مسجد نبوی کی زائرات کے لئے بعض اہم نصیحتیں اور تعلیمات

بنت امجد نے 'گوشۂ نسواں' میں ‏مئی 9, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,568
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    مسجد نبوی کی زائرات کے لئے بعض اہم نصیحتیں اور تعلیمات

    الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی آلہ وصحبہ اجمعین

    پیاری بہنو!

    اللہ تعالی کا آپ پر عظیم فضل واحسان ہے کہ آپ کو اپنی عبادت کے لئے مسجد نبوی میں آنے کی توفیق عطا فرمائی ہے ۔ہم یاد دہانی کے لئے آپ کی توجہ چند اہم باتوں کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں۔

    آپ اس مبارک مسجد میں موجود ہیں جہاں آنے کے لئے مومنوں کے دل تڑپتے ہیں اور نفس بے تاب رہتے ہیں۔

    اس مبارک مسجد میں آپ کو عظیم فضیلتیں پانے کی سعادت ملی ہے ، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

    پہلی فضیلت: مسجد نبوی میں ایک نماز کا اجر ہزار نمازوں سے افضل ہے ، جیسا کہ صحیح بخاری ومسلم کی روایت میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری اس مسجدمیں ایک نماز مسجد حرام کے سوا دیگر تمام مساجد کی ہزار نمازوں سے افضل ہے ۔

    دوسری فضیلت: اور آپ اس مبارک جگہ پر موجود ہیں جس جگہ پر ایمان اس طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنی بل میں آ جایا کرتا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( قیامت کے قریب ) ایمان مدینہ میں اس طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنی بل میں آ جایا کرتا ہے۔ ’’

    تیسری فضیلت : مسجد نبوی میں قائم علمی حلقوں میں شمولیت اختیار کرنے سے اللہ کی راہ میں جہاد کے برابر اجر ملتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘‘جو شخص میری اس مسجد میں آئے ، اور اس کا ارادہ صرف کوئی اچھی بات سیکھنا یا سکھانا ہو ( کوئی دنیوی غرض نہ ہو) تو اس کا درجہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مانند ہے۔ اور جو شخص کسی اور مقصد کے لیے آیا تو وہ اس آدمی کی طرح ہے جس کی نظر کسی اور کے مال پر ہو۔ ’’ ( ابن ماجہ ، شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

    چھوتھی فضیلت : ریاض الجنۃ جیسی عظیم جگہ پر نماز ادا کرنے کی سعادت ملتی ہےجس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے گھر اور منبر کی درمیانی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر ہو گا ۔’’

    پانچویں فضیلت : مسجد میں رہتے ہوئے ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اللہ تعالی کی راہ میں جنگ کے دوران مورچہ بند ہونے والے مجاہد کے برابر ہے۔ جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ کیا میں تمہیں ایسے عمل کی خبر نہ دوں جس کی وجہ سے اللہ تعالی گناہ معاف کرتا ہے اور درجے بلند کرتا ہے ۔صحابہ رضوان اللہ علیھم نے عرض کی ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ضرور بتائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تکلیف اور ناگواری کے باوجود مکمل وضو کرنا ، مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا پس یہی رباط ( مسلمانوں کی سرحد پر مورچہ بند ہو کر پہرہ دینا ) ہے ۔’’

    چھٹی فضیلت : دوسری عبادتوں کے ساتھ ساتھ نماز جنازہ کی ادائیگی کی بھی سعادت نصیب ہوئی جس کا بذات خود ایک عظیم اجر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے جنازہ میں شرکت کی پھر نماز جنازہ پڑھی تو اسے ایک قیراط کا ثواب ملتا ہے اور دفن تک ساتھ رہا تو اسے دو قیراط کا ثواب ملتا ہے۔ پوچھا گیا دو قیراط کتنے ہوں گے ؟ فرمایا کہ عظیم پہاڑوں کے برابر ۔ بخاری و مسلم۔

    معزز بہن !آپکو اپنے نفس کا محاسبہ کرنے ، اپنے ایمان کو فروغ دینے اور کثرت سے نیکیاں کرنے کا نہایت ہی شاندار موقع ملا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالی سے اجر و ثواب حاصل کرنے کی خاطر کثرت سے نیک اعمال سر انجام دینے کا اہتمام کریں اور تمام اعمال اللہ تعالی کے لیے خالص کریں ۔

    حرمین میں اللہ تعالی کی نشانیوں کی تعظیم کریں کیونکہ پرہیزگار شخص ہی اللہ تعالی کی نشانیوں کی تعظیم کتنے والا ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالی کی تعظیم سے سرشار دل ہی درحقیقت تقوی کی علامت ہے جیسا کہ ارشاد بانی ہے ( ذلک ومن یعظم شعائراللہ فانھا من تقوی القلوب )

    اور سنو ! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت و حرمت کرے اسکے دل کی پرہیز گاری کی وجہ سے یہ ہے ۔

    اور اپنی آواز کو بھی بلند نہ کریں تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے اور تالیاں وغیرہ بجانے سے گریز کریں کیونکہ یہ مسجد کی بے حرمتی ہے ۔

    کیا ہی بہترین بات ہوگی کہ آپ مسجد کے احترام میں دوران نماز اپنے موبائل فون کوبند رکھیں تاکہ دوسری نمازی خواتین کو اس کی آواز سے اذیت نہ پہنچے اور نہ ہی ان کے خشوع میں خلل ہو۔

    کیا ہی عظیم بات ہو گی کہ مسجد کی تعظیم کی خاطر آپ تصویریں بنانے میں مصروف نہ ہوں کیونکہ اتنی لمبی مسافت طے کرکے آپ کا یہاں آنے کا مقصد اجروثواب حاصل کرنا ہے ۔

    اور کیا خوب بات ہو گی کہ مسجد کے تقدس کی خاطر اس کی صفائی کی حفاظت کرتے ہوئے دیواروں وغیرہ پر لکھنے سے گریز کریں اور مسجد کے اندر موجود پینے والے پانی کووضو کے لئے استعمال نہ کریں تاکہ زائرات کے پینے والے پانی کی کمی کا آپ سبب نہ بنیں اور پانی کے گرنے کی وجہ سے گزرنے والوں کو تکلیف نہ پہنچے۔

    وضو خانہ مسجد کے نزدیک موجود ہے اور اس میں آپ کی سہولت کی ہر شے دستیاب ہے ۔

    کیا خوب تعظیم ہو گی کہ ریاض الجنۃ جاتے وقت اطمینان وسکون کو ملحوظ خوطر رکھیں نیز مکمل حجاب کی پابندی بھی کریں ۔

    کیا خوب تعظیم ہو گی کہ آپ اپنے بچوں کو مسجدوں کے آداب سکھائیں اور ان کے دلوں میں مسجدوں کی تعظیم اور محبت پیدا کریں ۔

    اور جان لیجئے کہ مسجد میں بچوں کے لئے قائم کی گئی لائبریری میں انہیں مسجدوں آداب سکھانے کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے ۔لہذا اپنے بچوں کو اس لائبریری میں جانے کا موقع فراہم کریں ۔

    اور آپ اس بات کی کوشش کریں کہ مسجد میں آپ کا زیادہ وقت تلاوت قرآن ، ذکر الہی اور علمی حلقوں میں گزرے ، اور ساتھ ہی لائبریری میں موجود کتب ، آڈیو لائبریری سے ریکارڈ شدہ علمی مواد اور زائرات کو تحفہ کے طور پر دی گئی کتابوں سے مستفید ہوں۔

    صفوں کی ترتیب کا خاص خیال رکھیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :اپنی صفیں برابر کرو، کیونکہ صفوں کو سیدھا کرنا نماز قائم کرنے میں سے ہے ۔(بخاری ومسلم) اور حضرت سمرۃ بن جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم صفیں ایسے کیوں نہیں بناتے جیسے فرشتے اپنے رب کے پاس بناتے ہیں ؟ ہم نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صفیں بناتےہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ پہلے اگلی صفوں کو پورا کرتے ہیں اور صفوں میں آپس میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ (مسلم)

    کیا ہی عظیم بات ہو گی کہ آپ مسجد نبوی میں ہر کسی کی سلامتی کے لئے بنائے گئے تمام قوانین کی اس طرح سے پابندی کریں جو کہ دین اسلام میں دوسروں کے لئے زندہ مثال ہو۔

    کیا خوب بات ہوگی کہ آپ اسلامی آداب اور حسن اخلاق سے اس قدر لبریز ہوں کہ رش کے وقت اپنی مسلمان بہنوں کی مدد کریں اور انتظامیہ کی دی گئی ہدایات پر عمل کریں چونکہ اسی میں آپ کی بھلائی ہے۔

    اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے ریاض الجنۃ جاتے وقت اپنے آپ کو اور دوسری خواتین کو اذیت دیے بغیر اطمینان اور سکون سے جائیں۔

    اور جان لیجیے کہ ریاض الجنۃ میں جانے اور وہاں نماز پڑھنے کا ان شاء اللہ اجروثواب تو ہے مگر وہاں جانا واجب نہیں ہے ۔اور نہ اس کا آپ کے حج وعمرہ سے کوئی تعلق ہے ،چنانچہ آپ رش میں داخل ہو کر اپنے آپ کو پریشانی میں نہ ڈالیں۔

    بیشک اسلام ایک کامل دین ہے اس میں دنیوی اور اخروی تمام مصلحتیں موجود ہیں یہ مذہب مردو عورت تمام مسلمانوں کے لئےبھلائی کے ساتھ نازل ہوا اور خواتین کو عزت واحترام کا ایک بلند مقام عطا کیا پس خواتین کو چاہیے کہ اس دین کو مضبوطی سے تھامیں اور اس کے فضائل کو اپنائیں کیونکہ انھیں مسجد میں خیر وبرکت کے کاموں میں حصہ لینے ، باجماعت نماز اداکرنے اور ذکر کی مجلسوں میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ ان کی عزت وآبرو کی حفاظت اور ہر قسم کے فتنے سے بچانے کے لئے انھیں چند اصولوں سے بھی پابند کیا ہے ۔

    ۱۔اگر مسجد جانا چاہیں تو باپردہ ہو کر گھر سے نکلیں۔

    ۲۔اور یاد رکھیے کہ یقینا حجاب (پردہ) عبادت ہے اور قربت الہی کا ذریعہ ہے ۔ اللہ تعالی فرمان ہے :[اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے وہ اپنے اوپر چادر لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی، اور اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے۔](سورۃ الاحزاب:۵۹)

    حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ جب عورتوں کے متعلق یہ حکم نازل ہوا، ‘‘اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے وہ اپنے اوپر چادر لٹکا لیا کریں’’ ، تو انصاری عورتیں جب باہر نکلتیں تو ایسے لگتا کہ ان کے سروں پر کوے بیٹھے ہوں۔ ان سیاہ چادروں کی وجہ سے جو وہ اپنے سروں پر لینے لگی تھیں۔(سنن ابی داود؛ شیخ الالبانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

    اے اسلام کی بیٹی! بیشک حجاب بری نگاہوں سے عورت کی حفاظت کرتا ہے ، اس بات کی تصدیق وہ لوگ بھی کر چکے ہیں جو خواتین کے بناؤ سنگھار اور مرد وعورت کے میل جول کے قائل تھے۔

    ۳۔گھر سے باہر نکلتے وقت زینت اور خوشبو سے اجتناب کریں ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جب تم میں کوئی مسجد کے لئے نکلے تو خوشبو استعمال نہ کرے۔ (صحیح مسلم)

    ۴۔راہ چلتے مردوں کے ہجوم سے گریز کریں۔

    جناب حمزہ اپنے والد ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکل رہے تھے اورمرد عورتوں کے ساتھ ایک ہی راستے پر چل رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا؛[ پیچھے پیچھے رہو۔ تمہیں مناسب نہیں کہ راستے کے عین درمیان میں چلو بلکہ راستے کے اطراف میں چلا کرو۔] چنانچہ عورت دیوار کے ساتھ چلا کرتی تھی۔ حتی کہ اس کا کپڑا دیوار کے ساتھ اٹک جاتاتھا۔

    ( سنن ابی داود؛ شیخ الالبانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔)

    کتنی خوبصورت بات ہو گی کہ آپ اللہ تعالی کی کتاب اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود شرعی آداب پر عمل پیرا ہو کر دوسروں کے لئے بہترین نمونہ بنیں۔

    ہماری اللہ تعالی سے دعا ہے آپ کے نیک اعمال قبول فرمائے اور نیکی کی توفیق عطا فرمائے جس سے آپ کا میزان بھی بھاری ہو جائے اور قیامت کے دن جب انسان اللہ تعالی کے حضور پیش کیے جائیں تو آپ خوشگوار زندگی میں ہوں۔ آمین یا رب العالمین

    و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

    ادارۃ التوجیہ والارشاد النسائی
    ادارہ رہنمائی ونصیحت برائے خواتین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • اعلی اعلی x 1
  2. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جزاک اللہ خیرا۔
    جی مسجد کے اندر پانی پیتے وقت بھی اور وضو خانے وغیرہ میں بھی اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ پانی کو احتیاط سے استعمال کریں ۔ اور فرش وغیرہ پر اتنا نہ گرائیں کے آپ کے بعد آنے والوں کو تکلیف ہو۔ وضو وغیرہ میں یا اگر پانی پیتے وقت بھی گر جائے تو اپنی جگہ صاف اور خشک کر دینی چاہیے۔
    یہ کس طرف ہے؟کون کون سی زبانوں میں کتابیں ہیں ؟ اور صرف بچوں کی ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,568
    یہ لائبریری 24 نمبر گیٹ کے ساتھ ہی ہے ۔اس میں مختلف زبانوں میں مختلف کتابیں ہیں۔ میں نے اس میں بچوں کی کتابیں نہیں دیکھیں، صرف بڑوں کی دیکھیں ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاک اللہ خیرا بہت عمدہ انتخاب ہے۔ مسجد جانے کے لیے عمومی نصیحتیں بھی بہت مفید ہیں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں