ومامحمد الا رسول قدخلت من قبلہ الرسل افائِن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم قادیانی استدلال

غلام نبی نوری نے 'متفرقات' میں ‏اپریل 27, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. غلام نبی نوری

    غلام نبی نوری نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    70
    قادیانی استدلال
    اس آیت میں قادیانی گروہ خلو کو بمعنی موت لیتا ہے اور من قبلہٖ کو الرسل کی صفت مانتا ہے اور الرسل پر لام استغراق مانتا ہے۔ اس لئے استدلال کا حاصل یہ ہوا کہ جب محمدﷺ سے پہلے سب رسول فوت ہوچکے ہیں۔ تو بس مسیح علیہ السلام بھی ان میں آگئے۔
    جواب… خلت، خلو سے مشتق ہے۔ جس کے لغوی معنی مکان سے متعلق ہونے کی صورت میں جگہ خالی کرنے کے اور زمان سے متعلق ہونے کی صورت میں گزرنے کے آتے ہیں اور جن چیزوں پر زمانہ گزرتا ہے۔ ان کو بھی تبعاً خلو سے موصوف کردیتے ہیں۔
    مثالیں
    ۱… ’’واذا خلوا الی شیاطینھم (بقرہ:۱۴)‘‘
    ترجمہ: ’’اور جب خلوت میں پہنچتے ہیں اپنے شریر سرداروں کے پاس۔‘‘
    ۲… ’’بما اسلفتم فی الایام الخالیۃ (حاقہ:۲۴)‘‘
    ترجمہ: ’’ان اعمال کے صلہ میں جو تم نے بامید صلہ گزشتہ ایام میں کئے ہیں۔‘‘
    ۳… ’’تلک امۃ قدخلت (بقرہ:۱۴۱)‘‘
    ترجمہ: ’’یہ ایک جماعت جو گزرچکی۔‘‘ (بیان القرآن)
    بہرحال خلو کے معنی جگہ خالی کرنا خواہ زندہ گزر کر یا موت سے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ ہٹ جانا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے دلائل قطعیہ ہوتے ہوئے اس کو موت کے معنی میں لینا تحریف ہی تو ہے۔
    جواب… من قبلہ الرسل کی صفت نہیں ہے۔ جس کے بعد معنی یہ ہوں کہ محمد سے پہلے کے تمام پیغمبر مرگئے۔ کیونکہ یہ الرسل سے مقدم ہے۔ بلکہ یہ خلت کا ظرف ہے۔ اب صحیح معنی یہ ہیں کہ محمدﷺ سے پیشتر کئی رسول گزرچکے۔
    ’’الرسل‘‘ پر لام تعریف جنس کا ہے۔ کیونکہ استغراق کے معنی لینے کی صورت میں آیت کے جملوں میں تعارض لازم آئے گا۔ بایں طور کہ وما محمد الا رسول سے حضورﷺ کی صفت رسالت ثابت کی اور جب خلت من قبلہ الرسل میں الرسل استغراق کے لئے ہوا، اور من قبلہ کا ظرف ہونا ثابت ہوہی چکا۔ تو اب ترجمہ یہ ہوگا کہ: جتنے اشخاص صفت رسالت سے موصوف تھے۔ محمدﷺ سے پہلے فوت ہوچکے ہیں۔ اس سے نعوذباﷲ آپﷺ رسول برحق ثابت نہیں ہوں گے۔ اس لئے لام جنس ماننا ضروری ہے۔
    جواب… اور اگر ’’ علی سبیل التنزل‘‘ قادیانی گروہ کی تینوں باتیں مان لی جائیں۔ تو بھی اس سے زیادہ سے زیادہ رسل کے عموم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوگی۔ نہ کہ بطریق خصوص اور اس صورت میں یہ آیت ان کی دلیل بننے کے قابل نہیں رہے گی۔ کیونکہ علم اصول کی کتابوں میں اس قاعدہ مسلمہ کی تصریح ہے کہ کوئی امر خاص دلیل (تخصیص منقولی)سے ثابت ہو تو اس کے خلاف عام دلیل سے تمسک کرنا جائز نہیں ہے اور یہاں دلائل قطعیہ مخصوصہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت کی جاچکی ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں