جہالت یا لا علمی

بابر تنویر نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جنوری 2, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,316
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
    اب ایسی بھی کیا دین سے دوری کہ اتنا بھی نہ معلوم ہو کہ مغرب کی فرض نماز میں کتنی رکعتیں ہوتی ہیں۔ اقامت کے بعد فرض نماز ہوتی ہے۔ اور باتھ روم چاہے حرم مکی کے نزدیک ہو پاک نہیں ہوتا۔ ان نوجوانوں سے کسی ڈرامے کا ، کسی ایکٹر کسی کرکٹر کے بارے میں پوچھیں تو کچھ ایسا محسوس ہوگا ان کے بارے میں سب انہوں سے حفظ کیا ہوا ہے۔

    1- آج سے کچھ عرصہ پہلے ابو عبدالرحمن جدہ سے ریاض تشریف لائے تھے۔ ہم انہیں ریاض شہر دکھانے کے لیے باہر نکلے ہوۓ تھے۔ گھر سے نکلے تو مغرب کا وقت ہوگيا۔ راستے میں ایک مسجد میں نماز کے لیے رک گۓ۔ نماز پڑھ کر واپس نکلے تو ابو عبد الرحمن کہتے ہیں کہ یار کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک مسلمان آدمی کبھی مسجد ہی نہ گيا ہو۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ کہنے لگے کہ جماعت شروع ہونے کے بعد میرے ساتھ دو نوجوان بھی آکے کھڑے ہوگۓ۔ امام نے سلام پھیرا تو دونوں میں سے ایک جوان چوتھی رکعت کے لیے کھڑا ہوگيا۔ اس کے سلام پھیرنے کے بعد ابو عبد الرحمن نے اس کہا کہ یار تم نے کونسی نماز پڑھی ہے؟

    کہنے لگا کہ مغرب کی۔

    ابو عبد الرحمن حیران ہوۓ اور کہا کہ مغرب کی نماز میں تو تین ہی فرض ہوتے ہیں۔

    وہ جوان تو خاموش رہا لیکن اس کے ساتھ والے نے کہا جناب بات یہ ہے کہ یہ کبھی مسجد نہیں آتا۔ آج میں زبردستی لے آیا ہوں۔ اسے کیا پتا کہ مغرب کی نماز میں کتنے فرض ہوتے ہیں۔

    2- تقریبا ایک ماہ پہلے الحمد للہ عمرے کی سعادت حاصل کی تھی۔ شائد عصر کی نماز کا وقت تھا اور جماعت کے لیے اقامت کہی جارہی تھی۔ اور نماز کے لیے صف بنائ جا رہی تھی۔ میرے ساتھ ایک اپنے ہی وطن کا ایک آدمی آ کھڑا ہوا۔ جب امام صاحب نے تکبیر کہی تو ساتھ والا آدمی یوں گویا ہوا۔ " جناب یہ فرض نماز ہے؟" میں نے اسے بتایا کہ ہاں اور یہ سوچنے لگا کہ کیا اس سے پہلے اقامت اور باجماعت سے اس شخص کا واسطہ نہیں پڑا ؟


    3- نماز سے پہلے وضو وغیرہ کرنے کے لیے حرم مکی کے باہر بنے ہوۓ باتھ روم اور وضو خانہ میں گۓ ۔ باتھ روم سے واپسی پر کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ہمارے ہم وطن بھائ چادر بچھا کر وہیں نماز پڑھنا شروع ہوگۓ۔ میں نے پیچھے سے آواز تو لگائ کہ بھائ یہ باتھ روم اسی طرح ناپاک ہے جس طرح دوسرے باتھ رومز ہوا کرتے ہیں۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ اور اپنی نماز جاری رکھی۔ میں سوچتا رہا کہ کیا کوئ اتنا بھی جاہل ہو سکتا ہے کہ اسے معلوم نہ ہو کہ باتھ روم ہر جگہ ناپاک ہوتے ہیں اور ناپاک جگہ نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔ یا پھر وہ حرم مکی کا حصہ ہونے کی وجہ سے اسے بھی پاک ہی سمجھ رہا تھا۔

    ویسے تو ہم ناموس رسالت پر جان دینے کے لیے اور جان لینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن دینی احکام سے ہم اتنے دور ہیں کہ ہمیں معلوم ہی نہیں نماز کیسے اور کہاں پڑھی جاتی ہے۔

    اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ میرے خیال میں تو اس کی بنیادی وجہ والدین ہی ہیں جو کہ نہ تو خود نماز اور دوسری عبادات کی طرف توجہ دیتے ہیں اور نہ ہی اپنی اولاد کو اس کی ترغیب دیتے ہیں۔ نہ تو خود قرآن و حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو نہی ہی اپنی اولاد کے لیے اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور میرے خیال میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جاتا ہے کہ بچے کو شروع عمر میں کسی مولوی سے قران پڑھوا دیا اور وہ مولوی اسے نماز وغیرہ کا طریقہ بھی بتا دیتا ہے۔ لیکن اس کی پابندی کرانا تو ماں باپ کی ذمہ داری ہے۔ لیکن چونکہ وہ عام حالات میں خود اس سے دور رہتے ہیں تو اپنی اولاد کو کس طرح اس جانب راغب کر سکتے ہیں؟

    اور ناموس رسالت پر جان دینے سے پہلے ہمیں پیغام رسالت معلوم ہونا چاہیے۔ کہ نماز ہم پر فرض ہے اور پڑھنے کا طریقہ کیا ہے، زکاۃ کیسے ادا کرنی ہے ؟ حج کس پر فرض ہے ؟ اور اسے ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟
     
    Last edited: ‏جنوری 2, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 8
    • اعلی اعلی x 4
    • متفق متفق x 2
  2. ام ثمامہ

    ام ثمامہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2016
    پیغامات:
    53
    بھائی کیا خیال ہے قیامت کے دن اس شخص کے والدین سے سوال نہیں کیا جائے گا ضرور کیا جائے کا بشک اللہ کی ذات سب سے بہترین انصاف کرنے والی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بہت پراثر تحریر ہے۔ جزاک اللہ خیرا۔ اللہ ہمیں علم کی روشنی پھیلانے اور اپنے لوگوں کو بہتر بنانے کی توفیق دے۔ ہم بچوں سے ہر بات کرتے ہیں دین نہیں سکھاتے یا ایک بار سکھا دیا تو دہرانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ کیا حرج ہے اگر بچوں کے ساتھ مل کر اپنا قرآن، نماز، تفسیر دہرا لی جائے۔ اس طرح کتنے لوگ ہیں کہ بچپن میں نماز سیکھی مگر بعد میں 30، 40 سال کی عمر تک پڑھی ہی نہیں تو بھول گئی۔ کوئی غم ٹوٹ پڑا تو پلٹنے کی توفیق ہوئی لیکن پوچھنے سے شرماتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر ہمیں چاہیے کہ ان کی جھجک دور کریں۔ ان کی مدد کریں۔
    جو لوگ جوان ہو چکے ہیں اب وہ ماں باپ کو الزام نہین دے سکتے۔ ہر بالغ انسان پر فرض ہے کہ ضروری دینی علم خود حاصل کرے۔ ان کو خود آگے بڑھ کر کسی دوست، ادارے یا عالم سے مدد لینی چاہیے۔
    جیسے واقعات آپ نے لکھے ہیں اسیے بہت سے واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں۔ بہت دکھ ہوتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  4. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    اللہ ہدایت دیں مسلمان بس نام میں ہی کفایت سمجھی جاتی ہے وگرنہ مسجد و عبادات میں اب پھلا جیسا شوق نہیں رہا.
    اور یہ حقیقت ہے کہ ایک آدمی اپنے کاروبار میں تو اپنا ثانی نہیں رکھتا لیکن سورۃ اخلاص تک کے ترجمے سے بھی بے بہرہ ہوتا ہے.

    Sent from my CHM-U01 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    میں نےایک بہت فضول بات سنی ہے۔ بعض لوگوں خصوصا خواتین کو دین کا کوئی حکم بتاؤ تو جواب ملتا ہے پلیز ہمیں نہ بتائیں پھر اگر ہم سے عمل نہ ہو سکا تو ہم گنہگار ہوں گے۔ یعنی یہ ایک عذر بنا لیا ہے کہ دین کے علم سے دور ہی رہو۔ شاید اس لیے واش روم میں نماز پڑھنے والے سپوت سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم خود جہالت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو پھر ہمارے لوگوں کا یہی حال ہو گا۔
    ابھی اس کی اماں یہاں ہوتی تو کہتی ہائے میرا پتر نماز تو پڑھ رہا تھا نا کیا ہوا جو واش روم میں پڑھ رہا تھا۔ یہ مولوی تو بس فتوے دیتے ہیں۔ : )
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بہت ہی بہترین تحریر !
    کم از کم توحید ونماز وغیرہ سے متعلق اہم مسائل کا جاننا ضروری ہے !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    افسوس کی بات ہے ۔ اللہ تعالی اسے بھی اور ہم سب کو بھی ہدایت دے ۔ ہر کوئی اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا کہ فورا ہدایت مل جائے۔کچھ لوگ ٹھوکر کھا کر ہی سیکھتے ہیں۔
    جہالت اور لاعلمی کے علاوہ مستند علم نہیں پہنچ رہا ۔ یا یوں کہہ لیں غلط علم اور غلط سوچ پھیلانے والے بہت بڑھ گئے ہیں ۔ کافی لوگ اتنی متضاد باتیں اور بار بار دھوکا کھانے سے بھی بھٹک جاتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں اسلام سمٹ سمٹ کر مسجد تک رہ گیا ہے۔ یا چند ان گھروں میں جو ابھی بھی احساس رکھتے ہیں کہ دنیا عارضی ہے ۔ اس کے بعد نہ وہ تعلیمی اداروں میں ، نہ کسی کاروبار میں ، نہ سیاست میں نظر آتا ہے ۔ اخلاقیات کا اس سے بھی برا حال ہے ۔ پانچ وقت کی نماز پڑھنے والے لوگ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں ذرا نہیں چوکتے ۔ اب اس دور میں پھر اس طرح کے نوجوانوں سے واسطہ پڑنا کوئی تعجب کی بات نہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    تعلیمی اداروں سے یاد آیا پہلے میں بھی کسی کو نماز کا نہیں کہتی تھی اپنی پڑھ کر سمجھتی تھی کافی ہے۔ مجھے ابوجان نے کہا کہ اپنے طلبہ و طالبات کو نماز کا کہا کرو۔ اس کے بعد میں نے کہنا شروع کیا۔ کافی لوگ ناراض بھی ہوجاتے ہیں لیکن بہت سے مان لیتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں