رنگ اتنا تو میرا خونِ وفا رکھتا ہے

عائشہ نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏اکتوبر، 3, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    رنگ اتنا تو مرا خون وفا رکھتا ہے
    اس کے ہاتھوں کو بھی پابندِ حنا رکھتا ہے

    نرم ہو جاتی ہے سوکھے ہوئے کانٹوں کی رواں
    دشت میں جب بھی قدم آبلہ پا رکھتا ہے

    مجھ سے کترا کے گزر جاتا ہے طوفانِ بلا
    کوئی میرے لیے ہونٹوں پہ دعا رکھتا ہے

    اس قدر خوف زدہ مجھ سے نگہباں ہے مرا
    مجھ کو زنداں میں بھی زنجیر بپا رکھتا ہے

    خود سے ملنے کی بھی فرصت نہیں ملتی اس کو
    اپنے اطراف وہ دیوارِانا رکھتا ہے

    آگیا راس اسے کوچہء وحشت کا مزاج
    پھول سے جسم پہ کانٹوں کی قبا رکھتا ہے

    زندگی تجھ سے بہت لوگ ہیں اکتائے ہوئے
    ورنہ تلوار پہ کون اپنا گلا رکھتا ہے

    میں کسی بات کی تردید نہیں کر سکتا
    روز ہی مجھ پہ وہ الزام نیا رکھتا ہے

    اس کے دکھ کو کوئی اعجاز سمجھ ہی نہ سکا
    اپنے ہونٹوں پہ تبسم جو سدا رکھتا ہے

    شاعر: اعجاز رحمانی​
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں