باطنی مرض تکبر

لبید غزنوی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏فروری 23, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. لبید غزنوی

    لبید غزنوی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 7, 2015
    پیغامات:
    19
    باطنی مرض تکبر
    تکبر کیا ہے؟؟؟
    ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا؛
    تکبر حق کو چھپانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے
    صحیح مسلم؛ح91،الایمان؛39

    مسلمان کو حقیر جاننے کا گناہ؛
    رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں؛
    کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میری ازار ہے جس شخص نے ان دونوں میں سے کسی ایک پر مجھ سے مقابلہ کیا، میں اسے آگ میں پھینک دوں گا۔
    صحیح اُبی داوُد، ح3446، اللباس؛28

    اس لیے رسول اللہ ﷺنے فرمایا؛
    وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی تکبر ہو گا۔
    صحیح مسلم


    کرنے کے کام

    1۔ تسبیح کریں ۔۔۔۔۔۔اللہ کی بڑائی بیان کریں
    اللہ اکبر کبیراوالحمد للہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و أصیلا
    2۔ سجدہ کی حالت میں پیشانی زمین پر ڑگریں تاکہ انکساری کا احساس پیدا ہو اور تکبر مٹ جائے۔
    3۔کوئی ایسا کام کریں جس کو کرنے سے آپ کتراتی ہیں یا گھن کھاتی ہیں ۔۔مثلاً ۔۔۔باتھ روم صاف کرنا ۔۔کوڑے کی ٹوکری صاف کرکے دھونا ۔۔ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے سے احتراز کرنا ۔۔۔۔
    4۔اپنی کوئی پٍسندیدہ چیز راہ خدا میں دے دیں ۔
    5۔ جس شخص سے نفرت ،حسد یا کسی کا دل دکھایا ہے تو اس کو عزت دیں۔
    Check Your Self
    1۔مجھے آج کے سبق نے سوچنے پر مجبور کردیا ۔ ہاں نہیں
    2۔ میرے اندر واقعی تکبر موجود ہے ۔
    3۔میں سارا دن اپنے نفس کو تکبر سے بچائے رکھا۔
    4۔جن کو میں اپنے سے کمتر سمجھتی ہوں آج میں نے انکا اکرام کیا۔
    5۔اچھا کپڑا لینے کے بعد دل میں تکبر کا احساس جا گا ۔
    6۔تکبر سے بچنے کا احساس دل میں پیدا ہوا۔
    7۔عملی مشقوں کے بعد میں نے اپنے اندر فرق محسوس کیا۔
    8۔نماز میں سجدہ کی حالت میں اپنے اوپر مزید عاجزی کو طاری کیا۔
    9۔بڑے ہونے کے باوجود چھوٹوں کی غلطیوں معاف کر دیا۔
    10۔تکبر سے بچنے کا احساس دل میں بیدار ہوا۔
    تکبر کا علاج
    1۔انسان اپنے نفس پر غور کرے اپنی پیدائش پر غور کرے اسکی ابتداء کس طرح ہوئی ۔۔۔من أیّ شیء خلقہ فقدرہ
    (سورۃ عبس)
    2۔اس بات پر غور کرے کہ اس کا وجود ہمیشہ اللہ کے اختیار میں ہے اسے اپنی جان کے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں۔
    3۔اپنے انجام پر غور کرے ۔اسکا انجام موت ہے ادھر وہ جوانی کی طاقت کو پہنچا ادھر کمزوری شروع ہو گئی اور پھر موت اس کے آغاز کی طرح بے جان بنا دے گی اس کے جسم کو مٹی میں ڈال دیا جائے گا ۔وہ ایک بد بودار مردہ ہو گا جس کے اعضاء گل سڑ جائیں گے ۔جب مر جائے گا تو اگلے لمحے سے میت کے نام سے پکارا جائے گا۔
    4۔پھر قیامت کے دن پر غور کرے جب کہا جائے گا ۔۔۔ إقرا کتابک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا (اللہ تعالی فرمائے گا۔۔پڑھ اپنی کتاب کہ کافی ہے تو خود آج اپنا حساب لینے کے لیئے )
    5۔جس کی یہ حالت ہو تکبر کس طرح کر سکتا ہے؟؟
    6۔جس میں خوبصورتی کی وجہ سے تکبر پیدا ہو رہا ہو اسے اپنے باطن کی بدصورتیوں کو دیکھنا چاہیے۔
    7۔جس میں جسمانی طاقت کی وجہ سے تکبر پیدا ہو رہا ہو اسے سوچنا چاہیے کہ اگر اسکی ایک رگ میں درد أٹھے تو وہ عاجز سے زیادہ عاجز ہو جائے گا ۔
    8۔نسب کی برتر ی کے خیال سے تکبر پیدا ہو رہا ہے تو اسے سوچنا چاہیے کہ انکے آباءو اجداد کی اصلیت کیا تھی ؟کیا اللہ کے ہاں مقبول تھے ؟
    9۔جو دولت کی وجہ سے تکبر کر رتا ہے تو وہ سوچے کہ یہودی سب سے زیادہ مالدار قوم ہیں لیکن اللہ کے ہاں مغضوب ہیں اور جو اللہ کے ہاں مقبول ہوئے صحابہ کرام وہ خالی ہاتھ دنیا سے گئے ۔
    10۔جو علم کی وجہ سے تکب کر تا ہو تو وہ یہ سوچے کہ تکبر اک ایسی چیز ہے جو انسان کی ساری عبادات کو خاک میں ملا دے گا۔
    تحریر:سید لبید غزنوی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    جزاک اللہ خیرا۔
    یوں لگتا ہے یہ تحریر صرف خواتین کے لیے ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ نے تکبر کے علاج کے لیے ایسی باتیں ذکر کی تھیں۔ اگر یہ تحریر ان کے کسی درس سے استفادہ کر کے لکھی گئی ہے تو ان کا حوالہ دینا چاہیے۔
     
  3. لبید غزنوی

    لبید غزنوی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 7, 2015
    پیغامات:
    19
    اس کا کچھ حصہ محدث سائٹ سے لیا گیا ہے اور کچھ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کی ایک کتاب سے معذرت حوالہ دینا بھول گیا۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں