جانوروں پرشفقت....جانوروں سے پیار

ابو ہریرہ نے 'مجلس اطفال' میں ‏دسمبر 11, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو ہریرہ

    ابو ہریرہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 18, 2015
    پیغامات:
    42
    جانوروں پرشفقت....جانوروں سے پیار
    اعداد: طاہر نقاش
    کمپوزنگ: ابو ہریرہ
    پیارے بچو!ہمارے نبیﷺہمارے راہنما،بڑے ہی شفیق اور آپ کی سیرت بھی بڑی پیاری اور بہت اچھی ہے۔

    آپ جانتے ہیں کہ ہمارے پیارے رسول اللہﷺکے متعدد نام ہیں۔ انھی میں سے ایک نام’’رحمتہ اللعا لمین‘‘بھی ہے۔رحمت اللعا لمین کامطلب ہے’’تمام دنیا اور جہانوں کے لیے رحمت‘‘آپ شاید جانتے ہی ہوں کہ کائنات میں لاتعدا د دنیا آباد ہے‘مثلا:انسانوں کی دنیا‘صحراؤں کی دنیا اور پانی کی م دنیا‘الغرض!ہرقسم کی مادی اشیاء کی اپنی الگ دنیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان سب دنیاؤں کوپیدا کیااور رسول اللہﷺکو ان سب کےلیے رحمت بناکر بھیجا۔ہم دودھ پیتے ، گوشت،انڈا اور دیگر غذائیں کھاتے ہیں۔نپیر،کسی،مکھن،دہی ہماری پسند یدہ غذاہے۔ گھی سے نگا رنگ مٹھائیاں بناتے ہیں پتاہے یہ سب چیز کہاں سےحاصل ہوتی ہیں؟یہ سب چیزیں جانوروں سے حاصل ہوتی ہیں اوریہ غذائیں ہماری ذندگی کےلیے مفید بھی ہیں اورضروری بھی ہیں۔

    رسول اللہﷺکی آمد سے پہلے لوگ جانوروں پربہت ظلم کرتے تھے جس کی مختلف صور تیں تھیں ،ہمارے پیارے نبیﷺ نے جانوروں کے معاملے میں لوگوں کوبہت سمجھایا،ہدایات دی اور ان پر ظلم کاہرقسم کاسلسلہ بند کروا دیا۔اس طرح آپﷺکی ذات گرامی کائنات کی ہرچیز کے ساتھ ساتھ جانوروں کےلیے بھی رحمت بن کرآئی۔ایک فعہ رسول اللہﷺنے ایک اونٹ دیکھا جس کا پیٹ بھوک کی وجہ سے کمر سےلگ چکا تھا‘اونٹ کی یہ حالت دیکھا کر آپﷺکوترس آ گیااور فرمایا:لوگو!ان بے زباں کے معاملہ میں اللہ سےڈرو،ان پرسوار ہونا ہونا ہوتو اچھی حالت میں ہی ہواکرو‘اگر ان کا گرشت کھاؤ توبھی اچھی حالت میں کھایا کرو‘یعنی ان کرخوب کھلایا پلایا کروتا کہ یہ صحت مند نظرآئیں‘ایسامت کرو کہ بےچاروں پرسواری کا کام تولولیکن کھانے کوکچھ نہ دو۔ان کی صحت اور خوراک کا خیال نہ رکھو اورجب انتہائی کمزور ہوجائیں توذبح کرلوبلکہ ذبح کا بھی ارادہ ہوتو صحت مند ذبح کرکے کھایا کرو۔

    صحیح مسلم میں ہے کہ آپﷺنے ایک بار صحابہ کرام﷠کو بتایا کہ میں نے ایک عورت دوزخ میں دیکھی جس کا قصور یہ تھاکہ اس نے ایک بلی پال رکھی تھی اسے کھانے پینے کوکچھ نہ یتی تھی‘نہ وہ اسے کھولتی تھی کہزمین پرگری پڑی چیزیں کھالے اسی طرح وہ بے چاری بھوک سے تڑپ تڑپ کرمرگئی ‘اللہ تعالیٰ کو اس عورت کایہ ظلم انتہائی ناپسند آیا اورعورت کو دوزخ میں ڈال دیا۔

    ایک بار رسول اللہﷺسفرپر جارہے تھے۔آپﷺکے ہمراہ صحابہ کرام﷠تھے‘لشکر نےایک جگہ پڑاؤ کیااور کھانا پکانے کے لیے آگ جلائی اتفاق سے اس جگہ چیونٹیوں کابل تھا۔پیارے نبی ﷺ ادھر آئے چیونٹیوں کےبل پرآگ جلتی دیکھی تو فرمایا: ’’بجھاؤ بجھاؤ۔‘‘صحابہ﷢نے آگ بجھادی اور پھر آپﷺنے فرمایا کہ آگ کی سزادینا صرف اللہ کاحق ہے۔

    اس لیےنبی رحمتﷺنے جانور ہو یاانسان ....کھیت ہویا باغ، چاہےاپیاہویاجانی دشمن کا....اسےجلانے سے منع کیاہے۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم کیڑےمکوڑوں اورجانوروں کوجلانے سے پر ہیز کیا کریں۔کیونکہ یہ کام رسول اللہﷺکوناپسند تھا۔

    جاہلیت میں جب لوگ سفرمیں ہوتےکھانے کاسامان ختم ہوجاتاتو زندہ جانور کے جسم سے گوشت کاٹ کرکھالیتے جانور بےچارہ اس تکلیف کوکس دکھ کےساتھ سہتاہوگااس کاآپ خواندازہ لگاسکتے ہیں کہ پھرمہینوں یہ زخم ٹھیک ہونے میں نہ آتاہوگا۔

    ہمارے پیارے رسول اللہﷺنے جانوروں کاگوشت کاٹنے ورانہیں جان بوجھ کرکسی قسم کابھی زخم پہنچانے سےسختی سےمنع فرمایا۔آپﷺنےیہ بھی فرمایا:’’زندہ جانور کاگوشت کاٹ کرکھانا حرام ہے۔‘‘

    (سنن ترمذی)

    جاہلیت میں ایک دستور بھی تھا کہ جب بارش نہ ہوتی تولوگ گھاس پھوس جمع کرتے اور ایک دنبے کی دم کے پیچھے باندھ دیتے‘پھراس کوآگ لگا دینے دنبہ بے چارہ آگ کی حرارت سے آہستہ آہستہ جل جاتااور تکلیف سےادھر ادھر بھاگتا۔ان جاہل لوگوں کایہ خیال تھا کہ ایساکرنے سے بارش ہوجاتی ہے۔رسول اللہﷺنے اس رسم کوبھی سختی سے روکا۔ (سیرت النبی مولا ناشبلی)

    بعض لوگ دور جاہلیت میں جانور وں کی ناک ،کان یا دم کاٹ دیتے اورانہیں بتوں کے نام پر آزاد کردیتے ۔بعض یہ سمجھتے کہ اس طرح جانور کو نظر نہیں لگتی۔رسول اللہﷺنےجانوروں پرہونے والے اس ظلم کویہ فرما کربند کیاجوکسی جانور کا ناک کاں یاکوئی حصہ کاٹے اس پراللہ کی لعنت ہے۔ (صحیح بخاری)
    لعنت اللہ تعالیٰ کےانتہائی غصے کا نام ہے جوشخص بہت ہی برا کام کرے اس کےلیے یہ سزا ہے۔

    پیارےنبیﷺجانوروں کےچارے دغیرہ کا خصوصی خیالرکھے تھے۔آپﷺصدقے کے اونٹوں کواپنے ہاتھ سے چارہ ڈالا کرتےتھے اور پانی پلایاکرتےتھے۔ایک بارنبی رحمتﷺ مجاہدین کےساتھ سفرپرجارہےتھے‘آپﷺنےفرمایاکہ کون ہےجو ہمارےآگے جاکرحوض صاف کرکےپانی نکالنے کا انتظام کرے گا۔ جابراورجبار سحر﷠نےکہا:ہم یہ کام کریں گے‘چنانچہ وہ پہلےکنویں پرگئے اورصاف کرکےحوض کاپانی نکالا۔اتنی دیرمیں رسول اللہﷺاور صحابہ کرام﷢بھی پہنچ گئے آپﷺنےصحابہ کرام﷢سےپوچھا کہ اگر اجازت ہوتومیں پانی پی لوں۔صحابہ﷢نے اجازت دےدی تونبی اکرم ﷺنے پہلے اپنی اونٹنی کوپانی پلایا اور پھر خود پانی پیا۔(مسلم)

    کنونکہ نبیﷺکومعلوم تھاکہ انٹنی بے چاری بھی سفرکی تکلیف اٹھا کرمیرے ساتھ یہاں تک پہنچی ہے اس کوبھی پیاس لگی ہے۔

    پیارےبچو!آپ بھی جانوروں کےساتھ ویساہی اچھا برتاؤ کریں جیساکہ ہمارے نبی رحمتﷺنےکیا جیسے آپ نےنرمی کاحکم دیا اوربرتاؤ کیاو یسے کریں اور اللہ کےنز دیک اچھے انسان کہلائیں۔

    *……*……*
     
    • اعلی اعلی x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    ماشاءاللہ، بہت پیاری تحریریں منتخب کی ہیں۔ مصنف کا نام بھی لکھیے گا۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں