر و توسیع کو بھی بدعت کہہ دیں۔۔۔۔!!!؟؟؟

    آج کا دور نبی پاک ﷺ کے دور سے کافی تبدیل شدہ دور ہے۔ وقت کے ساتھہ مساجد ،مدارس ، قرآن پاک کی طباعت ، پرنٹنگ اور اب تو قرآن پاک سافٹ ویئر کی صورت میں ٹیبلیٹس اور موبائیلز وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ کیا ہم ان سب کو بدعت کہہ کر رد کر دیں۔۔!!!

    میلاد مصطفی ﷺ کی اصل قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ ہم موجودہ محافل میلاد مصطفی ﷺ کو اسی تناظر میں دیکھیں تو بات آسانی سے سمجھہ میں آسکتی ہے۔ وقت کے ساتھہ ساتھہ بہت ساری تبدیلیاں ہوئی ہیں ، خانہ کعبہ ہو یا مسجد نبوی ہر جگہ جو بھی تبدیلی ہوئی ہے وہ بدعت کہنا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔

    اس بات سے کس مسلمان کو انکار ہوگا کہ اللہ پاک کا سب سے بڑا احسان ، سب سے بڑی نعمت نبی پاک ﷺ کی ذات بابرکات ہے۔ اسی ذات بابرکات کے طفیل ہمیں اسلام ملا ، اسی ذات بابرکات کے طفیل ہمیں ایمان کی دولت ملی ، اسی ذات بابرکات نے اللہ پاک کی پہچان کرائی۔ یہ وہی ذات بابرکات ہے جو رحمت اللعالمین ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ہم میلاد مصطفی ﷺ منا کر اصل میں اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہیں۔

    محفل میلاد مصطفی ﷺ کی کس نعت میں شرکیہ الفاظ کہے جاتے ہیں۔۔ ؟؟؟
    بہتر ہوتا کہ آپ ان الفاظ کی نشاندہی کردیں تا کہ جواب دینے میں ٓآسانی ہو۔

    کیک کاٹنا غیر اسلامی کیوں ہے۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟ اور مندر میں میلاد منانے والی بات بھی سمجھہ میں نہیں آئی۔
     
    • غیر متفق غیر متفق x 1
  5. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29
    محترم بھائی بابر تنویر کی خدمت میں۔۔۔!!!
    میرے اسلامی بھائی ۔۔ میں نے جو قرآنی آیت اور جو احادیث پیش کی ہیں ، ان سے مندرجہ ذیل باتیں سمجھہ میں آتی ہیں۔

    • سورت الانعام کی آیت 118 سے یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ کھانے کی ہر چیز اللہ پاک کے ذکر کے ساتھہ کھانی چاہیئے۔ ذبیح کرتے وقت بھی اور عام کھانا کھاتے ہوئے بھی۔ جسے آپ نے بھی تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا چاھیئے۔ بے شک یہ ایک واضح اللہ پاک کا حکم ہے۔ اس پر عمل رضامندی خدا ہے اور بے شک یہ ایک نیک عمل ہے۔ باعث ثواب ہے۔
    • مشکواہ شریف کی مذکورہ حدیث سے یہ بات سمجھہ میں آتی ہے کہ کوئی بھی فوت شدہ مسلمان مر کر مٹی میں گم نہیں ہو جاتا بلکہ وہ اس انتظار میں رہتا ہے کہ اس کے عزیز واقارب اسے اپنی دعائوں میں یاد رکھیں، کوئی بھی نیک عمل کر کے اس کا ثواب اسے بھیج دیں۔ اسی لیئے نذر و نیاز، قرآنی آیات کا ثواب یا دنیا کی کسی بھی چیز کو صدقہ کر کے یا کسی بھی نیک عمل کا ثواب اس کو بھیج سکتے ہیں۔ یہ ثواب نہ صرف پہنچ جاتا ہے بلکہ اس سے فوت شدہ کے درجات میں بھی اضافہ کردیا جاتا ہے۔
    • حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ والی حدیث سے یہ بات سمجھہ میں آرہی ہے کہ فوت شدہ کو دنیا کی کوئی بھی چیز صدقہ کر کے بھی ثواب بھیجا جاسکتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ عمل نیک ہونا چاہیئے جس عمل سے ثواب کی امید کی جا سکے۔ بے شک ہمارے فوت شدہ عزیز واقارب کو وہ چیزیں یا کھانا نہیں پہنچتا لیکن اس نیک عمل کا ثواب ضرور پہنچتا ہے۔
    • ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ والی حدیث سے یہ بات سمجھہ میں آرہی ہے کہ قرآنی آیات کو کھانے پر پڑھنا بدعت نہیں بلکہ ایک نیک عمل ہے جس سے ثواب تو ملتا ہی ہے اس کے ساتھہ ساتھہ اُس کھانے میں برکت بھی ہوجاتی ہے۔
    • ابوداؤد کی حدیث سے یہ بات سمجھہ میں آتی ہے کہ کھانا سامنے رکھہ کر اللہ عزوجل کی بارگاھہ میں دعا مانگنا بھی کوئی بدعت نہیں ہے۔
    • اب رہی یہ بات کے ہم اپنے فوت شدہ عزیزوں کو جب ثواب بھیجتے ہیں تو اس کہ لیئے دن کیوں مخصوص کیئے گئے ہیں جیسے چہلم یا عرس وغیرہ ، تو اس کے لیئے میں نے نبی پاک ﷺ اور صحابہ کرام کے کچھہ نیک کام کو صرف مخصوص دنوں میں کرنا بھی دکھا دیا ہے۔
    ان سب باتوں سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کسی بھی فوت شدہ مسلمان کو کسی بھی نیک کام ، نیک عمل ، قرآنی آیات پڑھنے کا ثواب ، دنیا کی کوئی بھی چیز صدقہ کر کے بھی ثواب بھیجا جاسکتا ہے، یہ کسی بھی طرح سے بدعت نہیں ہے۔ ۔ کھانے کے سامنے اللہ پاک کا ذکر ، قرآن پاک کی تلاوت، دعا مانگنا اور پھر کسی مسلمان کو ثواب بھیجنا وغیرہ سب عین اسلامی تعلیمات ہی ہیں۔ نیک کام کے لیئے کوئی دن مقرر کرنا یا بغیر دن مقرر کیئے اسے کرنے میں بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔

    اللہ پاک ہم سب کو دین کی صحیح صحیح سمجھہ دے۔ آمین۔
     
    • غیر متفق غیر متفق x 1
  6. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29
    محترم بابر تنویر کی خدمت میں۔۔۔۔۔!!!
    میرے اسلامی بھائی نے اپنے ایک دوسرے جواب میں لکھا ہے کہ
    بات منع کرنے کی نہیں ہوتی بھائ۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل کرنے کی ہوتی ہے۔
    آپ مجھے یہ بتا دیں کہ کیا کہیں فجر میں چار سنت اور چار فرض پڑھنے کو منع کیا گیا ہے؟
    کیا ظہر کی نماز میں پانچ رکعت فرض پڑھنے کو منع کیا گیا ہے۔
    نہیں کہیں بھی نہیں۔ یہ ہم صرف اس لیے نہیں کریں گے یہ یہ نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہیں ہے۔
    اور جہاں تک منع کرنے کی بات ہے تو ہمیں دین میں نئ نئ چیزیں ایجاد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اور نئ چیزیں ایجاد کرنا بدعت کہلاتا ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے اور ہر ضلالت جہنم کی آگ کی طرف لے جاتی ہے۔


    اسلامی تعلیمات میں نیک کاموں کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ قرآن پڑھنا ایک نیک کام ہے۔ بھلا کون مسلمان اس سے انکار کریگا۔۔۔؟؟؟؟
    کھانا کھانے سے پہلے اللہ کا ذکر نیک کام ہے۔ بھلا کس مسلمان کو اس میں شک ہوگا۔۔۔۔؟؟؟
    کھانے کے وقت برکت کے لیئے قرآنی آیات کی تلاوت بھی ایک نیک کام ہے۔ کھانے کے وقت دعا مانگنا بھی سنت رسول اللہ ﷺ ہے۔

    ان سب نیک کاموں کو جو بھی کریگا اس کو ثواب ضرور ملتا ہے ، اور اگر وہ چاہے تو اپنے اس ثواب کو فوت شدہ مسلمانوں کو بھی بخش سکتا ہے۔ اس میں کو نسی قباحت ہے ۔۔۔ اور یہ نیک کام بدعت کیسے کہے جا سکتے ہیں۔۔۔؟؟؟

    فجر میں چار سنت یا چار فرض کی تعلیم کون مسلمان دے سکتا ہے۔ نماز کے فرائض ، سنت، نفل وغیرہ کے احکامات تو پہلے سے سکھا دیئے گئے ہیں ، اگر کوئی ان میں تبدیلی کرے گا تو بے شک اس نے دین کو نقصان پہنچایا۔ جس بات ، جس عمل سے صریح قرآن و حدیث کی مخالفت ہو اسے بدعت سمجھنے سے کس مسلمان کو انکار ہو سکتا ہے۔

    لیکن۔۔۔۔۔

    جو کام قرآن و حدیث سے نیک کام ثابت ہوتا ہو اسے اگر دن مقرر کر کے کیا جائے تو بدعت قرار دینا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔ ایسا نیا کام جس سے دین کو کوئی نقصان نہ ہو ، ایسا نیا کام جس کے ثواب کی قوی امید ہو، ایسا نیا کام جو کسی بھی قرآن و حدیث کے ٹکراؤ میں نہ آتا ہو ، اُس نیک کام کو آخر کس دلیل سے بدعت کہہ دینا چاہیئے۔۔۔۔!!!؟؟؟

    فرض کریں آپ کی بات درست ہے اور دین میں ہر نئی چیز کو بدعت کہہ دینا چاہیئے۔
    اب۔۔۔۔
    ہمیں سب سے پہلے اپنے مدارس کو مسمار کر دینا چاہیئے۔ قرآن و حدیث تو کیا صحابہ کرام ، تابعین یا تبع تابعین کے دور میں بھی ان مدارس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ اسلام کے اوئلی دور میں تبلیغ کی جتنی سخت ضرورت تھی وہ تو آج بھی نہیں ہے۔ کیا نبی پاک ﷺ یا صحابہ کرام یا تابعین یا تبع تابعین کو اتنی سمجھہ نہیں تھی کہ مدارس سے اسلام زیادہ ترقی کریگا ، لوگ زیادہ راغب ہونگے۔۔۔
    پہر انہوں نے اس طرف توجہ کیوں نہیں دی۔۔۔۔۔!!!؟؟؟ کتنے تعجب کی بت ہے کہ اتنے ضروری کام کا خیال ان قابل احترام ھستیوں میں سے کسی کو بھی نہیں آیا۔۔۔!!!

    آج کے دور میں مدارس ہی اسلام کی پہچان بن گئے ہیں، دین کا حصہ بن گئے ہیں، ان کے بغیر کسی بھی مسلک کو کوئی پہچان بھی نہیں سکتا۔۔۔ ۔آخر کس دلیل کے تحت مدارس کا وجود بدعت نہیں کہہ سکتے۔۔۔۔؟؟؟؟

    دین میں شامل ہر نئی چیز بدعت سمجھیں گے تو ہمیں واپس ماضی میں جانا پڑیگا۔ اس دور میں جب قرآن پاک کی آیات کھجور کے پتوں ، کپڑوں کے ٹکروں یا پتھروں پر لکھی جاتی تھیں۔ جب مسجد نبوی کی دیواریں کچی مٹی کی اور چھت پر درختوں کی شاخیں لگائی جاتی تھیں۔

    ہمیں اپنی مساجد سے سب لاؤڈاسپیکر وغیرہ بھی نکال پھینکنے چاہئیں۔ فرش پر قالین ، لائٹیں ، پنکھے ، ایئر کنڈیشنر سب بدعت ہیں۔
    ھمیں سواری کے کیئے ھوائی جھاز بھی استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔ کیوں کہ یہ بھی سنت نہیں ہے۔

    کیا اسلام میں وقت کے ساتھہ ساتھہ جو جدید ترقی ہو رہی ہے اس کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔۔!!!؟؟؟

    ہم اس وقت کمپیوٹر کو استعمال کرتے ہوئے نیٹ پر اردو مجلس فورم پر اسلامی موضوعات پر بحث کر رہے ہیں ، یہ بھی تو سنت نہیں ہے۔ کیا آج تبلیغ دین کی اھم ضرورت کمپیوٹر نہیں ہے۔۔۔ کیا یہ بھی بدعت ھے۔۔۔۔!!!؟؟؟

    ھر وہ کام جو سنت رسول نہ ہو اگر بدعت قرار دے دیا جائے تو پھر آج سب مسلمان بدعتی ہو جائیں گے۔۔۔۔!!

    اللہ پاک ہم سب کو دین کی صحیح صحیح سمجھہ دے۔ آمین۔
     
    • غیر متفق غیر متفق x 1
  7. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29
    محترم اعجاز علی شاھہ کی خدمت میں

    محترم اسلامی بھائی آپ نے صحیح مسلم کی ایک اور حدیث پیش کرتے ہوئے یہ باور کرایا ہے کہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور اسے ضلالت سمجھنا چاہیئے۔

    سب سے پہلے آپ کی پیش کردہ حدیث کو دوبارہ پڑھہ کر اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ جَمِيعًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ
    ترجمہ : ابوجعفر محمد بن صباح، عبداللہ بن عون ہلالی، ابراہیم بن سعد، ابن صباح، ابراہیم بن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف، قاسم بن محمد، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا
    جس نے ہمارے احکام میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس سے نہ ہو تو وہ مردود و نامقبول ہے۔
    صحيح مسلم » كتاب الأقضية » باب نقض الأحكام الباطلة ورد محدثات الأمور، حديث:1999


    محترم بھائی اس حدیث سے دین میں کسی نئے کام کی ممناعت کہاں سے ثابت ہو رہی ہے۔۔۔۔۔؟؟؟

    یہ حدیث تو صاف اور آسان الفاظ میں یہ بیان کر رہی ہے کہ جس کام کے بارے میں نبی پاک ﷺ کے واضح احکام موجود ہوں اس کو کسی بھی طرح تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔!!

    ہم سب مسلمانوں کا اس بات پر ایمان ہے کہ قرآن و حدیث کے کسی بھی حکم میں معمولی رد و بدل بھی جائز نہیں ہے۔

    لیکن۔۔۔۔۔۔

    جس کام یا جس عمل کے بارے میں ممانعت نہ ہو ۔۔ اور وہ کام وہ عمل جو نیک بھی ہو ، باعث ثواب بھی ہو ۔۔۔ اس کو دین میں شامل کیوں نہیں کر سکتے۔۔۔ایسا عمل جو کسی قرآنی حکم یا کسی حدیث کی صریح خلاف ورزی بھی نہیں آخر اس کو دین کا حصہ بنانے میں کیا حرج ہے۔ جب کہ ہمارے پاس صحیح مسلم کی ایک حدیث واضح لفظوں میں موجود ہے جس میں دین میں کسی اچھے کام کو شرع کرنے والے کو ثواب کی بشارت دی جارہی ہے ، یہاں تک بھی فرمایا جا رہا ہے کہ بعد میں آنے والوں نے بھی اس عمل کو جاری رکھا تو ان سب کا ثواب بھی نیا کام کرنے والوں کے علاوہ اس شروع کرنے والے کو بھی ھمیشہ ملتا رہیگا۔۔۔۔۔!! صحیح مسلم کی اس مستند حدیث کو تو ایک عام فھم مسلمان بھی آسانی سے سمجھہ سکتا ہے۔
     
  8. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29
    محترم اعجاز علی شاھہ نے اپنے ایک اور جواب میں لکھا ہے کہ
    محترم اسلامی بھائی۔۔۔ہمارے نبی پاکﷺ پیر کا روزہ باقائدگی سے رکھتے تھے یہ بات مستند احادیث سے ثابت ہے ، جس کا انکار ممکن نہیں ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پیر کا روزہ رکھنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس دن آپ ﷺ کی پیدائش ہوئی تھی۔

    نبی پاک ﷺ کے اس عمل سے اتنا تو ثابت ہوا کہ ولادت مصطفی ﷺ کا دن خود آپ ﷺ کے لیئے بھی اھم تھا۔ اتنا اھم کہ ہر ہفتے روزہ رکھہ کہ منایا کرتے تھے۔ ہونا تو یہی چاہیئے کہ ہر مسلمان اس سنت رسول ﷺ پر عمل کرے۔
    لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا کہ آج میلاد مصطفی ﷺ سال میں ایک بار بھی منانے سے روکا جا رہا ہے۔۔ کہاں تو نبی پاکﷺ ہر ہفتے اپنا میلاد خود منا رہے ہیں اور کہاں اس کے امتی، دن رات اس پر کلمہ پڑھنے والے صرف ایک بار میلاد مصطفی ﷺ منانے سے بھی محروم ہیں۔

    آپ نے یہ بھی پوچھا ہے کہ بارہ ربیع الاول کو نبی پاک ﷺ روزہ رکھتے تھے یا نہیں اگر رکھتے تھے تو اس دن کو عید نہیں منا سکتے کیوں کہ عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہے۔

    سب سے پہلی بات کہ نبی پاک کی تاریخ پیدائش میں مختلف روایات مختلف کتب میں ذکر کی گئی ہیں۔ سب سے زیادہ علماء حضرات بارہ ربیع الاول کی تاریخ پر ہی متفق ہیں۔ اس لیئے تمام مسلمانوں کے نزدیک بارہ ربیع الاول آمد مصطفیﷺ کی خوشی منائی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ عید الاضحی اور عید الفطر کی طرح عید میلاد النبی ﷺ کے حوالے سے قرآن و حدیث میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا کوئی حکم موجود نہیں۔ اس لیئے اگر کوئی اس دن روزہ رکھے تو حرام نہیں کہا جا سکتا۔

    اللہ پاک کی ہر نعمت کو جو مسلمان جس طرح چاہے خوشی منا سکتا ہے ، بھلا سول پاک ﷺ کی آمد سے بڑھہ کر اور کون سی اللہ عزوجل کی نعمت ہوگی۔۔ بس یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ کسی بھی نعمت کا شکر ادا کرتے وقت کوئی غیر شرعی عمل نہ ہو ، اسلامی احکام کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اگر کوئی ذاتی یا اجتماعی طور پر غیر شرعی کام کرتا ہے تو یہ اس کا قصور ہے ، گناھہ بھی اسے ہی ملیگا لیکن ان غیر شرعی کاموں کا ذکر کر کہ ہم ہر نیک کام کی مخالفت نہیں کر سکتے جو قرآن و حدیث سے باعث ثواب سمجھے جاتے ہیں۔
     
    • غیر متفق غیر متفق x 1
  9. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ممتاز بھائی برائے مہربانی مجھے صرف ایک سوال کا جواب دیں زیادہ لمبی پوسٹ کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہاں یا ناں میں جواب چاہیے:
    کیا والدین کے احترام کیلئے فادر ڈے اور مادر ڈے منانا اس اصول کے تحت منانا جائز ہے ؟
    عیسی علیہ السلام بھی ایک افضل نبی ہیں ان کا میلاد منانا اسی اصول کے تحت جائز ہے ؟
    بس جواب دیں اور لمبی پوسٹ بنانے سے گریز کریں کیوں کہ اسطرح بات موضوع سے ہٹ رہی ہے اور آپ سوال کے جواب کے بجائے دوسرے سوال کررہے ہیں!
     
  10. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    اور بھائی اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ خلفائے راشدین، آئمہ اربعہ اور شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ جیسے امت کی نیک ہستیاں صرف ایک بار میلاد مصطفی ﷺ منانے سے بھی محروم ہیں۔
    مکرمی جناب اسی لیے تو صحیح مسلم کی حدیث میں ایسے حکم کو مردود کہا گیا ہے۔ دیکھیں میرے پیارے بھائی:
    جس نے ہمارے احکام میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس سے نہ ہو تو وہ مردود و نامقبول ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
  11. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29
    محترم بھائی اعجاز صاحب۔۔۔معذرت کہ ساتھہ ایک عرض ہے کہ اسلامی تعلیمات کو ہاں یا ناں میں کس طرح سمجھا اور سمجھایا جا سکتا ہے۔۔۔؟؟

    میں سمجھتا ہوں کہ فادر ڈے یا مدر ڈے کو منانے کے لیئے اگر ایسے نیک کام کیئے جائیں جو قرآن و حدیث کے عین مطابق ہوں اور باعث ثواب ہوں تو ایسے دن منانے میں کوئی حرج نہیں۔

    ہمارے نبی پاک ﷺ کی ولادت کی خوشی منانا قرآن و حدیث سے ثابت ہے جبکہ کسی دوسرے نبی کی خوشی ثابت نہیں ہے۔
     
    • غیر متفق غیر متفق x 1
  12. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29
    محترم بھائی اعجاز صاحب آپ نے لکھا ہے کہ
    سال میں ایک بار تو ہم گنھگار لوگ میلاد مصطفیﷺ مناتے ہیں۔
    اگر آپ کو ان سب قابل احترام ہستیوں کا عشق رسول دکھایا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ ان کا ہر دن ذکر مصطفی ﷺ سے گذرتا تھا تو آپ تسلیم کر لیں گے۔
     
  13. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29
    محترم اعجاز بھائی آپ نے لکھا ہے کہ
    یہ بات آپ نے عید میلاد النبی ﷺ کے دن روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے پس منظر میں لکھی ہے۔

    مجھے صرف یہ بتائیں کہ کس کتاب میں یہ لکھا ہے کہ عید میلاد النبی ﷺ کے دن روزہ رکھنا حرام ہے ۔ اگر کہیں ایسا لکھا ہوا ہے تو یقینن یہ بات صحیح مسلم کی مذکورہ حدیث کی رو سے غلط ثابت ہوگی۔ کیوں کہ احادیث کے مطابق صرف عیدین کے روز ہم روزہ نہیں رکھہ سکتے۔ اس دن کے علاوہ کسی بھی دن روزہ حرام قرار دینا یقینن اسلامی احکام کی صریح خلاف ورزی ہے۔

    لیکن اگر ایسا کہیں بھی لکھا ہوا نہ ہو تو پھر ایسا کونسا حکم ہے جس کی خلاف ورزی عید میلاد النبی ﷺ کی وجہ سے ہو رہی ہے۔۔؟؟؟
     
  14. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    برادر عزیز یہی تو مسئلہ ہے کہ اسطرح بہت سارے رسومات کا اسلام کے نام پر دروازہ کھل جائے گا۔ فادر ڈے اور مادر ڈے نصاری لوگ مناتے ہیں اور ان کی نقالی کرکے ہم لوگ گمراہی کا شکار ہورہے ہیں۔
    خوشی منانے اور میلاد منانے میں فرق ہے میرے پیارے بھائی۔

    بھائی تو آپ کی ان دونوں باتوں میں پھر تضاد ہوا۔ ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ ثابت نہیں اور دوسری طرف آپ کہتے ہیں کہ کوئی بھی عمل قرآن وحدیث کے خلاف نہ ہو اس کی ممانعت نہیں۔ اب کیا میلاد عیسی علیہ السلام منانا اس میں داخل نہیں !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بھائی آپ پھر بات سے ہٹ رہے ہیں۔ عید میلاد تو ثابت ہی نہیں تو پھر اس دن روزے کی بات کہاں آگئی۔
    بات صرف اتنی ہے کہ سال میں دو عیدیں ہیں جو ثابت ہیں ان دنوں روزہ حرام ہے۔ اب اگر میلاد کے دن کو بھی عید قرار دیا جائے تو پھر ظاہر ہے تین عیدیں ہوگئی اور عید والے دن روزہ رکھنا حرا م ہے یہ تو احادیث کی کتاب میں لکھا ہے۔ اگر عید ہے تو پھر روزہ کہاں رکھا جاسکتا ہے جبکہ آپ خود ہی کہہ رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر پیر کو روزہ رکھ کر میلاد مناتے تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  16. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    سَنَّ کا کیا مطلب ہے ؟
    اس کی سند اور عربی عبارت بھی پیش کردیجئے !
     
  17. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29
    محترم اعجاز علی شاھہ کی خدمت میں۔۔۔۔!!

    محترم بھائی دین میں کسی بھی نئی اور اچھی بات کی حوصلہ افزائی تو نبی پاک ﷺ نے خود فرما دی ہے۔ آپ کا اس بات سے انکار صحیح مسلم میں موجود ارشاد نبوی ﷺ کا انکار ہو جاتا ہے جو کہ کسی بھی مسلمان کہ لیئے جائز نہیں ہے۔

    آپ نے کہا ہے کہ اس طرح بہت ساری رسومات کا دروازہ کھل جائیگا ، دین اسلام اتنا کمزور نہیں ہے کہ کوئی بھی غیر اسلامی عمل اس طرح شامل ہو جائے۔ ایسا ہوتا تو اتنی صدیاں گزرنے کے دوران ہمارے پاس کچھہ بھی نہ بچتا۔۔۔!!
    جس عمل سے گناھہ ہوتے ہیں ، جو عمل کسی بھی قرآن و حدیث کے موافق نہ ہوں وہ آخر کس طرح اسلام کا حصہ بن سکتے ہیں۔۔۔۔
    کوئی بھی مسلمان اگر ایسی گستاخی کریگا تو سخت گنھگار ہوگا۔

    کوئی بھی دن صرف نام رکھہ دینے سے برا کیسے ہو جاتا ہے۔۔۔اسلام نے اچھے اور نیک اعمال واضح کر دیئے ہیں اگر وہ اعمال فادر ڈے یا مدر ڈے پر کیئے جائیں تو کیا اللہ عزوجل ناراض ہو جائیں گے۔۔۔۔۔!!!؟؟؟

    نصاری ہوں یا کسی بھی مذھب کے لوگ ھمیں ان رسومات سے منع کیا گیا ہے جو خاص ان کی مذھبی پہچان سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے اعمال جو ہر مذھب اور ہر ایک قوم بکثرت کرتی ہو ، جن سے کسی مذھب کی پہچان نہ ہو ، ایسے اعمال جو کسی بھی برائی سے تعلق نہ رکھتے ہوں تو انہیں کرنے میں کیا حرج ہے۔

    آج اس جدید دور میں جو ایجادات ہوئی ہیں وہ سب دوسرے مذاھب کے لوگوں کی ہی محنت کا نتیجہ ہے۔ کیا ان کو استعمال کر کے ہم ان کی نقل نہیں کر رہے۔۔۔۔!!

    کیا موبائیل ، انٹرنیٹ وغیرہ کا استعمال مسلمانوں کا طریقہ ہے۔۔۔!!!؟؟؟

    ہوائی جھاز کا سفر کر کے ھم ان کی نقالی کیوں کرتے رہتے ہیں۔۔۔۔!!؟؟؟؟

    ہمیں چاہیئے کہ اپنے گھروں سے بجلی ، فون ، گئس اور پانی کی لائنیں کٹوادیں کیوں کہ ان سب کی شرعات مسلمانوں نے نہیں کی ہیں۔۔۔!!!

    ہمیں چاہیئے کہ جتنی بھی کتابیں ، اخباریں جدید پرنٹنگ کی مدد سے چھپ رہی ہیں ان سب کا استعمال بھی بند کردیں ، کیوں کہ یہ سب دوسرے مذاھب کے لوگوں نے شروع کیا ہے۔ سب بدعت ہے۔ ان سب سہولیات کا استعمال تو ان سب کی نقالی ہوگا۔۔۔۔۔۔۔!!!
    کیوں کہ
    بقول آپ کے کسی بھی قوم کی نقالی تو گمراہی ہے۔۔۔۔۔!!!

    بارہ ربیع الاول آمد مصطفیﷺ کا دن ہے۔ اس کی خوشی اللہ رب العزت ، فرشتے ، خود نبی پاک ﷺ ،اصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بعد میں آنے والے بزرگوں اور اولیاءاللہ نے بھی منائی ہے۔
    اگر ہم سال کا صرف ایک دن وہی کام کریں تو ممنوع کیسے ہوگیا۔۔۔۔۔۔!!؟؟؟

    جو میلاد مصطفیﷺ قرآن میں جا بجا موجود ہو، اپنی ولادت کے دن کو نبی پاکﷺ نے بھی ہر ہفتے یاد رکھا ہو اسے ہم سال میں ایک دن مناتے ہیں تو آخر اسلام کو کس قسم کا خطرہ ہو جاتا ہے۔۔۔!!!؟؟؟


    بے شک ولادت مصطفی ﷺ کی خوشی اسی مسلمان کو ہوتی ہے جو دل سے نبی پاکﷺ سے محبت کرتا ہے۔ جب تک کوئی بھی مسلمان اپنے جان مال ملکیت اور بال بچوں سے زیادہ نبی پاکﷺ سے محبت اپنی دل میں نہیں رکھتا اس کا ایمان ہی مکمل نہیں ہوسکتا۔۔۔۔!!
     
    • غیر متفق غیر متفق x 1
  18. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29

    محترم اعجاز علی شاھہ کی خدمت میں۔۔۔۔!!

    بھائی میں اپنی کسی بھی بات سے نہیں ہٹا ہوں۔ آپ میری بات کو شاید سمجھہ نہیں پائے۔
    میں نے یہ کہا تھا کہ میلاد مصطفی ﷺ کا موجودہ طریقہ وقت گذرنے کہ ساتھہ ساتھہ کچھہ بدل گیا ہے ، لیکن مقصد وہی ذکر مصطفیﷺ کرنا ہی ہے ۔ آمد مصطفی ﷺ کا ذکر اللہ رب الزت نے قرآن میں کر کہ میلاد مصطفی ﷺ کی شروعات خود کی ہے۔

    کسی بھی مسلمان کہ لیئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی اور نبی کو حضور اکرم ﷺ پر اھمیت دے۔

    آج بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے میں سب پڑھنے والوں کو قرآن پاک سے ایک ایسی محفل میلاد مصطفی ﷺ پیش کر رہا ہوں ، جس کا خطیب کوئی اور نہیں بلکہ خود اللہ رب العزت کی ذات بابرکات ہے۔۔۔!! اور اس محفل کے میلادی اور سامعین بھی کوئی عام انسان نہیں بلکہ اللہ رب العزت کے منتخب سب انسانوں سے اشرف یعنی سب انبیاء کرام ہیں۔۔۔!!!


    محفل میلاد مصطفی ﷺ اور قرآن۔۔۔۔۔!!!
    [​IMG]

    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    (سورت آل عمران 81،82)
    سب پڑھنے والوں کو سورت آل عمران کی ان دو آیات پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہوں۔

    ان آیات میں اللہ رب العزت اپنے سب نبیوں سے ایک عھد لیا ہے کہ میں تم کو کتاب و حکمت دوں گا پھر تم لوگوں کے پاس وہ عظیم رسول تشریف لائیگا جو تم لوگوں کے پاس جو کچھہ ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوگا۔ تم سب اس رسول پر ضرور بہ ضرور ایمان لانا ، اس کی مدد کرنا۔ اس کہ بعد اللہ پاک نے سب انبیاء کرام سے پوچھا ہے کہ کیا تم لوگوں نے اقرار کر لیا اور میرے اس اھم عھد کو قبول کرتے ہو۔ سب انبیاءکرام اس عھد کو تسلیم کرنے کا اقرار کرتے ہیں۔ اس کہ بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ سب گواھہ رہیں اور میں بھی تم سب کہ ساتھہ گواھہ ہوں اور اب اگر تمہاری امتوں سے کوئی بھی اس عھد کو توڑیگا تو نافرمان بن جائیگا۔۔۔!!

    محترم دوستو۔۔۔۔۔قرآن پاک کی ان دو آیات سے مندرجہ ذیل اھم باتیں واضح ہو رہی ہیں۔

    • آمد مصطفی ﷺ کا ذکر کرنے کہ لیئے روز ازل سب سے پہلہ جلسہ ، سب سے پہلی محفل ، سب سے پہلہ پروگرام یا اجتماع خود اللہ رب العزت نے منعقد کیا تھا۔۔۔!!!
    • اس پہلی محفل میلاد مصطفی ﷺ کا خطیب اللہ پاک جل شانہ خود ہیں ، اور میلادی یا سامعین اللہ پاک کہ سب انبیاءکرام ہیں۔۔۔!!
    • اس پہلی محفل میلاد مصطفی ﷺ میں آمد مصطفی ﷺ ، فضائل مصطفی ﷺ ، آخری نبی کریم ﷺ کی شان اور مرتبے کو اللہ پاک خود بیان فرما رہے ہیں۔۔۔!!
    • اس محفل میلاد میں اللہ رب العزت نے سب انبیاء کرام سے ایک عھد بھی لیا ہے ، اس عھد کے گواھوں میں سب انبیاءکرام سمیت اللہ پاک جل شانہ خود بھی شامل ہو رہے ہیں۔۔۔!!
    • اس محفل میلاد مصطفی ﷺ میں اللہ پاک نے سب انبیاء سے یہ عھد لیا ہے کہ اگر ان کہ زمانے میں نبی پاکﷺ مبعوث ہوں یعنی ان کی آمد اور میلاد ہو تو وہ حضور اکرم ﷺ پر ایمان لائیں ، ان کی تصدیق کریں اور اس کی مدد کریں۔
    • ان آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ پاک نے سب انبیاءکرام کو پہلے سے ہی نبی پاک ﷺ کی بعثت ، میلاد اور آمد کا پابند کر دیا تھا۔۔۔!!
    • اس محفل میلاد مصطفی ﷺ کے بعد یہ بات سمجھہ میں آتی ہے کہ سب ابنیاءکرام اپنے اپنے دور نبوت میں ایک طرف توحید کی تعلیم دے رہے تھے تو دوسری طرف میلاد مصطفی ﷺ اور آمد مصطفی ﷺ کا بھی بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔
    اگر کسی بھائی کو میرا اس طرح بار بار میلاد لکھنا پسند نہ آ رہا ہو تو اسے حقیقت پسندی سے کام لینا چاہیئے اور غور کرنا چاہیئے کہ نبی پاک ﷺ کی آمد ، بعثت اور ان کے اعلان نبوت کا ذکر کرنا ہی اصل میں میلاد مصطفی ﷺ ہے۔
    [​IMG]
     
    • غیر متفق غیر متفق x 1
  19. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29
    محترم اعجاز علی شاھہ کی خدمت میں۔۔۔۔!!!
    محترم بھائی آپ نے پھر بات کو گھمانے کی کوشش کی ہے۔

    میلاد مصطفی ﷺ منانا اور اس روز عید کی طرح خوشیاں منانا کسی بھی طرح غلط نہیں ہے۔

    احادیث میں صرف دو عیدوں کے دنوں میں روزہ حرام قرار دینے کا یہ مطلب کیسے ہوا کہ اگر کسی بھی دوسرے دن کو مسلمان عید کی طرح خوشیاں منائیں تو اس دن بھی روزہ حرام ہی ہوگا۔ ایک طرف آپ عید میلادالنبی ﷺ کا انکار کر رہے ہیں تو دوسری طرف ہماری بات کو تسلیم کرتے ہوئے عید میلادالنبی ﷺ کا روزہ حرام بھی کہہ رہے ہیں۔

    جو بات احادیث سے ثابت ہے وہ یہی ہے کہ مسلمان دو عیدوں کہ دنوں پر روزہ نہیں رکھہ سکتے۔ اب اگر مسلمان کسی بھی دن کو بطور عید قرار دے کر خوشیاں منائیں بھی تو اس دن روزہ حرام نہیں ہو سکتا کیوں کہ میرے علم کہ مطابق احادیث میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔

    اس کہ لیئے آپ کو پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ مسلمان ان دو عیدوں کہ علاوہ کسی بھی دن کو عید کی طرح نہیں منا سکتے۔ آپ کو چاہیئے کہ قرآن و حدیث سے کم سے کم کوئی ایک حوالہ پیش کردیں۔۔
     
  20. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29
    محترم بھائی اعجاز علی شاھہ کی خدمت میں۔۔۔۔۔!!!
    آپ نے صحیح مسلم کی ایک حدیث کی عربی عبارت کا ترجمہ پوچھا ہے۔
    بڑے تعجب کی بات ہے کہ صحیح مسلم کی مذکورہ حدیث کا ترجمہ تو میں پہلے ہی لکھہ چکا ہوں۔ اگر آپ کو اس پر اعتراض ہے تو درست ترجمہ لکھہ کر ہماری رہنمائی کردیں۔

    ایک بات یہ بھی واضح کردوں کہ میں عربی زبان کو کسی اور زبان میں ترجمہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

    قرآن و حدیث کو سمجھنے کے کیلیئے میں پہلے سے موجود مختلف علماء کرام کے مختلف تراجم پر ہی غور و فکر کرتا ہوں۔

    پھر بھی آپ کی تشفی کے لیئے میں صحیح مسلم کی مذکورہ حدیث کو عربی ، انگریزی اور اردو ترجمہ کے ساتھہ دوبارہ پیش کر رہا ہوں۔ اگر آپ مزید رہنمائی کر سکیں تو مہربانی ہوگی۔

    [​IMG]
    [​IMG]

    آپ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث کے بارے میں بھی پوچھا ہے کہ
    مذکورہ حدیث جیسا کہ پہلے ہی بتا دیا ہے کہ تفسیر در منثور سے لی گئی ہے۔ اس کی عربی کتاب میرے پاس موجود نہیں ہے۔ اس لیئے معزرت چاہتا ہوں۔

    فی الوقت تفسیر در منثور کے اردو ترجمے سے مذکورہ حدیث پیش کر رہا ہوں۔

    [​IMG]

    [​IMG]
    اگر آپ کی پھر بھی تشفی نہ ہو رہی ہو تو فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ ایصال ثواب کی تائید میں مزید مستند احادیث بھی پیش کی جاسکتی ہیں۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں