ریلی میں مسلم خاتون کے 'خاموش احتجاج' پر ٹرمپ سیخ پا

زبیراحمد نے 'خبریں' میں ‏جنوری 10, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    امریکی صدارتی انتخابات کے رپبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک انتخابی ریلی سے خاموش احتجاج کرنے پر ایک مسلمان خاتون کو باہر نکال دیا گیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مہم زور و شور سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے بارے میں اپنے ایک حالیہ متنازعہ بیان کی وجہ سے انہیں امریکی سیاسی حلقوں کے علاوہ امریکا کی مسلمان برادری کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    رپبلیکن پارٹی کے سرکردہ صدارتی امیدوار، ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے ایک حالیہ بیان میں کہنا تھا، کہ جب تک قوم کے رہنما یہ طے نہ کر لیں کہ ’در اصل معاملہ کیا ہے‘، امریکا میں مسلمانوں کا داخلہ ’مکمل طور پر‘ بند کیا جائے‘‘۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ ’ امریکا میں مسلم آبادی کا بڑا حصہ امریکیوں سے نفرت کرتا ہے‘‘۔

    جمعہ کی شب امریکی ریاست نارتھ کیرولائینا میں ڈونلڈ ٹرمپ ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے کہ ہیڈ اسکارف پہنے ایک مسلمان خاتون ہال میں داخل ہوئی اور اُس پوڈیم کے پاس جا کر خاموشی سے کھڑی ہو گئی جس پر کھڑے ٹرمپ خطاب کر رہے تھے۔ خاتون نے ایک سبز شرٹ پہن رکھی تھی جس پر درج تھا،’’Salam, I come in Peace‘‘.

    اس ہال میں تمام شرکاء نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے تاہم 56 سالہ سابقہ فلائیٹ اٹینڈنٹ روز حامد خاموشی سے پوڈیم کی طرف مُنہ کر کے کھڑی ہو گئی۔ اس ایونٹ کا فوٹیج بھی منظر عام پر آ چکا ہے۔ بعد ازاں ٹرمپ کے حامیوں نے اس خاتون کو ہال سے باہر نکال دیا۔ اس دوران وہ ٹرمپ کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔

    روز حامد نے بتایا کہ ارب پتی رپبلیکن امیدوار ٹرمپ کے ایک سپورٹر نے اُس کے مُنہ کے سامنے چیخ چیخ کر کہنا شروع کردیا، ’’تمہارے پاس بم ہے، تمہارے پاس بم ہے۔‘‘ روز حامد نے سی این این کو بیان دیتے ہوئے کہا، ’یہ ساری صورتحال نہایت ناخوشگوار اور خوفناک ہو گئی‘‘۔

    سی این این کے مطابق روز حامد اور چند دیگر افراد کو ہال سے نکالے جانے کے بعد ٹرمپ نے سی این این کو بیان دیتے ہوئے کہا، ’ہمارے خلاف ناقابل یقین نفرت پائی جاتی ہے۔ یہ نفرت اُن کی طرف سے ہے، ہماری طرف سے نہیں۔‘‘

    درایں اثناء مسلمانوں کی وکالت کرنے والے گروپ CAIR نے ٹرمپ کی ریلی سے مسلم خاتون کو نکالے جانے کے عمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی میڈیا کو بیان دیتے ہوئے اس کونسل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نہاض عواد کا کہنا تھا، ’’ایک سیاسی ریلی میں ایک مسلمان خاتون کے ساتھ بد کلامی اور بد سلوکی کرنے اور اُسے باہر نکالنے کا ایمیج امریکی مسلمانوں کو سیخ پا کرنے کا موجب بنے گا۔‘‘

    http://urdu.alarabiya.net/ur/intern...سلم-خاتون-کے-خاموش-احتجاج-پر-ٹرمپ-سیخ-پا.html
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 2
  2. منصف

    منصف -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2008
    پیغامات:
    1,920
    یہ ٹرمپ یا کچرے کا ڈرم ، جو بھی ہے ، سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ مسلمان اسکو اتنی اہمیت آخر دے ہی کیوں رہے ہے ؟؟
    اسکا بیان کہ امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگا دی جائے ، تو اس میں سیخ پا ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟؟
    امریکہ ہی ہے نا کوئی مکہ مدینہ یا بیت المقدس تو نہیں کہ مسلمانوں کو اتنی تکلیف ہو اس بیان سے
    اللہ رحم کرے مسلمانوں پر ۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    جو بچارے وہاں ہیں وہ کیا کریں؟ اور سب سے بڑامسئلہ ان کا ہے جو امریکی ہیں اور اسلام قبول کر چکے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    نہیں بلکل نہین سیخ پا یا احتجاج کرنے کی واقعی کوئی ضرورت نہیں ۔ ہم تو پہلے ہی دینی علم اور انڈسٹری سے آنکھیں چرائے بیٹھے ہیں۔تھوڑی سی بے حسی اور دیکھا دیتے ہیں کہ وہاں کے بسنے والے مسلمانوں پر جو ایک اور نئی آفت نازل ہو گئی ہے اس کی طرف سے بھی آنکھیں بند کر لیں۔اور جو بے چارے مسلمان طلبہ فل برائٹ سکالر شپ کے تحت آگے امریکہ جا کر پرھنا چاہتے ہیں ان کی مذمت شروع کر دیتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ٹرمپ جیسے شخص سے گلہ کی ضرورت نہیں یہ نہایت ہی گھٹیا ذہن اور بداخلاق شخص ہے ! اس ذلیل نے ایک معذور امریکی صحافی کی نقل اتار کی مذاق اڑایا۔
     
  6. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    نہیں ٹرمپ سے گلہ واقعی نہ کریں۔لیکن امریکی حکومت سے ضرور کریں۔ اور سوشل میڈیا سے لے کر اخبارات اور ٹیلی ویژن تک ہر مسلمان اس کی کہی ہوئی باتوں کی پر امن طریقے سے مذمت کرے ۔خاتون نے کیا سوچ کہ ٹرمپ کے ریلی میں جانے کی ٹھانی ۔ وہی بہتر بتائیں گی۔ آپ دشمن کی ریلیوں مین شرکت نہ کریں ۔ جو آپ کے ساتھ لوگ ہیں ان کو بولنے پر آمادہ کریں ۔ مسلمانوں کو اپنے لئے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ میں یہاں کے لوگوں سے یہ بات اکثر سنتی ہوں کہ مسلمان کسی بھی معاملے میں حصہ نہیں لیتے ۔ بولتے نہیں ہیں ۔اب آپ اس کو بولنا نہ کہیں کہ جس احتجاج کے نتیجے میں فائرنگ ہو چار لوگ شہید ہو جائیں ۔ دکانیں جل جائیں ۔ اور میڈیا میں احتجاج کی بجائے مزید دہشت گردی کی خبر چھپی ہو۔
    امریکی مسلمانوں کا اور وہاں پر رہنے والے کا پورا حق بنتا ہے کہ وہ اپنی آواز سنائیں۔
     
    • متفق متفق x 3
  7. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    مسلمان پرامن رہ کر آواز اٹھائیں مگر اس سے پہلے مسلمان ایک ہوں تمام مسلمانوں کے فرقے اور مسالک ایک ہوں اورایک آواز ہوکر پرامن احتجاج کریں تب ہی ایک مؤثر آواز پیداہوسکتی ہے ورنہ ہماری آواز بھیڑیئے کے سامنے چیختی بھیڑ کے جیسی ہوجائے گی جس پر بھیڑیاکبھی بھی رحم نہیں کھاتاہے۔
     
    • متفق متفق x 1
  8. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ڈونلد ٹرمپ تقسیم کے بیج بو رہے ہیں: روز حامد

    امریکا کی ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی سے زبردستی نکالے جانے پر عالمی شہرت پانے والی مسلم خاتون روز حامد نے کہا ہے کہ مسٹر ٹرمپ اپنے بیانات سے تقسیم کے بیج بو رہے ہیں کیونکہ بعض لوگ ان کے مسلم مخالف بیانات کی مخالفت کررہے ہیں اور بعض ان کے نقطہ نظر کے حامی نظر آتے ہیں۔

    وہ نارتھ کیرولینا،امریکا سے اسکائپ کے ذریعے العربیہ نیوز چینل کے نمائندے سے گفتگو کررہی تھیں۔العربیہ نے ان سے پہلا سوال یہی کیا کہ انھیں اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی میں جانے یا دوسرے الفاظ میں شیر کی کچھار میں منھ دینے کی کیا ضرورت تھی؟چھپن سالہ روز حامد نے اس کے جواب میں بتایا: ''میں وہاں اکیلی نہیں گئی تھی بلکہ میرے ساتھ مختلف مذہبی پس منظر کے حامل آٹھ لوگ بھی تھے۔ان میں عیسائی ،مسلم اور یہودی تھے۔ہم لوگ ری پبلکن امیدوار کی انتخابی مہم کے دوران منافرت پر مبنی تقاریر کے خلاف احتجاج کے لیے گئے تھے''۔

    انھوں نے کہا کہ امریکا میں کسی بھی مذہب اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اظہار رائے اور مذہب کی آزادی حاصل ہے اور وہ مسٹر ٹرمپ کی نفرت انگیز تقاریر کو ان آزادیوں کے منافی سمجھتی ہیں۔انھوں نے ایک اور سوال کے جواب میں العربیہ کو بتایا کہ وہ امریکی عوام تک ایک پیغام پہنچانا چاہتی تھیں اور وہ یہ تھا کہ ملک میں اس طرح کے کردار اور بیانات کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

    روز حامد سے جب پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ مسلمان مخالف بیانات میں کتنے سنجیدہ ہیں اور کیا امریکی عوام فی الواقع ان کی تجاویز سے متفق ہیں؟تو ان کا کہنا تھا کہ ''میرے خیال میں بعض لوگ ان کے نقطہ نظر میں یقین رکھتے ہیں اور وہ ان کو اختیار کرنا چاہیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ بھی ان کی ایسا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔تاہم جو لوگ ریلی میں میرے ساتھ بیٹھے تھے،وہ ٹرمپ کے حامی نہیں لگ رہے تھے''۔

    انھوں نے ٹیلی ویژن چینلوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے مشتہر ہونے والی ویڈیو کے بارے میں وضاحت کی کہ ''مجھ اکیلی کو ہال سے نہیں نکالا گیا تھا بلکہ میرے ساتھ آٹھ اور لوگوں کو بھی شہری حقوق کے تحفظ کی پاداش میں نکال باہر کیا گیا تھا۔انھوں نے بھی وہاں ڈونلڈ ٹرمپ کی نفرت انگیز تقاریر کے خلاف احتجاج کیا تھا''۔

    روز حامد نے بتایا کہ ''ان سب نے ریلی میں جانے سے قبل یہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر مسٹر ٹرمپ نے کوئی نفرت انگیز بات کی یا امریکیوں کے کسی گروہ کے خلاف امتیازی کلمات کہے تو وہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔چنانچہ ہم نے ایسے ہی کیا تھا۔بعض لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت سست کہنا چاہتے تھے لیکن میں نے ایسا نہیں کیا اور خاموش رہ کر احتجاج کیا تھا''۔

    العربیہ نے جب روز حامد سے پوچھا کہ جب آپ سب لوگوں کو وہاں سے نکالا گیا تھا تو پھر صرف آپ ہی کو امریکی میڈیا نے کیوں نمایاں کیا ہے؟ کیا ایسا صرف مسلمان اور حجاب میں ہونے کی وجہ سے کیا گیا ہے؟اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میڈیا نے پہلے یہی سمجھا تھا کہ صرف ایک مسلم خاتون کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا ہے لیکن بعد میں انھوں نے احتجاج کے سبب پر بھی اپنی توجہ مرکوز کی تھی۔

    ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے واضح کیا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کسی قسم کی قانونی چارہ جوئِی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہیں بلکہ وہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں نفرت کے پرچارک لوگوں کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں گی۔انھوں نے مسلمانوں کو بھی مخاطب ہوکر کہا کہ ''وہ اسلام کے نام پر ظلم وزیادتی کرنے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ بطور مسلمان ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ صرف اچھے اور پُرامن کردار کے ذریعے ہی بُرے لوگوں کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے''۔

    http://urdu.alarabiya.net/ur/editor...د-ٹرمپ-تقسیم-کی-بیج-بو-رہے-ہیں-روز-حامد-.html
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  9. arifkarim

    arifkarim محسن

    شمولیت:
    ‏جولائی 17, 2007
    پیغامات:
    256
    جو وہاں ہیں انکو نکالنے کی بات کسنے کہی ہے؟
     
  10. arifkarim

    arifkarim محسن

    شمولیت:
    ‏جولائی 17, 2007
    پیغامات:
    256
    یہ ناممکنات میں سے ہے۔
     
  11. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    دعاکریں کہ یہ ممکنات میں سے ہوجائے۔
     
  12. arifkarim

    arifkarim محسن

    شمولیت:
    ‏جولائی 17, 2007
    پیغامات:
    256
    جو کام پچھلے 1400 سال میں نہیں ہوا وہ اب کیسے ہو جائے گا۔
     
  13. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہاررکھ
     
    • متفق متفق x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں