اس ہجوم رنگ و بو میں کب خدا یاد آئے ہے

عفراء نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏فروری 26, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    ہر طرف خیمے لگے ہیں، دور تک بازار ہے
    یہ نمائش ہے کوئی میلہ ہے یا تہوار ہے
    کوئی بارات اس جگہ اتری ہے باصد کروفر
    میں یہ سمجھا شامیانوں کی قطاریں دیکھ کر
    یہ نفیری کی صدائیں، یہ کٹوروں کی کھنک
    یہ دھوئیں کے پیچ، یہ پھولوں کے گجروں کی مہک
    نیم وا برقعے نگاہوں پر فسوں کرتے ہوئے
    شوق نظارہ کو ہر لحظہ فزوں کرتے ہوئے
    ہے یہ تقریب عقیدت، عرس ہے اک پیر کا
    کام کرتی ہے یہاں کی خاک بھی اکسیر کا
    اک طوائف گا رہی ہے سامنے درگاہ کے
    کیا مزے ہیں حضرت قبلہ سہاگن شاہ کے
    ساز پر کچھ چھوکرے قوالیاں گاتے ہوئے
    گٹکری لیتے ہوئے، ہاتھ کو پچکاتے ہوئے
    رقص فرمانے لگے ، کچھ صاحبان وجد و حال
    یہ کرامت شیخ کی ہے، یا ہے نغمہ کا کمال
    عورتوں کی بھیڑ میں نظارہ ٹھوکر کھائے ہے
    اس ہجوم رنگ و بو میں کب خدا یاد آئے ہے

    ماہرالقادری
    بشکریہ: https://www.facebook.com/MudirayFaran
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    بہت خوب
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں