بندے کا اللہ تعالی سے محبت کرنا-دوسری دوا

بابر تنویر نے 'دلوں کی اصلاح و پاکیزگی' میں ‏مارچ 20, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    دوسری دوا
    بندے کا اللہ تعالی سے محبت کرنا:


    یقینا بندہ کی اللہ تعالی سے محبت دل کے سب سے نفع بخش نسخہ ہاۓ علاج میں سے ہے، اور اس میں کوئ تعجب نہیں کیونکہ اللہ تعالی سے محبت ہی بندگی و عبودیت کی اصل بنیاد ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    البقرہ 165
    ]وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَاداً يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبّاً لِلَّهِ[
    بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔

    علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    وصلاحـه وفلاحـه ونعيمـه

    تجريـد هـذا الحب للرحمـن

    دل کی اصلاح و بہتری، اس کی کامیابی و کامرانی اور اس کا نعمتوں سے مالامال ہونا اس محبت کو رحمن کے لیے خآلص کرنے میں ہے۔

    یعنی صلاح قلب و فلاح قلب اور نعیم قلب یہ سب اس وقت حاصل ہوں گے جب اللہ تعالی کے لیے محبت خالص ہوگي۔

    چنانچہ اللہ تعالی کی محبت ہی درحقیقت دل کی جنت، اس کی غذا و قوت اور اس کی حیات و زندگی ہے، پس اللہ کی قسم! بیشک دل اللہ تعالی سے سچی مجبت کے بغیر نہ تو فلاح پاسکتا ہے، نہ صالح ہو سکتا ہے، نہ درست ہو سکتا ہے، نہ نعمت سے محفوظ ہو سکتا ہے، نہ حقیقی خوشی محسوس کر سکتا ہے نہ سچی لذت سے بہرہ ور ہو سکتا ہے اور نہ ہی اسے اطمینان و سکون حاصل ہو سکتا ہے۔ امام بخاری اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہم نے اپنی صحیح میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    بخاری 21 مسلم 43 :
    ((ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان: أن يكون الله ورسوله أحب إليه مما سواهما، وأن يحب الرجل لا يحبه إلا لله، وأن يكره أن يعود في الكفر بعد إذ أنقذه الله منه كما يكره أن يلقى في النار))
    تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس بندہ کے اندر پائ گئیں تو اس نے ان کے ذریعہ ایمان کی حلاوت و مٹھاس کو پا لیا پہلی خصلت یہ ہے کہ : اللہ اور اس کے رسول اس کے نزدیک ساری دنیا سے بڑھ کر محبوب اور ہردلعزیز ہوں۔ دوسری خصلت یہ ہے کہ وہ جس آدمی سے محبت کر تا ہے تو وہ اس سے صرف اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرتا ہے، اور تیسری خصلت یہ ہے کہ : اسے دوبارہ کفر میں لوٹ جانا جبکہ اللہ تعالی نے اسے کفر سے نکال لیا ہے ایسی ہی نا پسند ہو جیسا وہ یہ ناپسند کرتا ہو کہ اسے آگ میں ڈالا جاۓ"۔
    اس حدیث پر گہری نظر ڈالنے سے یہ با کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس کی چکی اللہ تعالی کی محبت ہی پرگھومتی ہے، پس محبت دین کے واجبات میں سے سب سے عظیم چیزہے، اور اس کے اصول و قواعد میں سے سب سے زیادہ مہتم بالشان اور نہایت ہی اہمیت کی حامل ہے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ایمان و دین کے اعمال سے ہر عمل کی اساس و جڑ یہی محبت ہے۔ اللہ جل و علا نے ارشاد فرمایا:

    التغابن 11:
    ] وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ[
    اور جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

    نیز محبت کی صحیع علامت اور اس کا سچا معیار اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:
    آل عمران 31
    ]قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ[
    کہہ دیجیے اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو، تم میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالی بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔
    معلوم ہوا کہ جس قدر تمہارے اندر ظاہر و باطن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری و اتباع پائ جاۓ گی، اسی قدر تمہارے ساتھ اللہ تعالی کی محبت بھی پائی جاۓ گی جو دلوں کی اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے۔

    دلوں کی اصلاح
     
    Last edited: ‏مارچ 22, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    جزاک اللہ خیرا الجزاء
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,488
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں