مبارکباد - خوشی- یا غم

بابر تنویر نے 'متفرقات' میں ‏جولائی 21, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,321
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ برکاتہ،
    یہ دیکھیں اس کے تمام ساتھی اس کے ارد گرد جمع ہوگۓ ہیں اور اسے گلے لگا رہے ہیں۔ وہ بہت خوش نظر آ رہا ہے اور اس کے تمام ساتھی بھی بہت خوش ہیں۔ اب اس نے شکرانے کے طور پر سجدہ میں سر کو جھکا لیا ہے۔
    آخر کیوں خوش نہ ہو۔اس نے سری لنکا کی پوری پانچ وکٹیں جو لیں ہیں۔

    اسے بھی دیکھیں۔ اس نے اپنا ہیلمٹ اتارا، آسمان کی جانب دیکھا جیسے اللہ کا شکر ادا کر رہا ہو۔ اپنے بلے کو ہوا میں لہرایا، اس کا ساتھی دوسرے اینڈ سے دوڑتا ہوا آیا دونوں بغلگیر ہو گۓ بلکہ شکر و شیر ہو گۓ۔ اب وہ بھی شکرانے کا سجدہ بجا لا رہا ہے۔ پویلین میں اس کے ساتھی کھڑے ہو کر تالیاں بجا رہے ہیں۔
    جناب اس نے پورے سو رنز کیے ہیں۔ یعنی سنچری ماری ہے۔

    یہ بھی کیا منظر ہے۔ تمام کھلاڑی خوش نظر آ رہے ہیں۔ ایک دوسرے سے بغلگیر ہو رہے ہیں کچھ سجدہ میں گرے ہوۓ ہیں۔ کچھ تماشا‏ئیوں کی جانب دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے ہیں۔ مخالف ٹیم کے کھلاڑی بھی ان سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔
    بھائپاکستان نے میچ جیت لیا ہے۔

    اب انعامات کی تقریب ہو رہی ہے۔
    پانچ وکٹیں لینے والے اور سنچری بنانے والے اس کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کر رہے ہیں۔
    کپتان بھی اس کامیابی پر اللہ کے مشکور ہیں اور اسے قوم کی دعاؤں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
    وزیر اعظم اور صدر نے بھی مبارک باد دی ہے۔ اور تو اور الطاف حسین نے بھی لندن سے مبارک باد کا پیغام بھجوایا ہے۔

    میچ کے دوران پانی کا وقفہ بھی ہوا تھا۔ صاف ظاہر ہے کہ کھیل کے دوران پیاس بھی لگتی ہے اور کھلاڑی پانی بھی پیئیں گے۔

    لیکن؟؟؟؟؟
    شائد کسی کو یاد نہیں کہ یہ مہینہ کونسا ہے؟
    رمضان کا جناب!
    تو اس مہینے میں کیا کرتے ہیں ؟
    روزے رکھتے ہیں،
    نمازوں کا زیادہ اہتمام کرتے ہیں۔
    تراویح پڑھتے ہیں۔
    اور دوسرے صالح اعمال کرتے ہیں۔

    لیکن یہ کھلاڑی نہ تو روزہ رکھ رہے ہیں،
    نہ ہی نماز پڑھ رہے ہیں،
    نہ ہی اور کوئ عبادت کرتے ہوۓ ان کی تصویر نظر آئ ہے۔

    کیا کہیں گے اسے آپ؟
    پانچ وکٹیں بھی لے لیں
    سنچری بھی بنا لی
    میچ بھی جیت لیا۔

    لیکن نہ تو روزہ رکھا اور نہ ہی عبادت کی۔

    انہیں خوشی منانی چاہیے یا غم؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 8
  2. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    جزاک اللہ خیر ا
    متاع قلیل کی دوڑ ہے بس کچه اور نہیں
    اللہ ان کو ہدایت دے پڑهکر آنسو نکل آئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  3. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,468
    وعلیکم السلام
    کرکٹ بخار اور سيلفى بخار اج كل كى بڑی بیماری بن چکی ہےاللہ دین کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بے شک !
    بالکل صحیح تجزیہ کیا ہے۔ رمضان میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ لوگ روزے کی حالت میں میچ کھیل رہے ہوں۔ افسوس ان لوگوں پر۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    و علیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

    افسوس کی بات ہے ۔ مجھے ویسے تو ذاتی طور پر ہی یہ گیم سخت نا پسند ہے ۔ لیکن بہرحال ان لوگوں کا روزگار اس سے جڑا ہو ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ روزہ رکھ کر کرکٹ کھیل لیتے ۔ لوگ روزہ کی حالت میں اس سے زیادہ محنت کش کام کرتے ہیں تو یہ کوئی نا ممکن بات نہ تھی ۔ اورمیچز بھی روزانہ نہیں ہوتے ۔ ہفتہ میں دو حد تین ہوتے ہوں گے ۔
    میرا ذاتی خیال ہے کہ رمضان کے دنوں میں بھی آپ کی دنیاوی مصروفیات بلکل ختم نہیں ہونی چاہیئے ۔ اگر کچھ حدتک کم ہو سکیں کہ عبادت کو زیادہ وقت دے سکیں تو اچھی بات ہے ۔ اس لیے کہ رمضان کا مہینہ بہترین موقع ہے کہ آپ اپنی ٹرینگ کر سکیں کہ دنیا کے کاموں کے ساتھ اللہ سبحانہ و تعالی کے ذکر سے غافل نہ ہوں۔ لوگوں کے ساتھ اپنے اخلاق میں بہتری لا سکیں ۔ آپ میچ کھیلیں یا کوئی اور دنیاوی مصروفیت لیکن اس درمیان اللہ تعالی کی یاد سے غافل نہ ہوں ۔ آپ کی زبان یا عمل سے نافرمانی ظاہر نا ہو۔ ایثاراوراحسان کا جذبہ ہر لمحہ ساتھ ہو تو 15-20 دن آپ اس ٹرینگ میں رہیں ۔ہاں آخری کے دس دن اعتکاف میں گزار لیں اگر اپ کی کسی سے کمٹمنٹ نہیں ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 7
  6. نیر مدنی

    نیر مدنی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 13, 2013
    پیغامات:
    94
    حدیث نبوی ہے ۔۔ من تشبہ بقوم فھومنھم یہ لوگ کفار کے ساتھ رہکرانکے ساتھ کھیلوں میں شریک ہوکر یہ ثبوت دیتے ہیں کہ دیکھو ہم تمھارے ساتھ کھیل میں شریک ہونے کیوجہ سے رمضان کے روزے چھوڑرہے ہیں جو فرض ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی رکن بھی ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,866
    بارک اللہ فیک ۔بہت عمدہ ۔ اس کی دلیل آپ ﷺ کا اور صحابہ کرامؓ کا آخری عشرہ میں جاگنا اور عبادت کرنا بھی ہے ـ اس کا مطلب ہے باقی رمضان کے دنوں میں وہ اپنی زندگی کی باقی مصروفیات عام دنوں کی طرح جاری رکھتے تھے ـ مصروفیات کم کرنا ، آپنے آپ کو محدود کردینا ـ دینی و دعوتی و دنیا وی سرگرمیاں معطل کردینا ٹھیک نہیں ـ اسی طرح کھیل بھی ہے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  8. حسیب رزاق

    حسیب رزاق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏فروری 8, 2013
    پیغامات:
    103
    اکثر کھلاڑی واقعی روزہ نہیں رکھتے لیکن کچھ رکھتے بھی ہیں جیسے یونس خان کے بارے میں خبر سنی تھی کہ روزہ رکھ کر ہی میچ کھیلتے ہیں واللہ اعلم
    جس طرح ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے کہ نہ ہی سارے لوگ نماز پڑھتے ہیں اور نہ ہی سارے روزہ رکھتے ہیں اسی طرح ہی کھلاڑیوں میں بھی ہوتا ہے وہ بھی ہمارے معاشرے سے ہی تعلق رکھتے ہیں تراویح کے بارے میں خبر آئی تھی کہ سرفراز احمد (جو کہ حافظ ہیں) کی امامت میں کھلاڑی تراویح پڑھتے ہیں
    حسن ظن رکھا جا سکتا ہے کہ باقی نمازیں بھی پڑھتے ہوں گے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  9. حسیب رزاق

    حسیب رزاق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏فروری 8, 2013
    پیغامات:
    103
    یہ حدیث کس طرح آپ فٹ کر رہے ہیں؟؟؟
    اگر ان کھلاڑیوں پر یہ حدیث فٹ ہوتی ہے تو پھر آپ پہ بھی ہو جاتی ہے کفار بھی موبائل ، کمپیوٹر وغیرہ استعمال کرتے ہیں اور آپ بھی کر رہے ہیں
     
  10. نیر مدنی

    نیر مدنی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 13, 2013
    پیغامات:
    94
    موبایل اتصال کا ایک ذریعہ ہے اس کی وجہ سے ارکان وفرئض نہیں چھوڑا جاتا ہے ۔۔ پہلے حدیث کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کیجئے اس کے بعد کسی پر حکم لگانے کی ہمت کرو اگر حدیث سمجھ میں نہ آے تو سوال کرکے کسی صاحب علم سے پوچھ لیا کرو ۔رمضان کا روزہ اسلام کا ایک رکن ہے اس رکن کو بغیر کسی عذر شرعی کے چھوڑنا جائز نہیں ۔رمضان کے روزے کے سامنے کھیل کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔اللہ عقل سلیم عطا کرے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بھائی میری ناقص رائے کے مطابق حدیث کا اطلاق ان پر ہوتا ہے کیوں کہ جسطرح غیر مسلم رمضان کے مہینے میں روزہ نہیں رکھتے اور کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں اسی طرح یہ لوگ بھی رمضان کا تقدس نہیں کررہے ہیں۔
    باقی رہا مسئلہ موبائل کا تو ان کا تعلق دنیاوی امور سے ہے اور جیسے کے نیر مدنی بھائی نے کہا وہ تو ایک ذریعہ ہے۔ اگر آپ اسی سوچ پر قائم رہتے ہیں تو پھر ہمیں سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور بذات خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں تلواروں اور جنگی الات سے لڑائی کی اور کفار نے بھی تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ تلواروں سے لڑائی غیر اللہ سے مشابہت ہے ؟
    اللہ ہم سب کو ہدایت کرے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,866
    یاد رہے کہ مجھے کرکٹ سے صرف اتنی دلچسپی ہے کہ کرکٹ انفور پر اپ ڈیٹ پڑھ لیا کروں ـ اس کے علاوہ نہیں ـ
    بلکل یہ حدیث یہاں فٹ نہیں ہورہی ــ معلوم نہیں معترض نے کیسے حکم لگا دیا ہے ـ اللہ بہتر جانتا ہے ـ یہ حدیث کیسے یہاں فٹ ہوتی ہے ـ ہم انتظار کرتے ہیں کہ وہ ہمیں تفصیل سے سمجھا سکیں ـ ورنہ بچارے گیارہ یا سترہ کھلاڑی شبہ میں مارے گئے ـ سمجھنے کی بات ہے ، وہ نما ز تو پڑھتے ہی ہوں گے ـ ان میں سے بہت سےر وزہ بھی رکھتے ہوں گے ـکرکٹ میچ ہفتہ میں ایک ہوتا ہے یا مہینہ میں چار ہوں گے ـ یا زیادہ سے زیادہ چھ ہو جائیں گے ـ کیا باقی دن بھی انہوں نے روزے نہیں رکھے ؟ اگر جواب نہیں رکھے تو ثبوت دیں ؟ اگر چند روزے چھوڑ بھی دیے تو اس سے گناہ ہو گا ـ تلافی ممکن ہے ـ علماء فتوی دیتے ہیں کہ اگر دن میں سخت یا بھاگ دوڑ والا کام کرتے ہیں تو روزہ نا رکھیں ـ بعد میں رکھ لیں ؟ کیا اس طرح کا عذر ان کے لئے نہیں بن سکتا ؟ آخری بات یہ کہ کیا انہوں نے روزے کی یا نماز کی فرضیت کا نکار کیا ہے، جس سے کوئی حدیث فٹ ہو ؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,866
    شاہ صاحب ـ غیر مسلم کےرمضان میں روزہ نا رکھنے سے رمضان کے تقدس پر کوئی فرق نہیں پڑتا ـ اور نا من تشبہ بقوم فھو منھم والی حدیث فٹ ہوتی ہے ـ اگر دلیل بھی بنانی ہے تو اس طرح بنائیں کہ غیر مسلم کرسمس یا دیوالی پر کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں ـ مسلمان بھی ایسا کررہے ہیں ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  14. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ہمم بات تو بالکل صحیح ہے !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    و علیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بہت اچھی تحریر ہے۔ کرکٹ یا کھیل سے دلچسپی بری بات نہیں ہے، بلکہ میرے خیال میں کھیلوں کا مشغلہ، فلموں ڈراموں سے بہتر ہے، لیکن مشغلہ فارغ وقت کی دلچسپی کو کہتے ہیں۔ رمضان کے قیمتی لمحات میں جن کے پاس "فارغ" وقت نکل آئے ان پر حیرت ہے۔ افسوس تو ہوتا ہے جب کھلاڑی اور میچ دیکھنے والے بھی نمازیں ضائع کرتے ہیں۔
    بعض خوش فہم لوگ تو کہہ رہے ہیں رمضان کی برکت سے جیتے! یہ کیسی برکت ہے؟
    یہ بات ٹھیک ہے مسافر کو روزے معاف ہیں لیکن رمضان میں صرف کھیلنے کے لیے سفر کرنے کا کیا حکم ہے یہ بھی سوچنا چاہیے۔ رمضان کے روزے مذاق نہیں دین کا اہم رکن ہیں۔اگر کسی پیشے میں دین پر عمل نہیں ہو سکتا تو اللہ نے روزی حاصل کرنے کے اور بہت سے وسیلے رکھے ہیں مسلمان کو پیشہ اختیار کرتے وقت دین کو سامنے رکھنا چاہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    حسن ظن اپنی جگہ ایسے تلخ حقائق بھی عام مشاہدے میں آتے ہیں۔
     
  17. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    مشغلہ کی نظر سے دیکھا جائے تو واقعی افسوس کا مقام ہے لیکن قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے یہ مشغلہ سے زیادہ حلال طریقے سے روزی کمانا اور ملک و قوم کا نام روشن کرنا ہے۔لیکن جیسے کسی اور جاب میں نماز اور روزہ معاف نہیں ہوتے ویسے ہی یہاں بھی نہیں ہو سکتے۔ اگر وہ اپنی غفلت کی بنا پر دینی فرض چھوڑ رہے ہیں تو کرکٹ یا کھیل بے چارے کا کیا قصور ۔یا کسی اور کے ذہن میں یہ بات بھی کیوں آئے کہ شاید اس پیشہ مین دین پر عمل نہین ہو سکتا ۔ ہمارے ہاں تو ویسے ہی لوگ تیار بیٹھے ہوتے ہیں کسی بھی چیز کے نشے میں مبتلا ہو جانے کے لیے ۔چاہے وہ کرکٹ کا نشہ ہو ، موبائل ، فیس بک یا پھر کوئی اور چیز ۔ اعتدال میں رہ کر اور نفس کو قابو رکھ کر کام نہین کریں گے توآپ کا اپنا قصور ہے ۔ پوری انڈسٹری کو کیوں دوش دیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,321
    سسٹر پہلی بات تو یہ کہ اس بارے میں علماء سے رائے لینی چاہئے کہ کسی بھی کھیل کو بطور پیشہ اختیار کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

    کرکٹ سے بندے کو بھی کافی دلچسپی ہے. لیکن اسے کبھی اپنی روز مرہ کی مصروفیات عبادات وغیرہ میں حائل نہیں ہونے دیا.
    قصور کھیل کا نہیں بلکہ ان کھیلنے اور اسے دیکھنے والوں کا ہے جو اس کی وجہ سے سب کچھ پس پشت ڈال دیتے ہیں. اسی وجہ سے اکثر علماء کرکٹ کے کھیل کو ہی غیر اسلامی قرار دیتے ہیں.


    Sent from my SM-N910C using Tapatalk
     
    Last edited: ‏جولائی 25, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  19. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,866
    رمضان کے قیمتی لمحات میں کھیل کے لئے وقت نکالنا واقعی بری بات ہے ۔میرا خیال ہے کہ کوئی بھی شخص اس کو ٹھیک نہیں کہتا ۔ اس پر تو سب متفق ہیں ۔اعتراض صرف " حکم " لگانے پرتھا ۔
    اس کے علاوہ جہاں تک میرے علم میں ہے یہ آئی سی سی کا شیڈول ہے ۔ مرضی سے تبدیل نہیں کرسکتے ۔ اگر انکار کرتے ہیں تو جواب آئے گا کہ کرکٹ پہلے ہی پاکستان میں مردہ ہو چکی ۔ اصل بات یہ ہے کہ کرکٹ کھیلنا یا اس کے لئے سفر کرنا روزہ کے لئے بلکل مانع نہیں ۔ جس طرح کسی شخص کا اپنے کاروبار کے لئے سفر کرنا ہے ، روزہ کا وقت صبح صادق سے غروب آفتاب تک ہوتا ہے ـ اگر وہ لوگ روزہ رکھ لیتے ہیں ـ تو کہیں بھی رہیں ـ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ـمزید روزے کو مذاق بناتے ہیں ـ اگر وہ یہ کام دانستہ اور جان بوجھ کرکرتے ہیں تو غلط ہے ـ اگر جہالت سے کرتے ہیں تو پھر مذاق والی بات بھی صحیح نہیں ـ پہلے ان کی جہالت دور کی جائے ـ اگر مجبور ہیں تو پھر عذر ہے ۔ رہی بات پیشہ تبدیل کرنے کی ۔ ظاہر ہے کہ ہر شخص پیشہ تبدیل کر کے اس پیشے میں نہیں آسکتا جس میں دین پر عمل آسان ہو ۔اور کوئی مشقت یا رکاوٹ نا ہو ۔ بہتر یہ ہے کہ انسان کسی بھی پیشے میں رہے ،اس کویاددہانی کروائی جائے اور اسے خود بھی یاد رہے کہ وہ بہ حیثیت مسلمان اللہ کے احکام کو نا بھولے ۔نماز وروزہ کی پابندی کرتا رہے ۔ اگروہ جان بوجھ کر غفلت میں پڑے گا ۔ تو اللہ کی معصیت کا مرتکب ہوگا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  20. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جزاک اللہ خیرا ۔ میرے کہنے کا بھی یہی مقصد تھا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں