رمضان اورموسم گرما

بابر تنویر نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏جون 22, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,321
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    رمضان اورموسم گرما

    از قلم :شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

    اللہ تعالی نے شرعی مہینوں کا کچھ ایسا نظام رکھا ہے کہ ایک ہی مہینہ کبھی گرمی کے موسم میں آتاہے اور کبھی سردی کے موسم میں ، وہی مہینہ کبھی موسم بہار میں آتاہے اور کبھی موسم خزاںمیں ، اسی سنت الہیہ کے تحت رمضان المبارک کا مہینہ بھی کبھی سردی کے موسم میں آتاہے اور کبھی سخت گرمی کے موسم میں ،کبھی روزہ رکھنے کے لئے دن بہت بڑا ہوتا ہے اور قیام کرنے کے لئے رات بہت چھوٹی ہوتی ہے ۔

    ذلک تقدیر العزیز العلیم اللہ غالب و داناکی تدبیر ہے

    اس سال بھی رمضان المبارک کی آمد گرمی کے موسم میں ہےاور آئندہ کئی سالوں تک یہی سلسلہ چلتا رہے گا ، اس کے باوجودبہت سے نیک بندے اس مبارک ماہ کے استقبال کے لئےچشم براہ ہیں ،کیونکہ ان کےنزدیک یہ رحمتوں کا مہینہ ہے ، اس مبارک ماہ میں رحمان و رحیم کی مغفرتوں کاسیلاب آتا ہے اور اس کے کرم وفضل کی خصوصی ہوائیں چلتی ہیں، ان کا یہ ایمان ہے کہ یہ مبارک مہینہ نیکیوں کے جمع کرنے کا مہینہ ہے ، اس مبارک مہینے کا روزہ سال بھر کے گناہوں کا کفارہ ہے ، اس مبارک مہینےمیں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔

    ان کے برخلاف کچھ اورلوگ بھی ہیں جو اس مبارک ماہ کی آمدپراورخصوصا اس سخت گرم موسم میں کبیدہ خاطرہیں ، ان کی زبان سے دبے الفاظ ایسےکلمات ادا ہورہے ہیں جو اس بات کی غمازی کرتے ہیں یہ مہینہ ان کے نزدیک مبارک نہیں بلکہ پریشانیوںکا سبب ہے ، کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے نزدیک دنیا اس قدر محبوب ہے کہ اپنی نوکری اوردیوٹی کا بہانہ بنا کر اس مبارک ماہ کا روزہ نہ رکھنےکا ارادہ کرلیا ہے ، کچھ لوگ مرض اور سفرکا بہانا بنا کر اس مبارک مہینےکا روزہ چھوڑنےکا ارادہ کئے ہوئے ہیں ، انہیں امور کا مشاہدہ کرتے ہوئےدرج ذیل کلمات ہدیہ ناظرین کئے جارہے ہیں :

    [۱] اس مہینے کا استقبال فرحت و سرور سے کیا جائے اور اس کی آمد پر پریشان و کبیدہ خاطر قطعا نہ ہو ا جائے ، ارشاد باری تعالی ہے :
    [قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ] {يونس:58}
    آپ کہہ دیجئےکہ بس لوگوں کو اللہ تعالی کے انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہئےوہ اس سے بدر جہا بہتر ہے جس کو وہ جمع کررہے ہیں ۔

    کیونکہ اللہ کے فضل و رحمت کو ناپسند کرنا نفاق کی دلیل اوراعمال کی بربادی کا سبب ہے ۔

    [ذَلِكَ بِأَنَّهُمُ اتَّبَعُوا مَا أَسْخَطَ اللهَ وَكَرِهُوا رِضْوَانَهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ] {محمد:28}
    یہ اس بنا پر کہ یہ وہ راہ چلے جس سے انہوں نے اللہ کو ناراض کیا اورانہوں نے اللہ کی رضا مندی کو ناپسند کیا تو اللہ تعالی نے ان کےاعمال اکارت کردئے ۔

    [۲] قصد نیک رکھیں ۔ ارادہ پختہ کریں اور عزم میں ثبات پیدا کریں کہ ہمیں اس مبارک ماہ سےحتی الامکان مستفیدہونا ہے ، روزے یقنیا رکھنا ہے ، تراویح ضرور پڑھنی ہے ، حتی الامکان قرآن مجیدکی تلاوت کرنی ہے اورجو کچھ میسر آئےاس میں سے صدقہ و خیرات کرنا ہے ، اس عزم و ارادہ کے بعداللہ تعالی پرمکمل توکل کریں تو اللہ تعالی کی توفیق شامل حال رہے گی ،پھر اس عزم و ارادہ کے بعد اگر کوئی کمی رہ گئی تو اللہ تعالی اجرپورا دے گا ، کیونکہ اہل علم کہتے ہیں کہ" نیۃ المومن خیر من عملہ "مومن کی نیت اس کے عمل سے بہترہے ۔ ٭

    [۳] صبر و احتساب سے کام لیں :
    ہر نیک عمل صبر چاہتا ہے اور کوئی بھی نیک عمل بلا احتساب [ ثواب کی نیت ] مقبول نہیں ہے ، اس مبارک مہینےکا ایک نام شہر الصبر بھی ہے ، ارشاد نبوی ہے :

    صوم شہر الصبرو ثلاثۃ ایام من کل شہر یذھبن و حر الصدر ۔ ماہ صبر [ رمضان ]اورہر ماہ تین دن کا روزہ دل کی گرمی کو ختم کرتا ہے ۔
    مسند احمد 2/163، صحیح ابن حبان:6523،ج 9/277 بروایت ابوہریرہ۔

    احتساب سے متعلق ارشاد نبی ﷺ ہے :

    من صام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ ۔جس نے ایمان و احتساب کےساتھ رمضان کا روزہ رکھااس کے تمام ماسبق گناہ معاف کردئے گئے ۔
    صحیح البخاری:38 الایمان، صحیح مسلم:760 المسافرین بروایت ابوہریرہ۔


    خصوصی طورسے گرمی کے موسم میں جب دن طویل اور گرمی تیز ہوتی ہےاور اگر انسان ایمان و احتساب اور صبر سے کام لے تو اس کے لئے یہ روزہ کوئی مشکل کام نہیں ہوتا ، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے :

    [وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الخَاشِعِينَ] {البقرة:45} [الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ] {البقرة:46}
    اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد کرو ، یہ چیزبہت بھاری ہے مگر ڈر رکھنےوالوں پر جو جانتےہیں کہ اپنے رب سے ملاقات کرنےوالے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانےوالے ہیں ۔

    اس آیت میں وارد لفظ صبر کی تفیسربہت سے علماء نے روزہ سے کی ہے ، یعنی روزہ اور نمازالہی مدد کا بہترین ذریعہ ہیں اور یہ چیزیںاللہ سےڈرنے والوں ہی کوحاصل ہوتی ہیں ۔

    [۴] اجر و ثواب بقدرمشقت ہے :
    اس گرمی کے موسممیں روز ہ مشکل ضرور ہے لیکن ایک مومن کو یاد رکھناچاہئےکہ اسے کسی بھی حکم الہی کے بجا لانےمیں جس قدر مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اجر میں اسی قدر اضافہ ہوتا ہے ، نبی ﷺ نے حضرت عائشہ سے فرمایا :

    ولکنھاعمل قدرنفقتک او نصبک ۔اس عمرے میں تیرے تھکنے اور خرچ کرنے کے بقدر تجھے اجر ملے گے ۔
    { صحیح بخاری : 1781 ، العمرہ – صحیح مسلم : 2/ 249 ، مع منۃ المنعم } ۔


    ایک حدیث میں ارشاد نبوی ہے کہ کسی بھی مسلمان کو اگر تھکان لگتی ہے ، تکلیف پہنچتی ہے ، پریشانی لاحق ہوتی ہے، غم پہنچتا ہےحتی کہ اگر ایک کانٹابھی چبھتاہے تو اس کے عوض اللہ تعالی اس کے گناہ معاف فرماتا ہے ۔
    { صحیح بخاری : 5641 ، المرض – صحیح مسلم : 2572 ، البر، بروایت عائشہ } ۔

    لہذا یقین رہے اور ایمان رکھیں کہ گرمی کے موسم میں روزے کے عوض جو پیا س ، بھوک اورتھکان پہنچ رہی ہے وہ گناہوںکی معافی اور درجات کی بلندی کا سبب ہے ۔
    یہی وجہ ہے کہ بہت سے صحابہ سخت گرمی کے موسم میں بکثرت روزہ رکھتے تھےجیسےمعاذ بن جبل اور ابو درداء رضی اللہ عنہاوغیرہ ۔

    [۵] عبرت حاصل کریں :
    سخت گرمی میں روزہ رکھ کر کام کرناپڑتا ہے تو اس دنیا کی دھوپ کو دیکھ کر آخرت کی دھوپ کو یاد کریں ، اگر گرمی محسوس ہو تو جہنم کی گرمی کو یاد کریں ، اگر بھوک و پیاس کا احساس ہو تو میدان حشر کی بھوک و پیاس کو یاد کریں اور اگر اس گرمی میں پسینہ سے پریشان ہوں تومیدان محشر کے پسینے کو یاد کریں ۔
    کیونکہ دنیا میں سردی و گرمی کا اصل سبب جہنم کے دو سانس ہیں ، ارشاد نبوی ہے :
    اشتكت النار إلى ربها فقالت : يا رب أكل بعضي بعضا فأذن لها بنفسين نفس في الشتاء و نفس في الصيف فأشد ما تجدون من الحر من سموم جهنم و أشد ما تجدون من البرد من زمهرير جهنم
    جہنم نے اللہ تعالی سے شکایت کی کہ اے میرے رب ! میرے بعض حصے نے مجھے کھالیا ، تو اللہ تعالی نےاسے دو سانس لینے کی اجازت دے دی ، ایک سانس جاڑےکے موسم میں اور ایک سانس گرمی کے موسم میں ،یہی سبب ہے جو سخت گرمی اور سخت سردی تم محسوس کرتے ہو۔
    .صحیح البخاری:537 الموقیت، صحیح مسلم: 617 المساجد۔

    [۶]سحری کھانا نہ چھوڑیں :

    گرمی کے موسم میں سحریکھانے کی بڑی اہمیت ہے نبی ﷺ کا ارشاد ہے :
    تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً
    سحری کھاؤ کیونکہ سحری کھانا باعث برکت ہے ۔
    { صحیح بخاری : 1923،ا لصوم – صحیح مسلم : 1095 ، الصوم ، بروایت انس }

    [۷] گرمی کا اثر کم کرنےاور بھوک و پیاسکی شدت کو ہلکی کرنے کے لئےروزہ دار اپنے سر پر پانی ڈال سکتا ہے ،کلی کرسکتا ہے اور ہروہ وسیلہ استعمال کرسکتا ہے جس سے اسے آرام ملے ، نبی کریم ﷺ ایک بار سفرمیں روزے سےتھےجب پیاساور گرمی کا احساس ہوا تو گرمی کے اثر کوکم کرنے کے لئےآپ نے اپنے سر پر پانی ڈال لیا ۔
    { سنن ابو داود : 2365 ، الصوم – مسند احمد :5/380 } ۔
    حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کپڑا ترکرکے اپنے سر پر ڈال لیا کرتے تھے ،اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ تو اپنے لئے پانی کاایک حوض بنوا رکھا تھا، روزہ کی حالت میں جب گرمی اور پیاس محسوس ہوتی تو اس میں کود پڑتے ۔
    { صحیح بخاری، کتاب الصیام ، باب :25 – فتح الباری :4/ 152، 154 } ۔

    [۸] گرمی کتنی ہی زیادہ ہو اور دھوپ کتنی ہی تیز ہو ، مسلمان کو روزہ رکھناچاہئے اورہر اس عمل سے پرہیز کرنا چاہئےجو اس کے روزےمیں اثر انداز ہو، لیکن اگر ایسی صورت پیش آگئی کہ بھوک و پیاس کی وجہ سے روزہ پورا کرنا مشکل ہوگیا ،حتی کہ جان کا خطرہ لاحق ہوگیا تو اس صورت میں جان کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہئے بلکہ اس کے لئےافطار کرنا جائز ہوگا ، البتہ بعد میں اس کی قضا کرے گا ۔

    [۹]سلف اور گرمی روزہ :
    حضرتابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رمضان میں ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفرمیں نکلے، گرمی سخت تھی اور سایہ کی اس قدر کمی تھی کہ ہم لوگ اپنے ہاتھ سے سر پرسایہ کرتے تھے، اس حال میں بھی ہمارےدرمیان صرف رسولاللہ ﷺ اور عبد اللہ بن رواحہ روزے سے تھے ۔
    صحیح بخاری : 1945، الصوم – صحیح مسلم : 1112 ، الصوم } ۔

    حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہایک بار سمندری سفر میں تھے، غیب سے کسی ندا دینے والےکی آواز سنتے ہیں کہ وہ پکار رہا ہے : اے اہل کشتی ٹھہر جاؤ ، ٹھہر جاؤ ، ٹھہر جاؤ، اور اللہ تعالی کا ایک فیصلہ سن لو ، حضرت ابو موسی نے عرض کیا : سناو کیا سنانا ہے ، جواب ملتا ہے کہ اللہ تعالی کا یہ فیصلہ ہے کہ جو شخص کسی گرم دن میں اپنے آپ کوپیاسا رکھے گا[ یعنی روزہ رکھے گا ] تو اللہ تعالی پر یہ حق ہے کہ اسے قیامت کے دن سیراب کرے ۔
    اس کے بعدسے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سخت گرمی کے دن کا انتظار کرتے تھے کہ اس دن کا روزہ رکھیں ۔

    { مسند البزار – کشف الا ستار : 1/488 }حافظ ہیثمی لکھتے ہیں کہ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔{ مجمع الزوائد :3/183 }


    حضرت معاذ بن جبل اپنی موت کے وقت روتے تھےکہ اب گرمی کےموسم میں روزہ رکھنے کا موقعہ نہیں ملے گا ۔ تفصیل دیکھئے : لطائف المعارف : 551، 552


    طبی نصیحتیں :
    یہ چند مفید ہدایات ہیں جو گرمی کے موسم میں روزہ رکھنے والوں کے لئے مختلف جگہوںسے ماخوذ ہیں :
    1)ایسی غذائیں جن میں گرم مسالے زیادہ استعمال ہوتے ہیں انہیں کھانے سے پرہیز کیا جائے، خاص کر سحری کے وقت، کیونکہ ایسے کھانوں کے بعد پانی کی خواہش زیادہ ہوتی ہے ۔
    2)رات میں رہ رہ کر تھوڑا تھوڑا پانی پیا جائے ۔

    3)سحری میں میٹھی اور ہلکی غذا استعمال کریں ، کیونکہ میٹھی چیز معدہ میں دیر تک رہتی ہے ، شاید یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺنے ارشاد فرمایا: "نعم سحور المومن التمر " مومن کے لئےسحری میں بہترین چیز کھجور ہے ۔ { سننابو داود : 2345 ، الصوم ، بروایت ابو ہریرہ } ۔

    4)رات اور خصوصا سحری کے وقت سبزیاں اور تازےپھل استعمال کریں، کیونکہ ان غذاؤں میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہےاور ایسے مواد پر مشتمل ہوتی ہیں جو انتڑیوںمیں دیر تک جگہ بنائےرکھتی ہیں ، نتیجۃ بھوک و پیاس کا احساس کم ہوتا ہے ۔

    5)زیادہ نمک والی غذاؤں سے پرہیزکریں اورسلادوغیرہ میں نمک کے بجائے لیمون استعمال کیا جاسکتا ہے ، جوکسی حد تک نمک کا مزہ دیتا ہے ۔

    6)بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سحر کے وقت بکثرت پانی پی لینےسے دن میں پیاس کا احساس کم ہوتا ہے، حالانکہ یہ تصور غلط ہے، کیونکہ اس پانی کا زیادہ حصہ چونکہ جسم کی ضرورت سے زائد ہوتا ہے ، لہذا تھوڑی ہی دیر میں گردہ اسے باہر نکال پھینکتا ہے ۔

    7)بہت سے لوگ رمضان المبار ک میں بازاروںمیں ملنے والا جوس اور کولا وغیرہ استعمال بکثرت کرتےہیں ، جب کہ یہ چیزیں ایسے مواد پر مشتمل ہوتی ہیں جو معدہ پر بوجھ بننےکے ساتھ ساتھ ہاضمہ میں رکاوٹ بنتی ہیں اور ہاضمہ سے متعلق بعض بیماریوں کا سبب بنت ی ہیں ۔

    8)بعض لوگ افطارکے وقت سخت ٹھنڈا پانی پیتے ہیں، یہ سمجھتےہوئے کہاس طرح پیاس بجھتی ہے،حالانکہ اس سے خون کی حرکت میں کمی واقع ہوتی ہے ، نتیجۃ ہاضمہ کمزور پڑتا ہے ۔ س لہذا ضروری ہے کہ پانی درمیانی ٹھنڈا ہو اور آہستہ آہستہ وقفہ سے پیا جائے ، اونٹ کی طرح گٹا گٹ نہ پیا جائے ۔
    ختم شدہ
    ٭نية المؤمن خير من عمله ، وعمل المنافق خير من نيته ، وكل يعمل على نيته ، فإذا عمل المؤمن عملا ، ثار في قلبه نور .
    فهو حديث ضعيف المعنى والمبنى
    وقد ضعفه الشيخ الألباني رحمه الله في ضعيف الجامع برقم 5977

    لنک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں