تہران میں سعودی قونصلیٹ پر حملہ، سعودیہ سمیت کئی اسلامی ممالک کے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع

اہل الحدیث نے 'خبریں' میں ‏جنوری 3, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    ایران میں سعودی قونصلیٹ نذر آتش
    سعودی عرب نے ایرانی سفیر کو چوبیس گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا

    Sent from my H30-U10 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بہت ہی اچھا فیصلہ کیا ہے !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی علاقے میں تمام بدامنی اور گڑ بڑ کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
  4. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بالکل بجا فرمایا آپ نے سعودیہ میں حج بدامنی سے لیکر چھوٹی چھوٹی شرارتوں تک ہر چیز ان ہی کے ذمہ ہے، میرے خیال سے یہ ایران اسرائیل سے بھی بڑا دہشت گرد ہے.
    اگرچہ اس میں شک نہیں کہ یہود اصل اور شیعہ فرع ہے لیکن اب فرع اصل سے زیادہ سفاک و ظالم ہوگئی ہے.

    Sent from my CHM-U01 using Tapatalk
     
    • متفق متفق x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    اس خبر کا کوئی حوالہ؟
     
  6. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    سعودی سفارت خانے پر حملے کے رد عمل میں سعودیہ نے ایران سے سفارتی تعلقات ختم کر دیے۔اس بات کا اعلان سعودی وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں کیا گیا۔
    http://urdu.alarabiya.net/ur/intern...ب-نے-ایران-سے-سفارتی-تعلقات-منقطع-کر-لئے.html
    سفارت خانے پر حملے کا یہی نتیجہ ہو سکتا تھا۔
    ایران ہر ملک کو لبنان اور شام سمجھے بیٹھا ہے کہ یہ وہاں جو چاہے کرے۔ بحرین اور قطر جیسے چھوٹے چھوٹے ممالک نے بھی اس کا دماغ درست کر دیا ہے اور اب خلیج تعاون کونسل کے سارے ممالک نے 47 دہشت گردوں کی پھانسی پر سعودیہ کی حمایت کی ہے اور سعودی سفارت خانے پر حملے کی مذمت کر دی ہے۔
    اس وقت ایران کا حمایتی صرف روس ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    کل تک کسی بڑی نیوز سائٹ پر ایسی کوئی خبر نہیں تھی۔ ڈیلی پاکستان کو وقت سے پہلے خبر کیسے مل گئی۔ یہ خبر بعد میں سفارت خانے پر حملے کے بعد آئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    ایران کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت اور سعودی سفارت خانے پر حملے کے بعد سعودیہ نے ایرانی سفارتی عملے کو نکال کر ایران سے سفارتی تعلقات کو ختم کرنے کا اعلان کیا، جس کے فورا بعد متحدہ عرب امارات نے بھی ایران سے احتجاج کیا تھا۔ تازہ خبر جو ایران کے لیے بڑا سفارتی دھچکا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایران سے اپنے سفارتی تعلقات محدود کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امارات میں ایرانی سفیر کو طلب کر لیا گیا ہے۔ امارات کا موقف ہے کہ ایران دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ امارات عام طور پر ایران کے لیے نرم گوشہ رکھنے والا ملک ہے، اس کی جانب سے یہ سخت موقف دراصل سعودی سیاست کی اہم کامیابی اور ایران کی بڑی ناکامی سمجھا جا رہا ہے۔
    http://www.alarabiya.net/ar/arab-an...لإمارات-تخفض-التمثيل-الدبلوماسي-مع-إيران.html
    دوسری طرف بحرین اور سوڈان نے بھی ایران سے اپنے تعلقات مکمل ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بحرین نے ایرانی سفارت کاروں کو 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
    http://www.alarabiya.net/ar/iran/2016/01/04/-البحرين-تقرر-قطع-علاقتها-الدبلوماسية-مع-إيران.html

    یاد رہے کہ دوسرے ممالک بھی ایران میں سعودی سفارت خانے پر حملے اور جلائے جانے کے واقعے کی مذمت کر رہے ہیں۔ تاہم یہاں اسلامی ممالک کا رد عمل ذکر کیا گیا ہے جس سے واضح ہے کہ ایران سفارتی محاذ پر کہاں کھڑا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  10. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    اچھی خبر ہے ۔ امارات اور بحرین نے صحیح موقف اختیار کیا ہے ۔ اللہ تعالی سعودی عریبیہ میں بدامنی پھیلانے والوں کو ناکام کرے۔ سعودی عرب اپنے معاملات اور اپنے قیدیوں کے ساتھ جیسا بھی برتاؤ کرے ، ایران کا اس طرح کا ردعمل دینا کہ سعودی سفارت خانہ پر حملہ ہی کر دیا واقعی ناقابل برداشت ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    اصل میں دہشت گردی کے خلاف اسلامی ممالک کا اتحاد بنتے ہی ایران کو تکلیف ہونی لازمی تھی۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    دنیا بھر میں قانون ہے کہ سفارت خانہ کو تحفظ دینا اس ملک کی ذمہ داری ہے جہاں وہ سفارت خانہ واقع ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
  13. انجینئر عبدالواجد

    انجینئر عبدالواجد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2010
    پیغامات:
    220
    ویری گڈ
    لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ایران کے دارالحکومت تہران میں ہفتے کے روز شدت پسند بلوائیوں کی سعودی عرب کے سفارت خانے پر یلغار نے سفارت خانوں اور قونصل خانوں پر حملوں کی ایرانی تاریخ ایک بار پھر دہرا دی ہے۔

    العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے سفارت خانے اور مشہد شہر میں قونصل خانے پر ایرانی شرپسندوں کا حملہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ایرانی تاریخ سفارت خانوں کی پامالی کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ چھتیس برس قبل تہران میں واقع امریکی سفارت خانے بھی اسی طرح کی یلغار کی گئی تھی۔

    تین نومبر 1979ء کو شدت پسند ایرانی طلباء نے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا اور سفارت خانے میں موجود عملے کے 53 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ بلوائیوں نے امریکی سفارت خانے کا محاصرہ 444 دن تک جاری رکھا جہاں تمام یرغمالی بھی ایک سال سے زاید عرصے تک سفارت خانے میں محصور رہے۔

    طویل مذاکرات کے بعد اغواء کاروں کو 50 ٹن سونا ادا کرنے کے ساتھ امریکی بنکوں میں منجمد اضافی پچاس ٹن سونا واگزار کرنے کے بدلے یرغمالیوں کو رہا کیا گیا۔ 30 جنوری 1981ء کو مذاکرات کی کامیابی کے بعد یرغمال سفارتکاروں کو ایک طیارے کے ذریعے الجزائر کے راستے امریکا روانہ کیا گیا۔

    امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا یہ نقطہ آغاز تھا جس کے بعد آج تک دونوں ملک سفارت کاری کے میدان میں ایک دوسرے کے قریب نہیں آ سکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تہران میں امریکی سفارت خانے پر یلغار کرنے والے طلباء میں محمود احمدی نژاد بھی شامل تھے جو دو بار ایران کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔
    ایران میں امریکا اور ایران کے سفارت خانوں پر حملوں کے علاوہ کئی دوسرے ممالک کے سفارت خانوں پر بھی اسی طرح کے حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ کویت، روس، پاکستان اور برطانیہ کے سفارت خانے اور قونصل خانے بھی ایسی یلغار کا سامنا کر چکے ہیں۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/middle-east/2016/01/04/سفارت-خانوں-پر-حملوں-کی-مکروہ-ایرانی-تاریخ.html
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 5, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    قومی اخلاق یہی ہے۔
     
  16. arifkarim

    arifkarim محسن

    شمولیت:
    ‏جولائی 17, 2007
    پیغامات:
    256
    دیگر ممالک کو ایران میں سفارت خانہ کھولنے سے قبل ملازمین کی سیکیورٹی پر لاکھ بار سوچنا چاہئے۔
     
  17. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ تنازعے اور سعودی سفارت خانے پر مشتعل مظاہرین کے حملے کے بعد کویت نے بھی تہران میں متعیّن اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

    کویت کی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں متعیّن ریاستِ کویت کے سفیر کو منگل 5 جنوری کی صبح واپس بلا لیا گیا ہے اور یہ فیصلہ ایرانی مظاہرین کے سعودی سفارت خانے اور قونصل خانے پر حملوں کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

    سعودی عرب میں ایک شیعہ مبلغ کا ہفتے کے روز دہشت گردی کے جُرم میں سرقلم کیے جانے پر ایرانی قائدین اور عوام نے غیرمتوقع ردعمل کا اظہار کیا ہے۔تہران میں مشتعل مظاہرین نے اتوار کو علی الصباح سعودی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا اور اس کو آگ لگا دی تھی۔اس واقعے کے بعد مشہد میں سعودی قونصل خانے پر حملہ کیا گیا تھا۔ان واقعات کے ردعمل میں سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے اور تہران سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔

    خلیجی عرب ریاست بحرین نے بھی سوموار کو ایران کے ساتھ سفارتی منقطع کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور ایرانی سفیر کو ملک چھوڑنے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا وقت دیا تھا۔بحرین نے سعودی عرب کی طرح ایران پر علاقائی ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کی مذمت کی تھی اور ایران پر القاعدہ سمیت دہشت گرد گروپوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

    سعودی سفارت خانے پر حملے کے بعد سوڈان نے بھی خرطوم سے ایرانی سفیر کو بے دخل کردیا ہے اور ایران کی خطے میں مداخلت کی مذمت کی ہے۔متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کا درجہ گھٹا دیا ہے اور اپنی سرزمین پر ایرانی سفارت کاروں کی تعداد کم کرنے کے لیے کہا ہے۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/intern...یران-تنازعہ-تہران-سے-کویتی-سفیر-واپس-طلب.html
     
  18. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ايران – سعودی عرب تعلقات ميں کشيدگی پر امريکی موقف

    ہم سعودی عرب کی حکومت پر زور ديتے ہیں کہ انسانی حقوق کی حفاظت اور تمام عدالتی مقدمات میں منصفانہ اور شفاف عدالتی کارروائی کو یقینی بناۓ۔

    امریکی حکومت سعودی حکام پر زور ديتی ہے کہ پرامن اظہار راۓ کی اجازت دے اور سزائے موت کے تناظر میں پيدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے ليے تمام کمیونٹی رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کرے۔

    علاوہ ازيں ہم يہ سمجھتے ہيں کہ خطے کے رہنماؤں کو علاقائی کشیدگی کو ختم کرنے کے ليے اپنی کوششيں تيز کرنے کی ضرورت ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  19. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    [​IMG]
    سعودی عرب میں رواں ہفتے کے آغاز میں سینتالیس ملک دشمن عناصر کو پھانسی کی سزائیں دینے کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات منطقع ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی گرما گرم بحث جاری ہے۔ سماجی کارکنوں نے ایران میں نذرآتش کیے گئے سعودی سفارت خانے اور ریاض میں صحیح وسالم ایرانی سفارت خانے کی تصاویر کو ایک ساتھ جوڑ کر ایران کی مکروہ پالیسی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر کو بڑے پیمانے پر پسند کیا گیا ہے اور انہٰیں مسلسل شیئر کیا جا رہا ہے۔ دائیں طرف تہران میں قائم سعودی سفارت خانے کی عمارت کی تصویر ہے جس کا بیرونی حصہ آگ لگنے سے نہ صرف جلا ہوا دیکھا جا سکتا ہے بلکہ دھوئیں سے سیاہ ہے اور اس پر سعودی عرب کا قومی پرچم بھی دکھائی نہیں دیتا ہے۔ دوسری جانب ریاض میں صحیح وسلامت ایرانی سفارت خانے کی تصویر ہے۔ ایرانی سفارت خانے کے قرب وجوار میں کھجور کے اونچے اونچے درخت ہیں اور عمارت کی چھت پر ایران کا قومی پرچم بھی لہرا رہا ہے۔

    یہ دونوں تصاویر دونوں ملکوں کی پالیسیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ایران میں قائم سعودی عرب کے سفارت خانے کی زبوں حالی ایرانی حکومت کی نفرت پر مبنی پالیسیوں کی عکاس ہے جب کہ دوسری جانب سعودی عرب میں ایرانی سفارت خانے کی عمارت اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ ریاض تمام تر اختلافات کے باوجود کسی بھی دوسرے ملک کے سفارت خانے یا سفارتی عملے کو زک پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا اور سفارتی آداب اور قرینوں کی سختی سے پابندی کر رہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایران کی سفارت خانوں کے خلاف پالیسی اور شرپسندوں کو کھلی چھٹی دیے جانے پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ سعودی اور ایرانی سفارت خانوں کی تصاویر کے ذیل میں آنے والے تبصروں میں ایرانی حکومت کو تخریب کار اور انتشار پسند قرار دیتے ہوئے سفارت خانے پر حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ تصویر پر رائے کا اظہار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایران میں سعودی سفارت خانے پر بلوائیوں کے حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت بلوائیوں اور شرپسندوں کے ہاتھوں میں یرغمال بنی ہوئی ہے۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/middle...-عرب-کے-سفارت-خانوں-میں-فرق-ملاحظہ-کیجیے.html
     
  20. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مندوب عبداللہ المعلمی نے یو این سیکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تہران میں سعودی سفارتخانے پر ایرانیوں کے حملے کی مذمت کرے کیونکہ دو روز قبل ہونے والی کارروائی تمام مروجہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

    نیویارک میں سیکیورٹی کونسل ہیڈکوارٹرز میں منگل کو علی الصباح نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ المعلمی نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام سفارتی عمارتوں کا تحفظ یقینی بنائے اور دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔ ایران کو اینے عمل اور بیانات کے ذریعے اچھے ہمسائے کا کردار ادا کرنا چاہئے۔ ہمیں تہران کی معذرت نہیں بلکہ دوسرے ملکوں میں عدم مداخلت کے اصول پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد چاہئے۔

    اس سے قبل ایران نے #اقوام_متحدہ کی #سیکیورٹی_کونسل کو لکھے گئے ایک خط کے ذریعے #تہران میں سعودی سفارتخانے پر حملے کے حوالے سے اظہار افسوس کرتے ہوئے مستقبل میں ایسے کسی بھی واقعے کو روکنے کا وعدہ کیا ہے۔

    خط میں کہا گیا تھا کہ "اسلامی جمہوریہ #ایران کو ان حالیہ واقعات پر افسوس ہے اور وہ اس کے ذمہ داران کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔" خط میں مزید کہا گیا کہ "اسلامی جمہویہ ایران مستقبل میں کسی ایسے واقعہ کی روک تھام کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔"

    #سعودی_عرب نے اتوار کے روز باضابطہ طور پر ایران کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات ختم کردئیے تھے۔ اس کے بعد بحرین نے بھی ایران سے تعلقات توڑنے کا اعلان کردیا تھا۔ سعودی عرب نے بعد میں اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات بھی توڑ دے گا جس میں فلائٹس اور سعودی شہریوں کے ایران جانے پر پابندی شامل ہے۔

    #ریاض کی جانب سے یہ قدم تہران اور #مشہد میں سعودی سفارتی مشن کی عمارات پر حملوں کے بعد سامنے آیا۔ سعودی حکام نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے مظاہرین کو روکنے کے لئے مناسب اقدامات نہیں کئے تھے۔

    مگر ایران نے اپنے خط میں کہا تھا کہ" تہران نے قونصل خانے کی سیکیورٹی کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے تھے اور موقع پر موجود سیکیورٹی فورسز کی تعداد میں بھی اضافہ کیا تھا۔"

    خط میں بتایا گیا کہ سعودی سفارتخانے کے باہر تقریبا 8000 "پر امن" مظاہرین اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے تھے کہ رات کو 11 بجے اچانک کچھ لوگ بے قابو ہوگئے۔ خط میں مزید بتایا گیا کہ "قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انتہائی کوشش کے باوجود کچھ لوگ سفارتخانے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے عمارت کو نقصان پہنچایا۔"

    خط میں مزید بتایا گیا کہ "اس حملے میں ملوث 40 سے زائد افراد کی شناخت کرلی گئی تھی اور اب انہیں عدالتی حکام کے حوالے کردیا گیا ہے تاکہ ان کے خلاف ضروری کارروائی ہوسکے۔" خط کے مطابق ان مظاہرین کے دیگر ساتھیوں کی تلاش کے لئے تحقیقات جاری ہیں۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/intern...لہ،-ایران-کا-یو-این-کے-سامنے-اظہار-ندامت.html
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں