شکاری اور شکار

بابر تنویر نے 'طنزیہ و مزاحیہ نثری تحریریں' میں ‏اگست 11, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,320
    کیا بتائیں کیا پھرتی، چستی اور چالاکی پائ تھی اس نے۔ دم بھر کو کچن میں ٹھرا نہ کمرے میں ایک پل۔ کبھی یہاں تو کبھی وہاں کبھی کمرے میں اور کبھی کسی باتھ روم میں۔ ہم پیچھے پیچھے اور وہ آگے آگے۔

    ایک بار بیٹی نے کہا کہ وہ ہمارے کمرے میں ہے۔ تو پھر کیا تھا جناب ہم نے کمرے کو بند کرلیا دروازے کے نیچے سے جانے والے راستے کو کپڑے سے بند کر لیا۔ اور پھر بچیوں کے بیڈز کے نیچے سے تمام سامان کو اٹھا کر اوپر رکھ لیا۔ ڈریسنگ رومز اور الماریوں کو کمرے کے بیچ کر دیا اور پھر اس کی تلاش شروع کردی۔ ذرا تصور کیجیے کیسی مضحکہ خیز صورت حال تھی وہ بھی۔ ایک چپل ہمارے ہات میں اور ایک صاحبزادے کے ہاتھ میں۔ ہم نے الماریوں کے اندر، ڈریسنگ ٹیبل کی درازوں میں ہر جگہ اسے تلاش کیا لیکن اس نے نہ ملنا تھا اور نہ ہی ملا۔ اور ہماری اتنی ساری محنت رائگاں گئ۔

    اسے پکڑنے کے لیے ایک پنجرہ بھی بازار سے خرید لاۓ اور اس میں بسکٹ وغیرہ رکھ دیے۔ لیکن وہ ہم سے زیادہ سمجھدار نکلا۔ کھانے پینے کی بہت سے چیزیں پنجرے میں رکھی گئیں لیکن مجال ہے کہ اس نے پنجرے میں رکھی ہوئ کوئ چیز کھائ ہو۔

    اسی طرح ایک دن اسے پکڑنے کے لیے محمد تیمور صاحب بازار سے ایک گلو خرید لاۓ اور کچن کے درواز بند کرکے اس کے نیچے ایک گتے پر وہ گلو لگا دیا کہ وہ کچن میں تو ضرور آۓ گا۔ لیکن یہ تدبیر کچھ الٹی پڑ گئ بلکہ گلے پڑ گئ۔ ہمیں اس گلو والا سلسلہ معلوم نہیں تھا۔ رات کسی پہر ہم کچن میں گۓ تو ہمارا اپنا پاؤں اس گتے پر آگيا۔ عجیب صورت حال تھی وہ بھی۔ بچپن میں ہم ایک ٹانگ پر دوڑنے کا مقابلہ کیا کرتے تھے۔ کچھ اسی کی یاد آگئ۔ اب جناب ہم بھی اس گلو زدہ پاؤں کو اوپر کرکے دوسری ٹانگ پر اچھلتے اچھلتے باتھ روم کی جانب روانہ ہوۓ اور کوئ ایک گھنٹے کی محنت شاقہ کے بعد اپنے پاؤں اس گلو کی گرفت سے آزاد ہوۓ۔

    دن گذرتے رہے صبح کے تھکے ہوۓ جب گھر واپسی ہوتی تو کبھی یہ اطلاع ملتی کہ اسے کچن میں دیکھا گیا ہے یہ کبھی یہ خبر دی جاتی کہ وہ آج آپ کے کمرے کی الماری میں گھسا تھا۔ کبھی کبھار گھر والوں کی ناراضگی کا سامنا بھی کرنا پڑا کہ اتنی چھوٹی سے چیز بھی آپ کے قابو میں نہیں آ رہی۔ بات بھی ایک حد تک درست تھی۔ اور کبھی ہمیں بھی غصہ آ جاتا ہم کہتے کہ آپ سب مل کر بھی اسے پکڑ نہیں سکے تو مجھ اکیلے کی کیا اوقات۔

    اور پھر آخر کار وہ دن آ ہی گیا کہ آپ ہی اپنے دام میں صیاد آ گیا۔ اور اس کے دام میں آنے میں ہماری کوئ بہادری کوئ تدبیر نہیں تھی بلکہ اس کی اپنی ہی غلطی تھی۔ کچھ دنوں سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ وہ آجکل ہمارے کمرے کے چکر کچھ زیادہ ہی لگا رہا ہے۔ ایک دوپہر ہم سونے کے لیے لیٹے تو سائڈ ٹیبل کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا ہم نے اسے بند کردیا۔ کچھ دیر کے بعد چھوٹی بیٹی وہاں سے کچھ نکالنے کے لیے آئ تو دروازہ کھولتے ہی اسے بند کردیا اور چلائ کہ وہ اندر بیٹھا ہوا ہے۔ ہم نے محمد تیمور صاحب کو بلایا کہ یار اسے سائڈ ٹیبل سمیت باہر لے جاؤ اور پھر کسی میدان میں جاکر اسے قید زندگی سے آزاد کردو ورنہ یہ کسی اور کے گھر جا کر مصیبت کھڑی کردے گا۔

    ذرا تصور کیجیے چھٹانک بھر چیز اور کوئ 8 کلو کا سائڈ ٹیبل۔ صاحـبزادے نے اسے لے جاکر گاڑی میں رکھا اور کھلے میدان میں جا کر رکھ دیا۔ سائڈ ٹیبل کا دروازہ کھلنے کی دیر تھی کہ اس نے ایک لمبی چھلانک لگائ اور اس سے پہلے کہ صاحبزادے کوئ ایکشن لیتے وہ سامنے والے گھر کی جانب دوڑا اورمین گیٹ کے راستے ان کے گھر میں داخل ہوگیا۔

    ہمیں معلوم نہیں کہ وہ اب کس حال میں ہوگا لیکن اتنا جانتے ہیں کہ اگر وہ بقید حیات ہوا تو اس گھر والوں کی حیات کو اس نے اجیرن کر کرکے رکھا ہوگا۔ اور وہ بھی اس سے چھٹکارا پانے کے لیے مختلف تراکیب آزما رہے ہوں گے۔

    میرا خیال ہے کہ اب تک قارئین جان چکے ہوں گے کہ ہم کس کا ذکر کر رہے ہیں۔ اس لیے بتانے کی کو ضرورت نہیں۔
     
    Last edited: ‏اگست 11, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,322
    واہ کیا بات ہے جناب !
    بہت خوب
    آپ کے اس پرلطف مضمون کو اگر الیاس قادری کی کتاب جنات کا بادشاہ میں شامل کیا جائے تو کیا خوب ہوگا :(
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,322
    ویسے یہ چوہا لگ رہا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    ہم تو جان ہی چکے ہیں ۔ لیکن اتنے ذہین شکار کی اتنی دہشت ہے ۔ کہیں اس کا نام نہیں آیا ۔یہاں تک کہ وہ کسی اور کے گھر میں داخل ہو گیا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    واہ کیا داستان ہے! خوب۔
    ایسا شکار جو کبھی شکار ہی نہ ہوسکا :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,320
    جی درست فرمایا. عنوان کا بنیادی خیال بھی یہی ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,119
    زبردست داستان غم
    توبہ یہ چوہا کیا خوب تها سائز میں نہایت چهوٹا گذرتا تو محسوس ہوتا کہ کچه گذرا ہے پورے گهر میں اس کو آزادی سے گهومنے سے کوئی نہ روک سکا.
    جب خبر ملی کہ یہ سائیڈ ٹیبل میں ہے میں نے کہا کہ ٹیپ سے پیک کر کے اس ایسے باہر لے جاؤ ورنہ یہ پکڑے جانے کی چیز نہیں .بیٹے نے بتایا کہ گولیوں کے خالی پیکٹ میں گهس گیا تها
    جب اس پیکٹ کو نکال کر اوپر پتهر مارا تو لنگڑا کر سامنے کے گهر میں گهس گیا.
    یہ انوکها ہی چوہا تها سائز کے اعتبار سے اور رنگ بهی بدلتا تها کبهی گرے اور کبهی کالا.
    میں تو اب تک سوچتی ہوں کہ کیا یہ چوہا ہی تها.......
    بس ایک خیال آیا کہ پچهلے گهر کی ڈک میں میں بہت چوہے تهے یہ بلڈنگ تو صاف ستهری ہے یہاں نہیں ہو سکتے بس پهر یہ مصیبت نازل ہوئی....
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...
Similar Threads
  1. m aslam oad
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    1,619
  2. اہل الحدیث
    جوابات:
    6
    مشاہدات:
    3,565
  3. شفقت الرحمن
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    1
  4. شفقت الرحمن
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    44
  5. کفایت اللہ
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    703

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں