جہاد فلسطین بالکل صحیح اور فرض ہے۔ شیخ بن باز رحمہ اللہ

خطاب نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏مارچ 6, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. خطاب

    خطاب -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 1, 2015
    پیغامات:
    74
    السلام علیکم - ذیل میں جہاد فلسطین کی مشروعیت اور فرضیت پر شیخ بن باز رحمہ الله کا فتویٰ پیش کیا جا رہا ہے جس میں شیخ نے جہاد فلسطین کی فرضیت کے دلائل اور دنیا کے تمام مسلمانوں کو اس میں اپنا حصہ ڈالنے کے وجوب پر زور ڈالا ہے ۔ شیخ کا یہ فتویٰ انکی ویب پر اس لنک پر بھی موجود ہے۔

    فلسطین کے جہاد کی نوعیت – از شیخ بن باز رحمہ اللہ
    سوال : موجودہ فلسطینی جہاد کے بارے میں شریعۃ اسلامیۃ کیا کہتی ہے ، کیا یہ جہاد فی سبیل اللہ ہے یا یہ جہاد صرف زمین اور آزادی حاصل کرنے کے لئے ہے ؟ اور کیا زمین حاصل کرنے کی خاطر جہاد کرنے کو جہاد فی سبیل اللہ کہا جا سکتا ہے ؟

    جواب : یہ بات پکے معتمد افراد سے فلسطینی حملہ اور اس کو سرانجام دینے والے وہاں خاص مسلمانوں میں سے ہیں اور ان کا جہاد اسلامی ہے کیونکہ یہودی ان پر ظلم کر رہے ہیں اور ان کا واجب ہے اپنے دین ، اپنی جان و مال اور گھر باراہل عیال کا دفاع کرنا اور اپنی پوری طاقت سے دشمن کو اپنی زمین سے نکال باہر کرنا ۔ اور ہمیں ان معتمد بندوں نے بات بتائی ہے کہ جو خود بنفسہ ان کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے ہیں اور ان کو ترغیب دلائی ہے کہ اپنے معاملات کو شریعت اسلامیہ کے مطابق رکھیں اور اسلامی ممالک پر اور دیگر مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ ان کی تائید کریں اور ان کو حوصلہ دیں تاکہ وہ دشمن سے اپنی جان چھڑا سکیں اور اللہ کے اس قول پر عمل کرتے ہوئے اپنے ملک کی طرف واپس لوٹ آئیں :
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُمْ مِنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ(سورة التوبة الآية123)
    اے مومنو! ان کفار سے قتال کرو جو تمہارے زیادہ قریب ہیں اور یہ لازمی ہے کہ تم غصہ پایا جائے اور جان لو کہ اللہ متقین کے ساتھ ہے ۔
    اور اللہ سبحانہ کا یہ قول :
    وقوله سبحانه: انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ(سورة التوبة الآية 41.)
    نکلو ! ہلکے ہو یا بوجھل ، اپنی جان و مال کے ساتھ اللہ کے رستے میں جہاد کرو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے اگر تم جان لو ۔
    اور اللہ کا یہ قول :
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ * تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ * يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ * وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ(سورة الصف الآيات 10-13)
    اے مومنو! کیا میں تمہیں ایسی تجارت نہ بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے ۔ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اپنی جانوں اور اموال کے ساتھ اللہ کے رستے میں جہاد کرو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے اگر تم جان لو۔ وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کریگا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور ہمیشہ ( تروتازہ ) رہنے والے باغات میں پاکیزہ رہائش گاہوں میں یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔ اور دوسری چیز جسے تم پسند کرتے ہووہ اللہ تعالی کی مدد اور جلد فتح ہے اور مومنین کے لئے خوشخبری ہے ۔ اس معنی میں آیات بہت زیادہ ہیں اور رسول اللہ ﷺ کا یہ قول بالکل صحیح ہے
    جاهدوا المشركين بأموالكم وأنفسكم وألسنتكم
    کہ : تم مشرکین کے خلاف اپنے اموال ، اپنی جانوں اور اپنی زبانوں سے جہاد کرو ۔
    کیونکہ وہ مظلوم ہیں اس لئے دوسرے مسلمانوں پر ان کی مدد کرنا واجب ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
    المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه
    مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ ہی اسے اکیلا چھوڑ دیتا ہے ۔ متفق علیہ
    اور فرمایا :
    انصر أخاك ظالما أو مظلوما
    اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہے یا مظلوم انہوں ( صحابہ کرام ) نے کہا :
    تحجزه عن الظلم فذلك نصرك إياه
    مظلوم کی تو میں مدد کروں لیکن ظالم کی کس طرح مدد کی جائے گی ؟ فرمایا: تم اسے ظلم سے روکو یہی اس کی مدد ہے ۔
    اور جہاد فی سبیل اللہ کے وجوب اور مظلوم کی مدد اور ظالم کو دور کرنے کے بارے میں احادیث تو بہت زیادہ ہیں ہم اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ وہ فلسطین میں اور دیگر جگہوں پر ہمارے مجاہدین فی سبیل اللہ بھائیوں کی دشمن کے خلاف مدد فرمائے اور ان کے کلمہ کو حق پر جمع کردے اور تمام مسلمانوں کو ان کی مدد کرنے کی اور ان کے دشمن کے خلاف ان ( مظلوموں ) کی صف میں ان کے ساتھ کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور جہاں کہیں بھی دشمنان اسلام ہیں ان کو رسوا فرما اور ان پر اپنا وہ عذاب نازل فرما جو مجرم قوم سے رد نہیں کیا جاتا یقینا وہ سننے والا جاننے والا ہے ۔
    حوالہ : مجلة الدعوة الصادرة في9/8/1409هـ - مجموع فتاوى ومقالات متنوعة الجزء الرابع
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    شکریہ ۔ گزارش ہے کہ اگر جہاد کے حوالے سے علماء عرب خصوصا سعودی عرب کے موجود ہ علماء کے موجودہ موقف کو واضح کیا جائے اور نقل کیا جائے تو بہتر ہے ۔ جن میں شیخ صالح الفوزان اور شیخ صالح الحیدان و دیگر کبار علماء سعودیہ وخلیجی ممالک کے فتوی شامل ہیں ۔ شیخ رحمہ اللہ کا یہ فتوی بہت پرانا ہے ۔اب فلسطین کے حالات تبدیل ہو چکے ۔ وہاں کی جہادی تنظیموں کا معاملہ شریعت اسلامیہ کے مطاق نہیں رہا ۔ اخوان المسلمین اور دوسری ملحد جماعتوں کے ساتھ الحاق کی وجہ سے ان کی جہادی سرگرمیاں کا محور جہادی نہیں حزبی ہوچکا ۔ اور بعض سامنے آنے والے حقائق اتنے حیران کن ہے ان جہادی جماعتوں کو پس پردہ شیعہ کی حمایت حاصل ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,322
    بھائی مسئلہ یہ ہے جیسے عکاشہ بھائی نے کہا ہے کہ اس وقت تکفیری گروہ کھل کر سامنے نہیں آیا تھا ، بالکل یہی صورت حال اور جگہوں کی ہے، پہلے لوگوں نے جب جہاد کیا تو کوئی تکفیری نہیں تھا اور نہ ہی مسلمانوں کو قتل کرتا تھا، اب کا معاملہ بالکل مختلف ہے !
    اگر عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ زندہ ہوتے تو ضرور وہ ان کے خلاف فتوی دیتے !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,940
    فلسطینی جہادی تنظیموں کی موجودہ صورت حال سے جہاد فلسطین کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا !
    ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہاں کی تنظیموں کا موجودہ طریقہ کار درست نہیں رہا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    جہاد کا عمومی حکم ایک رہتا ہے ۔ جہاد کا خصوصی حکم وقت کے ساتھ بدلتا ہے ۔ موجودہ جہادفلسطین یا کسی بھی جہاد پر موجودہ علمائے عرب کا موقف پیش کیا جائے ۔
    اس بات کی وضاحت تھریڈ میں موجود نہیں ۔ لیکن موجودہ جہاد فلسطین کے حوالے سے آنے والے علماء کے فتوی میں یہ تفصیل موجود ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. سوئےمقتل

    سوئےمقتل -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏فروری 28, 2015
    پیغامات:
    83
    جہاں تک اس فتویٰ کا تعلق ہے تو شیخ کا فتویٰ پہلی پانچ لائنوں تک محدود نہین ہے کیونکہ شیخ نے اپنی رائے کو دلائل و براہین سے مزین کیا ہے اور ان دلائل سے اس جہاد کو صحیح ثابت کیا ہے ۔شیخ کا فتویٰ پرانا ہوسکتا ہے کیا یہ دلائل بھی پرانے ہیں
     
  7. سوئےمقتل

    سوئےمقتل -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏فروری 28, 2015
    پیغامات:
    83
    اصل مسئلہ یہ ہے کیا جہاد صحیح ہے یا نہیں اگر جہاد صحیح ہے تو کسی کا کرنا یا نہ کرنا میٹر نہیں کرتا ہے اگر سلفی گھر بیٹھ کے تاویل کریں گے تو اخوانی ہی کریں گے جہا د
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,322
    جزاک اللہ خیرا
    اللہ تعالی کشمیر، چیچنیا ، فلسطین اور جہاں کہیں بھی اللہ کے کلمے کی سربلندی کیلئے لڑرہے ہیں ان کی مدد کرے۔
    جہاں تک تکفیریوں کا مسلمانوں کے خلاف خروج کا مسئلہ ہے تو شیخ بن باز رحمہ اللہ ضرور ان کی مذمت کرتے اگر باحیات ہوتے !
     
    Last edited: ‏مارچ 6, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. سوئےمقتل

    سوئےمقتل -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏فروری 28, 2015
    پیغامات:
    83
    موجودہ اور ماضی کی بات واضح ہو چکی ہے اصل موقف قرآن و حدیث ہے نہ کہ کسی کافتویٰ ۔
    باقی فتویٰ نقل کرنا ہی غلط ہے اگر یہاں یہی آیات لکھی جاتیں تو صحیح ہوتا ۔اب بات صرف فتویٰ پہ ہی رک گئی ۔
    آپ نے کہا اب فلسطین کے حالات بدل چکے ہیں ۔ کیا اب وہاں یہودی کا ظلم بند ہو چکا ہے ۔کیا وہاں اللہ کا دین غالب آ گیا ۔حالات کل بھی وہی تھے آج بھی وہی ہیں
    وہاں کی جہادی تنظیموں کی واقعی بہت غلطیاں ہیں لیکن کیا اس بنیاد پہ ہم جہاد کا ہی انکار کر دیں ۔
    جب سنی حمایت میں نہ آئین تو ظاہر ہے وہ شیعہ کے پاس ہی جائیں گے
     
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    دلائل و براہین سے موجودہ علماء نے بھی فتوی دیا ہے ۔ لیکن یہ فتوی ۔جہاد فلسطین کے ساتھ مخصوص ہے ، موجودہ علماء جنہوں نے اس کے برخلاف فتوی دیا ہے کیا وہ شیخ کے دلائل سے آگاہ نہیں ؟
    یہ جذباتی بات ہے جس کا اس سنجیدہ موضوع او ربات سے کوئی تعلق نہیں ۔ جہاد کو کسی نے غلط نہیں کہا نا شیخ ابن با ز نے نا ہی موجود ہ علماء نے کہا ہو کہ جہاد غلط ہے یا اسلام سے خارج ہیں ۔ لیکن اگر آپ موجودہ سلفی علماء عرب کو گھر بیٹھنے کا طعنہ دیں گے وہ جہاد نہیں کررہے تو میرا خیال ہے کہ عقلمندی نہیں ۔ ان کا علم،فہم وبصیرت ہم سے زیادہ ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    اس بات سے لگتا ہے کہ آپ حقائق سے آگاہ نہیں ۔ سعودی عرب نے جتنی حمایت کی ہے ماضی میں ۔ اس سے زیادہ تو کسی نے نہیں کی ۔ لیکن جب انہوں نے اخوان المسلمین کو اپنا مرشد مان لیا ۔ سعودیہ کی بنائی گئی مساجد گرادیں ، دی گئی امداد ٹھکرا دی ، بھیجے گئے علماء سے ملنا تک پسند نہیں کیا تو یہ الزام درست نہیں ۔ اس حوالے سے مزید تحقیق کریں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  12. سوئےمقتل

    سوئےمقتل -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏فروری 28, 2015
    پیغامات:
    83
    یہ موجودہ سلفی یا علماء عرب پہ طعنہ ہرگز نہیں بلکہ ایک سوال کھڑا ہوتا ہے اور لوجیکل ہے ۔
    کیا یہی عرب علماء ہمارے بزرگ طلاق کے مسئلہ میں بھی دلائل دیتے ہین اور لجنہ کا فتویٰ آپ نے ضرور پڑھا ہوگا اس وقت مقدم کیا ہوتا ہے ۔اور میری پوسٹ کا اصل مقصد یہی تھا کہ دلائل کو دیکھا جائے نئے پرانے کو نہین ۔
    ان کا علم فہم و بصیرت الحمد للہ بہت ہے اور ان سے محبت بھی بہت زیادہ ہے لیکن اصولوں پہ کمپرومائز نہیں ۔جیسے میں نے طلاق کے معاملہ پہ ان کی فہم و بصیرت بتائی ہے کیا ہم اس کو غلط کہ سکتے ہین
     
  13. سوئےمقتل

    سوئےمقتل -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏فروری 28, 2015
    پیغامات:
    83
    سعودی کی امداد بے شک ہے اور ان کی فاش غلطیاں بھی ہیں لیکن کیا ہماری امداد صرف روٹی کپڑا مکان تک محدود رہنی چاہئے ۔ ان کے اندر غم وغصہ ظاہر ہے ہوگا جب اسرائیل کے مظالم کے خلاف ساتھ میں رہنے واے ممالک کچھ مدد نہ کرین ۔اور اخوان سے مدد لینا یا مرشد ماننے پہ ایک مثال دینا چاہوں گا جو عام ہے کہ ضرورت کے وقت لوگ گدھے کو بھی باپ بنا لیتے ہین ۔میرا خیال ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    یہ غلط فہمی ہے کہ یہاں کوئی جہاد کو غلط کہ رہا ہے ۔ ایسی بات نہیں ۔ لیکن حالات جیسے بھی ہوں ، اس علاقے اور قریب کے علماء موقف کو سامنے رکھ کر بات کی جائے ۔ بہتر ہے کہ آپ ان جہادی تنظمیوں کی غلطیوں کو سب کے سامنے رکھیں اور ان کی اصلاح کی کوشش کریں ۔
     
  15. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    میرا خیال ہے کہ جس وجہ سے میں نے پہلی پوسٹ کی تھی اس کا مقصد واضح ہوچکا : )، جہاد کے موضوع پر بات اب ختم ہوئی ۔ اب آپ ایسا کرٰیں کہ ایک نیا تھریڈ شروع کریں اور سعودیہ کی فاش غلطیاں ذکر کریں تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہو سکے ۔
     
  16. سوئےمقتل

    سوئےمقتل -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏فروری 28, 2015
    پیغامات:
    83
    آپ کی بات سے متفق ہوں ۔تنظیموں کی غلطیوں کی نشاندہی اور اصلاح کرنی چاہئے ہمیں ۔اور کسی بھی جہاد میں کسی ملحد غلط فکروالے کا شامل ہونا جہاد کی صحت پہ اثر نہیں کرتا اس کی مثال زمانہ نبوی سے ہے جب یہودی جہاد میں شامل ہوا تھا لیکن اسکی وجہ سے جہاد پہ کوئی اثر نہیں پڑا ۔اسی طرح کسی بھی محاذ پہ کفر کے خلاف تکفیری اخوانی فکر کے حامل جہاد کر رہے ہین تو اس سے جہاد کی صحت پہ کوئی اثر نہین پڑتا بلکہ اصل سلفی منہج کے حاملیں کو بھی وہاں کرنا چاہیے اور حق کا علم بلند کرنا چاہئے ۔جزاک اللہ خیر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  17. سوئےمقتل

    سوئےمقتل -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏فروری 28, 2015
    پیغامات:
    83
    یہ ان کی فاش غلطیوں سے مراد سعودی نہیں بلکہ فلسطینی ہیں ۔شاید آپ میری بات سمجھ نہین سکے یا مین سمجھا نہین سکا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  18. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,940
    عکاشہ بھائی !
    کیا خوب ہوتا کہ آپ موجودہ عرب علماء میں سے ایک دو کا فتوى ذکر کر دیتے ۔ اور فلسطین میں موجود تنظیموں کے سقم کی نشاندہی کر دیتے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    لیکن جو میں سمجھانا چاہا رہا تھا وہ سب کی سمجھ میں آچکا ۔ سعودی عرب کے پرانے علماء کے فتوی جہاد کے لئے پیش کرنا درست نہیں ۔ اس لئے کہ موجودہ علماء سعودیہ ان فتوی کو نقل نہیں کرتے ۔ موجودہ علماء کا کیا موقف ہے ،وہ بیان کیا جائے ـ
    یہ بھی آپ لوگ جانتے ہیں کہ سعودیہ کی کیا امداد رہی ہے ـ چاہے وہ پاکستان ہو یا فلسطین یا کوئی اور ـ ہڈحرامی سے بچنا چاہیے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. سوئےمقتل

    سوئےمقتل -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏فروری 28, 2015
    پیغامات:
    83
    عکاشہ بھائی بات کافی حد تک پہلے کلیر ہوچکی تھی لیکن اب معاملے طول پکڑ جائے گا میں اس لیے آگے کچھ لکھنے سے گریز کرتا ہوں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں