پہلی نماز

مریم جمیلہ نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اکتوبر، 8, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    ( یہ اقتباس ڈاکٹر جیفری لینگ کی کتاب 'Even Angels Ask' سے لیا گیا ہے جس میں وہ اپنی پہلی نماز کا قصہ بیان کرتے ہیں-)


    جس دن میں نے اسلام قبول کیا، امام مسجد نے مجھے ایک کتابچہ دیا جو نماز ادا کرنے کے طریقے سے متعلق تھا. میں نے سوچا نماز پڑھنا کس قدر مشکل ہو گا-

    اسی رات میں نے پانچ وقت کی نمازیں مقررہ اوقات پر پڑھنے کا فیصلہ کیا- چونکہ نماز کا متن عربی میں تھا سو مجھے الفاظ کی عربی میں ادائیگی اور ان کا انگریزی میں ترجمہ حفظ کرنا تھا- چند گھنٹے کتابچے کو پڑھنے کے بعد یہ اطمینان ہو گیا کہ میں اپنی پہلی نماز ادا کر سکتا ہوں-

    غسلخانے میں داخل ہوا اور ساتھ ہی کتاب کا وضو سے متعلق حصہ کھول لیا- کسی باورچی کی طرح جو پہلی مرتبہ کوئی نئی ترکیب آزما رہا ہو، میں نے قدم بہ قدم، آہستہ آہستہ اور احتیاط سے طریقے پر عمل کیا-

    اب میں کمرے کے ایک کونے میں جا کر کھڑا ہوگیا اور اندازاً مکہ کی سمت منہ کر لیا- پھر میں نے مڑ کر یہ دیکھنا چاہا کہ اپارٹمنٹ کا دروازہ مقفل ہے. دروازہ بند ہی تھا- بالکل سامنے کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے اپنی پوزیشن درست کی، ایک گہرا سانس لیا اور پست آواز میں کہا، 'الله أكبر!'
    مجھے گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی اور مسلسل یہ خیال آ رہا تھا کہ شاید کوئی میری جاسوسی کر رہا ہے- لہٰذا اپنے اس کام کو چھوڑ کر کھڑکی کی طرف گیا، اردگرد دیکھا، کوئی بھی موجود نہیں تھا- میں نے احتیاط سے پردے برابر کیے اور اپنی جگہ پر واپس آ گیا. ایک بار پھر سیدھا کھڑا ہوا اور بے حد ہلکی آواز میں سرگوشی کی- 'الله أكبر!'
    آہستہ سے اور بدقت میں نے قرآن کی پہلی سورت اور پھر ایک اور مختصر سورت تلاوت کی-
    پھر میں اس طرح جھکا کہ میری کمر ٹانگوں سے نوے کے زاویے پر تھی- اس سے قبل میں کبھی کسی کے سامنے نہ جھکا تھا اور کچھ خجالت محسوس کرنے کے ساتھ مجھے یہ تسلی بھی تھی کہ میں اکیلا ہی ہوں- اب میں سیدھا کھڑا ہو گیا اور پڑھا، 'سمع الله لمن حمده'. ایک بار پھر الله أكبر پکارتے ہوئے میرا دل زور سے دھڑکا اور مجھے گھبراہٹ بڑھتی ہوئی محسوس ہوئی-

    اب میں اس لمحے کو پہنچ گیا تھا کہ جب مجھے سجدہ کرنا تھا- خوف کی حالت میں میں نے زمین کے اس حصے کو دیکھا- میں یہ نہیں کر سکتا- میں خود کو زمین پر نہیں جھکا سکتا جیسے ایک غلام اپنے مالک کے سامنے خود کو نیچا کرتا ہے- اس وقت ایسا لگا جیسے میری ٹانگوں کو کسی سہارے نے جکڑ رکھا ہے جو انہیں مڑنے نہ دے رہا ہو- میں بے حد شرمندگی اور خفت محسوس کر رہا تھا- تصور میں مجھے اپنے دوست خود پر ہنستے ہوئے نظر آئے جو مجھے اپنا مذاق اڑاتے ہوئے دیکھ رہے تھے: 'بے چارہ جیف!' میں ان کو یہ کہتے ہوئے سن سکتا تھا-

    'پلیز پلیز! یہ کرنے میں میری مدد کریں!' میں نے دعا کی- ایک گہرا سانس لیا اور خود کو زبردستی زمین پر جھکایا- اب میرے ہاتھ اور گھٹنے فرش پر تھے- ایک لمحے کا وقفہ اور پھر میں نے اپنا چہرہ فرش پر ٹکا دیا- ذہن سے تمام تر سوچوں کو جھٹکتے ہوئے میں نے تین بار میکانکی انداز میں پڑھا: 'سبحان ربي الأعلى'
    'الله أكبر!'
    یہ پکارتے ہوئے میں سیدھا ہو کر اپنی ایڑیوں پر بیٹھا اور ایک بار پھر چہرہ کارپٹ پر رکھا-
    میں ہر صورت اس کو مکمل کرنا چاہتا تھا، چاہے کچھ بھی ہو-
    'الله أكبر!' خود کو فرش پر سے اٹھایا اور پھر سے سیدھا کھڑا ہو گیا-

    مزید تین چکر- میں نے خود کو بتایا- باقی نماز کے دوران مجھے اپنے جذبات اور انا سے جنگ لڑنا پڑی مگر ہر گردش کے ساتھ یہ کام آسان ہوتا گیا-
    بالآخر میں نے تشہّد تلاوت کیا اور نماز ختم کی-

    ختم شد، میں فرش پر ہی رہا اور اس جنگ کا جائزہ لیا جس سے میں ابھی گزرا تھا- اب میں نماز کے دوران پیش آنے والی مشکل پر شرمندگی محسوس کر رہا تھا- ندامت سے جھکے سر کے ساتھ میں نے دعا کی:
    'پلیز مجھے میرے تکبر اور کم عقلی کے لیے معاف کر دیجیے. میں بہت دور سے آیا ہوں اور مجھے بہت دور تک جانا ہے-'
    اس لمحے میں نے کچھ ایسا محسوس کیا جو پہلے کبھی نہ کیا تھا- ٹھنڈ کی ایک لہر میرے اندر دوڑ گئی جس کا خروج میرے سینے کے کہیں اندر سے ہوا تھا اور یہ کسی طبعی احساس سے کہیں بڑھ کر تھی- ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے رحمت نے ایک وجودی حیثیت اختیار کر لی ہے اور اب یہ مجھے اندر اور باہر ہر طرف سے ڈھانپ رہی ہے- میں بیان نہیں کر سکتا کہ کیا وجہ ہوئی مگر میں رو دیا- آنسو میرے چہرے پر گرنے لگے اور میں نے خود کو بے ضبط روتے ہوئے پایا- جس قدر میرے رونے میں شدت آتی، مجھے محسوس ہوتا کی ایک قوی رحمت اور شفقت مجھے اپنی آغوش میں لے رہی ہے- میں اپنا سر ہاتھوں میں دیے ہوئے گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھا رہا- کچھ دیر تک سسکیاں لیتے ہوئے-

    جب بالآخر میں خاموش ہوا تو بالکل تھک چکا تھا مگر ایک بات کا ادراک ہوگیا کہ مجھے اللہ تعالٰی اور نماز کی اشد ضرورت ہے- اٹھنے سے پہلے میں نے ایک آخری دعا کی:

    'اے اللہ! اگر آئندہ کبھی میں کفر کی طرف لڑھکنے لگوں تو مجھے مار ڈالیے اور مجھے اس زندگی سے چھٹکارا دلا دیجیے- اپنی خامیوں اور کمزوریوں کے ساتھ رہنا بہت مشکل ہے مگر اب میں ایک اور دن بھی آپ کو جھٹلاتے ہوئے نہیں گزار سکتا-'

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وعظ صلاۃ (نماز) کے بارے میں تھا- زندگی کے آخری لمحات میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم شدید علیل تھے، تین دفعہ اٹھ کھڑے ہوئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، 'کیا مسلمان نماز پڑھ چکے؟'
    عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا، 'نہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں-' بار بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوشش کی، غسل لیتے اور دوبارہ بے ہوشی طاری ہو جاتی- پھر بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے مقرر کیا- تب بھی ہمت نہ ہاری اور دو افراد کے سہارے ظہر کی نماز کے لیے پہنچے- ابوبکر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ دیا کہ وہ جاری رکھیں- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ مجھے ابوبکر کے ایک طرف بٹھا دو- انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قریب بٹھا دیا جنہوں نے کھڑے ہوئے امامت جاری رکھی اور لوگوں نے ان کے پیچھے نماز ادا کی-
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری الفاظ تھے، 'الصلوة! الصلوة!' اور ساتھ فرمایا، 'تمہارے غلام جو تمہارے دائیں ہاتھ کے قبضے میں ہیں!'
    یہ ہے اسلام- حقوق اللہ اور حقوق العباد...


    (ترجمہ و تلخیص: مریم جمیلہ)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
    • اعلی اعلی x 4
    • مفید مفید x 1
  2. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    بہت مؤثر اقتباس ہے۔ ہم پیدائشی مسلمان کبھی اس چیز کا شکر ادا نہیں کرتے کہ اتنی بڑی نعمتیں بغیر کسی مشکل کے ہماری زندگی میں شامل ہوگئیں۔
    اللھم انا نعوذبک من زوال نعمتک
    اور اتنی محنت سے ترجمہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 2
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    بہت شان دار!
    اللہ سبحانہ وتعالی آپ کو بہترین جزا دے۔ ڈاکٹر جیفری لینگ کی کتابوں میں جو روحانی واردات کا بیان ہوتا ہے اس کاحق آپ نے ادا کر دیا۔ ماشاءاللہ بہت عمدہ ترجمہ ہے۔ آپ اس کو باقاعدہ چھپوائیے۔ اس موضوع پر مصنف کے نام کا ٹیگ بھی لگا دیجیے۔
     
    Last edited: ‏اکتوبر، 8, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    جزاکم اللہ خیرا. آپ سب کی اعلی ظرفی ہے ورنہ ترجمہ کچھ اتنا خاص نہیں. اللہ تعالٰی ہم سب کے لیے نافع بنائیں. اور چھپوانے کا کام خاصی اونچی سوچ ہے. مگر ایک پراجیکٹ میرے ذہن میں کچھ عرصے سے ہے، اگر اللہ تعالٰی اتنی توفیق اور صلاحیت دیں.. : )
    واقعی مجھے بھی اسی چیز نے متاثر کیا. یہی وجہ ہے کہ ہم ایسی روحانی وارداتوں سے بھی محروم رہ جاتے ہیں. جب نماز کے لیے کچھ قربان نہ کیا تو ایسی ایمانی لذت بھی کیسے حاصل ہو!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,121
    واقعی شاندار
    سبحان اللہ یہ اسی کی شان ہے کہ چسے چاہے ہدایت دے ہم میں سے کتنے ہیں جو رکوع سجود تو آسانی سے کر لیتے ہیں لیکن اس میں دل کی عاجزی اور جهکنا کتناہے یہ اللہ ہی جانتے ہیں .
    اللہ تعالی ہماری تمام عبادات میں خلوص پیدا کردے آمین یا رب العالمین.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  6. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    ^آمین یارب العالمین
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    واقعی بہت اچھا ہے۔ یہی واقعہ انہوں نے انٹرویوز میں بھی ذکر کیا ہے اسی لیے مجھے یاد رہ گیا ورنہ یہ کتاب ابھی نہیں دیکھی۔ آپ نے ماشاءاللہ حق ادا کر دیا ہے۔
    اس کا ایک ترجمہ یہاں ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس کتاب سے نہیں۔
    http://www.urdumajlis.net/threads/ان-کا-قصہ-۔-۔-۔-بھاری-سجدہ.18802/
    اسی لیے کہہ رہی تھی کہ ٹیگ لگا دیں۔
    ان کی ایک دو روحانی وارداتوں کو بہت مختصر کر کے میں نے بھی لکھا تھا۔
    http://www.urdumajlis.net/threads/ڈاکٹر-جیفری-لینگ،-الحاد-سے-اسلام-تک-from-atheism-to-islam.16974/
    http://www.urdumajlis.net/threads/بہت-مشکل-ہے.9528/#post-215800
    لیکن ان کی کتابوں میں جو ادبی اسلوب ہے وہ تو اس جھلک سے کہیں بڑھ کر ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ کو بھی ان کی کتابیں پسند آئیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    ما شاء اللہ. یہاں تو بہت اچھے تراجم پہلے سے موجود ہیں : )
    واقعی میں نے ابھی صرف ایک کتاب کا کچھ حصہ پڑھ رکھا ہے. اور وہ بھی بہت اعلی ہے. اسلام کے ارکان کے بارے میں ان کا منفرد نظریہ اور بہت سی دوسری باتیں... بے حد متاثر کن. باقی کتابیں خرید کر پڑھنے کا ارادہ ہے، اللہ تعالٰی پورا کروائیں. اصل میں پہلے میں نے ان کی وہ مشہور تقریر سنی تھی، جو یوٹیوب پر ہے: The purpose of life.
    اور اس نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ پھر میں نے ان کے بارے میں مزید سرچ کیا. یوں ان کی کتابوں کے کچھ حصے ملے جو آنلائن موجود تھے. میری خواہش ہے کہ میں Even Angels Ask کا ترجمہ کر سکوں، شاید کبھی یہ خواہش پوری ہو جائے، باذن اللہ : ) اس کے علاوہ ان کی اس تقریر کا ترجمہ کچھ عرصے پہلے شروع کیا تھا، مگر وہ گھنٹہ بھر لمبی ہے سو فراغت ملنے تک کے لیے مؤخر کر رکھا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    دیکھ لیجیے کہیں ہو نہ چکا ہو۔ ایک کتاب کا اردو ترجمہ دیکھا ہے میں نے۔ عنوان یاد نہیں رہا۔
    ان کی ایک ای بک سکرائبڈ سے اڑائی تھی اگر کسی فولڈر میں مل گئی تو آپ کو بھیجتی ہوں۔
     
    Last edited: ‏اکتوبر، 9, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    جی یہی میرے پاس بھی ہے، مگر وہی مسئلہ کہ نامکمل ہے. Struggling to Surrender مکمل ای بک ورژن میں ہے، مگر وہ ابھی میں نے پوری نہیں پڑھی.
    نظر تو نہیں آیا. اگر آپ کو ملے تو ضرور بتائیے گا. بہت مفید کتاب ہے.
     
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    Last edited: ‏اکتوبر، 9, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    جزاک اللہ خیرا
     
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    مصنف یا ناشر کو لکھ کر اجازت لے کر کریں، اس کا فائدہ زیادہ ہو گا۔ ہے تو لانگ ٹائم پراجیکٹ لیکن جب پورا ہو گا تو آپ کو لانگ ٹائم اجر ملے گا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  15. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    ماشاءاللہ ۔ بہت خوب۔
    اتنی بھاگتی دوڑتی مصروف دنیا میں خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو اس قدر اخلاص میسر آ جائے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک دوست نے اس کتاب کے متعلق بتایا تھا ۔ اب جو ترجمہ پڑھا ہے تو مزید شوق جاگ اٹھا ہے مکمل کتاب پڑھنے کا ۔ میں دیکھتی ہوں کہ میری لائبریری میں یہ کتاب اگر موجود ہو تو ریزیرو کروں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    واقعی. قابل رشک! مسلسل حق کی تلاش میں رہنا اور پھر حق تک رسائی ہو جانے کے بعد اس اخلاص سے اس کو تھام لینا اور پھر آگے پہنچانا.. واہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  17. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بارک اللہ فیکم، انتہائی مؤثر تحریر ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    اخلاص بھی پیاس کے حساب سے ہوتا ہے۔ جس نے جتنی پیاس برداشت کی ہوتی ہے اتنی ہی اس کو نعمت کی قدر ہوتی ہے۔ ان کے بچپن کے خوف ناک حالات پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اتنے نرم خو، امن پسند، اور درد دل والے کیسے ہو گئے، زبان میں تاثیر بھی تبھی آتی ہے جب آنسوؤں میں خون جگر کی آمیزش ہو چکی ہو۔ مجھے لگتا ہے کہ انسان ذاتی زندگی میں جتنی بری طرح ٹوٹتا ہے اتنا ہی وہ انسانوں کا درد محسوس کر سکتا ہے۔
     
    • متفق متفق x 2
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    • معلوماتی معلوماتی x 2
  20. مریم جمیلہ

    مریم جمیلہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 26, 2015
    پیغامات:
    111
    لیکن یہ تو صرف کچھ اقتباسات کا ترجمہ ہے.
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں