مسلم خواتین اور بازار

بنت امجد نے 'گوشۂ نسواں' میں ‏جولائی 27, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,568
    بسم اللہ الرحمن الرحیم​

    مسلم خواتین اور بازار

    کیا ہماری مسلم خواتین یہ جانتی ہیں کہ بازار ان جگہوں میں ایک ہے جہاں فتنوں کی کثرت اور اللہ کے ذکر سے اعراض ہوتا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

    " اللہ رب العزت کے نزدیک سب سے پسندیدہ جگہیں مساجد ، اور سب سے نا پسندیدہ جگہیں بازار ہیں ۔" (صحیح مسلم)

    آج کل بازاروں میں کیا ہوتا ہے ؟ اس کا جواب درج ذیل سطور میں ملاحظہ فرمائیں :

    ۱۔ بے پردگی

    ۲۔ مردوں اور عورتوں کا اختلاط اور باہمی لین دین

    ۳۔ بعض دکاندار اللہ تعالی کے خوف سے عاری اور انتہائی گندے اور خبیث مقاصد کے حامل ہوتے ہیں ، بالخصوص وہ دکاندار جو خواتین کے بازاروں میں کرتے ہیں ۔

    لیکن بسا اوقات خواتین ، عورتوں سے متعلقہ اشیاء کی خریداری کے لیے بازار جانے پر مجبور ہوتی ہیں ، اس سلسلے میں درج ذیل امور کا اہتمام ضروری ہے :

    ۱۔ خواتین بازار نہ جائیں الا یہ کہ کوئی بہت ہی سخت ضرورت ہو۔

    ۲۔ اگر کوئی خاتون بازار جائے تو مکمل اسلامی پردے میں ملبوس ہو کر ، اپنے کسی محرم مثلا شوہر، باپ یا بھائی وغیرہ کے ساتھ جائے۔

    ۳۔ دکان دار سے بھاؤ تاؤ نہ کرے بلکہ یہ کام اپنے محرم کے سپرد کر دے۔

    ۴۔ شوہر پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالے جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔

    نوٹ : یقینا یہ بات نہایت ہی افسوس ناک ہے کہ رمضان کی راتوں میں بالخصوص آخری عشرے میں بازار عورتوں سے بھرے رہتے ہیں ۔

    خواتین اور رمضان المبارک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  2. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    جزاک اللہ خیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جزاک اللہ خیرا ۔
    واقعی بازاروں سے زیادہ نا پسندیدہ بلکہ خواری والی جگہ کوئی اور ہو بھی نہیں سکتی ۔ بہت اچھے نکات ہیں ۔ مجھے یاد ہے بچپن میں والدہ محترمہ سے کے ساتھ کبھی کپڑے خریدنے کے لیے جانا ہوتا تو گھر سے ہی سمجھا کر جاتی تھیں کہ جس کام کے لیے جا رہے ہیں وہی کر کے واپس آنا ہے ۔ اور پھر مجال ہے کہ کسی غیر متعلقہ دکان پر چلے بھی جائیں۔ حالانکہ میں کہتی رہ جاتی تھی کہ کیا فرق پڑتا اگر کپڑے کے ساتھ ، جوتے کی دکان بھی دیکھ لیتے اور اس کے ساتھ والی جیولری کی دکان ۔
    محرم والی بات تو بازار کیا گھر سے جب بھی باہر نکلنا ہو تب یہی کوشش کرنی چاہیے کہ مرد ساتھ ہوں۔اور مردوں کے اندر بھی یہ احساس ذمہ داری ہونی چاہیے کہ خواتین کو اکیلا جانے پر مجبور نہ کریں ۔ان کے ساتھ جائیں ۔ آج کل کے زمانے میں اکیلے باہر جانا تو مجھے ویسے بھی آ بیل مجھے مار جیسا لگتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    جزاک اللہ خیرا بنت امجد بہت اچھا انتخاب ہے۔
    بالکل درست، بہت سی خواتین سمجھتی ہیں کہ وہ بارگیننگ کی ماہر ہیں حالاں کہ معاملہ برعکس ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    جی لیکن آج کل غیرت ڈیفیشنسی کا مرض عام ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  6. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    جزاکم اللہ خیرا
    اور آج کل ونڈو شاپنگ کا مرض بهی عام ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    اپنی اپنی آزمائش کی بھٹی میں سب جل رہے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں