کبھی کسی اجنبی کو گاڑی میں نہ بٹھائیں

انا نے 'دیس پردیس' میں ‏جون 11, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    آج ہم لوگ شام میں باہر جانے کے لیے نکلے تو گاڑی مجھے چلانی تھی ۔ پارکنگ سے نکلنے کے لیے گاڑی ابھی ریورس ہی کی تھی کہ سامنے سے ایک انگریز خاتون تیزی سے ہماری طرف آئیں ۔ شیشہ نیچے کیا تو کہنے لگیں تم لوگ جا ہی رہے تو مہربانی کر کے ذرا قریب میں مجھے بھی اتار دو۔خیر ان خاتون کو پیچھے بٹھا لیا ۔ شروع میں تو بڑی شکر گزار کہ تم لوگوں نے میری بہت مدد کی وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن صحیح راستہ کے کہاں جانا ہے بتا کہ نھین دے رہی تھی ۔پھر ہمیں تھوڑا احساس بھی ہوا کہ جناب ڈرنک بھی تھیں۔ دس منٹ تک گاڑی چلانے کے بعد جب ان کے بتائے 2 چوک بھی گزر گئے اور گاڑی سنسان سے راستہ پر جانے لگی تو میاں کو غصہ آ گیا ۔انھوں نے پھر ذرا غصہ سے خاتون سے پوچھا کہ ادھر ادھر گھمانے کی بجائے سٹریٹ ایڈریس بتاو ۔ اس پر وہ ٹال مٹول کرتی رہیں ۔ تو میاں نے مجھے گاڑی سائیڈ میں روکنے کو کہا ۔ پھر ان سے کہا کہ گاڑی سے اتر جاؤ کہ تم نے غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ تو خاتون نے صاف انکار کر دیا پھر منت سماجت پر آ گیئں کہ پلیز 2 گلیاں رہ گئیں ہے آگے اتار دو ۔ ادھر میرے میاں بھی ڈٹ گئے کہ آگے جانے کا تو سوال ہی نھیں پیدا ہوتا ۔ خیر پھر خاتون کہنے لگیں تم نے اب واپس ہی جانا ہے کہ آگے تم لوگوں کا راستہ آئے گا نھیں تو مجھے پچھلے چوک پر اتار دو ۔ اب میاں ڈرایونگ سیٹ پر آئے ۔گاڑی موڑی اور پارکنگ میں لے جا کر لگا دی ۔ پھر اسے کہا کہ اب اترو ۔ وہ میاں سے بحث میں لگ گئی ۔ اس پر وہ دروازہ کھول کر باہر نکلے اور کہا کہ اب اگر تم نھیں اتری تو 911 کال کر دوں گا۔ وہ خاتون بھی اپنی اصلیت پر اتر آئی ۔ کہنے لگی میرے بیگ/پرس میں گن ہے ۔ میاں نے فورا کہا تمھارے پاس کوئی بیگ نھیں ہے تو گن کہاں سے آئے گی ۔وہ بہانہ بنانے لگی کہ بیک / back میں ہے ۔ خیر پھر گالیاں دیتی باہر آئی ۔ میاں کو زور سے دھکا دیا ، موبائل پھر گاڑی کی چابی چھینے کی ناکام کوشش کی ۔ لیکن الحمد اللہ ہم لوگ بغیر کسی نقصان کے گاڑی بھگا کر لے جانے میں کامیاب ہو گئے ۔
    تو اس سارے واقعے کے بعد نصیحت یہ ہوئی کہ دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے کسی اجنبی کو لفٹ نھیں دینی ۔ ویسے یہ بات پاکستان میں ہمیشہ سنتے ہوئے آئے تھے لیکن اب تو اپنے لیے پوری دنیا کہ کسی بھی خطہ میں موجود ہوں ہر جگہ کے لیے ہی فرض کر لی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 11
    • متفق متفق x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    اللہ کا شکر ہے جس نے آپ کو نقصان سے محفوظ رکھا۔
    واقعی ایسے لوگوں کی وجہ سے اصل ضرورت مند کی پہچان بھی ختم ہو جاتی ہے۔
    میں اپنے تعلیمی ادارے کے آس پاس سے لڑکیوں کو ساتھ لے لیتی ہوں، خاص طور پر جب موسم شدید ہو۔ ایک بارلڑکیوں کے ایک گروپ کو بٹھا لیا۔ ان میں سے ایک بہت عجیب تھی۔ میں نے بعد میں دیکھا کہ وہ طالبہ نہیں لگ رہی، کچھ دیر کے بعدباقی لڑکیاں کہنے لگیں یہ ہمارے ساتھ نہیں ہے، یہ پتہ نہیں کون ہے کب سے ہمارے گروپ میں گھسنے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں نے اس سے چند سوال پوچھے تو پتہ چل گیاکہ وہ ہمارے تعلیمی ادارے کی طالبہ نہیں لیکن جھوٹ پہ جھوٹ بول رہی تھی۔ بعد میں وہ گھبرا کر جلدی اتر گئی۔
    بھائی نے اس سے کچھ عرصہ پہلے ہی مجھے کہا تھا کہ محتاط رہوں۔ گاڑی اور ڈرائیور انہی کا تھا۔ اس لیے میں نے انہیں بتا کر معذرت کر لی اور توبہ کی کہ آئندہ ہمدردی سے پہلے غور کر لینا ہے۔
    کچھ عرصہ ایسے واقعے کا خوف رہتا ہے پھر وہی خیال آ جاتا ہے کہ پیدل کو ساتھ سوار کر لینے کا اجر ہے اور خراب موسم میں اتنی بے حسی دکھائی نہیں جاتی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  3. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    صحیح کہا ۔ غلط کام کوئی اور کرتا ہے اور اس کٹیگری کے سبھی لوگ متاثر ہوتے ہیں ۔ نھیں آپ بھی محتاط رہیں ۔ اللہ سب کو برے وقت سے بچائے۔اور اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    اوہ یہ تو حد ہوگئی ہے۔ شکر ہے بچت ہوگئی۔ دیار غیر میں تو ویسے ہی محتاط رہنا چاہیے۔
    اب اچھے برے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں میں سوچ رہی تھی ایسے امن و امان والے ملک کی بھی اس طرح کی خبریں ہائی لائٹ کی جائیں نا ذرا جس طرح یہ ہماری بری بری خبروں کو پھیلاتے ہیں ;)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    پھر تو ہمارے واقعہ سے کہیں زیادہ اہم اور خطرناک واقعات امریکہ میں بھرے ہوئے ہیں ۔ بین الاقوامی میڈیا ان کو کووریج دے دے تو بڑی بات ہے ۔ کینیڈا کا کرائم ریٹ نسبتا کافی کم ہے۔لیکن یہاں کے اخبارات دیتے رہتے ہیں اگر اس قسم کا یا کوئی بھی جرائم کا واقعہ پیش آئے۔ یہ واقعہ بھی اصل ہماری بلکہ میری بیوقوفی کی وجہ سے ہی پیش آیا۔ ڈرائیونگ سیٹ پر چونکہ میں تھی ۔اس لڑکی نے بھی مجھ سے آ کر بات کی اور میں نے سوچے سمجھے بغیر او کے بول دیا۔ میرے میاں پھر خاموش رہے کہ بیگم نے حامی بھر لی ہے ۔ پھر یہ کہ 911 کو بھی کال اسی گھبراہٹ میں نہیں کی کہ غلطی ہماری تھی ۔ وہ لوگ بھی پہلے ہمیں ہی پکڑتے کہ جب آپ جانتے نہیں تھے تو گاڑی میں بٹھایا کیوں۔ لمبا کیس بن جاتا۔ اور اللہ جانے وہ واقعی چوری اور فساد کی نیت سے بیٹھی تھی یا شراب کی وجہ سے اس کی عقل کام نھیں کر رہی تھی۔لیکن بس محتاط رہنا چاہیے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    جہاں شراب ہو وہاں جرائم نہ ہوں ممکن ہی نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں