فیض

المسافر نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏اپریل 20, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. المسافر

    المسافر --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 10, 2007
    پیغامات:
    6,261
    اب وہي حرف جنوں سب کي زباں ٹھہري ہے

    جو بھي چل نکلي ہے وہ بات کہاں ٹھہڑي ہے

    آج تک شيخ کے اکرام ميں جو شۓ تھي حرام

    اب وہي دشمن دين، راحت جاں ٹھہري ہے

    ہے خبر گرم کہ پھرتا ہے گريزاں ناصح

    گفتگو آج سر کوۓ بتاں ٹھہڑي ہے

    ہے وہي عارض ليلي، وہي شيريں کا دہن

    نگہ شوق گھڑي بھر کو بتاں ٹھہري ہے

    وصل کي شب تھي تو کس درجہ سبک گزري تھي

    ہجر کي شب ہے تو کيا سخت گران ٹھہري ہے

    بکھري اک بار تو ہاتھ آئي ہے کب موج شميم

    دل سے نکلتي ہے تو کب لب پہ فغاں ٹھہري ہے

    دست صياد بھي عاجز ہے، کف گلچيں بھي

    بوۓ گل ٹھہري نہ بلبل کي زباں ٹھہري ہے

    آتے آتے يونہي دم بھر کو رکي ہو گي بہار

    جاتے جاتے يونہي پل بھر کو خزاں ٹھہري ہے

    ہم نے جو طرز فغاں کي ہے قفس ميں ايجاد
     
  2. naseerhaider

    naseerhaider -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2007
    پیغامات:
    408
    مرے ہمدم، مرے دوست

    گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست
    گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی شکن
    تیری آنکھوں کی اُداسی، ترے سینے کی جلن
    میری دلجوئی، مرے پیار سے مٹ جائے گی
    گر مرا حرفِ تسّلی وہ دوا ہو جس سے
    جی اُٹھے پھر سے ترا اُجڑا ہوا بےنور دماغ
    تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
    تری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے
    گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست!
    روز وشب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوں
    میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے، شیریں
    آبشاروں کے، بہاروں کے، چمن زاروں کے گیت
    آمدِ صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت
    تجھ سے میں حُسن و محّبت کی حکایات کہوں
    کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم
    گرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیں
    کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوش
    دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں
    کس طرح عارضِ محبوب کا شفاف بلور
    یک بیک بادہِ احمر سے دہک جاتا ہے
    کیسے گلچیں کے لئے جھلکتی ہے خود شاخِ گلاب
    کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے
    یونہی گاتا رہوں، گاتا رہوں تیری خاطر
    گیت بناتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطر
    یہ مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیں
    نغمہِ جراح نہیں، مونس و غم خوار سہی
    گیت نشتر تو نہیں، مرہمِ آزاد سہی
    ترے آزاد کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا
    اور یہ سفاک مسیحا میرے قبضے میں نہیں
    اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
    ہاں مگر تیرے سوا، تیرے سوا، تیرے سوا

    فیض
     
  3. naseerhaider

    naseerhaider -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2007
    پیغامات:
    408
    وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
    جو عشق کو کام سمجھتے تھے
    یا کام سے عاشقی کرتے تھے
    ہم جیتے جی مصروف رہے
    کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا
    کام عشق کے آڑے آتا رہا
    اور عشق سے کام الجھتا رہا
    پھر آخر تنگ آ کر ہم نے
    دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں