"اسرائیل" کو گالی دینا یا لعنت کرنا درست نہیں ـ

ابوعکاشہ نے 'معلومات عامہ' میں ‏جولائی 23, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,925
    "اسرائیل" کو گالی دینا یا لعنت کرنا درست نہیں ـ

    بعض لوگ یہودیوں سے نفرت کی بناء پر لفظ " اسرائیل " کو استعمال کرتے ہوئے گالی دیتے ہیں یا لعنت کرتے ہیں ـ یہ لوگ لا علمی کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں ـ اہل علم نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے ـ

    اس کے دوسبب بیان کیے جاتے ہیں :

    اولا : لفظ " اسرائیل" عبرانی زبان کا لفظ ہے ، اس کا معنی " اسراء یعنی عبد" اور " ایل یعنی اللہ "

    ثانیا : یہ یعقوب علیہ السلا م کا نام تھا :
    دلیل اللہ کا یہ فرمان ہے :
    { كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلاًّ لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلاَّ مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ } آل عمرن/ الآيه 93
    توراة کے نزول سے پہلے (حضرت) یعقوب (علیہ السلام) نے جس چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا اس کے سوا تمام کھانے بنی اسرائیل پر حلال تھے، آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو توراة لے آو اور پڑھ کر سناؤ (93) ترجمہ : مولانا جوناگڑھی رحمہ اللہ

    اس لئے جو شخص بھی گالی دینا چاہے یا لعنت کرے تو وہ اس طرح کہ دیا کرے ـ" اللہ ان یہودیوں /صہونیوں پر لعنت کر"

    لفظ اسرائیل کے ساتھ گالی دینا یا لعنت کرنا غلط ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے " عبداللہ "(اللہ کا بندہ ) ، اور عبداللہ یہاں "یعقوب علیہ السلا م" ہیں ـ

    (عربی اقتباس سے ترجمہ کیا گیا )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 8
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    بارک اللہ فیک شیخ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. نیر مدنی

    نیر مدنی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 13, 2013
    پیغامات:
    94
    موجودہ وقت میں جواسرائیل ہے وہ ایک قوم ہے اسلام کی سخت ترین دشمن۔ یہ وہ اسرائیل نہیں ہے جس کا آپ تذکرہ کررہے ہیں ۔بلکہ قرآن میں بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کیگئی ہے ارشاد باری ہے :لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داود۔۔ المائدہ: 78۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    مطلب یہودیوں کے ملک کو بنی اسرائیل کہنا چاہیئے نہ کہ اسرائیل.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    حیرت ہے۔ مذکورہ بالا قرآنی آیت میں لعن کا مفعول "اسرائیل" (اللہ کا بندہ) نہیں "الذین کفروا من بنی اسرائیل " (اللہ کے بندے کی اولاد میں سے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا) ہے۔ گویا لعنت کافروں پر پہے اسرائیل پر نہیں۔اس سے کیسے استدلال ہو رہا ہے؟

    اصل بات یہی ہے کہ یہودیوں نے اپنی ریاست کا نام اسی لیے اسرائیل جیسا مقدس لفظ رکھا ہے کہ مثبت تاثر دے سکیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ یہود پر لعنت کی جائے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جی متدین عرب اس کو اسرائیل کہتے ہی نہیں وہ کہتے ہیں یہ ملک ہی نہیں۔ جیسے ہم جموں و کشمیر کو مقبوضہ ہی کہتے ہیں، یا پاکستان بنانے والی نسل بنگلہ دیش کا نام نہیں لیتی تھی اسے مشرقی پاکستان ہی کہتے تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    جناب نیر مدنی صاحب محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے تھریڈ کو غور سے پڑے بغیر ہی کمنٹس دے دیے ہیں۔ اس تھریڈ کی بنیادی باتیں کیا ہیں۔
    1- بعض لوگ یہودیوں سے نفرت کی بناء پر لفظ " اسرائیل " کو استعمال کرتے ہوئے گالی دیتے ہیں یا لعنت کرتے ہیں ـ یہ لوگ لا علمی کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں ـ اہل علم نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے ـ
    2- لفظ " اسرائیل" عبرانی زبان کا لفظ ہے ، اس کا معنی " اسراء یعنی عبد" اور " ایل یعنی اللہ "
    3- یہ یعقوب علیہ السلا م کا نام تھا
    4-
    لفظ اسرائیل کے ساتھ گالی دینا یا لعنت کرنا غلط ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے " عبداللہ "(اللہ کا بندہ ) ، اور عبداللہ یہاں "یعقوب علیہ السلا م" ہیں
    5- اب جب ہمیں لعن کرنا ہو تو علماء نے کچھ ایسے لعن کرنے کا کہا ہے۔

    اس لئے جو شخص بھی گالی دینا چاہے یا لعنت کرے تو وہ اس طرح کہ دیا کرے ـ" اللہ ان یہودیوں /صہونیوں پر لعنت کر



     
  8. نیر مدنی

    نیر مدنی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 13, 2013
    پیغامات:
    94
    لفظ ،اسرائیل۔ کو کوئی گالی نہیں دیتا ہے کوئی لفظ کو گالی دیکر کیا کرےگا بلکہ اسرائیل سے وہی مراد ہیں جوفلسطین پرقابض ہیں اخباروں میں دیکھئے اسرائیل کی خبریں آتی ہیں یہاں اسرائیل سے مراد قوم ہے نہ کہ لفظ ۔فافھم جیدا
     
  9. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    جی بھائ لفظ کو تو نہیں لفظ کو استعمال کر کے گالی ضرور دیتا ہے۔ اور لفظ کا مطلب " عبد اللہ" بنتا ہے۔ جس کی جانب تھریڈ میں توجہ دلائ گئ ہے۔
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جی یہ بات درست ہے اس کو بحیثیت قوم برا کہا جاتاہے۔ بہرحال ہمیں درست مطلب کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ ایک مقدس لفظ ہے۔
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    مجھے اس آیت میں بنی اسرائیل اور اسرائیل کے فرق پر توجہ دلانی تھی۔
    جو لوگ عربی نہیں جانتے یا کسی اچھے استاد سے گہرائی میں تفسیر نہیں سیکھی ہوتی وہ اایسی کئی غلطیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر مختصر دورہ قرآن کو کافی سمجھ کر آگےچل پڑنے والے، ہونا یہ چاہیے کہ مزید مطالعہ جاری رہے، اس سال کم گہرائی سے پڑھا اگلے سال مزید اچھی تفاسیر کو رک رک کر دیکھا جائے قرآن ختم کرنے پر زور نہیں ہونا چاہیے قرآن سمجھنے پر زور ہونا چاہیے۔ ایسی غلطیاں مروجہ قرآن کلاس کے استاد سے شاگردوں میں منتقل ہو جاتی ہیں اور پھر غلطی اتنی عام ہو جاتی ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے تو یقین نہیں کرتے۔ مجھے خوشی ہے کہ اردو مجلس پر ایسے موضوعات پر بات ہو رہی ہے۔
    اچھا یہاں مولانا محمد جونا گڑھی رحمہ اللہ کے ترجمے کی خوبی بھی دیکھیے، کیسا مستند ترجمہ ہے صرف لفظی ترجمہ نہیں تفسیری گہرائی بھی ہے۔ ایسے مقامات کا موازنہ کچھ مقبول عام مترجمین سے کر کے دیکھیے معلوم ہو جائے گا کہ کہاں صرف زبان دانی ہے اور کہاں مکمل ترجمے و تفسیر کو سمو کر پیش کرنے کی ذمہ داری پوری کی گئی ہے۔
    مولانا مودودی کے اردو ترجمہ قرآن کو کچھ لوگوں نے انگریزی میں ڈھالا ہے انہوں نے بالکل واضح انداز میں بنی اسرائیل اور اسرئیل کا فرق ہضم کر لیا ہے۔
    All food (that is lawful in the Law revealed to Muhammad) was lawful to the Children of Israel, except what Israel made unlawful to themselves before the revelation of the Torah. Tell them: 'Bring the Torah and recite any passage of it if you are truthful.'
    یہاں دیکھیے دیم سیلوز کا لفظ بتا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کو پلورل سمجھ رہے ہیں جب کہ یہ ایک فرد کا نام ہے۔
    یہاں ڈاکٹر تقی الدین ہلالی اینڈ خان کا ترجمہ زیادہ بہتر ہے جو کہ ہمیشہ ہی زیادہ مستنداور بہتر ہوتا ہے
    All food was lawful to the Children of Israel, except what Israel made unlawful for himself before the Taurat (Torah) was revealed. Say (O Muhammad SAW): "Bring here the Taurat (Torah) and recite it, if you are truthful."
    اللہ رحم کرے ہم پر۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  12. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جزاک اللہ خیر
     
  13. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    جزاكِ الله خيرا سسٹر ام نور العین۔
     
  14. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    جزاک اللہ خیرا
    بات سادهى سی ہے اللہ ہمیں سمجه دے.آمین
     
    Last edited: ‏نومبر 10, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,925
    عجیب ہے ـ کس کو انکا ر ہے کہ ''اسرائیل'' سے مراد فلسطین پر"جو"(یہود) قابض ہیں ۔ یہاں بات ہورہی ہے کہ لفظ "اسرائیل" کے ساتھ گالی یا لعنت نہیں کرنی چاہے ۔ یہ یعقوب علیہ السلام کا نام ہے ۔ اس کی تعظیم ضروری ہے ۔ مسلمان تمام انبیاء کی تعظیم اور تقدس کا خیال رکھتا ہے ـ یہود ایسا نہیں کرتے دراصل یہ لفظ "لحن القول" میں سے ہے، اس کا ایک معنی یہ ہے کہ سننے والا یا پڑھنے والا اس لفظ کے پیچھے چھپے اصل معنی سے واقف نا ہو ـ اور کسی دوسرے شخص کے کئے گئے "حیلے " کو ناسمجھ سکے ، جس طرح یہود نے'' اسرائیل ''کے نام کے ساتھ کیا ہے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  16. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,925
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں