مدارس جہالت کی فیکٹریاں ہیں !! حکومتی ترجمان کا پالیسی بیان؟؟؟

محمد عامر یونس نے 'خبریں' میں ‏مئی 7, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    مدارس جہالت کی فیکٹریاں ہیں !! حکومتی ترجمان کا پالیسی بیان؟؟؟

    محمد عاصم حفیظ

    وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے ارشاد فرمایا ہے کہ مدارس جہالت کی فیکٹریاں ہیں. ان میں پڑھنے والے پچیس لاکھ سے زائد طلبہ نفرت اور جہالت کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں. پرویز رشید صاحب عام طور پر انتہائی دھیمے انداز میں گفتگو کرتے ہیں لیکن اپنی اس تقریر میں وہ کافی پرجوش دیکھائی دئیے اور اسی جوش خطابت میں جہنم اور موت کے بعد اسلامی عقائد کو بھی طنز کا نشانہ بناتے رہے. کراچی کے کلچرل سینٹر میں ہونیوالی اس گفتگو میں انہوں نے مدارس . علما اور دینی طبقے کو خوب لتاڑا اور انہیں جہالت کے علمبردار قرار دیا. ہم تو ابھی تک یہی سمجھتے رہے کہ مدارس میں قرآن و حدیث کے علوم ہی سیکھائے جاتے ہیں لیکن بھلا ہو وفاقی وزیر کا کہ جنہوں نے نہ صرف پوری قوم بلکہ دنیا بھر کی اصلاح کر دی ہے. وفاقی وزیر اطلاعات ملک کا آفیشل ترجمان ہوتا ہے. ایک سادہ سا سوال ہے کہ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ترجمان کو یہ زیب دیتاہے کہ وہ اس اساس اور نظریے کو تنقید کا نشانہ بنائے کہ جس کی بنیاد پر یہ مملکت قائم کی گئی تھی.

    ایک اور اہم سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات حکومت کا پالیسی بیان جاری کرتا ہے تو کیا اب نواز حکومت کی پالیسی یہی ہو گی. بہت سی فارن فنڈڈ این جی اوز اور بیرونی قوتیں تو پہلے مدارس اور دینی طبقے کے خلاف بھرپور طریقے سے سرگرم ہیں . ان کا بھی تو یہی موقف ہے کہ جہالت کے ان مراکز کو بند کر دینا چاہیے بلکہ بہت سے تو مشرف صاحب کے مشہور زمانہ عسکری آپریشن کے نظریے کو ہر روز برپا ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں یعنی مدارس پر بمباری کرکے ان کو اڑا دینا چاہیے. اور کچھ ہو نہ ہو پرویز رشید صاحب نے اپنے ارشادات عالیہ سے اس طبقے کو ایک” روحانی خوشی “ ضرور دی ہے. اور جہاں تک دینی طبقے پر اس حکومتی بیان کے اثرات کی بات ہے تو وہ بیچارے حکومت کا کیا بگاڑ لیں گے. ان کی بے وقوفی اور سادہ دلی کی انتہا تو یہ ہے کہ وہ نواز لیگ کو دائیں بازو اور اسلامی ذہن والی پارٹی سمجھتے ہیں. سینیٹر صاحب نے اپنے اس دھواں دھار بیان سے ایک خاص طبقے . سیکولر ذہنیت والے دانشوروں اور بیرونی آقاوں کو تو خوش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن شائد انہیں احساس نہیں کہ ایسے بیانات اخبارات اور ٹی وی چینلز پر توشائد کچھ دیر کے لئے نمودار ہوتے ہیں لیکن دلوں میں بہت دیر تک زندہ رہتے ہیں . یہ ہر جگہ پہنچتے ہیں حتی کہ وہاں بھی کہ جہاں بعض نوجوانوں کی زہن سازی کی جا رہی ہوتی ہے کہ یہ ریاست کفار سے ملکر اسلام پسندوں کو کٹہرے میں لا رہی ہے. وفاقی وزیر کے اس قدر غیر ذمہ دارانہ بیان سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ آپ نے ایک ہی سانس میں سارے کے سارے دینی طبقے کو جاہل اور مدارس میں پڑھائے جانیوالے علوم دینیہ کو جہالت کا علم قرار دے دیا. سوال یہ بھی ہے کہ جب بیرونی طاقتیں ان جہالت کے مراکز کو ختم کرنے کا مطالبہ کریں گی تو تب حکومت کا موقف کیا ہوگا . وفاقی وزیر صاحب کو شائد احساس نہیں کہ انہوں نے ان علما و سکالرز کے لئے کس قدر مشکل کھڑی کر دی ہے کہ جو گمراہ اور ریاست مخالف بنتے نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ ریاست کفار کی آلہ کار نہیں اس ملک کی اساس اور نظریہ اب بھی اسلام ہی ہے جبکہ دینی طبقے کو دیوار سے لگانے کی بات درست نہیں. لیکن جب حکومتی ترجمان ہی دینی علوم کو جہالت قرار دیں تو پھر اس سے بڑھ کر اور کیا بدقسمتی ہو گی. غلطیاں،کوتاہیاں، غلط فہمیاں تو ہر جگہ موجود ہیں جبکہ کچھ گروہوں کی سرگرمیوں کی سزا پورے طبقے کو دینا کونسی دانشمندی ہے۔ کیا وفاقی وزیر یہ چاہتے ہیں کہ ان مدارس کو بند کر دیا جائے اور ان پچیس لاکھ طلبہ کو ”جاہل “بنانے اور مساجد کی خدمت اور قرآن و حدیث کی تعلیم کے فروغ کے لئے مصروف رکھنے کی بجائے آزاد چھوڑ دیا جائے وہ جہاں مرضی جائیں چاہے وہ ان گروہوں سے جا ملیں کہ جو اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ ریاست کے رویوں اور اس کے دینی
    طبقے کے خلاف اقدامات کے جذبات سینے میں سمائے بہت سے نوجوان ان کے ساتھی بنیں اور پھر شائد ایسے ہی کچھ شدت پسند وہ بھی ہوتے ہیں کہ جو اپنی غلط فہمیوں اور جذبات کو کچھ حد تک لے جاتے ہیں کہ جن سے پھر کئی ” سانحہ پشاور “ جنم لیتے ہیں ۔

    یہ تین مئی کی ویڈیو ہے ، غالبا "آج" نیوز پر آئی ہے - ایک لنک یہ ہے چیک کرکے دیکھ لیں ۔
    http://stayconnecting.com/tag/pervaiz-rasheed-media-talk-3-may-
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    "رجل رشيد" اور پرویز رشید

    یہ دو تصویریں ہیں .دو منظر ہیں . ایک تصویر میں چالیس سالہ علمی تجربہ بولتا ہے سچائی چھلکتی ہے . اور دوسری تصویر و منظر میں چالیس سالہ عقل و دانش کا دیوالیہ و جنازہ چیختا ہے .پہلی تصویر ...کراچی کا مدرسہ جامعة الرشيد ...تقریب دستار بندی ...فراغت پانے والے طلبہ کے اعزاز میں ....اسٹیج پر تشریف لاتے ہیں پروفیسر ضابطہ خان شینواری ... پاکستان اکیڈمی آف سائنسز اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری ...مجمع میں نگاہ ڈالتے ہیں ...مجمع نورانی چہروں سے بهرا ہوا. ... سر پر عمامے .....چہروں پر متانت وقار اور سنت رسول. ...تن پر پاک وصاف کردار کی طرح سفید لباس (آگے ہمارے دوست اور صحافی عبدالجبار ناصر کی زبانی آنکهوں دیکها حال سنیے ) پروفیسر صاحب گویا ہوتے ہیں . "میں تین یونیورسٹیوں کا وائس چانسلر رہا ، ہائیر ایجوکیشن کے شعبہ الحاق کا اہم زمہ دار ہوں اور میرا طویل تجربہ و تحقیق هے ، جس کی بنیاد پر یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ جامعة الرشيد کا نظام تعلیم و تربیت اور دیگر شعبوں میں معیار کے حوالے سے پاکستان کی 80 فیصد یونیورسٹیوں سے بہتر ہے ." یہ ایک تصویر تهی ...ذکر ایک مدرسہ کا تها ... بولنے والے تجربہ رکهنے والی ایک ہستی ... ایک رجل رشید ...اس تصویر کو ناصر صاحب کے شکریہ کے ساتهه یہی سنبھال رکهو...آپ کو دوسری تصویر دکهاتا ہوں .دوسری تصویر آرٹ کونسل کراچی کی هے .وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید اسٹیج پر آتے ہیں . مدارس کو لتاڑنا شروع کرتے ہیں .مدارس جہالت کی فیکٹریاں ہیں .مدارس میں زیر تعلیم لاکهوں طلبہ جہالت و نفرت کی تعلیم حاصل کرتے ہیں .لوگوں کو تقسیم کرنے کا درس یہی سے ملتا ہے .موصوف نے لگے ہاتهوں اخروی زندگی کی سچائیوں اور احوال پر لکهے گیے لیٹریچر کا بهی مذاق اڑایا .!!

    پرویز رشید صاحب یہ وہی صاحب ہیں .جب کچهه عرصہ پہلے اسلام آباد میں علماء کونسل کے زیر اہتمام گستاخانہ خاکوں کے خلاف کنونشن ہورہا تها تو یہ موصوف حکومتی نمائندہ اور مہمان خصوصی وہاں شریک تهے اپنی تقریر کے دوران میں مسلمانوں پر ہی برس پڑے .جس پر دوران تقریر ہی پی ٹی آئی راہنما فیاض الحسن چوہان ،پرویز رشید کی کلاس لینے لگے اور بہت بے مزگی ہوئی .!

    مختصر یہ کہ:
    --پرویز رشید صاحب پاکستانی قوم اور مسلمانوں کے ترجمان ہیں یا پهر انگریزوں و غیر ملکی این جی اوز کے ؟
    --مدارس میں زیر تعلیم پچیس لاکهه سے زائد طلبہ پر جہالت کا فتوی لگاکر ، ان کے جذبات مجروح کرکے موصوف خود نفرت پهیلانے کا کیا مرتکب نہیں ہوا ہے .؟

    --پاکستان میں تکفیری و خارجی فکر بہت تیزی سے پروان چڑهه رہی ہے جو اس حکومت اور نظام کو کفر اور غیروں کا آلہ کار سمجهتے ہیں .اپنے بیان سے پرویز رشید صاحب نے تکفیریوں کو اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکهنے میں آسانی ،دلیل و مدد نہیں کی ہے کیا ؟

    --مدارس، نظریہ پاکستان کے قلعے اور محافظ ہیں .پرویز رشید صاحب حکومتی ترجمان ہیں انہوں نے اس اساس کو کمزور کرنے کی کوشش کی هے یہ ان کی ذاتی خرافات ہیں یا پهر حکومتی پالیسی ؟

    --کیا قوم کو لسانیت ،علاقائیت اور صوبائیت پر تقسیم بهی مدارس نے کیا هے .؟

    -- قومی اسمبلی کے تهیٹر پر کهڑے ہوکر اپنے سیاسی حریفوں پر بازاری جملے کسنا ، کچهه شرم ہوتی هے کچهه حیا ہوتی هے .
    صبح دوپہر شام ٹاک شوز میں سیاسی اکهاڑا لگاکر قوم کو ہیجان میں مبتلا کرنا انہیں تقسیم کرنا یہ سب کام بهی مدارس کرتے ہیں ؟

    --اب بس ایک ہی حل رہ گیا ہے جہالت کی ان یونیورسٹیوں و فیکٹریوں کو دانش گاہوں میں تبدیل کرنے کا کہ پرویز رشید و رحمان ملک جیسے لوگوں کے ان فیکٹریوں میں لیکچرز رکهے جائیں تاکہ یہ" اہل دانش" اہل مدارس کو سکھاسکیں کہ "قل هو الله " کیسے پڑها جاتا ہے .!!

    فردوس جمال
    (مدینہ یونیورسٹی -مدینہ منورہ)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    بڑا ہی غیر ذمہ دارانہ بات کی ہے ۔ شاید شیخ خالد الغامدی کی سینٹ میں حاضری سے تکلیف ہوئی ۔ مرزائیوں کا سعودیہ میں داخلہ ممنوع ہے اور آل سعود کو آزادی ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    مولانا الیاس چنیوٹی کا الزام کہ پرویز رشید قادیانی ہے ـ اس کی وجہ انہوں نے ذکر کی ہے کہ میں نے پرویزرشید کو ووٹ کیوں نہیں دیا ـ

    11256564_1111567662205999_654292404715901333_n.jpg
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
  6. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    مفتی نعیم نے پرویز رشید کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا

    تحریر: ejaz ul aminMay 9, 2015 02:24


    کراچی : ممتاز عالم دین مفتی نعیم نے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر حکومت سے پرویز رشید کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق مدارس کو جہالت کی یونیورسٹیاں قرار دینا وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید کے گلے پڑ گیا، مفتی نعیم نے پرویز رشید کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے آرٹس کونسل کراچی کی تقریب میں قدیم و جدید تعلیم کا تقابل بیان کرتے ہوئے مدارس کو جہالت کی فیکٹریاں قرار دے دیا تھا۔

    کتابوں کی بات کرتے ہوئے پرویز رشید نے جوش خطابت میں موت کے بعد کے اسلامی عقائد کو بھی طنز کا نشانہ بنا ڈالا۔ علما نے پرویز رشید کے بیان پر شدید تنقید کی ہے۔

    اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے ممتاز عالم دین مفتی نعیم نے پرویز رشید کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔ مفتی نعیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پرویز رشید کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔

    http://www.arynews.tv/ud/archives/93363
     
  7. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    جی ہاں پرویز رشیدکا نکاح پڑھانے شاید کوئی آکسفارڈ یونیورسٹی کا پروفیسر آیا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  8. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ شہید کا زبردست جواب جو آج کے زمانے میں پرویز رشید پر مکمل فٹ آتا ہے۔
    آپ بھی سن کر حیران رہ جائیں گے۔ایسا ری ایکشن کے آپ سن کر شیئر کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
    ویسے حقیقت بھی یہی ہے ۔جو علامہ شہیدؒ نے جواب دیا ہے یہی ہر ایک پاکستانی کی سوچ ہے۔



    https://www.facebook.com/766353170053688/videos/vb.766353170053688/944301648925505/?type=2&theater
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    • ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " بندہ كوئى كلمہ نكالتا ہے جس پر غور نہيں كرتا جس سے وہ آگ ميں گر جاتا ہے جو مشرق كے درميان فاصلہ سے بھى زيادہ ہے "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 6477 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2988 ).


    • اور ترمذى كى روايت ميں ہے:

    " آدمى كوئى كلمہ كہتا ہے جس ميں كوئى حرج نہيں سمجھتا اور وہ اس كى بنا پر ستر برس تك آگ ميں جا گرتا ہے "

    سنن ترمذى حديث نمبر ( 2314 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.


    • اور بلال مزنى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " تم ميں كوئى ايك ايسا كلمہ كہتا ہے جو اللہ كى ناراضگى كا باعث ہوتا ہے، اور وہ اس كے متعلق گمان بھى نہيں كرتا كہ وہ اسے كہاں لے جائيگا، تو اللہ تعالى اس كے باعث قيامت تك ناراضگى لكھ ديتا ہے "

    سنن ترمذى حديث نمبر ( 2319 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں صحيح قرار ديا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    ہممم، دو بار اس تھریڈ کو اوپن کیا ـ سامنے احادیث نظر آئیں میں سمجھا کہ شاید کسی اسلامی زمرہ میں آگیا ہوں ـ پھر بند کردیا ـ
    بہرحال کیا کوئی ایسی دلیل موجود ہے جس معلوم ہو کہ پرویز رشید قادیانی ہے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  11. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    2010 میں " لمز یونیورسٹی " جانے کا اتفاق ہوا ۔ ایک بہت قریبی دوست وہاں طالب علم تھا جناب بولے کہ آؤ تمہیں ماحول دکھا کر لاؤں۔۔
    یونیورسٹی جانا تو اس نے کچھ کاغذات لینے تھا لیکن کچھ ریفریشمنٹ کے لیے
    کیفے ایریا میں بیٹھ گیا ۔ دیکھتا کیا ہوں !
    کہ ایک " لڑکی اور ایک لڑکا " ایک ہی بوتل میں دو سٹرا ڈالے آمنے سامنے بیٹھے مسکراتے ہوئے پی رہے ہیں ۔ کیفے سے باہر آئے تو تھوڑا آگے ایک ہجوم سا بنا ہوا تھا ، دیکھتا ہوں " دو نوجوان لڑکیاں " کسی انگلش گانے پر ڈانس کر رہی ہیں ، اور ایک نوجوان لڑکا جو شکل سے لڑکی لگتا تھا اس نے ہاتھ میں " منی سٹیریو "
    سسٹم پکڑا ہوا ہے ۔
    اور خاتون " سیگریٹ " پی رہی ہے ۔ میں حیرانگی سے اپنے دوست سے پوچھا
    کہ بھائی یہ کیا ہو رہا ہے ، تو موصوف بولے یہ لڑکی یونیورسٹی کی جان ہے ، یہ روزانہ یونیورسٹی کے اوقات میں ایک سیگریٹ " گردا " سے بھرا ہوا پیتی ہے ۔۔۔
    اور ایسی بی بی ہے کہ اس کو نشہ بھی نہیں ہوتا ۔۔
    جناب یہ تو لمز یونیورسٹی کا ماحول ہے ، لاہور کی " جی سی یونیورسٹی "
    لاہور کی " این سی اے " اور یا پھر یونیورسٹی آف لاہور دیکھ لیں ۔ آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ کیا کیفیت ہے یہاں پر تہذیب و تمدن کے اعلی دور کی ۔۔۔۔
    میرے والد صاحب " جناح ہسپتال لاہور " میں زیر علاج تھے ، جگر کے کینسر کے باعث ان کے کچھ ٹیسٹ ایسے تھے جو اس ہسپتال سے ملحقہ " علامہ اقبال میڈٰکل کالج " کی ریسیرچ لیبارٹری سے کروانا پڑتے تھے ۔۔ اب وہاں کیا دیکھتا ہوں۔۔
    ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر زور زور سے رو رہی ہے ۔۔
    اور ایک نوجوان لڑکا شاید وہ بھی ڈاکٹر تھا اس لڑکی کے ہاتھ پکڑ کر اس کو منا رہا تھا ، اور بول رہا تھا وعدہ آئندہ میں ( فلاں ) لڑکی کے ساتھ کبھی نہیں ملوں گا ۔۔ اور وہ بول رہی تھیں مجھے نہیں پتہ میں یہاں پر تماشہ لگا دوں گی آج ہی چل کر میرے ساتھ کورٹ میرج کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں لاہور میں یونیورسٹیوں کے ایسے طالب علموں کو بھی جانتا ہوں جو تعلیمی میدان میں بہت آگے ہیں ، لیکن وہ ہم جنس پرست ہیں ۔ ایک کی تصویر بھی میرے پاس موجود ہے ۔ اگر آپ اس کی شکل دیکھیں تو وہ پورا باڈی بلڈر نظر آئے گا ۔۔ لیکن حقیقت میں جو کیڑا اس کے اندر ہے وہ شاید آپ کو یقین نہ آئے ۔۔۔۔
    " این سی اے " فنون لطیفہ سے متعلقہ شعبہ ہے ، جس میں پینٹنگ ، ڈانسنگ ، ایکٹنگ اور سنگنگ وغیرہ سیکھلائی جاتی ہیں ۔
    آپ اس شعبہ میں جا کر کسی ایک لڑکے یا لڑکی کو دیکھ لیں ، اس نے اپنا ایک آدھ ساتھی سیلیکٹ کیا ہو گا ، اور وہ سیگریٹ ، شراب نوشی عام کرتے ہوں گے۔
    یہ میں چیلنج سے کہہ رہا ہوں ۔ کچھ لڑکے اور لڑکیاں چرس اور گردا عام پیتے نظر آئیں گے۔ ان کے جسموں پر نا زیبہ قسم کے ٹیٹو بنے ہوئے ہوں گے ۔۔۔۔
    اسلام آباد کی " قائد اعظم یونیورسٹی " بھی میں دیکھ چکا ہوں ۔۔ وہاں چلے جائیں آپ کو ایک سے بڑھ کر ایک نمونہ مل جائےگا ۔
    گزشتہ دو برس پہلے " پنجاب یونیورسٹی " کے ایک پروفیسر صاحب کا سکینڈل بھی یاد ہو گا آپ کو جس کو " کامران شاہد " نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام میں بے نقاب کیا تھا کہ کس طرح وہ اپنی سٹڈنٹس کو اپنے روم سے منسلک بیڈ روم میں لے جا کر ان سے نازیبا حرکتیں کرواتا تھا ،
    یا پھر " کامران شاہد " کا وہ پروگرام جس میں ایک گروہ کو ننگا کیا گیا جو لڑکیوں کے ہاسٹل میں لڑکیوں کی سوتے ہوئے کی ویڈیوز دیکھاتا اور انٹر نیٹ پر اپلوڈ کرتا تھا ۔۔۔۔
    دو برس پہلے " شیخ زید ہسپتال " کے سامنے "اور برج " پر ایک نوجوان لڑکے نے ایک نوجوان لڑکی کو قتل کر کے خودکشی کر لی ۔ اور وہ دونوں پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم نکلے ۔۔۔ پتہ چلا کہ لیلہ مجنوں کا سین تھا ۔۔۔۔
    واہ رے پرویز رشید ! تجھے ہزاروں " حوا کی بیٹیوں " کی عزت لٹتے نظر نہیں آتی ۔
    تجھے ان نوجوانوں کا مستقبل نظر نہیں آتا جو ان اداروں میں " کو ایجوکیشن " کے نام پر تعلیم حاصل کرتے کرتے نشے ، پیار عشق بے حیائی زنا میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ تمہیں وہ نظر نہیں آتا کہ کتنی نوجوان لڑکیاں اپنے ساتھ پڑھنے والے نوجوان لڑکوں کے ہاتھوں پریگننٹ ہو گئیں!
    ان کو بس مدرسہ اور مسجد نظر آتی ہے ۔ اور روزانہ حوا کی بیٹی کی عزت کو تار تار کرنے والے بے لگام نظر نہیں آتے ۔ ان کو مدرسے کا قاری یا مدرسے کا طالب علم بد فعلی کرتا تو نظر آتا ہے ۔ لیکن یہ یونیورسٹیاں جن میں اگر نیک اور صالح نوجوان بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں تو کسی نہ کسی فتنے میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پرویز رشید کو روزانہ ہزاروں طالب علموں کا اپنے والدین کی عزتوں کو پامال کرنا نظر نہیں آتا ۔ لیکن ایک مدرسے کے قاری کا بھاگ کر نکاح کرنا بہت نظر آتا ہے ۔۔ اس دہرے معیار پر کیا کریں اور کیا کہیں ؟؟
    منافقت کا عظیم ایمبیسڈر ہے پرویز رشید ۔۔۔۔ جس نے مدرسہ کو جہالت کی یونیورسٹی کہا اور قرآن و سنت کو جہالت کا علم ۔۔۔ اس کی کتاب جب چھپے گی تو اس میں یہی لکھا ہو گا کہ اپنی ماں بہن بیٹی کو زنا کے طریقے کیسے سیکھانے ہیں ، اپنی ماں بہن اور بیٹی کو عشق کرنا کیسے سیکھانا ہے ۔ اور اپنی ماں بہن اور بیٹی کو محرم سے نہ محرم کیسے کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
    عبدالسلام فیصل ۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    کیا پرویز رشید قادیانی ہے؟؟؟
    ایک عینی شاہد نے پرویز رشید کے قادیانی ہونیکے ثبوت پیش کردئیے۔۔

    http://www.pkvoices.com/?p=6126
     
  13. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    میں سائنس کا طالب علم نہیں ہوں ۔۔۔۔۔ اس لیے ایک دن میں نے
    " ڈاکٹر اشرف آصف جلالی " صاحب جو کی بریلوی مکتبہ فکر کے عالم دین ہیں ۔
    ان کے شاگرد جنکا نام " ڈاکٹر علی حبیب " ہے اور یہ " ایم بی بی ایس " ڈاکٹر ہیں ان سے " انسانی سیل " کی ساخت بر کچھ سوالات کیے ۔۔۔۔
    ڈاکٹر صاحب! نے مجھے بہت اچھے انداز سے سمجھایا کہ سیل کیا کام کرتا ہے ۔
    لیکن جب میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ سر " چارلس ڈارون " نے جو نیچرل سیلیکشن کے حوالے سے نظریہ قائم کیا ہے کہ اربوں سال پہلے "ایک واحدسیل" Natural Selection کی وجہ سے تخلیق پایا ۔ جس کا مدد گار اس زمین میں موجود climate تھا ، اس " سیل " نے اپنے آپ کو دو میں تقسیم کیا !
    یعنی ایک سیل از خود دو میں تقسیم ہو گیا ۔ جس کا انگریزی ترجمہ ہو گا ۔۔۔۔۔۔
    a first cell divided into other Cell itself. " تو میرے آپ سے چند سوالات ہیں ۔
    (1) کوئی بھی چیز جب از خود حرکت یا کوئی عمل کرتی ہے تو اس کے پاس
    Work Sense ہوتی ہے ؟
    (2) ہر کام کرنے والی سوچ کے پاس علم ہوتا ہے کیا سیل کے پاس علم تھا ؟
    (3) اگر اس میں علم تھا تو وہ علم اس first living being Cellمیں کس نے ڈالا؟
    جواب : ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ سائنس نے ابھی تک ایسی کوئی تھیوری پیش نہیں کی جس سے پہلے سیل کا اپنے آپ کو تقسیم کرنے کا طریقہ کار اس کے اپنے ذاتی علم سے پیش کیاگیا ہو ۔۔۔۔ یقینا ! اگر یہ تھیوری کو مان بھی لیا جائے تو اس سیل کو علم دینے والا " اللہ " تھا ۔۔۔۔
    میں نے ان سے Scientific بنیادوں پر philosophical سوال کیا ۔۔۔
    اور ڈاکٹر صاحب نے اس کا Religious جواب دیا ۔۔۔۔

    یہ ہے فلسفہ ، سائنس اور مذہب (یعنی اسلام ) کا فرق ۔۔۔۔

    میں " پرویز رشید " صاحب سے سوال کرتا ہوں اور بطور "وزیر اطلاعت " ان کو چیلنج دیتا ہوں کہ کسی یونیورسٹی کے کسی پروفیسر سے میرے سوال کا جواب دلوا دیں ۔۔۔۔
    کیا سائنس نے Human intelligence کو دیکھنے اور ماپنے کا کوئی آلہ تیار کر رکھا ہے؟ اگر ہاں تو ہمیں بھی وہ دیکھا دیں ہو سکتا ہے شاید آپ نے قرآن کی 6000 سے زائد قرآنی آیات اور کم و بیش 100000 سے زائد احادیث اور 1000000 سے زائد آئمہ محدثین کے اقوال کو 50 لاکھ سے زائد طالب علموں کے دماغوں60000 ہزار سے زائد مدارس کے اساتذہ کے دماغوں کو اسی آلے سے چیک کیا ہو ؟ اور نتیجہ اخذ کیا ہو ۔۔۔۔ ؟
    نہ دنیا کا کوئی آلہ ایسا ایجاد ہو سکتا ہے اور نہ ہی آپ کا بیان درست ہو سکتا ہے۔
    یہ حالت ہے آپ کی بنائی یونیورسٹیوں کی ۔ جن کے بڑے بڑے استاد
    مجھ جیسے جاھل کے سوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہیں ۔۔۔۔۔
    اللہ کی قسم ! ایک انسانی سیل دو میں تقسیم ہو سکتا ہے ۔ اس کا جواب مدرسے کا طالب علم قرآن و سنت کی روشنی میں دے سکتا ہے ۔ لیکن پوری دنیا کی یونیورسٹیاں اور ان کے استاد اس سوال کا جواب نہیں دے سکتیں ۔۔۔

    میں ایک مدرسہ کا طالب علم ہوں ۔۔۔۔
    اور مجھے اپنی جہالت پر فخر ہے ۔۔۔۔۔

    عبدالسلام فیصل ۔۔۔۔
     
  14. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    ویسے جس طرح کا ردعمل پرویز رشید کی بات پر کیا جا رہا ہے ۔ لگتا ہے مدارس کو جہالت کی فیکٹریاں بنا کر ہی چھوڑیں گے ۔
     
  15. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    چند دنوں کی بات ہے سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔
    یہ ہم سب کی پرانی عادت ہے۔
     
  16. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    محترم پرویز رشید صاحب

    السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

    چند دن قبل آپ کی ایک تقریر کا کچھ حصہ سننے کو ملا جس میں آپ نے مدارس عربیہ کی تحقیر کی تهی ، جو انتہائی افسوسناک هے ، اسی کی بابت چند معروضات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ،
    مجهے ان معروضات کیلئے دو وجہ سے تاخیر ہوئی هے ، ایک تو یہ کہ آپ مسلم لیگ ن کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ہیں ، آپ کا فرمایا پارٹی کا پالیسی بیان ہوسکتا ہے ، چونکہ میری معلومات کے مطابق یہ مسلم لیگ کی پالیسی نہیں هے ، (جیسا کہ اکیسویں ترمیم کے وقت وزیر داخلہ چوہدری نثار صاحب کے بیانات سے واضح تها) اس تناظر میں مجهے وفاقی حکومت کی طرف سے تردیدی بیان کا انتظار تها ، دوسرا یہ کہ میں اب تک آپ کی مکمل تقریر کی تلاش میں تها تاکہ مکمل سیاق وسباق سے آگاہی ہو ، کیونکہ اکثر بعد میں کہہ دیا جاتا هے کہ میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا هے . . .

    آپ کو توبہ کی دعوت دینے کی غرض سے میں جہالت کی ان یونیورسٹیوں کا کچھ حال آپ کے سامنے رکهنا چاہتا ہوں مگر پہلے اک دل لگی ہوجائے ، وہ یہ کہ جہل کی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل مولانا فضل الرحمن تو آپ کی حکومت کے سپورٹر ہیں اور اعلی فکر کی حامل یونیورسٹی کے پڑهے ہوئے عمران خان آپ لوگوں کی ''ناک'' کا بال بنے ہوئے ہیں ، اور جو زبان وہ آپ کیلئے اور آپ آئے دن آن ائر ان کیلئے استعمال کرتے ہیں اس پر آپ اور آپ کی یونیورسٹیوں کو سلام . . .

    عزیز پرویز رشید صاحب
    پاکستان بنا تو تاریخ گواہ هے کہ علماء کرام دل و جان سے قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کے شانہ بشانہ تهے ، اور یہ سرزمین ہر حوالے سے چٹیل زمین تهی ، یہاں کچھ بهی نہیں تها ، کالج نہ مدرسہ نہ تهانہ ، کچھ بهی نہیں تها . . . تعمیر وطن کیلئے سرجوڑے گئے ، بالآخر مسجد ، مدرسہ ، کلمہ ، اذان ، نماز ، خطبہ ، قرآن ، نکاح ، جنازے اور شرعی مسائل میں رہنمائی ہم ''جاہلوں'' کے ذمے لگا دیی گئی ، اور سڑکیں ، کھمبے ، سیوریج لائن ، بجلی ، گیس ، پیٹرول ، تها نے ، عدالتیں ، اسکول ، کالج اور ''علم و فکر'' کی یونیورسٹیوں کا قیام آپ حضرات کے حصے میں آگیا ،

    اس تقسیم میں کمال بے انصافی یہ دیکهیئے کہ حکومت کا پیسے اور جملہ وسائل آپ کی ذمہ داریوں کیلئے وقف کر دئے گئے ، یونیورسٹیوں کو سیکڑوں ایکڑ اراضی گفٹ کی گئیں اور مدارس کیلئے ایک گز زمین کا ٹکڑا بهی نہیں دیا گیا ، آج بهی کسی محلے کی آباد کاری میں ہسپٹل اسکول اور پارک کی جگہیں تو رکهی جاتی هیں مگر مدرسہ کیلئے ؟ کروڑوں کی گرانٹس یونیورسٹیوں کیلئے تو ہیں مگر مدارس کیلئے ؟؟؟؟؟

    جناب پرویز رشید صاحب
    وسائل پر ناجائز قبضے ، اور عیاشیوں کیلئے آپ کی یہ غیر منصفانہ تقسیم ہمیں فطرے زکوة اور قربانی کی کهال کی طرف لے گئی (آپ کی تقریر میں اس احسان کو جتلایا بهی گیا هے) اور کچھ لوگوں کو مجبورا'' مدارس کیلئے سرکاری زمینوں پر قبضے کے گناہ کا مرتکب بهی ہونا پڑا هے ،

    اس سب کچھ کے باوجود آج پورے ملک میں کیا آپ وہ جگہ دکھا سکتے ہیں جہاں مسجد و مدرسہ نہ ہوں ؟
    مسجد ہو مگر امام ، خطیب ، موذن میسر نہ ہوں ؟
    کوئی شخص اپنی بچے کے سر پر سہرا باندھے نکاح خواں کیلئے پریشان بیٹها ہو ؟
    جناب کوئی میت دکها دیں کہ وہ پڑی ہوئی ہو اور نماز جنازہ پڑهانے والا میسر نہ ہو ؟
    حضور ! کوئی بچہ بتادیں کہ وہ قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہو مگر اسے استاد دستیاب نہ ہوں ؟ . . .
    جناب پرویز رشید صاحب ہم اپنے کام میں جت گئے ، گلے شکوے نہیں کئے ، مانگے تانگے سے اتنا بڑا معرکہ سر کر دکهایا کہ امریکہ انگلینڈ فرانس کینیا مصر سعودیہ افریقہ سمیت کسی بهی ترقی یافتہ ملک کا نام ڈھونڈے سے بهی نہیں لا سکتے جس کے لوگ اپنے بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم کیلئے ہمارے پاکستانی مدارس میں نہ بهیجتے ہوں ؟؟؟

    لفٹسٹ پرویز رشید صاحب
    کیا آپ اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں کہ پاکستان میں آج اچها انجینئر، اچها ڈاکٹر اور اچها لائر وہ هے جو بیرون ممالک سے پڑھ کر آیا ہو ؟؟؟؟
    اور ساری دنیا میں بہترین حفاظ قرآن وہ ہیں جو پاکستانی مدارس کے پڑهے ہوئے ہوں ؟؟؟
    کیا ابهی پچهلے دنوں امام کعبہ شیخ غامدی نے آن ائر آپ کو نہیں بتایا تها کہ میں ایک پاکستانی استاذ کا شاگرد ہوں ؟؟؟
    کیا آپ کو خبر نہیں کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو قرآن کریم کی 500 سے زائد کلاسیں لگتی ہیں ان میں 300 سے زائد کلاسوں میں پاکستانی ''جہالت کی یونیورسٹیوں'' کے پڑهے ہوئے یہی پاکستانی اساتذہ مدرس ہیں؟ اور آئے دن بیرون ممالک میں مسلمانوں کیلئے پاکستانی علمائے کرام کی مانگ بڑھتی جارہی هے جبکہ ہزاروں پاکستانی علماء کرام وہاں اپنی خدمات برسوں سے انجام دے رہے ہیں ،

    دوسری طرف آپ کے ذمے جو کام تهے وہ کون نہیں جانتا
    ؟؟؟؟ آپ کی سڑکیں ؟ ماشاءالله . . .
    آپ کی عدالتیں ؟. . . سبحان الله . . .
    آپ کے تهانے؟ استغفراللہ . . .
    آپ کی بجلیاں ؟ اناللہ . . .
    آپ کے اسکول کالج اور یونیورسٹیاں ؟؟؟ لاحول ولا قوة الا بالله العلي العظيم

    عالی قدر پرویز رشید صاحب
    اچها ہوتا اگر تقریر سے قبل آپ اپنے وزیر خزانہ سے ان کروڑوں ڈالرز ، پاؤنڈز اور ریال کی کچھ جانچ لے لیتے جو یہ ''جہالت کی یونیورسٹیاں'' چندے میں مانگ مانگ کے لاکر اس غریب ملک کا زر مبادلہ بڑھاتے ہیں تو شائد آپ کو ایسی مبنی بر الزامات تقریر کی زحمت نہ کرنی پڑتی ،

    رہ گئی ''موت کا منظر عرف مرنے کے بعد کیا ہوگا'' کتاب کا احوال ؟ تو بخدا آج تک یہ کتاب آپ نے خواب میں بهی نہیں دیکهی ، آپ صرف اس کا نام سن کر گهبرا گئے اور اپنی معاندانہ سوچ کے مطابق اس کا بھیانک موضوع گهڑ لیا ، ایسا بالکل بهی نہیں ، آپ اس کتاب کو ضرور پڑهیں ، ہر انسان کی طرح آپ کو بهی بہت فائدہ ہوگا ،
    آخر میں عرض هے کہ اگر پورے پاکستان کے ایک بهی مدرسہ میں یہ کتاب آپ شامل نصاب ثابت کردیں تو آپ کے پاؤں دهو کے نوش جاں کر لونگا ،
    والسلام
    ہدایت اللہ سدوخانی
    مہتمم جامعہ الثقافة الاسلامية ملیر کراچی
     
  17. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    موت کا منظر کتاب میں من گھڑت واقعات موجود ہیں۔
     
  18. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    بھائی یہ کتاب کسی کی لکھی ہوئی ہے -
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    بھائی ایک موت کا منظر تو ٹھیک ہے جو سعودی عرب میں چپھی ہے۔
    [​IMG]

    لیکن پاکستان میں جو مشہور ہے اس میں من گھڑت چیزیں ہیں۔
    وہ کسی کی ہے مجھے یاد نہیں لیکن ان شاء اللہ گھر جاکر دیکھتا ہوں پھر اس کے حوالے سے معلومات شئیر کرتا ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    پرویز رشید نے ایک عمومی بات کی تھی ۔ کہ یہ لوگ موت کا منظر (مرنے کے بعد) کیا ہوگا پر کتابیں پیش کرہے ہیں ۔کسی خاص کتاب کا نام نہیں لیا گیا تھا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں