ایک بیوی رکھنا گناہ ہے ،سعودی عالم کے فتوی کی حقیقت !!

ابوعکاشہ نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏مئی 18, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    سعودی عالم کا فتوی ، ایک بیوی رکھنا گناہ ہے کی حقیقت !!
    بشکریہ(سیف اللہ ثنا ءاللہ )


    آجکل یہ فتویٰ فیس بک پر گردش هو رہا تها تو میں نے اس فتوے کی حقیقت جاننے کی کوشش کی .

    اصل میں جس مفتی کی تصویر لگائی هوئی ہے .
    ان کا نام ہے الشیخ عبدالله بن عبدالرحمن الجبرين رحمه الله تعالى .
    2009 میں فوت ہوچکے ہیں .

    fatwa.png

    ان کے بیٹے سے بات کی تهی استفسار کی تهی تو وه بتا رهے تهے کے جب شیشان میں جہاد چل رہا تها تو اس وقت عورتیں بیوه ہورہی تهی تو مردوں کو شادی کی ترغیب دی تهی کیونکہ اس وقت ان عورتوں کو کوئی سہارا نا ہونے کی وجہ سے زنا پر مجبور ہوجاتی تهی گهر چلانے کے لئے . اور مردوں میں دوسری شادی معیوب یا بیوه سے شادی کرنا غلط مانا جاتا تها اس لئے اس تناظر میں یہ فتویٰ صارد ہوا .

    اصلی فتوى ان کی افیشل ویب سائٹ سے .
    س: هناك نساء كثير في دولة الشيشان مات أزواجهن في الجهاد وغيره، ولم يتزوجن بعدهم، حيث إن الاعتقاد السائد هناك منع التعدد، فلا تتزوج المرأة برجل عنده زوجة غيرها، فما الحكم في ذلك
    ج :قد أباح الله تعالى للرجل أن يتزوج زيادة على واحدة إلى الأربع، بقوله تعالى: فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ وذلك بشرط العدل لقوله تعالى: فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْوكان الصحابة -رضي الله عنهم- ينكحون العدد من النساء إلى الأربع، وذلك خير للمرأة من أن تبقى بلا زوج، فقد أمر الله تعالى بتزويج النساء، فقال تعالى: وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ولا شك أن المرأة إذا طلقت أو مات زوجها وبقيت بلا زوج أنها تتأذى بالترمل، وتتعرض للفتن والفواحش، وتحتاج إلى نفقة وكسوة وسكنى، فخير لها أن تتزوج ولو برجل معه زوجة قبلها أو زوجتان، لتحصل على العفاف والكفالة والنفقة والسكنى، ورجاء أن يرزقها الله ذرية صالحة، ولا شك أن منعها من التزوج مطلقا بعد زوجها ظلم لها، وإضرار بها.
    وكذلك منعها أن تتزوج بمن عنده زوجة قبلها أو زوجتان فيه أيضا ضرر عليها مع أنه مخالف لما شرعه الله من إباحة التعدد إلى الحد الذي قدره الله، وسبب في كثرة الأرامل والعوانس اللاتي لم يتزوجن لأول مرة أو بعد الوفاة أو الطلاق، وكثرتهن تسبب انتشار الفواحش والمحرمات كما هو الواقع في كثير من الدول التي تمنع التعدد، فعلى المسلمين ألا يحرموا ما أحل الله، ولا يبيحوا ما حرمه الله، حتى يكونوا مسلمين حقا، وحيث إن الواقع في دولة الشيشان قلة الرجال وكثرة النساء الأرامل، وبذلك عبث الكفار والفسقة في أولئك النساء، وانتهكوا أعراضهن، وكثرت الفواحش وكثر أولاد الزنى، فإني أرى أنه يجب على الرجال المسلمين إعفاف نساء المسلمين بالحلال، فمن كان قادرا على أن يتزوج أربعا ويقوم بحقوقهن ويعدل بينهن لزمه ذلك، ومن قدر على ثلاث أو اثنتين مع القدرة على العدل لزمه ذلك حتى تصان نساء المؤمنين ويحصل لهن العفاف والتحفظ والبعد عن تناول نساء المسلمين، فمن كان قادرا على التعدد ولم يفعل ذلك مع مشاهدته وعلمه بكثرة الأرامل وتعرضهن لمن يهتك أعراضهن من الكفار قاتلهم الله، فنرى أنه آثم، وأن عليه مسئولية في عدم سعيه في إعفاف نساء المسلمين. والله أعلم.

    عبد الله بن عبد الرحمن الجبرين
    http://www.ibn-jebreen.com/fatwa/vmasal-5080-.html
     
    • معلوماتی معلوماتی x 3
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. تجمل حسین

    تجمل حسین رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 19, 2014
    پیغامات:
    143
    جزاکم اللہ واحسن الجزا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جزاک اللہ خیرا۔ میں نے بھی یہ خبر دیکھی تھی اور ادھوری بات ہی لکھی ہوئی تھی ۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ لوگ مکمل مضمون کے بغیر آدھی بات لوگوں تک پہنچا رہے ہیں ۔ جب تک یہ پوسٹ نہین دیکھی تھی تب تک اس بات کا افسوس تھا کہ علماء کی طرف سے اتنا غیر ذمہ دارانہ بیان کیوں کر آیا۔ اور اب مزید افسوس میڈیا اور پھیلانے والے کی عقل پر ہے۔جو خود اپنے آپ کے اور امت کے دشمن ہو رہے ہیں ۔
    میں تو اسی بات کا شکر ادا کر رہی ہوں کہ سوشل میڈیا کی پوسٹ دیکھ کر افسوس تو ہوتا ہے لیکن کہیں نہ کہیں یہ یقین بھی ہوتا ہے کہ یہ بات سچ نہیں ۔ جب تک مکمل تحقیق نہ کر لی جائے ایسے مضمون آگے پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  5. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,480
    جزاک اللہ خیرا.اب پوری بات اور فتوی ہذا کا پس منظر سمجھ میں آیا.

    Sent from my LG-E970 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    الحمد للہ ۔ ویسے سوشل میڈیا کا کارنامہ ہے ۔ تحقیق کی ضرورت نہیں رہی ۔
     
    • متفق متفق x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں