ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک یزید سے متعلق معتدل قول

ابوعکاشہ نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اکتوبر، 12, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,860
    ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک یزید بن معاویہ ؓ سے متعلق معتدل قول
    (تحریر : کفایت اللہ سنابلی )

    (یزید کے تعلق سے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے معتدل قول کی مزید وضاحت ـ جسے سمجھنا ضروری ہے ـ )

    یزید سے متعلق ابن تیمیہ نے لوگوں کا جو موقف پیش کیا ہے ـ افسوس ہے کہ بعض لوگ اس کی غلط ترجمانی کرتے اور خود ابن تیمیہ کی طرف ایسا موقف منسوب کرتے ہیں ، جو فی الحقیقت ابن تیمیہ کا موقف ہے ہی نہین ـ ذٰیل مین ہم ابن تیمیہ کا اصل موقف پیش کرتے ہیں اـ ابن تیمیہ نے یزید کے تعلق سے لوگوں کا جو موقف نقل کیا ہے ـ سب سے پہلے وہ ملاحظہ فرمائیں ـ
    یزید کے متعلق تمام لوگوں کے تین موقف بتائے ہیں ـ
    1-یزید کافرتھا ،منافق بن کر مسلمانوں کے ساتھ تھا (روافض)
    2-یزید صحابی تھا اور ولایت بلکہ نبوت کے درجہ پر فائز تھا(اکراد)
    3-یزید صحابی تھا نا نبی ـ بلکہ ایک مسلمان شخص تھا(اہل سنت والجماعت)

    ابن تیمیہ نے پہلے اور دوسرے موقف والوں (روافض اوراکراد)کو گمراہ اوراہلسنت و الجماعت سے خارج قراردیا ہے اورتیسرے موقف کو اہل علم،اہل عقل اوراہل سنت والجماعت کا موقف بتلایا ہے ـ پھریزید سے متعلق اہل سنت کے بھی تین گروہ ذکرکیے ہیں
    1-اہل علم واہل عقل اوراہل سنت والجماعت کاپہلاگروہ:
    یزید ملعون ہے ـ محبت کے لائق نہیں ـ اس کی وجہ سے حسینؓ کی شہادت ہوئی اور واقعہ حرہ میں اس نے اہل مدینہ پر مظالم ڈھائے
    2- اہل علم واہل عقل اوراہل سنت والجماعت کادوسراگروہ:
    یزید مغفور ہے ،ہماری محبتوں کا مستحق ہے ـ قتل حسین میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ـ واقعہ حرہ میں اصل خطاکار اہل مدینہ ہی تھے ـ یزید کی کاروائی کو زیادہ سے زیادہ اجتہادی خطا کہا جا سکتا ہے ـ اس کے اندرکئی نیکیاں اوراچھی و قابل تعریف صفات تھیں ـ بلکہ غزوہ قسطنطنیہ اس کی عظیم الشان نیکی ہے ـ
    3- اہل علم واہل عقل اوراہل سنت والجماعت کا تیسراگروہ:
    یزید کے اندرنیکیاں اوربرائیاں دونوں تھیں ـ اس نے قسطنطینہ پر پہلا حملہ کر کے عظیم الشان نیکی انجام ی ـ لیکن اہل مدینہ پر لشکرکشی کر کےسخت غلطی کی ـ تاہم یزید کو برابھلا کہیں گے نہ اس سے علی الاطلاق محبت کریں گے ـ اورمحبت نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے جو ظلم ہوئے ـ اسے پسند نہیں کریں گے ـ بلکہ برات کا اظہارکریں گے ـ البتہ اس کی دیگر نیکیوں اور اعمال صالحہ کی ستائش کریں گے اور اس پہلو سے وہ ہماری محبتوں کا مستحق بھی ہے ـ تاہم اولیاء اللہ جیسی محبت اس سے نہیں کی جائے گی ـ

    امام ابن تیمیہ نے اس آخری موقف کو معتدل قراردیا ہے ـاب ابن تیمیہ کے الفاظ دیکھتے ہیں :
    "یزید بن معاویہ کے سلسلے میں لوگوں کی تی جماعتیں ہیں ـ دو افراط و تفریط کا شکار ہیں اورایک راہ اعتدال پر ہے ـ تفریط کی شکار کا موقف یہ ہے کہ یزید کافراور منافق تھا ـ اس نے حسینؓ کا قتل کیا ـ تاکہ اللہ کے رسولﷺ سے بدلہ لے سکے اور اپنے رشتہ دار عتبہ،شیبہ اور خالد وغیرہ ـ جو علیؓ اوردیگرصحابہ کے ہاتھوں جنگ بدروغیرہ میں قتل کیے گئے تھے ـ ان کے خون کا قصاص لے سکے ان لوگوں نے کہا کہ اس کے اندربدرکا کینہ اور جاہلی آثارتھے ـ ان لوگوں نے یزید کی طرف یہ اشعار بھی منسوب کیے ـ جب یہ قیدی اور مقتولین نمودار ہوئے اور قریب آئے ـ یہ سرجب جبرون(باب دمشق) کی بلندی پر پہنچے ـ کوے نے آواز لگائی تو میں ن کہا ، تو نوحہ کریا مت کر ـ میں نے نبی سے اپنا قرض وصول کرلیا ہے (ابن تیمیہ کہتے ہیں ) ان لوگوں نے یہ بھی کہا یزید نے اشعار کو بطورمثال پڑھا جن اشعارکو ابن الزبعری نے احد کے موقع پر پڑھا تھا اور وہ اشعار یہ ہیں ـ کاش بدرمیں قتل ہونے والے میرے آباواجداد دیکھتے ـ نیزوں ک مار خزرج کی آہ وبکار و ہم نے ان کے بڑے بڑے لوگوں میں سےبھی کوئی قتل کرڈالا اور جنگ بدر میں قتل ہونے والوں کا بدلہ لے لیا ہے اور اب معاملہ برابر ہوگیا ـ (ابن تیمیہ کہت ہیں ) او اس جیسی دیگرخرافات منسوب کی گئیں ـ یہ قول ان رافضہ کے لیے کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے جو ابوبکر ،عمر اور عثمانؓ کی تکفیر کرتے ہیں ـ ایسے میں یزید کی تکفیر کرنا تو ان کے لیے معمولی چیز ہے ـ
    "افراط کی شکار جماعت کا موقف یہ ہے کہ یزید بزرگ شخص اورعادل امام تھا ـ یہ ان صحابہ میں تھا ـ جن کی پیدائش اللہ کے رسول ﷺ کے دور میں ہوئی ـ اللہ کے نبیﷺ نے اسے اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور اس کے لئے برکت کی دعا کی ـ بلکہ بعض نے اسے ابوبکراور عمرفاروقؓ سے بھی افضل بتایا ـ حتی کہ بعض نے اسے نبی بھی بنا دیا ـ یہ لوگ شیخ عدی او حسن مقتول سے یہ جھوٹا قول نقل کرتے ہیں کہ ستر اولیا کے چہرے ان کی قبر میں قبلے سے پھیر دیے گے ـکیونکہ وہ یزید کے بارے میں توقف کرتے تھے ـیہ غالی عدویہ اور اکراد اور ان جیسے گمراہ لوگوں کا ہی قول ہے کیوں کہ شیخ عدی بن امیہ میں سے تھے اور یہ نیک ـ عبادت گزاراور فاضل تھے ـ ان کے بارے میں جو کچھ ملتا ہے وہ یہی ہے کہ انہوں اسی طریقے کی دعوت دی ہے ،جو شیخ ابوالفرج مقدسی کا طریقہ تھا ـ کیوں کہ ان کا عقیدہ ان کے عقیدے کے موافق تھا ـ لیکن ان کے طریقے میں لوگوں نے موضوع احادیث ،باطل تشبیہ ـ شیخ عدی اور یزید کے سلسلے میں غلو ،روافض کے بارے میں اس حد تک غلو کہ اللہ ان کی توبہ قبول نہیں کرے گا اور اس جیسی دیگر چیزوں پر مشتمل جھوٹی اور گمراہ کن باتیں شامل ہیں ـ (یزید کے سلسلے میں ) ان دونوں موقفوں کا باطل ہونا ہر اس شخص کے لیے ظاہر ہے جس کے پاس ادنی عقل اور حالات اور متقدمین کی سیرتوں سے کچھ بھی واقفیت ہے ـ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں موقفوں میں سے کوئی بھی موقف معروف اہل سنت والجماعت اور سنجیدہ اہل علم میں سے کسی کی طرف منسبوب نہیں ـ (مجموعہ الفتاوی ابن تیمیہ :4/482)
    امام ابن تیمیہ نے یزید سے متعلق پر مبنی روافض اور اکراد کے دونوں قول ذکرکرنے کے بعد تیسراموقف ذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں :
    "یزید کے متعلق تیسرا موقف یہ ہے کہ یہ مسلم بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا ،اس کی نیکیاں بھی ہیں اور غلطیاں بھی ـ اس کی پیدائش عثمانؓ کے دور میں ہوئی ـ یہ کافرنہیں تھا ـ لیکن اس کی وجہ سے حسینؓ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا اور اس نے اہل حرہ کے ساتھ کیا جو کیا ـ یہ صحابی تھا نہ اللہ کے بزرگ اولیاء میں سے تھا ـ یہی عام اہل عقل و اہل علم اور اہل سنت والجماعت کا موقف ہے "(مجموعہ الفتاوی ابن تیمیہ 4/483)
    بعض لوگ اس تیسرے قول کو علی الاطلاق ابن تیمیہ کا قول بتلاتے ہیں حالاں کے یہ غلط ہے ـ کیونکہ کہ ابن تیمیہ کے نزدیک اس تیسرے قول والوں کے بھی تین گروہ ہں ـ جن میں سے ایک یزید سے محبت کرنے والا ہے ـ یہ نہ تو قتل حسین می یزید کو سبب وار مانتا ہے اور نہ واقعہ حرہ کی وجہ سے یزید کو مطعون کرتا ہے ـ نیز یزید کی اچھی اور قابل تعریف صفات کامعترف ہےـ ابن تیمیہ نےیہاں تینوں گروہوں کے قول کو مجموعی طور پرنقل کیا ہے ـ جس سے تینوں گروہوں کی باتیں خلط ملط ہوگئی ہیں لیکن اس کے فورا بعد ابن تیمیہ ن اس تیسرے قول کے تینوں گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا :
    "پھراس تیسرے گروہ میں بھی تین گروہ ہیں ـ ایک گروہ ہے جو یزید پر لعنت کرتا ہے ـ دوسرا گروہ وہ ہے جو یزید سے محبت کرتا ہے اور تیسرا گروہ وہ ہے جو یزید کو برا کہتا ہے نہ تو اس سے محبت کرتا ہے ـ یہ قول امام احمد بن حنبل سے منقول ہے ـ حنابلہ اور دیگرتمام مسلمانوں میں سے متعدل لوگ اسی قول پر ہیں (مجموعہ الفتاوی 4/483)
    غورفرمائیے ـ یہاں پر تیسرے قول میں بھی تفصیل کی گئی ہے ـ اور تیسرے قول میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو یزید سے محبت کرتا ہے ـ نیز یہ گروہ قتل حسین میں یزید کو سبب وار نہیں مانتا اور نہ واقعہ حرہ کی وجہ سے یزید پر مطعون کرتا ہے ـ نیز یزید کی اچھی اور قابل تعریف صفات کا بھی یہ معترف ہےـ چنانچہ دوسرے موقع پرابن تیمیہ (المتوی 728ھ)نے یزید سے محبت کرنے والے اس گروہ کے موقف کی مزید تفصیل پیش کرتے ہوئے کہا :
    "یعنی جن لوگوں نے یزید سے محبت کو درست کہا یا یزید سے محبت کی ، جیسے امام غزالی اور علامہ دستی وغیرہم تو ان لوگوں نے اپنے موقف پردلیلیں دی ہیں ـ
    پہلی یہ کہ یزید نے صحابہ کےدور میں حکومت سنبھالی اورصحابہ نے اس کی پیروی ی اس کے اندراچھی صفات تھیں اور حرہ وغیرہ کے جس معاملے کو لے کریزید کو مطعون کیا جاتا ہے اس معاملے میں یزید نے اجتہاد کیا تھا اورزیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نے اجتہاد میں غلطی کی ـ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اہل مدینہ ہی نے بیعت توڑنے میں پہل کی اور ان کے اس عمل پر صحابہؓ مثلا عبداللہ بن عمرؓ وغیرہ نے نکیر کی ـ جہاں تک قتل حسین کا معاملہ ہے تو یزید نے نا تو اس قتل کا حکم دیا اور نا ہی اسے پسند کیا بلکہ قتل حیسن پر اس کی طرف سے رنج وغم کا اظہار ہوا اور قاتلین کی اس نے مذمت کی ہے ـ نیز حسینؓ کا سراس کے پاس نہیں لایا گیا بلکہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا ـاس موقف والوں کی دوسری دلیل یہ ہے کہ صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق اللہ کےنبی ﷺنے اس لشکر کو مغفورلھم یعنی بخشا ہوا کہا ہے ـ جو قسطنطینہ پر سب سے پہلے حملہ کرے گا اور جس لشکرنے قسطنطنیہ پر سب سے پہلا حملہ کیا ،یزید اس کا امیر تھا "(مجموع الفتوی 4/486)
    اس وضاحت سے معلوم ہواکہ یزید سے محبت کرنے والے اور اس کا دفاع کرنے والے گروہ کو بھی ابن تیمیہ نے اہل عقل واہل علم اور اہل سنت والجماعت کہا ہے ـ پھران موخرالذکر تین گروہ میں سے معتدل گروہ ابن تیمہ نے انہیں کہا جو نہ تو یزید کو برا کہتا ہیں اورنہ اس سے محبت کرتے ہیں لیکن اس معتدل گروہ کے یہاں یزید سے محبت نا کرن کا جومطلب ہے وہ ابن تیمیہ نے واضح کردیا ہے ـ چنانچہ کہا :"آئمہ میں سے معتدل لوگ یزید اور اس جیسے لوگوں کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ ہم انہیں براکہیں نہ ان سے محبت کریں کریں گے ـیعنی (محبت نہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ ) ان سے جومظالم صادرہوئے ہیں ،ان سے محبت نہیں کریں گے ـ ایک شخص کے اندراچھائیاں اور برائیاں ،طاعات اورمعاصی ، نیکی اورشردونوں جمع ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالی اس کے حسنات پرثواب دے گا اور برائیوں پراگرچاہے تو سزادے اور چاہے تو معاف کردے اور اس کے اعمال خیرسے محبت کرتا ہے اور اعمالِ شر کوناپسند کرتا ہے "(مجموع الفتاوی 4/ 475)
    یہاں ابن تیمیہ نے معتدل گروہ کے یہاں یزید سے محبت نہ کرنے کا یہ مطلب بتایا ہے کہ یزید سے جو ظلم ہوا اس سے محبت نہیں کی جائے گی ـ یعنی سرےسے یزید کی شخصیت اور اس کے دیگر اعمال صالحہ سے محبت کاانکارنہیں ہے ـ یادرہے کہ محبت نہ کرنے کے اس مفہوم کو ابن تیمیہ نے اس پورے گروہ کی طرف مسنوب کیا ہے ـ اس کا مطلب یہ ہے ہوا کہ تیسرا گروہ جو یزید کوبرا نہ کہنے کے ساتھ ساتھ اس سے محبت نہ کرنے کی بات کرتا ہے ،ان کی مراد یزید کی ذات سے محبت کا انکار نہیں ـ بلکہ یزید کے مظالم سے محبت کا انکار ہے ـ لیکن یزید سے محبت میں بھی اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ اس کی محبت کو اولیاء اللہ اور بزرگوں کی محبت کا درجہ نہیں دیا جائے گا ـ چنانچہ ابن تیمیہ (ف 728ھ)نے کہا "یزید آئمہ مسلمین کے نزدیک بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ ہے ـ اس سے اولیاء اللہ اور بزرگوں جیسی محبت نہیں کی جائے گی "(مجموع الفتوی 3/412)
    ابن تیمیہ کا یہ قول جہاں اس پر دلالت کرتا ہے کہ ان کی نظر میں آئمہ مسلمین کے نزدیک یزید سے اولیاء اللہ اور بزرگوں جیسی محبت نہیں کی جائے گی ـ وہیں یہ قول اس بات پر دلیل ہے کہ آئمہ مسلمین یزید سے مطلق محبت اس کا انکار نہیں کرتے ـ بلکہ یزید بھی اپنے مقام و مرتبہ کے لحاظ مسلمانوں کی محبت کا مستحق ہے ـ
    اس پوری تفصیل سے معلوم ہوا کہ ابن تیمیہ کی نظر میں یزید سے متعلق اہل سنت والجماعت کے تینوں گروہوں میں وہ گروہ معتدل ہے جو یزید کے اندر نیکیاں اور برائیاں دونوں مانتا ہے ـ یزید کو برابھلا نہیں کہا اور نہ علی الاطلاق اس سے محبت کا اظہار کرتا ہے ـ یعنی محبت نہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ یزید سے جومظالم ہوئے ہیں ،ان کی ستائش نہں کرتا اور نہ ان افعال کو محبوب سمجھتا ہے ـ البتہ یزید کی جودیگرنیکیاں اوراعمالِ صالحه ہیں ،انہیں محبوب سمجھتا ہے اور اس پہلو سے یزید کو محبت کے قابل بھی سمجھتا ہے ـ تاہم اس سے اولیاء اللہ جیسی محبت نہیں کرتا ـ بلکہ یزید جس مقا و مرتبہ کا مستحق ہے اسی اعتبار سے محبت کا قائل ہے ـ
    واضح رہے کہ اہل سنت کے سہ گروہی جماعت کے اس گروہ نے یزید کی طرف بعض مظالم کی نسبت میں تساہل سے کام لیا ہے اور اس سلسلے یں وارد روایات کی چھان بین اور مکمل تحقیق نہیں کی ـ ورنہ اگر یہ تحقیق کرتے تو یزید کی طرف بعض مظالم کی نسبت بھی نہ کرت اور نتیجتا یزید سے اس کی حیثیت کے اعتبار سے علی الاطلاق محبت کا موقف اپناتے ـ جیسا کہ اہل سنت کے سہ گروہی جماعت ہی کے ایک دوسرے گروہ کی رائے ہے ـ جو یزید سے ا سکے مقام کے اعتبار سے علی الاطلاق محبت کا قائل ہے ـ کیونکہ اس کی نظر میں یزید کی طرف منسوب یہ مظال ثابت ہی نہیں ہیں ـ اس گروہ میں سرفہرست امام غزالی ، علامہ دستی وغیرہم ہیں ـ جیسا کہ خود ابن تیمیہ نے اس گروہ میں اس کے نام پیش کیے ہیں ــ کمامضی ــ
    یاد رہے کہ کچھ لوگ جہالت یا انتہائی مکاری اور چالاکی سے یزید سے متعلق اہل سنت کے سہ گروہی جماعت سے یزید سے محبت اور اسکا دفاع کرنے والے گروہ ـ جن میں بقول ابن تیمیہ امام غزالی اور علامہ دستی وغیرہ کو اہل سنت میں شمارہی نہیں کرتے ـ بلکہ اس گروہ کو لے جا کر اس گروہ سے ملا دیتے ہیں ـ جسے ابن تیمیہ نے اکراد کہا ہے ـ اور انہین اہل سنت کے مخالف گروہ کے طور پر پیش کیا ہے ـ دراصل ابن تیمیہ نے یزید سے متعلق میں جن تین جماعتوں کا ذکر کیا ہے ـ ان میں سے افراط وتفریط والی دونوں جماعتوں روافض اور اکراد کو ابن تیمیہ نے اہل سنت میں شمار ہی نہیں کیا ـ بلکہ اہل سنت اس جماعت کو کہا ہے جو نہ یزید کو کافر کہتے ہیں اورنہ یزید کوصحابی یا نبی مانتے ہیں ـ اسی جماعت کو ابن تیمیہ نے اہل علم ،اہل عقل اور اہل سنت والجماعت کہا ہے ـ
    پھر امام ابن تیمیہ نے اہل سنت کی اس جماعت کے بھی تین گروہ بتلائے ہیں ـ پھر اسی میں اہل سنت کے اس گروہ کا ذکر کیا ہے جو یزید سے محبت کرتے ہیں ـ یہ گروہ بھی ابن تیمیہ کے نزدیک اہل علم ،اہل عقل اور اہل سنت والجماعت ہے ـ ان لوگوں میں ابن تیمہ نے امام غزالی اور علامہ دستی کا نام بھی پیش کیا ہے ـ کما مضی ـ
    ہمارے نزدیک اسی گروہ کا موقف راجح ہے کیونکہ یزید کی طرف منسوب جرائم اور مظالم ثابت ہی نہیں ہیں ـ اس لئے اس پہلو سے یزید کی تنقیص کا کوئی جواز نہیں ہے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • اعلی اعلی x 2
    • مفید مفید x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  3. اظہر عطاء

    اظہر عطاء رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 2, 2016
    پیغامات:
    10
    جزاکم اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    546
    جزاک اللّہ خیرا
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں