ڈیجیٹل علماء

عمر اثری نے 'طنزیہ و مزاحیہ نثری تحریریں' میں ‏جولائی 24, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
    ڈیجیٹل علماء
    _____________________

    تحریر: عبدالغفار سلفی، بنارس

    موبائل اور انٹرنیٹ کے کثرتِ استعمال نے علماء اور طلبہ کو کام چور اور کاہل بنا دیا ہے. اب نہ وہ ذوق مطالعہ رہا نہ کتب بینی کی پہلے جیسی طلب اور چاہت. وہ ہمارے اسلاف تھے کہ ایک ایک کتاب کےحصول کے لیے میلوں خاک چھانتے، شہر گاؤں سب ایک کر دیتے اور تب تک انہیں چین نہ ملتا جب تک اپنی مطلوبہ کتاب حاصل نہ کر لیتے اور اس کے مطالعہ سے اپنی علمی پیاس بجھا نہ لیتے. علم وعمل کا پہاڑ ہونے کے باوجود ان مخلص ہستیوں میں نہ تو کسی قسم کا غرور تھا نہ خودنمائی کا کوئی جذبہ تھا، تواضع کا یہ عالم کہ کبھی اپنے علم کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا. بڑے بڑے محدثین کو دیکھا گیا کہ اپنے اساتذہ کی جوتیاں سیدھی کر رہے ہیں، ان کے سامنے ادب و احترام کی مورت بنے ہوئے ہیں. یہ وہ اساطین علم وادب تھے کہ جنہوں نے پڑھنے لکھنے کو ہی زندگی کا مقصد بنا لیا. تاریخ میں جتنے بھی نامور محدثین ، مفسرین، فقہاء، صاحبان زبان وادب کے تذکرے ملتے ہیں ذرا ان کی زندگیوں کا جائزہ لیجیے مطالعہ ان کی زندگی کا لازمی عنصر اور کتابیں ان کا اوڑھنا بچھونا تھیں.

    اب ہر چیز ڈیجیٹل ہو چکی ہے. کتابیں بھی اور انہیں پڑھنے والے بھی، انسان بھی اور اس کا علم و استحضار بھی. اب ساری لگن، تڑپ، تشنگی ان الکٹرانک ڈیواسز کے لیے وقف ہو کر رہ گئیں. اب چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی متون کے حافظ نہیں ملتے. البتہ "مکتبہ شاملہ" سے سرچ کر کے مطلوبہ حدیث نکال کر فخر سے اپنے علم کی ڈفلی بجانے والے ٹٹ پونجیے ہر گلی چوراہے پر تھوک کے بھاؤ مل جائیں گے.اب جلدی کوئی یہ کہنے والا نہیں ملتا کہ میں نے فلاں کتاب پڑھی ہے. البتہ فخر سے یہ کہنے والے ضرور مل جاتے ہیں کہ میرے موبائل میں فلاں کتاب بھی ہے. میرے لیپ ٹاپ میں فلاں سافٹویئر بھی ہے. شب بیداریاں اب بھی ہو رہی ہیں لیکن کتب بینی کے لیے نہیں بلکہ لا یعنی قسم کی چیٹنگ اور بے مقصد اور لاحاصل مناظرہ بازیوں کے لیے ہو رہی ہیں.

    ایک طرف ہمارے وہ اسلاف تھے کہ جو بیچارے اپنے علمی کاموں کے لیے وقت کی قلت کا رونا رویا کرتے تھے، اس کے بعد بھی امت کو ڈھیر سارا علمی ورثہ دے کر گئے، دوسری طرف ہم ہیں کہ ہمارے پاس وقت کی اتنی افراط اور بہتات ہے کہ ہم دن رات لا یعنی چیزوں میں "ٹائم پاس" کرتے رہتے ہیں. تکبروتعلی کا عالم یہ ہے کہ کوئی شخص خود کو علامہ دوراں اور مفتی زماں سے کم کہلانے پر راضی نہیں ہے. علم کی ایسی بے سروسامانی، مطالعے سے ایسا تنفر، علماء خیر کا ایسا قحط، کاغذی شیروں کی ایسی غراہٹ صدیوں سے نہیں دیکھی گئی. اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 1
  2. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    مفید اور فکرانگیز تحریر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    اچھی تحریر ہے۔ مسلمانوں کے لیے مقام فکر ہے۔
    ایک نکتہ ذکر کرنا چاہوں گی۔
    اس تحریر کی روشنی اسلاف کا اخلاف سے موازنہ کیا جائے تو اخلاف میں محنت کا فقدان اور ٹیکنالوجی کا غلط استعمال واضح ہے۔
    لیکن ٹیکنالوجی آپ کو محنت سے نہیں روکتی البتہ ہر دور کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ اس دور میں اگر کتب کی فراہمی یا دیگر آسانیاں میسر ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ محنت کرنے کی واحد جہت یہی تھی اور اب یہ ختم ہوگئی تو محنت کی ضرورت نہیں رہی۔ بلکہ عقلمند وہ ہے جو جدید تقاضوں کو سمجھ کر ان کی روشنی میں اپنی صلاحیتیں اللہ کے دین کے لیے صرف کرے۔
    اگر کوئی جدید ٹول یہ سہولت دیتا ہے کہ آپ آٹھ دس کتب مکمل مطالعہ کیے بغیر ان میں سے صرف مطلوبہ معلومات اخذ کر سکتے ہیں تو میرا نہیں خیال یہ خسارہ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ بچایا ہوا وقت آپ کسی اور تحقیق میں لگا دیں۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہماری تخلیقی صلاحیتیں ابھرتیں ہم مزید سست ہوگئے۔
    نکما شخص بہرحال خسارے میں ہے بھلے وہ جدید دور میں ہو یا قدیم۔ کام کرنے والے آج بھی وقت کی قلت کا رونا روتے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں وقت کی قدر کرنے کی توفیق دے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    میرے خیال مین مکتبہ شاملہ کا "معقول" استعمال ہر کوئی نہیں کرسکتا ۔ یہاں سے بھی انہی کو حدیث ملتی ہے جنہیں متن حفظ ہوتا ہے، کتب حدیث کا کوئی تعارف معلوم ہوتا ہے کیوں کہ ڈجیٹل لائبریری سوفٹوئرز سے وہی فائدہ اٹھا سکتا ہے جسے اسلامی مصادر کی شدبد ہو۔
    یہ اساتذہ کا کام ہے کہ پہلے تخریج کے روایتی طریقوں پر محنت کروائیں پھر سافٹوئرز بھی سکھائیں، جس طرح کیلکولیٹرز کے آنے کے باوجود حساب میں مہارت رکھنے والے انسانوں کی ضرورت باقی ہے اسی طرح حفاظ متون کی بھی قدر کم نہیں ہوئی۔
    اسی طرح خوامخواہ ٹیکنالوجی کوفتنہ ثابت کرنا بھی غلط ہے۔ محنت کرنے والے آج بھی کر رہے ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    حقیقت بیان کی ہے تکفیر، تنفیر،تنقید،تردید،تذلیل وغیرہ ،کوجدید ٹیکنالوجی نے جتنا آسان کردیا ہے ۔ اس سے پہلے کبھی نا تھا ۔ صرف مجلس پر کم وبیش ایک ہزار پوسٹس زیر مشاہدہ ہیں جن میں کسی کی ذات سے لیکر صفات تک ،اسلام سے ایمان تک کو مشکوک بنایا گیا ہے ۔ اور یہ فتاوی ایسے مفتیوں کی طرف سے جاری ہوئے ۔ جو اسی ترقی کی پیداوار ہیں ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • دلچسپ دلچسپ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں