شہوات کی پیروی کرنا اور گناہوں کا ارتکاب کرنا- تیسری آفت

بابر تنویر نے 'دلوں کی اصلاح و پاکیزگی' میں ‏مارچ 18, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    تیسری آفت

    شہوات کی پیروی کرنا اور گناہوں کا ارتکاب کرنا:


    شہوات اور گناہ و برائیاں انسان کے قلب کو فاسد اور ہلاک و برباد کرنے کی عظیم ترین اسباب میں سے ہیں۔ اللہ تعالی نے شہوتوں کی محبت اور ان کی اتباع کے نتیجہ میں جو اثر مرتب ہوتا ہے اسے بیان کرتے ہوۓ ارشاد فرمایا:
    الجاثیہ 23
    ]أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ أَفَلا تَذَكَّرُونَ[
    کیا آپ نے اسے بھی دیکھا؟ جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور باوجود سمجھ بوجھ کے اللہ نے اسے گمراہ کردیا ہے، اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر بھی پردہ ڈال دیا ہے اب ایسے شخص کو اللہ کے بعد کو ہدایت دے سکتا ہے؟ کی اب بھی تم نصیحت نہیں پکڑتے۔

    اب تم ذرا غور ف فکر کرو! کہ کس طرح شہوتوں کی پیروی دل پر مہر لگنے کا سبب بن گئ پھر تم نظر ڈالو اور سوچو اور غور و فکر کرو اور گہرائ میں ذرا اتر کر تدبر سے کام لو کہ کس طرح سے اس مہر اور دل پر پڑے ہوۓ پردے کا اثر جسم کے تمام حصوں تک سرایت کر گیا۔ رب ذوالجلال نے سچ فرمایا :
    الجاثیہ 23

    ]وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ أَفَلا تَذَكَّرُونَ[
    اب ایسے شخص کو اللہ کے بعد کو ہدایت دے سکتا ہے؟ کی اب بھی تم نصیحت نہیں پکڑتے۔

    پس اے وہ شخص جو اپنے دل کی سلامتی چاہتا ہے تو اپنے دل کو شہوت کے مرض سے بچا، کیونکہ یہ مرض ہلاکتوں اور تباہیوں کے گڑھے میں گرانے والا ہے، اللہ جل و علا کا فرمان ہے:
    المطففین 14
    ]كَلاَّ بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ[
    یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے۔

    پس گناہ دلوں کو اندھا کر دیتے ہیں، اس لیے گناہوں سے بچو، کیونکہ ان کا انجام بہت برا ہے۔ شاعر کہتا ہے:

    رأيت الذنـوب تمـيت القلـوبَ

    وقـد يـورث الذَّل إدمانـها

    وتـرك الذنـوب حيـاة القلوب

    وخـير لنفسـك عصيانهـا

    میں گناہوں کا دیکھتا ہو کہ وہ دلوں کی مردہ بنا دیتے ہیں
    اور ان پر ہمیشگی و اصرار ذلت و رسوائ مسلط کردیتے ہیں
    گناہوں کو چھوڑنا دلوں کے لیے حیاد و زندگی ہے
    اور گناہوں کی نافرمانی تمہارے نفس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔

    امام مسلم رحمہ اللہ نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوۓ سنا:

    مسلم 144
    روى الإمام مسلم من حديث حذيفة بن اليمان – رضي الله عنه – قال: سمعت رسول الله  يقول: ((تُعرض الفتن على القلوب كالحصير عوداً عوداً، فأيّ قلبٍ أُشربها نُكت فيه نكتة سوداء، وأيُّ قلبٍ أنكرها نُكت فيه نكتة بيضاء، حتى تصير على قلبين: على أبيض مثل الصفا فلا تضره فتنة ما دامت السماوات والأرض، والآخر أسود مُربادّاً كالكوز مجخِّياً، لا يعرف معروفاً ولا ينكر منكراً إلا ما أشرب من هواه))
    فتنے دلوں پر چٹائ کی ایک تنکے کی مانند پیش ہوتے ہیں پس جس دل کو یہ فتنہ پلادیا گيا تو اس میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ نکتہ دو دلوں پر ہو جاتا ہے ایک بالکل سفید پر جیسے کہ سفید چکنا بڑا پتھر، پس اس کو کوئ فتنہ نقصان نہیں پہنچا سکتا جب تک کہ آسمان اور زمین باقی ہیں، اور دوسرا سیاہ دل پر سفید نکتہ اس کوزہ (مٹکا) کی مانند جو اوندھا منہ پڑا ہو، وہ دل کسی بھی نیکی اور بھلائ کو نہیں پہنچانتا ہے اور نہ ہی کسی منکر اور بری بات کا وہ انکار کرتا ہے مگر صرف وہی چیز جو اس کے ہواۓ نفس کی اسے پلا دی گئ ہے۔

    چنانچہ برائیاں ہر طرف سے دل کو گھیر لیتی ہے، اور انسان جب اپنے ہواۓ نفس کی پیروی کرتا ہے اور گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے دل کے اندر ہر گناہ کے بدلے جسے وہ کر گذرتا ہے ایک سیاہی و ظلمت داخل ہوجاتی ہے، اور جب گناہوں پر مصر رہتا ہے اور ان سے توبہ نہیں کرتا تو اس دل پر ظلمات اور تاریکیوں کی یکے بعد دیگرے تہ جمع ہو جاتی ہے اور وہ فزوں ترہو جاتی ہے تو اس طریقہ سے اس کی حیرت و گھبراہٹ بڑھ جاتی ہے، اور اس کی شقاوت و بدبختی زور پکڑ لیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہلاکتوں اور تباہیوں کا شکار ہوجاتا ہے، اور اسے اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ جب دل کی سیاہی و تاریکی قوی ہوجاتی ہے تو مرتکب گناہ کے چہرہ پر اس کا اثر نمایاں ہو جاتا ہے اور اس کا روسیاہ ہوجاتا ہے جسے ہر فرد بشر اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے:
    ((إن للحسنة لنوراً في القلب، وضياءً في الوجه، وقوة في البدن، وسعةً في الرزق، ومحبةً في قلوب الخلق، وإن للسيئة لظلمة في القلب، وسواداً في الوجه، ووهناً في البدن، وبغضاً في قلوب الخلق)).
    بلاشبہ نیکی کرنے سے دل میں نور، چہرہ پر رونق جسم میں توانائ، رزق میں کشادگی اور مخلوق کے دلوں میں محبت پیدا ہو جاتی ہے ، اور گناہ سے دل میں تاریکی، چہرہ پر سیاہی، جسم میں کمزوری اور مخلوق کے دلوں میں بغض و نفرت پیدا ہوتی ہے۔


    اور یہ تمام چیزیں – یہ سفیدی اور وہ سیاہی جن کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں بیان فرمایا ہے ۔ ان کا مشاہدہ اہل بصیرت اس دنیا ہی میں کر لیتے ہیں، لیکن کل قیامت کے دن کہ جس دن تمام سربستہ راز کھول دیے جائیں گے اور سینوں کے بھید عیاں ہو جائیں کے، یہ چیزیں ان کے چہروں پر بہت واضح اور نمایاں طور پر ظاہر ہوں گي، جیسا کہ اللہ جل ذکرہ نے ارشاد فرمایا ہے:
    الزمر60-61
    :]وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ تَرَى الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّهِ وُجُوهُهُمْ مُسْوَدَّةٌ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوىً لِلْمُتَكَبِّرِينَ (60) وَيُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ لا يَمَسُّهُمُ السُّوءُ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ[
    جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں؟ اور جن لوگوں نے پرہیزگاری کی انہیں اللہ تعالی ان کی کامیابی کے ساتھ بچا لے گا انہیں دکھ چھو بھی نہ سکے گا اور نہ وہ کسی طرح غمگین ہوں گے۔
    آل عمران 106-107
    يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ (106) وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ[
    " جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاہ، سیاہ چہرے والوں سے کہا جاۓ گا کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اپنے کفر کے عذاب چکھو! اور سفید چہرے والے اللہ تعالی کی رحمت میں داخل ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے"۔

    بیشک گناہ کے کام جتنے بھی ہیں خواہ وہ معمولی اور ہلکے ہوں یا بڑے بڑے ہوں، یہ سب دلوں کو فاسد کردیتے ہیں اور ان کی سفیدی ، چمک اور رونق کو داغدار اور میلا کردیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان سب کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے۔ فرمان جل و علا ہے:
    الانعام 120
    ]وَذَرُوا ظَاهِرَ الإِثْمِ وَبَاطِنَهُ [
    اور تم ظاہری گناہ کو بھی چھوڑ دو اور باطنی گناہوں کو بھی چھوڑ دو۔

    لہذا تمام مومنوں پر واجب ہے کہ وہ تمام ظاہری و باطنی گناہوں کو ترک کردیں، بطور خاض دلوں کے گناہوں اور ان کی خطاؤں کو۔ اس لیے کہ ان کی تباہی بہت شدید ہوتی ہے اور ان کا اثر بھی بہت بڑا ہوتا ہے۔

    چنانچہ دل کی خطاؤں میں سے ایک ریا، یعنی دکھاوا و نمود ہے جو نیک عمل کو تلف و برباد کردیتا ہے اور ایک عجب یعنی فخر و غرور اور خود پسندی و خود بینی ہے جو تمام اعمال خیر کو بکھرے ہوۓ غبار کی مانند کر دیتی ہے، اور انہی گناہوں میں سے کینہ اور حقد و حسد بھی ہیں جو نیکیوں کو چاٹ جاتے ہیں اور گناہوں کو بڑھاتے ہیں۔

    دلوں کو فاسد کرنے والی اور ان کی روشنی کو بجھانے والی چیزوں میں حرام چیزوں کے دیکھنے کے لیے نگاہوں کو آزاد چھوڑ دینا بھی ہے، اسی وجہ سے اللہ تعالی نے اپنے مومن بندوں کو نگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد جل و علا ہے

    النور30
    : ]قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ج ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ[
    مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نيچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالی سب سے خبردار ہے،

    اور اللہ تعالی اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت کر رہے ہے کہ جس وقت وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے مخاطب ہوں تو کیسے مخاطب ہوں:
    الاحزاب 35
    ]وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ[
    جب تم نبی کی بیویوں سے کوئ چیز طلب کرو تو پردے کے پیچے سے طلب کرو تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے کامل پاکیزگي یہی ہے۔ چنانچہ جس شخص نے اپنی نگاہ کو محرمات پر پڑنے سے بچایا اللہ جل و علا اس بندہ کو اس کے عوض معرفت حق کی نگاہ اور صحیع سالم قوی قلب عطا فرماۓ گا۔

    لہذا تم بھی اپنی نگاہ کو محرمات سے بچاؤ کیونکہ یہ سیی نظری ایسی ہوتی ہیں کہ دیکھنے والے کے دل کو فتنوں اور بلاؤں میں ڈال دیتی ہیں۔

    دلوں کو فاسد کرنے والی اور اس کی طہارت و پاکیزگي کو داغدار کرنے والی چیزوں میں سے ایک موسیقی اور گانے سنناا بھی ہے بلاشبہ گانا دل میں فساد و بگاڑ کردیتا ہے
    قال ابن مسعود – رضي الله عنه -: ((إن الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء البقل))
    ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے
    بے شک گانا دل میں نفاق کو اسی طرح جنم دیتا ہے جن طرح پانی سبزی کو اگاتا ہے۔

    اس میں کوئ شک نہیں کہ یہ گانا موسیقی اور میوزک تمہارے دل پر اللہ تعالی کی آیات میں غور و فکر کو بوجھل بنا دیتے ہیں اور تمہارے کان پر فرقان الہی یعنی کلام اللہ کی سماعت کو گرانبار بنا دیتے ہیں اور تمہارے بدن پر اطاعت و احسان کو بھاری اور دشوار بنا دیتے ہیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    لقمان 6
    ]وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُواً أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ[
    اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں کہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائيں اور اسے ہنسی بنائيں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔

    سلف الصالحین رحمہم اللہ میں سے کئ ایک نے اس آیت کریمہ میں " لھو الحدیث" کی تفسیر غناء یعنی گانا و موسیقی کی ہے اور یہی اکثر مفسرین کے نزدیک راجح ہے۔ لہذا موسیقی اور گانا سننے سے مکمل طور پر پرہیز کرو۔ اور خبردار! ایسے لوگوں کی اکثریت کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھاؤ ان پر تو اللہ کا یہ قول صادق آتا ہے:

    الانعام 116
    : ]وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ
    اور دنیا میں زیادہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بے راہ کردیں۔

    اور بکثرت یہ دعا مانگآ کرو

    اے اللہ مجھے میرے گناہوں سے پانی، برف اور اولے کے ذریعہ پاک و صاف کردے۔

    کیونکہ گناہ خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے دل پر کدورت اور میل و دھبہ کا سبب بنتے ہیں جن سے دل کو پاک کرنا نہایت ضروری ہے۔

    دلوں کی اصلاح
     
    Last edited: ‏مارچ 22, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
    • اعلی اعلی x 1
  2. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,488
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک۔
     
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,398
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں