توحید باری تعالی کا سہارا

اجمل نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏مارچ 31, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    544
    توحید باری تعالی کا سہارا

    ہر دور میں حکمراں اپنے مجرموں کو قید کرنے کیلئے بد ترین قید خانے یا جیل بناتے رہے ہیں اور اِس دور کے گوانتاناما بے ‘ ابو غریب جیل ‘ بگرام جیل جیسے نہایت ہی بھیانک اور بد ترین قید خانوں یا جیل خانوں کے نام ہم سب نے سن رکھے ہیں۔ لیکن سائنس و ٹیکنولوجی کے اس دور میں کیا کوئی ایسا قید خانہ بنا سکتا ہے جو مچھلی کے پیٹ میں ہو اور مچھلی قیدی کو لئے ہوئے ہزاروں میٹر پانی کے نیچے چلی جائے جہان اندھیرا ہی اندھیرا ہو‘ رات کا اندھیرا ‘ سمندر کی گہرایٴ کا اندھیرا اور پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا اور جہاں نہ ہوا ہو نہ آکسیجن لیکن قیدی پھر بھی صحیح سلامت اور زندہ رہے۔

    جی کویٴ نہیں ۔ ایسا قید خانہ صرف ہمارا رب ہی بنا سکتا ہے کیونکہ
    أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا
    " اللہ ہر چیز قدرت رکھتا ہے اور یہ اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔"

    اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو (عراق) موصل کے علاقے نینویٰ والوں کی طرف مبعوث فرمایا تھا۔ آپ اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن آپؑ کی قوم آپؑ کی تکذیب کرتی رہی اور کفر و عناد پر اڑی رہی۔ ایک مدت کی تبلیغ کے بعد جب آپؑ بالکل مایوس ہوگئےکہ قوم شرک کو ترک کرکے ایک ’ اللہ‘ پر ایمان لانے والی نہیں اور عذابِ الٰہی کا وقت قریب آگیا تو آپ اپنی قوم کو تین دن کے بعد عذابِ الٰہی کی دھمکی دے کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر وہاں سے نکل گئے اور مشکل سے دوچار ہوئے۔

    آپؑ عذابِ الٰہی کے خوف سے اپنے بارے میں حکم الٰہی کا انتظار کیے بغیر علاقۂ دعوت چھوڑ گئے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپؑ کی اس چھوٹی سی بشری لغزش کو قرآن میں صبر نہ کرنے سے تعبیر کیا ہے اور اس چھوٹی سی لگزش کے پاداش میں اپنے پیارے نبی کو مچھلی کے پیٹ میں قید کر دیا۔

    فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَىٰ وَهُوَ مَكْظُومٌ ﴿٤٨﴾ سورة القلم
    " پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونس علیہ اسلام) کی طرح نہ ہو جاؤ، جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔"

    ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

    وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ ….سورة الأنبياء
    " مچھلی والے (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو! جبکہ وه غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔"

    لیکن حضرت یونس ؑ کو اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی اپنے جدِ امجد حضرت آدم ؑ کی پیروی کرتے ہوئے اپنے آپ کو ملامت کیا ‘ مچھلی کے پیٹ کے اندھرے قید خانے میں توحیدِ باری تعالیٰ کا سہارا لیا‘ اللہ پاکی بیان کیا ‘ اپنی خطا کا اقرار کیا اور اللہ سے مغفرت طالب ہوئے۔

    فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ﴿٨٧﴾ سورة الأنبياء
    " بالآ خر وه اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بیشک میں اپنے نفس پر ظلم کیا۔"

    نوٹ کیجئے ! اللہ کے برگزیدہ نبیؑ نے اللہ کی قید خانہ سے رہائی کیلئے توحیدِ باری تعالیٰ کا ہی سہارا لیا اور اللہ کی ہی پاکی بیان کی ۔۔۔۔ کسی نبی ‘ ولی یا اللہ کے کسی اور برگزیدہ بندے کا وسیلہ نہیں پکڑا۔

    حضرت یونسؑ نے کہا ’ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ‘ یعنی ’ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا اللہ ‘ جو کہ کلمہٴ توحید ہے اور کہا ’ سُبْحَانَكَ ‘ یعنی ’ سبحان اللہ ‘ جو کہ ا لله تعالی کی تسبيح و تنزيہ ہے اور پھر ’ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ‘ اپنے غلطیوں کا اقرار و اعتراف اِن لفظوں میں کیا کہ ’ بیشک میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے ہوں ۔۔ اس جملے میں اِن باتوں کا اعتراف ہے کہ اے اللہ میں نے تیرے حکم کا انتظار نہ کرکے تیرا کچھ نہیں بگاڑا اور مجھے اس قید میں ڈال کر تو نے مجھ پر کوئی ظلم نہیں کیا کیونکہ تو اس سے پاک ہے کہ کسی پر ظلم کرے‘ یہ تو ہم انسان ہی ہیں جو جلد باز ہیں' نا شکرے ہیں اوربے صبرے ہیں اور اپنے ہی جان پر ظلم کرنے والے ہیں۔

    تب ہمارے غفور الرحیم رب نے نہ صرف اپنے نبی کی دعا قبول کی اور انہیں غم (قید) سے نجات بخشی بلکہ یہ بھی فرما دیا کہ جو بھی مومن بندہ یہ دعا مانگے گا ‘ اُسے نجات ملے گی:

    فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ ﴿٨٨﴾ سورة الأنبياء
    " پس ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ہم نے انہیں غم سے نجات بخشی، اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیں"

    رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
    ذوالنون ( یعنی یونسؑ) کی وہ دعاء جو انہوں نے مچهلی کے پیٹ اندر کی تھی (یعنی لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ) جو مسلمان اپنے کسی بهی مقصد کے لئے ان کلمات کے ساتھ دعاء کرے گا اللہ تعالی اس کو قبول فرمادیں گے ۔( رواه الترمذي والحاكم )


    یہ دعا بھی ہے اور کلمہٴ توحید بھی ہے ۔ اس کی برکتوں سے ایک طرف حضرت یونس ؑ ایک ایسی قید خانے (مچھلی کی پیٹ ) سے آزاد ہوئے جس کا تصور بھی کوئی انسان نہیں کر سکتا تو دوسری طرف ان کی مشرک قوم بھی شرک کی ظلمتوں سے آزاد ہوئی اور ایک اللہ تعالیٰ پہ ایمان لے آئی ‘ ایک اللہ کی بندگی میں داخل ہوگئی۔ انسانی تاریخ میں واحد قوم ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کا عذاب آنے کے بعد نجات ملی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے:

    فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ ﴿٩٨﴾ سورة يونس
    " پس کوئی بستی ایمان نہ لائی کہ ایمان لانا اس کو نافع ہوتا سوائے یونس (علیہ السلام) کی قوم کے۔ جب وه ایمان لے آئے تو ہم نے رسوائی کے عذاب کو دنیوی زندگی میں ان پر سے ٹال دیا اور ان کو ایک وقت (خاص) تک کے لیے زندگی سے فائده اٹھانے (کا موقع) دیا۔"

    اگر کویٴ بندہ ٴ مومن اللہ کی وحدانیت کے اعلان کے ساتھ ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہوئے اللہ سے اپنی مغفرت کا طلب گار ہو تو اُسے اس دعا کا سہارا لینا چاہئے کیونکہ اس دعا میں ۔۔۔ کلمہ توحيد (یعنی لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ) بھی ہے ...... تسبیح و تنزيہ (سُبْحَانَكَ) بھی ہے ...... اور استغفار (إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ) بھی ہے۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ :
    میں تمہیں وہ چيز نہ بتاؤں کہ اگرکسی پر کوئ مصیبت اور آزمائش آجاۓ تو وہ اسے پڑھے تو اسے اس سے نجات مل جا ئے گی وہ یونسؑ کی دعا ہے (لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَمستد رک حاکم اور صحیح الجامع ( 2605 ) میں بھی یہ حدیث ہے ۔

    • اس وقت پوری امت پر عذابَ الٰہی میں ہےاور اسکی بڑی وجہ امت کی اکثریت کی توحید سے نا آشنائی اور دین میں بدعات اور شرکیہ اعمال کی آمیزش ہے۔ایسے میں ضروری ہے کہ ہم سب اس دعا کی معنی مطلب کو سمجھا اور سمجھایا جائے۔
    • کلمۂ توحید ’’ لا الہٰ الا اللہ محمدُ الرسول اللہ ‘‘ کی معنی مطلب سمجھا اور سمجھایا جائے ‘
    • صرف اور صرف اللہ وحدہ‘ لا شریک کو پکاریں‘ اسی سے فریاد کریں ‘ اسی سے دعا مانگیں۔
    • ایک اللہ کی بندگی میں آئیں۔
    • شرک و بدعات کی ہر فعل کو ترک کریں۔
    • اپنی کوتاہیوں پر نظر رکھیں۔
    • اور اِس دعا کو اپنی روزانہ کی دعاؤںمیں شامل کریں تاکہ ہماری بھی بخشش ہو جائے اور اُمت بھی نجات پائے۔
    • اِس دعا سے قوم پر آئی ہوئی عذاب ٹل جاتی ہے‘ قوم کی تقدیر بدل جاتی ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ قوم توحید باری تعالی کا سہارا لے۔
    اس دعاء کی کچھ خاصیات و فوائد
    1. الله تعالی کی توحيد ، الله تعالی کی تسبيح و تنزيہ ، اور إستغفار
    لا إله إلا أنت = الله تعالی کی توحيد
    سُبْحَانَكَ = الله تعالی کی تسبيح و تنزيہ
    إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ = إستغفار اور الله تعالی کے لیئے بندگی کا إعتراف​
    2. صحیح حدیث میں ہے کہ جو مسلمان بنده کسی بهی مقصد کے لیے اس کے ساتھ دعاء کرے گا تو اس کی دعاء قبول ہوگی۔
    3. یہ مبارک دعاء قرآن مجید میں مذکور هے ، لہذا اس کے پڑہنے سے قرآن کی تلاوت کا ثواب بهی ملے گا۔
    4. یہ دعاء الله تعالی کے ایک جلیل القدر نبی حضرت یونس علیہ السلام نے نے کی ہے اور اللہ تعالی نے قبول فرمائی ہے، لہذا ان کے لئے خاص تهی ، اور تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے ، پس جو بھی شرک سے براٗت اور اپنی گناہوں کے اقرار و پشیمانی کے ساتھ ان کلمات کے ذیعے اپنے لئے دعا مانگے گا، اللہ تعالی کی طرف سے اس کے لیے قبولیت کا وعدہ ہوچکا ہے (لیکن شرک سے براٗت شرط ہے)۔
    5. صحیح حدیث میں ہے کہ اس دعاء میں الله تعالی کا اسم اعظم بهی ہے۔
    6. بیماری میں چالیس مرتبہ یہ دعاء پڑہنے والا شخص اگر اسی بیماری میں فوت ہوجائے ، تو اس کو شہید کا أجر ملے گا اور اگر وه صحت یاب ہوجائے تو اس کے تمام گناہوں کو بخش دیا جائے گا۔​

    اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں شرک سے براٗت اور اپنی گناہوں کے اقرار و پشیمانی کے ساتھ اپنی ہر دعا میں " لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ " کو بھی شامل کرنے کی توفیق عطا کریں اور ہماری دعاو ٔں کو قبول فرمائیں۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    بارك الله فيك
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں