اولاد دینا یا نہ دینا اللہ تعالی ہی کی مرضی پر منحصر ہے

بنت امجد نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏مئی 3, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,568
    بسم اللہ الرحمن الرحیم​

    اولاد دینا یا نہ دینا اللہ تعالی ہی کی مرضی پر منحصر ہے

    ارشاد باری تعالی ہے :

    ''جسے چاہے (صرف ) بیٹیاں عطاکرتا ہے اور جسے چاہے (صرف ) بیٹے عطا کرتا ہےیا انہیں بیٹیاں اور بیٹے ملا کر دیتا ہے اور جسے چاہے بے اولاد رکھتا ہے ۔ بے شک وہ خوب جاننے والا ، بہت قدرت والا ہے ۔''

    اللہ تعالی نے آگاہ فرمایا ہے کہ ہوتا وہی ہے جو وہ چاہے اور اگر وہ نہ چاہے تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ وہ جسے چاہے عطا کرتا ہے اور جسے چاہے محروم کر دیتا ہے ۔ اور اس سے اپنے عطیے روک لیتا ہے اور جو کچھ وہ عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو وہ روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور وہ جو صنف چاہے اسے پیدا کرنے والا ہے ۔

    ارشاد باری تعالی ہے : (یھب لمن یشاء اناثا ) یعنی جسے چاہے صرف بیٹیاں عطاکرتا ہے ۔

    امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : لوط علیہ السلام انھی افراد میں سےتھے ۔

    ( ویھب لمن یشاء الذکور ) ‘‘ اور جسے چاہے صرف بیٹے عطا کرتا ہے ۔’’

    امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام تھے کہ ان کے ہاں کوئی بیٹی پیدا نہیں ہوئی ۔

    ( او یزوجھم ذکرانا و اناثا ) ‘‘ یا جسے چاہے بیٹے اور بیٹیاں ملے جلے عطا فرماتا ہے ۔ ’’

    امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم

    ( ویجعل من یشاء عقیما ) ‘‘ اور جسے چاہتا ہے اولاد سے محروم رکھتا ہے ۔ ’’

    جیسا کہ حضرت یحی اور حضرت عیسی علیہ السلام تھے ۔

    گویا رب العزت نے لوگوں کو اولاد کے معاملے میں چار اقسام میں منقسم کر دیا ۔

    ایک طبقہ وہ جسے صرف بیٹیاں دیں ۔

    ایک گروہ وہ جسے صرف بیٹے دیے۔

    کچھ لوگوں کو بیٹے بھی دیے اور بیٹیاں بھی عطا فرمائیں ۔

    بعض کو بے اولاد رکھا بیٹے دیے نہ بیٹیاں بلکہ ان کی نسل ہی منقطع کر دی ۔

    (انہ علیم ) یعنی عالم الغیب ہی جانتا ہے کہ کون شخص اولاد کی ان اقسام میں سے کس قسم کا مستحق ہے ۔

    ( قدیر ) یعنی لوگوں کو مختلف قسموں میں تقسیم کرنا اس کی قدرت کا مظہر ہے ۔ وہ اپنی مرضی سے لوگوں کو مختلف انواع میں تقسیم فرماتا ہے ۔ اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ اور وہ اپنے علم اور مہارت کے ذریعے سے تمام اشیاء میں اور اپنی قدرت کے ذریعے سے تمام مخلوقات میں تصرف کرتا ہے ۔

    آیت مذکورہ میں اللہ تعالی نے عورتوں کو مردوں سے مقدم رکھا ہے ۔ اس کی توجیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ لڑکیوں کی شرح پیدائش کیونکہ لڑکوں سے زیادہ ہے ۔ اس لیے ان کے ذکر کو مقدم کیا گیا ہے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑکیوں کے والدین کی دلی تسکین اور اطمینان کے لیے ایسا کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ بھی کئی قول منقول ہیں ۔ لفظ ( الذکور ) کو معرفہ لایا گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ایسا مردوں کے عورتوں پر شرف کے اظہار کے لیے کیا گیا ہے ۔

    امام بغوی نے بطور مثال ہر قسم کے ایک ایک فرد کا ذکر کیا ہے ورنہ یہ قانون تو تمام انسانیت پر محیط ہے اور مختلف لوگوں کو مذکورہ عطیات ۔ یعنی اولاد میں سے کوئی نہ کوئی عطیہ ملتا ہے ۔
    (تفسیر البغوی)​
    کتاب "خواتین کے لئے 80 احکام قرآن " سے اقتباس
    مصنف: علامہ محمد صدیق حسن خان بھوپالی رحمہ اللہ ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  2. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    بہت آسان سی بات ہے لیکن حیرت کی بات ہے لوگ ( خصوصی طور پر قریبی عزیز) یہ بھول جاتے ہیں کہ اولاد اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے اور نعمتوں پر ہم اپنا حق جتا کر لے نہیں سکتے۔مل جائے تو الحمد اللہ ،نہ ملے تو بھی صبرو شکر ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    بے شک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں