چچا تیز گام گاؤں گئے از فہیم عالم

غلام نبی نوری نے 'طنزیہ و مزاحیہ نثری تحریریں' میں ‏اپریل 24, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. غلام نبی نوری

    غلام نبی نوری نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    70
    ’’ارے بھائی صاحب! آخر بس کب آئے گی؟‘‘ چچا تیز گام نے تیسری مرتبہ پوچھا تو وہ شخص جھلا اٹھا:
    ’’میاں جی! میں آپ کو کتنی مرتبہ بتا چکا ہوں کہ بس آنے والی ہے۔ ‘‘
    ’’برخوردار! مجھے یہاں کھڑے کافی دیر ہو گئی ہے، لیکن ابھی تک بس دُور دُور تک نظر نہیں آ رہی۔ ‘‘ چچا تیز گام بولے۔
    ’’ہا۔۔ ہاہا او شیدے! میاں جی کو دیکھو، ان کو یہاں کھڑے ہوئے ابھی پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے اور کہہ رہے ہیں کہ مجھے کھڑے ہوئے کافی دیر ہو گئی ہے۔ بزرگو! یہ لوگ جو آپ کو کھڑے نظر آ رہے ہیں نا، ان میں سے کوئی ایک گھنٹے سے بس کا انتظار کر رہا ہے تو کوئی دو گھنٹے سے کھڑا ہے۔ ‘‘
    بس سٹاپ پر کھڑے بہت سے لوگ چچا تیز گام کو حیرت سے دیکھنے لگے تھے۔ وہ شخص اور اس کا ساتھی چچا تیز گام کی طرف دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ چچا تیز گام کھسیانے سے ہو کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔
    وہ اُس وقت کو کوس رہے تھے جب انہوں نے گاؤں جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ گاؤں جانے کا سنتے ہی بیگم بھڑک اٹھی تھی۔
    ’’آخر آپ گاؤں کیا کرنے جا رہے ہیں اور کس کے پاس جا رہے ہیں ؟‘‘
    ’’لو۔۔ ! بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ ‘‘ چچا تیز گام بولے۔
    ’’چلو۔۔! جو پوچھنے کی بات ہے وہ بتا دیں۔ ‘‘ بیگم بُرا سامنہ بنا کر بولی۔
    ’’میں گاؤں اپنے دوست شیر محمد کو ملنے جا رہا ہوں۔ ‘‘ چچاتیز گام نے کہا۔
    ’’جہاں تک میرا خیال ہے اس نام کا آپ کا کوئی دوست نہیں ہے۔ ‘‘
    ’’بیگم! اپنا خیال اپنے پاس رکھو، شیر محمد اپنا جگری یار ہے۔۔ جگری یار۔۔‘‘
    چچا تیز گام مسکرا کر بولے تو بیگم اپنا سا منہ لے کر رہ گئیں۔ اور چچا تیز گام گاؤں جانے کی تیاریوں میں لگ گئے اور یوں جمن اور استاد کی شامت آ گئی۔
    آخر خدا خدا کر کے چچا تیز گام تیار ہوئے۔ ابھی وہ گھر سے نکلنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ محمود اور عروج اسکول سے آ گئے۔ جب انہیں پتا چلا کہ ابّا جان گاؤں جا رہے ہیں تو دونوں نے انہیں گھیر لیا۔
    ’’ابا جان! آپ میرے لیے گاؤں سے کیا لائیں گے؟‘‘ محمود بولا۔
    ’’جو میرا بیٹا کہے گا، میں وہی لاؤں گا۔ ‘‘ چچا تیز گام پیار سے بولے۔
    ’’میرے دوست آصف کے ابو گاؤں گئے تھے تو وہ اس کے لیے گُڑ لائے تھے۔ آپ بھی میرے لیے گاؤں سے گُڑ لائیے گا۔ ‘‘
    ’’کیوں نہیں، میں اپنے بیٹے کے لیے گاؤں سے ڈھیر سارا گُڑ لاؤں گا۔ ‘‘
    آپ کہہ تو ایسے رہے ہیں جیسے وہاں گُڑ کے پہاڑ ہوں گے۔ ‘‘ بیگم جل کر بولیں۔
    ’’بیگم! تم بھی کمال کرتی ہو۔ بھلا گُڑ کے بھی پہاڑ ہوتے ہیں، گُڑ کے تو کھیت ہوتے ہیں، کھیت۔۔ میرے جگری یار شیر محمد نے بتایا تھا کہ گاؤں میں اس کے بہت سارے گڑ کے کھیت ہیں۔ ‘‘ چچا تیز گام جلدی جلدی بولے۔
    ’’لیکن مالک! کھیت تو گنوں کے ہوتے ہیں جن سے گُڑ بنتا ہے، گُڑ کے کھیت نہیں ہوتے۔ ‘‘ جمن نے کہا۔
    ’’ہاں۔۔! ہاں وہی۔۔ ایک ہی بات ہے۔ ‘‘ چچا تیز گام گردن ہلاتے ہوئے بولے۔
    ’’اور ابا جان! میرے لیے آپ کیا لائیں گے؟‘‘ محمود نے گھیراؤ ختم کیا ہی تھا کہ ننھی عروج چچا تیز گام کا راستہ روک کر بولی۔
    ’’تمہارے لیے میں آم لاؤں گا۔ میرے دوست شیر محمد کے گاؤں میں آم کے بہت سے باغات ہیں۔ میں بھی اصل میں آ۔۔ آ۔۔آم۔ ‘‘
    چچا تیز گام کچھ کہتے کہتے اچانک رک گئے۔
    ’’اچھا بھئی میں تو اب چلا گاؤں۔۔‘‘ چچا تیز گام پینترا بدلتے ہوئے بولے۔
    ’’کہیے۔۔! کہئے۔۔! رُک کیوں گئے۔۔ کہ گاؤں آپ کو آپ کے دوست کی محبت نہیں بلکہ آموں کی خوشبو بلا رہی ہے۔ ‘‘ بیگم طنزیہ لہجے میں بولی۔
    ’’بیگم۔۔! بال کی کھال اتارنا تو کوئی تم سے سیکھے۔ ‘‘
    چچا تیز گام غصے سے بولے اور گھر سے گاؤں کے لیے رخصت ہوئے۔
    شیر محمد سے چچا تیز گام کی دوستی اتفاقیہ ہوئی تھی۔ چچا تیز گام ایک شادی سے واپس آ رہے تھے۔ جمن اُن کے ساتھ تھا۔ اُن کو ٹرین کا سفر پسند تھا۔ اس لیے اکثر وہ ٹرین پر سفر کرتے تھے۔ شادی سے واپسی پر وہ ٹرین پر سوار تھے۔ چچا تیز گام حسبِ معمول سیٹ پر بیٹھے سوتے میں خراٹے لے رہے تھے۔ اُن کے خراٹے پورے ڈبے میں گونج رہے تھے۔ ٹرین کے چلنے کی آواز ان خراٹوں کی گونج میں دب کر رہ گئی تھی۔
    ڈبے میں سبھی مسافر ان کے خراٹوں سے تنگ تھے۔ سب نے انگلیاں کانوں میں ٹھونس رکھی تھیں۔ دُوسرے مسافروں کی نسبت شیر محمد زیادہ تنگ ہو رہے تھے۔ کیوں کہ وہ چچا تیز گام کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ شیر محمد نے پہلے تو جمن کو کہا کہ ان کو اٹھا دو۔ لیکن اُس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مالک مجھ پر بگڑیں گے۔
    ’’کیا آپ ان کے ملازم ہیں ؟‘‘
    شیر محمد نے پوچھا تو جمن نے چچا تیز گام کا مکمل تعارف کروا دیا۔ جمن اور شیر محمد ابھی باتیں کر ہی رہے تھے کہ چچا تیز گام کی پھندنے والی ٹوپی گر گئی۔ شیر محمد کو موقع مل گیا اس نے ٹوپی ہاتھ میں پکڑی اور چچا تیز گام کا کندھا ہلاتے ہوئے بولا:
    ’’بڑے میاں ! آپ کی ٹوپی گر گئی ہے۔ ‘‘
    یوں چچا تیز گام کے بیدار ہونے سے ان کے خراٹے رک گئے اور سب لوگوں نے سکون کا سانس لیا۔ چچا تیز گام کا تعارف تو جمن شیر محمد کو پہلے ہی کروا چکا تھا۔ اب باقاعدہ گپ شپ شروع ہو گئی۔ شیر محمد ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ اپنے گاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے باتوں باتوں میں وہ چچا تیز گام سے اپنے آموں کے باغ کا ذکر کر بیٹھے اور اس پر ستم یہ کہ چچا تیز گام کو اپنے ہاں آنے کی دعوت بھی دے ڈالی۔ شیر محمد تو اپنے سٹاپ پر اتر گئے، لیکن اُس وقت سے چچا تیز گام پر گاؤں جانے کا بھوت سوار ہو گیا۔ اپنے شہر سے شیر محمد کے شہر تک کا سفر انہوں نے ٹرین پر طے کیا۔ شہر سے شیر محمد کے گاؤں تک کا سفر انہوں نے لوکل بس پر کرنا تھا۔ لوکل بس کے سفر سے چچا تیز گام کی جان جاتی تھی، لیکن اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ لہٰذا بس پر سفر کرنا چچا تیز گام کی مجبوری تھی۔ چچا تیز گام کافی دیر سے بس کا انتظار کر رہے تھے، لیکن بس تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ لوگوں کا ہجوم دیکھ کر چچا تیز گام کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ کسی سیاسی جلسے میں آ گئے ہوں۔ ہر شخص بس میں سوار ہونے کے لیے بے چین نظر آتا تھا۔ اچانک فضا میں ایک شور بلند ہوا۔ چچا تیز گام نے گھبرا کر شور کی جانب دیکھا تو دھوئیں کا ایک بادل اسٹاپ کی طرف بڑھتا نظر آیا۔
    ’’ارے بھئی۔۔ یہ۔۔ یہ کیا ہے؟‘‘ چچا تیز گام حیران و پریشان کھڑے دھوئیں کے اُس بادل کو دیکھ رہے تھے۔
    ’’ابھی تو اس کے انتظار میں مرے جا رہے تھے اور اب پوچھتے ہو یہ کیا ہے۔ بڑے میاں یہ بس ہے۔۔ بس۔ ‘‘ ایک شخص ہاتھ نچا کر بولا۔ اور تیزی سے سیاہ بادل کی طرف بڑھا۔ دھوئیں کے اس بادل کو دیکھ کر مجمع میں بے چینی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔ اور سب دھوئیں کے اس بادل پر جھپٹ پڑے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر چچا تیز گام کی تیزی نے جوش مارا اور وہ اپنی تمام تر تیزی کو کام میں لاتے ہوئے اس دھوئیں کے بادل میں بس کو تلاش کرنے لگے۔ آخر چچا تیز گام نے دھوئیں کے بادل سے بس کو ڈھونڈ نکالا۔ انہوں نے آؤ دیکھا نا تاؤ جلدی سے بس پر چھلانگ لگا دی اور پائیدان پر قدم جما کر راڈ کو پکڑنے کے لیے ہاتھ آگے پھیلائے۔ جیسے ہی چچا تیز گام کو محسوس ہوا کہ ان کے ہاتھ لوہے کے راڈ کو چھو چکے ہیں، انھوں نے تیزی سے راڈ کو پکڑ لیا، مگر یہ کیا راڈ ٹوٹ کر اُن کے ہاتھ میں آ چکا تھا۔ وہ دھڑام سے سڑک پر گر گئے تھے۔
    ’’سنبھل کر بڑے میاں۔۔! سنبھل کر۔۔‘‘
    چچا تیز گام کو گرتے ہوئے کئی آوازیں سنائی دیں۔ چچا تیز گام اپنی شیروانی جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور نئے جوش و جذبے کے ساتھ پھر بس کی طرف بڑھے۔ اس مرتبہ چچا تیز گام نے دیکھ بھال کر بس پر چھلانگ لگائی اور بس کے دروازے میں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ وہ بہت خوش تھے۔ اچانک اُن کی نظر اپنے پاؤں پر پڑی تو وہ دھک سے رہ گئے۔ اُن کے جوتے پاؤں سے نکل کر سڑک پر گر گئے تھے۔ وہ افسوس سے ہاتھ بھی نہ مل سکے، ہاتھ ملنا اُن کو زمین سے مِلنے پر مجبور کر سکتا تھا۔ کیوں کہ ہاتھوں سے تو انہوں نے راڈ کو پکڑ رکھا تھا۔
    ’’بزرگو! دروازے پر مت لٹکو اندر چلو۔ ‘‘ بس کے اندر سے کنڈیکٹر کی غصیلی آواز سنائی دی۔
    ’’لیکن بھائی صاحب اندر جگہ کہاں ہے؟‘‘
    چچا تیز گام حیرت سے بس کے اندر دیکھتے ہوئے بولے۔ کیونکہ بس میں مسافر بیٹھے ہوئے نہیں بلکہ ٹھونسے ہوئے تھے۔ کنڈیکٹر نے اُن کو کو ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر پوری قوت سے انہیں بس کے اندر دھکا دیا۔
    ’’لاؤ ٹکٹ کے پیسے نکالو۔۔‘‘ کنڈیکٹر کی گرج دار آواز بس میں گونجی۔
    چچا تیز گام نے پیسے نکالنے کے لیے ہاتھ اپنی شیروانی کی جیب کی طرف بڑھایا اور جیب میں پیسے ٹٹولنے لگے۔
    ’’ہی ہی ہی۔۔ ہا۔۔ہا۔۔ہا۔ ‘‘ چچا تیز گام کو اپنے دائیں جانب سے بے ہنگم قہقہے سنائی دئیے۔
    ’’بڑے میاں گدگدی تو نہ کرو۔ ‘‘ قہقہوں کی جانب سے کوئی اُن سے مخاطب ہوا۔ تب انہیں معلوم ہوا کہ اُن کا ہاتھ اپنی شیروانی کی جیب کی بجائے برابر کھڑے ایک چھوٹے قد والے پہلوان کی بغل میں تھا۔
    ’’مم۔۔ معاف کیجئے گا۔ وہ۔۔ وہ میں دراصل روپے نکال رہا تھا۔ ‘‘چچا تیز گام شرمندہ سے ہو کر بولے۔
    ’’کیا!‘‘ پہلوان چلا اٹھا۔ پہلوان نما آدمی کی چیخ اتنی خوف ناک تھی کہ دروازے پر لٹکے ایک کمزور دل صاحب کسی پکے ہوئے پھل کی طرح چچا تیز گام پر ٹپک پڑے۔ وہ مسافروں سے بھری بس میں عملی طور پر مرغا بن گئے۔
    ’’اچھا….. ! تو تم میری جیب سے پیسے نکال رہے تھے۔ ‘‘ پہلوان چچا تیز گام کو گھورتے ہوئے بولا۔
    ’’یہ آپ سے کس نے کہہ دیا، میں تو اپنی جیب سے پیسے نکال رہا تھا ٹکٹ کے لیے۔ ‘‘ چچا تیز گام جل بھُن کر بولے۔ ان پر گرنے والے صاحب کافی صحت مند تھے۔ وہ ٹھہرے دھان پان سے آدمی۔ اُن کا کچومر نکلا جا رہا تھا۔

    ’’اوہ۔۔ میں کچھ اور سمجھا تھا۔ ‘‘ پہلوان پُرسکون لہجے میں بولا جب کہ چچا تیز گام مرغے سے دوبارہ انسانوں والی حالت میں آنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی اثنا میں کسی مسافر کی جلتی ہوئی سگریٹ ان کی شیروانی میں ایک عدد سوراخ کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی۔ بدحواسی میں چچا تیز گام نے ہاتھ پیچھے کی جانب بڑھایا تو ان کا ہاتھ پیچھے کھڑے ایک مسافر کے منہ میں جا گھسا وہ مسافر شاید جمائی لے رہا تھا۔ اس نے غضب ناک ہو کر چچا تیز گام کے ہاتھ کو بھنبھوڑ ڈالا۔ چچا تیز گام نے گھبرا کر تیزی سے جو اپنا ہاتھ کھینچا تو وہ ’’چٹاخ‘‘ کی آواز کے ساتھ ایک مسافر کے گال سے ٹکرایا۔ وہ مسافر پہلے ہی بہت سے مسافروں کے درمیان پھنسا ہوا تھا اس لیے چچا تیز گام کو کچھ کہہ نہ سکا۔
    ’’گلاب نگر کے تمام مسافر دروازے پر آ جائیں۔ ‘‘ اچانک کنڈیکٹر نے ہانک لگائی۔ اس وقت چچا تیز گام کو کنڈیکٹر کی آواز بہت بھلی معلوم ہوئی تھی اور ان کی جان میں جان آ گئی۔ شیر محمد نے اپنے گاؤں کا نام ’’گلاب نگر‘‘ ہی بتایا تھا۔ چچا تیز گام نے احتیاطاً اپنی جیب سے کاغذ کا وہ ٹکڑا بھی نکال لیا۔ جس پر شیر محمد نے اپنا پتہ لکھ کر دیا تھا۔ اب مسئلہ تھا بس سے نکلنے کا۔ جیسے تیسے کر کے چچا تیز گام بس کے دروازے تک آئے۔ وہ تیزی سے بس سے اترنے کے لیے آگے بڑھے اور بس سے چھلانگ لگا دی۔ لیکن وہ ہوا میں جھول کر رہ گئے۔ انہوں نے مڑ کر پیچھے دیکھا تو اُس پہلوان نما آدمی نے اُن کو گردن سے پکڑا ہوا تھا۔ چچا تیز گام نے تشکر آمیز نظروں سے اُس کی طرف دیکھا۔ کیوں کہ بس ابھی چل رہی تھی۔ اگر وہ چچا تیز گام کو نہ پکڑتا تو اُن کی ہڈی پسلی ایک ہو جانی تھی بس رُکی تو اُس نے چچا تیز گام کو کسی کھلونے کی مانند زمین پر رکھ دیا۔ بس سے اتر کر انھوں نے جو اپنی مٹھی کھولی تو پتے والی پرچی غائب تھی۔ بس سے نکلنے کی جدوجہد میں پرچی ہاتھ سے گر گئی تھی۔ پرچی کو ڈھونڈنے کے لیے چچا تیز گام نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی، لیکن انہیں پرچی نہ ملی۔ دائیں طرف انہیں ’’گلاب نگر‘‘ کا بورڈ نظر آیا۔ چچا تیز گام نے اُسی سمت چلنا شروع کیا۔ انہیں سڑک پر چلتے ہوئے ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ آگے جا کر وہ سڑک دو رویہ ہو گئی۔ اب وہ شش و پنج میں پڑ گئے کہ گلاب نگر کو کون سا راستہ جاتا ہے؟ قریب ہی ان کو ایک گڈریا نظر آیا۔ چچا تیز گام اس کی طرف چل دئیے۔

    ’’بھائی! گلاب نگر کو کون سا راستہ جاتا ہے؟‘‘ چچا تیز گام نے پوچھا۔
    گڈریا جو کہ آنکھیں بند کیے کچھ گنگنا رہا تھا۔ اُس نے آنکھیں کھول کر چچا تیز گام کی طرف دیکھا تو ’’بھوت۔۔ بھوت‘‘ کہتے ہوئے ایک طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ چچا تیز گام اُسے پکارتے ہی رہ گئے۔ چچا تیز گام نے جو اپنے سراپے پر نظر دوڑائی تو انہیں اپنا آپ کسی بھوت سے کم نظر نہ آیا۔ اُن کی شیروانی کسی گداگر کی گدڑی کا منظر پیش کر رہی تھی۔ شیروانی پر جا بجا داغ ہی داغ نمایاں تھے۔ اور سگریٹ سے جلے ہوئے نشان ہوا دار جالی کا منظر پیش کر رہے تھے تو کہیں پان کے دھبے رنگینی میں اضافہ کر رہے تھے۔ اُن کی غبار آلود داڑھی سے بہت سے تنکے دست و گریباں تھے۔
    گڈریے سے مایوس ہو کر وہ دوبارہ اس جگہ آ گئے جہاں سے راستہ دو حصوں میں تقسیم ہو رہا تھا۔ اور اپنا سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گئے۔ اتنے میں ایک بیل گاڑی والا وہاں سے گزرا۔
    ’’بھائی صاحب! یہ راستہ کہاں جاتا ہے؟‘‘
    ’’کیا بات کرتے ہو بڑے میاں۔۔! بھلا راستے بھی کہیں جاتے ہیں۔ یہ راستہ تو کہیں نہیں جاتا۔ اسی جگہ پڑا رہتا ہے۔ ‘‘ اس نے حیرت سے چچا تیز گام کی طرف دیکھا۔
    ’’اچھا تو پھر یہ بتا دو کہ گلاب نگر کا راستہ کون سا ہے؟‘‘
    ’’یہ راستہ گلاب نگر کا ہی ہے۔ کیوں آپ نے گلاب نگر جانا ہے۔۔؟‘‘ اُس نے پوچھا۔
    ’’جی ہاں ……!‘‘
    ’’وہاں کس کے گھر جانا ہے۔۔؟‘‘
    ’’گلاب نگر میں ہمارے ایک دوست رہتے ہیں شیر محمد اُن کے پاس جانا ہے۔۔‘‘
    ’’اوہ۔۔ تو آپ چوہدری صاحب کے مہمان ہو آ جاؤ۔۔ بھئی۔ میرے ساتھ ہی آ جاؤ میں گلاب نگر ہی جا رہا ہوں۔ ‘‘ اُس نے چچا تیز گام کو اپنے ساتھ ہی بیل گاڑی پر بٹھا لیا۔ گاؤں پہنچ کر اُن کو شیر محمد کا گھر تلاش کرنے میں بالکل بھی دقّت نہ ہوئی۔
    محلے کے بچے انہیں یوں اول جلول بنے دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ جیسے ہی چچا تیز گام اُن کے گھر کے سامنے پہنچے تو اُن کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ کیوں کہ شیر محمد کے گھر کے دروازے پر بڑا سا تالا لگا ہوا تھا۔ ہمسائے نے انہیں بتایا کہ شیر محمد اور اُن کے گھر والے ایک شادی میں کراچی گئے ہوئے ہیں۔ یہ سن کر چچا تیز گام اپنا سر پکڑ کر رہ گئے۔ انہوں نے گھر سے نکلتے ہوئے تیزی میں شیر محمد سے رابطہ بھی نہیں کیا تھا اور وہ بغیر اطلاع کیے چلے آئے تھے۔ انہیں یوں تو گڑ اور آم ہر طرف دکھائی دے رہے تھے، مگر یہ دونوں چیزیں اُن کی پہنچ سے دُور تھیں۔۔۔بہت دور۔۔
    ٭٭٭
     
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    یہ آپ کی تحریر ہے؟
     
  3. غلام نبی نوری

    غلام نبی نوری نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    70
    جی ہاں ۔ ماہنامہ تعلیم تربیت لاہور مین بھی شایع ہوتی ہے
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    بہت عجیب بات ہے تعلیم و تربیت میں اس کے مصنف کا نام فہیم عالم لکھا ہوتا ہے۔ علم وعرفان پبلشرز لاہور نے جو کتاب " چچا تیز گام" کے عنوان سے شائع کی ہے اس پر بھی مصنف کا یہی نام درج ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. غلام نبی نوری

    غلام نبی نوری نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    70
    تو آپ یہ پوچھیں نا کہ فہیم عالم کوں ہین
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    آپ کو آخری تنبیہ کی جا رہی ہے کہ دوسروں کی تحریر اپنے نام سے مت شئیر کریں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں