ہم نے اس وقت سیاست میں قدم رکھا تھا

ابوعکاشہ نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏دسمبر 16, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,902
    ہم نے اس وقت سیاست میں قدم رکھا تھا
    جب سیاست کا صلہ آہنی زنجیریں تھیں

    سرفروشوں کے لئے دار و رسن قائم تھے
    خان زادوں کے لئے مفت کی جاگیریں تھیں

    بے گناہوں کا لہو عام تھا بازاروں میں
    خون احرار میں ڈوبی ہوئی شمشیریں تھیں

    از افق تا بہ افق خوف کا سناٹا تھا
    رات کی قید میں خورشید کی تنویریں تھیں

    جانشینیان کلایو تھے خداوند مجاز
    سِرِّ توحید کی برطانوی تفسیریں تھیں

    حیف اب وقت کے غدار بھی رستم ٹھہرے
    اور زنداں کے سزاوار فقط ہم ٹھہرے

    - شورش کاشمیری
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں