محسن نقوی

المسافر نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏اپریل 20, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. المسافر

    المسافر --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 10, 2007
    پیغامات:
    6,261
    وہ لڑکی بھی ایک عجیب پہیلی تھی
    پیاسے ہونٹ تھے آنکھ سمندر جیسی تھی

    سورج اس کو دیکھ کر پیلا پرتا تھا
    وہ سرما کی دھوپ میں دھل کر نکلی تھی

    اسکو اپنے سائے سے ڈر لگتا تھا
    سوچ کے صحرا میں وہ تنہا ہرنی تھی

    آتے جاتے موسم اس کو ڈستے تھے
    ہنستے ہنستے پلکوں سے رو پڑتی تھی

    آدھی رات گنوا دیتی تھی چپ رہ کر
    آدھی رات کو چاند سے باتیں کرتی تھی

    دور سے اجڑے مندر جیسا گھر اس کا
    وہ اپنے گھر میں اکلوتی دیوی تھی

    موم سے نازک جسم سھر کو دکھتا تھا
    دیئے جلا کر شب بھر آپ پگھلتی تھی

    تیز ہوا کو روک کر اپنے آنچل پر
    سوکھے پھول اکٹھے کرتی پھرتی تھی

    سب ظاہر کر دیتی تھی بھید اپنا
    سب سے ایک تصویر چھپائے رکھتی تھی

    کل شب چکنا چور ہوا تھا دل اس کا
    یا پھر پہلی بار وہ دل کھول کر روئی تھی

    محسن کیا جانے دھوپ سے بے پروا
    وہ اپنے گھر کی دہلیز پر بیٹھی تھی ؟
    ------------------------------------------------------ محسن نقوی
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں