کلام صفی :: متاع قلب و نظر

حیدرآبادی نے 'گوشۂ ابن صفی' میں ‏مئی 21, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    ابن صفی مرحوم
    نے جاسوسی ناول لکھنے سے قبل ، اسرار ناروی کے نام سے شاعری بھی کی تھی اور ان کی شاعری اس قدر متاثر کن تھی کہ بقول خود ان کے ، ان کے ایک بزرگ استاد ، ابن صفی کے جاسوسی ناول نویس بننے پر سدا ان سے ناراض رہے۔

    ابن صفی کے اس خاص گوشے میں ہم اسرار ناروی کا منتخب کلام پیش کریں گے۔

    جو کہہ گئے وہی ٹھہرا ہمارا فن اسرار
    جو کہہ نہ پائے ، نہ جانے وہ چیز کیا ہوتی
     
  2. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    کبھی قاتل ، کبھی جینے کا چلن ہوتی ہے

    کبھی قاتل ، کبھی جینے کا چلن ہوتی ہے
    ہائے کیا چیز یہ سینے کی جلن ہوتی ہے

    چھیڑیے قصۂ اغیار ہی ، ہم سن لیں گے
    کچھ تو کہئے کہ خموشی سے گھٹن ہوتی ہے

    یادِ ماضی ہے کہ نیزے کی اَنّی کیا کہئے؟
    ذہن میں ایسی چبھن ، ایسی چبھن ہوتی ہے

    پھول کھلتے ہی چمن آنکھ سے اوجھل ہو کر
    ڈھونڈتا ہے اسے جو رشکِ چمن ہوتی ہے

    کتنی ہی زہر میں ڈوبی ہوئی رکھتی ہو زباں
    پھر بھی وہ نازشِ گل غنچہ دہن ہوتی ہے
     
  3. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    ہمی جانے کس منہ سے آئے یہاں تک
    ہوا کیا ، اگر آپ نے بے رخی کی
    غزل بن گئی زینتِ بزمِ عشرت
    غزل گو نے افلاس میں خودکشی کی
     
  4. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    التجا

    التجا
    بحضور سرورِ کائینات (صلی اللہ علیہ وسلم)

    میرے آقا ! میں کس منہ سے در پر ترے حاضری دوں
    میرے ماتھے پہ اب تک نشانِ عبادت نہیں
    ایک بھی نیک عادت نہیں
    میری جھولی گناہوں سے پُر ہے
    میرے ہاتھوں کی آلودگی باعثِ شرم و غیرت بنی
    میرے آقا ! میں کس منہ سے در پر ترے حاضری دوں؟
    پھر بھی آقا مرے ! پھر بھی مولا مرے !
    تیرے در کے سوا اور جاؤں کہاں
    ہو اجازت مجھے حاضری کی عطا
    میرے آقا ! میں نادم ہوں اپنی بد عادات پر
     
  5. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    ماں

    ابن صفی نے اپنی والدہ کے انتقال پر درج ذیل آزاد نظم لکھی تھی اور اپنی والدہ کے انتقال کے چودہ ماہ بعد خود بھی انتقال کر گئے !

    ایک بچہ
    اپنی ماں سے بچھڑ گیا ہے
    اس میلے میں
    اب کیا ہوگا؟
    کون اسے گھر لے جائے گا؟
    حیراں حیراں دیکھ رہا ہے
    چاروں طرف چہرے ہی چہرے
    دھندلے چہرے
    کیا یہ ، اُس کو پہچانیں گے
    کیا یہ ، اُسے گھر تک پہنچا دیں گے؟
    کوئی نہیں
    سب اَن دیکھے ، اَن جانے ہیں
    سہما سہما چیخ رہا ہے
    ماں !
    ماں !!
    ماں !!!
     
  6. عقرب

    عقرب Guest

    ابنِ صفی محترم کی ایک غزل۔۔

    ذہن سے دل کا بار اترا ہے
    پیرہن تار تار اترا ہے

    ڈوب جانے کی لذّتیں مت پوچھ
    کون ایسے میں‌ پار اترا ہے

    ترک مئے کرکے بھی بہت پچھتائے
    مدّتوں میں‌ خمار اترا ہے

    دیکھ کر میرا دشتِ تنہائی
    رنگِ روئے بہار اترا ہے

    پچھلی شب چاند میرے ساغرمیں
    پے بہ پے بار بار اترا ہے۔۔
     
  7. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    کچھ تو تعلق ، کچھ تو لگاؤ

    کچھ تو تعلق ، کچھ تو لگاؤ
    میرے دشمن ہی کہلاؤ

    دل سا کھلونا ہاتھ آیا ہے
    کھیلو ، توڑو ، جی بہلاؤ

    کل اغیار میں بیٹھے تھے تم
    ہاں ! ہاں ! کوئی بات بناؤ

    کون ، ہے ہم سا چاہنے والا
    اتنا بھی اب دل نہ دکھاؤ

    (ق)
    حسن تھا جب مستور حیا میں
    عشق تھا خون دل کا رچاؤ

    حسن بنا جب بہتی گنگا
    عشق ہوا کاغذ کی ناؤ

    شب بھر کتنی راتیں گزریں
    حضرتِ دل اب ہوش میں آؤ
     
  8. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    یونہی وابستگی نہیں ہوتی

    یونہی وابستگی نہیں ہوتی
    دور سے دوستی نہیں ہوتی

    جب دلوں میں غبار ہوتا ہے
    ڈھنگ سے بات بھی نہیں ہوتی

    چاند کا حسن بھی زمین سے ہے
    چاند پر چاندنی نہیں ہوتی

    جو نہ گزرے ، پَری وشوں میں کبھی
    کام کی زندگی نہیں ہوتی

    دن کے بھولے کو رات ڈستی ہے
    شام کو واپسی نہیں ہوتی

    (ق)
    آدمی کیوں ہے وحشتوں کا شکار
    کیوں جنوں میں کمی نہیں ہوتی

    اک مرض کے ہزار ہیں نباض
    پھر بھی تشخیص ہی نہیں ہوتی!
     
  9. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    کیا اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاں

    کچھ بھی تو اپنے پاس نہیں جُز متاعِ دل
    کیا اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاں

    لکھنے کو لکھ رہے ہیں غضب کی کہانیاں
    لکھی نہ جا سکی مگر اپنی ہی داستاں !

    دل سے دماغ و حلقۂ عرفاں سے دار تک
    ہم خود کو ڈھونڈتے ہوئے پہنچے کہاں کہاں

    اس بےوفا پہ بس نہیں چلتا تو کیا ہوا ؟
    اُڑتی رہیں گی اپنے گریباں کی دَھجیاں

    ہم خود ہی کرتے رہتے ہیں فتنوں کی پرورش
    آتی نہیں ہے کوئی بَلا ہم پہ ناگہاں
     
  10. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    لب و رخسار و جبیں سے ملیے

    لب و رخسار و جبیں سے ملیے !
    جی نہیں بھرتا کہیں سے ملیے

    یوں نہ اُس دل کے مکیں سے ملیے
    آسماں بن کے زمیں سے ملیے

    گھُٹ کے رہ جاتی ہے رسوائی تک
    کیا کسی پردہ نشیں سے ملیے

    کیوں حرم میں یہ خیال آتا ہے؟
    اب کسی دشمنِ دیں سے ملیے

    جی نہ بہلے رَمِ آہو سے تو پھر
    طائرِ سدرہ نشیں سے ملیے

    بجھ گیا دل تو خرابی ہوئی
    پھر کسی شعلہ جبیں سے ملیے

    وہ حاکمِ دوراں تو نہیں !
    مت ڈریں اُن کی "نہیں" سے ملیے
     
  11. عقرب

    عقرب Guest

    بڑے غضب کاہے یارو' بڑے عذاب کا زخم!
    اگر شباب ہی ٹھرا میرے شباب کا زخم

    ذرا سی بات تھی' کچھ آسماں‌ نہ پھٹ پڑتا
    مگر ہرا ہے ابھی تک تیرے جواب کا زخم

    زمیں کی کوکھ ہی زخمی نہیں‌ اندھیروں‌سے
    ہے آسماں کے بھی سینے پہ آفتاب کا زخم

    میں‌ سنگسار جو ہوتا تو پھر بھی خوش رہتا
    کھٹک رہا ہے مگر دل میں‌ اک گلاب کا زخم

    اسی کی چاہ گری میں‌ گذر گئی اسرار
    تمام عمر کو کافی تھا اک شباب کا زخم۔
     
  12. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    راہِ طلب میں کون کسی کا ، اپنے بھی بیگانے ہیں

    راہِ طلب میں کون کسی کا ، اپنے بھی بیگانے ہیں
    چاند سے مکھڑے رشکِ غزالاں سب جانے پہچانے ہیں

    تنہائی سی تنہائی ہے ، کیسے کہیں ، کیسے سمجھائیں
    چشم و لب و رخسار کی تہ میں روحوں کے ویرانے ہیں

    اُف! یہ تلاشِ حسن و حقیقت کس جا ٹھہریں جائیں کہاں
    صحنِ چمن میں پھول کھلے ہیں ، صحرا میں دیوانے ہیں

    ہم کو سہارے کیا راس آئیں ، اپنا سہارا ہیں ہم آپ
    خود ہی صحرا ، خود ہی دِوانے شمع نفس پروانے ہیں

    بلآخر تھک ہار کے یارو ! ہم نے بھی تسلیم کیا !
    اپنی ذات سے عشق ہے سچا ، باقی سب افسانے ہیں
     
  13. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    دولتِ غم اپنے ہی اوپر ہم نے خوب لٹائی

    دولتِ غم اپنے ہی اوپر ہم نے خوب لٹائی
    سارے جہاں میں کوئی نہ ہوگا ہم سا حاتم طائی

    ہم نے کہا تھا پچھتاؤ گے جانے کیسی ساعت تھی
    چھوٹے منہ سے نکلی ہوئی بھی بات بڑی کہلائی

    فہم و فراست خواب کی باتیں جاگتی دنیا پاگل ہے
    عقل کا سورج ماند ہوا ہے ذروں کی بن آئی

    دریا کی گہرائی ناپو موتی ہاتھ لگیں گے
    کیا پاؤگے ناپ کے یارو جذبے کی گہرائی

    اپنی ذات میں ڈوبنے والے ٹھہریں اونچے لوگ
    سب کا درد بٹانے والے کہلائیں ہرجائی

    سود و زیاں کے بازاروں میں ڈھونڈ رہا تھا اپنا مول
    بن بہروپ کسی نے قیمت دو کوڑی نہ لگائی​
     
  14. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    بُجھی بُجھی سی ہیں قندیلِ ہائے بزمِ دماغ

    نظم

    بُجھی بُجھی سی ہیں قندیلِ ہائے بزمِ دماغ
    فسردگی نے اُمنگوں کا ساز چھین لیا

    تڑپ کے سرد ہوئی گھنگھروؤں کی نرم صدا
    سیاہیوں میں ستارے سے رقص کرتے ہیں

    کبھی شعور میں گھلتے کبھی اُبھرتے ہیں
    کبھی فضا میں لرزتے ہیں نقرئی آنچل

    کبھی زمیں پہ پھسلتے ہیں سیمگوں بادل
    سیاہیاں کسی گوشے سے دوڑ آتی ہیں

    تجلّیات سے ٹکرا کے لوٹ جاتی ہیں
    سکوں بدوش ہے بپھرے ہوئے خیالوں کا

    رُبابِ ذہن پہ ہیجان آفریں نغمہ
    خلا میں ڈوب گئی نغمۂ شعور کی لَے

    کہ لاشعور کے ہونٹوں پہ تھرتھری سی ہے
    محال ہے کہ ملے شب میں زندگی کا سراغ
     
  15. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    آج کی رات کٹے گی کیوں کر

    آج کی رات کٹے گی کیوں کر، ساز نہ جام نہ تُو مہمان
    صبح تلک کیا جانئے کیا ہو ، آنکھ لگے یا جائے جان

    پچھلی رات کا سناٹا کہتا ہے اب کیا آئیں گے
    عقل یہ کہتی ہے سو جاؤ ، دل کہتا ہے ایک نہ مان

    ملکِ طرب کے رہنے والو ، یہ کیسی مجبوری ہے
    ہونٹوں کی بستی میں چراغاں ، دل کے نگر اتنے سنسان

    اُن کی بانہوں کے حلقے میں عشق بنا ہے پیرِ طَریق
    اب ایسے میں بتاؤ یارو کس جا کفر کدھر ایمان

    ہم نہ کہیں گے آپ کے آگے رو رو دیدے کھوئے ہیں
    آپ نے بپتا سن لی ہماری ، بڑا کرم ، لاکھوں احسان
     
  16. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    بزرگو!کوئی حوالہ تودیتے کسی میگزین کاکتاب کایاکوئی دوسراحوالہ جس سے پتہ چلتا کہ یہ کلام ابن صفی ہے یونہی خالی خولی کلام نقل کردینے سے توبات نہیں بن جائے گی نا:00003:
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں