البریلویہ ۔ بریلویت تاریخ و عقائد (مکمل کتاب)

محمد نعیم نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏مئی 13, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بسم اللہ الرحمن الرحیم​


    البریلویہ ۔ جس کا اردو نام "بریلویت - تاریخ و عقائد" ہے۔یہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی لازوال تصنیف ہے۔ دعا ہے کہ اللہ اسے ہمارے لیے نافع بنائے۔ (آمین(
    ‰‰‰‰‰‰‰‰‰‰‰​

    عرضِ مترجم

    شہیدِ اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کی یہ تصنیف بھی باقی تصانیف کی طرح قوت استدلال اور اسلامی حمیت و غیرت کا آئینہ دار ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ بریلوی تعلیمات کی نشر واشاعت اور مقبولیت میں اگرچہ بہت کمی آئی ہے مگر اس کا ایک نقصان یہ ہوا کہ جدید طبقہ مذہب سے دور ہوتا چلاگیا۔ جدید طبقے نے جب اسلام کے نام پر خرافات اور بدعات کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھا تو اس نے تحقیق کی بجائے یہ گمان کرلیا کہ شاید مذہب اسلام اسی کا نام ہے۔ چنانچہ بریلوی افکار نے نئی نسل کو اسلام سے دور کرکے الحاد و لادینیت کی آغوش میں پھینک دیا۔
    ان حالات میں کسی ایسی کتاب کی اشد ضرورت تھی جو نئی نسل اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کو یہ بتلاتی کہ وہ شرکیہ امور اور خرافات وبدعات' جنہیں وہ اپنے گرد دیکھ رہے ہیں' ان کا ارتکاب اگرچہ مذہب کے نام پر ہورہا ہے مگر کتاب وسنت کی پاکیزہ تعلیمات کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ علامہ صاحب رحمہ اللہ کی یہ کتاب اس ضرورت کو پورا کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
    بہت دیر سے آپ کی تمام کتب کا اردو ترجمہ شائع کرنے کا مطالبہ ہورہا تھا' تاکہ دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان کے عوام بھی ان کتب سے استفادہ کرسکیں۔ بالآخر ادارہ ترجمان السنہ نے آپ کی کتب کے اردو تراجم شائع کرانے کا فیصلہ کرلیا۔ اس سلسلے میں آپ کی تصانیف "البریلویہ" کا اردو ترجمہ قارئین کے پیش خدمت ہے۔ امید ان شاء اللہ العزیز اس کتاب کا مطالعہ بہت سے احباب کے لیے راہ راست پر آنے کا ذریعہ ہوگا' اور یہ بات مصنف مرحوم کے درجات کی بلندی کا باعث ہوگی۔
    علامہ صاحب رحمہ اللہ اس کتاب میں ایسا باب بھی شامل کرنا چاہتے تھے جو رضا خانی فقہ کے چند ایسے مسائل پر مشتمل تھا' جو محض ذہنی تلذذ کے لیے فرض کیے گئے تھے۔ مگر تہذیب و شائستگی کا تقاضا تھا کہ انہیں اس کتاب کا حصہ نہ بنایا جائے۔ آپ فرماتے تھے کہ عربی زبان ان فحش مسائل کی متحمل نہیں ہے۔ وہ تمام حوالہ جات میرے پاس محفوظ ہیں۔
    اردو ترجمہ کرتے وقت میں بھی اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ان کے ذکر کی ضرورت محسوس ہوئی' تو اگلے ایڈیشن کے مقدمے میں انہیں ذکر کردیا جائے گا۔ ترجمہ کرتے وقت میں نے عربی عبارات کا ترجمہ کرنے کی بجائے بریلوی حضرات کی اصل کتابوں کی عبارتوں کو ہی نقل کردیا ہے' تاکہ ترجمہ در ترجمہ سے مفہوم میں تبدیلی نہ آئے۔
    چونکہ بہت ہی کم عرصہ میں اس کتاب کے ترجمہ اور طباعت کا کام مکمل ہوا ہے' اس لیے لازماً اس ایڈیشن میں علمی یا فنی کوتاہیاں قارئین کرام کو نظر آئیں گی۔ ان شاء اللہ العزیز اگلے ایڈیشن میں انہیں دور کرنے کی مکمل کوشش کی جائے گی۔ قارئین اپنی آراء سے آگاہ فرمائیں۔
    قرآنِ مجید کی آیات کا ترجمہ شاہ رفیع الدین محدث دہلوی رحمہ اللہ کے ترجمہ قرآن سے نقل کیا گیا ہے۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ اس میں قدرے ابہام ہے' اگلے ایڈیشن میں اس کی تلافی کی بھی کوشش کی کی جائے گی۔ ان شاء اللہ !


    عطاء الرحمن ثاقب
    ادارہ ترجمان السنہ لاہور
    14رمضان المبارک 1408ھ
    یکم مئی ١٩٨٨ء

    جاری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد ----------تقدیم

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    تقدیم

    از فضیلة الشیخ عطیہ سالم
    جج شرعی عدالت مدینہ منورہ و مدرس و خطیب مسجد نبوی شریف

    حمد وصلاة کے بعد ! مجھے فضیلة الاستاذ احسان الٰہی ظہیر (رحمہ اللہ) کی کتاب "البریلویت" پڑھنے کا موقع ملا۔ کتاب پڑھ کر مجھے اس بات پر شدید حیرت ہوئی کہ مسلمانوں میں اس قسم کا گروہ موجود ہے جو نہ صرف فروعات میں شریعت اسلامیہ اور کتاب وسنت کا مخالف ہے' بلکہ اس کے بنیادی عقائد ہی اسلام سے متصادم ہیں۔
    اگر اس کتاب کے مصنف کی علمی دیانت پوری دنیا میں مسلم نہ ہوتی' تو ہمیں یقین نہ آتا کہ اس قسم کا گروہ پاکستان میں موجود ہے۔ اس کتاب کے جلیل القدر مصنف نے اس گروہ کے عقائد وافکار سے نقاب اٹھا کر یہ ثابت کیا ہے کہ کتاب وسنت کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا اس فرقہ کو چاہئے کہ وہ ان عقائد سے توبہ کریں اور توحید و رسالت کے تصور سے آشنا ہوکر اپنی عاقبت سنوارنے کی طرف توجہ دیں۔
    اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہمیں اندازہ ہوا ہے کہ ان عقائد کی بنیاد قرآن و حدیث کے بجائے توہم پرستی اور خیالی و تصوراتی قسم کے قصے کہانیوں پر ہے۔ مصنف جلیل الشیخ احسان الٰہی ظہیر (رحمہ اللہ) نے اس گروہ کے پیروکاروں کو ہدایت و راہنمائی اور سیدھے راستے کی طرف دعوت دے کر حقیقی معنوں میں اس گروہ پر بہت بڑا احسان کیاہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس قابل قدر کو شش کو قبول فرمائے آمین !
    جہاں تک مصنف (رحمہ اللہ) کے اسلوب تحریر کا تعلق ہے' تو وہ محتاج بیان نہیں۔ ان کی تصنیفات کا مطالعہ کرنے والا ہر قاری ان کے ادبی ذوق اور قوت دلیل سے اچھی طرح آگاہ ہے۔
    اس کتاب کے مصنف کی اس موضوع پر خدمات و مساعی قابل تحسین ہیں۔ جس طرح سے علمی' تحقیقی اور پرزور انداز کے ساتھ انہوں نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے' اس کی بنا پر تصنیفات تعلیمی درسگاہوں اور تحقیقی مراکز میں حوالے اور سند کی حیثیت اختیار کرچکی ہیں۔
    مصنف (مرحوم) کی بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ انہیں اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری بہت سی زبانوں پر بھی دسترس حاصل ہے۔ جس کی وجہ سے انہوں نے قادیانی' بابی' اسماعیلی' شیعہ' بہائی اور بریلوی فرقوں پر جو مواد پیش کیا ہے' وہ نہایت مستحسن اور اسلامی علمی و تحقیقی مکتوبات میں قابل قدر اضافہ ہے۔
    اس کتاب کے مطالعہ کے بعد چند امور کی توضیح ضروری ہے :
    اس فرقے کے مؤسس کے حالات زندگی سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی یہ تحریک علمی ہے' نہ فکری اور نہ ہی ادبی۔ ان کی ساری سرگرمیوں سے صرف انگریزی استعمار کو فائدہ پہنچا۔ اس تحریک کے علاوہ دوسری تحریک جو انگریز کے مفاد میں تھی؛ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریک تھی۔
    جناب احمد رضا بریلوی کا وہابیوں کی مخالفت کرنا' ان پر کفر کے فتوے لگانا' جہاد کو حرام قرار دینا' تحریک خلافت اور تحریک ترکِ موالات کی مخالفت کرنا' انگریز کے خلاف جدوجہد میں مصروف مسلم راہنماؤں کی تکفیر کرنا' اور اس قسم کی دوسری سرگرمیاں انگریزی استعمار کی خدمت اور اس کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے تھیں۔
    اس ضمن میں یہ بات بھی اہم اور قابل توجہ ہے کہ جناب احمد رضا صاحب کا استاد مرزا غلام قادر بیگ مزرا غلام احمد قادیانی کا بھائی تھا۔ انگریز کی طرف سے اس قسم کی تحریکوں کے ساتھ تعاون کرنا بھی بعید از عقل نہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ اس تحریک کے پیچھے استعمار کا خفیہ ہاتھ تھا' غیر منطقی بات نہیں ہے۔ اور اگراس قسم کی تحریکوں کے بانیوں کو انگریزی حکومت کے زوال کا پہلے سے علم ہوتا تو وہ یقیناً اپنے موقف کو تبدیل کرلیتے۔ لیکن ان کا خیال اس کے برعکس تھا!
    اس فرقے کے پیروکار ایک طرف تو اس قدر افراط سے کام لیتے ہیں کہ ان کا اولیائے کرام اور نیک لوگوں کے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدائی اختیارات کے مالک اور نفع و نقصان پر قدرت رکھنے والے ہیں' نیز دنیا و آخرت کے تمام خزانے انہی کے ہاتھ میں ہیں۔ اور دوسری طرف تفریط کا شکار ہوتے ہوئے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو شخص اپنی زندگی میں نماز روزے کا تارک رہا ہو' اس کے مرنے کے بعد اس کے اعزاء و اقارب اس کی نمازوں' روزوں کا فدیہ دے کر اور "حیلہ اسقاط" پر عمل کرکے گناہ معاف کرواکے اسے جنت میں داخل کرواسکتے ہیں۔
    اس قسم کے عقائد کا دور جاہلیت میں بھی وجود نہ تھا۔ بریلوی حضرات نے اپنے سوا تمام پر کفار و مرتدین ہونے کا فتویٰ لگایا ہے۔ حتٰی کہ انہوں نے اپنے فقہی بھائی دیوبندیوں کو بھی معاف نہیں کیا۔ اور ان کے نزدیک ہر وہ شخص کافر ومرتد ہے' جو ان کے امام و بانی کے نظریات سے متفق نہ ہو۔ مصنف رحمہ اللہ نے اس کتاب کے ایک مستقل باب میں اس کی وضاحت فرمائی ہے۔
    جناب احمد رضا صاحب نے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ پر کفر کے فتوے لگائے ہیں۔ ان کا جرم یہ تھا کہ وہ لوگوں کو کتاب و سنت کی دعوت اتباع' نیز بدعات و خرافات سے اجتناب کی دعوت دیتے تھے' غیر اللہ کی عبادت ایسے شرکیہ عقائد سے بچنے کی تلقین فرماتے تھے اور پوری امت کو "لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ" کے پرچم تلے متحد کرنا چاہتے تھے۔
    اس دور میں بھی اتحاد و اتفاق کی صرف یہی صورت ہے کہ ہم ان تمام عقائد و نظریات کو ترک کردیں جو قرآن و حدیث کے مخالف ہوں نیز جو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت راشدہ کے دور کے بعد کی ایجاد ہوں اور اسلامی قواعد و ضوابط سے متصادم ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غیر اللہ سے مدد مانگنا' نیک بندوں کو قادر مطلق سمجھنا ہا انہیں اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں شریک کرنا' قبروں پر جاکر اپنیحاجات طلب کرنا اور اس قسم کے باطل عقائد اسلام کے تصور توحید کے مخالف ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ان سے اجتناب کریں اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہی تمام اختیارات کا مالک سمجھیں۔
    دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب وسنت پر غور کرنے اور سلف صالحین کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !



    عطیہ محمد سالم
    قاضی شرعی عدالت مدینہ منورہ و مدرس مسجد نبوی شریف
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد ---------- مقدمہ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    مقدمہ​


    الحمدللہ الّذی لاالٰہ الّا ھو وحدہ والصّلاۃ والسلام علی نبیہ محمّد خاتم الانبیاء لانبی بعدہ وعلٰی آلہ و اصحابہ ومن تبع مسلکھم واقتدی بھدیھم الی یوم الدّین و بعد!
    دوسرے بہت سے غیر اسلامی فرقوں پر کتب تصنیف کرنے کے بعد میں برصغیر پاک وہند میں کثیر تعداد میں پائے جانے والے گروہ "بریلویت" پر اپنی یہ تصنیف قارئین کے مطالعہ کے لیے پیش کررہا ہوں۔
    اس گروہ کے عقائد بعض دوسرے اسلامی ملکوں میں تصوف کے نام پر رائج ہیں۔ غیر اللہ سے فریاد رسی اور ان کے نام کی منتیں ماننا جیسے عقائد سابقہ دور میں بھی رائج و منتشر رہے ہیں۔ بریلوی حضرات نے ان تمام مشرکانہ عقائد اور غیر اسلامی رسوم و روایات کو منظم شکل دے کر ایک گروہ کی صورت اختیار کرلی ہے۔
    اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ تمام عقائد اور رسمیں ہندو ثقافت اور دوسرے ادیان کے ذریعہ سے مسلمانوں میں داخل ہوئیں اور انگریزی استعمار کی وساطت سے پروان چڑھی ہیں۔
    اسلام جدوجہد کا درس دیتا ہے مگر بریلوی افکار و تعلیمات نے اسلام کو رسم ورواج کا مجموعہ بنادیا ہے۔ نماز روزے کی طرف دعوت کی بجائے ان کے مذہب میں عرس و قوالی' پیر پرستی اور نذر ونیاز دے کر گناہوں کی بخشش وغیرہ ایسے عقائد کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ میں بریلویت کے موضوع پر قلم نہیںاٹھانا چاہتا تھا۔ کیونکہ میں سمجھتا تھا' بریلویت چونکہ جہالت کی پیداوار ہے' اس لیے جون جوں جہالت کا دور ختم ہوتا چلا جائے گا توں توں بریلویت کے افکار بھی ختم ہوجائیں گے۔ مگر جب میں نے دیکھا کہ بریلوی حضرات بدعات اور شرکیہ امور کی نشر واشاعت میں متحد ہوکر جدوجہد میں مصروف ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے حال ہی میں "حجاز کانفرنس" کے نام سے بہت سے اجتماعات بھی منعقد کرنا شروع کردئیے ہیں؛ جن میں وہ کتاب و سنت کے متبعین کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہے ہیں اور انہیں "گستاخان رسالت" اور دوسرے القاب سے نواز رہے ہیں' تو مختلف غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے اور جدید طبقے کو یہ باور کرانے کے لیے کہ اسلام توہم پرستی اور دوسرے جاہلانہ افکار سے بری ہے' اور کتاب و سنت کی تعلیمات عقل و فطرت کے عین مطابق ہیں۔ عوام کو اس حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے میں نے ضروری سمجھا کہ ایک ایسی کتاب تصنیف کی جائے جو "بریلویت" اور "اسلامی تعلیمات" کے درمیان فرق کو واضح کرے۔ تاکہ شریعت اسلامیہ کو ان عقائد سے پاک کیا جاسکے جو اسلام کے نام پر اس میں داخل ہوگئے ہیں۔ حالانکہ شریعت اسلامیہ کا ان سے کوئی تعلق نہیں !
    بریلوی حضرات نے ہر اس شخص کو کافر قرار دیا ہے' جو ان کے افسانوی قصے کہانیوں پر یقین نہیں رکھتا اور ان کی بدعات کو اسلام کا حصہ نہیں سمجھتا۔
    ہمارے ملک کے عوام حقیقت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کو "گستاخ" سمجھتے رہے' جو حقیقی معنوں میں اسلامی عقائد کے حامل اور عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ اسلام پر ہی ایمان رکھتے تھے۔ اور یہ بات حق کی نشرواشاعت کے راستے میں حائل رکاوٹوں میں سے ایک رکاوٹ تھی۔ میں نے جب بریلوی حضرات کی کتب کا مطالعہ کیا تو میں نے دیکھا کہ ان کی کتب و تصانیف میں ہماری معلومات سے کہیں بڑھ کر غیر اسلامی عقائد موجود ہیں۔ شرک و بدعت کی ایسی ایسی اقسام ان کی کتابوں میں موجود ہیں" جن سے دور جاہلیت کے مشرکین بھی نا آشنا تھے۔
    بہرحال مجھے امید ہے کہ یہ کتاب انشاء اللہ العزیز شرک و بدعت کے خاتمے اور توحید وسنت کی نشرواشاعت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
    جو لوگ اتحاد و اتفاق کی دعوت دیتے ہیں' انہیں یہ نکتہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس وقت تک امت مسلمہ کے مابین اتحاد نہیں ہوسکتا' جب تک عقائد و نظریات ایک نہ ہوں۔ عقیدہ ایک ہوئے بغیر اتحاد و اتفاق کی امید رکھنا عبث ہے۔ چنانچہ ہمیں امت کے سامنے صحیح اسلامی عقیدہ پیش کرنا چاہئے۔ تاکہ جو لوگ اسے قبول کرتے چلے جائیں' وہ امت واحدہ کی شکل اختیار کرلیں اور اگر ہم معمولی سی بھی مخلصانہ جدوجہد کرلیں تو یہ سمجھنا قطعاً مشکل نہیں کہ کون سا عقیدہ قرآن و سنت کے مطابق ہے؟
    آخر میں میں اس سلسلے میں ان تمام حضرات کا شکرگزار ہوں جنہوں نے اس کتاب کے سلسلے میں مجھ سے تعاون فرمایا۔
    مجھے بڑی خوشی ہے کہ میں مقدمے کی یہ سطور آدھی رات کے وقت مسجد نبوی شریف میں بیٹھ کر تحریر کررہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ اس کوشش کو قبول فرمائے اور ہمیں حق بات کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!



    احسان الٰہی ظہیر
    مدینہ 23/ مارچ 1983ئ
    12 /جمادی الاخریٰ
    1403ھ

    جاری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد --------- پہلا باب

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    باب 1
    بریلویت
    تاریخ و بانی


    بریلویت پاکستان میں پائے جانے والے احناف کے مختلف مکاتب فکر میں سے ایک مکتب فکر ہے۔ بریلوی حضرات جن عقائد کے حامل ہیں' ان کی تاسیس و تنظیم کا کام بریلوی مکتب فکر کے پیروکاروں کے مجدد جناب احمد رضا بریلوی نے انجام دیا۔ بریلویت کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے1۔
    جناب احمد رضا ہندوستان کے صوبے اتر پردیش (یوپی) 2میں واقع بریلی شہر میں پیدا ہوئے3۔ بریلوی حضرات کے علاوہ احناف کے دوسرے گروہوں میں دیوبندی اور توحیدی قابل ذکر ہیں۔
    بریلویت کے مؤسس و بانی راہنما علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نقی علی اور دادا رضا علی کا شمار احناف کے مشہور علماء میں ہوتا ہے4۔ ان کی پیدائش 14جون 1865میں ہوئی5۔ان کا نام محمد رکھا گیا۔ والدہ نے ان کا نام امن میاں رکھا۔ والد نے احمد میاں اور دادا نے احمد رضا6۔
    لیکن جناب احمد رضا ان اسماء میں سے کسی پر بھی مطمئن نہ ہوئے اور اپنا نام عبدالمصطفٰی رکھ لیا7۔ اور خط و کتابت میں اسی نام کا استعمال کثرت سے کرتے رہے۔ جناب احمد رضا کا رنگ نہایت سیاہ تھا۔ ان کے مخالفین انہیں اکثر چہرے کی سیاہی کا طعنہ دیا کرتے تھے۔ ان کے خلاف لکھی جانے والی ایک کتاب کا نام ہی "الطّین اللّازب علی الاسود الکاذب" یعنی "کالے جھوٹے کے چہرے پر چپک جانے والی مٹی" رکھا گیا8۔
    (اس کتاب کے مصنف مولانا مرتضٰی حسن دیوبندی مرحوم ہیں۔ بریلوی حضرات مصنف رحمہ اللہ کے اس پیرائے پر بہت جز بز ہوئے ہیں' حالانکہ یہ ایسی بات نہیں ہے کہ اس پر چیں بہ جبیں ہوا جائے۔ مصنف یہاں جناب احمد رضا کا حلیہ بیان کررہے ہیں' اور ظاہر ہے کہ حلیہ بیان کرتے وقت کالی رنگت کا ذکر آجانا معیوب شے نہیں ہے۔ اور ندامت اور شرمندگی کا اظہار تو کسی عیب پر کیا جاتا ہے۔ اس کے جواب میں ندامت سے بچنے کے لئے مختلف حیلے بہانوں اور خودساختہ عبارتوں سے کسی کتاب میں تردیدی دلائل کا ذکر کرکے کالے کو گورا کرنے کی سعی لاحاصل بہر حال بے معنی ہے۔ علامہ مرحوم نے حرمین شریفین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا ذکر جس انداز سے کیا ہے' اس کا خلاصہ یہ ہے :
    1: بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ ہم نے جناب احمد رضا صاحب کی رنگت کا ذکر کیوں کیا ہے' حالانکہ یہ قابل اعتراض بات نہیں۔
    2: اس کے جواب میں بعض حضرات نے سیاہ کو سفید ثابت کرنے کے لئے اپنی کتاب کے صفحات کو بھی بلاوجہ سیاہ کردیا ہے۔
    3 : جواب میں کہا گیا کہ اعلیٰ حضرت کا رنگ تو سیاہ نہیں تھا' البتہ گہرا گندمی تھا اور رنگ کی آب و تاب بھی ختم ہوچکی تھی۔ ہم کہتے ہیں کہ "گہرا گندمی" رنگ کی کون سی قسم ہے۔ کیا ضرورت ہے ان تاویلات میں پڑنے کی؟ سیدھا اعتراف کیوں نہیں کرلیا جاتا کہ ان کا رنگ سیاہ تھا۔
    4 : اس جواب میں جن لوگوں کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ اعلیٰ حضرت کا رنگ سیاہ نہیں بلکہ سفید تھا' ان میں سے اب کوئی بھی موجود نہیں۔ یہ خود ساختہ دلائل ہیں !
    5: آج بھی احمد رضا صاحب کی ساری اولاد کا رنگ سیاہ ہے۔ بہرحال یہ عیب کی بات نہیں۔ کچھ لوگوں نے ہمارے حوالے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے؛ چنانچہ ہم نے ان کی تردید ضروری سمجھی .
    اس بات کا اعتراف ان کے بھتیجے نے بھی کیا ہے وہ لکھتے ہیں :
    "ابتدائی عمر میں آپ کا رنگ گہرا گندمی تھا۔ لیکن مسلسل محنت ہائے شاقہ نے آپ کی رنگت کی آب وتاب ختم کردی تھی9۔" جناب احمد رضا نحیف ونزار تھے10۔ درد گردہ اور دوسری کمزور کردینے والی بیماریوں میں مبتلا تھے11 کمر کی درد کا شکار رہتے12۔ اسی طرح سر درد اور بخار کی شکایت بھی عموماً رہتی13۔ ان کی دائیں آنکھ میں نقص تھا۔ اس میں تکلیف رہتی اور وہ پانی اتر آنے سے بے نور ہوگئی تھی۔طویل مدت تک علاج کراتے رہے مگر وہ ٹھیک نہ ہوسکی14۔
    جناب عبدالحکیم صاحب کو شکایت ہے کہ مصنف نے یہاں بھی حضرت صاحب کی آنکھ کے نقص کا ذکر کیوں کیا ہے۔ حالانکہ یہ بھی انسانی حلئے کا ایک حصہ ہے اور اس پر غیض و غضب کا اظہار کسی طور پر بھی روا نہیں۔ جواب میں قادری صاحب رقمطراز ہیں کہ :
    حقیقتاً یہ بالکل خلاف واقع ہے۔ ہوا یہ کہ 1300ھ میں مسلسل ایک مہینہ باریک خط کی کتابیں دیکھتے رہے۔ گرمی کی شدت کے پیش نظر ایک دن غسل کیا۔ سر پر پانی پڑتے ہی معلوم ہوا کہ کوئی چیز دماغ سے داہنی آنکھ میں اتر آئی ہے۔ بائیں آنکھ بند کرکے داہنی سے دیکھا تو وسط سے مرئی میں ایک سیاہ حلقہ نظر آیا۔"
    جناب قادری صاحب نے یہ عبارت "ملفوظات" سے ذکر کی ہے' لیکن علمی بددیانتی کا ثبوت دیتے ہوئے مکمل عبارت تحریر کرنے کی بجائے عبارت کا اگلا حصہ حذف کرگئے ہیں۔ اس کے متصل بعد ملفوظات میں لکھا ہے :
    دائیں آنکھ کے نیچے شے کا جتنا حصہ ہوتا ہے (یعنی جس چیز کو دائیں آنکھ سے دیکھتے) وہ ناصاف اور دبا معلوم ہوتا۔"
    اس عبارت کو چھوڑنے کا مطلب سوائے اس کے کیا ہوسکتا ہے کہ قادری صاحب اپنے اعلیٰ حضرت کی آنکھ کے نقص کو چھپانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایسی چیز نہیں جس کے ذکر پر ندامت محسوس کی جائے۔ کسی آنکھ میں نقص کا پایا جانا انسان کے بس کی بات نہیں' ربّ کائنات کا اختیار ہے' لہٰذا ہم قادری صاحب سے گذارش کریں گے کہ وہ اظہار مذامت کی بجائے اعتراف حقیقت کرلیں۔ (ثاقب)
    ایک مرتبہ ان کے سامنے کھانا رکھا گیا۔ انہوں نے سالن کھالیا مگر چپاتیوں کو ہاتھ بھی نہ لگایا۔ ان کی بیوی نے کہا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے جواب دیا مجھے نظر ہی نہیں آئیں۔ حالانکہ وہ سالن کے ساتھ ہی رکھی ہوئی تھیں15۔
    جناب بریلوی نسیان میں مبتلا تھے۔ ان کی یادداشت کمزور تھی۔ ایک دفعہ عینک اونچی کرکے ماتھے پر رکھ لی' گفتگو کے بعد تلاش کرنے لگے' عینک نہ ملی اور بھول گئے کہ عینک ان کے ماتھے پر ہے۔ کافی دیر تک پریشان رہے' اچانک ان کا ہاتھ ماتھے پر لگا تو عینک ناک پر آکر رک گئی۔ تب پتہ چلا کہ عینک تو ماتھے پر تھی16۔
    ایک دفعہ وہ طاعون میں مبتلا ہوئے اور خون کی قے کی17۔ بہت تیز مزاج تھے18۔
    بہت جلد غصے میں آجاتے۔ زبان کے مسئلے میں بہت غیر محتاط19 اور لعن طعن کرنے والے تھے۔ فحش کلمات کا کثرت سے استعمال کرتے۔ بعض اوقات اس مسئلے میں حد سے زیادہ تجاوز کرجاتے اور ایسے کلمات کہتے کہ ان کا صدور صاحب علم و فضل سے تو درکنار'کسی عام آدمی کے بھی لائق نہ ہوتا۔
    بریلویت کے موسس و مجدد جناب احمد رضا نہایت فحش اورغلیظ زبان استعمال کرتے تھے۔ ذیل میں ان کی غیر مہذبانہ زبان کے چند نمونے ذکر کئے جاتے ہیں۔ وہ اپنی کتاب وقعات السنان میں رقمطراز ہیں :
    ضربت مرداں دیدی نقمت رحمٰن کشیدی۔ تھانوی صاحب! اس دسویں کہاوی پر اعتراضات میں ہمارے اگلے تین پر پھر نظر ڈالئے۔ دیکھئے وہ رسلیا والے پر کیسے ٹھیک اترگئے۔ کیا اتنی ضربات عظیم کے بعد بھی نہ سوجی ہوگی۔" (وقعات السنان ص 51مطبوعہ کراچی بحوالہ "شریعت حضرت محمد مصطفٰی اور دین احمد رضا از ملک حسن علی بی اے علیگ)
    "رسلیا کہتی ہے میں نہیں جانتی میری ٹھہرائی پر اتر۔۔۔۔۔دیکھوں تو اس میں تم میری ڈیڑھ گرہ کیسے کھولے لیتے ہو۔" (ایضاً)
    "اف ہی رسلیا تیرا بھول پن۔خون پونچھتی جا اور کہہ خدا جھوٹ کرے۔" (وقعات السنان ص 60)
    "رسلیا والے نے۔۔۔۔۔اپنی دوشقی میں تیرا احتمال بھی داخل کرلیا۔ (وقعات السنان ص 27)
    اپنی کتاب خالص الاعتقاد میں مولانا حسین احمد مدنی کے متعلق لکھتے ہیں:
    "کبھی کسی بے حیاء ناپاک گھنونی سی گھنونی' بے باک سے بے باک۔ پاجی کمینی گندی قوم نے اپنے خصم کے مقابلے بے دھڑک ایسی حرکات کیں؟ آنکھیں میچ کر گندہ منہ پھاڑ کر ان پر فخر کئے؟انہیں سربازار شائع کیا؟ اور ان پر افتخار ہی نہیں بلکہ سنتے ہیں کہ ان میں کوئی نئی نویلی' حیادار'شرمیلی'بانکی'نکیلی'میٹھی'رسیلی'اچیل البیلی'چنچلانیلی'اجودھیاباشی آنکھ یہ تان لیتی اوبجی ہے
    ناچنے ہی کو جو نکلے تو کہاں گھونگھٹ
    اس فاحشہ آنکھ نے کوئی نیا غمزدہ تراشا اور اس کا نام "شہاب ثاقب" رکھا ہے۔ (خالص الاعتقاد ص 22)
    اسی کتاب میں فرماتے ہیں :
    "کفر پارٹی وہابیہ کا بزرگ ابلیس لعین۔۔۔۔خبیثو! تم کافر ٹھہر چکے ہو۔ ابلیس کے مسخرے' دجال کے گدھے۔۔۔۔ارے منافقو!۔۔۔۔۔وہابیہ کی پوچ ذلیل' عمارت قارون کی طرح تحت الثریٰ پہنچتی نجدیت کے کوے سسکتے' وہابیت کے بوم بلکتے اور مذبوح گستاخ بھڑکتے۔ (خالص الاعتقاد ص 2تا20)
    شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کے متعلق فرماتے ہیں :
    "سرکش'طاغی'شیطان'لعین'بندہ داغی" (الامن والعلی ص 112)
    فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں:
    "غیر مقلدین و دیوبندیہ جہنم کے کتے ہیں۔ رافضیوں (شیعہ) کو ان سے بدتر کہنا رافضیوں پر ظلم اور ان کی شان خباثت میں تنقیص ہے۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 2ص 90)
    سبحان السبوح میں ارشاد کرتے ہیں :
    "جو شاہ اسماعیل اور نذیر حسین وغیرہ کا معتقد ہوا' ابلیس کا بندہ جہنم کا کندہ ہے۔ غیر مقلدین سب بے دین' پکے شیاطین پورے ملاعین ہیں۔ (سبحان السبوح ص 134)
    ان کے ایک معتقد بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ :
    "آپ مخالفین کے حق میں سخت تند مزاج واقع ہوئے تھے اور اس سلسلے میں شرعی احتیاط کو ملحوظ نہیں رکھتے تھے۔20"
    یہی وجہ تھی کہ لوگ ان سے متنفر ہونا شروع ہوگئے۔ بہت سے ان کے مخلص دوست بھی ان کی عادت کے باعث ان سے دور ہوتے چلے گئے۔ ان میں سے مولوی محمد یٰسین بھی ہیں جو مدرسہ اشاعة العلوم کے مدیر تھے اور جنہیں جناب احمد رضا اپنے استاد کا درجہ دیتے تھے' وہ بھی ان سے علیحدہ ہوگئے۔21
    اس پر مستزاد یہ کہ مدرسہ مصباح التہذیب جو ان کے والد نے بنوایا تھا' وہ ان کی ترش روئی' سخت مزاجی' بذات لسانی اور مسلمانوں کی تکفیر کی وجہ سے ان کے ہاتھ سے جاتا رہا اور اس کے منتظمین ان سے کنارہ کشی اختیار کرکے وہابیوں سے جاملے۔ اور حالت یہ ہوگئی کہ بریلویت کے مرکز میں احمد رضا صاحب کی حمایت میں کوئی مدرسہ باقی نہ رہا۔ باوجودیکہ بریلویوں کے اعلیٰ حضرت وہاں اپنی تمام تر سرگرمیوں سمیت موجود تھے ۔22
    جہاں تک بریلوی حضرات کا تعلق ہے تو دوسرے باطل فرقوں کی مانند اپنے امام و قائد کے فضائل و مناقب بیان کرتے وقت بہت سی جھوٹی حکایات اور خود ساختہ کہانیوں کا سہارا لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بریلوی حضرات اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ جھوٹ کسی کی قدر و منزلت میں اضافے کی بجائے اس کی تذلیل اور استہزاء کا باعث ہوتا ہے۔
    چنانچہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ:
    "آپ کی ذہانت و فراست یہ عالم تھا کہ چار برس کی مختصر عمر میں' جس میں عموماً دوسرے بچے اپنے وجود سے بھی بے خبر ہوتے ہیں' قرآن مجید ناظرہ ختم کرلیا۔ آپ کی رسم بسم اللہ خوانی کے وقت ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے لوگوں کو دریائے حیرت و استعجاب میں ڈال دیا۔ حضور کے استاد محترم نے آپ کو "بسم اللہ الرحمن الرحیم" پڑھانے کے بعد الف'با'تا'پڑھایا۔پڑھاتے پڑھاتے جب لام الف (لا) کی نوبت آئی تو آپ نے خاموشی اختیار فرمالی۔ استاد نے دوبارہ کہا کہ "کہو میاں لام الف" حضور نے فرمایا کہ یہ دونوں تو پڑھ چکے پھر دوبارہ کیوں؟
    اس وقت آپ کے جد امجد مولانا رضا علی خان صاحب قدس سرہ العزیز نے فرمایا "بیٹا استاد کا کہا مانو۔"
    حضور نے ان کی طرف نظر کی۔ جد امجد نے اپنی فراست ایمانی سے سمجھ لیا کہ بچے کو شبہ ہے کہ یہ حرف مفردہ کا بیان ہے۔ اب اس میں ایک لفظ مرکب کیوں آیا؟ اگر بچے کی عمر کے اعتبار سے اس راز کو منکشف کرنا مناسب نہ تھا' مگر حضرت جد امجد نے خیال فرمایا کہ یہ بچہ آگے چل کے آفتاب علم و حکمت بن کر افق عالم پر تجلی ریز ہونے والا ہے' ابھی سے اسرار ونکات کے پردے اس کی نگاہ و دل پر سے ہٹادئیے جائیں۔ چنانچہ فرمایا:"بیٹا تمہارا خیال بجا و درست ہے' لیکن پہلے جو حرف الف پڑھ چکے ہو وہ دراصل ہمزہ ہے اور یہ الف ہے۔' لیکن الف ہمیشہ ساکن ہوتا ہے اور ساکن کے ساتھ چونکہ ابتداء ناممکن ہے' اس لئے ایک حرف یعنی لام اول میں لاکر اس کی ادائیگی مقصود ہے۔ حضور نے اس کے جواب میں کہا تو کوئی بھی حرف ملادینا کافی تھا' لام ہی کی کیا خصوصیت ہے؟ با'تا'دال اور سین بھی شروع میں لاسکتے تھے۔
    جد امجد علیہ الرحمہ نے انتہائی جوش محبت میں آپ کو گلے لگالیا اور دل سے بہت سی دعائیں دیں۔ پھرفرمایا کہ لام اور الف میں صورتاً خاص مناسبت ہے۔ اور ظاہراً لکھنے میں بھی دونوں کی صورت ایک ہی ہے۔ لایا لا اور سیرت اس وجہ سے کہ لام کا قلب الف ہے اور الف کا قلب لام"۔23
    اس بے معنی عبارت کو ملاحظہ فرمائیے۔ اندازہ لگائیں کہ بریلوی حضرات چار برس کی عمر میں اپنے اعلیٰ حضرت کی ذہانت و فراست بیان کرنے میں کس قسم کے علم کلام کا سہارا لے رہے ہیں اور لغو قسم کے قواعد و ضوابط کو بنیاد بنا کر ان کے ذریعہ سے اپنے امام کی علمیت ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
    خود اہل زبان عرب میں سے تو کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اس لا یعنی قاعدے کو پہچان سکے اور اس کی وضاحت کرسکے۔ لیکن ان عجمیوں نے الف اور لام کے درمیان صورت و سیرت کے لحاظ سے مناسبت کو پہچان کر اس کی وضاحت کردی۔
    دراصل بریلوی قوم اپنے امام کو انبیاء ا ورسل سے تشبیہ ہی نہیں' بلکہ ان پر افضلیت دینا چاہتی ہے اور یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ ان کے امام و قائد کو کسی کی طرف سے تعلیم دینے کی ضرورت نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا سینہ علوم و معارف کا مرکز ومہبط بن چکا تھا اور تمام علوم انہیں وہبی طور پر عطا کیے جاچکے تھے۔ اس امر کی وضاحت نسیم بستوی کی اس نص سے بھی ہوجاتی ہے جس میں وہ لکھتے ہیں:
    "عالم الغیب نے آپ کا مبارک سینہ علوم و معارف کا گنجینہ اور ذہن و دماغ و قلب و روح کو ایمان و یقین کے مقدس فکر و شعور اور پاکیزہ احساس و تخیل سے لبریز فرمادیا تھا۔ لیکن چونکہ ہر انسان کا عالم اسباب سے بھی کسی نہ کسی نہج سے رابطہ استوار ہوتا ہے' اس لیے بظاہر اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ (معاذ اللہ) کو بھی عالم اسباب کی راہوں پر چلنا پڑا۔ (انوار رضا ص 55 بستوی ص 27)24
    یعنی ظاہری طور پر تو جناب احمد رضا صاحب نے اپنے اساتذہ سے اکتساب علم کیا مگر حقیقی طور پر وہ ان کی تعلیم کے محتاج نہ تھے' کیونکہ ان کا معلم و مربی خود رب کریم تھا۔
    جناب بریلوی خود اپنے متعلق لکھتے ہیں :
    "درد سر اور بخار وہ مبارک امراض ہیں جو انبیاء علیہم السلام کو ہوتے تھے۔
    آگے چل کر لکھتے ہیں:
    "الحمدللہ کہ مجھے اکثر حرارت اور درد سار رہتا ہے۔25
    جناب احمد رضا یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ان کی جسمانی کیفیت انبیاء کرام علیہم السلام سے مشابہت رکھتی ہے۔ اپنی تقدیس ثابت کرنے کے لیے ایک جگہ فرماتے ہیں:
    "میری تاریخ ولادت ابجدی حساب سے قرآن کریم کی اس آیت سے نکلتی ہے جس میں ارشاد ہے :
    ( اولٰئک کتب فی قلوبھم الایمان و ایدھم بروح منہ )
    یعنی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے ایمان لکھ دیا ہے اور ان کی روحانی تائید فرمادی ہے۔"26
    نیز ان کے بارے میں ان کے پیروکاروں نے لکھا ہے :
    "آپ کے استادمحترم کسی آیت کریمہ میں بار بار زبر بتارہے تھے اور آپ زیر پڑھتے تھے۔ یہ کیفیت دیکھ کر حضور کے جد امجد رحمہ اللہ علیہ نے آپ کو اپنے پاس بلالیا اور کلام مجید منگوا کر دیکھا تو اس میں کاتب کی غلطی سے اعراب غلط لکھا گیا تھا۔ یعنی جو زیر حضور سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ کی زبان حق ترجمان سے نکلتا ہے' وہی صحیح اور درست تھا۔ پھر جد امجد نے فرمایا کہ مولوی صاحب جس طرح بتاتے ہیں اسی کے مطابق پڑھوں' مگر زبان پر قابو نہ پاتا تھا۔27
    نتیجہ یہ نکلا کہ "اعلیٰ حضرت" صاحب کو بچپن سے ہی معصوم عن الخطاء کا مقام و مرتبہ حاصل تھا۔ بریلوی حضرات نہ صرف یہ کہ مختلف واقعات بیان کرکے اس قسم کا نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں' بلکہ وہ اپنے امام وبانی کے متعلق صراحتاً اس عقیدے کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ عبدالکریم قادری صاحب لکھتے ہیں :
    "اعلیٰ حضرت کی قلم وزبان ہر قسم کی لغزش سے محفوظ تھی۔ اور باوجودیکہ ہر عالم کی کوئی نہ کوئی لغزش ہوتی ہے' مگر اعلیٰ حضرت نے ایک نقطے کی غلطی بھی نہیں کی۔28"
    ایک دوسرے صاحب لکھتے ہیں:
    "اعلیٰ حضرت نے اپنی زبان مبارک سے کبھی غیر شرعی لفظ ادا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر قسم کی لغزشوں س محفوظ رکھا۔29"
    نیز یہ کہ :
    "اعلیٰ حضرت بچپن ہی سے غلطیوں سے مبرا تھے۔ صراط مستقیم کی اتباع آپ کے اندر ودیعت کردی گئی تھی۔30
    انوار رضا میں ایک صاحب بڑے برملا انداز میں تحریر فرماتے ہیں:
    "اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلم اور زبان کو غلطیوں سے پاک کردیا تھا۔31"
    مزید کہا جاتا ہے:
    "اعلیٰ حضرت غوث اعظم کے ہاتھ میں اس طرح تھے جیسے کاتب کے ہاتھ میں قلم' اور غوث اعظم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس طرح تھے جیسے کاتب کے ہاتھ میں قلم۔ اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے سوا کچھ ارشاد نہ فرماتے تھے۔32"
    ایک بریلوی شاعر اپنے اعلیٰ حضرت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں
    ہے حق کی رضا احمد کی رضا
    احمد کی رضا مرضی رضا
    (یعنی احمد رضا بریلوی)33
    ان کے ایک اور پیروکار لکھتے ہیں:
    "اعلیٰ حضرت کا وجود اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھا۔34"
    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا ایک گستاخ اپنے امام و راہنما کے بارے میں کہتا ہے :
    "اعلیٰ حضرت کی زیارت نے صحابہ کرام کی زیارت کا شوق کم کردیا ہے"۔35
    مبالغہ آرائی کرتے وقت عموماً عقل کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایک بریلوی مصنف اس کا مصداق بنتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :"ساڑھے تین سال کی عمر شریف کے زمانے میں ایک دن اپنی مسجد کے سامنے جلوہ افروز تھے کہ ایک صاحب اہل عرب کے لباس میں تشریف لائے اور آپ سے عربی زبان میں گفتگو فرمائی۔ آپ نے( ساڑھے تین برس کی عمرمیں) فصیح عربی میں ان سے کلام کیا اور اس کے بعد ان کی صورت دیکھنے میں نہیں آئی۔36"
    ایک صاحب لکھتے ہیں:
    ایک روز استاد صاحب نے فرمایا:احمد میاں! تم آدمی ہو کہ جن؟ مجھے پڑھاتے ہوئے دیر نہیں لگتی ہے' لیکن تمہیں یاد کرتے دیر نہیں لگتی۔ دس برس کی عمر میں ان کے والد' جو انہیں پڑھاتے بھی تھے' ایک روز کہنے لگے: تم مجھ سے پڑھتے نہیں بلکہ پڑھاتے ہو۔37" یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کا استاد مرزا غلام قادر بیگ مرزا غلام احمد قادیانی کا بھائی تھا۔ 38 جناب بستوی صاحب کم سنی میں اپنے امام کے علم و فضل کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    14 برس کی عمر میں آپ سند و دستار فضیلت سے سرفراز ہوئے۔ اسی دن رضاعت کے ایک مسئلے کا جواب لکھ کر والد ماجد قبلہ کی خدمت عالی میں پیش کیا۔ جواب بالکل درست (صحیح) تھا۔ آپ کے والد ماجد نے آپ کے جواب سے آپ کی ذہانت و فراست کا اندازہ لگالیا اور اس دن سے فتویٰ نویسی کاکام آپ کے سپرد کردیا۔"
    اس سے پہلے آٹھ سال کی عمر مبارک میں آپ نے ایک مسئلہ وراثت کا جواب تحریر فرمایا:۔
    "واقعہ یہ ہوا کہ والد ماجد باہر گاؤں میں تشریف فرما تھے۔ کہیں سے سوال آیا' آپ نے اس کا جواب لکھا اور والد صاحب کی واپسی پر ان کو دکھایا۔ جسے دیکھ کر ارشاد ہوا معلوم ہوتا ہے یہ مسئلہ امن میاں (اعلیٰ حضرت)نے لکھا ہے۔ ان کو ابھی نہ لکھنا چاہئے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ہمیں اس جیسا کوئی بڑا مسئلہ کوئی لکھ کر دکھائے تو جانیں۔39"
    اس نص سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اعلیٰ حضرت صاحب نے آٹھ برس کی عمر میں فتویٰ نویسی کا آغاز کردیا تھا۔ مگر خود اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
    "سب سے پہلا فتویٰ میں نے 1286ء میں لکھا تھا' جب میری عمر 13برس تھی۔ اور اسی تاریخ کو مجھ پر نماز اور دوسرے احکام فرض ہوئے تھے۔40"
    یعنی بستوی صاحب فرمارہے ہیں کہ اعلیٰ حضرت نے آٹھ برس کی عمر میں ہی وراثت جیسے پیچیدہ مسئلے کے متعلق فتویٰ صادر فرمادیا تھا جب کہ خود اعلیٰ حضرت صاحب اس کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمارہے ہیں کہ میں نے سب سے پہلا فتویٰ 13 برس کی عمر میں دیا تھا۔"
    اس سے بھی زیادہ لطف کی بات یہ ہے کہ بریلوی حضرات کا یہ دعویٰ ہے کہ جناب احمد رضا بریلوی صاحب نے 14 برس کی عمر میں ہی تعلیم مکمل کرکے سند فراغت حاصل کرلی تھی۔41
    مگر کئی مقامات پر خود ہی اس کی تردید بھی کرجاتے ہیں۔ چنانچہ حیات اعلیٰ حضرت کے مصنف ظفر الدین بہاری لکھتے ہیں : "اعلیٰ حضرت نے مولانا عبدالحق خیر آبادی سے منطقی علوم سیکھنا چاہے' لیکن وہ انہیں پڑھانے پر راضی نہ ہوئے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی کہ احمد رضا مخالفین کے خلاف نہایت سخت زبان استعمال کرنے کے عادی ہیں۔42"
    بستوی صاحب کہتے ہیں کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب ان کی عمر 20 برس تھی۔43
    اسی طرح بریلوی صاحب کے ایک معتقد لکھتے ہیں:
    اعلیٰ حضرت نے سید آل رسول شاہ کے سامنے 1294ھ میں شرف تلمذ طے کیا اور ان سے حدیث اور دوسرے علوم میں سند اجازت لی۔44"
    ظفر بہاری صاحب کہتے ہیں :
    "آپ نے سید آل رسول شاہ کے بیٹے ابوالحسین احمد سے 1296ھ میں بعض علوم حاصل کیے۔45"
    بہرحال ایک طرف تو بریلوی حضرات یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ احمد رضا 13برس یا 14برس کی عمر میں ہی تمام علوم سے فارغ ہوچکے تھے' دوسری طرف بے خیالی میں اس کی تکذیب بھی کررہے ہیں۔ اب کسے نہیں معلوم کہ 1272ھ یعنی احمد رضا صاحب کی تاریخ پیدائش اور 1296ھ میں بھی بعض علوم حاصل کیے ہوں تو 14برس کی عمر میں سند فراغت کے حصول کا کیا معنی ہے؟ مگر بہت دیر پہلے کسی نے کہہ دیا تھا "لا ذاکرۃ لکذّاب" یعنی "دروغ گورا حافظہ نبا شد۔" (جھوٹے کا حافظہ نہیں ہوتا)



    حوالہ جات
    1 ملاحظہ ہو دائرة المعاف الاسلامیہ اردو جلد ٤ ص ٤٨٥ مطبوعہ پنجاب ١٩٦٩ئ
    2 دائرة المعارف جلد ٤ ص ٤٨٧
    3 اعلیٰ حضرت بریلوی مصنفہ بستوی ص ١٢٥ ایضاً حیات اعلیٰ حضرت از ظفرالدین بہاری رضوی مطبوعہ کراچی
    4 تذکرة علمائے ہندص ٦٤
    5 حیات اعلیٰ حضرت جلد١ ص١
    6 اعلیٰ حضرت از بستوی ص ٢٥
    7 ملاحظہ ہو''من ہو احمد رضا'' از شجاعت علی قادری ص ١٥
    8 اس کتاب کے مصنف مولانا مرتضیٰ حسن دیوبندی ہیں۔
    9 اعلیٰ حضرت از بستوی ص ٢٠
    10 حیات اعلیٰ حضرت مصنفہ ظفر الدین بہاری جلد ١ ص ٣٥
    11 ملاحظہ ہو مضمون حسنین رضا درج شدہ اعلیٰ حضرت بریلوی ص ٢٠
    12 بستوی ص ٢٨
    13 ملفوظات اعلیٰ حضرت ص ٦٤
    14 ملفوظات ص ٢٠'٢١
    15 انوار رضا ص ٣٦٠
    16 حیات اعلیٰ حضرت ص ٦٤
    17 ایضاً ص٢٢
    18 انوار رضاص ٣٥٨
    19 الفاضل البریلوی مصنفہ مسعود احمدص ١٩٩
    20 مقدمہ مقالات رضا از کوکب ص ٣٠ مطبوعہ لاہور
    21 حیات اعلیٰ حضرت ص ٢١١
    22 ایضاً ص ٢١١
    23 البریلوی از بستوی ص ٢٦' ٢٧' انوار رضا ص ٣٥٥ وغیرہ
    24 انوار رضا ص ٣٥٥ . بستوی ص ٢٧
    25 ملفوظات جلد ١ ص ٦٤
    26 حیات اعلیٰ حضرت از بہاری ص ١
    27 بستوی ص ٢٨' ایضاً حیات اعلیٰ حضرت ص ٢٢
    28 یاد اعلیٰ حضرت از عبدالحکیم شرف قادری ص ٣٢
    29 مقدمہ الفتاویٰ الرضویہ جلد ٢ ص ١٥ از محمد اصغر علوی
    30 انوار رضا ص ٢٢٣
    31 ایضاً٢٧١
    32 ایضاً ٢٧٠
    33 باغ فردوس مصنفہ ایوب رضوی ص٧
    34 انوار رضاص ١٠٠
    35 وصایا شریف ص ٢٤
    36 حیات اعلیٰ حضرت از بہاری ص ٢٢
    37 مقدمہ فتاویٰ رضویہ جلد ٢ ص ٦
    38 بستوی ص ٣٢
    39 اعلیٰ حضرت بریلوی ص ٣٢
    40 من ہو احمد رضا از قادری ص ١٧ (یہ بڑی دلچسپ پات ہے کہ حضورۖ کی شریعت میں نماز دس برس کی عمر میں فرض ہے اور جناب احمد رضا پر نماز ١٣ برس کی عمر میں فرض ہوئی(ناشر)
    41 ملاحظہ ہو حیات اعلیٰ حضرت از بہاری ص ٣٣ ۔ ایضاً انوار رضا صفحہ ٣٥٧ وغیرہ
    42 بہاری ص ١٣٣ ایضاً انوار رضا ص ٣٥٧
    43 نسیم بستوی ص ٣٥
    44 انوار رضا ص ٣٥٦
    45 حیات اعلیٰ حضرت ص٣٤'٣٥



    جاری ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد ---------- باب اول (خاندان)

    خاندان

    جناب احمد رضا کے خاندان کے متعلق صرف اتنا ہی معلوم ہوسکا کہ ان کے والد اور دادا کا شمار احناف کے علماء میں ہوتا ہے۔ البتہ جناب بریلوی صاحب کے مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ ان کا تعلق شیعہ خاندان سے تھا۔ انہوں نے ساری عمر تقیہ کیے رکھا اور اپنی اصلیت ظاہر نہ ہونے دی' تاکہ وہ اہل سنت کے درمیان شیعہ عقائد کو رواج دے سکیں۔
    ان کے مخالفین اس کے ثبوت کے لیے جن دلائل کا ذکر کرتے ہیں' ان میں سے چند ایک یہاں بیان کیے جاتے ہیں:
    جناب احمد رضا کے آباء اجداد کے نام شیعہ اسماء سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ان کاشجرہ نسب ہے:
    احمد رضا بن نقی علی بن رضا علی بن کاظم علی۔46
    بریلویوں کے اعلیٰ حضرت نے امّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے خلاف نازیبا کلمات کہے ہیں۔ عقیدہ اہلسنت سے وابستہ کوئی شخص ان کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اپنے ایک قصیدے میں لکھا ہے :

    تنگ و چست ان کا لباس اور وہ جوبن کا ابھار
    مسکی جاتی ہے قبا سر سے کمر تک لے کر
    یہ پھٹا پڑتا ہے جوبن مرے دل کی صورت
    کہ ہوئے جاتے ہیں جامہ سے بروں سینہ وبر47​

    انہوں نے مسلمانوں میں شیعہ مذہب سے ماخوذ عقائد کی نشر و اشاعت میں بھرپور کردار ادا کیا۔48
    کوئی ظاہری شیعہ اپنے اس مقصد میں اتنا کامیاب نہ ہوتا' جتنی کامیابی احمد رضا صاحب کو اس سلسلے میں تقیہ کے لبادے میں حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے تشیع پر پردہ ڈالنے کے لیے چند ایسے رسالے بھی تحریر کیے جن میں بظاہر شیعہ مذہب کی مخالفت اور اہل سنت کی تائید پائی جاتی ہے۔ شیعہ تقیہ کا یہی مفہوم ہے' جس کا تقاضا انہوں نے کماحقہ ادا کیا۔
    جناب احمد رضا نے اپنی تصنیفات میں ایسی روایات کا ذکر کثرت سے کیا ہے جو خالصتاً شیعی روایات ہیں اور ان کا عقیدہ اہلسنت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔
    مثلاً:
    "انّ علیّا قسیم النار۔"
    "انّ فاطمۃ سمّیت بفاطمۃ لانّ اللہ فمھا و ذریّتھا من النّار۔"
    یعنی"حضرت علی رضی اللہ عنہ قیامت کے روز جہنم تقسیم کریں گے۔49 اور "حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کا نام فاطمہ اس لیے رکھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کی اولاد کو جہنم سے آزاد کردیا ہے۔50
    شیعہ کے اماموں کو تقدیس کا درجہ دینے کے لیے انہوں نے یہ عقیدہ وضع کیا کہ اغواث (جمع غوث' یعنی مخلوقات کی فریاد رسی کرنے والے ) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہوتے ہوئے حسن عسکری تک پہنچتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے وہی ترتیب ملحوظ رکھی' جو شیعہ کے اماموں کی ہے۔51
    احمد رضا نے باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چھوڑ کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ' کو مشکل کشا قرار دیا اور کہا:
    "جو شخص مشہور دعائے سیفی (جو شیعہ عقیدے کی عکاسی کرتی ہے) پڑھے' اس کی مشکلات حل ہوجاتی ہیں۔"
    دعائے سیفی درج ذیل ہے:
    ناد علیّا مظھر العجا ئب
    تجدہ عونالّک فی النّوائب
    کلّ ھمّ وغمّ سینجلّی
    بولیتک یا علی یا علی​
    یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکارو جن سے عجائبات کا ظہور ہوتا ہے۔ تم انہیں مددگار پاؤگے۔ اے علی رضی اللہ عنہ آپ کی ولایت کے طفیل تمام پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں۔52
    اسی طرح انہوں نے پنجتن پاک کی اصطلاح کو عام کیا اور اس شعر کو رواج دیا:
    لی خمسۃ اطفی بھا حرّالوباء الحاطمۃ
    المصطفٰی المرتضٰی و وابناھما و الفاطمۃ​
    یعنی پانچ ہستیاں ایسی ہیں جو اپنی برکت سے میری امراض کو دور کرتی ہیں۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم ' علی رضی اللہ عنہ، حسن رضی اللہ عنہ، حسین رضی اللہ عنہ، فاطمہ رضی اللہ عنہا!53
    انہوں نے شیعہ عقیدے کی عکاسی کرنے والی اصطلاح "جفر" کی تائید کرتے ہوئے اپنی کتاب خالص الاعتقاد میں لکھا ہے:
    "جفر چمڑے کی ایک ایسی کتاب ہے جو امام جعفر صادق رحمہ اللہ نے اہل بیت کے لیے لکھی۔ اس میں تمام ضرورت کی اشیاء درج کردیں ہیں۔ اس طرح اس میں قیامت تک رونما ہونے والے تمام واقعات بھی درج ہیں۔54
    اسی طرح شیعہ اصطلاح الجامعتہ کا بھی ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
    "الجامعتہ ایک ایسا صحیفہ ہے' جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تمام واقعات عالم کو حروف کی ترتیب کے ساتھ لکھ دیا ہے۔ آپ کی اولاد میں سے تمام ائمہ امور و واقعات سے باخبر تھے۔55
    جناب بریلوی نے ایک اور شیعہ روایت کو اپنے رسائل میں ذکر کیا ہے کہ :
    "امام احمد رضا (شیعہ کے آٹھویں امام ) سے کہا گیا کہ کوئی دعا ایسی سکھلائیں جو ہم اہل بیت کی قبروں کی زیارت کے وقت پڑھا کریں' تو انہوں نے جواب دیا کہ قبر کے قریب جاکر چالیس مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر کہو السلام علیکم یا اہل البیت ' اے اہل بیت میں اپنے مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے آپ کو خدا کے حضور سفارشی بنا کر پیش کرتا ہوں اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے براء ت کرتا ہوں۔56"
    یعنی شیعہ کے اماموں کو مسلمانوں کے نزدیک مقدس اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ائمہ اہل سنت سے افضل قرار دینے کے لئے انہوں نے اس طرح کی روایات عام کیں۔ حالانکہ اہل تشیع کے اماموں کی ترتیب اور اس طرح کے عقائد کا عقیدہ اہل سنت سے کوئی ناطہ نہیں ہے۔
    جناب احمد رضا شیعہ تعزیہ کو اہل سنت میں مقبول بنانے کے لیے اپنی ایک کتاب میں رقمطراز ہیں:
    "تبرک کے لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مقبرے کا نمونہ بناکر گھر کے اندر رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔57
    اس طرح کی لاتعداد روایات اور مسائل کا ذکر ان کی کتب میں پایا جاتا ہے
    جناب احمد رضا نے شیعہ کے اماموں پر مبنی سلسلہ بیعت کو بھی رواج دیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک عربی عبارت وضع کی ہے جس سے ان کی عربی زبان سے واقفیت کے تمام دعووں کی حقیقت بھی عیاں ہوجاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
    "اللّٰھم صلّ وسلّم علٰی وبارک علٰی سیّدنا مولانا محمّد المصطفٰی رفیع المکان المرتضٰی علی الشان الذی رجیل من امّتہ خیر من رّجال من السّالفین و حسین من زمرتہ احسن من کذا و کذا حسنا من السّابقین السّیّد السّجاد زین العابدین باقر علوم الانبیاء والمرسلین ساقی الکوثر و مالک تسنیم و جعفر الّذی یطلب موسی الکلیم رضا ربّہ بالصّلاۃ علیہ۔58"
    عربی زبان کا ادنیٰ علم رکھنے والا بھی اس عبارت کی عجمیت' رکاکت اور بے مقصدیت کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ ایسے شخص کے بارے میں یہ دعویٰ کرنا کہ وہ ساڑھے تین برس کی عمر میں فصیح عربی بولا کرتا تھا' کس قدر عجیب لگتا ہے؟
    "حسین من زمرتہ احسن من وکذا وکذا حسنا من السّابقین" کیسی بے معنی ترکیب ہے۔
    "یطلب موسی الکلیم رضا ربّہ بالصّلاۃ علیہ" میں موسٰی الکلیم سے مراد کون ہیں؟ اگر مراد موسیٰ کاظم ہیں تو کلیم سے کیا معنی؟ اور اگر مراد نبی و رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں" تو کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام (معاذ اللہ) امام جعفر صادق پر درود بھیج کر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
    بہرحال یہ عبارت مجموعہ رکاکت بھی ہے اور مجموعہ خرافات بھی!
    حاصل کلام یہ ہے کہ رضا بریلوی صاحب نے اس نص میں شیعہ کے اماموں کو ایک خاص ترتیب سے ذکر کرکے مسلمانوں کو رفض و تشیع سے قریب لانے کی سعی کی ہے۔
    جناب بریلوی صاحب نے برصغیر کے اہل سنت اکابرین کی تکفیر کی اور فتوی دیا کہ ان کی مساجد کا حکم عام گھروں جیسا ہے انہیں خدا کا گھر تصور نہ کیا جائے۔
    اسی طرح انہوں نے اہل سنت کے ساتھ مجالست و مناکحت کو حرام قرار دیا۔ اور جہاں تک شیعہ کا تعلق ہے تو وہ ان کے اماموں کے باڑوں کے ابجدی ترتیب سے نام تجویز کرتے رہے۔59
    احمد رضا صاحب پر رفض و تشیع کا الزام اس لیے بھی لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے شیعہ کے اماموں کی شان میں شیعوں کے انداز میں مبالغہ آمیز قصائد بھی لکھے۔60

    فصاحت عربی سے ناواقفی
    جناب احمد رضا کی یہ عبارت بے معنیٰ ترکیبوں اور عجمیت زدہ جملوں کا مجموعہ ہے' مگر عبدالحکیم قادری صاحب کو اصرار ہے کہ اس میں کوئی غلطی نہیں دلیل سے خالی اصرار کا تو کوئی جواب نہیں' اگر انہیں اصرار ہے تو سو بار رہے' ہمیں اس پر کوئی انکار نہیں۔ ان کے اصرار سے یہ شکستہ عبارت درست تو نہیں ہوجائے گی! مگر ہمیں حیرت اس بات پر ہے کہ ایک صاحب نے مصنف رحمہ اللہ علیہ کی عربی کتاب میں سے بزعم خویش چند غلطیاں نکال کر اپنی جہالت کا ثبوت جس طرح دیا ہے' وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے اپنی عجمیت زدہ ذہنیت سے جب "البریلویہ" کا مطالعہ کیا تو انہیں کچھ عبارتیں ایسی نظر آئیں جو ان کی تحقیق کے مطابق عربی قواعد کے اعتبار سے غیر صحیح تھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ان "غلطیوں" کی "تصحیح" بھی کی ہوئی تھی اور یہی "تصحیح" ان کی جہالت کا راز کھولنے کا سبب بن گئی۔
    ذرا آپ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ ان کی تصحیح میں کس قدر تغلیط ہے۔ ہم ذیل میں ان کی چند تصحیحات نقل کرتے ہیں۔ تاکہ قارئین ان کی علمی تحقیق کاوش سے استفادہ فرماسکیں۔
    الحجم الصغیر : موصوف لکھتے ہیں کہ یہ لفظ غلط ہے اس کی بجائے القطع الصغیر ہونا چاہیے تھا۔
    جناب کو اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ یہ لفظ عربی زبان کا ہے۔ موصوف کا گمان یہ ہوا کہ چونکہ حجم تو اردو میں مستععمل ہے' لہٰذا عربی کا لفظ نہیں ہوسکتا۔ المنجد مادہ ح ج م میں الحجم کا معنی مقدار الحجم سے کیا گیا ہے۔ موصوف کو چاہئے کہ وہ اپنی معلومات درست کرلیں۔
    المواضیع : اس کی تصحیح جناب نے المواضع سے کی ہے۔ پوری عبارت ہے "فلاجل ذلک تضاربت اقوالھم فی ھذا الخصوص (ای الموضوع) مثل المواضیع (جمع الموضوع) الاخرے"
    موصوف نے اسے "موضع" کی جمع سمجھ لیا اور اس کی تصحیح "مواضع" سے کردی' جو بجائے خود ایک غلطی ہے۔
    نظرۃ تقدیر و احترام : تصحیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں نظرۃ تعظیم واحترام گویا جناب نے اپنی علمیت کے زور پر یہ سمجھا کہ یہ عربی کا لفظ نہیں ہے۔ حالانکہ عربی لغت کی تمام کتب نے اس لفظ کو ادا کیا ہے۔ اور اس کا معنی "الحرمتہ والوقار" سے کیا ہے۔ ملاحظہ ہو المنجد ص 245 وغیرہ مادہ القدر
    بین السنۃ: موصوف کو یہ علم نہیں کہ لفظ "السنہ" کہہ کر اہلسنت کا مفہوم بھی ادا کیا جاتا ہے۔ مولف رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "الشیعہ والسنہ" میں "السنہ" سے مراد اہلسنت ہیں۔ عربی زبان سے معمولی واقفیت رکھنے والا بھی اس معنی سے ناآشنا نہیں۔ اس کی تصحیح "اہل السنّہ" سے کرنا اس لفظ کے استعمال سے عدم واقفیت کی دلیل ہے۔
    ان یبوس : فرماتے ہیں کہ یہ عجمی لفظ ہے" اس لیے عربی میں اس کا استعمال نا درست ہے۔موصوف کو اگر عربی ادب سے ذرا سی بھی واقفیت ہوتی تو شاید یہ بات لکھ کر علمی حلقوں میں جگ ہنسائی کا باعث نہ بنتے۔ کیونکہ عربی زبان میں اس کا استعمال عام رائج ہے۔ ملاحظہ ہو المنجد مادہ ب وس' باسہ ' بوسا ' قبلہ
    ترک التکایا : لکھتے ہیں: یہ عجمی لفظ ہے' حالانکہ یہ "اتکا" سے ماخوذ ہے۔ جس کا معنی ہے : اسند ظھرہ الٰی شئی" ملاحظہ ہو المنجد مادہ وک ا
    رسید : ان کا اعتراض ہے: یہ لفظ عربی زبان میں مستعمل نہیں" حالانکہ عرب ممالک میں رسید الامتعتہ کا استعمال عام رائج ہے۔ اسے رصید بھی لکھا جاتا ہے۔ المنجد میں ہے (انظر مادہ رص د)
    اصدر وافرمانا : المنجد مادہ ف رم۔ الفرمان ج فرامین ای عھد السطان للولاۃ
    وہ الفاظ و کلمات جو عربی کے ساتھ ساتھ دوسری لغات میں بھی استعمال ہوتے ہیں' ان کا استعمال غلط نہیں ہے۔ ان کی تغلیط جہالت کی واضح دلیل ہے۔
    کتب فیہا لال البیت : شیعہ کے نزدیک آل بیت اور اہل بیت کا مفہوم ایک ہی ہے "البریلویہ" کی اس عبارت میں آل بیت کا استعمال ہی صحیح ہے' کیونکہ اس احمد رضا صاحب نے شیعوں کی ترجمانی کی ہے۔
    ومن جاء : ان کی تصحیح الیٰ من جاء سے کی ہے۔ یہاں الیٰ کا استعمال اس لیے نہیں کیا گیا کہ پہلی الیٰ پر عطف ہے۔ اس لیے دوبارہ استعمال ضروری نہ رہا۔
    علاوہ ازیں کچھ غلطیاں ایسی درج ہیں جو کتاب وطباعت کی ہیں۔ مثلاً کبیب النمل! کہ اصل میں ہے "کدبیب النمل" ٹائپ کی غلطی سے وحذف ہوگئی ہے۔ اسی طرح القراء ت میں ء کی جگہ ۃ غلطی سے ٹائپ ہوگیا ہے۔ مناصرۃ للاستعمار۔ کہ اصل میں مناصرۃ للاستعمار یا استرقاق کی بجائے استر تقاق وغیرہ۔
    بہرحال غلطیوں کی یہ فہرست قادری صاحب کی عربی زبان پر عدم قدرت کی بین اور واضح دلیل ہے۔ بریلویت کے حاملین کی علمیت پہلے ہی مشکوک تھی' قادری صاحب نے اس پر مہر ثبت کردی ہے۔
    (ثاقب)
    حوالہ جات
    46 حیات اعلیٰ حضرت ص ٢
    47 حدائق بخشش جلد ٣ ص ٢٣
    48 فتاویٰ بریلویہ ص ١٤
    49 الامن والعلی مصنفہ احمد رضا بریلوی ص ٥٨
    50 ختم نبوت از احمد رضا ص ٩٨
    51 ملفوظات ص ١١٥
    52 الامن والعلی ص ١٢'١٣
    53 فتاویٰ رضویہ جلد ٦ ص ١٨٧
    54 خالص الاعتقاد از احمد رضا ص ٤٨
    55 ایضاً ص ٤٨
    56 حیاۃ الموات درج شدہ فتاویٰ رضویہ از احمد رضا بریلوی جلد ٤ ص ٢٤٩
    57 رسالہ بدرالانوار ص ٥٧
    58 انوار رضا ص ٢٧
    59 ملاحظہ ہو یاد اعلیٰ حضرت ص ٢٩
    60 ملاحظہ ہو حدائق بخشش از احمد رضا مختلف صفحات
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد ---------- باب اول

    ذریعہ معاش

    جناب احمد رضا صاحب کے ذریعہ معاش کے متعلق مختلف روایات آئیں ہیں۔ بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ وہ زمیندار خان سے تعلق رکھتے تھے اور گھر کے اخراجات کے لئے انہیں سالانہ رقم مل جاتی تھی جس سے وہ گزر بسر کرتے۔61
    بعض اوقات سالانہ ملنے والی رقم کافی نہ ہوتی اور وہ دوسروں سے قرض لینے پر مجبور ہوجاتے' کیونکہ ان کے پاس ڈاک کے ٹکٹ خریدنے کے لیے بھی رقم موجود نہ ہوتی۔62
    کبھی کہا جاتا کہ انہیں دست غیب سے بکثرت مال و دولت ملتا تھا۔ ظفرالدین بہاری راوی ہیں کہ جناب بریلوی کے پاس ایک مقفل کنجی صندوقچی تھی' جسے وہ بوقت ضرورت ہی کھولتے تھے۔ اور جب اسے کھولتے تو مکمل طور پر نہیں کھولتے تھے اس میں ہاتھ ڈالتے اور مال' زیور اور کپڑے جو چاہتے نکال لیتے تھے۔63
    جناب بریلوی کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت اپنے احباب اور دوسرے لوگوں میں بکثرت زیورات اور دوسری چیزیں تقسیم کرتے تھے اور یہ سارا کچھ وہ اس چھوٹی سی صندوقچی سے نکالتے۔ ہمیں حیرت ہوتی کہ نامعلوم اتنی اشیاء اس میں کہاں سے آتی ہیں۔ 64
    ان کے مخالفین یہ تہمت لگاتے ہیں کہ "دستِ غیب" کا صندوقچی وغیرہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ انگریزی استعمار کا ہاتھ تھا' جو انہیں اپنے اغراض و مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کے لیے امداد دیتا تھا۔65
    میری رائے یہ ہے کہ ان کی آمدن کا بڑا ذریعہ لوگوں کی طرف سے ملنے والے تحائف اور امامت کی تنخواہ تھی۔ جس طرح ہمارے ہاں عام رواج ہے کہ دیہاتوں میں اپنے علماء کی خدمت صدقات و خیرات سے کی جاتی ہے' اور عموماً یہی ان کا ذریعہ معاش ہوتا ہے۔
    ان کے ایک پیروکار بیان کرتے ہیں کہ :
    "ایک روز ان کے پاس خرچ کے لیے ایک دمڑی نہ تھی۔ آپ ساری رات بے چین رہے۔ صبح ہوئی تو کسی تاجر کا ادھر سے گزر ہوا تو اس نے 51 روپے بطور نذرانہ آپ کی خدمت میں پیش کیے۔67
    ایک مرتبہ ڈاک کا ٹکٹ خریدنے کے لیے ان کے پاس کچھ رقم نہیں تھی تو ایک مرید نے انہیں دو سو روپے کی رقم ارسال کی۔68
    باقی جہاں تک زمینداری اور صندوقچی وغیرہ کا تعلق ہے' تو اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہ کہیں سے ثابت نہیں ہوتا کہ ان کا خاندان زراعت وغیرہ سے متعلق تھا۔ باقی کرامتوں کے نام پہ صندوقچی وغیرہ کے افسانے بھی مریدوں کی نظر میں تقدیس و احترام کا مقام دینے کے لیے وضع کیے گئے ہیں' یہ سب بے سروپا باتیں ہیں۔

    عادات اور طرز گفتگو
    بریلوی اعلیٰ حضرت پان کثرت سے استعمال کرتے تھے' حتٰی کہ رمضان المبارک میں وہ افطار کے بعد صرف پان پر اکتفا کرتے۔69
    اسی طرح حقہ بھی پیتے تھے۔ 70دوسری کھانے پینے کی اشیاء پر حقہ کو ترجیح دیتے۔ ہمارے ہاں دیہاتیوں اور بازاری قسم کے لوگوں کی طرح آنے جانے والے مہمان کی تواضح بھی حقے سے کرتے۔71
    مزے کی بات ہے کہ بریلوی اعلیٰ حضرت سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:
    "میں حقہ پیتے وقت بسم اللہ نہیں پڑھتا' تاکہ شیطان بھی میرے ساتھ شریک ہوجائے۔72
    لوگوں کے پاؤں چومنے کی عادت بھی تھی۔ ان کے ایک معتقد راوی ہیں کہ :
    "آپ حضرت اشرفی میاں کے پاؤں کو بوسہ دیا کرتے تھے۔73
    جب کوئی صاحب حج کرکے واپس آجاتے تو ایک روایت کے مطابق فوراً اس کے پاؤں چوم لیتے!74

    اسلوب بیان
    اپنے سے معمولی سا اختلاف رکھنے والوں کے خلاف سخت زبان استعمال کیا کرتے۔ اس سلسلے میں کسی قسم کی رو رعایت کے قائل نہ تھے۔ بڑے فحش اور غلیظ لفظ بولتے۔ مخالف کو کتا'خنزیر'کافر'سرکش'فاجر'مرتد اور اس طرح کے دوسرے سخت اور غلیظ کلمات کی بریلوی حضرات کے اعلیٰ حضرت کے نزدیک کوئی قدروقیمت نہ تھی۔ وہ بے مہا و بے دریغ یہ کلمات ادا کرجاتے۔ ان کی کوئی کتاب اس انداز گفتگو اور "اخلاقیات" سے بھری ہوئی طرز تحریر سے خالی نہیں ہے۔
    ان کی "شیرینیء لب" کا ذکر گزشتہ صفحات میں حاشیہ کے اندر گزرچکا ہے۔ یہاں ہم نمونے کے طور پر ان کی مختلف عبارتوں میں سے ایک قطعہ نقل کرتے ہیں' جس سے ان کے اسلوب بیان کی تصویر قارئین کے سامنے آجائے گی۔
    وہ دیوبندیوں کے خدا کی تصویر کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں:
    "تمہارا خدا رنڈیوں کی طرح زنا بھی کرائے' ورنہ دیوبند کی چکلے والیاں اس پر ہنسیں گی کہ نکھٹو تو ہمارے برابر بھی نہ ہوسکا!75
    "پھر ضروری ہے کہ تمہارے خدا کی زن بھی ہو۔ اور ضروری ہے کہ خدا کا آلہ تناسل بھی ہو۔ یوں خدا کے مقابلے میں ایک خدائن بھی ماننی پڑے گی۔ 76 نستغفراللہ!
    اندازہ لگائیں' اس طرح کا انداز تحریر کسی عالم دین کو زیب دیتا ہے؟ اور اس پر طرہ یہ کہ تجدید دین کا دعویٰ !
    مجدد دین کے لیے اس قسم کی گفتگو کا اختیار کرنا کس حدیث سے ثابت ہے؟
    انہیں عالم دین کہنے پر اصرار ہو تو ضرور کہئے' مگر مجدد کہتے ہوئے تھوڑی سی جھجک ضرور محسوس کرلیا کریں۔
    اس ضمن میں ایک واقعہ ہے کہ یہ بریلوی صاحب ایک مرتبہ کسی کے ہاں تعلیم کی غرض سے گئے۔ مدرس نے پوچھا کہ آپ کا شغل کیا ہے ؟
    کہنے لگے "وہابیوں کی گمراہی اور ان کے کفر کا پول کھولتا ہوں"۔ مدرس کہنے لگے "یہ انداز درست نہیں۔" تو جناب بریلوی صاحب وہاں سے واپس لوٹ آئے77 اور ان سے پڑھنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ انہوں نے احمد رضا صاحب کو موحدین کی تکفیر و تفسیق سے روکا تھا۔
    جہاں تک ان کی لغت کا تعلق ہے' تو وہ نہایت پیچیدہ قسم کی عبارتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ بے معنی الفاظ و تراکیب استعمال کرکے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ انہیں علوم و معارف میں بہت گہری دسترس حاصل ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں اس عالم دین کو' جو اپنا مافی الضمیرکھول کر بیان نہ کرسکے اور جس کی بات سمجھ میں نہ آئے' اسے بڑے پائے کا عالم دین تصور کیا جاتا ہے۔
    ان کے ایک معتقد لکھتے ہیں کہ :
    "اعلیٰ حضرت کی بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان علم کا سمندر ہو!78
    ان کی زبان میں فصاحت وروانی نہیں تھی۔ اس بنا پر تقریر سے گریز کرتے تھے' صرف خود ساختہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم یا اپنے پیر آل رسول شاہ کے عرس کے موقعہ پر چند کلمات کہہ دیتے!79


    حوالہ جات
    61 انوار رضا ص ٣٦٠
    62 حیات اعلیٰ حضرت ص ٥٨
    63 اعلیٰ حضرت بستوی ص ٧٥' انوار رضا ص ٥٧
    64 حیات اعلیٰ حضرت ص ٥٧
    65 اس کا تفصیلاً ذکر آگے آرہا ہے۔
    66 حیات اعلیٰ حضرت ص ٥٦
    67 ایضاً ص ٥٦
    68 ایضاً ص ٥٨
    69 انوار رضاص ٢٥٦
    70 کتنی عجیب بات ہے دوسروں کو معمولی باتوں پر کافر قرار دینے والا کود کیسے حقہ نوشی کو جائز سمجھتا ہے اور اس کا مرتکب ہے؟
    71 حیات اعلیٰ حضرت ص ٦٧
    72 ملفوظات
    73 اذکار حبیت رضا طبع مجلس رضا لاہور ص ٢٤
    74 انوار رضا ص ٣٠٦
    75 سبحان السبوح از احمر رضا بریلوی ص ١٤٢
    76 ایضاً
    77 حیات اعلیٰ حضرت از ظفر الدین بہاری
    78 انوار رضا ص ٢٨٦
    79 حیات اعلیٰ حضرت از ظفر الدین بہاری رضوی


    جاری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد ---------- باب اول

    تصنیفات

    ان کی تصنیفات کے بیان سے قبل ہم قارئین کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتے ہیں کہ بریلوی قوم کو مبالغہ آرائی کی بہت زیادہ عادت ہے۔ اور مبالغہ آرائی کرتے وقت غلط بیانی سے کام لینا ان کی سرشت میں داخل ہے۔ تصنیفات کے سلسلہ میں بھی انہوں نے بے جا غلو سے کام لیا ہے اور حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے ان کی سینکڑوں تصنیفات گنوادی ہیں' حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ان کے متضاد اقوال کا نمونہ درج ذیل ہے:
    ان کے ایک راوی کہتے ہیں :
    "اعلیٰ حضرت کی تصنیفات 200 کے قریب تھیں۔80
    ایک روایت ہے کہ 250 کے قریب تھیں۔81
    ایک روایت ہے' 350 کے قریب تھیں۔82
    ایک روایت ہے' 450 کے لگ بھگ تھیں۔83
    ایک اور صاحب کہتے ہیں' 500 سے بھی متجاوز تھیں۔84
    بعض کا کہنا ہے' 600 سے بھی زائد تھیں۔
    ایک اور صاحب ان تمام سے آگے بڑھ گئے اورکہا کہ ایک ہزار سے بھی تجاوز کرگئی تھیں۔85
    حالانکہ صورت حال یہ ہے کہ ان کی کتب کی تعداد' جن پر کتاب کا اطلاق ہوتا ہے' دس سے زیادہ نہیں ہے۔ شاید اس میں بھی مبالغہ ہو۔۔۔۔۔تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
    جناب بریلوی صاحب نے مستقل کوئی کتاب نہیں لکھی۔ وہ فتویٰ نویسی اور عقیدہ توحید کے حاملین کے خلاف تکفیر و تفسیق میں مشغول رہے۔ لوگ ان سے سوالات کرتے او ر وہ اپنے متعدد معاونین کی مدد سے جوابات تیار کرتے اور انہیں کتب و رسائل کی شکل دے کر شائع کروادیا جاتا۔ بسا اوقات بعض کتب دستیاب نہ ہونے کے باعث سوالات کو دوسرے شہروں میں بھیج دیا جاتا' تاکہ وہاں موجود کتابوں سے ان کے جوابات کو مرتب کیا جاسکے۔ جناب بریلوی ان فتاویٰ کو بغیر تنقیح کے شائع کرواتے۔ اسی وجہ سے ان کے اندر ابہام اور پیچیدگی رہ جاتی اور قارئین کی سمجھ میں نہ آتے۔ جناب بریلوی مختلف اصحاب کے تحریر کردہ فتاویٰ کا کوئی تاریخی نام رکھتے' چنانچہ اسے ان کی طرف منسوب کردیا جاتا۔
    جناب بریلوی کا قلم سوالات کے ان جوابات میں خوب روانی سے چلتا' جن میں توحید وسنت کی مخالفت اور باطل نظریات و عقائد کی نشر واشاعت ہوتی۔ چند مخصوص مسائل مثلاً علم غیب'حاضروناظر'نور وبشر'تصرفات وکرامات اور اس قسم کے دوسرے خرافی امور کے علاوہ باقی مسائل میں جناب بریلوی کا قلم سلاست و روانی سے محروم نظر آتاہے۔ یہ کہنا کہ ان کی کتب ایک ہزار سے بھی زائد ہیں' انتہائی مضحکہ خیز قول ہے۔
    ان کی مشہور تصنیف جسے کتاب کہا جاسکتا ہے' فتاویٰ رضویہ ہے۔ باقی چھوٹے چھوٹے رسالے ہیں۔ فتاویٰ رضویہ کی آٹھ جلدیں ہیں' ہر ایک جلد مختلف فتاویٰ پر مبنی چھوٹے چھوٹے رسائل پر مشتمل ہے۔
    بریلوی حضرات نے اپنے قائد و مؤسس کی تصانیف کی تعداد بڑھانے کے لیے اس میں مندرج رسائل کو مستقل تصانیف ظاہر کیا ہے۔ نمونے کے طور پر ہم فتاویٰ رضویہ کی پہلی جلد میں مندرج رسائل کو شمار کرتے ہیں۔ اس میں 31 رسائل موجود ہیں' جنہیں کتب ظاہر کیا گیا ہے۔۔۔۔ ان کے ا سماء درج ذیل ہیں:
    حسن النعم ۔
    باب العقائد۔
    قوانین العلمائ
    الجدالسعید
    مجلی الشمعۃ
    تبیان الوضوء
    الدقنہ والتبیان
    النہی النمیر
    الظفرلقول زفر
    المطرالسعید
    لمع الاحکام
    المعلم الطراز
    نبہ القوم
    اجلی الاعلام
    الاحکام والعلل
    الجود الحلود
    تنویر القندیل
    آخر مسائل
    النمیقۃ الانقی
    رجب الساعۃ
    ہبۃ الحمیر
    مسائل اخر
    افضل البشر
    بارق النور
    ارتفاع الحجب
    الطررس المعدل
    الطلبۃ البدیعۃ
    برکات الاسمائ
    عطاء النبی
    النوروالنورق
    سمع النذر
    چند سو صفحات پر مشتمل ایک جلد میں موجود 31 رسائل کو بریلوی حضرات نے اپنے اعلیٰ حضرت کی31 تصنیفات ظاہر کیا ہے۔86
    یہ کہہ دینا کہ فلاں شخص نے ایک ہزار ' دوہزار یا اس سے بھی زیادہ کتابیں تصنیف کی ہیں ' سہل ہے۔۔۔مگر اسے ثابت کرنا آسان نہیں۔ بریلوی حضرات بھی اسی مخمصے کا شکار نظر آتے ہیں۔
    خود اعلیٰ حضرت فرمارہے ہیں کہ ان کی کتابوں کی تعداد 200 کے قریب ہے۔87
    ان کے ایک صاحبزادے کہہ رہے ہیں کہ 400 88کے لگ بھگ ہیں۔89
    ان کے ایک خلیفہ ظفر الدین بہاری رضوی جب ان تصنیفات کو شمار کرنے بیٹھے' تو350 رسالوں سے زیادہ نہ گنواسکے۔90
    ایک اور صاحب نے 548 تک تصنیفات شمار کیں۔91
    اب ذرا یہ لطیفہ بھی سن لیجئے کہ انہوں نے کس طرح یہ تعداد پوری کی ہے۔ انوار رضا میں ان کی جو تصانیف شمار کی ہیں۔ ان میں سے چند ایک یہاں ذکر کی جاتی ہیں' تاکہ قارئین پر کثرت تصانیف کے دعوے کا سربستہ راز منکشف ہوسکے۔
    حاشیہ صحیح بخاری۔ حاشیہ صحیح مسلم۔ حاشیہ النسائی۔ حاشیہ ابن ماجہ۔ حاشیہ التقریب۔ حاشیہ مسند امام اعظم۔ حاشیہ مسند احمد۔ حاشیہ الطحاوی۔ حاشیہ خصائص کبری۔ حاشیہ کنز العمال۔ حاشیہ کتاب الاسماء والصفات۔ حاشیہ الاصابہ۔ حاشیہ موضوعات کبیر۔ حاشیہ شمس بازعہ۔ حاشیہ عمدۃ القاری۔ حاشیہ فتح الباری۔ حاشیہ نصب الرایہ۔ حاشیہ فیض القدیر۔ حاشیہ اشعۃ اللمعات۔ حاشیہ مجمع بحار الانوار۔ حاشیہ تہذیب التہذیب۔ حاشیہ مسامرہ ومسابرہ۔ حاشیہ تحفۃ الاخوان۔ حاشیہ مفتاح السعادۃ۔ حاشیہ کشف الغمہ۔ حاشیہ میزان الشریعۃ۔ حاشیہ الہدایہ۔ حاشیہ بحرالرائق۔ حاشیہ منیۃ المصلی۔ حاشیہ رسائل شامی۔ حاشیہ الطحطاوی۔ حاشیہ فتاوی خانیہ۔ حاشیہ فتاوی خیراتیہ۔ حاشیہ فتاوی عزیزیہ۔ حاشیہ شرح شفا۔ حاشیہ کشف الظنون۔ حاشیہ تاج العروس۔ حاشیہ الدر المکنون۔ حاشیہ اصول الہندسہ۔ حاشیہ سنن الترمذی۔ حاشیہ تیسیر شرح جامع الصغیر۔ حاشیہ کتاب الاثار۔ حاشیہ سنن دارمی۔ حاشیہ ترغیب والترہیب۔ حاشیہ نیل الاوطار۔ حاشیہ تذکرۃ الحفاظ۔ حاشیہ ارشاد الساری۔ حاشیہ مرعاۃ المفاتیح۔ حاشیہ میزان الاعتدال۔ حاشیہ العلل المتناہیہ۔ حاشیہ فقہ اکبر۔ حاشیہ کتاب الخراج۔ حاشیہ بدائع الصنائع۔ حاشیہ کتاب الانوار۔ حاشیہ فتاوی عالمگیری۔ حاشیہ فتاوی بزازیہ۔ حاشیہ شرح زرقانی۔ حاشیہ میزان الافکار۔ حاشیہ شرح چغمینی۔
    یعنی وہ تمام کتب جو احمد رضا صاحب کے پاس تھیں اور ان کے زیر مطالعہ رہتیں' اور انہوں نے ان کتب کے چند صفحات پر تعلیقاً کچھ تحریر کیا' ان کتابوں کو بھی اعلیٰ حضرت صاحب کی تصنیفات شمار کیا گیا ہے۔
    اس طرح تو کسی شخص کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس کی تصنیفات ہزاروں ہیں۔
    میری لائبریری میں پندرہ ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔ فرق سے متعلقہ ہزاروں کتب میرے زیر مطالعہ رہ چکی ہیں۔ خود البریلویہ کی تصنیف کے لیے میں نے 300 سے زائد کتب و رسائل کا مطالعہ کیا ہے۔
    اور تقریباً ہر کتاب کے حاشیہ پر تعلیقات بھی لکھی ہیں۔ اس حساب سے میری تصنیفات ہزاروں سے متجاوز ہوجاتی ہیں۔
    اگر معاملہ یہی ہو تو اس میں فخر کی بات کون سی ہے؟ آخر میں پھر ہم اس سلسلے میں بریلوی حضرات کے متضاد اقوال کو دہراتے ہیں۔ خود احمد رضا صاحب فرماتے ہیں کہ ان کی کتب کی تعداد 200 ہے .92
    ان کے ایک خلیفہ کا ارشاد ہے 350 ہے۔93
    بیٹے کا قول 400 ہے۔94
    انوار رضا کے مصنف کہتے ہیں 548 ہے .95
    بہاری صاحب کا کہنا ہے 600 ہے.96
    ایک صاحب کا فرمان ہے کہ ایک ہزار ہے۔97
    اعلیٰ حضرت کی تمام وہ کتب و رسائل جو آج تک چھپی ہیں' ان کی تعداد 125 سے زائد نہیں۔98
    اور یہ وہی ہیں جن کے مجموعے کا نام فتاویٰ رضویہ ہے۔ یہاں ہم بریلوی حضرات کی ایک اور کذب بیانی نقل کرتے ہیں۔ مفتی برہان الحق قادری کہتے ہیں :
    "اعلیٰ حضرت کے مجدد ہونے کی شہادت آپ کا مجموعہ فتاوی ہے' جو بڑی تقطیع کی بارہ جلدوں میں ہے اور ہر جلد میں ایک ہزار صفحات سے زائد ہیں۔99
    اس بات سے قطع نظر کہ ان فتاوی کی علمی وقعت کیا ہے' ہم ان کی کذب بیانی کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں۔
    اولاً' یہ کہنا کہ اس کی بارہ جلدیں ہیں' سراسر غلط ہے۔ اس کی صرف آٹھ جلدیں ہیں۔
    ثانیاً' بڑی تقطیع کی صرف ایک جلد ہے۔ تمام جلدوں کے متعلق کہنا کہ وہ بڑی تقطیع کی ہیں' یہ بھی واضح جھوٹ ہے۔
    ثالثاً ' ان میں سے کوئی بھی ایک ہزار صفحات پر مشتمل نہیں ہے۔ بڑی تقطیع والی جلد کے کل صفحات 264 ہیں ' باقی جلدوں کے صفحات پانچ چھ سو صفحات سے زیادہ نہیں۔ بہرحال ایک ہزار صفحات کسی جلد کے بھی نہیں ہیں۔
    ہم نے تصنیفات کے موضوع کو اس قدر تفصیل سے اس لیے ذکر کیا ہے ' تاکہ معلوم ہوسکے کہ بریلوی حضرات جناب احمد رضا خاں صاحب بریلوی کی تعریف و توصیف میں کس قدر مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہیں۔
    یہ بات قابل ذکر ہے کہ فتاویٰ نویسی میں جناب احمد رضا اکیلے نہ تھے' بلکہ ان کے متعدد معاونین بھی تھے۔ ان کے پاس استفتاء کی شکل میں سوال آتے تو وہ ان کا جواب اپنے معاونین کے ذمے لگادیتے۔ جناب بریلوی اپنے معاونین کو دوسرے شہروں میں بھی بھیجتے۔100
    ظفر الدین بہاری نے اپنے اعلیٰ حضرت کا ایک خط بھی اپنی کتاب میں نقل کیا ہے' جو اس موضوع کو سمجھنے میں کافی ممد ومعاون ثابت ہوسکتا ہے۔ جناب احمد رضا صاحب اپنے کسی ایک معاصر کو مخاطب کرکے لکھتے ہیں:
    "تفسیر روح المعانی کون سی کتاب ہے' اور یہ آلوسی بغدادی کون ہیں؟ اگر ان کے حالات زندگی آپ کے پاس ہوں تو مجھے ارسال کریں۔ نیز مجھے "المدارک" کی بعض عبارتیں بھی درکار ہیں!101
    کسی اور مسئلے کا ذکر کر کے ایک اور خط میں لکھتے ہیں:
    "مجھے درج ذیل کتب کی فلاں مسئلے کے متعلق پوری عبارتیں درکار ہیں۔ اگر آپ کے پاس ہوں تو بہت بہتر' ورنہ پٹنہ جاکر ان کتابوں سے عبارتیں نقل کرکے ارسال کردیں۔ کتب درج ذیل ہیں:
    فتاوی تاتار خانیہ۔ زاد المعاد۔ عقد الفرید۔ نزہۃ المجالس۔ تاج العروس۔ قاموس۔ خالق زمخشری۔ مغرب مطرزی۔ نہایہ ابن الاثیر۔ مجمع البحار۔ فتح الباری۔ عمدۃ القاری۔ ارشاد الساری۔ شرح مسلم نووی۔ شرح شمائل ترمذی۔ السراج المنیر۔ شرح جامع الصغیر۔102
    بہرحال گزشتہ تمام نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ جناب احمد رضا تنہا فتوی نویسی نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ان کے بہت سے معاونین بھی تھے' جو مختلف سوالات کا جواب دیتے۔ اور ان کے اعلیٰ حضرت انہیں پنی طرف منسوب کرلیتے۔




    حوالہ جات
    80 مقدمہ الدولۃ المکیہ مصنفہ احمد رضا بریلوی مطبوعہ لاہور
    81 ایضاً
    82 المجل المعدد لتالیفات المجدد از ظفرالدین بہاری
    83 ایضاً
    84 حیات البریلوی ص ١٣
    85 من ھو احمد رضا ص ٢٥
    86 ملاحظہ ہو المجمل المعدد لتالیفار المجدد
    87 الدولۃ المکیہ ص ١٠
    88 یعنی چند صفحات پر مشتمل چھوٹے رسالے
    89 الدولۃ المکیہ ص ١١
    90 ملاحظہ ہو المجمل المعدد
    91 انوار رضا ص ٣٢٥
    92 الدولۃ المکیہ ص١
    93 المجمل المعدد
    94 الدولۃ المکیہ ٣٢٣
    95 الدولۃ المکیہ ٣٢٣
    96 حیات اعلیٰ حضرت ص ١٣
    97 ضمیمہ المعتقد المتقلد ایضاً من ہو احمد رضا ص ٢٥
    98 انوار رضا ص ٣٢٥
    99 اعلیٰ حضرت بریلوی از بستوی ص ١٨٠
    100 ملاحظہ ہو حیات اعلیٰ حضرت ص ٢٤٤
    101 حیات اعلیٰ حضرت ص ٢٦٦
    102 ایضاً ص ٢٨١



    جاری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد ---------- باب اول

    جہاد کی مخالفت اور استعمار کی حمایت

    جناب بریلوی کا دور استعمار کا دور تھا۔ مسلمان آزمائش میں مبتلا تھے' ان کا عہد اقتدار ختم ہوچکا تھا۔ انگریز مسلمانوں کو ختم کردینا چاہتے تھے علماء کو تختہ دار پر لٹکایا جارہا تھا' مسلمان عوام ظلم و تشدد کا نشانہ بن رہے تھے اور ان کی جائیدادیں ضبط کی جارہی تھیں' انہیں کالا پانی اور دوسرے عقوبت خانوں میں مختلف سزائیں دی جارہی تھیں۔، ان کی شان و شوکت اور رعب ودبدبہ ختم ہوچکا تھا۔ انگریز مسلمان امت کے وجود کو بر صغیر کی سر زمین سے مٹا دینا چاہتے تھے،۔ اس دور میں اگر کوئی گروہ ان کے خلاف صدا بلند کررہا تھا اور پوری ہمت و شجاعت کے ساتھ جذبہ جہاد سے سرشار ان کا مقابلہ کررہا تھا' تو وہ وہابیوں کا گروہ تھا۔103
    (وہابی کا لفظ سب سے پہلے اہل حدیث حضرات کے لئے انگریز نے استعمال کیا' تاکہ وہ انہیں بدنام کرسکیں۔ وہابی کا لفظ باغی کے معنوں میں ہوتا تھا۔ بلاشبہ وہابی انگریز کے باغی تھے)
    انہوں نے علم جہاد بلند کیا' اپنی جائیدادیں ضبط کروائیں' کالا پانی کی سزائیں برداشت کیں' دارورسن کی عقوبتوں سے دوچار ہوئے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا' مگر انگریزی استعمار کو تسلیم کرنے پر راضی نہ ہوئے۔ اس دور کے وہابی چاہتے تھے کہ برصغیر میں مسلمان سیاسی و اقتصادی طور پر مضبوط ہوجائیں۔
    اس وقت ضرورت تھی اتفاق و اتحاد کی' مل جل کر جدوجہد کرنے کی' ایک پرچم تلے متحد ہوکر انگریزی استعمار کو ختم کرنے کی۔ مگر استعمار یہ نہ چاہتا تھا۔ وہ انہیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا کرنا چاہتا تھا۔ وہ مسلمانوں کو باہم دست و گریبان دیکھنا چاہتا تھا۔ اس کے لیے اسے چند افراد درکار تھے' جو اس کے ایجنٹ بن کر مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالیں' انہیں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کردیں اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرکے ان کی قوت و شوکت کو کمزور کردیں۔ اس مقصد کے لئے انگریز نے مختلف اشخاص کو منتخب کیا' جن میں مرزا غلام احمد قادیانی104 اور جناب بریلوی کے مخالفین کے مطابق احمد رضا خان بریلوی صاحب سر فہرست تھے۔105
    مرزا غلام احمد قادیانی کی سرگرمیاں تو کسی سے مخفی نہیں' مگر جہاں تک احمد رضا صاحب کا تعلق ہے' ان کا معاملہ ذرا محتاج وضاحت ہے۔ جناب احمد رضا بریلوی صاحب نے استعمار کے مخالفین وہابی حضرات کو سب و شتم اور طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا۔ ان وہابیوں کو ' جو انگریز کے خلاف محاذ آراء تھے اور ان کے خلاف جہاد میں مصروف تھے' انگریز کی طرف سے ان کی بستیوں پر بلڈوزر چلائے گئے۔ 106صرف بنگال میں ایک لاکھ وہابی علماء کو پھانسی کی سزا دی گئی۔107
    انگریز مصنف ہنٹر نے اعتراف حقیقت کرتے ہوئے اپنی کتاب Indian Muslims میں کہا ہے:
    "ہمیں اپنے اقتدار کے سلسلے میں مسلمان قوم کے کسی گروہ سے خطرہ نہیں۔ اگر خطرہ ہے تو صرف مسلمانوں کے ایک اقلیتی گروہ وہابیوں سے ہے۔ کیونکہ صرف وہی ہمارے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں!108
    جنگ آزادی 1857ء کے بعد وہابیوں کے تمام اکابرین کو پھانسی کی سزا دی گئی۔109
    1863ء کا عرصہ ان کے لیے نہایت دشوار تھا۔ اس عرصے میں انگریز کی طرف سے ان پر جو مظالم ڈھائے گئے' ہندوستان کی تاریخ اس کی گواہ ہے۔
    وہابی علماء میں سے جن کو قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار ہونا پڑا' ان میں مولانا جعفر تھانیسری' مولانا عبدالرحیم' مولانا عبد الغفار' مولانا یحیی علی صادق پوری' مولانا احمد اللہ اور شیخ الکل مولانا نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ علیہم سر فہرست ہیں۔
    وہابی مجاہدین کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا گیا۔110
    وہابیوں کے مکانوں کو مسمار کردیا گیا اور ان کے خاندانوں کی قبروں تک کو اکھیڑ دیا گیا۔111 ان کی بلڈنگوں پر بلڈوزر چلادیے گئے۔112 وہابی علماء کو گرفتار کرکے انہیں مختلف سزائیں دی گئیں۔ اس ضمن میں شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ علیہ کی گرفتاری کا واقعہ بہت مشہور ہے۔113
    ان وہابیوں کے خلاف زبان استعمال کرنے کے لیے اور "فرق تسد" یعنی "لڑاؤ اور حکومت کرو" کی مشہور انگریزی پالیسی کو کامیاب کرنے کے لیے استعمار نے جناب احمد رضا صاحب کو استعمال کیا' تاکہ وہ مسلمانوں میں افتراق وانتشار کا بیج بو کر ان کے اتحاد کو ہمیشہ کے لیے پارہ پارہ کردیں۔
    اور عین اس وقت جب کہ انگریز کے مخالفین ان کی حکومت سے نبرد آزما تھے اور جہاد میں مصروف تھے' جناب احمد رضا نے ان جملہ مسلم راہنمایان کا نام لے کر ان کی تکفیر کی' جنہوں نے آزادی کی تحریک کے کسی شعبے میں بھی حصہ لیا۔114
    وہ جماعتیں جنہوں نے تحریک آزادی ہند میں حصہ لیا' ان میں وہابی تحریک کے علاوہ جمیعت علمائے ہند' مجلس احرار' تحریک خلافت' مسلم لیگ' نیلی پوش مسلمانوں میں سے اور آزاد ہند فوج خاص ہندوؤں میں سے اور گاندھی کی کانگرس قابل ذکر ہیں۔
    جناب بریلوی آزادی ہند کی ان تمام تحریکوں سے نہ صرف لاتعلق رہے' بلکہ ان تمام جماعتوں اور ان کے اکابرین کی تکفیر و تفسیق کی۔ ان کے خلاف سب وشتم میں مصروف رہے اور ان میں شمولیت کو حرام قرار دیا۔
    جناب احمد رضا تحریک خلافت کے دوران ہی وفات پاگئے' ان کے بعد ان کے جانشیوں نے ان کے مشن کو جاری رکھا اور وہابیوں کے علاوہ مسلم لیگ کی شدید مخالفت کی اور لیگی زعماء کے کافر و مرتد ہونے کے فتوی جاری کیے اور اس طرح انہوں نے بالواسطہ طور پرانگریزی استعمار کے ہاتھ مضبوط کیے۔ جناب احمد رضا کی سرپرستی میں بریلوی زعماء نے مسلمانوں کو ان تحریکوں سے دور رہنے کی تلقین کی اور جہاد کی سخت مخالفت کی۔ چونکہ شرعاً جہاد آزادی کا دارومدار ہندوستان کے دارالحرب ہونے پر تھا اور اکابرین ملت اسلامیہ ہندوستان کو دارالحرب قرار دے چکے تھے' احمد رضا خاں صاحب نے اس بنا پر جہاد کو منہدم کرنے کے لیے یہ فتوی دیا کہ ہندوستان دارالاسلام ہے۔ اور اس کے لیے بیس صفحات پر مشتمل ایک رسالہ ]اعلام بان ھندوستان دارالاسلام[ یعنی"اکابرین کو ہندوستان کے دارالاسلام ہونے سے آگاہ کرنا" تحریر کیا۔
    جناب احمد رضا خاں صاحب نے اس رسالے کے شروع میں جس چیز پر زور دیا' وہ یہ تھا کہ وہابی کافر مرتد ہیں۔ انہیں جزیہ لے کر بھی معاف کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح نہ انہیں پناہ دینا جائز' نہ ان سے نکاح کرنا' نہ ان کا ذبیحہ جائز' نہ ان کی نماز جنازہ جائز' نہ ان سے میل جول رکھنا جائز' نہ ان سے لین دین جائز' بلکہ ان کی عورتوں کو غلام بنایا جائے اور ان کے خلاف سوشل بائیکاٹ کیا جائے۔اور آخر میں لکھتے ہیں:
    ( قاتلھم اللہ انّی یوفکون ) یعنی "خدا انہیں غارت کرے وہ کہاں بھٹکے پھرتے ہیں۔115
    یہ رسالہ جناب احمد رضا کی اصلیت کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس سے ان کے مکروہ عزائم کھل کر سامنے آجاتے ہیں کہ وہ کس طرح مجاہدین کی مخالفت کرکے انگریز استعمار کی حمایت و تائید کررہے تھے۔ اور مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر دشمنان دین و ملت کا دست بازو بن چکے تھے۔
    جس وقت دنیا بھر کے مسلمان ترکی سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر انگریزوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کررہے تھے اور مولانا محمد علی جو ہر رحمہ اللہ اور دوسرے اکابرین کی زیر قیادت خلافت اسلامیہ کے تحفظ و بقاء کے لیے انگریزوں سے جنگ لڑرہے تھے' عین اس وقت جناب احمد رضا انگریزوں کے مفاد میں جانے والی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔
    بلاشبہ تحریک خلافت' انگریزوں کو ان کی بدعہدی پر سزا دینے کے لیے نہایت موثر ثابت ہورہی تھی۔ تمام مسلمان ایک پرچم تلے جمع ہوچکے تھے۔ علماء و عوام اس تحریک کی حمایت کررہے تھے۔ خود ایک بریلوی مصنف اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتا ہے:
    "1918ء میں جنگ عظیم ختم ہوئی' جرمنی اور اس کے ساتھیوں ترکی آسٹریا وغیرہ کو شکست ہوئی' ترکوں سے آزادی ہند کے متعلق ایک معاہدہ طے پایا۔ لیکن انگریزوں نے بدعہدی اور وعدہ خلافی کی' جس سے مسلمانوں کو سخت دھچکا لگا۔ چنانچہ وہ بپھر گئے اور ان کے خلاف ہوگئے۔ اہل سیاست اس فکر میں تھے کہ کسی ترکیب سے انگریزوں کو وعدہ خلافی کی سزا دی جائے۔ چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کو یہ باور کرایا کہ خلافت اسلامیہ کا تحفظ فرائض و واجبات میں سے ہے۔ بس پھر کیا تھا ایک طوفان کھڑا ہوگیا۔116
    اور حقیقتاً تحریک خلافت انگریزوں کے خلاف ایک موثر ہتھیار ثابت ہورہی تھی۔ مسلمان انگریزوں کے خلاف متحد ہوچکے تھے۔ قریب تھا کہ یہ تحریک انگریزی سلطنت کے خاتمہ کا باعث بن جاتی۔ اس امر کی وضاحت اہل حدیث جید عالم دین امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ نے بھی فرمائی ہے۔117
    مگر بریلوی مکتب فکر کے امام و مجدد نے انگریزوں کے خلاف چلنے والی اس تحریک کے اثرات و نتائج کو بھانپتے ہوئے انگریزوں سے دوستی کا ثبوت دیا اور تحریک خلافت کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک دوسرا رسالہ "دوام العیش" کے نام سے تالیف کیا' جس میں انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ خلافت شرعیہ کے لیے قریشی ہونا ضروری ہے' اس لیے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ترکوں کی حمایت ضروری نہیں' کیونکہ وہ قریشی نہیں ہیں۔ اس بنا پر انہوں نے انگریزوں کے خلاف چلائی جانے والی اس تحریک کی بھرپور مخالفت کی اور انگریزی استعمار کی مضبوطی کا باعث بنے۔
    احمد رضاخاں صاحب تحریک خلافت کے مسلم زعماء کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے رقمطراز ہیں:
    "ترکوں کی حمایت تو محض دھوکے کی ٹٹی ہے۔ اصل مقصود یہ ہے کہ خلافت کا نام لو۔ عوام بپھریں' خوب چندہ ملے اور گنگا و جمنا کی مقدس سر زمینیں آزاد ہوں۔118"
    جناب احمد رضا نے تحریک ترک موالات کی بھی شدید مخالفت کی۔ کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ یہ تحریک انگریز کے زوال کا باعث بن سکتی ہے۔
    تحریک ترک موالات کا مقصود یہ تھا کہ انگریزوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ انہیں ٹیکس وغیرہ کی ادائیگی نہ کی جائے' اس کے تحت چلنے والے سرکاری محکموں میں ملازمت نہ کی جائے، غرضیکہ ان کی حکومت کو یکسر مسترد کردیا جائے' تاکہ وہ مجبور ہوکر ہندوستان کی سرزمین سے نکل جائیں۔ اس مقصد کے لیے تمام مسلمانوں نے 1920ء میں متحد ہوکر جدوجہد شروع کردی۔ جس سے انگریز حکومت کے خلاف ایک فتنہ کھڑا ہوگیا اور وہ متزلزل ہونے لگی۔ اس تحریک کو گاندھی کے علاوہ جناب احمد رضا نے بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ اور ایک رسالہ تحریر کرکے اس کی سختی سے ممانعت کی اور اس تحریک کے سرکردہ راہنماؤں کے خلاف کفر کے فتوے صادر کیے۔
    چنانچہ وہ اس مقصد کے لیے تحریر کئے گئے رسالے (والمحجتہ الموتمنہ فی آیۃ الممتحنۃ) میں اعتراف کرتے ہیں۔
    "اس تحریک کا ہدف انگریز سے آزادی کا حصول ہے"۔119
    نیز اس رسالے میں جہاد کی مخالفت کرتے ہوئے ارشاد کرتے ہیں :
    "ہم مسلمانان ہند پر جہاد فرض نہیں ہے۔ 120اور جو اس کی فرضیت کا قائل ہے' وہ مسلمانوں کا مخالف ہے اور انہیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔121
    نیز لکھتے ہیں:
    حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے جہاد سے استدلال کرنا جائز نہیں' کیونکہ ان پر جنگ مسلط کی گئی تھی۔ اور حاکم وقت پر اس وقت تک جہاد فرض نہیں' جب تک اس میں کفار کے مقابلے کی طاقت نہ ہو۔ چنانچہ ہم پرجہاد کیسے فرض ہوسکتا ہے' کیونکہ ہم انگریز کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔122"
    مسلمانوں کو جہاد و قتال' نیز انگریز سے محاذ آرائی سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    " یا ایھا الذین اٰمنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا ھتدیتم "
    یعنی"اے ایماندارو' تم اپنے آپ کے ذمہ دار ہو۔ کسی دوسرے شخص کا گمراہ ہونا تمہارے لیے نقصان دہ نہیں ہوسکتا' بشرطیکہ تم خود ہدایت پر گامزن ہو۔123
    یعنی ہر مسلمان انفرادی طور پر اپنی اصلاح کرے' اجتماعی جدوجہد کی کوئی ضرورت نہیں!
    اور اپنے رسالہ کے آخر میں ان تمام راہنماؤں پر کفر کا فتوی لگایا ہے ' جو انگریزی استعمار کے مخالف اور تحریک ترک موالات کے حامی تھے۔124
    جناب احمد رضا نے جہاد کے منہدم کرنے کا فتوی اپنے رسالے "دوام العیش" میں بھی دیا ہے۔ لکھتے ہیں:
    "مسلمانان ہند پر حکم جہاد و قتال نہیں!125
    بہرحال احمد رضا صاحب کے متعلق مشہور ہوگیا تھا کہ وہ استعمار کے ایجنٹ ہیں۔ اور ہر اس تحریک کے مخالف ہیں' جو انگریزوں کے خلاف چلائی جاتی ہے۔
    بریلوی اعلٰی حضرت کے ایک پیروکار لکھتے ہیں:
    "مسلمان احمد رضا سے بد ظن ہوگئے تھے۔126"
    ایک اور مصنف لکھتا ہیں:
    "مسئلہ خلافت سے ان کو اختلاف تھا۔ انتقال کے قریب ان کے خلاف مسلمانوں میں بہت چرچا ہوگیا تھا اور ان کے مرید اور معتقد اختلاف خلافت کے سبب ان سے برگشتہ ہوگئے تھے۔127
    بہرحال عین اس وقت' جب کہ مسلمانوں کو متحد ہو کر انگریزی استعمار کے خلاف جدوجہد کرنے کی ضرورت تھی' جناب احمد رضا خاں صاحب انگریزوں کے مفاد کے لیے کام کررہے تھے۔
    اگر یہ نہ بھی کہا جائے کہ احمد رضا خاں صاحب انگریز کے ایجنٹ تھے' تب بھی یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ان کی تمام تر سرگرمیاں مسلمانوں کے خلاف اور انگریز کے مفاد میں تھیں۔ کیونکہ انہوں نے مجاہدین کی تو مخالفت کی' مگر انگریز کے حامی و موید رہے۔
    مشترق فرانسس رابنس نے جناب احمد رضا صاحب کے متعلق لکھا ہے:
    احمد رضا بریلوی انگریزی حکومت کے حامی رہے۔انہوں نے پہلی جنگ عظیم میں بھی انگریزی حکومت کی حمایت کی۔ اسی طرح وہ تحریک خلافت میں 1921ء میں وہ انگریز کے حامی تھے۔ نیز انہوں نے بریلی میں ان علماء کی کانفرنس بھی بلائی' جو تحریک ترک موالات کے مخالف تھے۔
    یہ تھے جناب احمد رضا اور ان کی سر گرمیاں!128





    حوالہ جات
    103 وہابی کا لفظ سب سے پہلے اہل حدیث حضرات کے لئے انگریز نے استعمال کیا'تاکہ وہ انہیں بدنام کرسکیں وہابی کا لفظ باغی کے معنوں میں استعمال ہوتا تھا ۔ بلاشبہ وہابی انگریز کے باغی تھے
    104 اس ثبوت کے لئے ہماری کتاب القادیانیہ ملاحظہ کیجئے!
    105 اس کے لیے ملاحظہ ہو کتب' بریلوی فتوے'تکفیری افسانے'آئینہ صداقت' مقدمہ الشہاب الثاقب'مقدمہ رسائل چاند پوری ''فاضل بریلوی '' وغیرہ
    106 تذکرہ صادق از عبدالرحیم
    107 ملاحظہ ہو کتاب (Wahabi Trils)
    108 انڈین مسلم ص ٣٢
    109 تاریخ اہلحدیث کے متعلق ہم ایک مستقل رسالہ تصنیف کریں گے.یہ علامہ مرحوم کے مستقبل کے عزائم میں شامل تھا'لیکن بہت سے دوسرے منصوبوں کی طرح ی بھی نامکمل رہ گیا۔ ان اللہ فعال لما یرید
    110 وہابی تحریک ص ٢٩٢
    111 تذکرہ صادقہ۔
    112 ایضاً
    113 وہابی تحریک ٣١٥۔
    114 تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو اس کتاب کا باب ''بریلویت اور تکفیری افسانے علاوہ ازیں ان کتابوں کی طرف رجوع کیجئے: آئینہ صداقت' مقدمہ شہاب ثاقب' مقدمہ رسائل چاند پوری'فاضل بریلوی از مسعود احمد بریلوی۔
    115 ملاحظہ ہو اعلام بان ہندوستان دارالاسلام ص ١٩'٢٠۔
    116 مقدمہ دوام العیش از مسعود احمد ص ١٥۔
    117 ایضاً ص ١٧۔
    118 دوام العیش ص ٦٣ مطبوعہ بریلی و ص ٩٥ مطبوعہ لاہور۔
    119 المحبتہ الموتمنتہ از احمد رضا ص ١٥٥۔
    120 مرزا غلام احمد قادیانی کا بھی یہی فتویٰ تھا۔
    121 المحبتہ الموتمنتہ ص ٢١٠۔
    122 المحبتہ الموتمنتہ ص ٢٠٦
    123 ملاحظہ ہو خاتمۃ الکتاب ص ٢١١۔
    124 دوام العیش ص ٤٦۔
    125 مقدمہ دوام العیش ص ١٨۔
    126مقدمہ دوام العیش مقالہ حسن نظامی ص ٢'از مقدمہ
    دوام العیش ص ١٨۔
    127 (Indian Muslims) ص ٤٤٣ مطبوعہ کیمرج یونیورسٹی ١٩٧٤۔
    128 وصایا شریف ص ١٠ ترتیب حسنین رضا مطبوعہ ہند۔
    139 اعلیٰ حضرت بریلوی از بستوی ص ١٠٥۔
    130 بستوی ٩'١٠۔
    131 بستوی ص ١١١


    جاری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد ---------- باب اول

    وفات
    جناب بریلوی کی موت ذات الجنب کے مرض سے واقع ہوئی۔ مرتے وقت انہوں نے چند وصیتیں کیں ' جو "وصایا شریف" کے نام سے ایک رسالے میں شائع ہوئیں۔
    احمد رضا خاں صاحب نے مرتے وقت کہا :
    "میرا دین و مذہب' جو میری کتب سے ظاہر ہے' اس مضبوطی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے۔129
    نیز انہوں نے کہا:
    "پیارے بھائیو! مجھے معلوم نہیں' میں کتنے دن تمہارے اندر ٹھہروں۔ تم مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی بھولی بھالی بھیڑیں ہو۔ بھیڑئیے تمہارے چاروں طرف ہیں' جو تم کو بہکانہ چاہتے ہیں اور فتنے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ ان سے بچو اور دور بھاگو۔ مثلا دیوبندی وغیرہ!130
    اور وصیت کی آخر میں کہا:
    "اگر بطیّب خاطر ممکن ہو تو فاتحہ میں ہفتہ میں دو تین بار ان اشیاء سے بھی کچھ بھیج دیا کریں:
    دودھ کا برف خانہ ساز' اگرچہ بھینس کے دودھ کا ہو۔
    مرغ کی بریانی، مرغ پلاؤ ، خواہ بکری کا شامی کباب، پراٹھے اور بالائی، فیرنی، ارد کی پھریری دال مع ادرک و لوازم، گوشت بھری کچوریاں، سیب کا پانی، انار کا پانی، سوڈے کی بوتل، دودھ کا برف
    اور روزانہ ایک چیز ہوسکے ' یوں کیا کرو ' یا جیسے مناسب جانو۔۔۔۔ پھر حاشیے میں درج ہے:
    "دودھ کا برف دوبارہ پھر بتایا!"
    چھوٹے مولانا نے عرض کیا
    "اسے تو حضور پہلے لکھا چکے ہیں۔"
    فرمایا:
    "پھر لکھو۔ انشاء اللہ مجھے میرا رب صرف برف ہی عطا فرمائے گا۔"
    اور ایسا ہی ہوا کہ ایک صاحب دفن کے وقت بلا اطلاع دودھ کا برف خانہ ساز لے آئے!131
    بریلوی مکتب فکر کے اعلیٰ حضرت کی وفات 25 صفر 1340ھ بمطابق 1921ء 68 برس کی عمر میں ہوئی
    معلوم ہوتا ہے کہ جناب بریلوی کا جنازہ قابل ذکر حاضری سے محروم تھا۔ بہرحال ہم اس سلسلے میں کوئی حتمی بات نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ بغیر دلیل کے کوئی حکم لگانا ہم اپنے اسلوب تحریر کے منافی تصور کرتے ہیں۔ تاہم قرائن و شواہد سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ عوام ان کی تلخ لسانی ' بات بات پر تکفیر کے فتووں اورانگریز کی عدم مخالفت کی وجہ سے ان سے متنفر ہوگئے تھے۔132
    اس بات کا اعتراف ایک بریلوی مصنف نے بھی کیا ہے کہ "مسلمان امام احمد رضا سے متنفر ہوگئے تھے" ۔ نیز:
    "ان کے مرید ومعتقد بھی اختلاف خلافت کے سبب ان سے برگزشتہ ہوگئے تھے۔
    ویسے بھی بریلویت کے پیروکار چونکہ اپنے امام و مجدد کے بارے میں بہت زیادہ غلو و مبالغہ کے عادی ہیں' اگر جنازے کی حاضری کسی عام عالم دین کے جنازے کے برابر بھی ہوتی تو ان کی تصانیف اس سلسلے میں مبالغہ آمیز دعووں سے بھری ہوتیں۔۔۔۔۔جب کہ انہوں نے اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ البتہ بریلوی قوم حاضری کے علاوہ ان کے جنازے کے بارے میں دوسرے چند ایک مبالغوں سے باز نہیں آئی !
    مبالغہ آمیزی
    ایک صاحب لکھتے ہیں:
    "جب جناب احمد رضا صاحب کا جنازہ اٹھایا گیا تو کچھ لوگوں نے دیکھا کہ اسے فرشتوں نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔" 135
    بستوی صاحب فرماتے ہیں کہ امام احمد رضا کی وفات کے بعد ایک عرب بزرگ تشریف لائے' انہوں نے کہا:
    "25 صفر المظفر 1340ء کو میری قسمت بیدار ہوئی!
    خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ افروز ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حاضر دربار ہیں۔ لیکن مجلس پر ایک سکوت طاری ہے۔ قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کا انتظار ہے۔۔ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا (فداک ابی وا می) کس کا انتظار ہے؟
    فرمایا:احمد رضا کا انتظار ہے۔
    میں نے عرض کیا' احمد رضا کون ہیں؟
    فرمایا' " ہندوستان میں بریلی کے باشندے ہیں!" بیداری کے بعد مجھے مولانا کی ملاقات کا شوق ہوا۔ میں ہندوستان آیا اور بریلی پہنچا تو معلوم ہوا کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے' اور وہی 25 صفر ان کی تاریخ وصال تھی!136
    بارگاہ رسالت میں بریلوی حضرات نے اپنے امام کی مقبولیت کو ثابت کرنے کے لیے جن من گھڑت واقعات اور دعووں کا سہارا لیا ہے' ان میں سے ایک "وصایا شریف" میں بھی درج ہے وہ (یعنی احمد رضا) آپ کی خوشبوؤں سے بسے ہوئے سدھارے۔137
    یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احمد رضا کو غسل دینے کے لیے خصوصی طور پر آب زمزم اور عطر کسی حاجی کے ہاتھ ارسال کیا تاکہ احمد رضا صاحب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے وقت مدینہ منورہ کی خوشبو سے معطر ہوں۔ العیاذ باللہ!
    اگر مبالغات کا ذکر شروع ہو ہی گیا ہے' تو مناسب ہے کہ چند مزید مبالغہ آمیز اقوال ذکر کردیئے جائیں۔
    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی شان میں گستاخی پر مبنی کسی بریلوی کا قول ہے:
    "میں نے بعض مشائخ کو کہتے سنا ہے' امام احمد رضا کو دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زیارت کا شوق کم ہوگیا۔138
    گزشتہ دو صدی کے اندر کوئی ایسا جامع عالم نظر نہیں آتا۔139"
    ایک اور بریلوی مصنف ارشاد کرتے ہیں:
    "آپ کی علمی جلالت اور علمی کمال کی کوئی نظیر نہیں۔ امام احمد رضا صاحب اپنے علم اور اصابت رائے میں منفرد تھے۔140"
    اور:
    "امام احمد رضا صاحب نے دین کی تعلیمات کو ازسرنو زندہ کیا۔141"
    "فتاویٰ رضویہ میں ہزارہا مسائل142 ایسے ہیں' جن سے علماء کے کان بھی آشنا نہیں۔143"
    "اگر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ فتاوی رضویہ کو دیکھ لیتے تو اس کے مؤلف کو اپنے جملہ اصحاب میں شامل فرمالیتے۔144"
    ایک دوسرے بریلوی مصنف کا کہنا ہے:
    "امام احمد رضا اپنے دور کے امام ابوحنیفہ تھے۔145"
    ایک اور بریلوی مصنف مبالغہ آراء ہیں:
    امام احمد رضا کے دماغ میں امام ابوحنیفہ کی مجتہدانہ ذہانت ' ابوبکر رازی کی عقل اور قاضی خاں کا حافظہ تھا۔146"
    بریلوی حضرات نے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی توہین کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنے امام و مجدد کو "آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری" کا مصداق ٹھہراتے ہوئے بڑی ڈھٹائی سے لکھا ہے:
    "امام احمد رضا حق میں صدیق اکبر کا پر تو' باطل کو چھاٹنے میں فاروق اعظم کا مظہر' رحم وکرم میں ذوالنورین کی تصویر اور باطل شکنی میں حیدری شمشیر تھے۔" معاذ اللہ!147
    اس پر بھی مستزاد:
    "اعلیٰ حضرت معجزات نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک معجزہ تھے۔148"
    قارئین کو علم ہونا چاہئے کہ معجزہ اس خرق عادت شے کو کہا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نبی علیہ السلام کے ہاتھوں پر صادر ہو۔ اب یہ بریلوی حضرات ہی بتاسکتے ہیں کہ کیا احمد رضا کی ذات کی پیدائش یا ان کی صفات اور خصائل خلاف عادت تھیں؟ اور پھر چودھویں صدی میں ان کا وجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ کیسے ہوسکتا ہے؟
    جناب بریلوی کے اس معتقد نے تو انہیں معجزہ ہی کہا تھا۔ ان کے ایک اور پیروکار نے تو انہیں واجب الاطاعت نبی کے مقام پر فائز قرار دے دیا۔ وہ کہتے ہیں:
    "اعلیٰ حضرت زمین میں اللہ تعالیٰ کی حجت تھے!149
    اب ظاہر ہے' اللہ تعالیٰ کی حجت تو نبی کی ذات ہی ہوتی ہے۔ بریلوی حضرات سمجھنا یہ چاہتے ہیں کہ اگر جناب خاں صاحب کی ذات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا' ان کی بات کو ٹھکرایا گیا اور ان کی اتباع اور اطاعت سے انکار کیا گیا' تو یہ رب کائنات کی طرف سے پیش کی جانے والی دلیل وحجت کو ٹھکرانے کے مترادف ہوگا۔
    ان تمام مبالغہ آ میز دعووں سے ثابت ہوتا ہے کہ خاں صاحب بریلوی کے متبعین ان کی ذات کو مقدس قرار دینے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں ہیں۔ ہم گزشتہ صفحات میں یہ بیان کر آئے ہیں کہ بریلوی حضرات اپنے مجدد اعلیٰ حضرت کو غلطیوں سے مبرا اور معصوم عن الخطا سمجھتے ہیں۔ اور بلاشبہ "عصمت" انبیائے کرام علیہ السلام کی خاصیت ہے اور انبیائے کرام علیہم السلام کے علاوہ کسی امتی کو معصوم سمجھنا ختم نبوت سے انکار کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت کی توفیق عطا فرمائے اور سوء الاعتقادی سے محفوظ رکھے۔ آمین!
    گزشتہ غلو آمیز دعووں کے علاوہ چند اور مبالغات کا ذکر کرکے ہم اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ :
    ساڑھے تین برس کی عمر میں جناب احمد رضا ایک بازار سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے صرف ایک بڑا سا کرتہ زیب تن کیا ہوا تھا سامنے سے طوائفیں آرہی تھیں۔ انہوں نے اپنا کرتہ اٹھایا اور دامن سے آنکھیں چھپالیں۔
    طوائفوں نے کہا"واہ منے میاں! آنکھیں تو چھپالیں مگر ستر ننگا کردیا۔"
    ساڑھے تین برس کی عمر میں بریلویت کے موسس نے جواب دیا: "جب نظر بہکتی ہے تو دل بہکتا ہے' اور جب دل بہکتا ہے تو ستر بہکتا ہے۔150"
    اب ان سے کوئی پوچھے کے ساڑھے تین برس کی عمر میں خاں صاحب کو کیسے علم ہو گیا کہ آنے والی طوائفیں ہیں؟ اور پھر جس بچے نے ابھی ستر ڈھانپنا شروع نہ کیا ہو' اسے نظر اور دل کے بہکنے سے ستر کے بہکنے کا جنسی راز کیسے معلوم ہوگیا؟
    لیکن جھوٹ بولنے کے لیے عقل و خرد کا ہونا تو ضروری نہیں!
    بریلوی حضرات کہتے ہیں :
    "امام احمد رضا کے علمی دبدبے سے یورپ کے سائنسدان اور ایشیا کے فلاسفر لرزتے رہے!151
    نیز:
    "اعلیٰ حضرت کو خداداد قوت حافظہ سے ساری چودہ برس کی کتابیں حفظ تھیں' ان کے بلند مقام کو بیان کرنے کے لیے اہل لغت لفظ پانے سے عاجز رہے ہیں۔152"
    نیز:
    اعلیٰ حضرت جب حج کے لیے تشریف لے گئے' تو انہیں مسجد خیف میں مغفرت کی بشارت دی گئی۔153"
    بریلوی شاعر ایوب علی رضوی اپنے قصیدہ میں کہتا ہے
    اندھوں کو بینا کردیا بہروں کو شنوا کردیا
    دین نبی زندہ کیا یا سیدی احمد رضا
    امراض روحانی و نفسانی امت کے لیے
    در ہے تیرا دارالشفاء یا سیدی احمد رضا
    یا سیدی یا مرشدی یا مالکی یا شافعی
    اے دستگیر راہنما یا سیدی احمد رضا
    جب جان کنی کا وقت ہوا اور رہزنی شیطاں کرے
    حملہ سے اس کے لے بچا یا سیدی احمد رضا
    احمد کا سایہ غوث پر اور تجھ پر سایہ غوث کا
    اور ہم پہ ہے سایہ تیرا یا سیدی احمد رضا
    احمد پہ ہو اب کی رضا احمد کی ہو تجھ پر رضا
    اور ہم پہ ہو تیری رضا یا سیدی احمد رضا154​
    ان کے ایک اور شاعر ہرزہ سرا ہیں
    خلق کے حاجت روا احمد رضا
    ہے میرا مشکل کشا احمد رضا
    کون دیتا ہے مجھ کو کس نے دیا؟
    جو دیا تم نے دیا احمد رضا!
    دونوں عالم میں ہے تیرا آسرا
    ہاں مدد فرما شاہ احمد رضا
    حشر میں جب ہو قیامت کی تپش
    اپنے دامن میں چھپا احمد رضا
    جب زبانیں سوکھ جائیں پیاس سے
    جام کوثر کا پلا احمد رضا
    قبر و نشر و حشر میں تو ساتھ دے
    ہو میرا مشکل کشا احمد رضا
    تو ہے داتا اور میں منگتا ترا
    میں ترا ہوں اور تو مرا احمد رضا!155​
    یہ تو ہیں جناب بریلوی اور ان کے پیروکار! اور یہ ہیں ان کی پھیلائی ہوئی تعلیمات! غلو مبالغہ آمیزی میں اس قوم کی کوئی نظیر نہیں' ہر آنے والا جانے والے کو اس طرح کی شرکیہ خرافات سے خراج عقیدت پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس قوم کو راہ راست پر آنے کی توفیق عطا فرمائے!
    خود جناب بریلوی شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی شان میں مبالغہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں
    کریں اقطاب عالم کعبہ کا طواف
    کعبہ کرتا ہے طواف در والا تیرا​
    اپنے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں
    ملک سخن کی شاہی تو کو رضا مسلم
    جس سمت آگئے ہوسکے بٹھادیے ہیں157​
    نیز:
    "میرا سینہ ایک صندوق ہے کہ جس کے سامنے کسی علم کا بھی سوال پیش کیا جائے' فوراً جواب مل جائے گا۔158"
    احمد رضا صاحب ایک طرف تو اپنے بارے میں اس قدر مبالغہ آرائی سے کام لے رہے' اور دوسری طرف اپنے آپ کو دائرہ انسانیت سے خارج کرتے ہوئے نغمہ سرا ہیں
    کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا
    تجھ سے کتے ہزار پھرتے ہیں159​
    مزید:
    تجھ سے در در سگ اور سگ سے مجھ کو نسبت
    میری گردن میں بھی ہے دور کا ڈورا تیرا160​
    ایک مرتبہ خاں صاحب بریلوی کے پیر صاحب نے رکھوالی کے لیے اچھی نسل کے دوکتے منگوائے' تو جناب بریلوی اپنے دونوں بیٹوں کو لیے اپنے پیر صاحب کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے:
    "میں آپ کی خدمت میں دو اچھی اور اعلیٰ قسم کے کتے لے کر حاضر ہوا ہوں۔ انہیں قبول فرمالیجئے!161
    تو یہ ہیں جناب احمد رضا خاں بریلوی کی شخصیت کے دونوں پہلو'ایک طرف تو وہ امام' غوث'قطب اور قاضی الحاجات وغیرہ کے القاب سے متصف ہیں۔ اور دوسری طرف شرف انسانیت سے بھی گرے ہوئے ہیں اور انسان کی بجائے ایک ناپاک جانور سے خود کو تشبیہ دینے میں فخر محسوس کررہے ہیں!
    اس باب کے آخر میں ہم بریلوی مذہب کے چند اکابرین کا ذکر کرکے اس باب کو ختم کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک نعیم مراد آبادی ہیں۔
    یہ 1883ء میں پیدا ہوئے۔ یہ جناب بریلوی کے ہم عصروں میں سے تھے۔انہوں نے بھی جناب بریلوی کی طرح توحید و سنت کی مخالفت' شرک و بدعت کی حمایت اور غیر شرعی رسم و رواج کی نشر و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا ایک مدرسہ بھی تھا' جس کا نام شروع میں "مدرسہ اہل السنہ تھا۔ بعد میں تبدیل کرکے "جامعہ نعیمیہ" رکھ دیا گیا۔ اس مدرسے سے فارغ ہونے والے نعیمی کہلاتے ہیں۔ ان کی تالیفات میں "خزائن العرفان" جسے بعد میں جناب احمد رضا خاں صاحب کے ترجمہ قرآن کے ساتھ شائع کیا گیاہے۔۔۔۔۔ "اطیب البیان" 162جو شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کی تصنیف "تقویۃ الایمان" کے جواب میں لکھی گئی' اور الکلمۃ العلیا" قابل ذکر ہیں۔
    ان کی وفات 1948ء میں ہوئی۔163 بریلوی حضرات انہیں "صدر الافاضل" کے لقب سے موسوم کرتے ہیں۔
    بریلوی زعماء میں امجد علی بھی ہیں۔ یہ ہندوستان کے صوبہ اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے اور مدرسہ حنفیہ جون پور میں تعلیم حاصل کی۔ جناب امجد علی احمد رضا صاحب کے بھی کچھ عرصہ تک زیر تربیت رہے اور ان کے مذہب کی نشرواشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کی تصنیف "بہار شریعت" بریلوی فقہ کی مستند کتاب ہے' جس میں احمد رضا صاحب کی تعلیمات کی روشنی میں اسلامی احکام و مسائل کی توضیح کی گئی ہے۔
    ان کی وفات 1948ء میں ہوئی۔164
    ان کے اکابرین میں سے دیدار علی بھی ہیں' جو نواب پور میں 1270ھ میں پیدا ہوئے اور احمد علی سہارن پوری سے تعلیم حاصل کی' اور 1293ھ میں فارغ ہونے کے بعد مستقل طور پر لاہور میں قیام پذیر ہوئے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے:
    "مولانا دیدار علی نے لاہور شہر کو وہابیوں اور دیوبندیوں کے زہریلے عقائد سے محفوظ رکھا۔165 ان کی وفات 1935ء میں ہوئی" ان کی تالیفات میں تفسیر میزان الادیان اور علامات وہابیہ قابل ذکر ہیں۔"
    ان میں حشمت علی بھی ہیں۔ یہ لکھنؤ میں پیدا ہوئے' ان کے والد سید عین القضاۃ کے مریدوں میں سے تھے۔ یہ جناب بریلوی کے مدرسے منظر اسلام میں زیر تعلیم رہے۔ انہوں نے امجد علی صاحب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1340ھ میں فارغ ہوئے۔ اس طرح انہوں نے احمد رضا صاحب کے بیٹے سے بھی سند لی اور بعد میں جناب بریلوی کی تعلیمات پھیلانے میں مصروف ہوگئے۔ احمد رضا صاحب کے بیٹے نے انہیں "غیظ المنافقین" کے لقب سے نوازا۔1380ھ میں سرطان میں مبتلا ہوئے اور بیلی بھیت میں وفات پائی۔166
    ان کے قائدین میں سے احمد یار نعیمی بھی ہیں۔ یہ بدایون میں 1906ء میں پیدا ہوئے۔ پہلے دیوبندیوں کے مدرسے "المدرسۃ الاسلامیہ" میں پڑھتے رہے' پھر یہ نعیم مراد آبادی کے ہاں چلے گئے اور ان سے تعلیم مکمل کی۔ مختلف شہروں میں گھومنے پھرنے کے بعد گجرات میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور وہاں "جامعہ غوثیہ نعیمیہ" کے نام سے ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے اپنی کتاب "جاء الحق" میں جناب بریلوی کے مذہب کی تائید اور متبعین کتاب و سنت کی مخالفت میں کافی زور لگایا ہے۔
    جناب احمد یار نے احمد رضا صاحب کے ترجمہ قرآن پر "نورالعرفان" کے نام سے حاشیہ بھی لکھا ہے جس میں اپنے پیشتر قائدین کی طرح بڑے شدومد سے قرآن کریم کی بہت سی آیات کی تاویل و معنوی تحریف سے کام لیا گیا ہے۔
    اسی طرح ان کی دو معروف کتابیں "رحمۃالالٰہ بوسیلۃ الاولیاء " اور "سلنطنۃ مصطفٰی" بھی ہے۔ ان کی وفات 1971ء میں ہوئی!167
    یہ تھے بریلوی مذہب کے زعماء جنہوں نے اس مذہب کے اصول اور ضوابط وضع کیے اور جناب بریلوی کے لگائے ہوئے پودے کو پروان چڑھایا۔
    اگلے باب میں ہم ان کے عقائد بیان کریں گے۔واللہ الموفق!





    حوالہ جات
    129وصایا شریف ص10 ترتیب حسنین رضا مطبوعہ ہند
    ۔130اعلیٰ حضرت بریلوی از بستوی ص 105۔
    131بستوی9 ، 10۔
    132بستوی ص 111۔
    133مقدمہ دوام العیش از مسعود احمد ص 18
    134ایضاً۔
    135انوار رضا ص 272‘ایضاً روحوں کی دنیا مقدمہ ص 22۔
    136بستوی ص 121‘ فتاویٰ رضویہ جلد 12 المقدمہ ص 13۔
    137وصایا شریف ص 19۔
    138وصایا شریف ص 24 ترتیب حسنین رضا
    ۔139ایضاً۔
    140شرح الحقوق مقدمہ ص 8
    141ایضاً 7۔
    142جی ہاں! احکام و مسائل کے نام پر قصے کہانیوں سے واقعی علماء کے کان آشنا نہیں!۔
    143بہار شریعت جلدا ص3۔
    144مقدمہ فتاویٰ رضویہ جلد 11 ص 4
    145مقدمہ فتاویٰ رضویہ جلد 5۔
    146مقدمہ فتاویٰ رضویہ ص210
    147ایضاً ص 263۔
    148 ایضاً۔
    149ایضاً ص303
    150سوانح اعلیٰ حضرت از بدرالدین ص 110‘و انوار رضا۔
    151روحوں کودنیاص 26۔
    152انوار رضا ص 65۔
    153حیات اعلیٰ حضرت از ظفرالدین بہاری ص 12۔‘ایضاً انوار رضا ص235
    154مدائح اعلیٰ حضرت از ایوب علی رضوی ص5۔
    155نفخۃ الروح از ایوب رضوی ص 47‘48۔
    156حدائق بخشش از بریلوی ص 7۔
    157انوار رضا ص 319و ایضاً حدائق بخشش۔
    158مقدمہ شرح الحقوق ص8۔
    159ایضاً ص 11‘حدائق بخششص 43۔
    160حدائق بخشش ص 5
    161انوار رضا ص 238۔
    162اس کتاب کا ردّ مراد آباد ہی کے اہل حدیث مشہور عالم دین مولانا عزیز الدین مراد آبادی مرحوم نے اپنی کتاب ۔اکمل البیان فی تائید تقویۃ الایمان۔ میں کیا ہے۔اور نعیم الدین صاحب کے استدلالات کو باطل ثابت کیا ہے۔
    163ملاحظہ ہو ‘ تذکرہ علمائے اہل سنت اور حیات صدر الافاضل وغیرہ۔
    164حاشیہ الاستمداد ص 90‘91۔
    165ایضاً ص 94‘ تذکرہ علمائے ال سنت 83۔
    166تذکرہ علمائے اہل سنت از محمود بریلوی ص 82 مطبوعہ کانپور۔
    167تذکرہ اکابر اہل السنہ ص 58‘59 از اشرف قادری ‘ الیواقیت المھریہ ص 39‘ سیرۃ سالک از کوکب




    جاری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد --------- باب دوم

    باب 2
    بریلوی عقائد
    بریلوی حضرات کے چند امتیازی عقائد ہیں جو انہیں برصغیر میں موجود حنفی فرقوں سے بالعموم جدا کرتے ہیں۔ ان کے اکثر عقائد شیعہ حضرات سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بریلویت تسنن سے زیادہ تشیع کے قریب ہے' البتہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کون کس سے متاثر ہے؟ ان کے عقائد کو بیان کرنے سے قبل ہم قارئین کے لیے دوباتوں کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں:
    (1): وہ مخصوص عقائد جو بریلوی حضرات اختیار کیے ہوئے ہیں اور جن کا وہ برصغیر میں پرچار کررہے ہیں' وہ بعینہ ان خرافات و تقالید اور توہمات و افسانوی عقائد پر مشتمل ہیں جو مختلف اوقات میں مختلف زمانوں کے صوفیاء ضعیف الاعتقاد اور توہم پرست لوگوں میں منتشر اور رائج تھے۔۔۔۔جن کا شریعت اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں' بلکہ وہ یہود ونصاریٰ اور کفار و مشرکین کے ذریعے مسلمانوں میں منتقل ہوئے تھے۔ائمہ و مجتہدین اسلام ہر دور میں ان باطل عقائد کے خلاف صف آراء اور ان سے نبرد آزما رہے ہیں۔ اسی طرح ان میں بعض عقائد قبل از اسلام دور جاہلیت سے وابستہ ہیں' جن کی تردید قرآن مجید کی آیات اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں موجود ہے۔انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگوں نے ان غیر اسلامی اور دور جاہلیت کے عقائد کو اسلام کے لوازمات اور بنیادی عقائد سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو باطل قرار دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔مثلاً غیراللہ سے استغاثہ و استعان' انبیاء اور رسول علیہم السلام کی بشریت سے انکار' علم غیب اور خدائی اختیارات میں انبیاء و اولیاء کو شریک کرنا' نیز دوسرے عقائد جن کا ہم آگے چل کر ذکر کریں گے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ان خرافات و شطحات اور الف لیلوی افسانوں کو انہوں نے عقائد کا نام دے دیا ہے۔ اگرچہ یہ خرافات و بدعات' مشرکانہ رسوم و تقالید اورجاہلانہ افکار و عقائد جناب احمد رضا خاں بریلوی اور ان کے معاونین سے قبل بھی موجود تھے' مگر انہوں نے ان ساری باتوں کو منظم شکل دی اور قرآن وحدیث کی معنوی تحریف اور ضعیف و موضوع روایات کی مدد سے انہیں مدلل کرنے کی کوشش کی۔
    (2): دوسری بات جس کی ہم یہاں وضاحت کرنا چاہتے ہیں' وہ یہ ہے کہ اس باب میں ہم بریلویت کے انہی عقائد کا ذکر کریں گے جنہیں خود جناب احمد رضا خاں بریلوی اور ان کے مساعدین اور یا پھر اس گروہ کی معتمد شخصیات نے اپنی کتب میں بیان کیا ہے۔ جہاں تک ان حضرات کا تعلق ہے' جو ان میں معتبر اور ثقہ نہیں سمجھے جاتے یا ان کی شخصیت متنازع فیہ ہے' تو باوجود ان کی کثرت تصانیف کے ہم ان سے کوئی چیز نقل نہیں کریں گے' تاکہ ہمارے موقف میں کسی قسم کا ضعف واقع نہ ہو۔
    غیر اللہ سے فریاد رسی
    بریلوی حضرات اسلام کے عطا کردہ تصور توحید کے برعکس غیر اللہ سے فریاد طلبی کو اپنے عقائد کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے:
    اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاجت روائی خلق کے لیے خاص فرمایا ہے۔ لوگ گھبرائے ہوئے ان کے پاس اپنی حاجتیں لاتے ہیں۔‘‘ 1
    احمد رضا لکھتے ہیں:
    "اولیاء سے مدد مانگنا اور انہیں پکارنا اور ان کے ساتھ توسل کرنا امر مشروع و شی مرغوب ہے جس کا انکار نہ کرے گا مگر ہٹ دھرم یا دشمن انصاف!2
    مدد مانگنے کے لیے ضروری نہیں کہ صرف زندہ اولیاء کو ہی پکارا جائے' بلکہ ان حضرات کے نزدیک اس سلسلہ میں کوئی تمیز نہیں۔۔۔۔۔۔نبی و رسول' ولی و صالح' خواہ زندہ ہو یا فوت شدہ' اسے مدد کے لیے پکارا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔کیونکہ وہی تمام اختیارات کے مالک' نظام کائنات کی تدبیر کرنے والے اور مشکلات و مصائب سے نجات دینے والے ہیں۔
    چنانچہ جناب بریلوی کہتے ہیں:
    "انبیاء و مرسلین علیہم السلام ' اولیاء 'علماء 'صالحین سے ان کے وصال کے بعد بھی استعانت و استمداد جائز ہے'
    اولیاء بعد انتقال بھی دنیا میں تصرف کرتے ہیں۔3"
    دوسری جگہ لکھتے ہیں:
    "حضور ہی ہر مصیبت میں کام آتے ہیں' حضور علیہ السلام ہی بہتر عطا کرنے والے ہیں' عاجزی و تذلل کے ساتھ حضور کو ندا کرو' حضور ہی ہر بلا سے پناہ ہیں۔4"
    مزید لکھتے ہیں:
    "جبریل علیہ السلام حاجت روا ہیں' پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو حاجت روا' مشکل کشا' دافع البلاء ماننے میں کس کو تامل ہوسکتا ہے؟ وہ تو جبریل علیہ السلام کے بھی حاجت روا ہیں۔5"
    صرف حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نہیں' بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ان خدائی صفات کے حامل ہیں۔۔۔۔۔۔جناب بریلوی عربی اشعار سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
    تجدہ عونا لّک فی النوائب
    بولایتک یا علی یا علی
    ناد علیّا مظھر العجائب
    کلّ ھمّ و غمّ سینجلی​
    !
    ترجمہ:
    "پکار علی مرتضی کو کہ مظہر عجائب ہیں تو انہیں مددگار پائے گا مصیبتوں میں' سب پریشانی و غم اب دور ہوجائیں گے' تیری ولایت سے یاعلی یاعلی!6
    شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ علیہ بھی انہی صفات کے ساتھ متصف ہیں۔ بریلوی حضرات کذب و افتراء سے کام لیتے ہوئے آپ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
    "جو کوئی رنج وغم میں مجھ سے مدد مانگے' اس کا رنج وغم دور ہوگا۔ اور جو سختی کے وقت میرا نام لے کر مجھے پکارے' تو وہ شدت رفع ہوگی۔ اور جو کسی حاجت میں رب کی طرف مجھے وسیلہ بنائے' اس کی حاجت پوری ہوگئی۔7"
    ان کے نزدیک قضائے حاجات کے لیے نماز غوثیہ بھی ہے جس کی ترکیب یہ ہے:
    "ہر رکعت میں 11 ‘'11بار سورت اخلاص پڑھے' 11 بار صلوٰۃ وسلام پڑھے' پھر بغداد کی طرف "جانب شمالی" 11قدم چلے' ہر قدم پر میرا نام لے کر اپنی حاجت عرض کرے اور یہ شعر پڑھے
    واظلم فی الدنیا وانت نصیری
    ایدرکنی ضیم وانت ذخیرتی​
    " کیامجھے کوئی تکلیف پہنچ سکتی ہے' جب کہ آپ میرے لیے باعث حوصلہ ہوں؟ اور کیا مجھ پر دنیا میں ظلم ہوسکتا ہے جب کہ آپ میرے مددگار ہیں؟8"
    اسے بیان کرنے کے بعد جناب احمد یار گجراتی لکھتے ہیں کہ : معلوم ہوا کہ بزرگوں سے بعد وفات مدد مانگنا جائز اور فائدہ مند ہے۔"
    جناب بریلوی اکثر یہ اشعار پڑھا کرتے تھے
    شیئا للہ شیخ عبدالقادر
    اصرف عنّا الصّروف عبدالقادر
    اے بندہ پناہ شیخ عبدالقادر
    شیئا للہ شیخ عبدالقادر
    رؤفاء رارؤف عبدالقادر
    امور اصرف عنّا الصرف عبدالقادر
    اے پناہ گاہ بندگان شیخ عبدالقادر
    اللہ کے نام پر کچھ عطا کردیجئے
    یاظل الٰہ شیخ عبدالقادر
    عطفا عطفا عطوف عبدالقادر
    اے ظل الٰہ شیخ عبدالقادر
    محتاج و گدائم تو ذوالتّاج و کریم
    عطفا عطفا عطوف عبدالقادر
    اے آنکہ بدست قست تصرف
    اے ظل خدا شیخ عبدالقادر
    میں محتاج و گدا ہوں تو سخی و کریم ہے​
    "اے شفت کرنے والے عبدالقادر مجھ پر شفقت فرمائیے اور میرے ساتھ مہربانی کا سلوک کیجئے۔ تیرے ہاتھ میں تمام اختیارات و تصرفات ہیں میرے مصائب و مشکلات دور کیجئے۔9"
    اسی طرح وہ لکھتے ہیں:
    "اہل دین رامغیث عبدالقادر۔10"
    جناب بریلوی رقمطراز ہیں:
    میں نے جب بھی مدد طلب کی' یا غوث ہی کہا۔ ایک مرتبہ میں نے ایک دوسرے ولی (حضرت محبوب الٰہی) سے مدد مانگنی چاہی' مگر میری زبان سے ان کا نام ہی نہ نکلا۔ بلکہ یا غوث ہی نکلا!11
    یعنی اللہ تعالیٰ سے بھی کبھی مدد نہ مانگی۔ "یا اللہ مدد فرما" نہیں' بلکہ ہمیشہ کہتے "یا غوث مدد فرما۔"
    احمد زروق بھی مصائب دور کرنے والے ہیں۔ چنانچہ بریلوی علماء اپنی کتب میں ان سے عربی اشعار نقل کرتے ہیں۔
    انا ما سطا جورا الزّمان بنکبتہ
    فناد یازروق ات یسرعتہ
    انا لمریدی جا مع لشتاتہ
    وان کنت فی ضیق و کرب ووحشتہ​
    ترجمہ:
    "میں اپنے مرید کی پراگندگیوں کو جمع کرنے والا ہوں' جب کہ زمانہ کی مصیبتیں اس کو تکلیف دیں۔ اگر تو تنگی یا مصیبت میں پکارے' اے زروق! میں فوراً آؤں گا۔12"
    اسی طرح ابن علوان بھی ان اختیارات کے مالک ہیں۔ چنانچہ منقول ہے:
    جس کسی کی کوئی چیز گم ہوجائے اور وہ چاہے کہ خدا وہ چیز واپس ملادے' تو کسی اونچی جگہ پر قبلہ کو منہ کرکے کھڑا ہو اور سورہ فاتحہ پڑھ کر اس کا ثواب نبی علیہ السلام کو ہدیہ کرے' پھر سیدی احمد بن علوان کو پکارے اور پھر یہ دعا پڑھے اے میرے آقا احمد بن علوان' اگر آپ نے میری چیز نہ دی تو میں آپ کو دفتر اولیاء سے نکال دوں گا۔13"
    سید محمد حنفی بھی مشکلات کو دور کرنے والے ہیں۔ جناب بریلوی لکھتے ہیں:
    "سیدی محمد شمس الدین محمد حنفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے حجرہ خلوت میں وضو فرمارہے تھے' ناگاہ ایک کھڑاؤں ہوا پر پھینکی کہ غائب ہوگئی۔۔۔۔۔حالانکہ حجرے میں کوئی راہ اس کے ہوا پر جانے کی نہ تھی۔ دوسری کھڑاؤں اپنے خادم کو عطا فرمائی کہ اسے اپنے پاس رہنے دے' جب تک وہ پہلی واپس آئے۔ ایک مدت کے بعد ملک شام سے ایک شخص وہ کھڑاؤں مع ہدایا لے کر حاضر ہوا اور عرض کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت کو جزائے خیر دے! جب چور میرے سینے پر ذبح کرنے بیٹھا میں نے اپنے دل میں کہا "یاسیدی محمد حنفی" اسی وقت یہ کھڑاؤں غیب سے آکر اس کے سینے پر لگی کہ غش کھا کر الٹا ہوگیا۔14"
    سید بدوی بھی مصائب و مشکلات میں بندوں کی مدد کرتے ہیں:
    "جب بھی کوئی مصیبت پیش آئے تو وہ یہ کہے :"یا سیدی احمد بدوی خاطر معی!" "اے میرے آقا احمد بدوی میرا ساتھ دیجئے۔15"
    سید احمد بدوی سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:"جسے کوئی حاجت ہو تو وہ میری قبر پر حاضر ہو کر اپنی حاجت مانگے تو میں اس کی حاجت کو پورا کروں گا۔16
    ابوعمران موسی بھی:"جب ان کا مرید جہاں کہیں سے انہیں ندا کرتا' جواب دیتے! اگرچہ سال بھر کی راہ پر ہوتا یا اس سے زائد۔17"
    پھر جناب بریلوی اس مسئلے میں اپنے عقیدہ کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    "جو شخص بھی کسی نبی یا رسول یا کسی ولی سے وابستہ ہوگا' تو وہ اس کے پکارنے پر حاضر ہوگا اور مشکلات میں اس کی دستگیری کرے گا۔18"
    سلسلہ تصوف سے متعلق مشائخ بھی اپنے مریدوں کو مشکلات سے رہائی عطا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ جناب احمد رضا لکھتے ہیں:
    "صوفیہ کے مشائخ سختی کے وقت اپنے پیروکاروں اور مریدوں کی نگہبانی فرماتے ہیں19"
    اہل قبور سے استعانت کے عقیدے کا ذکر کرتے ہوئے جناب بریلوی رقم طراز ہیں:
    "جب تم کاموں میں متحیر ہو تو مزارات اولیاء سے مدد مانگو۔20"
    قبروں کی زیارت کے فوائد بیان کرتے ہوئے جناب احمد رضا کے ایک پیروکار کہتے ہیں:
    "قبروں کی زیارت سے نفع حاصل ہوتا ہے نیک مردوں سے مدد ملتی ہے۔21"
    مزید کہتے ہیں:
    "زیارت سے مقصود یہ ہے کہ اہل قبور سے نفع حاصل کیا جائے۔22"
    جناب موسیٰ کاظم کی قبر سے متعلق فرماتے ہیں
    "حضرت موسیٰ کاظم کی قبر تریاق اکبر ہے۔23"
    خود جناب بریلوی محمد بن فرغل سے نقل کرتے ہیں کہ وہ کہا کرتے تھے:
    "میں ان میں سے ہوں جو اپنی قبور میں تصرف فرماتے ہیں۔ جسے کوئی حاجت ہو تو میرے پاس چہرے کے سامنے حاضر ہوکر مجھ سے اپنی حاجت کہے' میں روا فرمادوں گا۔24"
    سید بدوی سے یہی مقولہ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
    انہوں نے کہا"مجھ میں اور تم میں یہ ہاتھ بھر مٹی ہی تو حائل ہے۔اور جس مرد کو اتنی مٹی اپنے اصحاب سے حجاب میں کردے تو وہ مرد ہی کاہے کاہے۔25"
    ایک طرف تو بریلوی حضرات کے یہ عقائد ہیں اور دوسری طرف قرآنی تعلیمات و ارشادات ہیں۔ ذرا ان کا تقابل کیجئے' تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آسکے کہ قرآن کریم کے نزدیک توحید باری تعالیٰ کا تصور کیا ہے' اور ان کے عقائد کیا ہیں؟
    چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ نیک بندے اپنے رب سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں:
    اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِینُ
    (تجھی کی ہم بندگی کریں اور تجھی سے ہم مدد چاہیں) اور پھر اللہ مشرکین کے عقیدے کو ردّ کرتے ہوئے اور اس پر ان کو ڈانتے ہوئے فرماتے ہیں:
    قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اﷲِ لا یَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَہُمْ فِیْہِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّ مَا لَہ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِیْر [سورہ سبا]
    "آپ کہیں' تم انہیں پکارو تو جنہیں تم اللہ کے سوا (شریک خدائی) سمجھ رہے ہو' وہ ذرہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں! اور نہ ان کی ان دونوں میں کوئی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی بھی اللہ کا مددگار ہے۔"
    اور اللہ کا فرمان ہے:
    ذٰلِکُمُ اﷲُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُط وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہ مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ(13) اِنْ تَدْعُوْہُمْ لا یَسْمَعُوْا دُعَآئَکُمْ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَکُمْ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکْفُرُوْنَ بِشِرْکِکُمْ وَ لا یُنَبِّئُکَ مِثْلُ خَبِیْرٍ [فاطر]
    "یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے' اسی کی حکومت ہے!۔ اور جنہیں تم اس کے علاوہ پکارتے ہو' وہ کجھور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری سنیں گے بھی نہیں' اور اگر سن بھی لیں تو تمہارا کہا نہ کرسکیں۔ اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کرنے ہی سے منکر ہوں اور تجھ کو (خدائے) خبیر کا سا کوئی نہ بتائے گا۔"
    نیز:
    قُلْ اَرَئَیْتُمْ شُرَکَائَکُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ اَمْٰاتَیْنہُمْاٰ کِتَابًا فَہُمْ عَلٰی بَیِّنَتٍ مِّنْہُ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا [فاطر]
    "آپ کہہ دیجئے' تم نے اپنے خدائی شریکوں کے حال پر بھی نظر کی ہے' جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو؟ ذرا مجھے بھی تو بتاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا جزو بنایا ہے' یا ان کا آسمان میں کچھ ساجھا ہے' یا ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس پر قائم ہیں؟ اصل یہ ہے کہ ظالم ایک دوسرے سے نرے دھوکہ (کی باتوں) کا وعدہ کرتے آئے ہیں۔"
    اور مزید فرمایا:
    وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہ لااَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَکُمْ وَ لااَآ اَنْفُسَہُمْ یَنْصُرُوْن [اعراف]
    "اور جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تو تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔"
    اور فرمایا:
    وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہ لااَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَہُمْ بِشَیْئٍ [رعد]
    'اور جن کو (یہ لوگ)' اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کا کچھ جواب نہیں دے سکتے۔"
    وَ مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اﷲِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لا نَصِیْرٍ [شوریٰ]
    "اور تمہارا اللہ کے سوا کوئی بھی نہ کارساز ہے اور نہ مددگار !"
    اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ وہ مشرکین اور ان لوگوں سے سوال کریں' جو اللہ کے سوا کسی اور سے مدد مانگتے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیں:
    قُلْ اَفَرَئَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ اِنْ اَرَادَنِیَ اﷲُ بِضُرٍّ ہَلْ ہُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَۃٍ ہَلْ ہُنَّ مُمْسِکٰتُ رَحْمَتِہِ [زمر]
    کہ "بھلا یہ تو بتاؤ کہ اللہ کے سوا تم جنہیں پکارتے ہو' اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کی دی ہوئی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں؟ یا اللہ مجھ پر عنایت کرنا چاہے' تو یہ اس کی عنایت کو روک سکتے ہیں؟"
    اَ اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوء وَ یَجْعَلُکُمْ خُلَفَآئَ الْاَرْضِ ئَاِٰلہٌ مَّعَ اﷲِ قَلِیْلامَّا تَذَکَّرُوْن [نمل]
    "وہ کون ہے جو بے قرار کی فریاد سنتا ہے' جب وہ اسے پکارتا ہے؟ اور مصیبت کو دور کرتا ہے اور تم کو زمین میں خلفاء بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے؟ تم لوگ بہت ہی کم غور کرتے ہو۔"
    پھر ان کو سمجھاتے ہوئے فرمایا:
    اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْہُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
    "بے شک جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے ہی بندے ہیں۔ سو اگر تم سچے ہو تو تم انہیں پکارو! پھر ان کو چاہیے کہ تمہیں جواب دیں۔"
    اور مزید فرمایا:
    قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِہ اَوْلِیَآئَ لا یَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِہِمْ نَفْعًا وَّ لااَا ضَرًّا [رعد]
    " کہہ دیجئے تو کیا تم نے پھر بھی اس کے سوا اور کارساز قرار دے لیے ہیں' جو اپنی ذات کے لیے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے؟"
    مزید فرمایا:
    اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہ اِلَّاآ اِٰنثًا وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًا [النساء ]
    "یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے بھی ہیں تو بس زنانی چیزوں کو! اور یہ لوگ پکارتے بھی ہیں تو بس شیطان سرکش کو۔"
    نیز:
    وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوا مِنْ دُوْنِ اﷲِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَہ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ وَ ہُمْ عَنْ دُعَآئِہِمْ غٰفِلُوْن [احقاف]
    "اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا جو اللہ کے سوا اور کسی کو پکارے؟ جو قیامت تک بھی اس کی بات نہ سنے' بلکہ انہیں ان کے پکارنے کی خبر تک نہ ہو؟"
    ان آیات کریمہ سے یہ بات صاف طور پر واضح ہوجاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی مصائب و مشکلات میں بندوں کی مدد کرسکتا ہے' اور ان کے کام آسکتا اور ان کے دکھ درد دور کرسکتا ہے۔ اختیار و تصرف کا دائرہ فقط اسی کی ذات تک محدود ہے اور ساری کائنات کا نظام اسی کے قبضہ و اختیار میں ہے۔ اور تمام انبیاء ورسل علیہم السلام نے بھی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے فقط اسی کا دامن تھاما اور صرف اسی کے سامنے سر نیاز خم کیا۔۔۔ ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ شدائد و مشکلات میں ان سے استمداد و استعانت جائز ہے' قرآن کریم کی صریح' صاف اور واضح آیات سے متصادم ہے۔
    حضرت آدم علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنا' حضرت نوح علیہ السلام کا اپنے غرق ہونے والے بیٹے کے لیے رب کائنات سے سے نجات طلب کرنا' حضرت ابراہیم علیہ السلام کا صرف اسی سے اپنے لیے بیٹا مانگنا' مشکلات و مصائب میں گھرے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا صرف اپنے رب کو پکارنا' حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ سے نجات حاصل کرنے کے لیے صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے عجز ونیاز کرنا' اور حضرت ایوب علیہ السلام کا صرف ذات باری تعالیٰ سے شفا طلب کرنا' یہ سارے واقعات اس بات کی واضح اور بین دلیل ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی مالک ذی اختیار نہیں ہے جو مصیبت رفع کرسکتا ہو!
    لیکن ان تمام شواہد و دلائل کے برعکس بریلوی حضرات کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کسی نبی یا رسول یا ولی سے وابستہ ہوتا ہے' وہ مصائب و مشکلات میں اس کی دستگیری کرتا ہے۔39
    احمد رضا بریلوی کے ایک پیروکار یوں رقمطراز ہیں:
    اولیائے کرام ایک ہی جگہ رہ کر تمام عالم کو اپنے کف دست کی طرح دیکھتے ہیں۔ اور بعید و قریب کی آوازیں سنتے' یا ایک آن میں تمام عالم کی سیر کرتے اور صدہا کوس پر حاجت مندوں کی حاجت روائی کرتے ہیں۔40"
    ایک طرف ان حضرات کا یہ عقیدہ ہے۔۔۔۔۔اور دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچازاد بھائی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ فرمارہے ہیں کہ "اپنی حاجت صرف خدا سے طلب کر' فقط اسی سے کر! قلم کی سیاہی خشک ہوچکی ہے" ساری کائنات مل کر بھی تجھے نہ نفع دے سکتی ہے اور نہ نقصان!41"
    لیکن جناب بریلوی کہتے ہیں:
    "جب تمہیں پریشانی کا سامنا ہو تو اہل قبور سے مدد مانگو!42"
    پھر ستم بالائے ستم یہ کہ جناب بریلوی نہ صرف یہ کہ خود قرآنی آیات کی مخالفت کرتے ہیں' بلکہ جو لوگ شرک وبدعت کے خلاف سچے اور مجاہدانہ جذبے کے ساتھ صف آراء ہیں اور ان صریح آیات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صرف رب کائنات ہی مضطر اور مصیبت زدہ لوگوں کی التجا سنتا ہے اور اس کو شرف قبولیت بخشتا ہے اور صرف وہی مصائب و مشکلات کو دور کرنے والا ہے' بریلی کے یہ خاں صاحب ان کے خلاف طعن و تشنیع اور اظہار کدورت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    "ہمارے زمانے میں معدودے چند ایسے پیدا ہوئے ہیں کہ حضرات اولیاء سے مدد کے منکر ہیں اور کہتے ہیں جو کچھ کہتے ہیں انہیں اس پر کچھ علم نہیں' یوں ہی اپنے سے اٹکلی لڑاتے ہیں۔43"
    ان جیسے لوگوں کے متعلق ہی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اﷲُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآ اَلْفَیْنَا عَلَیْہِٰابَآئَنَااَوَ لَوْ کَانَٰابَآؤُہُمْ لا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لا یَہْتَدُوْنًَ [البقرہ]
    "اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے اتارا ہے اس کی پیروی کرو! تو کہتے ہیں کہ نہیں ہم تو اس کی پیروی کریں گے' جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے۔۔۔۔خواہ ان کے باپ دادا نہ ذرا عقل رکھتے ہوں اور نہ ہدایت رکھتے ہوں؟"
    اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
    وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ [البقرہ]
    "اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں' تو میں تو قریب ہی ہوں! دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے! پس لوگوں کو چاہئے کہ میرے احکام قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں عجب نہیں کہ ہدایت پاجائیں۔"
    نیز:
    وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِی اَسْتَجِبْ لَکُم [غافر]
    "اور تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ مجھے پکارو' میں تمہاری درخواست قبول کروں گا۔"
    لیکن
    ہے مریدوں کو تو حق بات گوارا لیکن
    شیخ و ملا کو بری لگتی ہے درویش کی بات​




    جاری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد ---------- باب دوم

    باب 2
    بریلوی عقائد
    بریلوی حضرات کے چند امتیازی عقائد ہیں جو انہیں برصغیر میں موجود حنفی فرقوں سے بالعموم جدا کرتے ہیں۔ ان کے اکثر عقائد شیعہ حضرات سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بریلویت تسنن سے زیادہ تشیع کے قریب ہے' البتہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کون کس سے متاثر ہے؟ ان کے عقائد کو بیان کرنے سے قبل ہم قارئین کے لیے دوباتوں کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں:
    (1): وہ مخصوص عقائد جو بریلوی حضرات اختیار کیے ہوئے ہیں اور جن کا وہ برصغیر میں پرچار کررہے ہیں' وہ بعینہ ان خرافات و تقالید اور توہمات و افسانوی عقائد پر مشتمل ہیں جو مختلف اوقات میں مختلف زمانوں کے صوفیاء ضعیف الاعتقاد اور توہم پرست لوگوں میں منتشر اور رائج تھے۔۔۔۔جن کا شریعت اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں' بلکہ وہ یہود ونصاریٰ اور کفار و مشرکین کے ذریعے مسلمانوں میں منتقل ہوئے تھے۔ائمہ و مجتہدین اسلام ہر دور میں ان باطل عقائد کے خلاف صف آراء اور ان سے نبرد آزما رہے ہیں۔ اسی طرح ان میں بعض عقائد قبل از اسلام دور جاہلیت سے وابستہ ہیں' جن کی تردید قرآن مجید کی آیات اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں موجود ہے۔انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگوں نے ان غیر اسلامی اور دور جاہلیت کے عقائد کو اسلام کے لوازمات اور بنیادی عقائد سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو باطل قرار دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔مثلاً غیراللہ سے استغاثہ و استعان' انبیاء اور رسول علیہم السلام کی بشریت سے انکار' علم غیب اور خدائی اختیارات میں انبیاء و اولیاء کو شریک کرنا' نیز دوسرے عقائد جن کا ہم آگے چل کر ذکر کریں گے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ان خرافات و شطحات اور الف لیلوی افسانوں کو انہوں نے عقائد کا نام دے دیا ہے۔ اگرچہ یہ خرافات و بدعات' مشرکانہ رسوم و تقالید اورجاہلانہ افکار و عقائد جناب احمد رضا خاں بریلوی اور ان کے معاونین سے قبل بھی موجود تھے' مگر انہوں نے ان ساری باتوں کو منظم شکل دی اور قرآن وحدیث کی معنوی تحریف اور ضعیف و موضوع روایات کی مدد سے انہیں مدلل کرنے کی کوشش کی۔
    (2): دوسری بات جس کی ہم یہاں وضاحت کرنا چاہتے ہیں' وہ یہ ہے کہ اس باب میں ہم بریلویت کے انہی عقائد کا ذکر کریں گے جنہیں خود جناب احمد رضا خاں بریلوی اور ان کے مساعدین اور یا پھر اس گروہ کی معتمد شخصیات نے اپنی کتب میں بیان کیا ہے۔ جہاں تک ان حضرات کا تعلق ہے' جو ان میں معتبر اور ثقہ نہیں سمجھے جاتے یا ان کی شخصیت متنازع فیہ ہے' تو باوجود ان کی کثرت تصانیف کے ہم ان سے کوئی چیز نقل نہیں کریں گے' تاکہ ہمارے موقف میں کسی قسم کا ضعف واقع نہ ہو۔
    غیر اللہ سے فریاد رسی
    بریلوی حضرات اسلام کے عطا کردہ تصور توحید کے برعکس غیر اللہ سے فریاد طلبی کو اپنے عقائد کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے:
    اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاجت روائی خلق کے لیے خاص فرمایا ہے۔ لوگ گھبرائے ہوئے ان کے پاس اپنی حاجتیں لاتے ہیں۔‘‘ 1
    احمد رضا لکھتے ہیں:
    "اولیاء سے مدد مانگنا اور انہیں پکارنا اور ان کے ساتھ توسل کرنا امر مشروع و شی مرغوب ہے جس کا انکار نہ کرے گا مگر ہٹ دھرم یا دشمن انصاف!2
    مدد مانگنے کے لیے ضروری نہیں کہ صرف زندہ اولیاء کو ہی پکارا جائے' بلکہ ان حضرات کے نزدیک اس سلسلہ میں کوئی تمیز نہیں۔۔۔۔۔۔نبی و رسول' ولی و صالح' خواہ زندہ ہو یا فوت شدہ' اسے مدد کے لیے پکارا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔کیونکہ وہی تمام اختیارات کے مالک' نظام کائنات کی تدبیر کرنے والے اور مشکلات و مصائب سے نجات دینے والے ہیں۔
    چنانچہ جناب بریلوی کہتے ہیں:
    "انبیاء و مرسلین علیہم السلام ' اولیاء 'علماء 'صالحین سے ان کے وصال کے بعد بھی استعانت و استمداد جائز ہے'
    اولیاء بعد انتقال بھی دنیا میں تصرف کرتے ہیں۔3"
    دوسری جگہ لکھتے ہیں:
    "حضور ہی ہر مصیبت میں کام آتے ہیں' حضور علیہ السلام ہی بہتر عطا کرنے والے ہیں' عاجزی و تذلل کے ساتھ حضور کو ندا کرو' حضور ہی ہر بلا سے پناہ ہیں۔4"
    مزید لکھتے ہیں:
    "جبریل علیہ السلام حاجت روا ہیں' پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو حاجت روا' مشکل کشا' دافع البلاء ماننے میں کس کو تامل ہوسکتا ہے؟ وہ تو جبریل علیہ السلام کے بھی حاجت روا ہیں۔5"
    صرف حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نہیں' بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ان خدائی صفات کے حامل ہیں۔۔۔۔۔۔جناب بریلوی عربی اشعار سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
    تجدہ عونا لّک فی النوائب
    بولایتک یا علی یا علی
    ناد علیّا مظھر العجائب
    کلّ ھمّ و غمّ سینجلی​
    !
    ترجمہ:
    "پکار علی مرتضی کو کہ مظہر عجائب ہیں تو انہیں مددگار پائے گا مصیبتوں میں' سب پریشانی و غم اب دور ہوجائیں گے' تیری ولایت سے یاعلی یاعلی!6
    شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ علیہ بھی انہی صفات کے ساتھ متصف ہیں۔ بریلوی حضرات کذب و افتراء سے کام لیتے ہوئے آپ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
    "جو کوئی رنج وغم میں مجھ سے مدد مانگے' اس کا رنج وغم دور ہوگا۔ اور جو سختی کے وقت میرا نام لے کر مجھے پکارے' تو وہ شدت رفع ہوگی۔ اور جو کسی حاجت میں رب کی طرف مجھے وسیلہ بنائے' اس کی حاجت پوری ہوگئی۔7"
    ان کے نزدیک قضائے حاجات کے لیے نماز غوثیہ بھی ہے جس کی ترکیب یہ ہے:
    "ہر رکعت میں 11 ‘'11بار سورت اخلاص پڑھے' 11 بار صلوٰۃ وسلام پڑھے' پھر بغداد کی طرف "جانب شمالی" 11قدم چلے' ہر قدم پر میرا نام لے کر اپنی حاجت عرض کرے اور یہ شعر پڑھے
    واظلم فی الدنیا وانت نصیری
    ایدرکنی ضیم وانت ذخیرتی​
    " کیامجھے کوئی تکلیف پہنچ سکتی ہے' جب کہ آپ میرے لیے باعث حوصلہ ہوں؟ اور کیا مجھ پر دنیا میں ظلم ہوسکتا ہے جب کہ آپ میرے مددگار ہیں؟8"
    اسے بیان کرنے کے بعد جناب احمد یار گجراتی لکھتے ہیں کہ : معلوم ہوا کہ بزرگوں سے بعد وفات مدد مانگنا جائز اور فائدہ مند ہے۔"
    جناب بریلوی اکثر یہ اشعار پڑھا کرتے تھے
    شیئا للہ شیخ عبدالقادر
    اصرف عنّا الصّروف عبدالقادر
    اے بندہ پناہ شیخ عبدالقادر
    شیئا للہ شیخ عبدالقادر
    رؤفاء رارؤف عبدالقادر
    امور اصرف عنّا الصرف عبدالقادر
    اے پناہ گاہ بندگان شیخ عبدالقادر
    اللہ کے نام پر کچھ عطا کردیجئے
    یاظل الٰہ شیخ عبدالقادر
    عطفا عطفا عطوف عبدالقادر
    اے ظل الٰہ شیخ عبدالقادر
    محتاج و گدائم تو ذوالتّاج و کریم
    عطفا عطفا عطوف عبدالقادر
    اے آنکہ بدست قست تصرف
    اے ظل خدا شیخ عبدالقادر
    میں محتاج و گدا ہوں تو سخی و کریم ہے​
    "اے شفت کرنے والے عبدالقادر مجھ پر شفقت فرمائیے اور میرے ساتھ مہربانی کا سلوک کیجئے۔ تیرے ہاتھ میں تمام اختیارات و تصرفات ہیں میرے مصائب و مشکلات دور کیجئے۔9"
    اسی طرح وہ لکھتے ہیں:
    "اہل دین رامغیث عبدالقادر۔10"
    جناب بریلوی رقمطراز ہیں:
    میں نے جب بھی مدد طلب کی' یا غوث ہی کہا۔ ایک مرتبہ میں نے ایک دوسرے ولی (حضرت محبوب الٰہی) سے مدد مانگنی چاہی' مگر میری زبان سے ان کا نام ہی نہ نکلا۔ بلکہ یا غوث ہی نکلا!11
    یعنی اللہ تعالیٰ سے بھی کبھی مدد نہ مانگی۔ "یا اللہ مدد فرما" نہیں' بلکہ ہمیشہ کہتے "یا غوث مدد فرما۔"
    احمد زروق بھی مصائب دور کرنے والے ہیں۔ چنانچہ بریلوی علماء اپنی کتب میں ان سے عربی اشعار نقل کرتے ہیں۔
    انا ما سطا جورا الزّمان بنکبتہ
    فناد یازروق ات یسرعتہ
    انا لمریدی جا مع لشتاتہ
    وان کنت فی ضیق و کرب ووحشتہ​
    ترجمہ:
    "میں اپنے مرید کی پراگندگیوں کو جمع کرنے والا ہوں' جب کہ زمانہ کی مصیبتیں اس کو تکلیف دیں۔ اگر تو تنگی یا مصیبت میں پکارے' اے زروق! میں فوراً آؤں گا۔12"
    اسی طرح ابن علوان بھی ان اختیارات کے مالک ہیں۔ چنانچہ منقول ہے:
    جس کسی کی کوئی چیز گم ہوجائے اور وہ چاہے کہ خدا وہ چیز واپس ملادے' تو کسی اونچی جگہ پر قبلہ کو منہ کرکے کھڑا ہو اور سورہ فاتحہ پڑھ کر اس کا ثواب نبی علیہ السلام کو ہدیہ کرے' پھر سیدی احمد بن علوان کو پکارے اور پھر یہ دعا پڑھے اے میرے آقا احمد بن علوان' اگر آپ نے میری چیز نہ دی تو میں آپ کو دفتر اولیاء سے نکال دوں گا۔13"
    سید محمد حنفی بھی مشکلات کو دور کرنے والے ہیں۔ جناب بریلوی لکھتے ہیں:
    "سیدی محمد شمس الدین محمد حنفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے حجرہ خلوت میں وضو فرمارہے تھے' ناگاہ ایک کھڑاؤں ہوا پر پھینکی کہ غائب ہوگئی۔۔۔۔۔حالانکہ حجرے میں کوئی راہ اس کے ہوا پر جانے کی نہ تھی۔ دوسری کھڑاؤں اپنے خادم کو عطا فرمائی کہ اسے اپنے پاس رہنے دے' جب تک وہ پہلی واپس آئے۔ ایک مدت کے بعد ملک شام سے ایک شخص وہ کھڑاؤں مع ہدایا لے کر حاضر ہوا اور عرض کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت کو جزائے خیر دے! جب چور میرے سینے پر ذبح کرنے بیٹھا میں نے اپنے دل میں کہا "یاسیدی محمد حنفی" اسی وقت یہ کھڑاؤں غیب سے آکر اس کے سینے پر لگی کہ غش کھا کر الٹا ہوگیا۔14"
    سید بدوی بھی مصائب و مشکلات میں بندوں کی مدد کرتے ہیں:
    "جب بھی کوئی مصیبت پیش آئے تو وہ یہ کہے :"یا سیدی احمد بدوی خاطر معی!" "اے میرے آقا احمد بدوی میرا ساتھ دیجئے۔15"
    سید احمد بدوی سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:"جسے کوئی حاجت ہو تو وہ میری قبر پر حاضر ہو کر اپنی حاجت مانگے تو میں اس کی حاجت کو پورا کروں گا۔16
    ابوعمران موسی بھی:"جب ان کا مرید جہاں کہیں سے انہیں ندا کرتا' جواب دیتے! اگرچہ سال بھر کی راہ پر ہوتا یا اس سے زائد۔17"
    پھر جناب بریلوی اس مسئلے میں اپنے عقیدہ کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    "جو شخص بھی کسی نبی یا رسول یا کسی ولی سے وابستہ ہوگا' تو وہ اس کے پکارنے پر حاضر ہوگا اور مشکلات میں اس کی دستگیری کرے گا۔18"
    سلسلہ تصوف سے متعلق مشائخ بھی اپنے مریدوں کو مشکلات سے رہائی عطا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ جناب احمد رضا لکھتے ہیں:
    "صوفیہ کے مشائخ سختی کے وقت اپنے پیروکاروں اور مریدوں کی نگہبانی فرماتے ہیں19"
    اہل قبور سے استعانت کے عقیدے کا ذکر کرتے ہوئے جناب بریلوی رقم طراز ہیں:
    "جب تم کاموں میں متحیر ہو تو مزارات اولیاء سے مدد مانگو۔20"
    قبروں کی زیارت کے فوائد بیان کرتے ہوئے جناب احمد رضا کے ایک پیروکار کہتے ہیں:
    "قبروں کی زیارت سے نفع حاصل ہوتا ہے نیک مردوں سے مدد ملتی ہے۔21"
    مزید کہتے ہیں:
    "زیارت سے مقصود یہ ہے کہ اہل قبور سے نفع حاصل کیا جائے۔22"
    جناب موسیٰ کاظم کی قبر سے متعلق فرماتے ہیں
    "حضرت موسیٰ کاظم کی قبر تریاق اکبر ہے۔23"
    خود جناب بریلوی محمد بن فرغل سے نقل کرتے ہیں کہ وہ کہا کرتے تھے:
    "میں ان میں سے ہوں جو اپنی قبور میں تصرف فرماتے ہیں۔ جسے کوئی حاجت ہو تو میرے پاس چہرے کے سامنے حاضر ہوکر مجھ سے اپنی حاجت کہے' میں روا فرمادوں گا۔24"
    سید بدوی سے یہی مقولہ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
    انہوں نے کہا"مجھ میں اور تم میں یہ ہاتھ بھر مٹی ہی تو حائل ہے۔اور جس مرد کو اتنی مٹی اپنے اصحاب سے حجاب میں کردے تو وہ مرد ہی کاہے کاہے۔25"
    ایک طرف تو بریلوی حضرات کے یہ عقائد ہیں اور دوسری طرف قرآنی تعلیمات و ارشادات ہیں۔ ذرا ان کا تقابل کیجئے' تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آسکے کہ قرآن کریم کے نزدیک توحید باری تعالیٰ کا تصور کیا ہے' اور ان کے عقائد کیا ہیں؟
    چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ نیک بندے اپنے رب سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں:
    اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِینُ
    (تجھی کی ہم بندگی کریں اور تجھی سے ہم مدد چاہیں) اور پھر اللہ مشرکین کے عقیدے کو ردّ کرتے ہوئے اور اس پر ان کو ڈانتے ہوئے فرماتے ہیں:
    قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اﷲِ لا یَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَہُمْ فِیْہِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّ مَا لَہ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِیْر [سورہ سبا]
    "آپ کہیں' تم انہیں پکارو تو جنہیں تم اللہ کے سوا (شریک خدائی) سمجھ رہے ہو' وہ ذرہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں! اور نہ ان کی ان دونوں میں کوئی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی بھی اللہ کا مددگار ہے۔"
    اور اللہ کا فرمان ہے:
    ذٰلِکُمُ اﷲُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُط وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہ مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ(13) اِنْ تَدْعُوْہُمْ لا یَسْمَعُوْا دُعَآئَکُمْ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَکُمْ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکْفُرُوْنَ بِشِرْکِکُمْ وَ لا یُنَبِّئُکَ مِثْلُ خَبِیْرٍ [فاطر]
    "یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے' اسی کی حکومت ہے!۔ اور جنہیں تم اس کے علاوہ پکارتے ہو' وہ کجھور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری سنیں گے بھی نہیں' اور اگر سن بھی لیں تو تمہارا کہا نہ کرسکیں۔ اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کرنے ہی سے منکر ہوں اور تجھ کو (خدائے) خبیر کا سا کوئی نہ بتائے گا۔"
    نیز:
    قُلْ اَرَئَیْتُمْ شُرَکَائَکُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ اَمْٰاتَیْنہُمْاٰ کِتَابًا فَہُمْ عَلٰی بَیِّنَتٍ مِّنْہُ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا [فاطر]
    "آپ کہہ دیجئے' تم نے اپنے خدائی شریکوں کے حال پر بھی نظر کی ہے' جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو؟ ذرا مجھے بھی تو بتاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا جزو بنایا ہے' یا ان کا آسمان میں کچھ ساجھا ہے' یا ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس پر قائم ہیں؟ اصل یہ ہے کہ ظالم ایک دوسرے سے نرے دھوکہ (کی باتوں) کا وعدہ کرتے آئے ہیں۔"
    اور مزید فرمایا:
    وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہ لااَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَکُمْ وَ لااَآ اَنْفُسَہُمْ یَنْصُرُوْن [اعراف]
    "اور جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تو تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔"
    اور فرمایا:
    وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہ لااَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَہُمْ بِشَیْئٍ [رعد]
    'اور جن کو (یہ لوگ)' اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کا کچھ جواب نہیں دے سکتے۔"
    وَ مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اﷲِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لا نَصِیْرٍ [شوریٰ]
    "اور تمہارا اللہ کے سوا کوئی بھی نہ کارساز ہے اور نہ مددگار !"
    اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ وہ مشرکین اور ان لوگوں سے سوال کریں' جو اللہ کے سوا کسی اور سے مدد مانگتے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیں:
    قُلْ اَفَرَئَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ اِنْ اَرَادَنِیَ اﷲُ بِضُرٍّ ہَلْ ہُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَۃٍ ہَلْ ہُنَّ مُمْسِکٰتُ رَحْمَتِہِ [زمر]
    کہ "بھلا یہ تو بتاؤ کہ اللہ کے سوا تم جنہیں پکارتے ہو' اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کی دی ہوئی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں؟ یا اللہ مجھ پر عنایت کرنا چاہے' تو یہ اس کی عنایت کو روک سکتے ہیں؟"
    اَ اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوء وَ یَجْعَلُکُمْ خُلَفَآئَ الْاَرْضِ ئَاِٰلہٌ مَّعَ اﷲِ قَلِیْلامَّا تَذَکَّرُوْن [نمل]
    "وہ کون ہے جو بے قرار کی فریاد سنتا ہے' جب وہ اسے پکارتا ہے؟ اور مصیبت کو دور کرتا ہے اور تم کو زمین میں خلفاء بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے؟ تم لوگ بہت ہی کم غور کرتے ہو۔"
    پھر ان کو سمجھاتے ہوئے فرمایا:
    اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْہُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
    "بے شک جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے ہی بندے ہیں۔ سو اگر تم سچے ہو تو تم انہیں پکارو! پھر ان کو چاہیے کہ تمہیں جواب دیں۔"
    اور مزید فرمایا:
    قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِہ اَوْلِیَآئَ لا یَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِہِمْ نَفْعًا وَّ لااَا ضَرًّا [رعد]
    " کہہ دیجئے تو کیا تم نے پھر بھی اس کے سوا اور کارساز قرار دے لیے ہیں' جو اپنی ذات کے لیے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے؟"
    مزید فرمایا:
    اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہ اِلَّاآ اِٰنثًا وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًا [النساء ]
    "یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے بھی ہیں تو بس زنانی چیزوں کو! اور یہ لوگ پکارتے بھی ہیں تو بس شیطان سرکش کو۔"
    نیز:
    وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوا مِنْ دُوْنِ اﷲِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَہ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ وَ ہُمْ عَنْ دُعَآئِہِمْ غٰفِلُوْن [احقاف]
    "اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا جو اللہ کے سوا اور کسی کو پکارے؟ جو قیامت تک بھی اس کی بات نہ سنے' بلکہ انہیں ان کے پکارنے کی خبر تک نہ ہو؟"
    ان آیات کریمہ سے یہ بات صاف طور پر واضح ہوجاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی مصائب و مشکلات میں بندوں کی مدد کرسکتا ہے' اور ان کے کام آسکتا اور ان کے دکھ درد دور کرسکتا ہے۔ اختیار و تصرف کا دائرہ فقط اسی کی ذات تک محدود ہے اور ساری کائنات کا نظام اسی کے قبضہ و اختیار میں ہے۔ اور تمام انبیاء ورسل علیہم السلام نے بھی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے فقط اسی کا دامن تھاما اور صرف اسی کے سامنے سر نیاز خم کیا۔۔۔ ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ شدائد و مشکلات میں ان سے استمداد و استعانت جائز ہے' قرآن کریم کی صریح' صاف اور واضح آیات سے متصادم ہے۔
    حضرت آدم علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنا' حضرت نوح علیہ السلام کا اپنے غرق ہونے والے بیٹے کے لیے رب کائنات سے سے نجات طلب کرنا' حضرت ابراہیم علیہ السلام کا صرف اسی سے اپنے لیے بیٹا مانگنا' مشکلات و مصائب میں گھرے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا صرف اپنے رب کو پکارنا' حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ سے نجات حاصل کرنے کے لیے صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے عجز ونیاز کرنا' اور حضرت ایوب علیہ السلام کا صرف ذات باری تعالیٰ سے شفا طلب کرنا' یہ سارے واقعات اس بات کی واضح اور بین دلیل ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی مالک ذی اختیار نہیں ہے جو مصیبت رفع کرسکتا ہو!
    لیکن ان تمام شواہد و دلائل کے برعکس بریلوی حضرات کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کسی نبی یا رسول یا ولی سے وابستہ ہوتا ہے' وہ مصائب و مشکلات میں اس کی دستگیری کرتا ہے۔39
    احمد رضا بریلوی کے ایک پیروکار یوں رقمطراز ہیں:
    اولیائے کرام ایک ہی جگہ رہ کر تمام عالم کو اپنے کف دست کی طرح دیکھتے ہیں۔ اور بعید و قریب کی آوازیں سنتے' یا ایک آن میں تمام عالم کی سیر کرتے اور صدہا کوس پر حاجت مندوں کی حاجت روائی کرتے ہیں۔40"
    ایک طرف ان حضرات کا یہ عقیدہ ہے۔۔۔۔۔اور دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچازاد بھائی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ فرمارہے ہیں کہ "اپنی حاجت صرف خدا سے طلب کر' فقط اسی سے کر! قلم کی سیاہی خشک ہوچکی ہے" ساری کائنات مل کر بھی تجھے نہ نفع دے سکتی ہے اور نہ نقصان!41"
    لیکن جناب بریلوی کہتے ہیں:
    "جب تمہیں پریشانی کا سامنا ہو تو اہل قبور سے مدد مانگو!42"
    پھر ستم بالائے ستم یہ کہ جناب بریلوی نہ صرف یہ کہ خود قرآنی آیات کی مخالفت کرتے ہیں' بلکہ جو لوگ شرک وبدعت کے خلاف سچے اور مجاہدانہ جذبے کے ساتھ صف آراء ہیں اور ان صریح آیات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صرف رب کائنات ہی مضطر اور مصیبت زدہ لوگوں کی التجا سنتا ہے اور اس کو شرف قبولیت بخشتا ہے اور صرف وہی مصائب و مشکلات کو دور کرنے والا ہے' بریلی کے یہ خاں صاحب ان کے خلاف طعن و تشنیع اور اظہار کدورت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    "ہمارے زمانے میں معدودے چند ایسے پیدا ہوئے ہیں کہ حضرات اولیاء سے مدد کے منکر ہیں اور کہتے ہیں جو کچھ کہتے ہیں انہیں اس پر کچھ علم نہیں' یوں ہی اپنے سے اٹکلی لڑاتے ہیں۔43"
    ان جیسے لوگوں کے متعلق ہی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اﷲُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآ اَلْفَیْنَا عَلَیْہِٰابَآئَنَااَوَ لَوْ کَانَٰابَآؤُہُمْ لا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لا یَہْتَدُوْنًَ [البقرہ]
    "اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے اتارا ہے اس کی پیروی کرو! تو کہتے ہیں کہ نہیں ہم تو اس کی پیروی کریں گے' جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے۔۔۔۔خواہ ان کے باپ دادا نہ ذرا عقل رکھتے ہوں اور نہ ہدایت رکھتے ہوں؟"
    اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
    وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ [البقرہ]
    "اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں' تو میں تو قریب ہی ہوں! دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے! پس لوگوں کو چاہئے کہ میرے احکام قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں عجب نہیں کہ ہدایت پاجائیں۔"
    نیز:
    وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِی اَسْتَجِبْ لَکُم [غافر]
    "اور تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ مجھے پکارو' میں تمہاری درخواست قبول کروں گا۔"
    لیکن
    ہے مریدوں کو تو حق بات گوارا لیکن
    شیخ و ملا کو بری لگتی ہے درویش کی بات​



    حوالہ جات
    1الامن والعلی از احمد رضا بریلوی ص 29 ط دارالتبلیغ لاہور۔
    2’’رسالۃ حیات الموات‘‘ از احمد رضا بریلوی درج فتاویٰ رضویہ ج 4 ص 300 پاکستان۔
    3ایضاً۔
    4۔’’الامن والعلی ‘‘از بریلوی ص 10۔
    5ملفوظات ص 99 ط لاہور۔
    6الامن والعلی ص 13۔
    7برکات الاستمداد از بریلوی درج در رسالہ رضویہ ج1ص 181 ‘اور فتاویٰ افریقہ از بریلوی ص 62 ‘ جاء الحق از احمد یار ص 200۔
    8جاء الحق از مفتی بریلوی احمد یارص 200۔
    9حدائق بخشش ص 186۔
    10ایضاً ص 181۔
    11ملفوظات ص 307۔
    12حیات الممات از بریلوی درج در فتاویٰ رضویہ ج 4 ص 200 و جاء الحق ص 199۔
    13جاء الحق ص 199۔
    14انوار الانتباہ فی حل نداء یا رسول اللہ‘مندرج در مجموعہ رسائل رضویہ جلد
    اول ص 180 مطبوعہ کراچی۔
    15ایضاً۔
    16انوار الانتباہ فی حل نداء یا رسول اللہ مندرج در مجموعہ رسائل رضویہ جلد اول ص 181۔
    17مجموعہ رسائل رضویہ از بریلوی ج1 ص182 ط کراچی۔
    18فتاویٰ افریقہ از بریلوی ص 135۔
    19حیات الموات درج در فتاویٰ ج4 ص 289۔
    20الامن والعلی ص 44۔
    21کشف فیوض از محمد عثمان بریلوی ص 39۔
    22ایضاً ص 43۔
    23ایضاً ص5۔
    24انوار الانتباہ ص 182۔
    25ایضاً ص 181۔
    39فتاویٰ افریقہ از بریلوی ص 135۔
    40جاء الحق ص 138‘139۔41جامع الترمذی۔
    42الامن والعلی ص 46۔
    43رسالہ حیات الموت درج در فتاویٰ رضویہ ج4 ص 301‘302۔
    60(الاستمداد علی اجیال الارتداد) للبریلوی ص 32‘33۔
    61(الاستمداد علی اجیال الارتداد) للبریلوی ص 32‘33۔
    62الامن والعلی ص 105۔
    63فتاویٰ الرضویہ ج1 ص 577۔
    64مواعظ نعیمیہ ص 27 پاکستان۔
    65مواعظ نعیمیہ ص 41۔
    66مواعظ نعیمیہ ص 336۔
    67الفتاویٰ الرضویہ ج6 ص 155۔
    68انواررضا 240 مقالہ اعجاز البریلوی۔
    69بہار شریعت امجد علی جزء ا ص 15۔
    70بہار شریعت امجد علی جزء 1 ص 15۔
    71جاء الحق احمد یار البریلوی ص 195۔
    72جاء الحق احمد یار البریلوی 195‘196۔
    73الامن والعلی از احمد رضا ص 57۔
    74الامن والعلی للبریلوی ص 57۔
    75حدائق بخشش للبریلوی ص 28۔
    76ایضاً125‘126۔
    77ایضاً ص 182۔
    78حدائق بخشش للبریلوی ص 179۔
    79ایضاً ص 184۔
    80ایضاً ص 179۔
    81ایضاً ص 179۔
    82(الزمزمتہ القمریہ فی الذب عن الخمر)ص356۔
    83(خالص الاعتقاد)للبریلوی ص 49۔
    84(حکایات رضویہ) للبرکاتی منقولہ عن (ملفوظات)للبریلوی ص 125۔
    85(باغ فردوس)ایوب علی رضوی البریلوی ص 26 بریلی الہند۔
    86ایضاً 26۔
    87(الامن والعی للبریلوی ص 109۔
    88(الاستمداد) الھوامش 35‘36۔
    89ایضاًص 34۔
    90(الامن والعلی) ص 34۔
    91(الحکایات الرضویہ)ص 44۔
    92حکایات رضویہ ص 102۔
    93ایضاً ص 129 ط لاہور۔
    94(جاء الحق)احمد یار ص197۔
    95رسول الکلام از دیدار علی للبریلوی ص 125 ط لاہور۔
    96(بہار شریعت)جز اول ص 6۔
    97(فتاویٰ نعیمیہ)ص 249۔
    98ملاحظہ ہو(مدائح اعلیٰ حضرت) ایوب رضوی ص 5۔
    99(مدائح اعلیٰ حضرت) ایوب رضوی ص 4‘5۔
    100(باغ فردوس( ایوب رضوی ص 4۔
    101(مدائح اعلیٰ حضرت)ص23۔
    102(ایضاً)ص 54۔
    103(نغمۃ الروح) اسماعیل رضوی ص 44‘45۔
    104(ایضاً) نور محمد اعظمی ص 47‘48۔
    105فتح البیان‘ نواب صدیق حسن خان ج 4 ص 225
    106فتاویٰ شیخ الاسلام ج1 ص 112۔
    107بہار شریعت از امجد علی ص 58۔
    108ایضاً ص 18‘19
    109علم القرآن از احمد یار ص 189۔
    110ازالۃ اضلالۃ از مفتی عبدالقادر ص 67 طبع لاہور۔
    111نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاند کو خطاب کرکے فرمایا کرتے تھے۔ ’’ربی و ربک اللہ‘‘ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو زمین کو مخاطب ہو کر فرمایا کرتے تھے۔’’یا ارض ربی وربک اعوذ باللہ من شرک‘‘ بہرحال ضروری نہیں کہ خطاب اسے ہی کیا جائے جو سنتا ہے۔
    112فتاویٰ رضویہ جلد 4 ص 227۔
    113حکایات رضویہ 57۔
    114فتاویٰ نوریہ نور اللہ قادری ص 527۔
    115ملفوظات للبریلوی جز3 ص 276۔
    116رسول الکلام دیدار علی ص1۔
    117حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کاظمی ص 3 ط ملتان۔
    118رسالہ فی الفی عمن انار نبورہ کل شی للبریلوی المندرجتہ فی مجموعۃ رسائل رضویہ ص 17‘221‘ حیات النبی للکاظمی ص 47۔
    119حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص 104۔
    120جاء الحق احمد یار بریلوی ص 151‘150۔
    121بادیۃً الطریق التحقیق والتقلید ‘ دیدار علی ص 86۔
    122حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص 125۔
    123فتاویٰ نعیمیہ اقتدار بن احمد یار بریلوی ص 345۔
    124فتاویٰ رضویہ ج4 ص 236۔
    125فتاوی نعیمیہ ص 245۔
    126حکایات رضویہ ص 44۔
    127احکام قبور مومنین مندرجہ رسائل رضویہ ص 243۔
    128احکام قبور مؤمنین‘ رسائل رضویہ 245۔
    129ایضاً ص 239۔
    130ایضاً
    131احکام قبور مؤمنین ص 247۔
    132حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم بریلوی ص 46۔
    136ملفوظات ص 307۔
    137نقلا عن الاویت المیتات فی عدم سماع الاموات مقدمہ ص 17۔
    138تفسیر المنار ج 11 ص 338‘339۔




    جاری ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 16, 2008
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد --------- باب دوم

    انبیاء و اولیاء کے اختیارات

    اسلام کے نزدیک توحید کا تصور یہ ہے کہ پوری مخلوق کی حاجت روائی مصائب و مشکلات کو حل کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی ساری کائنات کا خالق' مالک' رازق اور مدبر و منتظم ہے۔ ساری طاقتیں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ اکیلا ہی ساری نعمتوں کا مالک ہے۔ اس لیے اپنی حاجتوں کی طلب میں صرف اسی کی طرف رجوع کیا جائے' صرف اسی کو پکارا جائے اور اسی کے سامنے عجزونیاز کا اظہار کیا جائے مگر بریلویت کا یہ عقیدہ اس کے برعکس ہے۔ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے تدبیر امور کے اختیارات و تصرفات اپنے بعض بندوں کو عطا کردیئے ہیں' جن کی وجہ سے وہ مخلوق کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرسکتے ہیں۔ اسی بنا پر یہ لوگ انہیں مصیبت کے وقت پکارتے' ان کے سامنے اپنا دامن پھیلاتے اور ان کے نام کی نذرونیاز دیتے ہیں۔
    ان کے عقائد کے مطابق اللہ تعالیٰ نے تمام اختیارات اور کائنات کا سارا نظام اپنے مقرب بندوں کے سپرد کردیا ہے' اور خود اللہ تعالیٰ کی ذات معاذاللہ معطل ومعزول ہو کر رہ گئی ہے۔ اب کٹھن اور دشوار گزار حالات میں ان بندوں سے استغاثہ کیا جائے' انہی سے مدد مانگی جائے' انہی سے شفا طلب کی جائے۔۔۔۔۔کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نائب ہیں' تمام اختیارات ان کے ہاتھ میں ہیں' وہ زمین و آسمان کے مالک ہیں! جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم رکھیں۔ زندگی و موت' رزق و شفا غرضیکہ تمام خدائی اختیارات ان کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔
    اس سلسلے میں ان کی کتب سے نصوس و عبارات ذکر کرنے سے قبل قارئین کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ مشرکین مکہ کے عقائد بھی ان عقائد سے مختلف نہ تھے۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عقائد کی تردید کی اور ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کے تمام دعووں کے باوجود ان عقائد کو پھر سے اپنالیا ہے۔
    اب اس سلسلے میں اللہ کا ارشاد سنئے اور پھر ان کے عقائد کا موازنہ کیجئے۔۔۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    لااَاآ اِٰلہَ اِلَّا ہُوَ یُحْی وَ یُمِیْتُ [اعراف]
    "کوئی معبود نہیں اس کے سوا وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔"
    بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُ [ملک]
    "اسی کے ہاتھ میں حکومت ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔"
    بِیَدِہ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ وَّ ہُوَ یُجِیْرُ وَ لااَا یُجَارُ عَلَیْہِ [مومنون]
    "اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے۔ اور وہ پناہ دیتا ہے اور کوئی اس کے مقابلے میں پناہ نہیں دے سکتا۔
    بِیَدِہ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ وَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ [یاسین]
    "اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے اور تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔"
    اِنَّ اﷲَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ [ذاریات]
    "بیشک اللہ ہی سب کو روزی پہنچانے والا ہے' قوت والا ہے' مضبوط ہے۔"
    وَ مَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اﷲِ رِزْقُہَا [سورعہ ھود]
    "کوئی جاندار زمین پر ایسا نہیں کہ اللہ کے ذمہ اس کا رزق نہ ہو"۔
    وَ کَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّۃٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَہَا اَﷲُ یَرْزُقُہَا وَ اِیَّاکُمْ وَ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ [عنکبوت]
    "اور کتنے ہی جاندار ہیں جو اپنی غذا اٹھا کر نہیں رکھتے۔ اللہ ہی انہیں روزی دیتا ہے اور تم کو بھی' اور وہی خوب سننے والا ہے اور خوب جاننے والا ہے۔"
    اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآء وَ یَقْدِر [السباء ]
    "میرا پروردگار زیادہ روزی دیتا ہے جس کو چاہتا ہے' اور تنگ کردیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے۔"
    اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآء وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآء وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآء وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآء بِیَدِکَ الْخَیْرُ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر [آل عمران]
    اے سارے ملکوں کے مالک! تو جسے چاہے حکومت دے دے اور تو جس سے چاہے حکومت چھین لے' تو جسے چاہے عزت دے اور تو جسے چاہے ذلت دے' تیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔"
    قرآن کریم نے انسانیت کو توحید سے آشنا کرکے اس بہت بڑا احسان کیا ہے۔ رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تیرہ سالہ مکی دور میں اسی فکر کو لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرتے رہے۔ اسلام نے انسانیت کو بندوں کی غلامی سے نجات دے کر اور ان طوق و سلاسل کو جو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان حائل ہوگئی تھی' اپنی مقدس تعلیمات سے پاش پاش کرکے براہ راست انہیں اللہ تعالیٰ کی چوکھٹ پر جھکادیا۔۔۔۔مگر بریلوی حضرات ان شکستہ زنجیروں کے ٹکڑوں کو اکھٹا کرکے انسان کو انسان کا محتاج و گداگر بنارہے ہیں اور مخلوق کو مخلوق کی غلامی کا درس دے رہے ہیں!
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَ الْبَصِیْرُ [فاطر]
    "نابینا اور بینا برابر نہیں ہوسکتے۔"
    یہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جو توحید کی بصیرت سے بہرہ ور ہوں۔ توحید کے تصور کے بغیر امت اسلامیہ کا اتحاد ممکن نہیں ہے۔ توحید سے کنارہ کشی اختیار کرکے دوسرے مشرکانہ افکار و نظریات کی تعلیم دینا امت محمدیہ کے درمیان اختلافات کے بیج بونے کے مترادف ہے۔
    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃًاقف فَبَعَثاَ اﷲُ النَّبِینَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَص وَ اَنْزَلَ مَعَہُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَتْہُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًام بَیْنَہُمْ فَہَدَی اﷲُ الَّذِیْنَٰامَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہ ط وَ اﷲُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
    "لوگ ایک ہی امت تھے' پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دینے اور ڈرانے والے۔ اور ان کے ساتھ کتب حق نازل کیں کہ وہ لوگوں کے درمیان اس بات کا فیصلہ کریں جس میں وہ اختلاف رکھتے تھے۔ اور کسی نے اس میں اختلاف نہیں کیا' مگر انہی نے جنہیں وہ ملی تھی' انہی کی ضد کے باعث' بعد اس کے کہ انہیں کھلی ہوئی نشانیاں پہنچ چکی تھیں' پھر اللہ نے اپنے فضل سے انہیں جو ایمان والے تھے ہدایت دی' اور اللہ جسے چاہتا ہے راہ راست بتادیتا ہے۔" [بقرہ]
    آج حالت یہ ہے کہ شرک'قبر پرستی اور بدعات و خرافات کا ایک سیلاب ہے اور مسلمان اس میں بہے جارہے ہیں۔ شیطان نے ان کے دل و دماغ کو مسخر کرلیا ہے اور وہ اس کی پیروی کو اپنی نجات کا سبب سمجھ رہے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ ان کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
    قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالا(103) اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا [الکہف]
    " آپ کہہ دیجئے کہ کیا ہم تمہیں ان لوگوں (کا پتہ) بتائیں جو اعمال کے لحاظ سے بالکل ہی گھاٹے میں ہیں؟ یہ وہی لوگ ہیں جن کی ساری محنت دنیا ہی کی زندگی میں غارت ہوکر رہی اور وہ یہی سمجھتے رہے کہ وہ بڑے اچھے کام کررہے ہیں۔"
    نیز ان کے متعلق ارشاد ہے:
    اَعْیُنُہُمْ فِیْ غِطَآئٍ عَنْ ذِکْرِیْ وَ کَانُوْا لایَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًاع(101) اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اَنْ یَّّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْ اَوْلِیَآء اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَہَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ نُزُلا [کہف]
    "ان کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا اور وہ سن بھی نہیں سکتے تھے۔ کیا پھر بھی کافروں کا خیال ہے کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز قرار دے لیں؟ بے شک ہم نے دوزخ کو کافروں کی مہمانی کے لیے تیار کررکھا ہے۔"
    اب اس سلسلے میں ان کی نصوص ملاحظہ فرمائیں:
    جناب احمد رضا بریلوی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے انحراف کرتے ہوئے اور آپ کی شان میں غلو کرتے ہوئے کہتے ہیں:
    کن کا رنگ دکھاتے ہیں یہ
    مالک کل کہلاتے ہیں یہ
    قادر کل کے نائب اکبر
    ان کے ہاتھوں میں ہر کنجی ہے​
    احمد رضا بریلوی کے صاحبزادے اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان اشعار کی شرح میں رقم طراز ہیں۔
    "جو نعمت تمام عالم میں کہیں ظاہر ہوتی ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی عطا فرماتے ہیں۔ انہی کے ہاتھ میں سب کنجیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے خزانے سے کوئی چیز نہیں نکلتی مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے۔ حضور اکرم کوئی بات چاہتے ہیں وہی ہوتی ہے' اس کے خلاف نہیں ہوتی۔ حضور کی چاہت کو جہاں میں کوئی پھیرنے والا نہیں ہے۔60
    جناب بریلوی کے اس قصیدے کے مزید اشعار سنئے
    ہلتی نیویں جماتے یہ ہیں
    روتی آنکھیں ہنساتے یہ ہیں
    حق سے خلق ملاتے یہ ہیں
    کیا کیا رحمت لاتے یہ ہیں
    دفع بلا فرماتے یہ ہیں
    جیتے ہم ہیں جلاتے یہ ہیں
    قبضہ کل پہ رکھاتے یہ ہیں61
    ڈوبی ناویں تراتے یہ ہیں
    جلتی جانیں بجھاتے یہ ہیں
    اس کے نائب ان کے صاحب
    شافع نافع رافع دافع
    دافع یعنی حافظ و حامی
    ان کے نام کے صدقے جس سے
    اس کا حکم جہاں میں نافذ​
    جناب احمد رضا دوسری جگہ کہتے ہیں:
    "کوئی حکم نافذ نہیں ہوتا مگر حضور کے دربار سے۔ کوئی نعمت کسی کو نہیں ملتی مگر حضور کی سرکار سے!62"
    اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں:
    "ہر چیز' ہر نعمت' ہر مراد' ہر دولت' دین میں' دنیا میں' آخرت میں' روزاول سے آج تک' آج سے ابداآباد تک' جسے ملی یا ملنی ہے' حضور اقدس سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس سے ملی اور ملتی ہے۔63"
    بریلوی فرقے کے ایک دوسرے راہنما لکھتے ہیں:
    آقائے دوجہاں سخی داتا ہیں اور ہم ان کے محتاج ہیں' تو کیا وجہ ہے کہ ان سے استمداد نہ کی جائے؟64"
    دوسری جگہ کہتے ہیں:
    خالق کل نے آپ کو مالک کل بنادیا
    دونوں جہاں ہیں آپ کے قبضہ و اختیار میں​
    اسی لیے حضرت آدم علیہ السلام نے عرش پر حضور علیہ السلام کا نامِ پاک لکھا دیکھا' تاکہ معلوم ہو کہ مالک عرش آپ ہیں65"
    ایک اور جگہ نقل کرتے ہیں:
    حضور مدینہ منورہ میں رہ کر ذرے ذرے کا مشاہدہ فرمارہے ہیں اور ہر جگہ آپ کا عمل درآمد اور تصرف بھی ہے66"
    بریلویت کے فرماں رواں جناب احمد رضا صاحب بریلوی کہتے ہیں:
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم خلیفہ اعظم اور زمین و آسمان میں تصرف فرماتے ہیں۔67
    جناب احمد رضا کے ایک پیروکار اپنے مطاع و مقتدا سے نقل کرتے ہیں کہ :
    "رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زمینوں اور لوگوں کے مالک ہیں اور تمام مخلوقات کے مالک ہیں۔ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نصرت اور مدد کی کنجیاں ہیں اور انہی کے ہاتھ میں جنت و دوزخ کی کنجیاں ہیں۔ اور وہی ہیں جو آخرت میں عزت عطا فرماتے ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مصیبتوں اور تکالیف کو دور فرماتے ہیں اور وہ اپنی امت کے محافظ اور مددگار ہیں۔68"
    بریلویت کے ایک اور راہنما رقم طراز ہیں:
    "حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کے نائب مطلق ہیں۔ تمام جہاں حضور کے تحت تصرف کردیا گیا' جسے جو چاہیں دیں' جس سے جو چاہیں واپس لیں۔69"
    مزید ارشاد فرماتے ہیں:
    "تمام زمین ان کی ملک ہے' تمام جنت ان کی جاگیر ہے' ملکوت السّموات والارض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر فرمان' جنت ونار کی کنجیاں آپ کے دست اقدس میں دے دی گئیں۔ رزق' خوراک اور ہر قسم کی عطائیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں۔ دنیا و آخرت حضور علیہ السلام کی عطا کا ایک حصہ ہیں۔70"
    بریلوی طائفہ کے مفتی احمد یار گجراتی اپنے اس عقیدے کا اظہار یوں کرتے ہیں:
    "سارا معاملہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ہاتھ کریمانہ میں ہے' جو چاہیں جس کو چاہیں دے دیں۔71"
    صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی مالک کل اور مختار مطلق نہیں' بلکہ دوسرے انبیاء کرام (علیہم السلام) بھی مخلوق کی اندرونی حالت اور ان کی ارواح پر تصرف کرسکتے ہیں۔ اور ان کو قدرت حاصل ہوتی ہے' جس سے مخلوق کے ظاہر پر تصرف کرسکتے ہیں۔72"
    انبیاء و رسل کے علاوہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی جنت و دوزخ کے مالک ہیں چنانچہ بریلویت کے امام احمد رضا صاحب موضوع روایت کا سہارا لیتے ہوئے رقمطراز ہیں:
    "روز قیامت اللہ تعالیٰ سب اگلوں پچھلوں کو جمع فرمائے گا اور دو منبر نور لاکر عرش کے داہنے بائیں بچھائے جائیں گے۔ ان پر دو شخص چڑھیں گے: داہنے والا پکارے گا: اے جماعات مخلوق' جس نے مجھے پہچانا اس نے پہچانا اور جس نے نہ پہچانا تو میں رضوان داروغہ بہشت ہوں۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جنت کی کنجیاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کردوں۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کو دو کہ وہ اپنے دوستوں کو جنت میں داخل کریں۔ سنتے ہو گواہ ہوجاؤ!
    پھر بائیں والا پکارے گا اے جماعات مخلوق! جس نے مجھے پہچانا اس نے پہچانا اور جس نے نہ پہچانا تو میں مالک داروغہ ہوں۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ دوزخ کی کنجیاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کردوں۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کو دوں کہ وہ اپنے دشمنوں کو جہنم میں داخل کریں۔73"
    پھر اپنے تشیع کا ثبوت دیتے ہوئے اور تقیہ کا لبادا اتارتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ذکر کرتے ہیں:
    حضرت علی قسیم دوزخ ہیں یعنی اپنے دوستوں کو جنت اور اعداء کو دوزخ میں داخل فرمائیں گے۔74"
    جناب احمد رضا بریلوی شیخ عبدالقادر جیلانی کی شان میں غلو کرتے مشرکانہ عقیدے کی یوں وضاحت کرتے ہیں
    ذی تصرف بھی ہے ماذون بھی مختار بھی ہے
    کار عالم کا مدبر بھی ہے عبدالقادر75​
    مزید ارشاد ہوتاہے
    جلادے جلادے کفر و الحاد
    کہ تو محیی ہے تو قاتل ہے یا غوث76
    خدا سے لیں لڑائی وہ ہے معطی
    نبی قاسم ہے موصل ہے یا غوث​
    آگے چل کر فرماتے ہیں
    "اے ظل اللہ شیخ عبدالقادر
    اے بندہ پناہ شیخ عبدالقادر
    محتاج و گدائم تو ذوالتّاج و کریم
    شیئا للہ شیخ عبدالقادر77​
    ایک اور جگہ یوں گویا ہوتے ہیں:
    "اے عبدالقادر' اے فضل کرنے والے' بغیر مانگے سخاوت کرنے والے' اے انعام و اکرام کے مالک' تو بلند وعظیم ہے۔ ہم پر احسان فرما اور سائل کی پکار کو سن لے۔ اے عبدالقادر ہماری آرزوؤں کو پورا کر۔78"
    احمد رضا دوسری جگہ گل فشانی فرماتے ہیں:
    "عبدالقادر نے اپنا بستر عرش پر بچھا رکھا ہے اور عرش کو فرش پر لے آتے ہیں۔79"
    ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
    "اہل دین رامغیث عبدالقادر!80"
    مزید سنئے
    "احد سے احمد سے تجھ کو' کن اور سب کن فیکون حاصل ہے یاغوث81
    بریلوی حضرات اپنے مشرکانہ عقائد ثابت کرنے کے لیے شیخ جیلانی رحمہ اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ فرمایا کرتے تھے !
    "اللہ نے مجھے تمام قطبوں کا سردار بنایاہے۔ مرا حکم ہر حال میں جاری و ساری ہے۔ اے میرے مرید! دشمن سے مت گھبرا۔ میں مخالف کو ہلاک کردینے والا ہوں۔ آسمان و زمین میں میرا ڈنکا بجتا ہے۔ میں بہت بلند رتبے پر فائز ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی ساری مملکت میرے زیر تصرف ہے۔ میرے تمام اوقات ہر قسم کے عیب سے پاک صاف ہیں۔ پورا عالم ہر دم میری نگاہ میں ہے۔ میں جیلانی ہوں' محی الدین میرا نام ہے' میرے نشان پہاڑ کی چوٹیوں پر ہیں۔82
    ایک اور افتراء سنئے:
    "تمام اہل زمانہ کی باگیں میرے سپرد ہیں' جسے چاہوں عطاکروں یا منع کروں"۔83
    جناب بریلوی شیخ جیلانی کی جانب ایک اور جھوٹ منسوب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
    "لوگوں کے دل میرے ہاتھ میں ہیں۔ میں چاہوں تو اپنی طرف متوجہ کرلوں اور چاہوں تو پھیر دوں"۔84
    احمد رضا خاں کے ایک پیروکار کا عقیدہ ملاحظہ کیجئے:
    "لوح محفوظ میں تشبیت کا حق ہے حاصل
    مرد سے عورت بنادیتے ہیں غوث الاغواث"
    اس شعر کی تشریح بھی بریلوی حضرات کی زبانی سنئے:
    "شیخ شہاب الدین سہروردی رضی اللہ عنہ' جو سلسلہ سہروردیہ کے امام ہیں' آپ کی والدہ ماجدہ حضور غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کے والد ماجد کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ حضور دعا فرمائیں' میرے لڑکا پیدا ہو۔ آپ نے لوح محفوظ میں دیکھا' اس میں لڑکی مرقوم تھی۔ آپ نے فرمادیا کہ تیری تقدیر میں لڑکی ہے۔ وہ بی بی یہ سن کر واپس ہوئیں' راستہ میں غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے۔ آپ کے استفسار پر انہوں نے سارا ماجرا بیان کیا۔ حضور نے ارشاد فرمایا' جا تیرے لڑکا ہوگا۔ مگر وضع حمل کے وقت لڑکی پیدا ہوئی۔ وہ بی بی بارگاہ غوثیت میں اس مولود کو لے آئیں اور کہنے لگیں' حضور لڑکا مانگوں اور لڑکی ملے؟ فرمایا' یہاں تو لاؤ اور کپڑا ہٹا کر ارشاد فرمایا دیکھو تو یہ لڑکا ہے یا لڑکی؟ دیکھا تو لڑکا! اور وہ یہی شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمۃ تھے۔ آپ کے حلیہ مبارک میں ہے کہ آپ کے پستان مثل عورتوں کے تھیں۔85"
    یہی متبع بریلویت ایک اور واقعہ نقل کرتے ہیں' جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک شخص کی تقدیر میں موت تھی۔ شیخ جیلانی نے اس کی تقدیر کو بدل کر مقررہ وقت پر مرنے سے بچالیا۔86"
    جناب احمد رضا بریلوی اپنی کتاب میں نقل کرتے ہیں :
    "ہمارے شیخ سیدنا عبدالقادر رضی اللہ عنہ اپنی مجلس میں برملا زمین سے بلندکرہ ہوا پر مستی فرماتے اور ارشاد کرتے: آفتاب طلوع نہیں ہوتا' یہاں تک کہ مجھ پر سلام کرے۔ نیا سال جب آتا ہے' مجھ پر سلام کرتا ہے اور مجھے خبر دیتا ہے' جو کچھ اس میں ہونے والا ہے۔ نیا دن جو آتا ہے' مجھ پر سلام کرتا ہے اور مجھے خبر دیتا ہے جو کچھ اس میں ہونے والا ہے۔87"
    اور یہ اختیارات شیخ جیلانی تک ہی محدود نہیں ہیں' بلکہ دوسرے اولیاء و مشائخ تصوف بھی خدا کی خدائی میں شریک ہیں۔ وہ ان صفات سے متصف اور ان طاقتوں کے مالک ہیں۔ چنانچہ احمد رضا بریلوی کے صاحبزادے ارشاد کرتے ہیں:
    "بے شک سب پیشوا' اولیاء علماء اپنے اپنے پیروؤں کی شفاعت کرتے ہیں۔ اور جب ان کے پیروکار کی روح نکلتی ہے' جب منکر نکیر اس سے سوال کرتے ہیں' جب اس کا حشر ہوتا ہے' جب اس کا نامہ اعمال کھلتا ہے' جب اس سے حساب لیا جاتا ہے' جب اس کے عمل تلتے ہیں' جب صراط پر چلتا ہے ہر وقت ہر حال میں اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ کسی جگہ اس سے غافل نہیں ہوتے اور تمام ائمہ مجتہدین اپنے پیروؤں کی شفاعت کرتے ہیں اور دنیا قبر وحشر ہر جگہ سختیوں کے وقت نگہداشت فرماتے ہیں جب تک وہ صراط سے پار نہ ہوجائیں۔88"
    آسمان سے زمین تک ابدال کی ملک ہے اور عارف کی ملک عرش سے فرش تک89"
    اور خود جناب بریلوی فرماتے ہیں:
    "اولیاء کی وساطت سے خلق کا نظام قائم ہے۔90"
    اور سنئے:
    اولیاء کرام مردے کو زندہ کرسکتے ہیں' مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفا دے سکتے ہیں اور ساری زمین کو ایک قدم میں طے کرنے پر قادر ہیں91"
    "غوث ہر زمانہ میں ہوتا ہے اس کے بغیر زمین و آسمان قائم نہیں رہ سکتے92"
    بریلوی صاحب کے ایک پیروکار لکھتے ہیں:
    "اولیاء کرام اپنے مریدوں کی مدد فرماتے ہیں اور اپنے دشمنوں کو ہلاک کرتے ہیں93"
    ان کے مشہور مفتی احمد یار گجراتی گوہر افشانی کرتے ہیں:
    "اولیاء کو اللہ سے یہ قدرت ملی ہے کہ چھوٹا ہوا تیر واپس کرلیں94"
    یہی مفتی صاحب رقم طراز ہیں:
    "اولیاء کو قبر کی مکھی تو کیا' عالم پلٹ دینے کی طاقت ہے۔۔۔۔مگر توجہ نہیں دیتے95"
    بریلویت کے ایک اور راہنما لکھتے ہیں:
    ظاہر قضائے معلق تک اکثر اولیاء کی رسائی ہوتی ہے۔96"
    ایک دوسرے بریلوی صاحب ارشاد فرماتے ہیں:
    "اولیاء کا تصرف و اختیار مرنے کے بعد اور زیادہ ہوجاتا ہے۔97"
    یہ ہیں غیر اللہ کے بارے میں ان کے عقائد۔ انہوں نے اپنی دعاؤں اور طلب گاریوں میں دوسری ہستیوں کو بھی شریک کرلیا اور اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے اختیارات و تصرفات اس کی مخلوق میں تقسیم کردیئے ہیں' حالانکہ شریعت اسلامیہ میں کارسازیوں اور بے نیازیوں کا تصور صرف اللہ تعالیٰ تک ہی محدود ہے۔
    بریلوی حضرات نے اپنے اولیاء کو وہ تمام اختیارات تفویض کردیے' جو عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام' یہودی حضرت عزیر علیہ السلام اور مشرکین مکہ لات' ہبل' عزی اور منات وغیرہ میں سمجھتے تھے۔
    اُفِّ لَّکُمْ وَلِمَا تَعْبُدُوْنَ
    یہ مت سمجھئے کے بریلویت کے امام جناب احمد رضا خان صاحب کا ان خدائی اختیارات میں کوئی حصہ نہ تھا۔ وہ بھی دوسرے اولیاء کی طرح رزاق' داتا' شافی' غوث' مختار' قادرمطلق' حاجت روا اور مشکل کشا تھے۔ ان کی صفات ملاحظہ کیجئے۔
    بریلویت کے ایک پیروکار اپنے ہادی و مرشد کی شان بالا صفات میں اپنی کتاب مدائح اعلیٰ حضرت میں نغمہ سرا ہیں۔
    یاسیدی' یا مرشدی' یا مالکی' یا شافعی
    اے دستگیر راہنما یا سیدی احمد رضا
    اندھوں کو بینا کردیا بہروں کو شنوا کردیا
    دین نبی کو زندہ کیا یا سیدی احمد رضا
    امراض روحانی و نفسانی امت کے لیے
    اور ترا دارالشفا یا سیدی احمد رضا98​
    یہی مرید اپنے پیروشیخ جناب احمد رضا کے سامنے عجز و نیاز کرتے ہوئے اور اپنا دامن پھیلا کر یوں پکارتا ہے
    میرے آقا' میرے داتا' مجھے ٹکڑ ملجائے
    دیر سے آس لگائے ہے یہ کتا تیرا
    اپنی رحمت سے اسے کرلے قبول اے پیارے
    نذر میں لایا ہے یہ چادر یہ کمینا تیرا
    اس عبید رضوی پر بھی کرم کی ہو نظر
    بد سہی چور سہی ہے تو وہ کتا تیرا99​
    اور سنئے جناب احمد رضا خاں بریلوی کے ایک اور معتقد ارشاد کرتے ہیں
    "قیامت میں مفر کی منکر و تدبیر کیا سوچی؟
    کہ ہوگا گھومتا کوڑا امام اہل سنت کا 100"
    کس سے کریں فریاد خدائی مالک و مولیٰ تیری دوہائی
    تیرے سوا کون ہمارا حامی سنت اعلیٰ حضرت
    بھیک سدا مانگی پائی دیر کیوں اس بار لگائی
    میرے کرم' سخی' ان داتا' حامی سنت اعلیٰ حضرت
    کب سے کھڑی ہیں ہاتھ پسارے بندہ نواز گدا بیچارے
    اب تو کرم ہوجائے حامی سنت اعلیٰ حضرت!101​
    اور سنئے
    وہی فریاد رس ہے بے کسوں کا
    وہ محتاج کا حاجت روا ہے
    ستارہ کیوں نہ میرا اوج پر ہو
    ادھر آقا ادھر احمد رضا ہے
    مجھے کیا خوف ہو وزن عمل کا
    حمایت پر مرا حامی تلا ہے102"​
    بریلویت کے ایک دوسرے شاعر کا عقیدہ:
    میری کشتی پڑ گئی منجدھار میں
    دے سہارا اک ذرا احمد رضا
    چار جانب مشکلیں ہیں ایک میں
    اے مرے مشکل کشا احمد رضا
    لاج رکھ لے میرے پھیلے ہاتھ کی
    اے میرے حاجت روا احمد رضا
    جھولیاں بھردے میری داتا میرے
    ہوں تیرے در کا گدا احمد رضا103"​
    چند اور اشعار نقل کرکے ہم اپنی بحث کو سمیٹتے ہیں۔
    بریلویت کے اور شاعر اپنے مذہب کے عقائد کی وضاحت کرتے ہوئے نغمہ سرا ہیں۔
    غوث و قطب اولیاء احمد رضا
    ہے میرا مشکل کشا احمد رضا
    دونوں عالم میں ہے تیرا آسرا
    ہاں مدد فرما شاہ احمد رضا
    تو ہے داتا اور میں منگتا ترا
    میں تیرا ہوں تو میرا احمد رضا!104"​
    قارئین کرام! ملاحظہ فرمائیے' کیا یہ عقائد قرآن کریم کی واضح آیات سے استہزاء کے مترادف نہیں ہیں؟ کیا ان میں اور کتاب و سنت میں کوئی مطابقت ہے؟ کیا ان سے یہ بات اچھی طرح واضح نہیں ہوجاتی کہ ان حضرات کا مقصد مشرکانہ عقائد اور دور جاہلیت کے افکار کی نشر واشاعت ہے؟ کیا مشرکین مکہ کے عقائد ان سے ابتر تھے؟
    اس سلسلے میں ہم یکتائے عصر' فرید دھر اور برصغیر کے مفسر و محدث علامہ نواب صدیق حسن خاں رحمہ اللہ کی تفسیر فتح البیان کی عبارت کا ذکر کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔نواب صدیق حسن رحمۃ اللہ علیہ فرمان خداوندی لا املک لنفسی ضرا و لا نفعا الا ماشاء اللہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    "اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے' جنہوں نے مصائب کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا عقیدہ بنالیا ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے بڑی فصاحت سے یہ بیان فرمادیا کہ تکالیف و مصائب میں مدد کرنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے' انبیاء علیہم السلام و صالحین کا بھی وہ مددگار ہے۔ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی امت سے واشگاف الفاظ میں کہہ دیں کہ میں اپنی ذات کے لیے بھی نفع نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ قرآن تو یہ بتلارہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذات کے لیے بھی نفع ونقصان کا اختیار نہیں ہے' پھر وہ مختار کل کیونکر ہوسکتے ہیں؟
    اور پھر جب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خدائی اختیار حاصل نہیں ہیں' تو باقی مخلوق میں سے کسی کوحاجت روا اور مشکل کشا کیسے مانا جاسکتا ہے؟
    تعجب ہے ان لوگوں پر' جو ان بندوں کے سامنے دامن پھیلاتے اور ان سے اپنی حاجتیں مانگتے ہیں' جو منوں مٹی تلے دفن ہیں۔
    وہ اس شرک سے باز کیوں نہیں آتے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر کیوں دھیان نہیں دیتے؟
    کب انہیں قل ھوا ﷲاحد کی صحیح تفسیر کا علم ہوگا؟
    یہ لوگ کب لاالٰہ الااﷲ کے صحیح مفہوم سے آشنا ہوں گے؟
    اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ علم وفضل کے دعویدار ان کے واعظین و علماء ' جنہیں عوام نے سچے راہنما سمجھ رکھا ہے' وہ انہیں ان مشرکانہ اور دور جاہلیت کے تصورات و اعمال سے کیوں نہیں روکتے؟
    انہوں نے اپنی زبانوں پر مہر کیوں لگا رکھی ہے؟
    ان کے عقائد تو دور جاہلیت کے مشرکوں سے بھی بدتر ہیں۔ وہ تو اپنے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں فقط سفارشی سمجھتے تھے' مگر انہوں نے تو تمام خدائی اختیارات اپنے بزرگوں کو عطا کردیئے ہیں۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بجائے براہ راست اپنے بزرگوں سے مدد و معاونت مانگتے ہوئے ذرا سا بھی خوف محسوس نہیں کرتے۔ شیطان نے ان کے اذہان میں اپنے افکار اتار لیے ہیں۔ وہ شیطان کی پیروی کرتے چلے جارہے ہیں اور انہیں اس کی خبر بھی نہیں۔ وہ سمجھ رہے ہیں ہم نیکی کی راہ پر گامزن ہیں' حالانکہ وہ شیطان کی آنکھ کو ٹھنڈا کررہے ہیں اور اس کی خوشی کا سامان مہیا کررہے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!105"
    اور سب سے آخرع میں ہم شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی عبارت نقل کرتے ہیں۔۔۔شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ: " حضرت بایزید بسطامی کہا کرتے تھے' مخلوق کا مخلوق سے استغاثہ کرنا بالکل ایسا ہی ہے' جیسے کوئی غرق ہونے والا شخص دوسرے غرق ہونے والے سے مدد طلب کرے۔"
    شیخ ابوعبداللہ القرشی کہتے ہیں کہ: "مخلوق کا مخلوق سے استغاثہ کرنا اس طرح ہے جیسے کوئی قیدی دوسرے قیدی سے رہائی کی طلب کرے۔"
    پھر موسیٰ علیہ السلام اپنی دعا میں فرمایا کرتھے تھے:
    "اے اللہ تو ہی تمام تعریفوں کا حق دار ہے۔ ہم آپ کے سامنے اپنی حاجتوں کو پیش کرتے ہیں۔ صرف تو ہی معین و مددگار ہے۔ تو ہی مخلوق کی فریاد رسی پر قادر ہے۔ ہم تجھ پر توکل کرتے ہیں۔ نفع و نقصان صرف تیرے ہاتھ میں ہے۔"
    سلف صالحین میں سے کوئی بزرگ بھی مافوق القدرت اشیاء سے استغاثے کو جائز نہیں سمجھتا"۔106





    جاری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد --------- باب دوم

    سماع موتیٰ

    بریلوی حضرات کا یہ عقیدہ گزشتہ عقیدے کا لازمی جزو ہے' کیونکہ انتقال کے بعد صرف وہی شخص مخلوق کی داد رسی و دستگیری کرسکتا ہے' جو ان کی پکار کو سنتا ہو۔ مذہب بریلویت کا اپنے بزرگوں کے بارے میں یہ اعتقاد ہے کہ وہ اپنے مریدوں کی نداء کو سنتے ہیں اور ان کی مدد کے لئے پہنچتے ہیں۔ خواہ ان کا مرید اس دنیا کے کسی گوشے سے بھی پکارے۔ اسی بنیاد پر یہ کہتے ہیں:
    "اولیاء کرام اپنی قبروں میں حیات ابدی کے ساتھ زندہ ہیں۔ ان کے علم و ادراک و سمع و بصر پہلے کی نسبت بہت قوی ہیں۔107"
    یعنی مرنے کے بعد ان کے سننے اور دیکھنے کی قوت اور زیادہ تیز ہوجاتی ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنی زندگی میں اسباب کے تابع تھے' مگر مرنے کے بعد وہ ان اسباب سے بے نیاز ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ اس غیر اسلامی فلسفے کی وضاحت کرتے ہوئے بریلویت کے ایک امام نقل کرتے ہیں کہ :
    ۔۔’’بے شک پاک جانیں جب بدن کے علاقوں سے جدا ہوتی ہیں' عالم بالا سے مل جاتی ہیں' تو سب کچھ ایسے دیکھتی سنتی ہیں جیسے یہاں حاضر ہیں۔108"
    مذہب بریلویت کے ایک اور پیروکار لکھتے ہیں:
    "مردے سنتے ہیں اورمحبوبین کی وفات کے بعد مدد کرتے ہیں۔109"
    ایک اور بریلوی عالم دین رقمطراز ہیں :
    "شیخ جیلانی ہر وقت دیکھتے ہیں اور ہر ایک کی پکار سنتے ہیں۔ اولیاء اللہ کو قریب اور بعید کی چیزیں سب برابر دکھائی دیتی ہیں۔110"
    اور خود بریلویت کے امام جناب احمد رضا خاں نقل کرتے ہیں :
    "مردے سنتے ہیں کہ خطاب111 اسی کو کیا جاتا ہے' جو سنتا ہو۔112"
    بریلویت کے خاں صاحب نے اپنی کتب میں بہت سی اسرائیلی حکائتیں اور افسانوی قصے کہانیاں نقل کی ہیں' جن سے وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ بزرگان دین نہ صرف یہ کہ مرنے کے بعد سنتے ہیں' بلکہ کلام بھی کرتے ہیں۔
    چنانچہ ارشاد کرتے ہیں:
    "سید اسماعیل حضرمی ایک قبرستان سے گزرے' تو مْردوں کو عذاب ہورہا تھا۔ آپ نے دعا کرکے ان پر سے عذاب اٹھوادیا۔ ایک قبر میں سے آواز آئی ' حضرت! مجھ سے عذاب نہیں اٹھا۔ آپ نے دعا فرمائی اس سے بھی عذاب اٹھا لیا گیا(ملحضاً)۔113
    بریلوی فرقے کے ایک اور امام کا غیر اسلامی فلسفہ سماعت فرمائیے۔ ارشاد ہوتا ہے:
    "یا علی یا غوث کہنا جائز ہے' کیونکہ اللہ کے پیارے بندے برزخ میں سن لیتے ہیں۔114"
    جناب احمد رضا بریلوی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انبیاء و اولیاء پر موت طاری نہیں ہوتی' بلکہ انہیں زندہ ہی دفنا دیا جاتا ہے۔ اور ان کی قبر کی زندگی دنیا کی زندگی سے زیادہ قوی اور افضل ہوتی ہے۔ جناب بریلوی انبیائے کرام علیہم السلام کے متعلق فرماتے ہیں:
    "انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی حیات حقیقی حسی و دنیاوی ہوتی ہے۔ ان کی تصدیق وعدہ الٰہیہ کے لیے محضص ایک آن کی آن موت طاری ہوتی ہے' پھر فوراً ان کو ویسے ہی حیات عطا فرمادی جاتی ہے۔ اس حیات پر وہی احکام دنیویہ ہیں۔ ان کا ترکہ بانٹا نہ جائے گا' ان کی ازواج کا نکاح حرام' نیز ازواج مطہرات پر عدت نہیں۔ وہ اپنی قبور میں کھاتے پیتے نماز پڑھتے ہیں۔115"
    ایک اور صاحب ارشاد فرماتے ہیں:
    انبیائے کرام چالیس دن قبر میں رہنے کے بعد نماز پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔116"
    مزید سنئے:
    "انبیائے کرام اپنی قبر میں زندہ ہیں۔ وہ چلتے پھرتے ہیں۔ نماز پڑھتے اور کلام کرتے ہیں اور مخلوق کے معاملات میں تصرف فرماتے ہیں۔117"
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا ارتکاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنی کتب میں لکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دفن کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے۔ چنانچہ جناب بریلوی ارشاد کرتے ہیں:
    "قبر شریف میں اتارتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم "امتی امتی" فرمارہے تھے۔118"
    جناب بریلوی کے متبع کا فرمان سنئے:
    "جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اقدس قبض ہورہی تھی' اس وقت بھی جسم میں حیات موجود تھی۔119"
    مزید سنئے:
    "ہمارے علماء نے فرمایا کہ حضور علیہ السلام کی زندگی اور وفات میں کوئی فرق نہیں۔ اپنی امت کو دیکھتے ہیں اور ان کے حالات ونیات اور ارادے اور دل کی باتوں کو جانتے ہیں۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بالکل ظاہر ہیں۔ ان سے پوشیدہ نہیں۔120"
    ایک اور بریلوی امام تحریر کرتے ہیں۔
    :تین روز تک روضہ شریف سے برابر پانچ وقت اذان کی آواز آتی رہی۔121"
    نیز ارشاد ہوتا ہے:
    جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جنازہ حجرہ مبارک کے سامنے رکھا گیا آواز آئی (ادخلوا الحبیب الی الحبیب) یعنی دوست کو دوست کے پاس لے آؤ۔122"
    یہ وصف صرف انبیاء کرام علیہم السلام تک ہی محدود نہیں ہے' بلکہ بزرگان دین بھی اس رتبے کے حامل ہیں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
    "اللہ کے ولی مرتے نہیں' بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہوتے ہیں۔ ان کی ارواح صرف ایک آن کے لیے خروج کرتی ہیں پھر اسی طرح جسم میں ہوتی ہیں جس طرح پہلے تھیں۔123"
    بریلویت کے امام اکبر بھی اسی عقیدے کا اظہار کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
    "اولیاء بعد الوصال زندہ اور ان کے تصرفات و کرامات پائندہ۔ اور ان کے فیض بدستور جاری اور ہم غلاموں' خادموں' محبوں' معتقدوں کے ساتھ وہی امداد واعانت ساری۔124"
    ان کے ایک پیروکار کا ارشاد سنئے۔ نقل کرتے ہیں:
    "اولیاء اللہ کی موت مثل خواب کے ہے۔125"
    جناب خاں صاحب بریلوی فرماتے ہیں:
    "اولیاء کرام اپنی قبروں میں پہلے سے زیادہ سمع اور بصر رکھتے ہیں۔126"
    مزید نقل کرتے ہیں:
    "اللہ تعالیٰ کے پیارے زندہ ہیں اگرچہ مرجائیں' وہ تو ایک گھر سے دوسرے گھر میں بدلائے جاتے ہیں۔127"
    ظرافت طبع کے لیے ایک افسانوی قصہ بھی سن لیجئے۔ ایک عارف راوی ہیں:
    "مکہ۔۔۔۔۔مکہ معظمہ میں ایک مرید نے کہا' پیر ومرشد میں کل ظہر کے بعد مرجاؤں گا۔ حضرت ایک اشرفی لے لیں' آدھی میں میرا دفن اور آدھی میں میرا کفن کریں۔ جب دوسرا دن ہوا اور ظہر کا وقت آیا' مرید مذکور نے آکر طواف کیا' پھر کعبے سے ہٹ کر لیٹا تو روح نہ تھی۔ میں نے قبر میں اتارا' آنکھیں کھول دیں۔ میں نے کہا' "کیا موت کے بعد زندگی؟"
    کہا (انا حیّ و کلّ محبّ للہ حیّ )
    "میں زندہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کا ہر دوست زندہ ہے۔128"
    جناب بریلوی نے اپنی ایک اور کتاب میں عنوان باندھا ہے:
    "انبیاء و شہداء اور اولیاء اپنے بدن مع اکفان کے زندہ ہیں۔129"
    جناب بریلوی کی طرف سے ایک اور افسانہ پیش خدمت ہے۔۔۔۔ کسی بزرگ سے نقل کرتے ہیں:
    "میں ملک شام سے بصرہ کو جاتا تھا۔ رات کو خندق میں اترا' وضو کیا' دو رکعت نماز پڑھی' پھر ایک قبر پر سر رکھ کر سوگیا۔ جب جاگا تو صاحب قبر کو دیکھا' مجھ سے گلہ کرتا ہے اور کہتا ہے:
    (قد اٰ ذیتنی منذ اللیلۃ)130
    "اے شخص' تو نے مجھ کو رات بھر ایذا دی۔131"
    اس طرح کے جھوٹے واقعات' خانہ ساز کرامتوں اور قصے کہانیوں سے ان کی کتب بھری ہوئی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے' افسانہ نگاری میں ان کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ہر شخص دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتا ہے۔
    اس مذہب کے ایک پیروکار افسانہ نگاری کرتے ہوئے کسی بزرگ کے متعلق لکھتے ہیں:
    "انتقال کے بعد انہوں نے فرمایا: میرا جنازہ جلدی لے چلو' حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کا انتظار فرمارہے ہیں۔132"
    اس طرح کی اسرائیلی اساطیر اور خودساختہ واقعات پر انہوں نے اپنے مذہب کی عمارت قائم کی ہے۔
    اب ذرا س مشرکانہ عقیدے کے متعلق قرآن کریم کی وضاحت سنئے اور ملاحظہ فرمایئے کہ کس طرح سے ان لوگوں کے رگ و پے میں شرک کے اثرات سرایت کرگئے ہیں۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوا مِنْ دُوْنِ اﷲِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَہ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ وَ ہُمْ عَنْ دُعَآئِہِمْ غٰفِلُوْن [سورہ احقاف]
    "اور اس سے بڑھ کر اور کون گمراہ ہوگا' جو اللہ کے سوا کسی اور کو پکارے؟ جو قیامت تک بھی اس کی بات نہ سنے' بلکہ انہیں ان کے پکارنے کی خبر تک نہ ہو۔"
    اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
    اَیُشْرِکُوْنَ مَا لا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ ہُمْ یُخْلَقُوْنَ (191) وَ لا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَہُمْ نَصْرًا وَّ لاا اَنْفُسَہُمْ یَنْصُرُوْنَ(192) وَ اِنْ تَدْعُوْہُمْ اِلَی الْہُدی لا یَتَّبِعُوْکُمْ سَوَآئٌ عَلَیْکُمْ اَدَعَوْتُمُوْہُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ(193) اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْہُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(194) اَلَہُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِہَآ اَمْ لَہُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِہَآ اَمْ لَہُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِہَآ اَمْ لَہُمْٰاذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِہَا قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآئَکُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنِ فَلا تُنْظِرُوْنِ(195) اِنَّ وَلِیِّ ےَ اﷲُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ وَ ہُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ(196) وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہ لایَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَکُمْ وَ لاااَنْفُسَہُمْ یَنْصُرُوْنَ(197) وَ اِنْ تَدْعُوْہُمْ اِلَی الْہُدی لایَسْمَعُوْا وَ تَرٰہُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَ ہُمْ لا یُبْصِرُوْنَ [اعراف]
    "کیا (اللہ کے ساتھ) یہ انہیں شریک کرتے ہیں جو کسی کو پیدا نہ کرسکیں' بلکہ خود ہی پیدا کئے گئے ہیں۔ وہ انہیں کسی قسم کی مدد بھی نہیں دے سکتے (بلکہ) خود اپنی ہی مدد نہیں کرسکتے۔ اور اگر تم انہیں کوئی بات بتلانے کو پکارو تو تمہاری پیروی نہ کرسکیں۔ برابر ہیں (دونوں امر تمہارے اعتبار سے) کہ خواہ انہیں پکارو' خواہ خاموش رہو۔ بے شک جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ تمہارے ہی جیسے بندے ہیں' سو اگر تم سچے ہو تو تم انہیں پکارو۔ پھر ان کو چاہئے تمہیں جواب دیں کیا ان کے پیر ہیں جن سے وہ چلتے ہیں؟ کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ کسی چیز کو پکڑتے ہیں ؟ کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں؟ کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں؟ آپ کہہ دیجئے کہ تم اپنے سب شریکوں کو بلالو' پھر میرے خلاف چال چلو اور مجھے مہلت نہ دو۔ یقیناً میرا کارساز اللہ ہے' جس نے مجھ پر یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ صالحین کی کارسازی کرتا ہی رہتا ہے۔اور جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو' وہ نہ تو تمہاری ہی مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔ اور اگر تم انہیں کوئی بات بتلانے کو پکارو تو وہ سن نہ سکیں' اور آپ انہیں دیکھیں گے گویا آپ کی طرف نظر کررہے ہیں' درآں حالیکہ انہیں کچھ نہیں سوجھ رہا۔"
    اللہ تعالیٰ قریش مکہ کے مشرکوں کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
    ہُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ حَتّٰیآا اِذَا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ وَجَرَیْنَ بِہِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَۃٍ وَّ فَرِحُوْا بِہَا جَآئَتْہَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآئَہُمُ الْمَوْجُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّ ظَنُّوْآ اَنَّہُمْ اُحِیْطَ بِہِمْ لا دَعَوُا اﷲَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ ہٰذِہ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْن [یونس]
    "وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور سمندر میں لئے لئے پھرتا ہے' چنانچہ جب تم کشتی میں سوار ہوتے ہو اور وہ کشتیاں لوگوں کو ہوائے موافق کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ اس سے خوش ہوتے ہیں (ناگہاں) ایک تھپیڑا ہوا کا آتا ہے اور ان کے اوپر ہر طرف سے موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں۔ اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ بس اب ہم گھر گئے' تو اس وقت اللہ کو اس کے ساتھ اعتقاد کو بالکل خالص کرکے پکارتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دلادی تو ہم یقیناً بڑے شکر گزاروں میں ہوں گے۔"
    یعنی دور جاہلیت کے مشرکین جب کشتی میں سوار ہوتے تھے اور ان کی کشتی گرداب میں پھنس جاتی تھی' تو خالصتاً اللہ تعالیٰ کو پکارتے تھے اور ان کی اصل فطرت ابھر آتی تھی کہ اللہ کے سوا کوئی بھی صاحب تصرف اور مالک ذی اختیار نہیں ہے۔ مگر ذرا ان لوگوں کی سوء الاعتقادی ملاحظہ فرمائیں کہ یہ سمندر میں ہوں یا خشکی کے مقام پر' ہر جگہ کبھی بہاؤ الحق اور معین الدین چشتی کا نام لے کر اور کبھی دوسرے بزرگوں کو پکار کر غیر اللہ ہی سے فریاد کرتے نظر آتے ہیں۔ خود بریلویت کے امام' خاں صاحب بریلوی لکھتے ہیں:
    "جب کبھی میں نے استعانت کی' یا غوث ہی کہا۔136"
    ان کے عقیدے کی تردید کرتے ہوئے حنفی مفسر آلوسی رحمہ اللہ مذکورہ آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    "اس آیت سے یہ بات واضح ہوجاتی کہ مشرکین اس قسم کے کٹھن حالات میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں پکارتے تھے۔ مگر افسوس ہے ان لوگوں پر کہ مشکل وقت آنے پر غیر اللہ کا سہارا لیتے ہیں اور ان ہستیوں کو پکارتے ہیں جو نہ ان کی آواز سن سکتے ہیں' نہ جواب دے سکتے ہیں' نہ نفع کے مالک ہیں' نہ نقصان کے۔ ان میں سے کوئی خضر و الیاس کے نام کی دہائی دیتا ہے' کوئی ابوالحمیس اور عباس سے استغاثہ (کرتا) اور کوئی اپنے امام کو فریاد کے لئے پکارتا ہے۔ کسی کو اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی توفیق نہیں ہوتی۔
    مجھے بتائیے کہ ان دونوں طریقوں میں سے کون ہدایت کے قریب ہے؟ اور کون ضلالت اور گمراہی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے؟یقیناً مشرکین مکہ کا عقیدہ ان سے بہتر تھا۔ ان لوگوں نے شریعت کی مخالفت اور شیطان کی اتباع کو نجات کا ذریعہ سمجھ رکھا ہے۔ خدا سب کو ہدایت دے۔137
    اسی طرح مصر کے مفکر و عالم دین سید رشید رضا مصری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
    اس قسم کی آیات میں کس قدر وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے کہ مشرکین دشوار اور کٹھن حالات میں صرف اللہ تعالیٰ کو پکارتے تھے' مگر اس دور کے نام نہاد مسلمانوں کی عقل کا ماتم کیجئے کہ وہ شدائد و مشکلات کے وقت اپنے معبود حقیقی کو چھوڑ کر اپنے معبودان بدوی' دسوقی' جیلانی' متبولی اور ابوسریع وغیرہ سے استغاثہ کرنے میں کسی قسم کی حیا محسوس نہیں کرتے۔
    اور بہت سارے جبہ پوش جو درگاہوں کے مجاور بنے ہوئے ہیں اور غیر اللہ کے نام پر چڑھائے جانے والے چڑھاووں اور نذر ونیاز کی بدولت عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں' انہیں سادہ لوح افراد کو گمراہ کرتے اور دین فروشی کرتے ہوئے ذرا سی شرم بھی محسوس نہیں ہوتی۔
    کہا جاتا ہے کہ کچھ افراد سمندر کے سفر میں کشتی پر سوار ہوئے۔ کچھ دور جاکر کشتی بھنور میں پھنس گئی۔ موت سامنے نظر آنے لگی تو ان میں ہر شخص اپنے اپنے پیر کو پکارنے لگا: اے بدوی' اے رفاعی'اے جیلانی۔ ان کے اندر ایک اللہ کا بندہ توحید پرست بھی تھا۔ وہ تنگ آکر کہنے لگا اللہ ان سب کو غرق فرما' ان کے اندر کوئی بھی تجھے پہچاننے والا نہیں!138"
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سیدھی راہ پر گامزن فرمائے اور شرک و بت پرستی سے محفوظ رکھے۔ آمین!



    جاری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد -------- باب دوم

    عقیدہ علم غیب

    اہلسنت کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام اشیاء کا علم فقط ذات الٰہی کے لئے خاص ہے' عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کو بھی کسی شئے کا علم اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا' جب تک کہ ان پر وحی نازل نہ ہوجائے۔انبیاء علیہم السلام کے متعلق علم غیب کا عقیدہ رکھنا اعتراف عظمت نہیں' بلکہ انتہائی گمراہی اور ضلالت ہے۔ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات و حقائق کے اور روشن دلائل کے خلاف ہے۔ اور نہ صرف یہ کہ اس میں کتاب وسنت کی مخالفت ہے' بلکہ یہ عقیدہ فقہ حنفی کے بھی مخالف ہے۔
    بریلوی حضرات کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیاء و اولیاء کو ہر اس واقعہ کا علم ہے' جو ہوچکا ہے یا ہونے والا ہے۔ ان کی نظر سے کوئی چیز مخفی نہیں" سارا عالم ان کی نظر کے سامنے ہے۔ سو وہ دلوں کے حالات کو جاننے والے' ہر راز سے باخبر اور تمام مخلوقات سے واقف ہیں۔ انہیں قیامت کا علم' آنے والے دن کے حالات کی اطلاع ہوتی ہے۔ رحمِ مادر میں جو کچھ ہے' اس سے آشنا ہوتے ہیں۔ ہر حاضر و غائب پر ان کی نظر ہوتی ہے۔
    غرضیکہ دنیا میں جو کچھ ہوچکا ہے' جو کچھ ہورہا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے' اولیاء سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے۔
    اب سنئے قرآنی آیات اور اللہ تعالیٰ کے ارشادات' جن سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ علم غیب اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے۔ مخلوق کا کوئی فرد بھی اللہ تعالیٰ کی اس صفت میں شریک و ساجھی نہیں ہے!
    چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اﷲُ [النمل]
    "نہیں جانتا کوئی بیچ آسمانوں کے اور زمین کے غیب مگر اللہ۔"
    اِنَّ اﷲَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِط اِنَّہ عَلِیْمٌم بِذٰتِ الصُّدُوْرِ (فاطر : 38 )
    "تحقیق اللہ جانتا ہے پوشیدہ چیزیں آسمانوں کی اور زمین کی' تحقیق وہ جاننے والا ہے سینے والی بات کو۔"
    اِنَّ اﷲَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِط وَ اﷲُ بَصِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْن (الحجرات : 18 )
    "تحقیق اللہ جانتا ہے پوشیدہ غیب آسمانوں کا اور زمین کا' اور اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔"
    وَلِلّٰہِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْہِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ کُلُّہ (ہود : 123 )
    "اور واسطے اللہ کے ہیں پوشیدہ چیزیں آسمانوں کی اور زمین کی' یعنی علم ان کا! اور طرف اسی کی پھیرا جاتا ہے کام سارا۔"
    اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰہِ فَانْتَظِرُوْاج اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ(یونس : 20 )
    "سوائے اس کے نہیں کہ علم غیب واسطے خدا کے ہے' پس انتظار کرو۔ تحقیق میں بھی ساتھ تمہارے انتظار کرنے والوں میں ہوں"۔
    وَعِنْدَہ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لایَعْلَمُہَآ اِلَّا ہُوَط وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُہَا وَ لاحَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لا رَطْبٍ وَّ لا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ(الانعام : 59 )
    " اور پاس اس کے ہیں کنجیاں غیب کی۔ نہیں جانتا ان کو مگر وہ! اور جانتا ہے جو کچھ بیچ جنگل کے ہے اور دریا کے ہے۔ اور نہیں گرتا کوئی پتہ' مگر جانتا ہے اس کو۔ اور نہیں گرتا کوئی دانہ بیچ اندھیروں زمین کے اور نہ کوئی خشک اور نہ گیلی چیز' مگر بیچ کتاب بیان کرنے والی کے ہے۔"
    اور فرمایا:
    اِنَّ اﷲَ عِنْدَہ عِلْمُ السَّاعَۃِج وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثاَاج وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِط وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًاط وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌم بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُط اِنَّ اﷲَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(لقمان : 34 )
    "تحقیق اللہ کے پاس ہے علم قیامت کا اور اتارتا ہے بارش' اور جانتا ہے جو کچھ بیچ پیٹوں ماں کے ہے۔ اور جانتا نہیں کوئی جی کیا کماوے گا کل کو؟ اور نہیں جانتا کوئی جی کس زمین میں مرے گا؟ تحقیق اللہ خبردار ہے۔"
    مگر بریلوی حضرات کتاب وسنت کے برعکس عقیدہ رکھتے ہیں کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام روز اول سے روز آخر تک کے تمام "ماکان وما یکون" کو جانتے بلکہ دیکھ رہے ہیں اور مشاہدہ فرمارہے ہیں۔146
    مزید ارشاد ہوتا ہے:
    "انبیاء پیدائش کے وقت عارف باللہ ہوتے ہیں اور جو علم غیب رکھتے ہیں۔"
    نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق امام بریلویت جناب احمد رضا رقمطراز ہیں:
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جزئی وکلی علم حاصل ہوگئے اور سب کا احاطہ فرمالیا۔148"
    ایک دوسری جگہ نقل کرتے ہیں:
    "لوح و قلم کا علم' جس میں تمام ماکان وما یکون ہے' حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم سے ایک ٹکڑا ہے۔149"
    مزید لکھتے ہیں:
    "حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و انواع میں کلیات' جزئیات' حقائق ودقائق' عوارف اور معارف کہ ذات و صفات الٰہی کے متعلق ہیں اور لوح و قلم کا علم توحضور کے مکتوب علم سے ایک سطر اور اس کے سمندروں سے ایک نہر ہے' پھر بایں ہمہ وہ حضور ہی کی برکت سے تو ہے۔ حضور کا علم و حلم تمام جہاں کو محیط ہے150"
    "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذات الٰہی کے شانوں اور صفات حق کے احکام اور افعال اور آثار غرض جمیع اشیا کا علم اور حضور نے جمیع علوم اول و آخر ظاہر و باطن کا احاطہ فرمایا۔151"
    جناب بریلوی کے ایک معتقد ارشاد فرماتے ہیں:
    "نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے عالم کی کوئی شئے پردہ میں نہیں ہے۔ یہ روح پاک عرش اور اس کی بلندی و پستی' دنیا و آخرت' جنت و دوزخ سب پر مطلع ہے۔ کیونکہ یہ سب اسی ذات جامع کمالات کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔152"
    مزید لکھتے ہیں:
    "جناب رسالت ماّب صلی اللہ علیہ وسلم کاعلم تمام معلومات غیبیہ و لدنیہ پر محیط ہے۔153"
    ایک اور بریلوی ارشاد کرتے ہیں:
    "حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کو بھی جانتے ہیں اور تمام موجودات' مخلوقات' ان کے جمیع احوال کو بتمام و کمال جانتے ہیں۔ ماضی' حال' مستقبل میں کوئی شئے کسی حال میں ہو' حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مخفی نہیں۔154"
    ایک اور بریلوی مفکر اس پر بھی سبقت لے جاتے ہوئے یوں گویا ہے:
    " حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ایسا علم غیب بخشا کہ آپ پتھر کے دل کا حال بھی جانتے تھے تو ان کو سرکار اپنے عشاق انسانوں کے دلوں کا پتہ کیوں نہ ہوگا؟155"
    مزید ارشاد ہوتا ہے:
    " جس جانور پر سرکار قدم رکھیں' اس کی آنکھوں سے حجاب اٹھادیے جاتے ہیں۔ جس کے دل سر پر حضور کا ہاتھ ہو' اس پر سب غائب و حاضر کیوں نہ ظاہر ہوجائے؟156"
    خود امام بریلویت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمیعن کی ذات پر جھوٹ باندھتے ہوئے فرماتے ہیں:
    "صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یقین کے ساتھ حکم لگاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کا علم ہے۔157"
    قرآن کریم کی صریح مخالفت کرتے ہوئے بریلویت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پانچ مخفی امور کا بھی علم تھا' جو قرآنی آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    اِنَّ اﷲَ عِنْدَہ عِلْمُ السَّاعَۃِج وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثاَاج وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِط وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًاط وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌم بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُط اِنَّ اﷲَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(لقمان : 34 )
    "تحقیق اللہ کے پاس ہے علم قیامت کا اور اتارتا ہے بارش' اور جانتا ہے جو کچھ بیچ پیٹوں ماں کے ہے۔ اور نہیں جانتا کوئی جی کیا کماوے گا کل کو؟ اور نہیں جانتا کوئی جی کس زمین میں مرے گا؟ تحقیق اللہ جاننے والا خبردار ہے۔"
    اَﷲُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اُنثٰی وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُط وَ کُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہ بِمِقْدَارٍ(8) عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّہَادَۃِ الْکَبِیْرُ الْمُتَعَال(رعد:8۔9)
    "اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ کہ اٹھاتی ہے ہر عورت' اور جو کچھ کہ کم کرتے ہیں رحم اور جو کچھ بڑھاتے ہیں' اور ہر چیز نزدیک اس کے اندازے پر ہے۔ جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا' بڑا بلند!"
    اِنَّ السَّاعَۃَٰاتِیَۃٌ اَکَادُ اُخْفِیْھَا لِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍم بِمَا تَسْعٰی(طہ : 15 )
    "تحقیق قیامت آنے والی ہے۔ نزدیک ہے کہ چھپا ڈالوں میں اس کو' تاکہ بدلا دیا جائے ہر جی ساتھ اس چیز کے کہ کرتا ہے۔"
    اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
    یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰہَاط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْج لااَا یُجَلِّیْہَا لِوَقْتِہَآ اِلَّا ہُوَوقفلازموقفمنزلطا ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِط لااَا تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃًط یَسْئَلُوْنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْہَاط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ اﷲِ وَٰلکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لااَا یَعْلَمُوْنَ۔ (الاعراف:187)
    "یہ لوگ آپ سے قیامت کی بابت دریافت کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اس کا علم بس میرے پروردگار ہی کے پاس ہے۔ اس کے وقت پر اسے کوئی نہ ظاہر کرے گا بجز اس اللہ کے' بھاری حادثہ ہے وہ آسمانوں اور زمین میں' وہ تم پر محض اچانک ہی آپڑے گی۔ آپ سے دریافت کرتے بھی ہیں تو اس طرح کہ گویا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کی تحقیق کرچکے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے' لیکن اکثر لوگ (یہ بھی ) نہیں جانتے۔"
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    یَسْئَلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ اﷲِ(الاحزاب : 63 )
    "یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے اس کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے۔"
    اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
    ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضی اَجَلا وَ اَجَلٌ مُّسَمًّی عِنْدَہ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْن(الانعام : 2 )
    "وہ اللہ ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر ایک وقت مقرر کیا اور متعین وقت اسی کے علم میں ہے۔۔۔۔پھر بھی تم شک رکھتے ہو؟
    وَعِنْدَہ عِلْمُ السَّاعَۃِج وَ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ۔ (الزخرف : 85 )
    "اور اسی کو قیامت کی خبر ہے اور اسی کی طرف تم سب واپس کئے جاؤگے۔"
    وَعِنْدَہ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لااَا یَعْلَمُہَآ اِلَّا ہُو۔ (الانعام : 59 )
    "اور اس کے پاس ہیں غیب کے خزانے' انہیں بجز اس کے کوئی نہیں جانتا۔"
    اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں واضح کردیا ہے کہ یہ غیبی امور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ خاص ہیں۔ چنانچہ مشہور حدیث جبریل علیہ السلام اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے متعلق دریافت فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:
    [ما المسؤل عنھا باعلم من السائل و ساخبرک عن اشراطہا اذا ولدت الامۃ ربّھا الخ]
    یعنی"مجھے اس کے وقوع کا علم نہیں' البتہ اس کی نشانیاں آپ کو بتلادیتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
    (ان اﷲ عندہ علم الساعۃ)166
    اسی طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا"غیب کی پانچ کنجیاں ہیں' انہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا رحم مادر میں جو کچھ ہے، آنے والے کل کے واقعات، بارش ہوگی یا نہیں، موت کہاں آئے گی، قیامت کب قائم ہوگی؟167"
    مزید برآں حضرت جابر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل ارشاد فرمایا :"تم مجھ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہو حالانکہ اس کا علم تو سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کسی کو نہیں۔168"
    حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"پانچ چیزوں کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس نہیں:
    وقت قیامت'نزول بارش'مافی الارحام'واقعات'واقعات مستقبل اور مقام موت169"
    آیات قرآنیہ اور اس مفہوم کی بہت ساری احادیث کتب حدیث میں موجود ہیں' مگر بریلوی حضرات تعلیمات نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پس پشت ڈالتے ہوئے بالکل اس کے برعکس عقیدہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ احمد رضا بریلوی صاحب لکھتے ہیں:
    "نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے' مگر بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پانچ غیبوں کا علم دے دیا۔170"
    مزید ارشاد ہوتا ہے:
    "حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچوں غیبوں کا علم تھا' مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سب کو مخفی رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔171"
    ایک دوسرے بریلوی کا ارشاد سنئے۔ لکھتے ہیں:
    "حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام گزشتہ اور آئندہ واقعات' جو لوح محفوظ میں ہیں' ان کا بلکہ ان سے بھی زیادہ کا علم ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کا بھی علم ملا کہ کب ہوگی۔172"
    ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
    حضور علیہ السلام مخلوق کے پہلے کے حالات جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے مخلوقات کو پیدا کرنے کے پہلے کے واقعات اور ان کے پیچھے کے حالات بھی جانتے ہیں۔ قیامت کے احوال' مخلوق کی گھبراہٹ اور رب تعالیٰ کا غضب وغیرہ۔"
    "حضور علیہ السلام لوگوں کے حالات کا مشاہدہ فرمانے والے ہیں اور ان کے حالات جانتے ہیں۔ ان کے حالات ان کے معاملات اور ان کے قصے وغیرہ اور ان کے پیچھے کے حالات بھی جانتے ہیں۔ آخرت کے احوال' جنتی اور دوزخی لوگوں کے حالات! اور وہ لوگ حضور علیہ السلام کی معلومات میں سے کچھ بھی نہیں جانتے' مگر اسی قدر جتنا کہ حضور چاہیں۔ اولیاء اللہ کا علم علم انبیا علیہم السلام کے سامنے ایسا ہے' جیسے ایک قطرہ سات سمندروں کے سامنے! اور انبیاء علیہم السلام کا علم حضور علیہ السلام کے علم کے سامنے اسی درجہ کا ہے۔173"
    اور سنئے:
    حضور علیہ السلام کی زندگی اور وفات میں کوئی فرق نہیں۔ اپنی امت کو دیکھتے ہیں اور ان کے حالات و نیات اور ارادے اور دل کی باتوں کو جانتے ہیں۔174"
    ایک اور صاحب فرماتے ہیں:
    "حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں رہ کر ذرے ذرے کا مشاہدہ فرمارہے ہیں۔175"
    بریلویت کے ایک اور پیروکار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "میرا علم میری وفات کے بعد اسی طرح ہے جس طرح میری زندگی میں تھا۔176"
    اسی پر بس نہیں' جناب احمد رضا خاں صاحب بریلوی غیوب خمسہ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
    "حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف یہ کہ خود ان باتوں کا علم ہے' بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جسے چاہیں عطا کردیں۔177"
    ایک اور بریلوی ارشاد کرتے ہیں:
    "قرآنی آیت (وَھْوَ بِکْلِّ شَیئٍ عَلِیمٌ) سے مراد ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر چیز کو جانتے ہیں۔178"
    قرآن کریم کی تحریف کرتے ہوئے ان مدعیان علم و فضل کو ذرا سا بھی خوف خدا محسوس نہیں ہوتا آہ۔
    خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
    ان کے نزدیک غیوب خمسہ کا علم فقط نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک محدود نہیں ہے' بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے بہت سے دوسرے افراد بھی اس صفت الٰہیہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک ہیں۔ چنانچہ امام بریلویت جناب احمد رضا صاحب بریلوی نقل کرتے ہیں:
    "قیامت کب آئے گی؟ مینہ کب کتنا برسے گا؟ مادہ کے پیٹ میں کیا ہے؟ کل کیا ہوگا؟ فلاں کہاں مرے گا؟ یہ پانچوں غیب جو آیہ کریمہ میں مذکور ہیں' ان سے کوئی چیز حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مخفی نہیں! اور کیوں کر یہ چیزیں حضور سے پوشیدہ ہوسکتی ہیں' حالانکہ حضورت کی امت سے ساتوں قطب ان کو جانتے ہیں اور ان کا مرتبہ غوث کے نیچے ہے۔ غوث کا کیا کہنا! پھر ان کا کیا پوچھنا جو اگلوں' پچھلوں' سارے جہان کے سردار اور ہر چیز کے سبب ہیں اور ہر شئے انہی سے ہے۔179"
    مزید سنئے اور اندازہ لگائیے' شیطان نے صریح قرآنی آیات کے مقابلہ میں انہیں بصارت و بصیرت سے کس طرح محروم کررکھا ہے؟
    یہ لوگ اتباع شیطان کو دین کا نام دے کر خود بھی گمراہی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور سادہ لوح عوام کی گمراہی کا سبب بھی بنے ہوئے۔ ارشاد ہوتا ہے:
    "ان پانچوں غیبوں کا معاملہ حضور علیہ السلام پر کیوں چھپا ہے؟ حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم امت مرحومہ میں کوئی صاحب تصرف تصرف نہیں کرسکتا' جب تک کہ ان پانچوں کو نہ جانے۔ تو اے منکرو! ان کلاموں کو سنو اور اولیاء اللہ کی تکذیب نہ کرو۔180''
    ملاحظہ فرمائیے' حضور صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب ہیں اور اس کی دلیل نہ قرآنی آیت' نہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ دلیل اور حجت و برہان یہ ہے کہ اولیاء کرام کو غیب کا علم ہے۔ اور چونکہ اولیاء غیب دان ہیں' اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی عالم الغیب ہیں۔ یہ ہیں وہ "منطقی دلائل" جن پر ان کے عقائد کی عمارت ایستادہ ہے۔ سچ ہے:
    وَ اِنَّ اَوْہَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْکَبُوْت(العنکبوت : 41 )
    ایک اور دلیل سنئے:
    "ہم نے ایسی جماعتوں کو دیکھا ہے کہ جنہوں نے جان لیا کہ کہاں مریں گے؟ اور حالت حمل میں اور اس سے پہلے یہ معلوم کرلیا کہ عورت کے پیٹ میں کیا ہے۔ لڑکا یا لڑکی؟ کہئے اب بھی آیت کے معنی معلوم ہوئے یا کچھ تردد باقی ہے؟181"
    یعنی اگرچہ آیت کریمہ میں بڑی وضاحت سے مذکور ہے کہ ان غیبی امور کو اللہ کی ذات کے سوا کوئی نہیں جانتا'مگر چونکہ بریلوی حضرات میں ایسے اصحاب معرفت اور اہل اللہ موجود ہیں' جنہیں ان باتوں کا پہلے سے علم ہوجاتا ہے' لہٰذا بلا تردد یہ ماننا پڑے گا کہ علم غیب غیر اللہ کو بھی حاصل ہے اس عقیدے کے لیے اگر قرآنی مفہوم میں تبدیلی بھی کرنا پڑے' تو بریلوی مذہب میں جائز ہے۔
    خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا
    آنکھوں سے شرم، سرور(ص) کون ومکان گئی​
    (اِذَ لَم تَستَحِ فَاصنَع مَا شِئتَ)
    ان واضح دلائل کے بعد اگر اب بھی آپ کو تردد ہے' تو ایک اور دلیل سن لیجئے' بریلویت کے ایک امام نقل کرتے ہیں:
    "میں نے اولیاء سے بہت سنا ہے کہ کل کو مینہ برسے گا یا رات کو؟ پس برستا ہے! یعنی اس روز کہ جس روز کی انہوں نے خبر دی۔ میں نے بعض اولیاء سے یہ بھی سنا کہ انہوں نے ما فی الرحم کی خبر دی کہ پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی؟ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ انہوں نے جیسی خبر دی' ویسا ہی وقوع میں آیا۔182"
    اگر اب بھی کوئی شک باقی ہو تو ایک حکایت سن لیجئے' تاکہ قرآنی آیات اور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تعلیمات کے مطالعہ کے بعد آپ کے عقائد میں جو "فساد" پیدا ہوگیا ہے' اس کی اصلاح ہوجائے۔ جناب احمد رضا بریلوی لکھتے ہیں:
    "ایک دن شیخ مکارم رضی اللہ عنہ نے کہا ' عنقریب یہاں تین اشخاص آئیں گے اور وہ یہیں پہ مریں گے' فلاں اس طرح اور فلاں اس طرح۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ تینوں اشخاص آگئے اور پھر ان کی موت بھی وہیں ہوئی۔ اور جس طرح انہوں نے بیان کیا تھا' اسی طرح ہوئی(ملحضاً)۔183"
    یہ ہیں ان کے باطل شکن دلائل' جنہیں تسلیم نہ کرنا اولیاء کرام کی گستاخی ہے۔ واضح دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئے جناب احمد رضا بریلوی شیخ جیلانی رحمہ اللہ علیہ کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے:
    "آفتاب طلوع نہیں ہوتا' یہاں تک کہ مجھ پر سلام کرے' نیا سال جب آتا ہے مجھ پر سلام کرتا اور مجھے خبر دیتا ہے جو کچھ اس میں ہونے والا ہے' نیا ہفتہ جب آتا ہے مجھ پر سلام کرتا ہے اور مجھے خبر دیتا ہے جو کچھ اس میں ہونے والا ہے' نیا دن جو آتا ہے مجھ پر سلام کرتا ہے اور مجھے خبر دیتا ہے جو کچھ اس میں ہونے والا ہے۔ مجھے اپنے رب کی عزت کی قسم کہ تمام سعید و شقی مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں۔ میری آنکھ لوح محفوظ پر لگی ہوئی ہے' یعنی لوح محفوظ میرے پیش نظر ہے۔ میں اللہ عزوجل کے علم و مشاہدہ سے دریاؤں میں غوطہ زن ہوں۔
    میں تو سب پر حجت الٰہی ہوں۔ بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کانائب اور میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وارث ہوں۔184"
    کذب و افتراء کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو:
    حضور پر نور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں' اگر میری زبان پر شریعت کی نوک نہیں ہوتی تو میں خبر دیتا جو کچھ تم کھاتے اور جو کچھ اپنے گھروں میں اندوختہ کرکے رکھتے ہو۔ تم میرے سامنے شیشے کی مانند ہو۔ میں تمہارا ظاہر و باطن سب دیکھ رہا ہوں۔185"
    بریلویت کا ایک پیروکار کہتا ہے
    "دلوں کے ارادے تمہاری نظر میں عیاں
    تم پر سب بیش و کم غوث اعظم186​
    علم غیب چند مخصوص "اولیاء " تک ہی محدود نہیں' بلکہ سارے پیر اور مشائخ اس میں شامل ہیں۔۔۔۔۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
    "آدمی کامل نہیں ہوتا' جب تک اس کو اپنے مرید کی حرکتیں اس کے آباء کی پیٹھ میں نہ معلوم ہوں۔۔۔۔۔ یعنی جب تک یہ نہ معلوم کرے کہ یوم الست سے کس کس پیٹھ میں ٹھہرا' اور اس نے کس وقت حرکت کی؟ یہاں تک کہ اس کے جنت یا دوزخ میں قرار پکڑنے تک کے حالات جانے.187"
    جناب احمد رضا بریلوی کا فرمان سنئے:
    کامل کا دل تمام عالم علوی و سفلی کا بروجہ تفصیل آئینہ ہے۔188"
    یعنی مرد کامل دنیا و آخرت کے تمام واقعات و شواہد کی تفصیل سے واقف ہوتا ہے۔ زمین و آسمان میں رونما ہونے والا کوئی واقعہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو' اسے ہر ظاہر و خفی کا علم ہوتا ہے۔
    کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اس قسم کی خرافات و ترہات کی نشر واشاعت کر کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے والے اپنے آپ پر اسلام کا لیبل چسپاں کرنے میں ذرا سی بھی خفت محسوس نہیں کرتے۔
    مزید ارشاد ہوتا ہے؛
    مردہ وہ ہوتا ہے جسے عرش اور جو کچھ اس کے احاطہ میں ہے آسمان و جنت و نار یہ چیزیں محدود مقید کرلیں۔ مرد وہ ہے جس کی نگاہ تمام عالم کے پار گزرجائے یعنی مکمل علم غیب کے حصول کے بغیر کوئی شخص ولی اللہ نہیں ہوسکتا۔189"
    اور سنئے:
    ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں مومن کامل کی وسعت نگاہ میں ایسے ہیں' جیسے ایک لق و دق میدان میں ایک چھلا پڑا ہو۔190"
    ایک اور بریلوی یوں سخن طراز ہیں:
    "کامل بندہ چیزوں کی حقیقتوں پر مطلع ہوجاتا ہے اور اس پر غیب اور غیب الغیب کھل جاتے ہیں۔191"
    "غیب الغیب" سے کیا مراد ہے" یہ ماہرین بریلویت ہی بتلاسکتے ہیں۔
    مزید برآں بہت سی حکایات واساطیر بھی ان کی کتب میں ملتی ہیں' جن سے استدلال کرتے ہیں کہ اولیاء سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ انہیں ہر صغیر و کبیر کا علم ہے۔ ہم بعض حکایات ایک مستقل باب میں بیان کریں گے۔ ایسے واقعات سے بھی ان کی کتب بھری پڑی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اولیاء کے حیوانات اور ان کے مویشیوں کو بھی غیب کا علم ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں ان خرافات اور شرکیہ عقائد سے محفوظ رکھے۔ آمین! جہاں تک کتاب و سنت کی نصوص کا تعلق ہے' ان میں صراحتاً اس عقیدے کی تردید کی گئی ہے۔
    چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    وَ لِلّٰہِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِط وَ مَآ اَمْرُ السَّاعَۃِ اِلَّا کَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ ہُوَ اَقْرَبُط اِنَّ اﷲَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر۔(النحل : 77 )
    "اور اللہ ہی کے لیے خاص ہیں آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ باتیں! اور قیامت کا معاملہ بھی ایسا ہوگا جیسے آنکھ کا جھپکنا' بلکہ' اس سے بھی جلد تر' (الکہف) بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔"
    "اسی کے لیے علم غیب آسمانوں اور زمینوں کا ہے۔ وہ کیا کچھ دیکھنے والا ہے' اور کیا کچھ سننے والا!"
    اِنَّ اﷲَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِط اِنَّہ عَلِیْمٌم بِذٰتِ الصُّدُوْرِ(فاطر : 38 )
    "بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کے غیب کا عالم ہے۔ وہ تو سینوں کے بھید بھی جانتا ہے۔"
    یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَ مَا خَلْفَہُمْ وَ لااَا یُحِیْطُوْنَ بِہ عِلْمًا(طہ : 110 )
    "وہ جانتا ہے سب کے اگلے پچھلے حالات کو اور (لوگ) اس کا (اپنے) علم سے احاطہ نہیں کرسکتے۔"
    اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ لوگوں کو بتادیں:
    قُلْ لَّاآ اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لااَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآئَ اﷲُط وَ لَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لااَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوء اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(الاعراف : 188 )
    "آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا' مگر اتنا ہی جتنا اللہ چاہے۔ اگر میں غیب کو جانتا ہوتا تو اپنے لیے بہت سا نفع حاصل کرلیتا اور کوئی تکلیف مجھ پر واقع نہ ہوتی۔ میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں' ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں۔"
    قُلْ لَّاآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِندِیْ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَ لااَاآ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لااَاآ اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰی اِلَیَّ قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَ الْبَصِیْرُ اَفَلااَا تَتَفَکَّرُوْنَ(الانعام : 50 )
    آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے یہ تو نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں بس اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ آپ کہئے کہ اندھا اور بینا کہیں برابر ہوسکتے ہیں تو کیا تم غور نہیں کرتے؟"
    اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو متنبہ اور مخلوق کو خبردار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے:
    یٰاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اﷲُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ وَ اﷲُ غَفُوْرٌ رَّحِیْم (التحریم : 1 )
    "اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کیا ہے' اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں حرام کررہے ہیں؟ اپنی بیویوں کی خوشی حاصل کرنے کے لیے! اور اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحم والا ہے۔"
    اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کی نفی اپنے اس فرمان میں نفی کی ہے:
    وَ مِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لا تَعْلَمُہُمْط نَحْنُ نَعْلَمُہُم (التوبۃ : 101 )
    "مدینہ والوں میں سے کچھ (ایسے) منافق ہیں (کہ) نفاق میں اڑ گئے ہیں۔ آپ انہیں نہیں جانتے۔ ہم' انہیں جانتے ہیں۔"
    عَفَا اﷲُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْکٰذِبِیْنَ(التوبۃ : 43 )
    "اللہ نے آپ کو معاف کردیا (لیکن) آپ نے ان کو اجازت کیوں دے دی تھی' جب تک آپ پر سچے لوگ ظاہر نہ ہوجاتے اور آپ جھوٹوں کو جان لیتے؟"
    اسی طرح اللہ نے اپنے دیگر رسولوں سے بھی علم غیب کی نفی کی اور ارشاد فرمایا۔"
    یَوْمَ یَجْمَعُ اﷲُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لا عِلْمَ لَنَا اِنَّکَ اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ (المائدۃ : 109 )
    "جس دن اللہ پیغمبروں کو جمع کرے گا' پھر ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملاتھا؟وہ عرض کریں گے کہ ہم کو علم نہیں۔ چھپی ہوئی باتوں کو خوب جاننے والا بس تو ہی ہے۔"
    اسی طرح اللہ نے اپنے اس قول میں فرشتوں سے علم غیب کی نفی کی ہے:
    قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ (البقرۃ : 32 )
    "وہ بولے تو پاک ذات ہے' ہمیں کچھ علم نہیں! مگر ہاں وہی جو تو نے علم دے دیا' بیشک تو ہی بڑا علم والا' حکمت والا۔"
    اسی طرح انبیاء ورسل کے واقعات و شواہد بھی اس بات کی بین دلیل ہیں کہ انہیں غیب کا علم نہیں تھا' اور خود سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات بھی اس پر دلالت کرتے ہیں۔ مثلاً ستر قراء کی شہادت کا واقعہ اور حادثہ عرنبین وغیرہ۔ ان تمام واقعات و جزئیات پر ذرا سا غور کرلینے سے یہ بات واضح اور عیاں ہوجاتی ہے کہ علم غیب فقط اللہ تعالیٰ کی ذات تک ہی محدود ہے اور ا س کی اس صفت میں کوئی نبی' ولی اس کا شریک اور ساجھی نہیں۔
    لیکن بریلوی قوم کو یہ اصرار ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام اور بزرگان دین اللہ تعالیٰ کی اس صفت میں اس کے شرکاء ہیں۔ اور جو یہ عقیدہ نہیں رکھتا' وہ ان کا گستاخ ہے۔ حتیٰ کہ بریلوی حضرات نے مختلف من گھڑت واقعات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ احمد رضا کو اپنی موت کے وقت کا پہلے ہی علم تھا۔202
    انبیاء و اولیاء کی شان میں غلو سے کام لینا اور ان کے لیے وہ صفات و اختیارات ثابت کرنا' جو فقط ربّ کائنات کے ساتھ ہی مخصوص ہیں' ان کا احترام نہیں بلکہ قرآن وحدیث سے صریح بغاوت ہے۔ اسی بناء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "اللہ تعالیٰ نے مجھے جو رتبہ عطا فرمایاہے' میری ذات کو اس سے نہ بڑھاؤ۔203"
    میری ذات کے بارے میں غلو و مبالغہ سے کام نہ لو' جیسا کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیا۔204"
    اور جب مدینہ منورہ میں کسی بچی نے ایک شعر پڑھا' جس کا مفہوم یہ تھا کہ ہمارے اندر ایسا نبی صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہے جو آنے والے کل کے واقعات کو جانتا ہے' تو یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فوراً ٹوکا اور اس شعر کو دوبارہ دہرانے سے منع فرمایا۔ اور ارشاد کیا کہ (لَا یَعلَمْ مَا فِی غَدٍ اِلَّا اللہ) ہونے والے واقعات کی خبر اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی کو نہیں۔205"
    اب آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ اللہ تعالیٰ کا قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان برحق ہے یا یہ راہنمایان بریلویت؟
    فیصلہ کرنے سے قبل امّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا صریح' واضح اور بین ارشاد بھی سن لیجئے۔۔۔۔۔۔۔'
    آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "جو یہ کہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں' وہ جھوٹا ہے۔ غیب کا علم اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی اور کو نہیں ہے۔206"
    قرآنی آیات' احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس واضح ارشاد کے بعد بھی اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ نہ صرف تمام انبیائے کرام علیہم السلام' بلکہ تمام "بزرگان دین" بھی غیب جانتے ہیں' تو آپ ہی فیصلہ فرمائیں کہ ان کے عقائد کا شریعت اسلامیہ سے کیا تعلق ہوسکتاہے۔




    حوالہ جات
    146الدولتہ المکیۃ بالمادہ الغیبیہ
    158 لاہور پاکستان۔
    147مواعظ نعیمیہ احمد یار ص 192۔
    148الدولۃ المکیۃ ص 320۔
    149خالص الاعتقاد بریلوی ص 38۔
    150ایضاً ص 38۔
    151۔الدولتہ المکیۃ ص 210۔
    152الکلمۃ العلیاء لاعلاء علم المصطفیٰ نعیم مراد آبادی ص14۔
    153ایضا56۔
    154تسکین الخواطر فی مسئلہ الحاظر والناظر‘ احمد سعید کاظمی ص 45۔
    155مواعظ نعیمیہ ‘ اقتدار بن احمد یار ص 192۔
    157خالص الاعتقاد ص 28۔
    166رواہ البخاری۔
    167بخاری ‘مسلم‘مسند احمد۔
    168مسلم۔
    169مسند احمد‘ابن کثیر‘فتح الباری۔
    170خالص الاعتقادص 53۔
    171خالص الاعتقاد ص 56(الدولتہ المکیتہ بالمادہ الغیبیہ ص 441)۔
    172جاء الحق ص 43۔
    173جاء الحق 50‘51۔
    174خالص الاعتقاد ص 39‘جاء الحق ص 151۔
    175مواعظ نعیمیہ احمد یار ص 326۔
    176رسول الکلام لبیان الحواروالقیام لدیدار علی ص1۔
    177خالص الاعتقاد بریلوی ص 14۔
    178تسکین الخواطر کاظمی بریلوی ص 52‘53۔
    179خالص الاعتقاد 53‘54۔
    180ایضاً ص 54‘ الدولتہ المکیتہ ص 48۔
    181خالص الاعتقاد بریلوی ص 53 ‘ الکلمۃ العلیا مراد آبادی ص35۔
    182الکلمۃ العلیاء ص 94‘95۔
    183الدولتہ المکیتہ از بریلوی ص 162۔
    184الامن والعلی بریلوی ص 109(ایضاً الکلمۃ العلیا) مراد آبادی 47‘خالص الاعتقاد بریلوی ص 49۔
    185خالص الاعتقاد ص 49۔
    186باغ فردوس ایوب رضوی بریلوی ص40۔
    187الکلمۃ العلیا مراد آبادی ص 49‘ تسکین الخواطر کاظمی ص 146‘ جاء الحق ص 87۔
    188خالص الاعتقاد ص 51۔
    189ایضاً۔
    190خالص الاعتقاد ص 57۔
    191جاء الحق ص 85۔
    202وصایا بریلوی ص 7۔
    203احمد‘بہیقی۔
    204مجمع الزوائد۔
    205ابن ماجہ۔


    جاری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد --------- باب دوم

    باب 2
    مسئلہ حاضر و ناظر


    اوپر گزچکا ہے کہ بریلویت کے افکار و عقائد بعید از عقل اور انسان کی فہم سے بالا تر ہیں۔ انہی عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ متبعین بریلویت کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں اور ایک وقت میں اپنے جسم مبارک سمیت کئی مقامات پر موجود ہوسکتے ہیں۔
    یہ عقیدہ نہ صرف یہ کہ کتاب و سنت کی صریح مخالفت پر مبنی ہے بلکہ عقل و خرد اور فہم و تدبر سے بھی عاری ہے۔ شریعت اسلامیہ اس قسم کی بوذی اور ہندووٴانہ عقائد سے بالکل مبّرا و منزہ ہے۔
    بریلوی حضرات عقیدہ رکھتے ہیں:
    "کوئی مقام اور کوئی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خالی نہیں۔239"
    مزید سنئے:
    "سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور نور نبوت سے یہ امر بعید نہیں کہ آن واحد میں مشرق و مغرب، جنوب و شمال' تحت و فوق' تمام جہات وامکنہ' بعیدہ متعددہ میں سرکار اپنے وجود مقدس بعینہ یا جسم اقدس مثالی کے ساتھ تشریف فرما ہوکر اپنے مقربین کو اپنے جمال کی زیارت اور نگاہ کرم کی رحمت و برکت سرفراز فرمائیں۔240"
    یعنی آن واحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے جسم اطہر کے ساتھ لاتعداد مقامات پر موجود ہونا امر بعید نہیں۔
    یہ عقیدہ کتاب و سنت' شریعت اسلامیہ' فرامین الٰہیہ' ارشادات نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عقل و فکر سے تو بعید ہے۔ ہاں امام بریلویت جناب احمد رضا خاں صاحب بریلوی کی شریعت اور ان کے خود ساختہ فلسفے میں یہ "امر بعید" نہ ہو تو الگ بات ہے۔
    ایک اور متبع بریلویت نقل کرتے ہیں:
    "اولیاء اللہ ایک آن میں چند جگہ جمع ہوسکتے ہیں اور ان کے بیک وقت چند اجسام ہو سکتے ہیں۔241"
    یعنی جب اولیاء کرام سے یہ چیز ممکن ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیوں ممکن نہیں؟
    حضور علیہ السلام کو دنیا میں سیر فرمانے کا صحابہ کرام کی روحوں کے ساتھ اختیار ہے۔ آپ کو بہت سے اولیاء اللہ نے دیکھا ہے۔242"
    دعویٰ اور دلیل دونوں کو ایک ساتھ ہی ذکر کردیا گیا ہے۔
    دعویٰ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ مختلف مقامات پر موجود ہوسکتے ہیں' اور دلیل یہ ہے کہ بہت سے اولیاء کرام نے انہیں دیکھا ہے! رہی اس بات کی دلیل کہ اولیاء اللہ نے انہیں دیکھا ہے' تو اس کی سند ضعیف بھی ہو تو کوئی حرج نہیں کرتی!"
    مزید سنئے:
    "اپنی امت کے اعمال میں نگاہ رکھنا' ان کے لئے گناہوں سے استغفار کرنا' ان سے دفع بلا کی دعا فرمانا' اطراف زمین میں آناجانا' اس میں برکت دینا اور اپنی امت میں کوئی صالح آدمی مرجائے تو اس کے جنازے میں جانا' یہ حضور علیہ السلام کا مشغلہ ہے۔243"
    اب جناب احمد رضا خان صاحب کا بزرگان کرام کے متعلق ارشاد ملاحظہ ہو:
    "ان سے پوچھا گیا کہ کیا اولیاء ایک وقت میں چند جگہ حاضر ہونے کی قوت رکھتے ہیں؟ تو جواب دیا:
    "اگر وہ چاہیں تو ایک وقت میں دس ہزار شہروں میں دس ہزار جگہ کی دعوت قبول کرسکتے ہیں۔244"
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نقل کرتے ہیں:
    "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کریم تمام جہاں میں ہر مسلمان کے گھر میں تشریف فرما ہے۔245"
    جناب احمد رضا کے ایک پیروکار لکھتے ہیں:
    "حضور علیہ السلام کی نگاہ پاک ہر وقت عالم کے ذرہ ذرہ پر ہے اور نماز' تلاوت قرآن' محفل میلاد شریف اور نعت خوانی کی مجالس میں' اسی طرح صالحین کی نماز جنازہ میں خاص طور پر اپنے جسم پاک سے تشریف فرماہوتے ہیں۔246"
    نامعلوم یہ تعلیمات و ہدایات بریلوی حضرات نے کہاں سے اخذ کی ہیں؟ کتاب و سنت سے تو ان کا کوئی رشتہ اور ربط و ضبط نہیں!
    بریلویت کے یہ پیروکار آگے چل کر لکھتے ہیں:
    "حضور علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام کا پیدا ہونا' ان کی تعظیم ہونا اور خطا پر جنت سے علیحدہ ہونا اور پھر توبہ قبول ہونا آخر تک ان کے سارے معاملات جو ان پر گزرے' سب کو دیکھا ہے۔ اور ابلیس کی پیدائش اور جو کچھ اس پر گذرا' اس کو بھی دیکھا۔ اور جس وقت روح محمدی کی توجہ دائمی حضرت آدم سے ہٹ گئی' تب ان سے نسیان اور اس کے نتائج ہوئے۔247"
    یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں جلوہ گر ہونے سے قبل بھی حاضر و ناظر تھے!
    اور سنئے:
    "اہل اللہ اکثر و بیشتر بحالت بیداری اپنی جسمانی آنکھوں سے حضور کے جمال مبارک کا مشاہدہ کرتے ہیں۔248"
    ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
    "اہل بصیرت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران نماز بھی دیکھتے ہیں۔249"
    مزید ملاحظہ ہو۔ نقل کرتے ہیں:
    "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جسم مبارک اور روح اقدس کے ساتھ زندہ ہیں۔ اور بے شک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اطراف زمین اور ملکوت اعلیٰ میں جہاں چاہتے ہیں' سیر اور تصرف فرماتے ہیں۔ اور حضور علیہ السلام اپنی اس ہیئت مبارکہ کے ساتھ ہیں' جس پر وفات سے پہلے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی چیز بدلی نہیں ہے۔ اور بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظاہری آنکھوں سے غائب کردیئے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ سب اپنے جسموں کے ساتھ زندہ ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جمال دکھا کر عزت و بزرگی عطا فرمانا چاہتا ہیں تو اس سے حجاب کو دور کردیتا ہے اور وہ مقرب بندہ حضور کو اس ہیئت پر دیکھ لیتا ہے جس پر حضور واقع ہیں۔ اس روئیت سے کوئی چیز مانع نہیں اور روئیت مثالی کی طرف کوئی امر داعی نہیں۔250"
    جناب احمد رضا بریلوی ارشاد کرتے ہیں:
    "کرشن کٹھیا کافر تھا اور ایک وقت میں کئی جگہ موجود ہوگیا۔ فتح محمد(کسی بزرگ کا نام) اگر چند جگہ ایک وقت میں ہوگیا' تو کیا تعجب ہے۔ کیا گمان کرتے ہو کہ شیخ ایک جگہ تھے باقی جگہ مثالیں؟
    حاشا وکلا' بلکہ شیخ بذات خود ہر جگہ موجود تھے' اسرار باطن فہم ظاہر سے وراء ہیں' خوض و فکر بے جا ہے۔251"
    سبحان اللہ!
    دعویٰ کی دلیل میں نہ آیت نہ حدیث۔ دلیل یہ ہے کہ کرشن کٹھیا اگر کافر ہونے کے باوجود کئی سو جگہ موجود ہوسکتا ہے' تو کیا اولیائے کرام چند جگہ موجود نہیں ہوسکتے؟
    ہم پیروی قیس نہ فرہاد کریں گے
    کچھ طرز جنوں اور ہی ایجاد کریں گے​
    یہ انوکھا طرز استدلال بریلویت ہی کی خصوصیت ہے۔ امام بریلویت کے اس ارشاد کو بھی ملاحظہ فرمائیں:
    "اسرار باطن فہم ظاہر سے وراء ہیں۔ خوض و فکر بے جا ہے۔"
    یعنی یہ وہ نازک حقیقت ہے جو سمجھائی نہیں جاتی!
    امام بریلویت کے ایک پیروکار رقمطراز ہیں:
    "حضور علیہ الصلوۃ والسلام آدم علیہ السلام سے لے کر آپ کے جسمانی دور تک کے تمام واقعات پر حاضر ہیں252۔"
    بریلویت کے ان عقائد کا ذرا اللہ تعالیٰ کے ارشادات سے تقابل کیجئے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
    وَ مَا کُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَآ اِلٰی مُوْسَی الْاَمْرَ وَ مَا کُنْتَ مِنَ الشّٰہِدِیْنَ(القصص:44)
    "اور آپ (پہاڑ کے) مغربی جانب موجود نہ تھے' جب ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو احکام دیئے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں سے نہ تھے' جو (اس وقت)موجود تھے۔"
    وَ مَا کُنْتَ ثَاوِیًا فِیْ اَہْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْہِمْ ٰاٰیتِنَالا وَ ٰلکِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ(القصص : 45 )
    "اورنہ ْ اہل مدین میں قیام پذیر تھے کہ ہماری آیتیں لوگوں کو پڑھ کر سنارہے ہوں' لیکن ہم آپ کو رسول بنانے والے تھے۔"
    وَ مَا کُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ ٰلکِنْ رَّحْمَۃ مِّنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ ٰاٰتہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْن (القصص : 46 )
    "اور نہ آپ طور کے پہلو میں اس وقت موجود تھے' جب ہم نے (موسیٰ علیہ السلام کو) آواز دی تھی۔ لیکن اپنے پروردگار کی رحمت سے (نبی بنائے گئے) تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا' تاکہ وہ لوگ نصیحت قبول کریں۔"
    اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہ السلام کا قصہ بیان کرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا:
    وَ مَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلامَہُمْ اَیُّہُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ وَ مَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ (آل عمران : 44 )
    "اور آپ تو ان لوگوں کے پاس تھے نہیں اس وقت جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے' کہ ان میں سے کون مریم کی سرپرستی کرے؟ اور نہ آپ ان کے پاس اس وقت تھے جب وہ باہم اختلاف کررہے تھے۔"
    تِلْکَ مِنْ اَنْبَآء الْغَیْبِ نُوْحِیْہَآ اِلَیْکَ مَا کُنْتَ تَعْلَمُہَآ اَنْتَ وَ لا قَوْمُکَ مِنْ قَبْلِ ہٰذَا فَاصْبِرْ اِنَّ الْعاقِبَۃ لِلْمُتَّقِیْن (ہود : 49 )
    "یہ(قصہ) اخبار غیب میں سے ہے۔ ہم نے اسے وحی کے ذریعہ سے آپ تک پہنچادیا۔ اس کو اس (بتانے) سے قبل نہ آپ ہی جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم۔ سو صبر کیجئے' یقیناً نیک انجامی پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے۔"
    ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَاء الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ وَ مَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْ اَجْمَعُوْآ اَمْرَہُمْ وَ ہُمْ یَمْکُرُوْنَ(یوسف : 102 )
    "یہ (قصہ) غیب کی خبروں میں سے ہے' جس کی ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ اور آپ ان کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جب انہوں نے اپنا ارادہ پختہ کرلیا تھا اور وہ چالیں چل رہے تھے۔"
    اللہ تعالیٰ حضور علیہ السلام کے مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ تک جانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہ لَیْلا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ ٰبرَکْنَا حَوْلَہ لِنُرِیَہ من ٰاٰیتِنَا اِنَّہ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرْ (الاسراء : 1 )
    "پاک ذات ہے وہ جو اپنے بندے کو رات ہی رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جن کے ارد گرد کو ہم نے بابرکت بنارکھا ہے' تاکہ ان (بندہ) کو ہم بعض اپنے عجائب (قدرت) دکھائیں' بے شک سمیع و بصیر وہی اللہ ہے۔"
    یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر حاضر و ناظر ہوتے تو مسجد اقصیٰ تک براق کے ذریعہ سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو پہلے ہی وہاں موجود تھے!
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللہ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہ مَعَنَا(التوبۃ : 40 )
    "اگر تم لوگ ان کی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ) مدد نہ کروگے تو ان کی مدد تو(خود) اللہ کرچکا ہے' جبکہ ان کو کافروں نے وطن سے نکال دیا تھا جبکہ دو میں سے ایک وہ تھے اور دونوں غار میں (موجود) تھے' جبکہ وہ اپنے رفیق سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کرو! بے شک اللہ ہم لوگوں کے ساتھ ہے۔"
    وَ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّۃ فَاتَّقُوا اللہ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْن(آل عمران : 123 )
    "اور یقیناًاللہ نے تمہاری نصرت کی بدر میں' حالانکہ تم پست تھے۔ تو اللہ سے ڈرتے رہو' عجب کیا کہ شکر گزار بن جاوٴ۔"
    اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَۃ الدُّنْیَا وَ ہُمْ بِالْعُدْوَۃ الْقُصْوٰی وَ الرَّکْبُ اَسْفَلَ مِنْکُم(الانفال : 42 )
    (یہ وہ وقت تھا) جب تم (میدان جنگ) کے نزدیک والے کنارہ پر تھے اور وہ دور والے کنارہ پر' اور قافلہ تم سے نیچے کی (جانب) تھا۔"
    لَقَدْ رَضِیَ اللہ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃ (الفتح : 18 )
    "بے شک اللہ خوش ہوا ان مسلمانوں پر' جبکہ وہ آپ سے بیعت کررہے تھے درخت کے نیچے۔"
    لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللہ ٰامِنِیْنَ مُحَلِّقِیْنَ رُئُوْسَکُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ لا تَخَافُوْن(الفتح )
    "تم لوگ مسجد الحرام میں ان شاء اللہ ضرور داخل ہوگے امن وامان کے ساتھ' سر منڈاتے ہوئے بال کتراتے ہوئے' اور تمہیں اندیشہ (کسی کا بھی) نہ ہوگا۔"
    ان آیات سے ثابت ہوا کہ ایک ہی وقت میں بہت سے مقامات پہ موجود ہونے کا عقیدہ درست نہیں۔ قرآنی آیات کا مفہوم اس غیر اسلامی فلسفے سے متصادم ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ایک ہی وجود رکھتے تھے۔ اور جب وہ مدینہ منورہ میں موجود ہوتے تھے توبدر میں ان کا وجود نہ ہوتا تھا' ورنہ بدر کی طرف سفر کرنے کا کوئی معنی نہیں رہتا۔ اسی طرح جب تک مکہ مکرمہ فتح نہیں ہوا تھا ان کا وجود مکہ مکرمہ میں نہیں تھا۔
    ان آیات کریمہ کے ساتھ ساتھ حقائق وواقعات بھی اس عقیدے کی تردید کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب حجرہ مبارک میں تشریف فرما ہوتے تھے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد میں انتظار فرمایا کرتے تھے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاضر و ناظر تھے' صحابہ رضی اللہ عنہم کا مسجد میں انتظار کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟
    اسی طرح جب آپ مدینہ میں تھے تو حنین میں آپ کا وجود نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں تھے تو مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہ تھے۔ اور جب عرفات میں تھے تو نہ مکہ مکرمہ میں آپ کا وجود تھا نہ مدینہ منورہ میں!
    مگر بریلوی حضرات ان تمام آیات کریمہ اور شواہد و حقائق سے پہلو تہی کرتے ہوئے عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر آن ہر مقام پر حاضر و ناظر ہیں۔265
    مزید کہتے ہیں:
    "حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کو بھی جانتے ہیں اور تمام موجودات و مخلوقات ان کے جمیع احوال کو بتمام کمال جانتے ہیں۔ ماضی حال مستقبل میں کوئی شئے کسی حال میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مخفی نہیں۔266"
    ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
    "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کو اپنی نظر مبارک سے دیکھ رہے ہیں۔267"
    جناب بریلوی لکھتے ہیں:
    "نبی علیہ السلام نہ کسی سے دور ہیں اور نہ کسی سے بے خبر!268"
    مزید رقم طراز ہیں:
    "حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات و وفات میں اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں' نیتوں' ارادوں اور دل کے خطروں کو پہنچانتے ہیں۔ اور یہ سب حضور پر روشن ہے جس میں اصلاً پوشیدگی نہیں۔269"
    ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
    "نبی صلی اللہ علیہ وسلم حاظر وناظر ہیں اور دنیا میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہوگا' آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر چیز کا مشاہدہ فرمارہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر ہیں اور ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں۔270"
    صرف انبیاء علیہم السلام ہی نہیں' بلکہ امام بریلویت جناب احمد رضا بریلوی بھی اس صفت الٰہیہ میں ان کے شریک ہیں۔ چنانچہ ان کے ایک پیروکار ارشاد کرتے ہیں:
    "احمد رضا آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ وہ ہماری مدد کرسکتے ہیں۔271"
    یہ ہیں بریلوی عقائد و افکار جن کا دین و دانش سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ دین الٰہی تو عقل و فطرت کے عین مطابق ہے' ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    قُلْ ہٰذِہ سَبِیْلِی اَدْعُوْآ اِلَی اللہِ اوقفوقفالنبی عَلٰی بَصِیْرَۃ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْط وَ سُبْحٰنَ اللہِ وَ مَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ(یوسف : 108 )
    "آپ کہہ دیجئے کہ میرا طریق کار یہی ہے' میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ دلیل پر قائم ہوں' میں بھی اور میرے پیرو بھی! اور پاک ہے اللہ اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔"
    وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَ لا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (الانعام : 153 )
    "اور یہ بھی کہہ دیجئے کہ یہی میری سیدھی شاہراہ ہے۔ سو اسی پر چلو اور دوسری پگڈنڈیوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو راہ سے جدا کردیں گی۔ اس (سب) کا (اللہ) نے حکم دیا ہے تاکہ تم متقی بن جاوٴ۔"
    اَفَلا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا(محمد : 24 )
    "تو کیا لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے' یا دلوں پر قفل لگ رہے ہیں؟"
    کیا کوئی غور کرنے والا ہے کہ وہ غور و فکر کرے اور تدبر کرنے والا ہے کہ وہ تدبر کرے؟
    ان کے عقائد اور قرآن و حدیث کے درمیان اس قدر عظیم تضاد و تناقض کے بعد اس بات سے انکار کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ شریعت اسلامیہ اور افکار بریلویہ کا نقطہ نظر اور نہج فکر الگ الگ ہے۔ دونوں کے مابین کسی قسم کی بھی مطابقت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!





    حوالہ جات
    239تسکین الخواطر فی مسلہ الحاضر والناظر ‘احمد سعید اکاظمی ص 85۔
    240ایضاً ص 18۔
    241جاء الحق ص 150۔
    242ایضاً ص 154۔
    243جاء الحق گجراتی بریلوی ص 154۔
    244ملفوظات ص 113۔
    245خالص الاعتقاد ص 40۔
    246جاء الحق 155۔
    247جاء الحق ص 156۔
    248تسکین الخواطر فی مسئلہ الحاضر والناظر ص 18۔
    249ایضاً۔
    250تسکین الخواطر فی مسئلہ الحاضر والناظرص86۔
    251فتاویٰ رضویہ ج 6 ص 142 ایضاً ملفوظات ص 114۔
    252جاء الحق ص 163۔
    265تسکین الخواطر مسئلہ الحاضر والناظر‘ احمد سعید کاظمی ص5۔
    266ایضاً ص 68۔
    267ایضاً ص 90۔
    268خالص الاعتقاد ص 39۔
    269ایضاً ص 46۔
    271انوار رضا ص 246۔




    جاری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد ---------- باب سوم

    باب 3
    بریلوی تعلیمات


    جس طرح بریلوی حضرات کے مخصوص عقائد ہیں' اسی طرح ان کی کچھ مخصوص تعلیمات بھی ہیں جو اکل و شرب اور کسب معاش کے گرد گھومتی ہیں۔ مذہب بریلویت میں اکثر مسائل صرف اس لئے وضع کیے گئے ہیں کہ ان کے ذریعہ سے سادہ لوح عوام کو اپنے جال میں پھنسا کر کھانے پینے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ بریلوی ملّاؤں نے نئے نئے مسائل وضع کرکے اور نئی نئی بدعات گھڑ کے دین کو ایسی نفع بخش تجارت بنالیا ہے' جس میں راس المال کی بھی ضرورت نہیں رہی۔
    بریلوی حضرات نے مزارات کی تعمیر کا حکم دیا اور خود ان کے دربان اور مجاور بن کر بیٹھ گئے۔ نذرونیاز کے نام پر جاہل لوگوں نے دولت کے انبار لگادئیے۔ انہوں نے اسے سمیٹنا شروع کیا اور ان کا شمار بڑے بڑے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں میں ہونے لگا۔
    غریبوں کا خون چوس کر بزرگوں کے نام کی نذرونیاز پر پلنے والے یہ لوگ دین کے بیوپاری اور دنیا کے پجاری ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک اسلامی معاشرہ نہیں کہلاسکتا' جب تک وہ توحید باری تعالیٰ کے تصور سے آشنا نہ ہو۔ پاکستان میں جب تک شرک و بدعت کے یہ مراکز موجود ہیں' اس وقت تک اسلامی نظام کے نفاذ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
    مریدوں کی جیبوں پر نظر آنے والے یہ دنیا کے بھوکے پیران و مشائخ جب تک انسان کو انسان کی غلامی کا درس دیتے رہیں گے'اس وقت تک ہمارا معاشرہ توحید کی شان و شوکت سے آشنا نہیں ہوسکتا' اور جب تک کسی معاشرے میں توحید کے تقاضے پورے نہ کیے جائیں' اس وقت تک الحاد و لادینیت کا مقابلہ ایں خیال است و محال است و جنوں" کا مصداق ہے!
    ہمیں الحاد و لادینیت کے سیلاب کو روکنے کے لیے انسان کی غلامی کی زنجیروں کو پاش پاش کرنا ہوگا اور معاشرے کے افراد کو توحید کا درس دینا ہوگا۔
    "اللہ ہو" کے سر پہ سر دھننا' قوالی کے نام پر ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنا۔۔۔۔ناچتے اور غیر اخلاقی حرکتیں کرتے ہوئے' دامن پھیلا کر مانگتے ہوئے اور سبز چادر کے کونے پکڑ کر دست سوال دراز کرتے ہوئے مزاروں پر چڑھاوے کے لیے جانا۔۔۔۔ مضحکہ خیز قصے کہانیوں کو کرامتوں کا نام دینا' کھانے پینے کے لئے نت نئی رسموں کا نکالنا چنانچہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ جب سوچتا ہے کہ اگر اس کا نام مذہب ہے' تو وہ الحاد و لادینیت کے خوب صورت جال کا شکار بن جاتا ہے۔
    برا ہو ان ملّاؤں اور پیروں کا' جو دین کا نام لے کر دنیا کے دھندوں میں مگن رہتے اور حدود اللہ و شعائر اللہ کو پامال کرتے ہیں۔ یہ قبر پرستی کی لعنت' یہ سالانہ عرس اور میلے' یہ گیارہویں' قل اور چالیسواں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ سب دنیا کی دولت کو جمع کرنے کے ڈھنگ ہیں' مگر کون سمجھائے ان مشائخ و پیران طریقت کو؟
    یہ لوگوں کی آنکھوں پر پٹی باند کر دنیا میں بھی اپنا منہ کالا کررہے ہیں اور اپنی عاقبت کو بھی برباد کررہے ہیں۔ جو لوگ انہیں روکتے اور ان کی حرکتوں سے منع کرتے ہیں' انہیں وہابی اور اولیائے کرام کا گستاخ کہہ کر بدنام کیا جاتا ہے۔ ان کی کتابوں کو دیکھنا 1اور ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا جرم قرار دے دیا جاتا ہے۔2
    مبادا لوگ ان کی وعظ و نصیحت سے متاثر ہو کر راہ راست پر آجائیں اور ان کی دنیا داری خطرے میں پڑجائے۔
    آئیے اب بریلویت کی تعلیمات کا جائزہ لیں اور کتاب و سنت کے ساتھ ساتھ خود فقہ حنفی کے ساتھ ان کا موازنہ کریں' تاکہ پتہ چلے کہ ان لوگوں کے افکار و تعلیمات کی سند نہ کتاب و سنت سے ملتی ہے اور نہ فقہ حنفی سے۔۔۔۔۔احمد یار گجراتی لکھتے ہیں:
    "صاحب قبر کے اظہار عظمت کے لیے قبہ وغیرہ بنانا شرعاً جائز ہے۔3"
    مزید:
    "علماء اور اولیاء و صالحین کی قبروں پر عمارت بنانا جائز کام ہے' جب کہ اس سے مقصود ہو کہ لوگوں کی نگاہوں میں عظمت پیدا کرنا۔۔۔۔۔تاکہ لوگ اس قبر والے کو حقیر نہ جانیں۔4"
    جب کہ حدیث میں صراحت موجود ہے کہ:
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کو چونا گچ کرنے' پختہ بنانے اور اس پر کوئی قبہ وغیرہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔5"
    اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خصوصی طور پر حکم دیا تھا کہ وہ اونچی قبروں کو زمین کے برابر کردیں۔6
    حضرت عمر بن الحارث رضی اللہ عنہ حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے کہ انہوں نے کہا:
    "روم میں ہمارا ایک ساتھی فوت ہوگیا توحضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبر کو زمین کے برابر کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا حکم دیتے ہوئے سنا ہے۔7"
    اب فقہ حنفی کی نصوص ملاحظہ فرمائیں:
    "قبروں کا پختہ بنانا ممنوع ہے۔8"
    امام محمد بن الحسن سے پوچھا گیا کہ کیا قبروں کو پختہ بنانا مکروہ ہے؟
    تو انہوں نے جواب دیا"ہاں!9"
    امام سرخسی رحمہ اللہ المسبوط میں فرماتے ہیں:
    "قبروں کو پختہ نہ بناؤ' کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی ممانعت ثابت ہے۔10"
    قاضی خاں اپنے فتاویٰ میں فرماتے ہیں:
    "قبر کو پختہ نہ بنایا جائے اور نہ ہی اس پر قبہ وغیرہ تعمیر کیا جائے' کیونکہ امام ابوحنیفہ سے اس کی نہی وارد ہوئی ہے۔11"
    امام کاسانی کا ارشاد ہے:
    "قبر کو پختہ بنانا مکروہ ہے۔ اور امام ابوحنیفہ نے قبر پر قبہ وغیرہ بنانا مکروہ سمجھا ہے۔ اس میں مال کا ضیاع ہے۔ البتہ قبر پر پانی چھڑکنے میں کوئی حرج نہیں' مگر امام ابو یوسف سے مروی ہے کہ پانی چھڑکنا بھی مکروہ ہے کیونکہ اس سے قبر پختہ ہوتی ہے۔12"
    ملاحظہ ہو بحرالرائق'13 بدائع الصنّائع14 فتح القدیر15ردّ المختار علی درّ المختار16' فتاویٰ ہندیہ'17 فتاویٰ بزازیہ18 اور کنز الدّقائق19 وغیرہ۔قاضی ابراہیم حنفی فرماتے ہیں:
    "وہ قبے جو قبروں پر تعمیر کئے گئے ہیں' انہیں گرانا فرض ہے۔۔۔۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معصیت اور نافرمانی پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ اور وہ عمارت جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معصیت پر تعمیر کی گئی ہو اسے گرانا مسجد ضرار کے گرانے سے بھی زیادہ ضروری ہے۔20"
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
    لعن اللہ الیھود والنصاریٰ اتخذوا قبور انبیائھم مساجد21
    "اللہ تعالیٰ یہود ونصاریٰ پر لعنت فرمائے' انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا ہے۔"
    یہ تو ہیں کتاب و سنت اور فقہ حنفیہ کی واضح نصوص۔۔۔۔ مگر بریلوی قوم کو اصرار ہے کہ قبروں کو پختہ کرنا اور ان پر قبے وغیرہ بنانا ضروری ہیں۔
    جناب احمد رضا خاں بریلوی کہتے ہیں:
    "قبوں وغیرہ کی تعمیر اس لیے ضروری ہے تاکہ مزارات طیّبہ عام قبور سے ممتاز رہیں اور عوام کی نظر میں ہیبت و عظمت پیدا ہو۔22"
    چادریں ڈالنا اور شمعیں جلانا یہ بھی جائز ہے تاکہ :
    عوام جس مزار پر کپڑے اور عمامے رکھیں' مزار ولی جان کر اس کی تحقیر سے باز رہیں۔ اور تاکہ زیارت کرنے والے غافلوں کے دلوں میں خشوع و ادب آئے اور ہم بیان کرچکے ہیں کہ مزارات کے پاس اولیاء کرام کی روحیں حاضر ہوتی ہیں۔23"
    مزید لکھتے ہیں:
    "شمعیں روشن کرنا قبر کی تعظیم کے لیے جائز ہے' تاکہ لوگوں کو علم ہو کہ یہ بزرگ کی قبر ہے اور وہ اس سے تبرک حاصل کریں۔24"
    ایک اور بریلوی عالم رقمطراز ہیں:
    "اگر کسی ولی کی قبر ہو تو ان کی روح کی تعظیم کرنے اور لوگوں کو بتلانے کے لیے کہ ولی کی قبر ہے' تاکہ لوگ اس سے برکت حاصل کرلیں چراغ جلانا جائز ہے۔25"
    یہ تو ہیں بریلوی اکابرین کے فتوے! مگر حدیث میں اس کی واضح ممانعت آئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
    ( لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زائرات القبور و المتخذین علیھا مساجد والسّروج)26
    یعنی"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کے لیے آنے والی عورتوں' قبروں پر سجدہ گاہ تعمیر کرنے والوں اور ان پر چراغ روشن کرنے والواں پر لعنت فرمائی ہے۔"
    ملّا علی قاری حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    یعنی " قبروں پر چراغ جلانے کی ممانعت اس لیے آئی ہے کہ یہ مال کا ضیاع ہے۔ اور اس لیے کہ یہ جہنم کے آثار میں سے ہے۔ اور اس لیے آئی ہے کہ اس میں قبروں کی تعظیم ہے۔27"
    قاضی ابراہیم حنفی رحمہ اللہ قبر پرستوں کے اصول ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    "آج بعض گمراہ لوگوں نے قبروں کا حج کرنا بھی شروع کردیا ہے اور اس کے طریقے وضع کرلیے ہیں۔ اور دین و شریعت کے مخالف امور میں سے یہ بھی ہے کہ لوگ قبروں اور مزاروں کے سامنے عاجزی و انکساری کا ظہار کرتے ہیں اور ان پر دیئے وغیرہ جلاتے ہیں۔ قبروں پر چادریں چڑھانا' ان پر دربان بٹھانا' انہیں چومنا اور ان کے پاس رزق و اولاد طلب کرنا' ان سب امور کا شریعت اسلامیہ میں کوئی جواز نہیں۔28"
    خود احمد یار نے فتاویٰ عالمگیری سے نقل کیا ہے کہ :
    "قبروں پر شمعیں روشن کرنا بدعت ہے۔"
    اسی طرح فتاویٰ بزازیہ میں بھی ہے کہ "قبرستان میں چراغ لے جانا بدعت ہے۔ اس کی کوئی اصل نہیں۔29"
    ابن عابدین فرماتے ہیں:
    "مزاروں پر تیل یا شمعوں وغیرہ کی نذر چڑھانا باطل ہے۔30"
    علامہ حصکفی حنفی فرماتے ہیں:
    "وہ نذر ونیاز جو عوام کی طرف سے قبروں پر چڑھائی جاتی ہے' خواہ وہ نقدی کی صورت میں ہو یا تیل وغیرہ کی شکل میں ' وہ بالاجماع باطل اور حرام ہیں۔31"
    فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
    "قبروں پر روشنی کرنا جاہلیت کی رسموں میں سے ہے۔32"
    علامہ آلوسی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "قبروں پر سے چراغوں اور شمعوں کو ہٹانا ضروری ہے۔ ایسی کوئی نذر جائز نہیں۔33"
    اسی طرح:
    "چادر وغیرہ سے قبر کو ڈھانپنا بھی درست نہیں34"
    "یہ سب باطل کام ہے۔ ان کاموں سے بچنا چاہیے۔35"
    نیز:
    "چراغ جلانا اور چادریں چڑھانا حرام ہے۔36"
    علمائے احناف حضرت علی کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ:
    "وہ کسی ایسی قبر کے پاس سے گزرے جسے کپڑے وغیرہ سے ڈھانپ دیا گیا تھا' تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے منع فرمادیا۔37"
    ان ساری بدعات کا شریعت اسلامیہ میں کوئی وجود نہیں تھااور نہ ہی یہ قروں اولیٰ سے ثابت ہیںاگر اس میں کسی قسم کا کوئی دینی فائدہ ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعین رحمہم اللہ وغیرہ سے اس کا عمل ثابت ہوتا۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو دعاء فرمائی تھی :
    اللہم لا تجعل قبری وثنا یعبد38
    یعنی" اے اللہ! میری قبر کو میلہ گاہ نہ بنانا کہ اس کی پوجا شروع کردی جائے۔"
    بریلوی حضرات نے عرسوں' محافل میلاد' فاتحہ کی نذر' قل' گیارہوں اور چالیسویں وغیرہ کی شکل میں بہت سی اس طرح کی بدعات ایجاد کیں' تاکہ وہ ان کے ذریعہ سے پیٹ کی آگ ٹھنڈی کرسکیں۔ وہ لکھتے ہیں:
    "اولیاء اللہ رحمت رب کے دروازے ہیں۔ رحمت دروازوں سے ملتی ہے۔
    قرآن کریم میں ہے:
    ھْنَالِکَ دَعَا زَکَرِّیَّا رَبّہْ
    ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام نے حضرت مریم کے پاس کھڑے ہوکر بچے کی دعاء کی 39یعنی ولیہ کے پاس دعا کرنا باعث قبول ہے۔40
    نیز:
    "قبروں پر عرس اولیاء کی خدمت میں حاضری کا سبب ہے اور یہ تعظیم شعائر اللہ ہے اور اس میں بے شمار فوائد ہیں۔41"
    احمد رضا کے ایک اور شاگرد کہتے ہیں:
    "اولیائے کرام کی قبروں پر عرس کرنا اور فاتحہ پڑھنا برکات کا باعث ہے۔ بے شک اولیاء اللہ اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور مرنے کے بعد ان کی طاقتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔42"
    نعیم الدین مراد آبادی لکھتے ہیں:
    "عرس کرنا اور اس موقع پر روشنی' فرش اور لنگر کا انتظام کرنا شریعت 43سے ثابت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔44"
    نیز:
    اولیاء کے مزارات میں نماز پڑھنا اور ان کی روحوں سے مدد طلب کرنا برکات کا باعث ہے۔45"
    "وہابیوں کا یہ کہنا کہ قبروں کو چومنا شرک ہے' یہ ان کا غلو ہے۔46"
    نیز:
    نذر لغیر اللہ سے آدمی مشرک نہیں ہوتا۔47"
    قبروں کے گرد طواف کرنا بھی بریلوی شریعت میں جائز ہے:
    "اگر برکت کے لیے قبر کے گرد طواف کیا تو کوئی حرج نہیں۔48"
    اس لیے کہ :
    اولیاء کی قبریں شعائر اللہ میں سے ہیں اور ان کی تعظیم کا حکم ہے۔49"
    نیز:
    طواف کو شرک ٹھہرانا وہابیہ کا گمان فاسد اور محض غلو و باطل ہے۔50"

    عرس کی وجہ تسمیہ:عرس کو عرس اس لیے کہتے ہیں' کیونکہ یہ عروس یعنی دولہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کا دن ہے۔51"
    احمد یار گجراتی کا فتویٰ ہے:
    "نماز صرف اس کے پیچھے جائز ہے جو عرس وغیرہ کرتا ہو۔ اور جو ان چیزوں کا مخالف ہو' اس کے پیچھے نماز جائز نہیں۔52"
    عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی غیر اسلامی عید ہے۔ قرون اولیٰ میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ خود دیدار علی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ میلاد شریف کا سلف صالحین سے قرون اولیٰ میں کوئی ثبوت نہیں۔ یہ بعد میں ایجاد ہوئی ہے۔53
    اس کے باوجود ان کا عقیدہ ہے کہ:
    "محفل میلاد شریف منعقد کرنا اور ولادت پاک کی خوشی منانا' اس کے ذکر کے موقعہ پر خوشبو لگانا' گلاب چھڑکنا' شیرینی تقسیم کرنا' غرضیکہ خوشی کا اظہار کرنا جو جائز طریقے سے ہو' وہ مستحب ہے اور بہت ہی باعث برکت۔ آج بھی اتوار کوعیسائی اس لیے عید مناتے ہیں کہ اس دن دسترخوان اترا تھا۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اس مائدہ سے کہیں بڑھ کر نعمت ہے۔ لہٰذا ان کی ولادت کا دن بھی یوم العید ہے۔54"
    نیز:
    میلاد شریف قرآن وحدیث اور ملائکہ اور پیغمبروں سے ثابت ہے۔55"
    نیز:
    میلاد ملائکہ کی سنت ہے۔ اس سے شیطان بھاگتا ہے۔56"
    دیدار علی لکھتے ہیں:
    "میلاد سنت اور واجب ہے57"
    نیز:
    ذکر میلاد کے وقت کھڑے ہونے کا قرآن مجید (کون سے قرآن مجید؟) میں حکم ہے۔58"
    اور یہی دیدار علی ہیں' جنہوں نے کہا ہے کہ میلاد شریف کی اصل قرون اولیٰ سے ثابت نہیں۔
    جناب بریلوی کہتے ہیں:
    "میلاد شریف میں رلادینے والے قصے بیان کرنا ناجائز ہے۔59"
    بریلوی قوم نے اکل و شرب کو دوام بخشنے کے لیے اس طرح کی بدعات جاری کی ہیں اور دین اسلام کو غیر شرعی رسوم و رواج کا مجموعہ بنادیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس نام کو بھی استعمال کیا' تاکہ کھانے پینے کا بازار بخوبی گرم ہوسکے۔
    حالانکہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
    من احدث فی امرنا ھٰذا فھو ردّ60
    "جس نے دین کے معاملے میں کوئی نئی چیز ایجاد کی' اسے ردّ کردیا جائے گا۔"
    نیز:
    ایّاکم و محدثات الامور کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ61
    "دین میں نئی نئی رسموں سے بچو۔ ہر نئی رسم بدعت ہے' اور ہر بدعت گمراہی ہے۔"
    اور خود عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی عزیز کی عید میلاد نہیں منائی اور نہ ہی ان کی وفات کے بعد قل وغیرہ کروائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹوں' آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی وفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہوئی' مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موجودہ رسموں میں سے کوئی رسم ادا نہیں کی۔ اگر ان رسموں کا کوئی فائدہ ہوتا یا ایصال ثواب کا ذریعہ ہوتیں' تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور عمل فرماتے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس کی تلقین فرماتے۔
    اگر کسی قبر پر عرس وغیرہ کرنا باعث ثواب اور حصول برکات کا سبب ہوتا تو خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کسی صورت میں بھی اس سے محروم نہ رہتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان سے زیادہ محبت کس کو ہوسکتی ہے؟ مگر ان میں سے کسی سے بھی اس قسم کے اعمال ثابت نہیں۔ معلوم ہوا' یہ سب رسمیں کسب معاش کے لیے وضع کی گئیں ہیں۔ ثواب و برکات حصول محض ایک دھوکہ ہے!
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قبر کی طرف خصوصی طور پر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اور قبروں پر ہونے والی بدعات بہت بری ہیں۔ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبر کو میلہ نہ بننے کی دعاء فرمائی تھی۔62
    مشہور حنفی مفسر قاضی ثناء اللہ پانی پتی فرماتے ہیں:
    "آج کل کچھ جاہل لوگوں نے قبروں کے پاس غیر شرعی حرکات شروع کردی ہیں' ان کا کوئی جواز نہیں۔ عرس وغیرہ اور روشنی کرنا سب بدعات ہیں۔63
    قبروں کے گرد طواف کے بارے میں ابن نجیم الحنفی کا ارشاد ہے:
    "کعبہ کے سوا کسی دوسری چیز کے گرد طواف کفر ہے۔64"
    ملا علی قاری صاحب فرماتے ہیں:
    "روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد طواف کرنا بھی جائز نہیں' کیونکہ یہ کعبة اللہ کی خاصیت ہے۔ آج کل کچھ جاہل لوگوں نے مشائخ اور علماء کا لبادہ اوڑھ کر یہ کام شروع کردیا ہے' ان کا کوئی اعتبار نہیں۔ ان کا یہ فعل جہالت پر مبنی ہے۔65"
    جہاں تک عید میلاد کا تعلق ہے' تو یہ ساتویں صدی ہجری میں ایک بدعتی بادشاہ مظفر الدین کی ایجاد ہے۔
    "وہ ایک فضول خرچ بادشاہ تھا۔ وہ سب سے پہلا شخص تھا۔ جس نے یہ کام شروع کیا۔66"
    نیز:
    "وہ ہر سال تقریباً تین لاکھ روپے اس بدعت پر خرچ کیا کرتا تھا۔67"
    نیز:
    اس کے دور میں ایک بدعتی عالم عمر بن دحیہ نے بھی اس کا ساتھ دیا۔ بادشاہ نے اسے ایک ہزار دینار انعام دیا۔68"
    البدایہ والنہایہ میں عمر بن دحیہ کے متعلق لکھا ہے کہ:
    "یہ جھوٹا شخص تھا۔ لوگوں نے اس کی روایت پر اعتبار کرنا چھوڑ دیا تھا اور اس کی بہت زیادہ تذلیل کی تھی۔69"
    امام ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کے متعلق فرمایاہے:
    "یہ بہت جھوٹا شخص تھا۔ احادیث خود وضع کرکے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیتا۔ سلف صالحین کے خلاف بد زبانی کیا کرتا تھا۔ ابوالعلاء اصبہانی نے اس کے متعلق ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ:
    " وہ ایک دن میرے والد کے پاس آیا' اس کے ہاتھ میں ایک مصلیٰ بھی تھا۔ اس نے اسے چوما اور آنکھوں سے لگایا اور کہا کہ یہ مصلیٰ بہت بابرکت ہے۔ میں نے اس پر کئی ہزار نوافل ادا کیے ہیں اور بیت اللہ شریف میں اس پر بیٹھ کر قرآن مجید ختم کیا ہے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اسی روز ایک تاجر میرے والد کے پاس آیا اور کہنے لگا' آپ کے مہمان نے آج مجھ سے بہت مہنگا جائے نماز (مصلیٰ) خریدا ہے۔ میرے والد نے وہ مصلیٰ جو مہمان عمر بن دحیہ کے پاس تھا' اسے دکھلایا تو تاجر نے کہا کہ یہی وہ جائے نماز ہے جو اس نے مجھ سے آج خریدا ہے۔ اس پر میرے والد نے اسے بہت شرمندہ کیا اور گھر سے نکال دیا۔70
    بہرحال ایسے شخص نے اس بادشاہ کی تائید کی اور میلاد کے سلسلے میں اس کا ساتھ دیا۔
    عید میلاد صرف عیسائیوں کی مشابہت میں جاری کی گئی ہے' اسلامی شریعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
    محفل میلاد میں بریلوی حضرات میلاد پڑھتے وقت کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ معاذ اللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود اس میں حاضری کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ بریلوی حضرات اکثر یہ شعر پڑھتے ہیں۔
    دم بدم پڑھو درود حضور بھی ہیں یہاں موجود​
    ان کا کہنا ہے:
    میلاد شریف کے ذکر کے وقت قیام فرض ہے۔71"
    حالانکہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
    "جسے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ لوگ اس کی تعظیماً قیام کریں' اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔72"
    اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوا کرتے تھے' کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے ہیں۔73"
    بریلوی حضرات پر تعجب ہے کہ وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم میلاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ وفات کے روز مناتے ہیں' کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 12 ربیع الاول کو انتقال فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ ولادت9 ربیع الاول ہے اور جدید تقویم سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ تعجب اس بات پر ہے کہ چند سال قبل بریلوی حضرات اسے بارہ وفات کہا کرتے تھے' مگر اب بارہ وفات سے بدل کر عید میلاد کردیا۔
    جہاں تک قل' ساتویں' دسویں اور چالیسویں وغیرہ کا تعلق ہے' یہ سب خود ساختہ بدعات ہیں۔ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا ثبوت ملتا ہے' نہ اصحاب رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور نہ ہی فقہ حنفی سے۔ حقیقت میں یہ لوگ حنفی نہیں' کیونکہ یہ فقہ حنفی کی پابندی نہیں کرتے۔ ان کی الگ اپنی فقہ ہے' جس پر یہ عمل پیرا ہیں۔
    فقہ حنفی کے امام ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "ہمارے مذہب میں علماء کا اتفاق ہے کہ تیجا اور ساتواں وغیرہ جائز نہیں۔74"
    ابن بزار حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "تیجا اور ساتواں مکروہ ہے۔ اسی طرح مخصوص دنوں میں ایصال ثواب کے لیے کھانا پکانا اور ختم وغیرہ بھی مکروہ ہیں۔75"
    مگر بریلوی حضرات کسی شخص کے مرجانے کے بعد اس کے ورثاء پر قل وغیرہ کرنا فرض قرار دیتے ہیں اور ایصال ثواب کے بہانے شکم پروری کا سامان مہیا کرتے ہیں۔
    گیارہوں کے متعلق بریلوی قوم کا اعتقاد ہے:
    "گیارہویں تاریخ کو کچھ مقررہ پیسوں پر فاتحہ کی پابندی کی جائے تو گھر میں بہت برکت رہتی ہے۔ کتاب "یازدہ مجالس" میں لکھا ہے کہ حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ حضور علیہ السلام کی بارہویں یعنی 12 تاریخ کے میلاد کے بڑے پابند تھے۔ ایک بار خواب میں سرکار نے فرمایا کہ عبدالقادر! تم نے بارہویں سے ہم کو یاد کیا' ہم تم کو گیارہویں دیتے ہیں۔ یعنی لوگ گیارہویں سے تم کویاد کیا کریں گے۔ یہ سرکاری عطیہ ہے۔76"
    یہ ہے گیارہویں اور "یازداہ مجالس" سے اس کی عظیم الشان دلیل۔ نامعلوم کون کون سے دن انہوں نے حصول برکات کے لیے وضع کررکھے ہیں۔ بریلوی مذہب میں جمعرات کی روٹی بھی معروف ہے۔ کیونکہ:
    "جمعرات کے روز مومنوں کی روحیں اپنے گھروں میں آتی ہیں اور دروازے کے پاس کھڑے ہوکر دردناک آواز سے پکارتی ہیں کہ: اے میرے گھر والوں! اے میرے بچو! اے میرے عزیزو! ہم پر صدقے سے مہربانی کرو۔ چنانچہ میت کی روح اپنے گھر میں جمعہ کی رات کو آکر دیکھتی ہے کہ اس کی طرف سے صدقہ کیا گیا ہے یا نہیں؟77"
    صرف جمعرات کے روز ہی روحیں صدقہ خیرات کا مطالبہ کرنے کے لیے نہیں آتیں 'بلکہ:
    "عید' جمعۃ المبارک' عاشورہ اور شب برات کے موقعہ پر بھی آتی اور اس قسم کا مطالبہ کرتی ہیں78"
    اکل و شرب کے لیے ایجاد کی جانے والی بریلوی حضرات کی "رسم ختم شریف" جہلا میں بہت مشہور ہے۔ ان کے ملّاؤں نے پیٹ کے لیے ایندھن فراہم کرنے کی غرض سے اس رسم کو رواج دے کر شریعت اسلامیہ کو بہت بدنام کیاہے۔ اس رسم سے علمائے کرام کے وقار کو بھی سخت دھچکا لگا ہے اور ہمارے یہاں یہ رسم علمائے کرام کے لیے گالی سمجھی جانے لگی ہے۔ ان ملّاؤں کی شکم پروری کا سامان مہیا ہوتا رہے' باقی کسی چیز سے انہیں کوئی غرض نہیں۔
    اسی طرح یہ حضرات کسی سرمایہ دار کے گھر اکھٹے ہوکر قرآن مجید ختم کرتے ہیں اور پھر اس کا ثواب میت کو ہبہ کردیتے ہیں۔ سرمایہ دار خوش ہوجاتا ہے کہ چند ٹکوں کے عوض اس کا عزیز بخشا گیا۔ اور یہ حضرات خوش ہوجاتے ہیں کہ تھوڑے سے وقت کے عوض مختلف انواع کے کھانے بھی مل گئے اور جیب بھی گرم ہوگئی' حالانکہ فقہائے احناف کی صراحت ہے:
    "اجرت لے کر قرآن ختم کرنے کاثواب خود پڑھنے والے کو نہیں ملتا' میت کو کیسے پہنچے گا؟79"
    امام عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "اس طرح قرآن مجید ختم کرکے اجرت لینے والا اور دینے والا دونوں گناہ گار ہیں۔ اس طرح کرنا جائز نہیں۔80"
    ابن عابدین رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    "ایسا کرنا کسی مذہب میں جائز نہیں' اس کا کوئی ثواب نہیں ملتا!81"
    امام شامی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:
    "قرآن مجید اجرت پر پڑھنا اور پھر اس کا ثواب میت کو ہبہ کرنا کسی سے ثابت نہیں ہے۔ جب کوئی شخص اجرت لے کر پڑھتا ہے تو اسے پڑھنے کا ثواب نہیں ملتا' پھر وہ میت کو کیا ہبہ کرسکتا ہے۔82"
    رب تعالیٰ نے فرمایا:
    وَلَا تَشتَرْوا بِاٰیٰاتِی ثَمَنًا قَلِیلاً (البقرہ)
    "میری آیات کے بدلے مال کا کچھ حصہ نہ خریدو۔"
    مفسرین کہتے ہیں:
    "یعنی اس پراجرت نہ لو۔84"
    شرح عقیدہ طحاویہ میں ہے:
    "کچھ لوگوں کا اجرت دے کر قرآن مجید ختم کروانا اور پھر اس کا ثواب میت کو ہبہ کرنا' یہ سلف صالحین میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں۔ اور نہ اس طرح ثواب میت تک پہنچتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص اجرت دے کر اس سے نوافل وغیرہ پڑھوائے اور ان کا ثواب میت کو ہبہ کردے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر کوئی شخص یہ وصیت کرجائے کہ اس کے مال کا کچھ حصہ قرآن مجید کی تلاوت کر کے اسے ہبہ کرنے والوں کو دیا جائے' تو ایسی وصیت باطل ہے۔85"
    بہرحال اس بدعت کا ذاتی خواہشات کی تکمیل سے تو تعلق ہوسکتا ہے' دین و شریعت سے کوئی تعلق نہیں!
    بریلوی حضرات نے مال و دولت جمع کرنے کے لیے "تبرکات" کی بدعت بھی ایجاد کی ہے' تاکہ جبہ و دستار کی زیارت کراکے دنیوی دولت کو سمیٹا جائے۔ بریلوی اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں:
    "اولیاء کے تبرکات شعائر اللہ میں سے ہیں۔ ان کی تعظیم ضروری ہے۔86"
    مزید:
    جو شخص تبرکات شریفہ کا منکر ہو' وہ قرآن و حدیث کا منکر اور سخت جاہل' خاسر اور گمراہ و فاجر ہے۔87"
    نیز:
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا ایک جزو یہ بھی ہے کہ جو چیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے پہچانی جاتی ہے' اس کی تعظیم کی جائے۔88"
    چنانچہ کسی بھی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردو اور پھر ا س کی زیارت کرواکے صدقے اور نذرانے جمع کرنے شروع کردو۔ کوئی ضرورت نہیں تحقیق کی کہ اس "تبرک" کا واقعی آپ سے تعلق ہے بھی یا نہیں؟ جناب بریلوی تصریح فرماتے ہیں:
    "اس کے لیے کسی سند کی حاجت نہیں ' بلکہ جو چیز حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پاک سے مشہور ہو' اس کی تعظیم شعائر دین میں سے ہے۔89"
    تعظیم کا طریقہ کیا ہے؟ جناب احمد رضا بیان کرتے ہیں:
    "در ودیوار اور تبرکات کو مس کرنا اور بوسہ دینا اگرچہ ان عمارتوں کا زمانہ اقدس میں وجود ہی نہ ہو۔۔۔۔۔۔اس کی دلیل؟ مجنوں کا قول۔۔۔۔۔کیا خوب کسی نے کہا ہے۔
    امر علی الدیار دیار لیلیٰ
    اقبل ذا الجدار وذا الجدار
    وماحب الدیار شغفن قلبی
    ولکن حب من سکن الدیارا​
    "میں لیلیٰ کے شہروں پر گزرتا ہوں تو کبھی اس دیوار کو بوسہ دیتا ہوں تو کبھی اس دیوار کو۔ اور یہ شہر کی محبت کی وجہ سے نہیں' بلکہ یہ تو شہر والوں کی محبت ہے۔90"
    نیز:
    حتیٰ کہ بزرگوں کی قبر پر جانے کے وقت دروازے کی چوکھٹ چومنا بھی جائز ہے۔91"
    بریلوی قوم کے نزدیک مدینہ منورہ اور بزرگوں کی قبروں کو چومنا ہی نہیں' بلکہ مزاروں وغیرہ کی تصویروں کو بھی چومنا ضروری ہے۔ بریلوی صاحب ارشاد کرتے ہیں:
    "علمائے دین نعل مطہر و روضہ حضور سید البشر علیہ افضل الصلوۃ واکمل السلام کے نقشے کاغذوں پر بنانے اور انہیں بوسہ دینے' آنکھوں سے لگانے اور سر پر رکھنے کا حکم فرماتے رہے۔93"
    نیز:
    "علمائے دین ان تصویروں سے دفع امراض و حصول اغراض کے لیے توسل فرماتے تھے۔94"
    بریلوی اعلیٰ حضرت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعل مبارک کی خیالی تصویر کے فوائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    جس کے پا س نقشہ متبرکہ ہو' ظالموں اور حاسدوں سے محفوظ رہے۔ عورت دردزہ کے وقت اپنے داہنے ہاتھ میں رکھے' آسانی ہو۔ جو ہمیشہ پاس رکھے گا معزز اور اسے زیارت روضہ رسول نصیب ہو۔ جس لشکر میں ہو نہ بھاگے' جس قافلے میں ہو نہ لٹے' جس کشتی میں ہو نہ ڈوبے' جس مال میں ہو نہ چرایا جائے' جس حاجت میں اس سے توسل کیا جائے پوری ہو' جس مراد کی نیت اپنے پاس رکھیں حاصل ہو۔95"
    ان خرافات اور دور جاہلیت کی خرافات میں کوئی فرق نہیں ہے۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خرافات کو ختم کیا تھا' یہ لوگ دوبارہ اسے زندہ کررہے ہیں۔
    خاں صاحب نقل کرتے ہیں:
    "اگر ہوسکے تو اس خاک کو بوسہ دے جسے نعل مبارک کے اثر سے نم حاصل ہوئی ورنہ اس کے نقشہ ہی کو بوسہ دے۔96"
    مزید:
    اس نقشے کے لکھنے میں ایک فائدہ یہ ہے کہ جسے اصل روضہ عالیہ کی زیارت نہ ملی' وہ اس کی زیارت کرلے۔ اور شوق سے اسے بوسہ دے کہ یہ مثال اس اصل کے قائم مقام ہے۔97"
    نیز:
    "روضہ منورہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل صحیح بلاشبہ معظمات دینیہ سے ہے۔ اس کی تعظیم وتکریم بروجہ شرعی ہر مسلمان صحیح الایمان کا مقتضائے ایمان ہے۔98"
    ان چیزوں کی زیارت کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تصور ذہن میں لائیں اور درود شریف کی کثرت کریں۔99"
    ایک جگہ لکھتے ہیں:
    "حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نعل مبارک کے نقشہ کو مس کرنے والے کو قیامت میں خیر کثیر ملے گی اور دنیا میں یقیناً نہایت اچھے عیش و عشرت اور عزت و سرور میں رہے گا۔ اسے قیامت کے روز کامیابی کی غرض سے بوسہ دینا چاہئے' جو اس نقشے پر اپنے رخسار رگڑے اس کے لیے بہت عجیب برکتیں ہیں۔100"
    اندازہ لگائیں' بریلوی حضرات کی ان حرکات اور بت پرستی میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ اپنے ہاتھوں سے ایک تصویر بناتے ہیں اور پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تصور اپنے ذہن میں لاکر اسے چومتے ہیں' اپنی آنکھوں سے لگاتے اور اپنے گالوں پر رگڑتے ہیں اور پھر برکات کے حصول کی امید کرتے ہیں۔
    ایک طرف تو تصویر اور مجسمے کی اس قدر تعظیم کرتے' اور دوسری طرف اللہ رب العزت کی شان میں اس قدر گستاخی اور بے ادبی کہ کہتے ہیں:
    "نعل شریف (جوتے کا مجسمہ) پر بسم اللہ لکھنے میں کوئی حرج نہیں۔101"
    جناب احمد رضا صاحب ان مشرکانہ رسموں کی اصل غرض وغایت کی طرف آتے ہیں:
    "زائر کو چاہیے کہ وہ کچھ نذر کرے' تاکہ اس سے مسلمانوں کی اعانت ہو۔ اس طرح زیارت کرنے والے اور کرانے والے دونوں کو ثواب ہوگا۔ ایک نے سعادت و برکت دے کر ان کی مدد کی اور دوسرے نے متاع قلیل سے فائدہ پہنچایا۔ حدیث میں ہے " تم میں جس سے ہوسکے کہ اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچائے" تو اسے چاہئے کہ نفع پہنچائے(طرز استدلال ملاحظہ فرمائیں) حدیث میں ہے:
    "اللہ اپنے بندوں کی مدد میں ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہے۔ خصوصاً جب یہ تبرکات والے حضرات سادات ہوں تو ان کی خدمت اعلیٰ درجے کی برکت و سعادت ہے۔102"
    یہ ہے بریلوی دین و شریعت اور یہ ہیں اس کے بنیادی اصول و ضوابط! عوام کو بے وقوف بناکر کس طرح یہ لوگ اپنا کاروبار چمکانا چاہتے اور اپنی تجوریاں بھرنا چاہتے ہیں۔
    کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ اسلام تصاویر اور مجسموں کی تعظیم کا حکم دے؟ انہیں بوسہ دینے اور ہاتھ سے چھونے کو باعث برکت بتائے اور پھر اس پر چڑھاوے چڑھانے کی ترغیب دے؟
    حاشا وکلّا!
    دین کو نفع بخش تجارت بنالینے والے بعض بریلوی ملاؤں نے عوامی سرمائے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے لیے بعض ایسی بدعات ایجاد کی ہیں' جو کھلم کھلا کتاب و سنت کے خلاف اعلان بغاوت ہیں۔ بریلوی حضرات کا عقیدہ ہے کہ اگر کسی نے ساری زندگی نماز نہ پڑھی ہو روزے نہ رکھے ہوں ' مرنے کے بعد دنیوی مال ومتاع خرچ کرکے اسے بخشوایا جاسکتا ہے۔ جسے یہ لوگ حیلہ اسقاط کا نام دیتے ہیں۔ اس کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں اور بریلوی ذہنیت کی داد دیں:
    "میت کی عمر کا اندازہ لگا کر مرد کی عمر سے بارہ سال اور عورت کی عمر سے نو سال (نابالغ رہنے کی کم ازکم مدت) کم کردیئے جائیں۔ بقیہ عمر میں اندازہ لگایا جائے کہ ایسے کتنے فرائض ہیں جنہیں وہ ادا نہ کرسکا اور نہ قضا۔ اس کے بعد ہر نماز کے لیے صدقہ فطر کی مقدار بطور فدیہ خیرات کردی جائے' صدقہ فطر کی مقدار نصف صاع گندم یا ایک صاع جو ہے۔ اس حساب سے ایک دن کی وتر سمیت چھ نمازوں کا فدیہ تقریباً بارہ سیر ایک ماہ کا نومن اور شمسی سال کا ایک سو آٹھ من ہوگا۔103"
    قرآن کریم میں ہے:
    اِنَّ الَّذِینَ یَاکْلْونَ اَموَالَ الیَتٰمٰی ظْلمًا اِنَّمَا یَاکْلْونَ فِی بْطْونِھِم نَارًا وَ سَیَصلَونَ سَعِیرًا
    "بلاشبہ وہ ظالم جو یتیموں کا مال کھاتے ہیں ' وہ حقیقت میں اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں ایسے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے۔"
    نیز فرمایا:
    لَا تَزِرْ وَازِرَۃ وِّزرَ اْخرٰی
    "کسی کا بوجھ دوسرا نہیں اٹھا سکتا"
    نیز:
    وَاَنَّ لَیسَ لِلاِنسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی
    "انسان کو اسی کی جزا ملے گی' جو ا س نے خود کمایا۔"
    مگر بریلوی حضرات نے نامعلوم یہ حیلے کہاں سے اخذ کیے ہیں؟
    ان کا ماخذ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تو ہوسکتا ہے' شریعت اسلامیہ میں ان کا کوئی وجود نہیں!
    کہتے ہیں اپنے عزیزوں کو بخشوانے کے لیے اتنی دولت شاید ہی کوئی خرچ کرے۔ پھر اس میں تخفیف کے لیے دوسرے کئی حیلے بیان کرتے ہیں تاکہ اسے استطاعت سے باہر سمجھ کر باکل ہی ترک نہ کردیا جائے۔
    جولوگ ان حیلوں کے قائل نہیں' ان کے متعلق ان کا ارشاد ہے کہ:
    "وہابی وغیرہ کو دنیا سے رخصت ہونے والوں کے ساتھ نہ کوئی خیرخواہی ہے اور نہ فقراء و غرباء(بریلوی ملّاؤں) کے لیے جذبہ ہمدردی۔
    اگر کوئی شخص حساب کے مطابق فدیہ ادا کرے' تو کیا اچھا ہے۔107"
    اگر ہر محلے کے لوگ اپنے اعزا کو بخشوانے کے لیے ان حیلوں پر عمل شروع کردیں تو ان ملّاؤں کی تو پانچوں گھی میں ہوجائیں۔
    ان حیلوں سے بے نمازوں اور روزہ خوروں کی تعداد میں اضافہ تو ہوسکتا ہے' بریلوی اکابرین کی تجوریاں تو بھر سکتی ہیں' مگر عذاب کے مستحق مردوں کو بخشوایا نہیں جاسکتا۔ کیونکہ ان حیلوں کا نہ قرآن میں ذکر نہ حدیث میں۔ جس نے دنیا میں جو کمایا' آخرت میں اس کا پھل پائے گا۔ اگر نیک ہے تو اسے حیلوں کی ضرورت نہیں' اور اگر بد ہے تو اسے ان کو کوئی فائدہ نہیں!
    انگوٹھے چومنا بھی ایک بدعت ہے' جس کا حدیث سے کوئی ثبوت نہیں۔ بریلوی حضرات اس بدعت کو ثابت کرنے کے لیے من گھڑت اور موضوع روایات ذکر کرتے ہیں۔ جناب بریلوی لکھتے ہیں "حضرت خضر علیہ السلام سے مروی ہے کہ جو شخص (اشھدان محمدا رسول اللہ) سن کر اپنے انگوٹھے چومے گا اور پھر اپنی آنکھوں پر لگائے گا' اس کی آنکھیں کبھی نہ دکھیں گی۔108"
    جناب احمد رضا نے اس روایت کو امام سخاوی سے نقل کیا ہے۔ جب کہ امام سخاوی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ذکر کرکے لکھا ہے:
    "اس روایت کو کسی صوفی نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ اس کی سند میں جن راویوں کے اسماء ہیں' وہ محدثین کے نزدیک مجہول او رغیر معروف ہیں۔ یعنی خود ساختہ سند ہے۔ اور پھر خضر علیہ السلام سے کس نے سنا ہے؟ اس کا بھی کوئی ذکر نہیں۔109"
    یعنی امام سخاوی جس روایت کو صوفیہ کے خلاف استعمال کررہے ہیں اس پر تنقید کررہے ہیں اور اسے موضوع روایت قرار دے رہے ہیں' جناب احمد رضا مکمل علمی بددیانتی کا ثبوت دیتے ہوئے ایک غیر اسلامی بدعت کو رواج دینے کے لئے اس سے استدلال کررہے ہیں۔
    امام سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: " وہ تمام روایات' جن میں انگوٹھوں کو چومنے کا ذکر ہے' وہ موضوع ومن گھڑت ہیں۔110"
    اسی طرح امام سخاوی رحمہ اللہ ' ملا علی قاری' محمد طاہر الفتنی اور علامہ شوکانی رحمہم اللہ وغیرہ نے ان تمام روایات کو موضوع قرار دیا ہے۔111
    لیکن جناب احمد رضا صاحب کو اصرار ہے کہ "انگوٹھے چومنے کا انکار اجماع امت (بریلوی امت) کے منافی ہے۔112"
    مزید:"اسے وہی شخص ناجائز کہے گا' جو سید الانام صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے جلتا ہے۔113"
    بریلوی خرافات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں "جس نے( لاالٰہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ) یہ ساری دعاء لکھ کر میت کے کفن میں رکھ دی' وہ قبر کی تنگیوں سے محفوظ رہے گا اور منکر نکیر اس کے پاس نہیں آئیں گے۔114"
    اسی طرح بریلوی حضرات نے "عہدنامہ" کے نام سے ایک دعا وضع کررکھی ہے' جس کا کوئی ثبوت نہیں۔ اس کے متعلق ان کا عقیدہ ہے کہ "اسے جس شخص کے کفن میں رکھا جائے' اللہ اس کے تمام گناہ معاف کردے گا۔115"
    احمد یار لکھتے ہیں:
    عہدنامہ دیکھ کر میت کو یاد آجاتا ہے کہ اس نے نکیرین کو کیا جواب دینا ہے؟116"
    بریلوی حضرات کتاب وسنت اور خود فقہ حنفی کی مخالفت کرتے ہوئے بہت سی ایسی بدعات کا ارتکاب کرتے ہیں' جن کا سلف صالحین سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ ان میں سے ایک قبر پر اذان دینا بھی ہے۔ خان صاحب بریلوی لکھتے ہیں:
    "قبر پر اذان دینا مستحب ہے' اس سے میت کو نفع ہوتا ہے۔117"
    نیز:
    قبر پر اذان سے شیطان بھاگتا ہے اور برکات نازل ہوتی ہیں۔118"
    حالانکہ فقہ حنفی میں واضح طور پر اس کی مخالفت کی گئی ہے۔ علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "قبر پر اذان وغیرہ دینا یا دوسری بدعات کا ارتکاب کرنا درست نہیں۔ سنت سے فقط اتنا ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب جنت البقیع تشریف لے جاتے تو فرماتے (السلام علیکم دار قوم مومنین۔۔۔۔الخ) اس کے علاوہ کچھ ثابت نہیں' ان بدعات سے اجتناب کرنا چاہئے119"
    امام شامی کہتے ہیں:
    "آج کل قبر پر اذان دینے کا رواج ہے۔ اس کو کوئی ثبوت نہیں' یہ بدعت ہے۔120"
    محمود بلخی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
    "قبر پر اذان دینے کی کوئی حیثیت نہیں۔121"
    بہرحال یہ ہیں بریلوی حضرات کی وہ تعلیمات جو نہ صرف کتاب و سنت کے خلاف ہیں' بلکہ فقہ حنفی کے بھی خلاف ہیں۔ حالانکہ بریلوی قوم فقہ حنفی کا پابند ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔
    اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں سنت پر عمل پیرا ہونے اور بدعات سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!




    حوالہ جات
    1ملاحظہ ہوفتاویٰ رضویہ جلد ٦ص ٥٦۔
    2ملاحظہ ہو ''ماھی الضلالۃ''از فتاویٰ رضویہ جلد ٥ص ٨٩۔
    3جاء الحق از احمد یارص ٢٨٢۔
    4ایضاً ص ٢٨٥۔
    5رواہ مسلم والترمذی والنسائی واحمد والحاکم والبہیقی۔
    6ایضاً۔
    7رواہ مسلم۔
    8کتاب الاثار از امام محمد۔
    9کتاب الاصل جلد ا ص ٤٢٢ از امام محمد۔
    10المبسوط از امام سرخسی جلد ٢ ص ٦٢۔
    11فتاویٰ قاضی خاں جلدا ص ١٩٤۔
    12بدائع الصنائع از امام کاسانی جلد ١ ص ٣٢٠۔
    13جلد ٢ ص ٢٠٩۔
    14جلد١ص ٣٢٠۔
    15جلدا ص ٤٧٢۔
    16جلد ١ ص ٦٠١۔
    17جلد ١ص ٦٦١
    18جلد ٤ ص ٨١۔
    19ص٥٠۔
    20مجالس الابرار از قاضی ابراہیم ص ١٢٩۔
    21رواہ البخاری۔
    22احکام شریعت للبریلوی ج١ ص ٧١۔
    23اقیجاً ص ٧١۔
    24بریق المنار بشموع المزار در فتاویٰ رضویہ جلد ٤ ص ١٤٤۔
    25جاء الحق از احمد یار گجراتیء ص ٣٠٠۔
    26رواہ ابوداؤد والترمذی والنسائی۔
    27مرقاۃ از ملا علی قاری جلد ١ ص ٤٧٠۔
    28مجالس الابرار ص ١١٨۔
    29جاء الحق ص ٣٠٢۔
    30ردّ المختار از ابن عابدین شامی جلد٢ ص ١٣٩۔
    31ردّ المختار از حصکفی جلد٢ ص ١٣٩۔
    32فتاویٰ عالمگیری جلد ١ ص ١٧٨۔
    33روح المعانی جلد ١٥ ص ٢١٩۔
    34فتاویٰ مطالب المومنین۔
    35فتاویٰ عزیزیہ ص٩۔
    36فتاویٰ شاہ رفیع الدین ص ١٤۔
    37مطالب المومنین۔
    38مشکوٰۃ المصابیح باب المساجد عن مالک فی موطا۔
    39ملاحظہ فرمائیں' کس طرح یہ لوگ قرآن مجید میں معنوی تحریف کا ارتکاب کررہے ہیں اور نبوت کی شان میں گستاخی کررہے ہیں۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ولایت نبوت سے افضل ہے'اور یہی عقیدہ ہے گمراہ ابن عربی صوفی کا ۔ احمد یار گجراتی نے حضرت زکریا علیہ السلام کامقام و مرتبہ حضرت مریم علیہاالسلام سے گھٹا دیا ہے۔(العیاذ باللہ)۔
    40جاء الحق ص ٣٣٥۔
    41مواعظ نعیمیہ از گجراتی ص ٢٢٤۔
    42بہار شریعت جز ء اول ص ٥٦۔
    43بریلوی شریعت سے تویہ بات ثابت ہوسکتی ہے'اسلامی شریعت سے ثابت نہیں ہے!۔
    44رسالہ المعجزۃ العظمیٰ المحمدیہ درج فتاویٰ صدر الافاضل نعیم مراد آبادی ص ١٦٠۔
    45رسالہ حاجز البحرین از بریلوی درج فتاویٰ رضویہ جلد ٢ ص ٣٣٣۔
    46فتاویٰ رضویہ جلد ٠١ ص ٦٦۔
    47ایضاً ص ٢٠٧۔
    48بہار شریعت از امجد علی رضوی جزء ٤ ص ١٣٣۔
    49علم القرآن از احمد یار ص ٣٦۔
    50حکایات رضویہ ص ٤٦۔
    51حکایات رضویہ ص ١٤٦۔
    52الحق المبین از احمد سعید کاظمی ص ٧٤۔
    53رسول الکلام فی بیان المولد والقیام ص ١٥۔54جاء الحق جلد١ ص ٢٣١۔
    55ایضاً۔
    56ایضاً ص ٢٣٣
    57رسول الکلام ص٥٨۔
    58ایضاً ص ٦٠۔
    60متفق علیہ۔
    61رواہ احمد وابوداؤد والترمذی وابن ماجہ۔
    62حجۃ اللہ البالغہ جلد٢ص ٧٧ 'ایضاً تفہیمات الٰہیہ جلد ٢ ص ٦٤۔
    63تفسیر مظہری از قاضی ثناء اللہ جلد ٢ ص ٦٥۔
    64البحرالرائق۔
    65شرح المناسک از ملا علی قاری۔
    66القول المعتمد فی عمل المولد از احمد بن محمد مصری۔
    67دول الاسلام از امام ذہبی رحمہ اللہ جلد ٢ ص ١٠٢۔
    68البدایہ والنہایہ ازامام ابن کثیر جلد١٣ص ١٤٤۔
    69ایضاً ص ١٤٥۔
    70لسان المیزان از امام ابن حجر جلد ٤ ص ٢٩٦۔
    71الانوار الساطعہ از عبدالسمیع بریلوی ص ٢٥٠۔
    72رواہ الترمذی و ابوداؤد۔
    73رواہ الترمذی وقال 'حدیث حسن۔
    74مرقاۃ شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ٥ ص ٤٨٢۔
    75فتاویٰ بزازیہ جلد ٤ص ٨١۔
    76جاء الحق جلد١ ص ٢٧٠۔
    77رسالہ اتیان الارواح در مجموعہ رسائل جلد ٢ ص ٦٩' ایضاً جاء الحق جلد١ ص ٢٦٢۔
    78اتیان الارواح ص ٧٠۔
    79شرح الدرایہ از محمود بن احمد حنفی۔
    80البنایہ شرح الہدایہ جلد ٣ ص ٦٥٥۔
    81مجموعہ رسائل از ابن عابدین ص ١٧٣'١٧٤۔
    82ایضاً ص ١٧٥۔
    84تفسیر طبری 'ابن کثیر اور قرطبی وغیرہ۔
    85شرح العقیدہ الطحاویہ ص ٥١٧۔
    86مقدمہ رسالہ بدرالانوار مجموعہ رسائل اعلیٰ حضرت جلد ٢ ص ٨۔
    87درا لانوار احمد رضا ص ١٢۔
    88ایضاً ص ٢١۔
    89ایضاً الفصل الرابع ص ٤٣۔
    90رسالۃ ابرالمقال درج در مجموعہ رسائل جلد ٢ ص ١٤١۔
    91ایضاً ص ١٥٩۔
    92ایضاً ص ١٤٤۔
    93ابرالمقال فی قبلۃ الاجلال از بریلوی ص ١٤٣۔
    94بدرالانوار فی آداب الاٰثار ص ٣٩۔
    95ایضاً ص ٤٠۔
    96ابرالمقال فی قبلۃ الاجلال از بریلوی ص ١٤٣۔
    97ایضاً ص ١٤٨۔
    98بدرالانوار ص ٥٣۔
    99ایضاًص ٥٦۔100مجموعہ رسائل از احمد رضاص ١٤٤۔
    101ایضاً ص ٣٠٤۔
    102بدار الانوار در مجموعہ رسائل ص ٥٠ ومابعد۔
    103غایۃ الاحتیاط فی جواز حیلۃ الاسقاط درج در بذل الجوائر ص ٣٤ طبع لاہور۔
    107حیلۃ الاسقاط ص ٣٥۔
    108منیز العین فی حکم تقبل الابہامین مندرج در فتاویٰ رضویہ ص ٣٨٣۔
    109المقاصد الحسنہ للسخاوی۔
    110تیسیرالمقال از امام سیوطی۔
    111ملاحظہ ہو تذکرۃ الموضوعات للفتنی ' موضوعات ملا علی قاری ' الفوائد المجموعتہ للامام الشوکانی۔
    112منیرالعین در فتاویٰ رضویہ جلد ٢ ص ٤٨٨۔
    113ایضاً ص ٤٩٦۔
    114فتاویٰ رضویہ جلد ٤ ص ١٢٧۔
    115ایضاً ص ١٢٩۔
    116جاء الحق ص ٣٤٠۔
    117فتاویٰ رضویہ جلد ٤ ص ٥٤۔
    118جاء الحق جلد ١ ص ٣١٥۔
    119ابرالمقال فی قبلتہ الاجلال ص ١٤٣۔
    120بدرا لانوار فی آداب الاٰثار ص٣٨۔
    121ایضاً ص ٤٠۔



    جاری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  17. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد --------- باب چہارم

    باب 4
    بریلویت اور تکفیری فتوے


    بریلوی حضرات نے اکابرین اسلامیہ کی جس انداز سے تکفیر کی ہے' انہیں ملحد زندیق اور مرتد قرار دیا ہے اور انہیں غلیظ اور نجس گالیوں سے نوازا ہے' کسی شخص کا اس پر جذباتی ہونا اور جواباً وہی طرز و اسلوب اختیار کرنا اگرچہ فطری تقاضا ہے۔۔۔۔مگر ہمارا چونکہ مثبت' نرم اور غیر متشددانہ ہے' لہٰذا ہم کفر کے فتووں کو ذکر کرنے کے باوجود اپنے اسلوب میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آنے دیں گے۔ ویسے بھی مومن کی یہ شان نہیں کہ وہ لعن طعن کا اسلوب و انداز اختیار کرے۔
    بریلوی مذہب کے پیروکاروں نے اپنے مخصوص عقائد و نظریات کو اسلام کا نام دے رکھا ہے۔ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے تمام اختیارات اولیاء کے پاس ہیں۔ ان کے خود ساختہ بزرگان دین ہی خلق کی شنوائی اور ان کی حاجت روائی کرتے ہیں۔ وہ علم غیب رکھتے ہیں اور آناًفاناً پوری دنیا کا چکر لگاکر اپنے مریدوں کی تکالیف کو دور کرتے' انہیں دشمنوں سے نجات عطا کرتے اور مصائب ومشکلات سے چھٹکارا دیتے ہیں۔ ان کے پاس نفع و نقصان پہنچانے' مردے کو زندہ کرنے اور گناہ گاروں کو بخشنے جیسے اختیارات موجود ہیں۔ وہ جب چاہیں بارش برسا دیں' جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم رکھیں۔ حیوانات ان کے فرماں بردار ہیں' فرشتے ان کے دربان ہیں۔ وہ حشر نشر اور حساب و کتاب کے وقت اپنے پیروکاروں کی مدد کرنے پر قادر ہیں۔ زمین و آسمان میں ان کی بادشاہی ہے۔ جب چاہیں ایک ہی قدم میں عرش پر چلے جائیں اور جب چاہیں وہ سمندروں کی تہہ میں اترجائیں۔ سورج ان کی اجازت کے بغیر طلوع نہیں ہوتا۔ وہ اندھے کو بینا کرسکتے ہیں اور کوڑھی کو شفا دے سکتے ہیں۔ مرنے کے بعد ان کی قوت و طاقت میں حیرت ناک حد تک اضافہ ہوجاتا ہے۔ دلوں کے راز جاننے والے اور موت و حیات کے مالک ہیں۔
    یہ تمام اختیارات جب بزرگان دین کے پاس ہیں تو کسے کیا ضرورت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو پکارے' مساجد کا رخ کرے' رات کی تاریکیوں میں اٹھ کر وہ اپنے رب کے حضور گڑگڑائے؟
    وہ کسی پیر کے نام کی نذر ونیاز دے گا' آپ کو اس کا مرید بنالے گا' وہ خود ہی اس کی نگہبانی کرے گا' مصائب میں اس کے کام آئے گا اور قیامت کے روز اسے جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کردے گا۔ظاہر ہے جس کی عقل سلامت ہو اور اسلام کی تعلیمات سے ادنیٰ سی بھی واقفیت بھی رکھتا ہو' وہ تو ان عقائد کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ وہ تو رب کائنات کو اپنا خالق و مالک و رازق اور داتا و حاجت روا مانے گا اور مخلوق کو اس کا محتاج اور اس کے بندے تصور کرے گا۔ وہ انسان ہوکر انسان کی غلامی اختیار نہیں کرسکتا۔ بس یہی قصور تھا اہل حدیث کا!۔۔۔۔۔۔انہوں نے ہندوؤانہ و مشرکانہ عقائد کو نہ مانا چنانچہ وہ جناب احمد رضا خاں صاحب بریلوی اور ان کے پیروکاروں کے تکفیری فتووں کا نشانہ بن گئے۔
    اہل حدیث نے کہا ہمیں جناب بریلوی کی اطاعت کا نہیں' بلکہ کتاب و سنت کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔
    انہیں سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عزیز تھا:
    ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکم بھما کتاب اللہ و سنۃ رسولہ1
    "میں تمہارے اندر دوچیزیں چھوڑے جارہا ہوں۔ جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھوگے گمراہ نہیں ہوگے: کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!
    یہی ایک جرم تھا جو انہیں مقتل لے گیا ان پر فتووں کی بوچھاڑ ہوئی اور وہ کافر' زندیق' ملحد اور مرتد ٹھہرے!
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    اَطِیعُوا اللہَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّکُم تُرحَمُونَ
    "اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرو' تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔"
    اَطِیعُوا اللہَ وَرَسْولَہُ وَلَا تَوَلَّوا عَنہُ وَاَنتُم تَسمَعُونَ
    "اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور ان کے فرامین سننے کے باوجود ان سے
    روگردانی نہ کرو۔"
    یٰاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اَطِیعُوا اللہَ وَاطِیعُوا الرَّسُولَ
    "اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی اطاعت کرو۔"
    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیا ہے۔ مگر بریلوی عقائد و افکار کے دلائل چونکہ کتاب و سنت سے مہیا نہیں ہوتے اور اہل حدیث صرف کتاب و سنت پر اکتفا کرتے ہیں اور لوگوں کو اسی کی طرف دعوت دیتے ہیں' چنانچہ بریلوی حضرات کو ان پر سخت غصہ تھا کہ یہ ان کے کاروبار زندگی کو خراب اور ان کی چمکتی ہوئی دکانوں کو ویران کررہے ہیں۔یہی قصور امام محمد بن عبدالوہاب نجدی رحمہ اللہ تعالیٰ اور ان کے ساتھیوں کا تھا۔بریلوی حضرات کے نزدیک دیوبندی بھی اسلام سے خارج ہیں۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ ان کے تراشے ہوئے قصے کہانیوں پر ایمان نہیں لائے اور جناب احمد رضا کی پیروی نہیں کی۔
    تمام وہ شعراء حضرات' جنہوں نے معاشرے کو غیر اسلامی رواجات سے پاک کرنا چاہا' وہ بھی بریلوی حضرات کے نزدیک کفار و مرتدین قرار پائے۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ لوگوں کو یہ کیوں بتلاتے ہیں کہ خانقاہی نظام اور آستانوں پر ہونے والی خرافات و بدعات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
    ماہرین تعلیم بھی کافر و مرتد قرار پائے' کیونکہ وہ تعلیم کے ذریعے شرک و جہالت کی تاریکیوں کا مقابلہ کرتے اور معاشرے سے ہندوؤانہ رسموں کو ختم کرنے کے لیے آواز بلند کرتے تھے' اور اس سے ان ( بریلوی ملاؤں) کا کاروبار ختم ہوسکتا تھا۔
    اسی طرح تحریک آزادی کے ہیرو' مسلم سیاستدان' تحریک خلافت کے قائدین' انگریزوں کے خلاف بغاوت بلند کرنے والے اور جہاد کی دعوت دینے والے بھی بریلویوں کے فتووں اور دشمنی سے محفوظ نہ رہ سکے' کیونکہ وہ جناب بریلوی کے افکار سے متفق نہ تھے۔
    بریلوی حضرات کی تکفیری مشین گن کی زد سے شائد ہی کوئی شخص محفوظ رہ سکا ہو۔ ہر وہ شخص ان کے نزدیک کافر و مرتد ٹھہرا' جس کا ذرا سا بھی ان سے اختلاف ہوا۔ حتٰی کہ بہت سے ایسے لوگ بھی ان کی تکفیر سے نہ بچ سکے' جو عقائد و افکار میں تو ان سے متفق تھے' مگر مخالفین کو کافر کہنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ جب کہ بریلوی حضرات کے نزدیک مخالفین کے کفر و ارتداد میں شک کرنے والا بھی کافر ہے۔ اس کا ذکر مفصل آرہا ہے!
    انہوں نے اپنے ایک ساتھی عبدالباری لکھنؤی کو بھی کافر قرار دے دیا' کیونکہ انہوں نے بعض علماء کو کافر قرار دینے سے انکار کردیا تھا۔5 چنانچہ اس موضوع پر ایک مستقل کتاب تصنیف کی "الطاری الداری لہفوات عبدالباری۔"
    جناب احمد رضا اور ان کے ساتھی اس جملے کو بار بار دہراتے ہیں! "جس نے فلاں کے کفر میں شک کیا' وہ بھی کافر !" جو اسے۔۔۔۔۔۔!6"
    مشہور اسلامی کاتب مولانا عبدالحئی لکھنوی رحمہ اللہ احمد رضا خاں صاحب کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    "احمد رضا فقہی اور کلامی مسائل میں بہت متشدد تھے۔ بہت جلد کفر کا فتویٰ لگادیتے۔ تکفیر کا پرچم اٹھا کر مسلمانوں کو کافر قرار دینے کی ذمے داری انہوں نے خوب نبھائی۔ بہت سے ان کے ساتھی بھی پیدا ہوگئے جو اس سلسلے میں ان کا ساتھ دیتے رہے۔ جناب احمد رضا ہر اصلاحی تحریک کے مخالف رہے۔ بہت سے رسالے بھی ان کی تکفیر کو ثابت کرنے کے لیے تحریر کیے۔
    حرمین شریفین کے علماء سے ان کے خلاف فتوے بھی لیے۔ استفتاء میں ایسے عقائد ان کی طرف منسوب کیے جن سے وہ بری الذمہ تھے۔ امام محمد بن قاسم نانوتوی' علامہ رشید احمد گنگوہی ' مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور مولانا اشرف علی تھانوی رحمہم اللہ وغیرہ کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے اور برملا ان کے کفر و ارتداد کے فتووں کا اظہار کرتے تھے۔ اپنی کتاب حسام الحرمین میں لکھتے ہیں' جو شخص ان کے کفر اور عذاب میں ذرا سا بھی شک کرے' وہ بھی کافر ہے۔ جناب احمد رضا ساری زندگی مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگانے میں مصروف و مشغول رہے۔ حتیٰ کہ کفر کے فتوے کو ایک معمولی امر تصور کیا جانے لگا اور ان کے اس عمل کی وجہ سے ہندوستان کے مسلمان اختلاف و انتشار کا شکار ہوگئے۔7"
    تکفیر مسلمین میں جناب بریلوی تنہا نہیں تھے' بلکہ ان کے متبعین نے بھی مسلمانوں کو کفار و مرتدین کے اس زمرے میں شامل کرنے کے لیے چوٹی کا زور صرف کیا۔ اہل حدیث کا اس کے علاوہ کیا جرم تھا کہ وہ عوام کو شرک و بدعت سے اجتناب کی تلقین کرتے اور اختلاف کے وقت کتاب و سنت ہی سے ہدایت و راہنمائی حاصل کرنے کی دعوت دیتے تھے۔
    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    ( فَاِن تَنَازَعتُم فِی شَیء ٍ فَرُدُّوہُ اِلَی اللہِ وَالرَّسْول) (النساء)
    "اگر تمہارا آپس میں اختلاف ہوجائے تو اس کے حل کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ' یعنی کتاب و سنت کی طرف رجوع کرو۔"
    اسی طرح اہل حدیث کی دعوت ہے کہ امت محمدیہ پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کی اطاعت واتباع فرض نہیں۔۔۔۔۔۔خواہ کتنا بڑا ولی' محدث اور امام ہی کیوں نہ ہو!
    حدیث میں ہے:
    "جب تک تم کتاب وسنت کی اطاعت کرتے رہوگے' گمراہ نہیں ہوگے۔"
    اہل حدیث نے پاک و ہند میں ہندوؤانہ رسم و رواج کو اسلامی تہذیب کا حصہ بننے سے روکا اور بدعات و خرافات کا کھل کر مقابلہ کیا انہوں نے کہا کہ دین اسلام کے مکمل ہوجانے کے بعد اب کسی نئی چیز کی ضرورت نہیں رہی:
    ( اَلیَومَ اَکمَلتُ لَکُم دِینَکُم وَ اَتمَمتُ عَلَیکُم نِعمَتِی)
    یعنی دین اسلام عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی مکمل ہوچکا تھا۔ دین میں کسی نئے مسئلے کی ایجاد بدعت ہے' اور بدعت کے متعلق ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
    من احدث فی امرنا ھذا فھو ردّ۔ وفی روایۃ : فشر الامور محدثاتھا وکل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ۔11
    "جو دین میں کوئی چیز ایجاد کرے' اسے رد کردیا جائے۔ ایک روایت میں ہے سب سے بری چیز دین میں نئی ایجادات ہیں۔ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی!"
    نیکی اور ثواب کے تمام کاموں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمادیا ہے۔ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایجاد ہونے والی رسوم و رواج اور بدعات دین اسلام کا حصہ نہیں" انہیں مسترد کردیا جائے۔
    اہل حدیث علماء نے اسی بات کی طرف دعوت دی۔ بریلوی حضرات نے اس دعوت کو اپنے عقائد و نظریات کے منافی سمجھا۔ کیونکہ اس دعوت میں ان کے میلے' عرس و میلاد' تیجے و چالیسویں ' قوالی اور گانے بجانے' رقص و سرور کی محفلیں اور شکم پروری و خواہشات نفسانی کی تکمیل کے لیے ایجاد کی جانے والی دوسری بدعات خطرے میں پڑجاتی تھیں۔
    چنانچہ انہوں نے علمائے اہل حدیث کو اپنا بدترین دشمن سمجھا اور ان کے خلاف تکفیر بازی کی مہم شروع کردی۔
    اس سلسلے میں انہوں سب سے پہلے وہابی تحریک کے سرخیل شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ تعالیٰ کو نشانہ بنایا' کیونکہ شرک و بدعت کے خلاف کھلم کھلا اعلان جنگ کرنے والے وہ سب سے پہلے شخص تھے۔ وہ توحید و سنت کا پرچم لے کر نکلے اور کفر و بدعت کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کرتے چلے گئے۔
    انہوں نے جب دیکھا کہ ہندوؤانہ عقائد اسلامی تہذیب کا حصہ بن رہے ہیں' حدود اللہ معطل ہوچکی ہیں' اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا جارہا ہے اور جاہل صوفیاء غلط نظریات کا پرچار کررہے ہیں' وہ کتاب وسنت کی روشنی میں صحیح اسلامی دعوت کا جھنڈا لے کر اٹھے اور انگریزوں کے خلاف عملی جہاد کے ساتھ ساتھ شرک و بدعت کے طوفان کا بھی مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں اتر آئے۔انہوں نے جب اپنی کتاب تقویۃ الایمان 12میں لوگوں کو توحید کے عقیدے کی طرف دعوت دی' غیر اللہ سے فریاد رسی جیسے عقائد کو باطل ثابت کیا اور تقلید و جمود اور مذہبی تعصب کی بھی بیخ کنی کی۔ شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ انگریزوں اور سکھوں کے خلاف جہاد میں مشغول رہے اور درس و تدریس اور وعظ و تبلیغ کے ذریعے بھی مسلمانوں کو توحید کا سبق دیتے رہے۔ دن کا جہاد کرتے' راتوں کو قیام کرتے۔ یوں مسلسل محنت اور جدوجہد سے شرک و بدعت کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ راہِ حق میں شہادت پاگئے۔ وہ اس آیت کا مصداق تھے:
    (اِنَّ اللہَ اشتَرٰی مِنَ المُومِنِینَ اَنفُسَھُم وَ اَموَالَھُم بِاَنَّ لَھُمُ الجَنَّۃ ۔ ۔ ۔ ۔ فَیَقتُلُونَ وَ یُقتَلُونَ)(التوبہ:111)
    "اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کا مال خرید لیا ہے اور اس کے بدلے میں ان کے لیے جنت لکھ دی ہے وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور کافروں کو قتل کرتے کرتے خود بھی شہید ہوجاتے ہیں۔"
    شاہ شہید رحمہ اللہ علیہ کے بعد انہوں نے ان کی دعوت کے جانشین سید امام نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ علیہ کو تکفیری مہم کا نشانہ بنایا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے حدیث کی نشر واشاعت میں اس وقت موجود پوری دنیا کے علماء سے زیادہ کردار ادا کیا۔ ان کے شاگردوں نے دنیا بھر میں علوم حدیث کے احیاء کے لیے مسلسل محنت کی اور درس تدریس میں مصروف رہے۔ اسی بناء پر مصری مفکر رشید رضا نے لکھا ہے:اگر ہمارے ہندوستانی اہلحدیث بھائی حدیث کے علوم کا اہتمام نہ کرتے تو شاید ان علوم کا بہت سے علاقوں میں وجود ختم ہوجاتا۔" 14
    کیونکہ:
    بہت سے مقلدین حدیث کی کتابوں کا سوائے تبرک کے کوئی فائدہ نہیں سمجھتے تھے۔15"
    جناب بریلوی نے شاہ شہید اور سید نذیر حسین علیہما الرحمہ کو کافر قرار دیا۔ شاہ شہید علیہ الرحمہ کی تکفیر کے لئے انہوں نے ایک مستقل رسالہ "الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات الوہابیہ" تحریر کیا۔ اس کی ایک عبارت ملاحظہ ہو:
    "اے سرکش منافقو اور فاسقو! تمہارا بڑا (شاہ اسماعیل شہید) یہ گمان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف عام انسانوں سے بھی کم ہے' رسول اللہ سے بغض و عداوت تمہارے منہ سے ظاہر ہوگئی۔ جو تمہارے سینوں میں ہے' وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ تم پر شیطان غالب آچکا ہے۔ اس نے تمہیں خدا کی یاد اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم بھلادی ہے۔ قرآن میں تمہاری ذلت و رسوائی بیان ہوچکی ہے۔ تمہاری کتاب تقویۃ الایمان اصل میں تفویت الایمان ہے یعنی وہ ایمان کو ضائع کردینے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے کفر سے غافل نہیں۔16"
    مزید ارشاد فرماتے ہیں:
    وہابیہ اور ان کے پیشوا (شاہ اسماعیل) پر بوجوہ کثیر قطعاً یقیناً کفر لازم اور حسب تصریحات فقہائے کرام ان پر حکم کفر ثابت و قائم ہے۔ اور بظاہر ان کا کلمہ پڑھنا ان کو نفع نہیں پہنچا سکتا اور کافر ہونے سے نہیں بچا سکتا۔ اور ان کے پیشوا نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں اپنے اور اپنے سب پیروؤں کے کھلم کھلا کافر ہونے کا صاف اقرار کیا ہے۔17"
    اب ذرا ان کے کافر ہونے کا سبب بھی ملاحظہ فرمائیں۔ لکھتے ہیں:
    "اسماعیل دہلوی کہتا ہے کہ ایک شخص کی تقلید پر جمے رہنا' باوجودیکہ اس کے کہ اپنے امام کے خلاف صریح احادیث موجود ہوں' درست نہیں ہے۔ اس کا یہ کہنا اس کی کفریات میں سے ہے۔18"
    یعنی امام اسماعیل شہید رحمہ اللہ اس لیے کافر ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ صریح احادیث کے مقابلے میں کسی کے قول پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ ان کی کفریہ باتوں میں سے ہے۔
    لکھتے ہیں:
    "انہیں کافر کہنا فقہاء واجب ہے۔ واضح ہو کہ وہابیہ منسوب ابن عبدالوہاب نجدی ہیں۔ ابن عبدالوہاب ان کا معلم اول تھا۔ اس نے کتاب التوحید لکھی' تقویۃ الایمان اس کا ترجمہ ہے۔
    ان کا پیشوا نجدی تھا۔ اس فرقہ متفرقہ یعنی وہابیہ اسماعیلیہ اور اس کے امام ناہنجار پر جزماً قطعاً یقیناً اجمالاً بوجوہ کثیرہ کفر لازم ہے۔ اور بلاشبہ جماہیر فقہائے کرام کی تصریحات واضحہ پر یہ سب کے سب مرتد کافر ہیں۔19"
    ایک اور جگہ کہتے ہیں:
    "اسماعیل دہلوی کافر محض تھا۔20"
    ایک دفعہ ان سے پوچھا گیا کہ اسماعیل دہلوی کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ تو جواب دیا: "میرا عقیدہ ہے' وہ مثل یزید کے ہے۔ اگر اسے کوئی کافر کہے تو اسے روکا نہ جائے۔21"
    مزید:
    اسماعیل دہلوی سرکش' طاغی شیطان لعین کا بندہ داغی تھا۔22"
    نیز:
    امام الوہابیہ یہودی خیالات کا آدمی ہے۔23"
    ان کی کتاب تقویۃ الایمان کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:
    "تقویۃ الایمان ایمان کو برباد کردینے والا وہابیہ کا جھوٹا قرآن ہے۔24"
    نیز:
    "محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جدید قرآن تقویۃ الایمان کو جہنم پہنچایا۔25"
    اس پر بھی مستزاد:
    "تقویۃ الایمان وغیرہ سب کفری قول' نجس بول و براز ہیں۔ جو ایسا نہ جانے' زندیق ہے۔26"
    اس کتاب کا پڑھنا زنا اور شراب نوشی سے بھی بدتر ہے۔27"
    ظاہر ہے یہ سارا غیظ و غضب اس لیے کہ تقویۃ الایمان کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ہدایت نصیب ہوئی اور وہ شرک و قبر پرستی کی لعنت سے تائب ہوکر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قائل ہوئے۔جناب بریلوی بخوبی واقف تھے کہ اس کتاب کو پڑھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا' چنانچہ انہوں نے اس کے پڑھنے کو حرام قرار دے دیا۔ تقویۃ الایمان قرآنی آیات اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھری ہوئی ہے۔ اور پڑھنے والا جب ایک ہی موضوع پر اس قدر آیات کو ملاحظہ کرتا ہے تو وہ حیران و ششدر رہ جاتا ہے کہ یہ تمام آیات بریلوی عقائد و افکار سے متصادم ہیں اور ان کے مفہوم کا بریلوی مذہب کے بنیادی نظریات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کتاب کا قاری تردد کا شکار ہوکر بالآخر اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ وہ جن عقائد کا حامل ہے ان کا شریعت اسلامیہ سے کوئی واسطہ نہیں۔ اور وہ اپنے شرکیہ عقائد کو چھوڑ کر توحید و سنت پر عمل پیرا ہوجاتا ہے۔ جناب بریلوی کو اس بات کا بہت دکھ تھا۔ چنانچہ خود بدلنے کی بجائے تقویۃ الایمان کو اپنے بغض و حسد کا نشانہ بناتے رہے۔
    قرآن کریم میں ہے:
    (وَاِذَ ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَت قُلُوبُھُم وَاِذَا تُلِیَت عَلَیھِم اٰیٰاتُہُ زَادَتھُم اِیمَانًا) (الانفال)
    "مومنوں کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے' ان کے دلوں میں اللہ کا خوف آجاتا ہے اور جب ان پر قرآنی آیات تلاوت کی جاتی ہے' ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔"
    (وَاِذَ سَمِعُوا مَا اُنزِلَ اِلَی الرَّسُولِ تَرٰی اَعیُنَھُم تَفِیضُ مِنَ الدَّمع مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الحَقِّ۔) (المائدہ:83)
    "جب مومن قرآن مجید سنتے ہیں اور انہیں حق کی پہچان ہوتی ہے' تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔"
    بہر حال قرآن کریم کی تلاوت اور اسے سمجھنے کے بعد کوئی شخص بھی بریلوی عقائد سے توبہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
    اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و فرامین سن کر کسی مومن کے لیے انہیں تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں:
    (وَمَا کَانَ لِمُومِنٍ وَلَا مُومِنَۃ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُولُہُ اَمرًا اَن یَکُونَ لَھُمُ الخِیَرَۃ۔)(احزاب)
    "جب اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کسی امر کا فیصلہ کردیں' تو ا س کے آگے کسی مومن مرد یا مومن عورت کو چوں چراں کرنے کا حق نہیں ہے۔"
    (وَمَن یُّشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الھُدٰی وَ یَتَّبِعُ غَیرَ سَبِیلِ المُومِنِینَ نُوَلِّہِ مَا تَولّٰی وَ نُصلِہِ جَھَنَّمَ وَ سَاء ت مَصِیرًا۔) (النساء )
    "ہدایت واضح ہوجانے کے بعد جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مخالفت کرے گا اور مومنوں کے راستے کے علاوہ کسی اور کی پیروی کرے گا' ہم اسے گمراہی کی طرف پھیر دیں گے اور جہنم میں داخل کریں گے۔۔۔۔اور جہنم برا ٹھکانہ ہے۔"
    (مَا اٰتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَھَاکُم عَنہُ فَانتَھُوا۔) (الحشر)
    "جو اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کہے' اس پر عمل کرو۔ اور جس سے روکے' اس سے رک جاؤ۔"
    اب جس شخص کا بھی یہ ایمان ہو کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مقابلے میں کسی قول کی کوئی حیثیت نہیں' تو ظاہر ہے وہ جب شرک و بدعت کے خلاف تقویۃ الایمان میں موجود آیات و احادیث پڑھے گا' تو وہ رضاخانی افکار و نظریات پر قائم نہیں رہ سکے گا۔ اور یہ چیز خاں صاحب اور ان کے ساتھیوں پر بدعات وخرافات اور نذر ونیاز کے ذریعہ سے حاصل ہونے والے معاش کو بند کرنے کا باعث تھی۔ لہٰذا انہوں نے یہ سارے فتوے صادر کرکے اپنے غصے کا اظہار کیا۔
    سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کہ جنہیں جناب بریلوی کافر و مرتد قرار دیتے تھے' ان کے متعلق مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کے والد علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب "نزہۃالخواطر" کی ایک عبارت یہاں نقل کی جاتی ہے' جس میں آپ رحمہ اللہ نے سید نذیر حسین محدّث کے احوال بیان کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
    "حضرت حسین بن محسن الانصاری فرماتے ہیں کہ سید نذیر حسین یکتائے زمانہ تھے۔ علم و فضل اور حلم و بردباری میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ وہ کتاب وسنت کی تعلیمات کی طرف لوگوں کی راہنمائی فرماتے تھے' ہندوستان کے علماء کی اکثریت ان کی شاگرد ہے۔
    حسد کی بنا پر کچھ لوگ ان کی مخالفت بھی کرتے رہے' مگر ان کے حسد کی وجہ سے اس جلیل القدر امام و محدث کی عزت میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا رہا۔
    خود علامہ عبدالحئی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    "امام نذیر حسین محدّث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کی علمی جلالت پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے درس و تدریس اور افتاء کے ذریعے اسلامی علوم کی خدمت کی۔ میں خود 1312ھ میں ان کا شاگرد رہا ہوں۔ اصول حدیث اور اصول فقہ میں ان سے زیادہ ماہر کوئی شخص نہ تھا۔ قرآن وحدیث پر انہیں مکمل عبور حاصل تھا۔ تقویٰ و پرہیزگاری میں بھی ان کی کوئی مثال نہ تھی۔ ہمہ وقت درس و تدریس یا ذکر و تلاوت میں مصروف رہتے۔ عجم و عرب میں ان کے تلامذہ کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ وہ اپنے دور کے رئیس المحدثین تھے۔
    دوسرے ائمہ کی طرح انہیں بھی بہت سی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔
    انگریز دشمنی کے الزام میں گرفتار کیے گئے۔ ایک سال جیل میں رہے' رہا ہونے کے بعد دوبارہ درس و
    تدریس میں مشغول ہوگئے۔ پھر حجاز تشریف لے گئے' وہاں آپ رحمہ اللہ کے اوپر حاسدین نے بہت الزامات لگائے۔ آپ کو گرفتار کرلیا گیا مگر بری ہونے پر ایک دن بعد چھوڑ دیا گیا۔
    آپ واپس ہندوستان تشریف لے آئے۔ یہاں بھی آپ پر تکفیری فتووں کی بوچھاڑ کردی گئی۔ آپ نے تمام تکالیف برداشت کرکے ہندوستان کو قرآن وحدیث کے علوم سے منور کیا اور عصبیت و جمود کی زنجیروں کو پاش پاش کیا۔
    آپ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھے۔ ارض ہندوستان پر آپ کے بہت زیادہ احسانات ہیں۔ قرآن وحدیث کے علوم سے دلچسپی رکھنے والے آپ کی علمی قدرومنزلت پر متفق ہیں۔ جزاہ اللہ خیرا!33
    مزید فرماتے ہیں:
    سید نذیر محدث رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ زیادہ تر تدریس میں مشغول رہے۔ اس لیے آپ کی تصنیفات بہت زیاہ نہیں۔
    آپ کی مشہور تصانیف میں معیار الحق'ثبوت الحق'مجموعۃ الفتاوی' رسالۃ الولی باتباع النبی صلی اللہ علیہ وسلم' وقعۃ الفتویٰ ودافعۃ البلوی اور رسالہ فی ابطال عمل المولد شامل ہیں۔
    البتہ آپ کے فتاویٰ کو اگر جمع کیا جائے تو کئی ضخیم جلدیں تیار ہوجائیں۔ آپ کے شاگردوں کے کئی طبقات ہیں۔ ان میں سے جو معروف و مشہور ہیں' ان کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔ بقیہ شاگرد ہزاروں سے متجاوز ہیں۔
    آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کے مشہور تلامذہ میں سید شریف حسین' مولانا عبداللہ غزنوی'مولانا عبدالجبار غزنوی' مولانا محمد بشیر السّہسوانی' سید امیر حسین'مولانا امیر احمد الحسینی السّہسوانی' مولانا عبدالمنان وزیر آبادی' مولانا محمد حسین بٹالوی' مولانا عبداللہ غازی پوری' سید مصطفیٰ ٹونکی' سید امیر علی ملیح آبادی' قاضی ملا محمدپشاوری' مولانا غلام رسول' مولانا شمس الحق ڈیانوی'شیخ عبداللہ المغربی' شیخ محمد بن ناصر بن المبارک النجدی اور شیخ سعد بن حمد بن عتیق ہیں۔
    بہت سے علماء نے قصائد کی صورت میں آپ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ مولانا شمس الحق ڈیانوی نے غایۃ المقصود میں آپ کی سوانح عمری تحریر کی ہیں۔اسی طرح مولانا فضل حسین مظفر پوری نے اپنی کتاب الحیاۃ بعد المماۃ میں آپ کے حالات زندگی مفصلاً بیان کیے ہیں۔
    مجھے مولانا (عبدالحئی لکھنوی) سید صاحب رحمہ اللہ علیہ نے اپنے دست مبارک سے 1312ھ میں سند اجازت عطا فرمائی۔
    آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات 10رجب 1320ھ بروز سوموار دہلی میں ہوئی نفعنا اللہ ببرکاتہ۔ آمین!34"
    سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے حلقہ درس نے بخاری و بغداد کی مجالس و محافل کی یاد تازہ کردی۔ ہندوستان کے کونے کونے سے لوگ علم حدیث کے حصول کے لیے آپ کے حلقہ درس میں شامل ہونے لگے۔
    احمد رضا بریلوی نے علم و معرفت کے اس سیل رواں کو اپنی خرافات و بدعت کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے آپ کو طعن و تشنیع اور تکفیر و تفسیق کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا:
    "نذیر حسین دیلوی لا مذہباں' مجتہد نامقلداں' مخترع طرز نوی اور مبتدع آزاد روی ہے۔35"
    مزید لکھتے ہیں:
    "نذیر حسین دہلوی کے پیروکار سرکش اور شیطان خناس کے مرید ہیں۔38"
    نیز:
    "تم پر لازم ہے کہ عقیدہ رکھو' بے شک نذیر حسین دہلوی کافر و مرتد ہے۔ اور اس کی کتاب معیار الحق کفری قول اور نجس برازِ بول ہے' وہابیہ کی دوسری کتابوں کی طرح۔39"
    صرف اسماعیل شہید رحمہ اللہ اور سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ ہی کافر و مرتد نہیں' بلکہ جناب بریلوی کے نزدیک تمام اہل حدیث کفار و مرتد ہیں۔ ارشاد فرماتے ہیں:
    "غیر مقلدین (اہل حدیث) سب بے دین' پکے شیاطین اور پورے ملاعین ہیں۔40"
    نیز:
    "جو اسماعیل اور نذیر حسین وغیرہ کا معتقد ہو ابلیس کا بندہ جہنم کا کندہ ہے۔ اہل حدیث سب کا فر و مرتد ہیں۔41"
    مزید ارشاد ہے:
    غیر مقلدین گمراہ' بددین اور بحکم فقہ کفار و مرتدین ہیں۔42"
    مزید:
    "غیر مقلد اہل بدعت اور اہل نار ہیں۔ وہابیہ سے میل جول رکھنے والے سے بھی مناکحت ناجائز ہے۔ وہابی سے نکاح پڑھوایا' تو تجدید اسلام و تجدید نکاح لازم' وہابی مرتد کا نکاح نہ حیوان سے ہوسکتا ہے نہ انسان سے۔ جس سے ہوگا زنائے خالص ہوگا۔43"
    وہابیوں سے میل جول کو حرام قرار دینے والے کا ہندوؤں کی نذرونیاز کے متعلق فتویٰ بھی ملاحظہ فرمائیں:
    "ان سے سوال کیا گیا کہ ہندوؤں کی نذر ونیاز کے متعلق کیا خیال ہے؟ کیا ان کا کھاناپینا جائز ہے؟
    جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:"ہاں ان باتوں پر آدمی مشرک نہیں ہوتا۔44"
    ایک دوسری جگہ ہر قسم کی نذر لغیر اللہ کو مباح قرار دیاہے!45
    مگر سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ اور ان کے شاگردوں کو ملعون قرار دیتے ہیں:
    "نذیریہ لعنہم اللہ ملعون و مرتدابد ہیں۔46"
    اہل حدیث کو کافر و مرتد کہنے پر ہی اکتفا نہیں کیا' بلکہ حسب عادت گالی دیتے ہوئے اور غلیظ زبان استعمال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    "غیر مقلدین جہنم کے کتے ہیں۔ رافضیوں کو ان سے بدتر کہنا رافضیوں پر ظلم اور ان کی شان خباثت میں تنقیض ہے۔47"
    "کفر میں مجوس یہود و نصاریٰ سے بدتر ہیں' ہندو مجوس سے بدتر ہیں۔ اور وہابیہ ہندوؤں سے بھی بدتر ہیں۔48"
    مزید ارشاد کرتے ہیں:
    وہابیہ اصلاً مسلمان نہیں۔ ان کے پیچھے نماز باطل محض ہے۔ ان سے مصافحہ ناجائز و گناہ ہے۔ جس نے کسی وہابی کی نماز جنازہ پڑھی' تو تجدید اسلام اور تجدید نکاح کرے!49"
    نیز:
    ان سے مصافحہ کرنا حرام قطعی و گناہ کبیرہ ہے' بلکہ اگر بلا قصد بھی ان کے بدن سے بدن چھوجائے تو وضو کا اعادہ مستحب ہے۔50"
    یہ تو تھے جناب احمد رضا صاحب بریلوی کے اہل حدیث کے متعلق ارشادات و فرامین کہ وہابی ملعون'کفار اور مرتدین ہیں۔ نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز' نہ ان کی نماز جنازہ جائز'نہ ان سے نکاح کرنا جائز' نہ ان سے مصافحہ کرنا جائز۔ یہ سب شیاطین و ملاعین' ہندوؤں سے بدتر کافر اور جہنم کے کتے ہیں۔ جس نے کسی وہابی کی نماز جنازہ پڑھی' وہ توبہ کرے اوراپنا نکاح دوبارہ پڑھائے۔ اور جس کا ان سے بدن چھوجائے' وہ وضو کرے۔
    اب جناب بریلوی کے پیروکاروں کے فتوے ملاحظہ ہوں۔ بریلوی مکتب فکر کے ایک مفتی ارشاد فرماتے ہیں:
    "اہل حدیث جو نذیر حسین دہلوی' امیر احمد سہسوانی51' امیر حسن سہسوانی52' بشیر حسن قنوجی53 اور محمد بشیر قنوجی54' کے پیروکار ہیں' سب بحکم شریعت کافر اور مرتد ہیں۔ اور ابدی عذاب اور رب کی لعنت کے مستحق ہیں!55"
    نیز:
    ثناء اللہ امرتسری کے پیروکار سب کے سب کافر اور مرتد ہیں' ازروئے حکم شریعت!56"
    شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ علیہ کہ جن کے بارے میں سید رشید رضا نے کہا ہے:
    "رجل الٰھی فی الہند57"
    اور جنہوں نے تمام باطل مذاہب وادیان: قادیانی' آریہ'ہندو'مجوسی اور عیسائی وغیرہ کو مناظروں میں شکست فاش دی اور وہ اس موضوع میں حجت سمجھے جاتے ہیں' ان کے بارے میں بریلوی حضرات کا فتویٰ ہے:
    "غیر مقلدین کا رئیس ثناء اللہ امرتسری مرتد ہے۔58"
    اور خود جناب بریلوی نے لکھا ہے:
    "ثناء اللہ امرتسری در پردہ نام اسلام' آریہ کا ایک غلام باہم جنگ زرگری کام۔59"
    جناب بریلوی پوری امت مسلمہ کے نزدیک متفقہ ائمہ دین: امام ابن حزم رحمہ اللہ' امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ' امام ابن قیم رحمہ اللہ وغیرہ کے بارے میں لکھتے ہیں:
    "وہابیہ کے مقتدا ابن حزم فاسد الجزم اور ردئی المشرب تھے۔60"
    مزید:
    ابن حزم لا مذہب' خبیث اللسان۔61"
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے متعلق کہتے ہیں:
    "ابن تیمیہ فضول باتیں بکا کرتے تھے۔62"
    خان صاحب کے ایک خلیفہ لکھتے ہیں:
    "ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) نے نظام شریعت کو فاسد کیا۔ ابن تیمیہ ایک ایسا شخص تھا' جسے اللہ تعالیٰ نے رسوا کیا۔ وہ گمراہ' اندھا اور بہرہ تھا۔ اسی طرح وہ بدعتی' گمراہ اور جاہل شخص تھا۔63"
    ایک اور نے لکھا:
    ابن تیمیہ گمراہ اور گمراہ گر تھا۔64"
    نیز:
    ابن تیمیہ بدمذہب تھا۔65"
    "ابن قیم ملحد تھا۔66"
    امام شوکانی رحمہ اللہ کے متعلق ان کا ارشاد ہے:
    "شوکانی کی سمجھ وہابیہ متاخرین کی طرح ناقص تھی۔67"
    مزید:
    شوکانی بد مذہب تھا۔68"
    جناب بریلوی اور ان کے متبعین امام محمد بن عبدالوہاب نجدی رحمہ اللہ کے بھی سخت دشمن ہیں' کیونکہ انہوں نے بھی اپنے دور میں شرک و بدعت اور قبر پرستی کی لعنت کے خلاف جہاد کیا اور توحید باری تعالیٰ کا پرچم بلند کیا۔
    ان کے متعلق احمد رضا صاحب رقمطراز ہیں:
    "بد مذہب جہنم کے کتے ہیں۔ ان کا کوئی عمل قبول نہیں۔ محمد بن عبدالوہاب نجدی وغیرہ گمراہوں کے لیے کوئی بشارت نہیں۔ اگرچہ اس کا نام محمد ہے اور حدیث میں جو ہے کہ "جس کا نام احمد یا محمد ہے" اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل نہیں کرے گا" یہ حدیث صرف سنیوں (بریلوی) کے لیے' بد مذہب (یعنی وہابی) تو اگر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان مظلوم قتل کیا جائے اور اپنے اس مارے جانے پر صابر و طالب ثواب رہے' تب بھی اللہ عزوجل اس کی بات پر نظر نہ فرمائے اور اسے جہنم میں ڈالے۔69"
    مزید ارشاد فرماتے ہیں:
    "مرتدوں میں سب سے خبیث تر وہابی ہیں۔70"
    نیز:
    وہابیہ اخبث واضر اصلی یہودی' بت پرست وغیرہ سے بدتر ہیں۔71"
    خان صاحب لکھتے ہیں:
    "وہابی فرقہ خبیثہ خوارج کی ایک شاخ ہے' جن کی نسبت حدیث میں آیا ہے کہ وہ قیامت تک منقطع نہ ہوں گے۔ جب ان کا ایک گروہ ھلاک ہوگا' دوسرا سر اٹھائے گا۔ یہاں تک کہ ان کا پچھلا طائفہ دجال لعین کے ساتھ نکلے گا۔ تیرہویں صدی کے شروع میں اس نے دیارِ نجد سے خروج کیا اور بنام نجدیہ مشہور ہوا۔ جن کا پیشوا شیخ نجدی تھا' اس کا مذہب میاں اسماعیل دہلوی نے قبول کیا۔72"
    خان صاحب سے پوچھا گیا کہ کیا فرقہ وہابیہ خلفائے راشدین کے زمانہ میں تھا؟ اس کے جواب میں لکھتے ہیں:
    "ہاں یہی وہ فرقہ ہے' جن کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ یہ ختم نہیں ہوئے۔ ان کا آخری گروہ دجال لعین کے ساتھ نکلے گا۔ یہی وہ فرقہ ہے کہ ہر زمانہ میں نئے رنگ نئے نام سے ظاہر رہا اور اب اخیر وقت میں وہابیہ کے نام سے پیدا ہوا۔ بظاہر وہ بات کہیں گے کہ سب باتوں سے اچھی معلوم ہو' اور حال یہ ہوگا کہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ سے !73"
    اپنی خرافات کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں:
    "غزوہ حنین میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جو غنائم تقسیم فرمائیں' اس پر ایک وہابی نے کہا کہ میں اس تقسیم میں عدل نہیں پاتا۔ اس پر فاروق اعظم نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیجئے کہ میں منافق کی گردن ماردوں؟ فرمایا' اسے رہنے دے کہ اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہونے والے ہیں۔ یہ اشارہ وہابیوں کی طرف تھا۔ یہ تھا وہابیہ کا باپ' جس کی ظاہری و معنوی نسل آج دنیا کو گندہ کررہی ہے۔74"
    بریلوی صاحب کے ایک پیروکار اپنے بغض و عناد کا اظہار ان لفظوں سے کرتے ہیں:
    "خارجیوں کا گروہ فتنے کی صورت میں محمد بن عبدالوہاب کی سرکردگی میں نجد کے اندر بڑے زور شور سے ظاہر ہوا۔ محمد بن عبدالوہاب باغی 'خارجی بے دین تھا۔ اس کے عقائد کو عمدہ کہنے والے اس جیسے دشمنان دین' ضال مضل ہیں۔75"
    امجد علی رضوی نے بھی اسی قسم کی خرافات کا اظہار کیا ہے!76
    ایک بریلوی مصنف نے تو الزام تراشی اور دشنام طرازی کی حد کردی ہے۔صدق و حیا سے عاری ہوکر لکھتا ہے:
    "وہابیوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بے گناہوں کو بے دریغ اور حرمین شریفین کے رہنے والوں کی عورتوں اور لڑکیوں سے زنا کیا (لعنۃ اللہ علی الکاذبین!) سادات کرام کو بہت قتل کیا' مسجد نبوی شریف کے تمام قالین اور جھاڑوفانوس اٹھاکر نجد لے گئے۔ اب بھی جو کچھ ابن سعود نے حرمین شریفین میں کیا 77وہ ہر حاجی پر روشن ہے۔78"
    ایک اور بریلوی' امام محمد بن عبدالوہاب اور ان کے ساتھیوں کے متعلق غلیظ اور غیر شائستہ زبان استعمال کرتے ہوئے لکھتا ہے:
    " یہ پیارے مذہب اہل سنت کا رعب حقانیت ہے کہ فراعنہ نجد حجاز کی مقدس سرزمین پر مسلط ہوتے ہوئے بھی لرز رہے ہیں' کپکپا رہے ہیں۔(اب کہاں گیا رعب حقانیت! اب تو نہ صرف مسلط ہوچکے ہیں بلکہ اکابرین بریلویت کا داخلہ بھی وہاں بند کردیا گیا ہے!)
    لکھتے ہیں:
    "ناپاک' گندے' کفری عقیدے رکھنے والے حکومت سعودیہ' ملت نجدیہ خبیثہ' ابن سعود کے فرزند نامسعود۔79"
    ایک مرتبہ بمبئی کی جامع مسجد کے امام احمد یوسف نے سعودی شہزادوں کا استقبال کیا' تو بریلوی حضرات نے ان کے متعلق تکفیری فتوے دیتے ہوئے کہا:
    "احمد یوسف مردود نے شاہ سعود کے بیٹوں کا استقبال کیا ہے اور نجدی حکومت کی تعریف کی ہے۔ وہ نجدی حکومت جس کے نجس' کفریہ اور خبیث عقائد ہیں۔ اس نے کفار و مرتدین کی عزت کی ہے اور گندی نجدی ملت کا استقبال کیا ہے۔ وہ اپنے اس عمل کی وجہ سے کافر و مرتد ہوگیا ہے اور غضب الٰہی کا مستحق ٹھہرا ہے اور اسلام کو منہدم کیا۔ اس کے اس عمل کی وجہ سے عرش الٰہی ہل گیا ہے۔ جو اس کے کفر میں شک کرے' وہ بھی کافر ہے۔80"
    یعنی سعودی خاندان کے افراد کا استقبال اتنا عظیم گناہ ہے کہ جس کے ارتکاب سے انسان کا و مرتد قرار پاتا اور غضب الٰہی کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے عرش الٰہی بھی ہلنے لگتا ہے۔ دوسری طرف انگریزی استعمار کی حمایت و تائید کرنے سے ایمان میں کوئی فرق نہیں آتا' بلکہ اسے جلاء ملتی ہے! اس کی وجہ صرف یہی ہوسکتی ہے کہ اہل توحید کی دعوت ان کی "دین کے نام پر دنیاداری" کے راستے میں حائل ہوتی ہے اور عوام الناس کو ان کے پھیلائے ہوئے جال سے آزاد کرتی ہے۔
    افسوس تو اس بات کا ہے کہ ان کی کتب قادیانی'شیعہ'بابی'بہائی'ہندو'عیسائی اور دوسرے ادیان و فرق کے خلاف دلائل و احکامات سے تو خالی ہیں' مگر اہل حدیث اور دوسرے اہل توحید کے خلاف سباب و شتائم اور تکفیر و تفسیق سے بھری ہوئی ہیں۔
    اہل حدیث کے علاوہ جناب بریلوی صاحب اور ان کے پیروکاروں نے دیوبندی حضرات کو بھی اپنی تکفیری مہم کی لپیٹ میں لیا اور ان پر کفر و ارتداد کے فتوے لگائے ہیں۔
    سب سے پہلے دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانا قاسم نانوتوی ان کی تکفیر کا نشانہ بنے' جن کے بارے میں مولانا عبدالحئی لکھنوی لکھتے ہیں:
    "مولانا نانوتوی بہت بڑے عالم دین تھے ' زہد و تقویٰ میں معروف تھے۔ ذکر و مراقبے میں مصروف رہتے' لباس میں تکلف نہ کرتے۔ آغاز زندگی میں صرف ذکر اللہ میں مصروف رہے' پھر حقائق و معارف کے ابواب ان پر منکشف ہوئے تو شیخ امداد اللہ (مشہور صوفی حلولی) نے انہیں اپنا خلیفہ منتخب کرلیا۔ عیسائیوں اور آریوں کے ساتھ ان کے مناظرے بھی بہت مشہور ہیں۔ ان کی وفات 1297ھ میں ہوئی۔81"
    دیوبندی تحریک کے بانی اور اپنے وقت میں احناف کے امام مولانا قاسم نانوتوی کے متعلق خاں صاحب لکھتے ہیں:
    "قاسمیہ قاسم نانوتوی کی طرف منسوب' جس کی "تحذیر الناس" ہے اور اس نے اپنے رسالہ میں کہا کہ بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو' جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔ بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی پیدا ہو تو بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ یہ تو سرکش شیطان کے چیلے اس مصیبت عظیم میں سب شریک ہیں۔82"
    مزید کہا:
    قاسمیہ لعنہم اللہ ملعون و مرتد ہیں۔83"
    ان کے ایک پیروکار نے لکھا:
    تحذیر الناس مرتد نانوتوی کی ناپاک کتاب ہے!84"
    مولانا رشید احمد گنگوہی دیوبندی حضرات کے بہت جید عالم و فاضل ہیں۔ مولانا عبدالحئی لکھنوی ان کے متعلق لکھتے ہیں:
    "شیخ امام' محدث رشید احمد گنگوہی محقق عالم و فاضل ہیں۔ صدق و عفاف توکل اور تصلب فی الدین میں ان کا کوئی مثیل نہ تھا۔ مذہبی امور میں بہت متشدد تھے۔85"
    بریلی کے خاں صاحب کا ان کے پیروکاروں کے بارے میں خیال ہے:
    "جہنمیوں کے جہنم جانے کی ایک وجہ (رشید احمد) گنگوہی کی پیروی ہوگی۔86"
    اور ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
    "اسے جہنم میں پھینکا جائے گا اور آگ اسے جلائے گی اور (ذق الاشرف الرشید) کا مزہ چکھلائے گی۔87"
    نیز:
    "رشید احمد کو کافر کہنے میں توقف کرنے والے کے کفر میں کوئی شبہ نہیں۔88"
    ایک بریلوی مصنف نے اپنی ایک کتاب کے صفحہ میں چار مرتبہ "مرتد گنگوہی" کا لفظ دہرایا ہے۔89
    ان کے اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں:
    "رشید احمد کی کتاب"براہین قاطعہ" کفری قول اور پیشاب سے بھی زیادہ پلید ہے۔ جو ایسا نہ جانے وہ زندیق ہے۔90"
    ان کے علاوہ بریلوی خاں صاحب نے مولانا اشرف علی تھانوی کو بھی کافر و مرتد قرار دیا ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی دیوبندی احناف کے بہت بڑے امام ہیں۔۔۔۔۔ "نزہۃ الخواطر" میں ہے:
    "مولانا اشرف علی بہت بڑے عالم دین تھے۔ ان کی بہت سی تصنیفات ہیں۔ وعظ و تدریس کے لیے منعقد کی جانے والی مجالس سے استفادہ کیا اور ہندوؤانہ رسوم و عادات سے تائب ہوئے۔91"
    ان کے متعلق احمد رضا صاحب لکھتے ہیں:
    "اس فرقہ وہابیہ شیطانیہ کے بڑوں میں سے ایک شخص اسی گنگوہی کے دم چھلوں میں ہے' جسے اشراف علی تھانوی کہتے ہیں۔ اس نے ایک چھوٹی سی رسلیا تصنیف کی کہ چار ورق کی بھی نہیں۔ اور اس میں تصریح کی کہ غیب کی باتوں کا جیسا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے' ایسا تو ہر بچے اور ہر پاگل بلکہ ہر جانور اور ہر چارپائے کو حاصل ہے۔92"
    آّگے چل کر لکھتے ہیں:
    "بدکاری کو دیکھو' کیسے ایک دوسرے کو کھینچ کر لے جاتی ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ طائفہ سب کے سب کافر و مرتد ہیں اور باجماع امت اسلام سے خارج ہیں۔ جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے ' خود کافر ہے۔ اور شفا شریف میں ہے' جو ایسے کو کافر نہ کہے یا ان کے بارے میں توقف کرے یا شک لائے' وہ بھی کافر ہوجائے گا۔ بے شک جن چیزوں کا انتظار کیا جاتا ہے' ان سب میں بدترین دجال ہے۔ اور بے شک اس کے پیرو ان لوگوں سے بھی بہت زیادہ ہوں گے۔93"
    مزید لکھتے ہیں:
    "جو اشرف علی کو کافر کہنے میں توقف کرے اس کے کفر میں کوئی شبہ نہیں۔94"
    نیز:
    "بہشتی زیور (مولانا تھانوی کی کتاب) کا مصنف کافر ہے۔ تمام مسلمانوں کو اس کتاب کا دیکھنا حرام ہے۔95"
    نیز:
    "اشرفیہ سب مرتد ہیں۔96"
    تجانب اہل السنہ میں ہے:
    "مرتد تھانوی!97"
    اس طرح خان صاحب نے مشہور دیوبندی علماء مولانا خلیل احمد ' مولانا محمود الحسن' مولانا شبیر احمد عثمانی وغیرہ کے خلاف بھی کفر کے فتوے صادر کیے ہیں۔
    احمد رضا صاحب ان علماء و فقہاء کے پیروکاروں' عام دیوبندی حضرات کو کافر قرار دیتے ہیں ہوئے کہتے ہیں:
    "دیوبندیوں کے کفر میں شرک کرنے والا کافر ہے۔98"
    اسی پر اکتفاء نہیں کیا' مزید لکھتے ہیں:
    "انہیں مسلمان سمجھنے والے کے پیچھے نماز جائز نہیں۔99"
    مزید:
    دیوبندیوں کے پیچھے نماز پڑھنے والا مسلمان نہیں۔100"
    نیز:
    دیوبندی عقیدے والے کافر و مرتد ہیں۔101"
    اتنا کچھ کہہ کر بھی خاں صاحب کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ فرماتے ہیں:
    "جو مدرسہ دیوبند کی تعریف کرے اور دیوبندیوں کو برا نہ سمجھے' اسی قدر اس کے مسلمان نہ ہونے کو بس ہے۔102"
    اب بھی بریلویوں کے اعلیٰ حضرت کے دل کی بھڑاس نہیں نکلی۔ ارشاد فرماتے ہیں:
    "دیوبندیوں وغیرہ کے کھانا پینا' سلام علیک کرنا' ان سے موت وحیات میں کسی طرح کا کوئی اسلامی برتاؤ کرنا سب حرام ہے۔ نہ ان کی نوکری کرنے کی اجازت ہے' نہ انہیں نوکر رکھنے کی اجازت کہ ان سے دور بھاگنے کا حکم ہے۔103"
    نیز:
    "انہیں قربانی کا گوشت دینا بھی جائز نہیں۔104"
    جناب بریلوی کے ایک پیروکار لکھتے ہیں:
    "دیوبندی' بدعتی' گمراہ اور شرار خلق اللہ ہیں105"
    ایک اور بریلوی مصنف لکھتے ہیں:
    "دیوبندیہ بحکم شریعت کفار و مرتدین لئیم ہیں۔106"
    بریلوی اعلیٰ حضرت کے نزدیک دیوبندیوں کا کفر ہندوؤں' عیسائیوں اور مرزائیوں سے بھی بڑھ کر ہے۔
    فرماتے ہیں:
    "اگر ایک جلسہ میں آریہ و عیسائی اور دیوبندی ' قادیانی وغیرہ جو کہ اسلام کا نام لیتے ہیں' وہ بھی ہوں تو وہاں بھی دیوبندیوں کا ردّ کرنا چاہئے' کیونکہ یہ لوگ اسلام سے نکل گئے مرتد ہوگئے اور مرتدین کی مدافعت بد تر ہے' کافر اصلی کی موافقت سے۔107"
    اور :
    "دیوبندی عقیدہ والوں کی کتابیں ہندوؤں کی پوتھیوں سے بدتر ہیں۔ ان کتابوں کو دیکھنا حرام ہے۔ البتہ ان کتابوں کے ورقوں سے استنجاء نہ کیا جائے۔ حروف کی تعظیم کی وجہ سے' نہ کہ ان کتابوں کی۔ نیز اشرف علی کے عذاب اور کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے۔108"
    ایک اور بریلوی مصنف نے یوں گل فشانی کی ہے:
    "دیوبندیوں کی کتابیں اس قابل ہیں کہ ان پر پیشاب کیا جائے ان پر پیشاب کرنا پیشاب کو مزید ناپاک بناتا ہے۔ اے اللہ ہمیں دیوبندیوں یعنی شیطان کے بندوں سے پناہ میں رکھ!109"
    دیوبندی حضرات اور ان کے اکابرین کے متعلق بریلوی مکتب فکر کے کفریہ فتوے آپ نے ملاحظہ فرمائے' اب ندوۃ العلماء کے متعلق ان کے ارشادات سنئے۔
    جناب برکاتی نے حشمت علی صاحب سے تصدیق کرواکے اپنی کتاب تجانب اہل السنہ میں لکھا ہے:
    ندوۃ العلماء کو ماننے والے دہریے اور مرتد ہیں۔110"
    خود خاں صاحب بریلوی کا ارشاد ہے:
    ندوۃ کھچڑی ہے' ندوہ تباہ کن کی شرکت مردود' اس میں صرف بد مذہب ہیں۔111"
    جناب بریلوی نے ندوۃ العلماء سے فارغ ہونے والوں کو کافر و مرتد قرار دینے کے لیے دو رسالے ( الجام السنۃ لاھل الفتنۃ) اور (مجموعۃ فتاوی الحرمین برجف ندوۃ المین) تحریر کیے۔
    تجانب اہل السنہ میں بھی ندوۃ العلماء سے فارغ ہونے والوں کے خلاف تکفیری فتووں کی بھرمار ہے۔112"
    مطلقاً وہابیوں کے متعلق ان کے فتوے ملاحظہ ہوں:
    "وہابیہ اور ان کے زعماء پر بوجوہ کثیر کفر لازم ہے اور ان کا کلمہ پڑھنا ان سے کفر کو دور نہیں کرسکتا۔113"
    نیز:
    "وہابیہ پر ہزار درجہ سے کفر لازم آتا ہے۔114"
    نیز:
    "وہابی مرتد باجماع فقہاء ہیں115"
    جناب احمد رضا مزید فرماتے ہیں:
    "وہابی مرتد اور منافق ہیں۔ اوپر اوپر کلمہ گو ہیں۔116"
    نیز:
    "ابلیس کی گمراہی وہابیہ کی گمراہی سے ہلکی ہے۔117"
    نیز:
    "خدا وہابیہ پر لعنت کرے' ان کو رسوا کرے اور ان کا ٹھکانہ جہنم کرے۔118"
    نیز:
    وہابیہ کو اللہ برباد کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔119"
    نیز:
    "وہابیہ اسفل السافلین پہنچے۔120"
    نیز:
    اللہ عزوجل نے وہابیہ کی قسمت میں ہی کفر لکھا ہے۔121"
    ظاہر ہے جب تمام وہابی کفار و مرتدین ہیں تو ان کی کوئی عبادت بھی قبول نہیں۔ اس بات کا جناب احمد رضا نے یوں فتویٰ دیا ہے:
    "وہابیہ کی نہ نماز ہے نہ ان کی جماعت جماعت۔122"
    خاں صاحب سے پوچھا گیا کہ وہابیہ کی مسجد کا کیا حکم ہے؟ تو جواب دیا "ان کی مسجد عام گھر کی طرح ہے۔ جس طرح ان کی نماز باطل' اسی طرح اذان بھی۔ لہٰذا ان کی اذان کا اعادہ نہ کیا جائے۔123"
    بریلوی حضرات کے نزدیک وہابیوں کو "مسلمانوں کی مساجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ خاں صاحب کے ایک ساتھی نعیم مراد آبادی فرماتے ہیں:
    "مسلمان وہابیہ غیر مقلدین کو اپنی مسجد میں نہ آنے دیں' وہ نہ مانیں تو قانونی طور پر انہیں رکوا دیں۔ ان کا مسجد میں آنا فتنہ کا باعث ہے۔ چنانچہ اہل سنت کی مسجد میں وہابی و غیر مقلد کو کوئی حق نہیں۔124"
    بریلوی حضرات نے وہابیوں کو مساجد سے نکالنے کے متعلق ایک کتاب تصنیف کی ہے (اخراج الوھابیین عن المساجد) یعنی "وہابیوں کو مساجد سے نکالنے کا حکم۔"
    آج بھی کچھ ایسی مساجد (مثلاً بیگم شاہی مسجد اندرون مستی دروازہ لاہور) موجود ہیں جن کے دروازوں پر لکھا ہوا ہے کہ :
    "اس مسجد میں وہابیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔"
    خود میں نے لاہور میں دو ایسی مساجد دیکھی ہیں' جہاں یہ عبارت ابھی تک درج ہے!
    جناب احمد رضا خاں صاحب بریلوی لکھتے ہیں:
    "وہابیوں کے پیچھے نماز ادا کرنا باطل محض ہے۔125"
    نیز:
    "اقتدار احمد گجراتی کا بھی یہی فتویٰ ہے!126"
    جناب بریلوی کا ارشاد ہے:
    "وہابی نے نماز جنازہ پڑھائی تو گویا مسلمان بغیر جنازے کے دفن کیا گیا۔127"
    ان سے پوچھاگیا کہ اگر وہابی مرجائے تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے' اور جو پڑھے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
    جواب میں ارشاد فرمایا:
    "وہابی کی نماز جنازہ پڑھنا کفر ہے۔128"
    نیز:
    "وہابیوں کے لیے دعا کرنا فضول ہے۔ وہ راہ راست پر نہیں آسکتے۔129"
    صرف اسی پر بس نہیں بلکہ:
    "وہابیوں کو مسلمان سمجھنے والے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔130"
    ان کے ایک پیروکار نے لکھا ہے:
    "جو اعلیٰ حضرت کو برا کہے' اس کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔131"
    وہابیوں کے ساتھ مکمل بائیکاٹ کا فتویٰ دیتے ہوئے جناب احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں:
    "ان سب سے میل جول قطعی حرام ہے۔ ان سے سلام و کلام حرام' انہیں پاس بٹھانا حرام' ان کے پاس بیٹھنا حرام' بیمار پڑیں تو ان کی عیادت حرام' مرجائیں تو مسلمانوں کا سا انہیں غسل و کفن دینا حرام' ان کا جنازہ اٹھانا حرام' ان پر نماز پڑھنا حرام' ان کو مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرام' اور ان کی قبر پر جانا حرام!132"
    ایک اور صاحب لکھتے ہیں:
    "وہابیہ گمراہ اور گمراہ گر ہیں۔ ان کے پیچھے نماز درست نہیں اور نہ ان سے میل جول جائز ہے۔133"
    مزید:
    "ان سے بیاہ شادی کرنا ناجائز' سلام ممنوع اور ان کا ذبیحہ نا درست' یہ لوگ گمراہ' بے دین ہیں۔ ان کے پیچھے نماز ناجائز اور اختلاط و مصاحبت ممنوع ہے۔134"
    نیز:
    "وہابیوں سے مصافحہ کرنا ناجائز و گناہ ہے۔135"
    احمد یار گجراتی کہتے ہیں:
    "حنفیوں کو چاہئے کہ وہ وہابیوں کے کنویں کا پانی بے تحقیق نہ پئیں 136"
    نیز:
    "وہابیوں کے سلام کا جواب دینا حرام ہے۔137"
    مزید:
    "جو شخص وہابیوں سے میل جول رکھے' اس سے بھی بیاہ شادی ناجائز ہے138"
    احمد رضا صاحب کا ارشاد ہے:
    "وہابی سے نکاح پڑھوایا تو نہ صرف یہ کہ نکاح نہیں ہوا' بلکہ اسلام بھی گیا۔ تجدید اسلام و تجدید نکاح لازم139"
    نیز:
    "نکاح میں وہابی کو گواہ بنانا بھی حرام ہے۔140"
    خاں صاحب کے ایک خلیفہ ارشاد فرماتے ہیں:
    "وہابی سے نکاح نہیں ہوسکتا کہ وہ مسلمان نہیں' کفو ہونا بڑی بات ہے۔141"
    اور خود اعلیٰ حضرت صاحب کا فرمان ہے:
    "وہابی سب سے بدتر مرتد ہیں۔ ان کا نکاح کسی حیوان سے بھی نہیں ہوسکتا۔ جس سے ہوگا زنائے خالص ہوگا۔142"
    یہ ارشاد کئی دفعہ پڑھنے میں آیا ہے' میں پہلی مرتبہ بریلوی حضرات سے پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ ان کے اعلیٰ حضرت کے نزدیک کسی وہابی کا نکاح تو حیوان سے نہیں ہوسکتا' لیکن کیا بریلوی حضرات کا ہوسکتا ہے؟
    جناب احمد رضا صاحب کو اس بات کا شدید خطرہ تھا کہ لوگ وہابیوں کے پاس جا کر ان کے دلائل سن کر راہ راست پر نہ آجائیں۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے خاں صاحب فرماتے ہیں:
    "وہابیہ سے فتویٰ طلب کرنا حرام' حرام اور سخت حرام ہے۔143"
    امجد علی صاحب لکھتے ہیں:
    "وہابیوں کو زکوٰۃ دی' زکوٰۃ ہرگز ادا نہ ہوگی۔144"
    بریلوی اعلیٰ حضرت سے پوچھا گیا' وہابیوں کے پاس اپنے لڑکوں کو پڑھانا کیسا ہے؟ تو جواب میں ارشاد فرمایا:
    "حرام'حرام'حرام' اور جو ایسا کرے وہ بچوں کا بد خواہ اور گناہوں میں مبتلا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اپنے آپ کو' اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔145"
    وہابیوں کے ہاتھ سے ذبح کیے ہوئے جانوروں کے متعلق احمد رضا صاحب کا ارشاد ہے:
    "یہودیوں کا ذبیحہ حلال ہے' مگر وہابیوں کا ذبیحہ محض نجس مردار' حرام قطعی ہے۔ اگرچہ لاکھ بار نام الٰہی لیں اور کیسے ہی متقی ' پرہیزگار بنتے ہوں کہ یہ سب مرتدین ہیں۔146"
    ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں:
    ایسے زانی کہ جن کا زنا کرنا ثابت ہوچکا ہو' ان کا ذبیحہ حلال ہے۔147"
    یہ سارا کچھ اس لیے ہے کہ:
    "وہابی یہود و نصاریٰ ' ہندوؤں اور مجوسیوں سے بھی بدتر ہیں اور ان کا کفر ان سے بھی زیادہ ہے۔148"
    مزید:
    "وہابی ہر کافر اصلی یہودی' نصرانی' بت پرست' اور مجوسی سب سے زیادہ اخبث' اضر اور بدتر ہیں۔149"
    نیز:
    "یہ کتے سے بھی بدتر و ناپاک تر ہیں کہ کتے پر عذاب نہیں' اور یہ عذاب شدید کے مستحق ہیں۔150"
    آہ!
    (وَمَا نَقَمُوا مِنھُم اِلَّا اَن یَّومِنُوا بِاللّٰہِ العَزِیزِ الحَمِیدِ) (البروج:8)
    "ان لوگوں نے صرف اس بات کا انتقام لیا ہے کہ یہ (ان کی خرافات کی بجائے) اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں۔"
    نیز:
    "بریلوی حضرات کے نزدیک وہابیوں کی کتابوں کا مطالعہ حرام ہے۔''152
    مزید:
    "غیر عالم کو ان کی کتابیں دیکھنا بھی جائز نہیں۔153"
    خود جناب بریلوی کا کہنا ہے:
    "عالم کامل کو بھی ان کی کتابیں دیکھنا ناجائز ہے154" کہ انسان ہے' ممکن ہے کوئی بات معاذ اللہ جم جائے اور ہلاک ہوجائے۔155"
    نیز ایک کتاب کے متعلق فرماتے ہیں:
    "عام مسلمانوں کو اس کتاب کا دیکھنا بھی حرام ہے۔156"
    نعیم الدین مراد آبادی لکھتے ہیں:
    "ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) اور اس کے شاگرد ابن قیم جوزی (رحمہ اللہ) وغیرہ کی کتابوں پر کان رکھنے سے
    بچو۔157"





    حوالہ جات
    1مشکوٰۃ شریف۔
    5مصحح دماغ مجنون ص 14 مطبوعہ بریلی۔
    6اس کاذکر آگے مفصلا آئے گا۔
    7نزہۃ الخواطر از امام عبدالحی لکھنوی ج8 ص39۔
    9مشکوٰۃ المصابیح۔
    11مشکوٰۃ المصابیح۔
    12امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی کتاب التوحید اور تقویۃ الایمان ایک دوسرے سے بہت حد تک مشابہ ہیں اور دونوں ایک طرز پر لکھی گئی ہیں۔
    14مفتاح کنوز السنہ مقدمتہ السید رشید رضا ص ق۔
    15ایضاً۔
    16الکوکبتہ الشہابیۃ از احمد رضا ص8۔
    17الکوبتہ الشہابیۃ از احمد رضا ص 10۔
    18ایضاً ص 49۔
    19الکوبیۃ الشہابیۃ از احمد رضا ص 60۔
    20دامان باغ ملحق سبحان السبوح ص 134۔
    21ملفوظات احمد رضا ج 1 ص 110 ترتیب محمد مصطفی رضا بن احمد رضا بریلوی۔
    22الامن والعلی از احمد رضا ص 112۔
    23ایضاًص 195۔
    24الامن والعلی 72۔25ایضاً ص 195۔
    26دامان باغ سبحان السبوح ص 134۔
    27العطایہ النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ مجموعتہ فتاویٰ البریلوی ج6ص 183۔
    33نزھۃ الخواطر ج 8 ص 498۔
    34نزہۃ الخواطر ص 500'501۔
    35حاجز البحرین درج شدہ فتاویٰ رضویہ ج 2 ص 210۔
    38حسام الحرمین علی منحرا لکفر والمین ص 19۔
    39دامان سبحان السبوح از احمد رضا ص 136۔
    40ایضاً ص 134۔
    41سبحان السبوح ص 135'136۔
    42بالغ النور مندرج در فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 23۔
    43فتاویٰ رضویہ جلد 5 ص 50'72'90'137'194 وغیرہ۔
    44ایضاً جلد 10 ص 210 کتاب الخطر والاباحۃ۔
    45ایضاً جلد 10 ص 219۔
    46فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 59۔
    47ٰایضاً جلد 66 ص 121۔
    48ایضاً ص 13۔
    49بریق المنار درج شدہ فتاویٰ رضویہ جلد 4 ص 218' و فتاویٰ رضویہ جلد 2 ص 121۔
    50فتاویٰ رضویہ جلد 1 ص 208۔
    51بہت بڑے اہل حدیث عالم دین تھے ۔ نزہۃ الخواطر جلد 8 ص 72 میں ان کے حالات زندگی موجود ہیں۔
    52اپنے دور کے امام حدیث تھے۔
    53یہ بھی سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلامذہ میں سے ہیں۔
    54جید اہل حدیث عالم 'سید صاحب کے شاگرد! حالات زندگی کے لیے ملاحظہ ہو نزہۃ الخواطر جلد 8 ص 415'416۔
    55تجانب اہل السنت از محمد طیب قادری تصدیق شدہ حشمت علی قادری وغیرہ ص 219۔
    56تجانب اہل السنہ ص 248۔
    57مجلہ المنار المجلد33'1341ھ ص 239۔
    58تجانب ص 247۔
    59الاستمداد از احمد رضا ص 147۔
    60سبحان السبوح ص 27۔
    61حاجز البحرین از احمد رضا درج شدہ فتاویٰ جلد 2 ص 237۔
    62فتاویٰ رضویہ جلد 3 ص 399۔
    63سیف المصطفیٰ از بریلوی ص 92۔
    64فتاویٰ صدر الافاضل ص 31'32 مطبوعہ ہند۔
    65جاء الحق از احمد یار گجراتی جلد 1 ص 455۔
    66فتاویٰ رضویہ جلد 4 ص 199۔
    67ایضاً جلد 2 ص 242۔
    68سیف المصطفیٰ ص 95۔
    69احکام شریعت از احمد رضا جلد 1 ص 80۔
    70ایضاً ص 123۔
    71ایضاً ص 124۔
    72الکوبتہ الشہابیۃ علی کفریات ابی الوہابیہ ص 58'59۔
    73ملفوظات احمد رضا ص 66۔
    74ایضاً ص 67'68۔
    75الحق المبین از احمد سعید کاظمی ص 10'11۔
    76بہار شریعت جلد 1 ص 46'47۔
    77جی ہاں! سب کو معلوم ہے کہ ابن سعود رحمہ اللہ اور ان کے جانشینوں نے بیت اللہ الحرام میں حجاج کرام کی سہولتوں کے لیے کوئی کسرنہیں اٹھارکھی۔
    78جاء الحق از احمد یار گجراتی ص 4۔
    79تجانب اہل السنہ ص 467۔
    80ایضاً مختصراً ص 268ص 272۔
    81نزہۃ الخواطر جلد 7 ص 383۔
    82حسام الحرمین علی منحرالکفر والمین از احمد رضا ص 19۔
    83فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 59۔
    84تجانب اہل السنہ ص 173۔
    85نزہۃ الخواطر ج8ص 148۔
    86حسام الحرمین ص 21۔
    87خالص الاعتقاد از بریلوی ص 62۔
    88فتاویٰ افریقہ از بریلوی احمد رضا 124۔
    89تجانب اہل السنہ ص 245۔
    90سبحان السبوح ص 134۔
    91نزہۃ الخواطر ص 85۔
    92حسام الحرمین ص 28۔
    93ایضاً ص 31۔
    94فتاویٰ افریقہ ص 124۔
    95فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 54۔
    96ایضاً ص 104۔
    97ایضا! ص 237۔
    98فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 82۔
    99ایضاً ص 81۔
    100ایضاً جلد 6 ص 77۔
    101بالغ النور مندرج فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 43۔
    102المبین فی ختم النبیین درج شدہ فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 110۔
    103ایضاً ص 95۔
    104ایضاً ص 167۔
    105تفسیر میزان الادیان از دیدار علی جلد 2 ص 270۔
    106تجانب اہل السنہ ص 112۔
    107ملفوظات احمد رضا ص 325'326۔
    108فتاویٰ رضویہ جلد 2 ص 136۔
    109حاشیہ سبحان السبوح ص 75۔
    110تجانب ص 90۔
    111ملفوظات بریلوی ص 201۔
    113الکوکبتہ الشہابیہ از احمدرضا ص10۔
    114ایضاً ص95۔
    115ایضاً ص 60۔
    116احکام شریعت از بریلوی ص 112۔
    117ایضاً ص 117۔
    118فتاویٰ افریقہ ص 125۔
    119ایضاً ص 172۔
    120خالص الاعتقاد ص 54۔
    121المبین فی ختم النبیین درج شدہ فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 198۔
    122ملفوظات ص 105۔123ایضاً۔
    124مجموعہ فتاویٰ نعیم الدین مراد آبادی ص 64۔
    125بالغ النور درج شدہ فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 143 ایضاً بریق المنار در فتاویٰ رضویہ جلد 4 ص 218126فتاویٰ نعیمیہ جلد1 ص 104۔
    127فتاویٰ رضویہ جلد 4 ص 12۔
    128ملفوظات ص 76۔
    129ایضاً ص 286۔
    130المبین درج شدہ فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 80'81۔
    131فتاویٰ نعیم الدین مراد آبادی ص 64۔
    132فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 90۔
    133فتاویٰ نوریہ جلد 1 ص 213۔
    134مجموعہ فتاویٰ نعیم الدین ص 112۔
    135بریق المنار درج فتاویٰ رضویہ جلد 4 ص 218۔
    136جاء الحق جلد 2 ص 222۔
    137فتاویٰ افریقہ ص 170۔
    138ماحی الضلالتہ درج فتاویٰ رضویہ جلد 5 ص 72۔
    139ایضاً 50'89۔
    140فتاویٰ افریقہ ص 69۔
    141بہار شریعت از امجد علی رضوی جلد7 ص 32۔
    142ازالتہ العار درج شدہ فتاویٰ رضویہ جلد 5 ص 194'ایضاً فتاویٰ رضویہ جلد 5 ص 46۔
    143فتاویٰ رضویہ جلد 4 ص 46۔
    144بہار شریعت جلد 5 ص 46۔
    145احکام شریعت از بریلوی ص 237۔
    146ایضاً ص 122۔
    147فتاویٰ افریقہ ص 27۔
    148بالغ النور درج در فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 13۔
    149ازالتہ العار درج فتاویٰ رضویہ جلد 5 ص 1278۔
    150المبین درج فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 9۔
    152المبین درج فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 9۔
    153ایضاً۔
    154ملاحظہ فرمائیںخود تو بریلوی حضرات دوسروں کی کتابیں دیکھنا حرام قرار دے رہے ہیں۔ لیکن جب ان کے اعلیٰ حضرت کے تحریف شدہ قرآن پر بعض حکومتوں کی طرف سے پابندی لگائی گئی تو اس پر واویلا کرنا شروع کردیا۔ دوسروں کی کتابوں کے مطالعے پر حرام ہونے کا فتویٰ لگانے والوں کو کیسے حق پہنچتا ہے کہ وہ اس پر صدائے احتجاج بلند کریں؟ پہلے اپنے فتووں کو تو واپس لو۔ پھر دوسروں سے اس قسم کے مطالبات کریں۔ خود تو وہ لوگوں کو وہابیوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور مسجدوں میں داخل ہونے سے بھی روک رہے ہیں۔ اور کسی کو اتنا بھی حق نہیں دیتے کہ وہ ان کی تحریف معنوی پر مبنی کتابوں کے داخلے پر پابندی لگاسکیں۔
    155ملفوظات ص 335۔
    156بالغ النور در فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 54۔
    157فتاویٰ نعیم الدین مراد آبادی ص 33۔




    جاری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد --------- باب چہارم

    حج کے ملتوی ہونے کا فتوی

    بریلوی حضرات کی عقل کا ماتم کیجئے' انہوں نے وہابیوں کی دشمنی میں فریضہ حج کے ساقط ہونے کا فتویٰٰ جاری کردیا اور کہا چونکہ حجاز مقدس پر وہابیوں کی حکومت ہے اور وہاں مسلمانوں (بریلویوں) کے لیے امن مفقود ہے' لہٰذا حج ملتوی ہوچکا ہے۔ اور جب تک وہاں سعودی خاندان کی حکومت ہے' اس وقت تک مسلمانوں سے حج کی فرضیت ختم ہوگئی ہے۔
    اس فتوے کو انہوں نے ایک مستقل رسالے (تنویر الحجۃ لمن یجوز التوائۃ الحجۃ) میں شائع کیاہے۔
    فتویٰ دینے والے بریلوی حضرات کوئی غیر معروف شخص نہیں بلکہ اس کے مفتی' جناب احمد رضا خاں صاحب بریلوی کے صاحبزادے مصطفےٰ رضا صاحب ہیں۔ اس فتوے پر پچاس کے قریب بریلوی اکابر کے دستخط ہیں۔ جن میں حشمت علی قادری' حامد رضا بن احمد رضا بریلوی' نعیم الدین مراد آبادی اور سید دالدار علی وغیرہ شامل ہیں۔
    اس میں درج ہے:
    "نجس ابن سعود اور اس کی جماعت تمام مسلمانوں کو کافر و مشرک جانتی ہے اور ان کے اموال کو شیر مادر سمجھتی ہے۔ ان کے اس عقیدے کی وجہ سے حج کی فرضیت ساقط اور عدم لازم ہے۔158
    فتوے کے آخر میں درج ہے:
    "اے مسلمانو! ان دنوں آپ پر حج فرض نہیں' یا ادا لازم نہیں۔ تاخیر روا ہے!" اور یہ ہر مسلمان جانتا ہے اور اپنے سچے دل سے مانتا ہے کہ اس نجدی علیہ ما علیہ کے اخراج کی ہر ممکن سعی کرنا اس کا فرض ہے۔ اور یہ بھی ہر ذی عقل پر واضح ہے کہ اگر حجاج نہ جائیں تو اسے تارے نظر آجائیں۔ نجدی سخت نقصان عظیم اٹھائیں۔ ان کے پاؤں اکھڑ جائیں۔ آپ کے ہاتھ میں اور کیا ہے؟ یہی ایک تدبیر ہے جو ان شاء اللہ کارگر ہوگی!159"
    مزید:
    "اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ جب تم پر حج فرض نہ تھا تم نے وہاں جا کر ہمارے اور ہمارے محبوبوں کے دشمنوں کو کیوں مدد پہنچائی؟۔۔۔۔۔۔ جب تمہیں التواء و تاخیر کی اجازت تھی اور یہ حکم ہمارے ناچیز بندے اور تمہارے خادم مصطفےٰ رضا نے تم تک پہنچادیا تھا' پھر بھی تم نہ مانے اور تم نے ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو اپنے مال لٹوا کر ہمارے مقدس شہروں پر ان کا نجس قبضہ اور بڑھادیا۔160"
    یہ ہیں بریلوی متکب فکر کے اکابرین۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے صرف جہاد کے ساقط ہونے کا فتویٰ دیا تھا' ان کے اکابرین نے انگریزی استعمار کے خلاف جہاد کے ساتھ ساتھ161 حج کے ساقط ہونے کا فتویٰ بھی دے دیا۔162
    دہلی کے ایک بریلوی عالم اس فتوے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    "حج کے ملتوی ہونے سے نجدیہ کے ناپاک قدم ان شاء اللہ حرمین طیب و طاہر ہوجائیں گے۔163"
    ایک اور صاحب فرماتے ہیں:
    "جب تک نجدی مسلط ہیں' اس وقت تک حج کے لیے سفر کرنا اپنی دولت کو ضائع کرنے کے برابر ہے۔"
    یہ فتویٰ جہاں بریلوی اکابرین کی سوچ کا آئینہ دار ہے' وہاں اسلامی شعائر کی توہین کے بھی مترادف ہے۔



    جاری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد --------- باب چہارم

    اکابرین تحریک پاکستان بریلویت کی نظر میں

    بریلوی حضرات نے تحریک پاکستان کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کیا۔ ان کے نزدیک قائد اعظم محمد علی جناح' علامہ محمداقبال' مولانا ظفر علی خان' تحریک خلافت کے بانی محمد علی جوہر' مولانا الطاف حسین حالی' نواب مہدی علی خان اور نواب مشتاق حسین سب کفار و مرتدین تھے۔ لکھتے ہیں:
    "نواب محسن الملک مہدی علی خان' نواب اعظم یار جنگ' مولوی الطاف حسین حالی' شبلی نعمانی اور ڈپٹی نذیر احمد دہلوی وزیران نیچریت' مشیران دہریت اور مبلغین زندیقیت تھے۔164"
    علامہ اقبال رحمہ اللہ کے متعلق بریلوی فتویٰ سنئے:
    فلسفی نیچری ڈاکٹر اقبال کی زبان پر ابلیس بول رہا ہے۔165"
    مزید:
    "فلسفی نیچری ڈاکٹر اقبال صاحب نے اپنی فارسی و اردو نظموں میں دہریت اور الحاد کا زبردست پروپیگنڈہ کیا ہے۔ کہیں اللہ عزوجل پر اعتراضات کی بھرمار ہے' کہیں علمائے شریعت وائمہ طریقت پر حملوں کی بوچھاڑ ہے' کہیں سیدنا جبریل امین و سیدنا موسیٰ کلیم اللہ وسیدنا عیسیٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تنقیصوں توہینوں کا انبار ہے' کہیں شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا وآلہ الصلوۃ واحکام مذہبیہ و عقائد اسلامیہ پر تمسخر واستہزاء و انکار ہے' کہیں اپنی زندیقیت و بے دینی کا فخر و مباہات کے ساتھ کھلا ہوا اقرار ہے۔166"
    نیز:
    مسلمانان اہل سنت خود ہی انصاف کرلیں کہ ڈاکٹر صاحب کے مذہب کو سچے دین اسلام کے ساتھ کیا تعلق ہے؟167"
    علامہ اقبال علیہ الرحمۃ کی تکفیر کرتے ہوئے دیدار علی صاحب نے فتویٰ دیا تھا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹر اقبال سے ملنا جلنا ترک کردیں' ورنہ سخت گناہ گار ہوں گے۔168"
    استعمار کے خلاف اپنی نظموں اور تقاریر کے ذریعے مسلمانوں میں جہاد کی روح پھونکنے والے عظیم شاعر مولانا ظفر علی خاں علیہ الرحمۃ کو کافر ثابت کرنے کے لیے ایک مستقل کتاب "القسورۃ علیٰ ادوارالحمرالکفرۃ الملقب علی ظفر رمتہ من کفر" تحریر کی۔ یہ کتاب احمد رضا خاں صاحب کے بیٹے کی تصنیف ہے اور اس پر بہت سے بریلوی زعماء کے دستخط ہیں۔
    انگریز کے خلاف علم جہاد بلند کرنے والے مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کی تکفیر کرتے ہوئے بریلوی حضرات کہتے ہیں:
    "ابوالکلام آزاد مرتد ہے اور اس کی کتاب تفسیر ترجمان القرآن نجس کتاب ہے۔" 169انا للہ وانا الیہ راجعون!
    ہندوستان میں تعلیم عام ہونے کی صورت میں بریلوی افکار و نظریات دم توڑنے لگے تھے' کیونکہ ان کی بنیاد جہالت پر تھی۔ اسی وجہ سے بریلویت زیادہ جاہل طبقے میں ہی مقبول ہے۔ تعلیم کا حصول بریلویت کے لیے بہت بڑا خطرہ تھا اور بریلوی حضرات کے نزدیک سر سید احمد خاں کا یہ بہت بڑا جرم تھا کہ وہ مسلمانوں کو حصول علم کی رغبت دلاتے تھے اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے جامعہ علی گڑھ کی بنیاد ڈالی تھی۔ چنانچہ بریلویت کے پیروکاروں نے انہیں بھی تکفیری فتووں کا نشانہ بنایا۔ احمد رضا صاحب لکھتے ہیں:
    "وہ خبیث مرتد تھا۔ اسے سید کہنا درست نہیں۔170"
    تجانب اہل السنہ کہ جس کی تصدیق و توثیق بہت سے بریلوی علماء نے کی ہے' جن میں بریلویوں کے "مظہر اعلیٰ حضرت" حشمت علی قادری صاحب بھی ہیں' اس میں سرسید کے متعلق درج ہے:
    "جو شخص اس کے کفریات قطعیہ یقینیہ میں سے کسی ایک ہی کفر قطعی پر مطلع ہونے کے بعد بھی اس کے کافر مرتد ہونے میں شک رکھے' یا اس کو کافر و مرتد کہنے میں توقف کرے' وہ بھی بحکم شریعت مطہرۃ قطعاً یقیناً کافر و مرتد اور مستحق عذاب ابد ہے۔171"
    بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تکفیر کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:
    "مسٹر محمد علی جناح کا فر و مرتد ہے۔ اس کی بہت سی کفریات ہیں۔ بحکم شریعت وہ عقائد کفریہ کی بنا پر قطعاً مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ اور جو اس کے کفر پر شک کرے یا اسے کافر کہنے میں توقف کرے' وہ بھی کافر۔172"
    اس دور کی مسلم لیگ کے متلعق ان کا فتویٰ ہے:
    "یہ مسلم لیگ نہیں مظلم لیگ ہے۔173"
    نیز:
    بدمذہب سارے جہاں سے بدتر ہیں۔ بد مذہب جہنمیوں کے کتے ہیں۔ کیا کوئی سچا ایماندار مسلمان کسی کتے اور وہ بھی دوزخیوں کے کتّے کو اپنا قائد اعظم' سب سے بڑا پیشوا اور سردار بنانا پسند کرے گا؟ حاشا و کلا ہرگز نہیں!174"
    مزید:
    "مسلم لیگ کا دستور کفریات و ضلالت پر مشتمل ہے۔175"
    مزید سنئے:
    جو محمد علی جناح کی تعریف کرتا ہے وہ مرتد ہوگیا' اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس کا کلی مقاطعہ کریں' یہاں تک کہ وہ توبہ کرے۔176"
    سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کے متعلق ان کا فتویٰ یہ ہے کہ ان کی جماعت ناپاک اور مرتد جماعت ہے۔177
    بریلوی حضرات پاکستانی صدر جنرل محمد ضیاء الحق اور سابق گورنر پنجاب جنرل سوار خان اور ان وفاقی وزراء کو جنہوں نے امام کعبہ فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن السبیل کے پیچھے نماز ادا کی تھی' ان سب پر کفر کا فتویٰ لگا چکے ہیں۔
    کسی نے ان کے مفتی شجاعت علی قادری سے سوال کیا کہ ان کا کیا حکم ہے؟ مفتی صاحب نے جواب دیا:
    "حضرت نورانی فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا فتویٰ ہے کہ جو شخص وہابی نجدیوں کو مسلمان جانے ' یا ان کے پیچھے نماز پڑھے ' وہ کافر و مرتد ہے۔178"
    جناب احمد رضا اور ان کے حواری فتویٰ بازی میں بہت ہی جلد باز تھے۔ مختلف شخصیات اور جماعتوں کو کافر قرار دینے کے علاوہ معمولی معمولی باتوں پر بھی کفر کا فتویٰ لگادیتے تھے۔۔۔۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
    جناب بریلوی کا ارشاد ہے:
    "جس نے ترکی ٹوپی چلائی وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا۔179"
    بلاضرورت انگریزی ٹوپی رکھنا بلاشبہ کفر ہے۔180"
    "علوی سید کو علیوی کہنا کفر ہے۔181"
    "علماء کی بدگوئی کرنے والا منافق و کافر ہے۔182"
    "علمائے دین کی تحقیر کفر ہے۔183"
    "جس نے کہا امام ابوحنیفہ کا قیاس حق نہیں ہے ' وہ کافر ہوگیا۔184"
    ایک طرف تو ان باتوں پر کفر کے فتوے لگائے جارہے ہیں اور دوسری طرف اتنی ڈھیل دی جارہی ہے کہ:
    "غیر خدا کا سجدہ تحیت کرنے والا ہرگز کافر نہیں۔185"
    مزید:
    "یہ کہنا ہمارے معبود محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں' کفر نہیں!186"
    نیز:
    "بزرگ کا "سبحانی ما اعظم شانی" یعنی میں پاک ہوں' میری شان بلند ہے" کہنا کلمہ کفر نہیں187"
    لیکن
    "جس نے عالم کو عویلم کہا وہ کافر ہوگیا۔188"
    اور نہایت تعجب کی بات ہے کہ اس قدر تکفیری فتووں کے باوجود بریلوی اعلیٰ حضرت کہا کرتے تھے:
    "اگر کسی کلام میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں' اور ایک اسلام کا' تو واجب ہے کہ کلام کو احتمال اسلام پر محمول کیا جائے۔189"
    مزید:
    "کسی مسلمان کو کافر کہا اور وہ کافر نہ ہو' تو کفر کہنے والے کی طرف لوٹ آتا ہے اور کہنے والا خود کافر ہوجاتا ہے۔؟190
    اور اس سے بھی زیادہ تعجب اور تضحیک کی بات یہ ہے کہ بریلوی حضرات اپنے اعلیٰ حضرت کے متعلق لکھتے ہیں:
    "اعلیٰ حضرت تکفیر مسلم میں بہت محتاط تھے اور اس مسئلے میں جلد بازی سے کام نہ لیتے تھے۔191"
    ایک اور صاحب لکھتے ہیں:
    "وہ تکفیر مسلم میں بہت احتیاط سے کام لیتے تھے۔192"
    جناب بریلوی خودد اپنے بارے میں لکھتے ہیں:
    "یہ حسن احتیاط اللہ عزوجل نے ہمیں عطا فرمایا۔ ہم لاالٰہ الااللہ کہنے والے کو حتی الامکان کفر سے بچاتے ہیں۔" 193
    ان تمام احتیاطات کے باوجود بریلوی حضرات کی تکفیری مہم کی زد میں آنے سے ایک مخصوص ٹولے کے علاوہ کوئی مسلمان بھی محفوظ نہیں رہ سکا۔ اگر یہ احتیاطات و تحفظات نہ ہوتے تو نہ معلوم کیا گل کھلاتے؟
    آخر میں ہم اس سلسلے میں ایک مزیدار بات نقل کرکے اس باب کو ختم کرتے ہیں۔ علمائے دین نے جناب بریلوی کی کتب سے یہ ثابت کیا ہے کہ خود ان کی ذات بھی ان کے تکفیری فتووں سے محفوظ نہیں رہ سکی۔
    احمد رضا خاں صاحب کئی مقامات پر شخصیات کے متعلق لکھتے ہیں کہ جو ان کے کفر میں شک کرے' وہ بھی کافر! مگر دوسری جگہ انہیں مسلمان قرار دیتے ہیں۔ مثلاً شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ علیہ کو بارہا کافر مرتد قرار دینے کے باوجود ایک جگہ کہتے ہیں "علمائے محتاطین شاہ اسماعیل کو کافر نہ کہیں'، یہی صواب ہے۔194"
    یعنی پہلے تو کہا کہ" جو ان کے کفر میں شک کرے' وہ بھی کافر"(اس کا بیان تفصیلاً گزرچکا ہے) پھر خود ہی کہتے ہیں کہ "انہیں کافر نہیں کہنا چاہیے۔" کفر میں شک اور شک کرنے والا ان کے نزدیک کافر ہے' لہٰذا وہ خود بھی کافر ٹھہرے!
    اسی طرح ایک جگہ فرماتے ہیں :"سید کا استخاف کفر ہے۔195"
    اور خود سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ علیہ اور دوسرے کئی سید علماء کا استخفاف ہی نہیں ' بلکہ انہیں کفار و مرتدین قرار دے کر کفر کے مرتکب ٹھہرے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں زبان کی لغزشوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین!




    جاری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    بریلویت تاریخ و عقائد --------- باب پنجم

    باب 5
    بریلویت اور افسانوی حکایات

    کتاب و سنت سے انحراف کرنے والے تمام باطل فرقے خود ساختہ قصے کہانیوں کا سہارا لیتے ہیں' تاکہ وہ جھوٹی روایات کو اپنا کر سادہ لوح عوام کے سامنے انہیں دلائل کی حیثیت سے پیش کرکے اپنے باطل نظریات کو رواج دے سکیں۔
    ظاہر ہے' کتاب و سنت سے تو کسی باطل عقیدے کی دلیل نہیں مل سکتی۔ مجبوراً قصص واساطیر اور جھوٹی حکایات کی طرف رخ کرنا پڑتا ہے' تاکہ جب کسی کی طرف سے دلیل طلب کی جائے تو فوراً ان حکایات کو پیش کردیا جائے۔ مثلاً عقیدہ یہ ہے کہ اولیاء کرام اپنے مریدوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکتے ہیں۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ شیخ جیلانی رحمہ اللہ علیہ نے کسی عورت کی فریاد پر 12برس بعد ایک ڈوبی کشتی کو نمودار کرکے اس میں موجود غرق ہونے والے تمام افراد کو زندہ کردیا تھا۔
    اپنی طرف سے ایک عقیدہ وضع کیا جاتا ہے' اور پھر اس کو مدلل بنانے کے لیے ایک حکایت وضع کرنا پڑتی ہے۔ اور اسی سے ہر باطل مذہب کا کاروبار چلتا ہے۔
    ایسے لوگوں کے متعلق ہی ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    اَلّذِینَ ضَلَّ سَعیُھُم فِی الحَیَاۃ الدُّنیَا وَھُم یَحسَبُونَ اَنَّھُم یُحسِنُونَ صُنعًا۔
    "یعنی ان کی ساری تگ و دو اور جدوجہد کا محور دنیا کی زندگی ہے۔ اور گمان یہ کرتے ہیں کہ وہ اچھے کام (دین کا کام) کررہے ہیں۔
    ہوتا یہ ہے کہ دنیوی طمع میں مبتلا ہوکر ایسے لوگ اپنی عاقبت برباد کرلیتے ہیں:
    وَمَن لَم یَجعَلَ اللّٰہُ لَہْ نُورًا فَمَا لَہُ مِن نُورٍ۔
    "جسے رب کریم ہدایت کی روشنی عطا نہ کرے ' اسے روشنی نہیں مل سکتی!"
    کتاب و سنت کی پیروی میں ہی امت کے لیے بہتری ہے۔ اگر ہم اس سے اعراض کریں گے تو ہمارا مقدر سوائے خرافات و توہمات کے کچھ نہ ہوگا۔ مسلمان امت کے لیے قرآن و سنت کے علاوہ کوئی تیسری چیز دلیل نہیں ہوسکتی۔ اگر قصے کہانیوں کو بھی دلائل کی حیثیت دے دی جائے تو مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی کوئی صورت نہیں نکل سکتی۔ مسلمان صرف اللہ تعالیٰ کی کتاب اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر ہی متحد ہوسکتے ہیں۔
    افسانوں اور خودساختہ روایات سے حق کو باطل اور باطل کو حق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ آج ہمارے دور میں اگر ہندوؤں کی نقل میں گھڑی ہوئی حکایتوں کو چھوڑ کر کتاب و سنت کی طرف رجوع کرلیا جائے تو بہت سے غیر اسلامی عقائد اسی وقت ختم ہوسکتے ہیں اور اتحاد کی بھی کوئی صورت نکل سکتی ہے۔
    بریلوی حضرات نے بہت سی حکایتوں کو سند کا درجہ دے رکھا ہے۔ ہم ذیل میں ان کی بے شمار حکایتوں میں سے چند ایک کو نقل کرتے ہیں۔
    جناب بریلوی کا عقیدہ ہے کہ بزرگان دین اپنے مریدوں کی پریشانیاں دور کرتے' غیب کا علم رکھتے اور بہت دور سے اپنے مریدوں کی پکار سن کر ان کی فریاد رسی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
    "سیدی موسیٰ ابو عمران رحمہ اللہ علیہ کا مرید جہاں کہیں سے بھی انہیں پکارتا جواب دیتے' اگرچہ سال بھر کی راہ پر ہوتا یا اس سے زائد۔'' 3
    مزید:
    "حضرت محمد فرغل فرمایا کرتے تھے میں ان میں سے ہوں جو اپنی قبروں میں تصرف فرماتے ہیں۔ جسے کوئی حاجت ہو میرے پاس چہرے کے سامنے حاضر ہو' مجھ سے اپنی حاجت کہے میں پوری فرمادوں گا۔4"
    اب ان اقوال و عقائد کی دلیل قرآن کریم کی کوئی آیت یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں' بلکہ ایک حکایت ہے جسے جناب احمد رضا خاں نے اپنے ایک رسالے میں نقل کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
    ایک دن حضرت سیدی مدین بن احمد اشمونی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وضو فرماتے وقت ایک کھڑاؤں بلاد مشرق کی طرف پھینکی۔ سال بھر کے بعد ایک شخص حاضر ہوئے اور وہ کھڑاؤں ان کے پاس تھی۔ انہوں نے حال عرض کیا کہ جنگ میں ایک بدصورت 5نے ان کی صاحبزادی پر دست درازی کرنی چاہی' لڑکی کو اس وقت اپنے باپ کے پیرومرشد حضرت سیدی مدین کا نام معلوم نہ تھا یوں ندا کی :
    یا شیخ ابی لاحظنی
    "اے میرے باپ کے پیرومرشد مجھے بچایئے!"
    یہ ندا کرتے ہی کھڑاؤں آئی ' لڑکی نے نجات پائی۔ وہ کھڑاؤں ان کی اولاد میں اب تک موجود ہے۔6"
    اس سے ملتی جلتی ایک اور حکایت نقل کرتے ہیں:
    "سیدی محمد شمس الدین محمد حنفی کے ایک مرید کو دوران سفر چوروں نے لوٹنا چاہا۔ ایک چور اس کے سینے پر بیٹھ گیا' اس نے پکارا:
    یا سیدی محمد حنفی! خاطر معی
    یعنی "اے میرے آقا مجھے بچائیے۔"
    اتنا کہنا تھا کہ ایک کھڑاؤں آئی اور اس کے سینے پر لگی۔ وہ غش کھا کر الٹ گیا۔7"
    ایک اور مزیدار حکایت ملاحظہ ہو:
    ایک فقیر بھیک مانگنے والا ایک دکان پر کھڑا کہہ رہا تھا' ایک روپیہ دے۔ وہ نہ دیتا تھا۔ فقیر نے کہا:
    روپیہ دیتا ہے تو دے ورنہ تیری ساری دکان الٹ دوں گا۔ اس تھوڑی دیر میں بہت لوگ جمع ہوگئے۔ اتفاقاً ایک صاحب دل کا گزر ہوا' جس کے سب معتقد تھے۔ انہوں نے دکاندار سے فرمایا' جلد روپیہ اسے دے' ورنہ دکان الٹ جائے گی۔
    لوگوں نے عرض کی' حضرت! یہ بے شرع جاہل کیا کرسکتا ہے؟
    فرمایا: میں نے اس فقیر کے باطن پر نظر ڈالی کہ کچھ ہے بھی؟ معلوم ہوا بالکل خالی ہے۔ پھر اس کے شیخ کو دیکھا' اسے بھی خالی پایا۔ اس کے شیخ کے شیخ کو دیکھا' انہیں اہل اللہ سے پایا اور دیکھا منتظر کھڑے ہیں کہ کب اس کی زبان سے نکلے اور میں دکان الٹ دوں۔8"
    اندازہ لگائیں۔ ایک مانگنے والا جاہل فقیر ' نماز روزے کا تارک ' بے شرع ' نفع و نقصان پہنچانے اور تصرفات و اختیارات کا مالک ہے!
    کس طرح سے یہ لوگ نجس ' غلیظ' پاکی و پلیدی سے ناآشنا' مغلظات بکنے والے' ہاتھ میں کشکول گدائی لیے ' گلے میں گھنگرو ڈالے اور میلا کچیلا لباس زیب تن کیے' لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرکے پیٹ پوجا کرنے والے جاہل لوگوں کو عام نظروں میں مقدس ' پاکباز' بزرگان دین اور تصرفات و اختیارات کی مالک ہستیاں ظاہر کررہے ہیں اور دین اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کو مسخ کررہے ہیں۔ یہی وہ تعلیمات ہیں' جن پر اس مذہب کی اساس و بنیاد ہے۔
    قرآن وسنت میں تو ان افکار و نظریات کا کوئی وجود نہیں۔ انہوں نے خود ہی عقائد وضع کیے اور پھر ان کے دلائل کے لیے اس طرح کی من گھڑت حکایات کا سہارا لیا۔
    اولیاء کرام کی قدرت و طاقت کو بیان کرنے کے لیے بریلوی حضرات ایک اور عجیب وغریب روایت کا سہارا لیتے ہیں۔ لکھتے ہیں:
    "ایک شخص سیدنا بایزید بسطامی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دیکھا کہ پنجوں کے بل گھٹنے ٹیکے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جگہ خون رواں ہے۔ عرض کی:
    "حضرت! کیا حال ہے؟"
    فرمایا!"میں ایک قدم میں یہاں سے عرش تک گیا۔ عرش کو دیکھا کہ رب عزوجل کی طلب میں پیاسے بھیڑیے کی کی طرح منہ کھولے ہوئے ہے۔
    "بانگے بر عرش کہ ایں چہ ماجرا ست" ہمیں نشان دیتے ہیں کہ (الرحمن علی العرش استویٰ) کہ رحمان عرش پر مستوی ہے۔ میں رحمان کی تلاش میں تجھ تک آیا' تیرا حال یہ پایا؟"
    عرش نے جواب دیا: مجھے ارشاد کرتے ہیں کہ اے عرش! اگر ہمیں ڈھونڈنا چاہتے ہو تو بایزید کے دل میں تلاش کرو۔9"
    بریلوی مکتب فکر کے نزدیک اولیاء کرام سے جنگل کے جانور بھی خوف کھاتے ہیں اور ان کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ اس کی دلیل کے لیے جناب احمد رضا جس حکایت کی طرف رخ کرتے ہیں ' وہ یہ ہے:
    "ایک صاحب اولیائے کرام میں سے تھے۔ ان کی خدمت میں دو عالم حاضر ہوئے۔ آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔ تجوید کے بعض قواعد مستحبہ ادا نہ ہوئے۔ ان کے دل میں خطرہ گزرا کہ اچھے ولی ہیں' جن کو تجوید بھی نہیں آتی۔ اس وقت تو حضرت نے کچھ نہ فرمایا۔مکان کے سامنے ایک نہر جاری تھی۔ یہ دونوں صاحبان نہانے کے واسطے وہاں گئے کپڑے اتار کر کنارے پر رکھ دیے اور نہانے لگے۔ اتنے میں ایک نہایت ہیبت ناک شیر آیا اور سب کپڑے جمع کرکے ان پر بیٹھ گیا۔ یہ صاحب ذرا ذرا سی لنگوٹیاں باندھے ہوئے تھے۔ اب نکلیں تو کیسے؟
    جب بہت دیر ہوگئی' حضرت نے فرمایا کہ "بھائیوں ہمارے دومہمان سویرے آئے تھے وہ کہاں گئے؟"
    کسی نے کہاں ' حضور وہ تو اس مشکل میں ہیں۔ آپ تشریف لے گئے اور شیر کا کان پکڑ کر طمانچہ مارا۔ اس نے دوسری طرف منہ پھیرلیا۔ آپ نے اس طرف مارا' اس نے اس طرف منہ پھیر لیا۔
    فرمایا' ہم نے کہا تھا ہمارے مہمانوں کو نہ ستانا۔ جلا چلا جا! شیر اٹھ کر چلا گیا۔ پھر ان صاحبوں سے فرمایا' تم نے زبانیں سیدھی کی ہیں اور ہم نے دل سیدھا کیا۔ یہ ان کے خطرے کا جواب تھا!10"
    کچھ ایسی حکایتیں بھی ہیں' جنہیں سن کر ہنسی کے ساتھ بیک وقت رونا بھی آتا ہے۔ ان میں سے چند یہاں ذکر کی جاتی ہیں۔ ارشاد کرتے ہیں:
    "سیدی احمد سجلماسی کی دو بیویاں تھیں۔ سیدی عبدالعزیز دباغ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
    "رات کو تم نے ایک بیوی کے جاگتے دوسری سے ہمبستری کی' یہ نہیں چاہئے۔ عرض کیا' حضور ! وہ اس وقت سوتی تھی۔
    فرمایا:
    سوتی نہ تھی ' سوتے میں جان ڈال لی تھی (یعنی جھوٹ موٹ سوئی ہوئی تھی) عرض کیا: حضور کو کس طرح علم ہوا؟ فرمایا' جہاں وہ سورہی تھی کوئی اور پلنگ بھی تھا؟ عرض کیا' ہاں ایک پلنگ خالی تھا!
    فرمایا اس پر میں تھا۔11"
    اس طرح کی خرافات نقل کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ ان لوگوں نے تو انہیں کتاب و سنت کے مقابلے میں معاذ اللہ دلائل وبراہین کی حیثیت دے رکھی ہے۔
    اسی طرح کی غلیظ' نجس اور جنسی حکایتوں کا نام انہوں نے دین و شریعت رکھ لیا ہے۔ اس سے انکار کو یہ لوگ وہابیت اور کفر و ارتداد سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایک بدقماش انسان' جسے یہ لوگ شیخ اور پیر جیسے القاب سے نوازتے ہیں' مرید اور اس کی بیوی کے درمیان سوتا اور وقت مباشرت خاوند اور بیوی کی حرکات وسکنات دیکھ کر محفوظ ہوتا ہے۔ یہ فحاشی و عریانی ہے ' یا دین و شریعت؟ اگر یہی دین و شرریعت ہے تو آنکھ نیچی رکھنے اور فواحش سے اجتناب وغیرہ کے احکامات کا کیا معنی ہے؟ اور بریلوی قوم کے یہ بزرگان دین ہی اس قسم کی حرکات کا ارتکاب شروع کردیں تو مریدوں کا کیا عالم ہوگا؟ اور پھر بڑی وضاحت اور ڈھٹائی کے ساتھ حکایت نقل کرنے کے بعد جناب خلیل برکاتی فرماتے ہیں:
    "اس سے ثابت ہوا' شیخ مرید سے کسی وقت جدا نہیں ہوتا۔ ہر آن ساتھ ہے۔ اس طرح بے شک اولیاء اور فقہاء اپنے پیروکاروں کی شفاعت کرتے ہیں اور وہ ان کی نگہبانی کرتے ہیں۔ جب اس کا حشر ہوتا ہے' جب اس کا نامہ اعمال کھلتا ہے' جب اس سے حساب لیا جاتا ہے' جب اس کے عمل تلتے ہیں اور جب وہ پل صراط پر چلتا ہے' ہر وقت ہر حال میں اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ کسی جگہ اس سے غافل نہیں ہوتے۔12"
    جناب بریلوی اپنے "ملفوظات" میں ایک اور حکایت نقل کرکے قبروں پر عرس اور میلوں کے فوائد بتلانا چاہتے ہیں' تاکہ بدقماش افراد ان میلوں اور عرسوں میں زیادہ تعداد میں شرکت کرکے مزارات سے "فیض" حاصل کریں۔ ارشاد کرتے ہیں:
    "سیدی عبدالوہاب اکابر اولیائے کرام میں سے ہیں۔ حضرت سیدی احمد بدوی کبیر رحمہ اللہ کے مزار پر ایک تاجر کی کنیز پر نگاہ پڑی۔وہ آپ کو پسند آئی۔ جب مزار شریف پر حاضر ہوئے تو صاحب مزار نے ارشاد فرمایا:
    عبدالوہاب۔ وہ کنیز تمہیں پسند ہے؟
    عرض کیا' ہاں! شیخ سے کوئی بات چھپانا نہیں چاہئے۔ ارشاد فرمایا:
    اچھا ہم نے وہ کنیز تم کو ہبہ کی۔ آپ سکوت میں ہیں کہ کنیز تو اس تاجر کی ہے اور حضور ہبہ فرماتے ہیں۔ وہ تاجر حاضر ہوا اور اس نے وہ کنیز مزار اقدس کی نذر کی۔13"
    خادم کو اشارہ ہوا' انہوں نے وہ آپ کی نذر کردی۔
    (صاحب مزار ) نے ارشاد فرمایا' اب دیر کاہے کی ہے؟ فلاں حجرہ 14میں لے جاؤ اور اپنی حاجت پوری کرو!15
    جنابب بریلوی دراصل ان حکایتوں سے ثابت یہ کرنا چاہتے ہیں کہ اولیائے کرام کو غیب کا علم حاصل ہے۔ وہ اپنے مریدوں کے دلوں کی باتوں سے نہ صرف واقف ہیں' بلکہ ان کی خواہشات کی تکمیل پر قدرت و تصرف بھی رکھتے ہیں۔ دعویٰ اور پھر اس کی دلیل پیش کرنا چاہتے ہیں کہ صرف مرشد اور پیر ہی علم غیب نہیں رکھتے' بلکہ ان کے مریدوں سے بھی کوئی چیز مخفی نہیں رہتی۔ فرماتے ہیں:
    "حضرت سیدی سید محمد گیسودراز قدس سرہ کہ اکابر علماء اور اجلہ سادات سے تھے۔ جوانی کی عمر تھی۔ سادات کی طرح شانوں تک گیسو رکھتے تھے۔ ایک بار سر راہ بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلوی رحمہ اللہ علیہ کی سواری نکلی' انہوں نے اٹھ کر زانوئے مبارک پر بوسی دیا۔ حضرت خواجہ نے فرمایا:
    "سیدفروترک" سید! اور نیچے بوسی دو۔ انہوں نے پائے مبارک پر بوسہ لیا۔ فرمایا"سید فروترک" انہوں نے گھوڑے کے سم پر بوسہ دیا۔ ایک گیسو کہ رکاب مبارک میں الجھ گیا تھا' وہیں الجھا رہا اور رکاب سم تک بڑھ گیا۔ حضرت نے فرمایا"سید فروترک" انہوں نے ہٹ کر زمین پر بوسہ دیا۔ گیسو رکاب مبارک سے جدا کرکے تشریف لے گئے۔ لوگوں کو تعجب ہوا کہ ایسے جلیل سید نے یہ کیا کیا؟
    یہ اعتراض حضرت سیدگیسو دراز نے سنا' فرمایا کہ لوگ نہیں جانتے کہ میرے شیخ نے ان بوسوں کے عوض میں کیا عطا فرمایا؟
    جب میں نے زانوئے مبارک پر بوسہ دیا' عالم جبروت روشن ہوا۔ اور جب زمین پر بوسہ دیا لاہوت کا انکشاف ہوگیا۔16"
    اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    اُولٰئِکَ الَّذِینَ اشتَرَوا الضَّلَالَۃَ بِالھُدٰی فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُھُم وَمَا کَانُوا مُھتَدِینَ
    "یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے میں گمراہی خرید لی ہے۔ ان کی تجارت نفع مند نہیں' یہ راہ ہدایت سے بھٹکے ہوئے ہیں۔"
    بریلوی حضرات کا عقیدہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام اور اولیائے کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ موت کے بعد بھی وہ دنیوی زندگی کی طرح اٹھتے بیٹھتے' سوتے اور جاگتے ہیں۔ اپنے مریدوں کی باتوں کو سنتے اور ان کی طلب کو پورا کرتے ہیں۔
    ظاہر ہے' یہ من گھڑت عقیدہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے توثابت نہیں ہے۔ البتہ بہت سی حکایات ایسی ہیں جن سے اس عقیدے کے دلائل مہیا ہوجاتے ہیں۔ خاں صاحب بریلوی لکھتے ہیں:
    "امام و قطب حضرت سید احمد رفاعی رضی اللہ عنہ ہر سال حاجیوں کے ہاتھ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام عرض کر بھیجتے۔ خود جب حاضر ہوئے رو ضہ اقدس کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کی کہ:
    "میں جب دور تھا تو اپنی روح بھیج دیتا تھا کہ میری طرف سے زمین کو بوسہ دے تو وہ میری نائب تھی۔اب باری میرے بدن کی ہے کہ جسم خود حاضر ہے۔ دست مبارک عطا ہو کہ میرے لب اس سے بہرہ پائیں۔
    چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک روضہ شریف میں سے ظاہر ہوا اور امام رفاعی نے اس پر بوسہ دیا۔18"
    یہ توتھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ان کا عقیدہ۔ اب یہی عقیدہ ان کے اپنے بزرگان دین کے متعلق ملاحظہ فرمائیں:
    "امام عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ ہر سال حضرت سید احمد بدوی کبیر رضی اللہ عنہ کے عرس پر حاضر ہوتے۔ ایک دفعہ انہیں تاخیر ہوگئی تو مجاوروں نے کہا کہ تم کہاں تھے؟ حضرت باربار مزار مبارک سے پردہ اٹھاکر فرماتے رہے ہیں:
    عبدالوہاب آیا؟ عبدالوہاب آیا؟19
    (جب مجاوروں نے یہ ماجرا سنایا) تو عبدالوہاب شعرانی کہنے لگے:
    کیا حضور کو مرے آنے کی اطلاع ہوتی ہے؟
    مجاوروں نے کہا: اطلاع کیسی؟ حضور تو فرماتے ہیں کہ کتنی ہی منزل پر کوئی شخص میرے مزار پر آنے کا ارادہ کرے' میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں' اس کی حفاظت کرتا ہوں۔20"
    اس پر مستزاد کہ:
    "دوبھائی اللہ کے راستے میں شہید ہوگئے۔ ان کا ایک تیسرا بھائی بھی تھا' جو زندہ تھا۔ جب اس کی شادی کا دن تھا تو دونوں بھائی بھی شادی میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔
    وہ بہت حیران ہوا اور کہنے لگا کہ تم تو مرچکے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہاری شادی میں شریک ہونے کے لیے بھیجا ہے۔
    چنانچہ ان دونوں (فوت شدہ) بھائیوں نے اپنے تیسرے بھائی کا نکاح پڑھا اور واپس اپنے مقامات پر چلے گئے۔21
    یہ دلیل ہے اس بات کی کہ نیک لوگ مرنے کے بعد بھی زندہ ہوتے ہیں اور دنیا سے ان کا تعلق ختم نہیں ہوتا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
    اور دلیل ملاحظہ ہو:
    "ابوسعید فراز قدس سرہ راوی ہیں کہ میں مکہ معظمہ میں تھا۔ باب بنی شیبہ پر ایک جوان مرا پڑا پایا۔ جب میں نے اس کی طرف نظر کی تو مجھے دیکھ کر مسکرایا اور کہا:
    یا ابا سعید اما علمت ان الاحیاء احیاء وان ماتوا وانما ینقلبون من دار الی دار
    یعنی"اے ابو سعید! کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ کے پیارے (مرنے کے بعد بھی) زندہ ہوتے ہیں' اگرچہ بظاہر مرجاتے ہیں۔ وہ تو ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف لوٹتے ہیں۔22"
    مزید سنئے:
    "سیدی ابوعلی قدس اللہ سرہ راوی ہیں:
    میں نے ایک فقیر (یعنی صوفی) کو قبر میں اتارا' جب کفن کھولا' ان کا سر خاک پر رکھ دیا۔ فقیر نے آنکھیں کھول دیں اور مجھ سے فرمایا:"
    "اے ابو علی! تم مجھے اس کے سامنے ذلیل کرتے ہو جو میرے ناز اٹھاتا ہے؟"
    میں نے عرض کی "اے میرے سردار! کیا موت کے بعد بھی تم زندہ ہو؟" کہا "بلٰی انا حیّ وکلّ محبّ اللہ حیّ لا نصرنک بجاھی غدًا"
    "میں زندہ ہوں' اور خدا کا ہر پیارا زندہ ہے' بیشک وہ عزت جو مجھے روز قیامت ملے گی' اس سے میں تیری مدد کروں گا۔23"
    "ایک بی بی نے مرنے کے بعد خواب میں اپنے لڑکے سے فرمایا:
    "میرا کفن ایسا خراب ہے کہ مجھے اپنے ساتھیوں میں جاتے شرم آتی ہے fثابت یہ کرنا چاہتے ہیں کہ مردے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں) پر سوں فلاں شخص آنے والا ہے' اس کے کفن میں اچھے کفن کا کپڑا رکھ دینا۔ صبح کو صاحبزادے نیاٹھ کر اس شخص کو دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ بالکل تندرست ہے اور کوئی مرض نہیں۔
    تیسرے روز خبر ملی' اس کا انتقال ہوگیا ہے۔ لڑکے نے فورًا نہایت عمدہ کفن سلوا کر اس کے کفن میں رکھ دیا اور کہا؛
    یہ میری ماں کو پہنچادینا!
    رات کو وہ صالحہ خواب میں تشریف لائیں اور بیٹے سے کہا'
    خدا تمہیں جزائے خیر دے' تم نے بہت اچھا کفن بھیجا!24"
    مزید:
    "جون پور کی ایک نیک لڑکی فوت ہوگئی۔ اسے جون پور میں ہی دفن کردیا گیا۔ اس طرح جون پور ہی کا ایک گناہ گار شخص مدینہ منورہ میں دفن کردیا گیا۔
    پھر کوئی صاحب حج کو گئے تو دیکھا کہ مدینہ منور میں گناہ گار آدمی کی قبر میں تو لڑکی ہے اور اس لڑکی کی قبر میں وہ گناہ گار ہے۔"
    یعنی مرنے کے بعد وہ ایک دوسرے کی قبر میں منتقل ہوگئے!
    بریلوی مکتب فکر کے پیروکاروں کا عقیدہ ہے کہ اولیاء نہ صرف مرنے کے بعد خود زندہ رہتے ہیں' بلکہ وہ دوسرے مردوں کو زندہ کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔26
    دلیل ملاحظہ ہو:
    "حضور پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس وعظ میں ایک مرتبہ تیز ہوا چل رہی تھی۔ اسی وقت ایک چیل اوپر سے چلاتی ہوئی گزری' جس سے اہل مجلس کی نگاہیں منتشر ہوئیں۔ آپ نے نظر مبارک اٹھا کر دیکھا' فوراً وہ چیل مرگئی۔ سر علیحدہ اور دھڑ علیحدہ۔ بعد ختم وعظ حضور تشریف لے چلے۔ وہ چیل بدستور مری پڑی تھی۔ آپ نے ایک ہاتھ میں سر اٹھایا اور دوسرے ہاتھ میں جسم' اور دونوں کو بسم اللہ کہہ کر ملادیا۔ فوراً اڑتی ہوئی چلی گئی۔27"
    بریلوی حضرات کی بعض حکایات میں بڑے دلچسپ لطیفے ہوتے ہیں۔ ایسی ہی ایک حکایت آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
    "دو صاحب اولیائے کرام میں سے تھے۔ ایک صاحب دریا کے اس کنارے اور دوسرے اس پار رہتے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب نے اپنے ہاں کھیر پکائی اور خادم سے کہا' اسے میرے دوست تک پہنچادے۔
    خادم نے کہا' حضور راستے میں دریا پڑتا ہے۔ کیوں کر پار اتروں گا؟ کشتی وغیرہ کا تو سامان نہیں!'
    فرمایا' دریا کے کنارے جا اور کہہ: " میں اس کے پاس آیا ہوں جو آج تک اپنی عورت کے پاس نہیں گیا۔"
    خادم حیران تھا کہ یہ کیا معمہ ہے؟
    اس واسطے کہ حضرت صاحب اولاد تھے۔ بہرحال تعمیل حکم ضروری تھی۔ دریا پر گیا اور وہ پیغام جو ارشاد فرمایا تھا کہا۔ دریا نے فوراً راستہ دے دیا۔
    اس نے پار پہنچ کر اس بزرگ کی خدمت میں کھیر پیش کی۔
    انہوں نے نوش جان فرمائی اور فرمایا' ہمارا سلام اپنے آقا سے کہہ دینا۔ خادم نے عرض کی' سلام تو جبھی کہوں گا جب دریا سے پار جاؤں گا۔ فرمایا دریا پر جاکر کہئے"میں اس کے پاس سے آیا ہوں' جس نے تیس برس سے آج تک کچھ نہیں کھایا۔" خادم بڑا حیران ہوا کہ ابھی تو انہوں نے میرے سامنے کھیر کھائی ہے' مگر بلحاظ ادب خاموش رہا۔ دریا پر آکر جیسا فرمایا تھا' کہہ دیا۔ دریا نے پھر راستہ دے دیا!28"

    اولیائے کرام کی قدرت پر ایک اور دلیل :

    "حضرت یحییٰ منیری کے ایک مرید ڈوب رہے تھے۔ حضرت خضر علیہ السلام ظاہر ہوئے اور فرمایا' اپنا ہاتھ مجھے دے کہ تجھے نکالوں۔ ان مرید نے عرض کی' یہ ہاتھ حضرت یحیی منیری کے ہاتھ میں دے چکا ہوں' اب دوسرے کو نہ دوں گا۔ حضرت خضر علیہ السلام غائب ہوگئے اور حضرت یحییٰ منیری ظاہر ہوئے اور ان کو نکال لیا۔29"
    ایک اور دلچسپ حکایت سنئے:
    "حضرت بشر حافی قدس اللہ سرہ پاؤں میں جوتا نہیں پہنتے تھے۔ جب تک وہ زندہ رہے' تمام جانوروں نے ان کے راستے میں لید گوبر پیشاب کرنا چھوڑدیا کہ بشر حافی کے پاؤں خراب نہ ہوں۔ ایک دن کسی نے بازار میں لید پڑی دیکھی ' کہا:
    انا للہ وانا الیہ راجعون
    پوچھا گیا' کیا ہے؟
    حافی نے انتقال کیا۔ تحقیق کے بعد یہ امر نکلا۔30"
    اولیاء کرام چاہیں تو اہل قبور پر سے عذاب بھی اٹھاسکتے ہیں۔ دلیل ملاحظہ ہو:
    "ایک بار حضرت سیدی اسماعیل حضرمی ایک قبرستان میں سے گزرے۔ امام محبّ الدین طبری بھی ساتھ تھے۔ حضرت سیدی اسماعیل نے ان سے فرمایا:
    اتؤمن بکلام الموتیٰ؟
    "کیا آپ اس پر ایمان لاتے ہیں کہ مْردے زندوں سے کلام کرتے ہیں؟"
    عرض کیا' ہاں۔ فرمایا' اس قبر والا مجھ سے کہہ رہا ہے:
    انا من حشوب الجنت
    "میں جنت کی بھرتی میں سے ہوں۔"
    آگے چلے' چالیس قبریں تھیں۔ آپ بہت دیر تک روتے رہے' یہاں تک کہ دھوپ چڑھ گئی۔ اس کے بعد آپ ہنسے اور فرمایا' تو بھی انہیں میں ہے۔
    لوگوں نے یہ کیفیت دیکھی تو عرض کی' حضرت! یہ کیا راز ہے؟ ہماری سمجھ میں کچھ نہ آیا؟
    فرمایا' ان قبور پر عذاب ہورہا تھا' جسے دیکھ کر میں روتا رہا اور میں نے شفاعت کی۔ مولا تعالیٰ نے میری شفاعت قبول فرمائی اور ان سے عذاب اٹھالیا۔
    ایک قبر گوشے میں تھی' جس کی طرف میرا خیال نہ گیا تھا۔ اس میں سے آواز آئی:
    یا سیدی انا منھم انا فلانۃ المغنیۃ
    "اے میرے آقا! میں بھی تو انہیں میں ہوں' میں فلاں گانا گانے والی ڈومنی ہوں۔"
    مجھے اس کے کہنے پر ہنسی آگئی میں میں نے کہا:
    انت منھم
    "تو بھی انہی میں سے ہے۔"
    "اس پر سے بھی عذاب اٹھالیا گیا!31"
    خان صاحب بریلوی لکھتے ہیں:
    "حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ تعالیٰ ایک جگہ دعوت میں تشریف لے گئے۔ آپ نے دیکھا کہ ایک لڑکا کھانا کھا رہا ہے۔ کھانا کھاتے ہوئے دفعتاً رونے لگا۔ وجہ دریافت کرنے پر کہا کہ میری ماں کو جہنم کا حکم ہے اور فرشتے اسے لیے جاتے ہیں۔
    حضرت شیخ اکبر کے پاس کلمہ طیبہ ستر ہزار پڑھا ہوا محفوظ تھا۔ آپ نے اس کی ماں کو دل میں ایصال ثواب کردیا۔ فوراً وہ لڑکا ہنسا۔ آپ نے ہنسنے کا سبب دریافت فرمایا۔ لڑکے نے جواب دیا کہ حضور! میں نے ابھی دیکھا' میری ماں کو فرشتے جنت کی طرف لیے جاتے ہیں۔32"
    یہ ہیں بریلوی حضرات کے وہ قطعی دلائل جن کا انکار کفر و ارتداد کے مترادف ہے۔ جو ان کا منکر ہوگا اس پر وہابی کافر کا فتویٰ لگادیا جائے گا۔
    ستم بالائے ستم یہ کہ بریلوی حضرات ان حکایات و اساطیر کے ذریعے نہ صرف یہ کہ لوگوں کو خودساختہ بزرگان دین کا غلام بنانا چاہتے ہیں' بلکہ اللہ تعالیٰ سے مخلوق کو دور کرنے کے لیے یہ تاثر بھی دینا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے تمام اختیارات و تصرفات ان اولیاء کی طرف منتقل ہوچکے ہیں۔ اب فریاد رسی و حاجت روائی صرف اولیاء سے ہی کی جائے گی۔ رب کائنات سے مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو کچھ لینا ہے وہ بزرگوں سے لیا جائے' جو مانگنا ہو وہ ان سے مانگا جائے۔ یہی مدد فرمانے والے اور فریاد رسی کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اختیارات انہیں تفویض کرکے خود معاذ اللہ، اللہ معطل ہوچکا ہے۔ اس تک کسی کی رسائی بھی ممکن نہیں اور اس سے مانگنے کی کسی کو ضرورت بھی نہیں۔ جناب بریلوی رقمطراز ہیں:
    "ایک مرتبہ حضرت سیدی جنید بغدادی رحمہ اللہ علیہ دجلہ پر تشریف لائے اور یا اللہ کہتے ہوئے اس پر زمین کی مثل چلنے لگے۔ بعد میں ایک شخص آیا' اسے بھی پار جانے کی ضرورت تھی۔ کوئی کشتی اس وقت موجود نہ تھی۔ جب اس نے حضرت کو جاتے دیکھا' عرض کی' میں کس طرح آؤں؟ فرمایا: یا جنید یا جنید کہتا چلا آ۔ اس نے یہی کہا اور دریا پر زمین کی طرح چلنے لگا۔ جب بیچ دریا پہنچا' شیطان لعین نے دل میں وسوسہ ڈالا کہ حضرت خود تو یااللہ کہیں اور مجھ سے یا جنید کہلواتے ہیں۔ میں بھی یا اللہ کیوں نہ کہوں؟
    اس نے یا اللہ کہا اور ساتھ ہی غوطہ کھایا۔ پکارا' حضرت میں چلا۔ فرمایا' وہی کہہ یا جنید یاجنید۔ جب کہا' دریا سے پار ہوا۔ عرض کی حضرت! یہ کیا بات تھی' آپ اللہ کہیں تو پار ہوں اور میں کہوں تو غوطے کھاؤں؟
    فرمایا ارے نادان! ابھی تو جنید تک نہیں پہنچا' اللہ تک رسائی کی ہوس ہے؟34"
    یعنی عام انسانوں کو چاہیے کہ وہ صرف اپنے بزرگوں اور پیروں کو ہی پکاریں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تک ان کی رسائی ممکن نہیں۔۔۔۔۔۔ جب کہ رب کریم کا ارشاد ہے:
    وَاِذَا سَالَکَ عِبَادِی عَنِّی فَاِنِّی قَرِیب اُجِیبُ دَعوَۃ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ
    "جب (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) تجھ سے میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو فرمادیجئے' میں ان کے قریب ہوں۔ جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارے' میں اس کی پکار سنتا ہوں اور قبول کرتا ہوں۔"
    نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    وَنَحنُ اَقرَبُ اِلَیہِ مِن حَبلِ الوَرِیدِ
    "ہم انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔"
    بریلوی حضرات حکایات سے جو کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں' قرآن مجید کی آیات اس کی مخالفت کرتی ہیں۔
    ہم ایک اور حکایت بیان کرکے اس بات کو ختم کرتے ہیں۔ جناب بریلوی ارشاد کرتے ہیں:
    "ایک صاحب پیر کامل کی تلاش میں تھے۔ بہت کوشش کی' مگر پیر کامل نہ ملا۔ طلب صادق تھی۔ جب کوئی نہ ملا تو مجبور ہوکر ایک رات عرض کیا' اے رب تیری عزت کی قسم! آج صبح کی نماز سے پہلے جو ملے گا' اس سے بیعت کرلوں گا۔ صبح کی نماز پڑھنے جارہے تھے' سب سے پہلے راہ میں ایک چور ملا جو چوری کے لیے آرہا تھا۔ انہوں نے ہاتھ پکڑلیا کہ حضرت بیعت لیجئے۔ وہ حیران ہوا' بہت انکار کیا' نہ مانے۔ آخر کار اس نے مجبور ہوکر کہہ دیا کہ حضرت میں چور ہوں' یہ دیکھئے چوری کا مال میرے پاس موجود ہے۔ آپ نے فرمایا! میرا تو میرے رب سے عہد ہے کہ آج صبح کی نماز سے پہلے جو بھی ملے گا بیعت کرلوں گا۔ اتنے میں حضرت سیدنا خضر علیہ السلام تشریف لائے اور چور کو مراتب دیے' تمام مقامات فوراً طے کرلیے' ولی کیا اور اس سے بیعت لی اور انہوں نے ان سے بیعت لی۔35"
    یہ ہیں بریلویوں کی حکایات۔ ان حکایات سے بریلوی حضرات ایسے عقائد ثابت کرنا چاہتے ہیں ' جن کا وجود کتاب و سنت میں نہیں ہے۔ اور ان آیات و احادیث کے مقابلے میں وہ انہیں دلائل کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔
    ذَلِکَ مَبلَغُھُم مِّنَ العِلمِ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِیلِہِ وَھُوَ اَعلَمُ بِمَنِ اھتَدٰی
    "یہ ہے ان کے علم کی حد! بے شک تیرا پروردگار ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے سیدھے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں' اور ان سے بھی بخوبی واقف ہے جو ہدایت یافتہ ہیں۔"
    نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    اَم حَسِبتَ اَنَّ اَکثَرَھُم یَسمَعُونَ اَو یَعقِلُونَ اِن ھُم اِلَّا کَالاَنعَامِ بَل ھْم اَضَلُّ سَبِیلا
    "اے میرے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)ن کیا تو سمجھتا ہے کہ لوگوں کی اکثریت سنتی اور سمجھتی ہے؟ نہیں ان کا حال تو جانوروں جیسا ہے بلکہ یہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں!"
    اللہ تعالیٰ ہدایت فرمائے اور گمراہی سے محفوظ رکھے۔ آمین!





    حوالہ جات
    3انوارالانتباہ فی حل نداء یا رسول اللہ درج شدہ مجموعہ رسائل رضویہ از بریلوی جلد1 ص 182۔
    4ایضاً۔
    5یعنی اگر بدصورت نہ ہوتا تو کوئی حرج نہ تھا۔
    6انوار الانتباہ جلد 1 ص 182۔
    7ایضاًص 181۔
    8ملفوطات مجددماتہ حاضرہ ترتیب مصطفی رضا 189۔
    9حکایات رضویہ ترتیب خلیل احمد برکاتی ص 181' 182۔
    10حکایات رضویہ ص 110۔
    11حکایات رضویہ از برکاتی قادری ص 55۔
    12حکایات رضویہ تعلیق خلیل برکاتی ص 55'ایضا! حاشیہ الاستمداد علی اجیال الارتداد از مصطفی رضا ص 35۔
    13کنیزوں کو مزاروں کی نذر کرنے کے بعد کیا اس میں ہندوؤں اور دورجاہلیت کی نذر ونیاز میں کوئی فرق باقی رہ جاتا ہے؟ نستغفراللہ!
    14کیا اسی مقصد کے لیے مزاروں کے پہلوؤں میں حجرے تعمیر کئے جاتے ہیں؟ اور کیا انہی نفسانی و حیوانی خواہشات کی تکمیل کے لیے عورتوں کو مزاروں پر کثرت سے آنے کی ترغیب دی جاتی ہے؟
    15ملفوظات احمد رضا 275'276۔
    16حکایات رضویہ نقل از احمد رضا ص 63'64۔
    18رسالہ ابرالمقال فی قبلۃ الاجلال درج شدہ در مجموعہ رسائل از بریلوی ص 173۔
    19ایک طرف تو ان حضرات کا عقیدہ ہے کہ اولیائے کرام کو غیب کی تمام باتوں کا علم ہوتا ہے'دوسری طرف کہتے ہیں کہ شیخ بدوی مجاوروں سے پوچھتے رہے کہ عبدالوہاب آیا یا نہیں؟ا گر غیب کا علم تھا تو بار بار عبدالوہاب کی آمد کے متعلق استفسار کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اس بات کا کیا مفہوم ہے کہ میں مزاروں پر آنے کا ارادہ کرنے والے ہر شخص کے ساتھ ہوتا ہوں اور اس کی حفاظت کرتا ہوں؟ کیسا عجیب اور دلچسپ تضاد ہے؟۔
    20ملفوظات بریلوی ص 275۔
    21حکایات رضویہ ص 116' ایضاً انوارالانتباہ درج شدہ مجموعہ رسائل اعلیٰ حضرت جلد1 ص 175۔
    22رسالہ احکام قبور مومنین درج شدہ مجموعہ رسائل جلد2 ص 243۔
    23ایضاً 243'244۔
    24ملفوظات ص 95۔
    25مواعظ نعیمیہ از اقتدار احمد گجراتی ص 26۔
    26حکایات رضویہ ص 71۔
    27باغ فردوس از قناعت علی رضوی ص 27۔
    28حکایات رضویہ ص 35۔
    29ملفوطات جلد 2 ص 164۔
    30حکایات رضویہ ص 172۔
    31حکایات رضویہ ص 57'58'ایضاً ملفوظات احمد رضا ص 200'201۔
    32ملفوطات احمد رضا ص 82' ایضاً حکایات رضویہ ص 48۔
    34حکایات رضویہ ص 52'53۔
    35حکایات رضویہ ص 71'72۔



    :::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::​


    تمام شد !!​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں