گلے کی خرابی میں اینٹی بائیوٹکس لینا ضروری نہیں

عائشہ نے 'صحت و طب' میں ‏جولائی 29, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    ایک بہت اچھا بلاگ
    خراب گلے کے لیے اینٹی بائیوٹکس؟ سوچ لیں
    بشکریہ ڈان نیوز
    ہمارے معاشرے میں واقعی یہ ہو رہا ہے۔
    میں سیلف میڈیکیشن کے سخت خلاف ہوں، سردرد کی گولی بھی خود سے نہیں کھاتی لیکن مجھے ہمیشہ ڈاکٹرز کی طرف سے ہی اینٹی بائیوٹکس ملتی تھیں اینٹی بائیوٹکس لینا کوئی مذاق نہیں ہے۔ کورس کے دوران آپ معمول کی زندگی گزارنے سے بھی عاجز آ جاتے ہیں، تھکن، کمزوری اور بے بسی کی ملی جلی کیفیت ایک عذاب بن کر حملہ کرتی ہے۔ کئی لوگوں کی بھوک ختم ہو جاتی ہے یا متلی کی کیفیت ہوتی ہے۔ ایک وقت آیا تھا کہ میں گلے کی خرابی کی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس جانے سے ہی گھبرانے لگی تھی کہ اینٹی بائیوٹکس ہی ملیں گی جن کے بعد معدے کا درد لازمی تھا اس کے بعد معدے کے درد کی مہنگی دوائیں لینا لازمی تھیں اور یہ ایک شیطانی دائرہ تھا۔
    آخر کار ایک ای این ٹی سپیشلسٹ نے- اللہ ان کو خوش رکھے- میری ان آئے دن کے کورسز سے جان چھڑوائی اور یہ بتا کر حیران کر دیا کہ مجھے گلے کا سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا، : ) مجھے حیرت ہے کہ مختلف ڈاکٹرز نے ہمیشہ ایک ہی جیسی دوائیں دیں اور جس ڈاکٹر نے سب سے مختلف علاج تجویز کیا اس سے میں قریبا ایک سال سے کسی اینٹی بائیوٹکس کورس کے بغیر صحت مند زندگی گزار رہی ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جزاک اللہ خیرا ۔ بلکل صحیح تجزیہ کیا ۔ میرے ساتھ بھی ہمیشہ یہی ہوتا رہا ۔ یہاں تک کہ معدے میں السر ہو گیا ۔ اور اب ذرا سے تیز مسالوں سے حشر ہو جاتا ہے ۔ پھر پتہ چلا کہ اینٹی بائوٹکس کا تو کوئی تعلق ہی نہیں ۔ کہ گلے خراب کی عموما وجہ وائرس ہوتا ہے جس کے لیے آپ کو کسی دوائی کی ضرورت نہیں پڑتی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    دیکھیں نا کتنے لوگ ان لائق ڈاکٹرز کی جلدبازی کا شکار ہوئے ہیں۔مجھے بھی معدے کا بہت خیال رکھنا پڑتا ہے۔ پولن الرجی بھی معدے کو اپ سیٹ کرتی ہے اور دواؤں نے پہلے ہی اس کو متاثر کردیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    مجھے یاد آیا ایک بار مجھے السر ہو گیا تھا تب ڈاکٹر نے جامن کھانے کو کہا۔ اور اس کے علاوہ جو بھی بیریز کھا سکیں جیسے سٹرابیری، سرخ اور جامنی شہتوت وغیرہ۔ بہت مفید ہے، جلد ہی معدہ ٹھیک ہو گیا تھا۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک فرینڈ کو تکلیف تھی، ان کو بھی اس سے فائدہ ہوا۔ اسی دوران ایلوویرا جیل کا بھی پتہ چلا۔ اس کی جیل السرز کو فورا ٹھیک کرنا شروع کرتی ہے۔ آپ آزما کر دیکھیں، حیران رہ جائیں گی۔
    اس کے علاوہ مسلسل کمپیوٹر پر کام کرنے والوں کو، یا بیٹھ کر کام کرنے والوں کو تیزابیت کا مسئلہ ہو جاتا ہے۔ روزانہ سلاد کا ایک بڑا پیالہ کھا کر یہ مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔
    تیز مسالوں والی بات ٹھیک ہے۔ خاص طور پر پیکٹ والے مسالوں سے بچیں جن میں کھٹائی ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جزاک اللہ خیرا ۔ صحیح ۔ کمپیوٹرکے سامنے کام کرتے رہنے کے تو بے پناہ مسائل ہیں۔ سلاد کس طرح کا ؟بس کھیرا گاجر ؟ سٹرابیریز تو یہاں پر بہت اچھی ملتی ہیں ۔ ہم اکثر لے آتے ہیں ۔ کبھی شیک بنا لیتے ہیں ۔ جامن کبھی نہیں کھایا میں نے ۔ یہاں پر تو شاید دیکھا بھی نہیں ۔ انگریزی میں کیا کہتے ہیں ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    سلاد جیسا آپ کا جی چاہے۔ کچی اور ابلی ہوئی سبزیوں کا سلاد اچھا ہے، کبھی پروٹین کا اضافہ کر لیں، جیسےدالیں، نٹس، چنے وغیرہ ابال کر شامل کر لیں۔ جامن کو انگریزی میں کھانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی کبھی، نام ڈھونڈنا پڑے گا۔
    یہ اچھی بات ہے بیریز کی سب اقسام کھائیں۔ اس کے علاوہ ایلوویرا جیل اور گرین ٹی بھی بہت اچھی ہیں۔ایلوویرا میں نے گھر میں لگا لیا ہے۔ روز تازہ جیل مل جاتی ہے۔
    تو ایک موضوع شروع کر لیں صحت و طب سیکشن میں۔
     
    Last edited: ‏جنوری 24, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    یہ لیجیے
    https://en.wikipedia.org/wiki/Syzygium_cumini
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    ٹھیک ۔جزاک اللہ خیرا۔ یہ تو بینگن کی طرح کا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    یہ تو زیادتی ہے بھئی۔ کہاں بینگن اور کہاں ہمارے سویٹ سے جامن! سوائے رنگ کے ان میں کچھ بھی مشترک نہیں!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    ارے نہیں بینگن تو اتنے مزے کے ہوتے ہیں ۔ذائقہ تو یقینا مختلف ہی ہو گا کہ ایک پھل ہے اور ایک سبزی لیکن جو جامن کا لنک دیا تھا اس میں ایک تصویر بلکل بینگن جیسی ہی تھی ۔ یا پھر شاید یہاں پر بینگن بھی ایسے ہے چھوٹے گول مٹول ملتے ہیں ۔

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    آپ نے واقعی کبھی جامن نہیں کھایا یا مجھے تنگ کر رہی ہیں؟ :ROFLMAO: ہنسی نہیں رک رہی میری۔
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  13. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    [​IMG]
    میرے گھر میں جامن کا درخت موجود ہے۔ اس کا پھل زیادہ سے زیادہ 15 سے بیس دن تک رہتا ہے۔ تصویر اپلوڈنگ میں شاید کوئی مسئلہ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    یہاں آپ کے پیغام والی تصویر نظر نہیں آ رہی۔
    @انا آپ نے جو تصویر شئیر کی ہے جامن ہی ہے لیکن آپ اس کو مٹر سے کچھ بڑا اور چھوٹے لیموں سے کچھ چھوٹا تصور کریں تو جامن کی درست تصویر سمجھ آئے گی۔
    ویسے مٹر اور لیموں سے ہوتا ہوا تصور جامن تک کیسے پہنچے گا، سارے رنگ خلط ملط ہو جائیں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  15. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    اچھا ویسے حجم تو صحیح معلوم ہو گیا : )
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  16. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    جی بالکل اینٹی بائیوٹکس لینا ضروری نہیں، بلکہ آپ اپنے کچن میں دستیاب اشیاء سے مفید اینٹی بائیوٹک سیرپ بنا سکتے ہیں، پچھلے ایک ہفتے سے موسم میں تبدیلی کی وجہ سے میرے گلے میں انفیکشن ہو گیا تھا، سخت بخار اور کھانسی اور زکام، ہاسپٹل گیا تو انہوں نے ہائی پوٹینسی کی اینٹی بائیوٹکس تھما دیں۔

    سک لیوو کے لئے میڈیکل رپورٹ لینا تھی ورنہ اینٹی بائیوٹکس کے استعمال سے حتی الامکان کوشش کرتا ہوں کہ بچا جائے۔ خیر دوائی تو استعمال نہیں لیکن کھانسی بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ سانس لینے سے بھی سینے میں تکلیف ہوتی۔ ایک دوست نے کہا کہ گھر میں موجود اشیاء سے خود اینٹی بائیوٹک سیرپ بنائو، جس کی ترکیب یہ ہے:

    ادرک ایک چھٹانک، دار چینی کے دو چھوٹے چھلکے، لونگ تین سے چار، ہلدی ایک چٹکی ، حسب ذائقہ چینی، ان سب کو دس سے پندرہ منٹ ہلکی آنچ پر پانی کے دوگلاس میں پکانا ہے، جس برتن میں پکا رہے ہیں وہ سٹیل کا نہ ہو، تانبے کا ہو تو بہتر ہے۔ پکانے کے بعد اس پانی پر ہرا دھنیا چھڑک دیں اور گرم گرم نوش فرمائیں۔ تین چار گھنٹے بعد دوبارہ ایک گلاس گرما گرم پی لیں۔

    ان شاء اللہ پہلی خوراک لینے کے پندرہ بیس منٹ بعد ہی افاقہ محسوس ہوگا۔ اور دو تین خوراکیں استعمال کرنے کے بعد بھلے چنگے ہو جائیں گے۔ خیال رہے کہ اس کا اثر کافی گرم ہے۔ تین بار سے زائد نہ لیں اور بچوں کے لئے اجزا کی مقدار کم کر دیں۔
     
    • مفید مفید x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  17. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    دیکھنے میں چٹپٹا سیرپ لگ رہا ہے۔
    کھانسی کو لمبے عرصے تک نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں