غالب

المسافر نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏اپریل 20, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. المسافر

    المسافر --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 10, 2007
    پیغامات:
    6,261

    دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
    دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی


    شق ہو گیا ہے سینہ خوشا لذّتِ فراغ
    تکلیفِ پردہ داریِ زخمِ جگر گئی


    وہ بادہ شبانہ کی سر مستیاں کہاں
    اٹھیے بس اب کہ لذّتِ خوابِ سحر گئی


    اڑتی پھرے ہے خاک مری کوۓ یار میں
    بارے اب اے ہوا ہوسِ بال و پر گئی


    دیکھو تو دل فریبیِ اندازِ نقشِ پا
    موجِ خرامِ یار بھی کیا گل کتر گئی


    ہر بو‌ل ہوس نے حسن پرستی شعار کی
    اب آبروۓ شیوہ اہلِ نظر گئی


    نظّارے نے بھی کام کیا واں نقاب کا
    مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی


    فردا و دی کا تفرقہ یک بار مٹ گیا
    کل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی


    مارا زمانے نے اسدللہ خاں تمہیں
    وہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں