جسم پہ اپنے زخم سجانا سب کے بس کی بات نہیں

عائشہ نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏اکتوبر، 5, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    جسم پہ اپنے زخم سجانا سب کے بس کی بات نہیں
    رت میں خزاں کی پھول کھلانا سب کے بس کی بات نہیں

    خون سے اپنے دیپ جلانا سب کے بس کی بات نہیں
    اپنے گھر کو آگ لگانا سب کے بس کی بات نہیں

    پیار کا جذبہ انسانوں میں کم ہے آج بہت ہی کم
    نفرت کی دیوار گرانا سب کے بس کی بات نہیں

    ہنستے ہوئے پھولوں کو مسلنا کوئی بھی مشکل کام نہیں
    انگاروں کو پھول بنانا سب کے بس کی بات نہیں

    اپنے چہروں پر تو چہرے لوگ سجا ہی لیتے ہیں
    لیکن آئینہ بن جانا سب کے بس کی بات نہیں

    یہ تو کام اسی کا ہے جو عشق کی آگ میں جل جائے
    ذرے سے سورج بن جانا سب کے بس کی بات نہیں

    اپنی حفاظت سب کرتے ہیں جتنے لوگ ہیں دنیا میں
    سچ کے لئے تلوار اٹھانا سب کے بس کی بات نہیں

    ساقی تیرا کام نہیں یہ کام تو ہے مے نوشوں کا
    پیاس کسی صحرا کی بجھانا سب کے بس کی بات نہیں

    سیلاب دریا سے گزرنا کام بہت ہی مشکل ہے
    لیکن اپنی ناؤ جلانا سب کے بس کی بات نہیں

    یہ تو ہے اعجاز وطیرہ صرف محبت والوں کا
    وعدے قسمیں قول نبھانا سب کے بس کی بات نہیں

    شاعر: اعجاز رحمانی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں