ولادت نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جشن حصول و ماتم ضیاع)

ابوعکاشہ نے 'ماہِ ربیع الاوّل' میں ‏دسمبر 25, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,875
    ولادت نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جشن حصول و ماتم ضیاع)

    ابوالکلام آزادرحمہ اللہ


    جب کہ تم اس ماہ مبارک میں یہ سب کچھ کرتے ہو اور اس ماہ کے واقعہ ولادت کی یاد میں خوشیاں مناتے ہو تو اس کی مسرتوں کے اندرتمہیں کبھی اپناوہ ماتم بھی یاد آتا ہے جس کے بغیراب تمہاری کوئی خوشی نہیں ہوسکتی؟کبھی تم نے اس حقیقت پربھی غورکیا ہے کہ یہ کس کی پیدائش ہے جس کی یاد کے لیے تم سروسامان کرتے ہو؟یہ کون تھا جس کی ولادت کے تذکرہ میں تمہارے لیے خوشیوں اور مسرتوں کا ایسا عزیزپیام ہے ؟آہ ـــ!! اگراس مہینے کی آمد تمہارے جشن ومسرت کا پیام ہے کیونکہ اس مہینے میں وہ آیا جس نے تم کو وہ سب کچھ دیاتھا،تومیرے لیے اس مہینے سے بڑھ کراور کسی مہینے میں ماتم نہیں ،کیونکہ اس مہینے میں پیدا ہونے والے جو کچھ ہمیں دیا تھا ـ وہ سب کچھ ہم نے کھودیا ـ اس لیے اگریہ ماہ ایک طرف بخشنے والے کی یاد تازہ کرتا ہے تو دوسری طرف کھونے والوں کے زخم کو بھی تازہ ہونا چاہئےـ
    ما خانہ رمیدگان ظلیم ـ ـ ـ پیغام خوش ازدیار ما نسیت
    تم اپنے گھروں کو مجلسوں سے آباد کرتے ہو مگرتمہیں اپنے دل کی اجڑی ہوئی بستی کی بھی کچھ خبر ہےـــ؟ تم کافور شمعوں کی قندیلیں روشن کرتے ہو مگر اپنے دل کی اندھیاری کودور کرنے کے لیےچراغ نہیں ڈھونڈتے ! تم پھولوں سے گلدستے سجاتے ہو، مگرآہ ـــ! تمہارے اعمال حسنہ کا پھول مرجھا گیا ہے ، تم گلاب کے چھینٹوں سے اپنے رومال و آستین کا معطرکرنا چاہتے ہو مگرآہ ــ تمہاری غفلت اسلامی کی عطربیزی سے دنیا کی مشام روح یکسرمحروم ہے ــ! کاش تمہاری مجلسیں تاریک ہوتیں ـ تمہارے اہنٹ اور چونے کے مکانوں کو زیب زینت کا ایک ذرہ نصیب نہ ہوتا ،تمہاری آنکھیں رات بھرمجلسیں آرائیوں میں نہ جاگتیں، تمہاری زبانوں سے ماہ ربیع الاول کی ولادت کے لیے دنیا کچھ نہ سنتی ، مگرتمہاری روح کی آبادی معمورہوتی ،تمہارےدل کی بستی نہ اجڑتی ، تمہاری طالع خفیہ بیدارہوتا ،اور تمہاری زبان سے نہیں مگر تمہارے اعمال کے اندر سے اسوہ حسنہ نبوی ے ترانے اٹھتے ـ فانھا لا تعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدورـ
    مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ ، تو نہ مرجائے ـ ـ ـ کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے
    پھر آہ ـــ وہ قوم ، اور صد آہ ـ اس قوم کی غفلت و نادانی ، جس کے لیے جشن ومسرت میں پیام ماتم ہے ، اور جس کی حیاتِ قومی کا ہر قہقہ عیش فغان حسرت ہو گیا ہے ، مگرنہ تو ماضی کی عظمتوں میں اس کے لیے کوئی منظرعبرت ہے ـ نہ حال کے واقعات و حوادث میں کوئی پیام تنبیہ و ہوشیاری ہے ، اورنہ مستقبل کی تاریکیوں میں زندگی کی کسی روشنی کو اپنے سامنے رکھتی ہے ـ اسے اپنی کام جوئیوں اورجشن ومسرت کی بزم آرئیوں سے مہلت نہیں ، حالانکہ اس کے جشن وطرب کے ہردور میں ایک نہ ایک پیام ماتم وعبرت بھی رکھ دیا گیا ہے ـ بشرطیکہ آنکھیں دیکھیں ، کان سنیں اور دل کی دانائی غفلت و سرشاری نے چھین نہ لی ہو ـ
    ماہ ربیع الاول کی یاد میں ہمارے لیے جشن و مسرت کا پیام اس لیے تھا کہ اس مہینے میں خدا کا وہ فرمان رحمت دنیا میں آیا جس کے ظہور نے دنیا کی شقاوت وحرمانی کا موسم بدل یا ـ ظلم و طغیان اورفساد وعصیان کی تاریکیاں مٹ گئیں ـ خدا اور اس کے بندوں کا ٹوٹا ہوا رشتہ جڑگیا ـ انسانی اخوت و مساوات کی یگانگت نے دشمنوں اور کینوں کو نابود کردیا اور کلمہءکفر و ضلالت کی جگہ کلمہءحق وعدالت کی بادشاہت کا اعلان عام ہوا ـاللہ کی طرف سے تمہاری جانب ایک نور ہدایت اور کتاب مبین آئی ـ اللہ اس کے ذریعے اپنی رضا چاہنے والوں کو سلامتی اور زندگی کی راہوں پر ہدایت کرتا اور ان کے آگے صراط مستقیم کوکھولتا ہے(المائدہ 15/16))
    لیکن دنیا شقاوت وحرمان کے درد سے پھر دکھیا ہوگئی ، انسانی شروفساد اورظلم وطغیان کی تاریکی خدا کی روشنی پرغالب ہونے کے لیے پھیل گئی ، سچائی اور راست بازی کی کھیتوں نے پامالی پائی اور انسانوں کے بے راہ گلہ کا کوئی رکھوالا نہ رہا ـ خدا کی وہ زمین جو صرف خدا ہی کے لیے تھی غیروں کو دے دی گئی ،اور اس کے کلمہءحق وعدل کے غم گساروں اور ساتھیوں سے اس طرح خالی ہوگئی ـ"زمین خشکی اور تری دونوں میں انسان کی پیدا کی ہوئی شرارتوں سے فساد پھیل گیا اور زمین کی صلاح و فلاح غارت ہوگئی ـ(روم:41)
    پھر آہ ــــ ! تم اس کے آنے کی خوشیاں تو مناتے ہو ، پر اس کے ظہور کے مقصد سے غافل ہو گئے ہو ،اور وہ جس غرض کے لیے آیا تھا،اس کے لیے تمہارے اندر کوئی ٹیس اور چھبن نہیں ؟یہ ماہ ربیع الاول اگر تمہارے لیے خوشیوں کی بہار ہے تو صرف اس لیے کہ اس مہینے میں دنیا کی خزان وضلالت ختم ہوئی اور کلمہءحق کا موسم ربیع شروع ہوا ـ پھر آج دنیا کی عدالت سموم ضلالت کے جھونکوں سے مرجھا گئی ہے تو ائے غفلت پرستوــ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ بہار کی خوشبیوں کی رسم تو مناتے ہو مگرخزان کی پامالیوں پر نہیں روتے ــ؟
    تم ربیع الاول میں آنے والے کی یاد اور محبت کا دعویٰ رکھتے ہو اور مجلسیں منعقد کر کے اس کے مدح و ثنا کی صدائیں بلند کرتے ہو لیکن تمہیں کبھی یاد نہیں آتا جس کی یاد کا تمہاری زبان دعویٰ کرتی ہے ـ اس کی فراموشی کے لیے تمہارا عمل گواہ ہے اور جس کی مدح وثنا میں تمہاری صدائیں زمزمہ سرا ہوتی ہیں ـ اس کی عزت کو تمہارا وجود بٹہ لگا رہا ہے ؟؟ وہ دنیا میں اس لیے آیا تھا تاکہ انسانوں کو انسانی بندگی سے ہٹا کر صرف اللہ کی عبودیت کو صراط مستقیم پرچلائے، اور غلامی کی ان تمام زنجیروں سے ہمیشہ کے لیے نجات دلادے جن کے بڑے بڑے بوجھل حلقے انہوں نے ڈال لیے تھے ـ
    پس اگرربیع الاول کا مہینہ دنیا کے لی خوشی و مسرت کا مہینہ تھا ، تو صرف اس لیے کہ اس مہینے میں دنیا کا وہ سب سے بڑا انسان آیا جس نے مسلمانوں کو ان کی سب سے بڑی نعمت یعنی "خدا کی بندگی ار انسانوں کی آقائی عطا فرمائی اور اس کو اللہ کی خلافت دنیا بت کا لقب دے کر خدا کی ایک پاک و محترم امانت ٹھہرایا ـ پس ربیع الاول انسانی حریت کی پیدائش کا مہینہ ہے ـ غلامی کی موت وہلاکت کی یادگار ہے ـ خلافت الہی کی بخشش کا اولین یوم ہے ـ رواثت ارضی کی تقسیم کا اولین اعلان ہے ـ اسی ماہ میں کلمہء حق وعدل زندہ ہوا اور اسی میں کلمہء ظلم و فساد اور کفر وضلالت کی لعنت سے خدا کی زمین کو نجات ملی ـ
    لیکن آہ ـــ ! تم اس ماہ حریت کے درود کی خوشیاں مناتے ہو ، اور اس کے لیے ایسی تیاریاں کرتے ہو ، گویا کہ وہ تمہارے ہی لیے اور تمہاری ہی خوشیوں کے لیے آیا ہے ـ خدارا مجھے بتلاؤ ـــ؟ کہ تم کو اس پاک اور مقدس یادگار کی خوشی منانے کا کیا حق ہے ؟ کیا موت اور ہلاکی کو اس کا حق پہنچتا ہے کہ زندگی اور روح اپنے کو ساتھی بنائے ؟ کیا ایک مردہ لاش پردنیا کی عقلیں نہ ہنسیں گی کہ اگر وہ زندوں کی طرح زندگی کو یاد کرے گی ، ہاں یہ سچ ہے کہ آفتاب کی روشنی کے اندردنیا کے لیے بڑی ہی خوشی ہے ، لیکن ایک اندھے کو کب زیب دیتا ہے کہ وہ آفتاب کے نکلنے پر آنکھوں کی طرح خوشیاں منائے ؟ پھر تم بتلاؤ کہ تم کون ہو ـــ جس نے اپنے نفس کی غلامی اور اپنی خواہشوں کی غلامی ، ماسوائے اللہ رشتوں کی غلامی اور غیرالہی طاقتوں کی غلامی کی زنجیروں سے اپنی گردن کو چھپا دیا ہے ـ تم پتھروں کا ایک ڈھیر ہو ، جو نہ تو خود ہل سکتا ہے اور نہ اس میں جان اور روح ہے ـ البتہ چور چور ہو سکتا ہے اور ایک دوسرے پر پٹکا جا سکتا ہے ـ تم غبارراہ کی ایک مشت ہو جس کو ہوا اڑا لے جائے تو اڑسکتی ہے ورنہ نہ تو وہ خود صرف اس لیے ہے کہ تاکہ ٹھوکروں سے روندی جائے اور جولان قدم سے پامال کی جائے ـ
    گلگونہ عارض ہے نہ ہے رنگِ حنا توـ ـ ـ ائے خوں شدہ دل ، تو تو کسی کام نہ آیا
    پس ائے غفلت کی ہستیو، اور اسے بے خبری کی سرگشتہ خواب روحو ! تم کس منہ سے اس کی پیدائش کی خوشیاں مناتے ہو جو حریت انسانی کی بخشش ، حیاتِ روحی و معنوی عطیہ اور کامرانی وفروزمند کی فسردگی و ملوکی کے لیے آیا تھا ، اللہ اللہ غفلت کی نیرگی اور انقلاب کی بوقلمونی ، ما سوائے اللہ کی عبودیت کی زنجریں پاؤں میں ہیں ، انسانوں کی ملوکیت و مرغوبیت کے حلقے گردنوں میں ،ایمان باللہ کے ثبات سے دلِ خالی اور اعمال حقہ و حسنہ کی روشنی سے روح محروم ! ان سامانوں اور تیاریوں کے ساتھ تم مستعد ہو کہ ربیع الاول کے آنے والے کی یاد کا جشن مناؤ جس کا آنا خدا کی عبودیت کی فتح ، غیر الہی عبودیت کی ہلاکت ، حریت صادقہ کا اعلان حق ، عدالتِ حقہ کی ملوکیت کی بشارت اور امت عادلہ وقائمہ کے تمکین وقیام کی بنیاد تھا ـ کما لعنوا لاءالقوم لا یکادون تفقھون حدیثا ـ
    پس ائے غفلت شعارانِ ملت ــ! تمہاری غفلت پر صدفغان وحسرت اور تمہاری سرشاریوں پر صد ہزارنالہ وبکا ، اگر تم اس ماہ مبارک کی اصلی عظمت وحقیقت سے بے خبررہو اور صرف زبانوں کے ترانوں ، درودیوار کی آرائشوں اور روشنی کی قندیلوں ہی میں اسی کے مقصد یادگاری کو گم کردو ـ تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ماہ مبارک امت مسلمہ کی بنیاد کا پہلا دن ہے ـ خداوندی بادشاہت کے قیام کا اولین اعلان ہے ، خلافت ارضی و وراثت الہی کی بخشش کا سب سے پہلا مہینہ ہے پس اس کے آنے کی خوشی اور اس کے تذکرہ و یاد کی لذت پر اس شخص کی روح پرحرام ہے جو اپنے ایمان و عمل کے اندر اس پیغام الہی کی تعمیل و اطاعت اور اس اسوہ حسنہ کی پیروی کے لیے کوئی نمونہ نہیں رکھتا ـفبشر عباد الذين يستمعون القول فيتبعون أحسنه أولئك الذين هداهم الله وأولئك هم أولو الألباب

    بشکریہ:
    جریدہ ترجمان
    کمپوز/عکاشہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  2. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,869
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,332
    جزاک اللہ خیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں