ابن صفی کا لازوال کردار ۔۔۔ علی عمران !!

باذوق نے 'گوشۂ ابن صفی' میں ‏جون 1, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    ابن صفی کا لازوال کردار ۔۔۔ علی عمران !!

    ابنِ صفی کے ' عمران سیریز ' ناولوں میں قوس قزح کی طرح دلکش اور دلفریب سات رنگوں پر مشتمل سات معروف کردار واضح طور پر نظر آتے ہیں :
    صفدر ، جولیا ، سنگ ہی ، تھریسیا ، جوزف ، سلیمان اور علی عمران !
    اِن سب میں گہرا اور دلآویز رنگ خود علی عمران کا ہے!

    علی عمران ، جو ایم ایس سی ، پی ایچ ڈی (آکسن) ہے، جس کے پاس ڈگریوں کی فوج ہے لیکن اُس نے ڈگریوں کو سرد خانے میں محفوظ کر رکھا ہے۔
    اِس کردار کے ذریعے ابن صفی سارے معاشرے پر طنز کرتے ہیں کہ اب ہم ڈگریوں کے سائے میں چلتے ہیں۔ ہمارے ہر قول و فعل پر ڈگریوں کا پر تَو نظر آتا ہے۔ اور یوں اَنا کا حصار ہمیں دوسروں کے دلوں میں اُترنے سے روکتا ہے۔
    لیکن عمران اپنی ساری حماقتوں اور معصومیت کے ساتھ یوں جلوہ گر ہوتا ہے کہ سلیمان ہو یا سر سلطان سبھی اس خبطی اور ازلی بیوقوف کے گرویدہ نظر آتے ہیں۔

    عمران کی ٹیڑھی شخصیت پر ابن صفی نے ناول '' گھر کا بھیدی '' میں مفصل روشنی ڈالی ہے۔ وہ رقمطراز ہیں:

    کیا اِس قسم کا تضاد ہمارے گھروں میں نہیں؟ کیا آج نئی نسل ، دُہری زندگی گزارنے پر مجبور نہیں؟ اگر آپ ان کے چہروں کو پڑھیں گے تو کیا یہ نہیں کہیں گے کہ اس شہر میں ہر شخص عمران سا کیوں ہے؟

    تو ماہرِ نفسیات کے نزدیک خود عمران ایک کیس ہے اور وہی مجرمانہ کیس کی گتھیاں ایسے سلجھاتا ہے کہ مجرم اور پولیس دونوں حیران رہ جاتے ہیں۔ لیکن اس کا طریقۂ کار اتنا عجیب ہے کہ مروّجہ قانونی چوکھٹے میں نہیں سماتا۔ اسی لئے پولیس اُسے مجرم اور مجرم پولیس کا انفارمر سمجھتے ہیں اور سب اُس سے متنفر ہیں۔
    اگر عمران بزم میں کیپٹن حمید سے زیادہ بذلہ سنج، پُرلطف اور کھلنڈرا ہے تو رزم میں فریدی سے بڑھ کر جیالا اور بہادر ہے۔
    فریدی کا کردار اتنا سپاٹ اور خشک ہو گیا ہے کہ ہمیں جلد ہی حمید کی طرح راہِ فرار اختیار کرنی پڑتی ہے۔ اپنی تمام خوبیوں اور اعلیٰ صفات کے باوجود فریدی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا اور مجبوراً ابنِ صفی نے حمید اور قاسم کو بے ساکھیاں بنا کر اس مافوق الفطرت کردار کو آگے بڑھنے پر مجبور کیا۔
    اس کے برخلاف عمران کا کردار خاصا تہ دار اور پُرپیچ ہے ۔ خود اس کے چار روپ ہیں : عمران ، ایکس ٹو ، پرنس آف ڈھمپ اور رانا تہور علی ...
    مختلف سطحوں پر مختلف کرداروں کے ساتھ ذہنی تصادم ، خاصا ہنگامہ اور دلچسپی پیدا کرتے ہیں۔ اپنے والد رحمٰن صاحب سے لے کر نوکر سلیمان تک ہر سطح اور ہر کردار کے ساتھ اپنی انفرادیت اور توانائی برقرار رکھتا ہے۔
    یہ ابن صفی کے شگفتہ قلم کا نتیجہ ہے کہ ہر ناول میں عمران ہمارے سامنے نت نئے روپ میں آتا ہے۔
    کبھی وہ پرانی کارمیں بیٹھ کر بھیک مانگ رہا ہے... (دوسری آنکھ)
    کبھی پیکسی کے ساتھ سرکس میں مسخرا بن جاتا ہے . (کالی تصویر )
    کبھی ایک معمر باریش بزرگ کو سائیکل چلانے پر اس لئے ٹوک رہا ہے کہ داڑھی کے بال ہلا کر سائیکل چلاتے شرم نہیں آتی ؟ (گُمشدہ شہزادی)
    تو کبھی وہ اپاہج اور بیوی سے خوفزدہ شوہر بن کر رینا ڈکسن کے گھر پناہ لیتا ہے ۔ (سبز لہو)

    غرض ہر ناول میں عمران کی عجیب و غریب حرکات و افعال پر سب کو تعجب ہوتا ہے ۔ بعد میں پتا چلتا ہے کہ یہ تو ایک ڈھونگ تھا، مجرم تک رسائی پانے کے لئے ... تب ہم عمران کی ذہانت اور شجاعت کے قائل ہو جاتے ہیں۔ علامہ دہشتناک ، ظلمات کا دیوتا ، بے باکوں کی تلاش ، درندوں کی بستی ... سیریز میں عمران پورے شباب پر نظر آتا ہے ۔
    ابن صفی نے علّامہ دہشت ناک کا کردار بڑی چابک دستی سے کھینچا ہے ۔ علامہ دہشتناک ، جو یونیورسٹی میں سوشیالوجی کا پروفیسر ہے اور اپنے دہشتناک خیالات کی بنا پر شاگردوں اور معتتقدوں میں مقبول ہے۔ صرف ذہین اور طاقتور انسان کو زندہ رہنے کا اہل سمجھتا ہے ۔ کمزوروں اور بُزدلوں کو کیڑے مکوڑے جانتا ہے۔ عمران اُس کی معتقد طالبہ شیلا دھنی رام کو کیسے رام کرتا ہے ؟ ملاحظہ ہو :

    یہاں ابن صفی نے عمران کے ذریعے زندگی کا ایک حقیقی فلسفہ پیش کیا ہے۔ سیاسی برتری کے پردے میں دراصل ذہنی برتری کام کر رہی ہے۔ مختلف فلسفۂ حیات دراصل ذہین شخصیتوں کے ماحول سے بیزاری کا نتیجہ ہے ۔ جو جتنا ذہین ہوگا ، اُتنا ہی چالاک ہوگا اور کرۂ ارض پر فتنے کا سبب ہوگا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    اقتباس از تحریر : رؤف خوشتر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. عقرب

    عقرب Guest

    بہت خوب باذوق بھائی ۔۔

    بہت اچھی تحریر ہے عمران کے کردار پر کافی حد تک روشنی ڈالی گئی ہے بہت اچھا لگا پڑھکر۔۔:)


    پر فریدی (کرنل ہارڈاسٹون ) کے بارے میں‌ میرا نظریہ کچھ اور ہے ۔۔

    "اگر عمران بزم میں کیپٹن حمید سے زیادہ بذلہ سنج، پُرلطف اور کھلنڈرا ہے تو رزم میں فریدی سے بڑھ کر جیالا اور بہادر ہے۔"

    ایسا تو ابن صفی صاحب نے کہیں بھی نہیں‌کہا۔۔:00002: یعنی فریدی سے بڑھکر جیالا۔۔ارے بھائی ہم بھی عمران کی بے جگری کے قائل ہیں‌۔۔پر ایسا بھی کیا۔۔:00026:
    صاحب تحریر کا درجہ بالا جملہ کسی بھی طرح ہضم نہیں‌ہوتا ہمیں۔۔:00008:


    "فریدی کا کردار اتنا سپاٹ اور خشک ہو گیا ہے کہ ہمیں جلد ہی حمید کی طرح راہِ فرار اختیار کرنی پڑتی ہے۔ اپنی تمام خوبیوں اور اعلیٰ صفات کے باوجود فریدی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا اور مجبوراً ابنِ صفی نے حمید اور قاسم کو بے ساکھیاں بنا کر اس مافوق الفطرت کردار کو آگے بڑھنے پر مجبور کیا۔"


    فریدی کا کردار سپاٹ اور خشک ہونے کہ باوجود بے انتہا پرکشش اور پر اسرار ہے ۔ اور رہی بات حمید اور قاسم اور بے ساکھیوں والی تو ۔یہ سراسر نا انصافی ہے ۔۔:00002: فریدی کو پڑھنے والوں کو یہ اچھی طرح پتہ ہے کہ اگر فریدی زچ کرنے پر اتر آئے تو میاں‌حمید کی بھی بولتی بند ہوجاتی ہے۔۔:00039: وہ تو بس صفی صاحب فریدی کے کردار کو باوقار بنائے رکھنے کے لیئے اسکے کردار میں خشکی گھول دیتے تھے ۔ورنہ وہ بھی مزاح میں اپنا جواب نہیں رکھتا ۔۔:00005:

    فریدی کے کردار کے ساتھ بے ساکھیوں کا لفظ کچھ مطابقت نہیں رکھتا۔۔اسی لیئے میں‌نے کہ دیا۔۔ویسے سب کا اپنا اپنا نظریہ ہے ۔۔

    آپ کی طرف سے مزید کا انتظار رہیگا۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. asim10

    asim10 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 3, 2009
    پیغامات:
    187
    بچپن یاد ا گیا
     
  4. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,613
    زمانہء طالب علمی کا ایک پسندیدہ کردار.
    شیرنگ کا شکریہ
     
  5. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    شیرنگ کا شکریہ
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں