بہت کم سخن اور گمنام ہیں ہم

dani نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏دسمبر 31, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    پاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز کا ترانہ

    شاعر: کرنل ریٹائرڈ غلام جیلانی


    یہ سنگیں حصاروں کی اونچی فصیلیں

    یہ دریا یہ ساگر یہ صحرا یہ جھیلیں

    یہی ہیں نشیمن یہی آشیانے

    عقابوں کے مسکن ہمارے ٹھکانے

    مصائب کے طوفاں حوادث کی موجیں

    بلاؤں کے ریلے بگولوں کی فوجیں

    ہمیں زندہ رکھنے کے ہیں سب بہانے

    یہی اک حقیقت ہے باقی فسانے

    ہمارے مقابل ہو ہے کس کی ہستی

    ہمارے لیے ہر بلندی ہے پستی

    ہمیں کیا چلے آپ ماضی سنانے

    ستاروں سے آگے ہمارے زمانے

    نڈر نیک دل صف شکن بے ریا ہیں

    ہمالہ تو کیا آسماں زیر پا ہیں

    دلوں میں بھرے لا الہ کے خزانے

    نگاہوں میں بجلی لبوں پر ترانے

    بہت کم سخن اور گمنام ہیں ہم

    جو سچ پوچھتے ہو تو ابہام ہیں ہم

    کبھی ہوش میں ہیں کبھی ہیں دیوانے

    یہی اپنی منزل یہی آستانے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں