جمعہ کے دن کی جانے والی بعض غلطیاں

عبد الرحمن یحیی نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اکتوبر، 21, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,313
    جمعہ کے دن کی جانے والی بعض غلطیاں
    1 ۔ جان بوجھ کر جمعہ کی نماز چھوڑ دینا
    صحيح مسلم: كِتَابُ الْجُمُعَةِ (بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ الْجُمُعَةِ)
    صحیح مسلم: کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل (باب: جمعہ چھوڑ نے پر سخت وعید)
    2002 . و حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي أَخَاهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مِينَاءَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنْ الْغَافِلِينَ
    حکم : صحیح

    2002 . حکم بن مینا ء نے حدیث بیان کی کہا: سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما نے انھیں حدیث بیان کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ اپنے منبر کی لکڑیوں پر (کھڑے ہو ئے) فر ما رہے تھے "لو گوں کے گروہ ہر صورت جمعہ چھوڑ دینے سے باز آجا ئیں یا اللہ تعا لیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ غا فلوں میں سے ہو جا ئیں گے۔

    2 ۔ جمعہ کی نماز کے لیے جلدی نہ کرنا
    صحيح البخاري: كِتَابُ الجُمُعَةِ (بَابُ الِاسْتِمَاعِ إِلَى الخُطْبَةِ)
    صحیح بخاری: کتاب: جمعہ کے بیان میں (باب: خطبہ کان لگا کر سننا)
    929 . حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَقَفَتْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ كَبْشًا ثُمَّ دَجَاجَةً ثُمَّ بَيْضَةً فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَوْا صُحُفَهُمْ وَيَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ
    حکم : صحیح

    929 . سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے جامع مسجد کے دروازے پر آنے والوں کے نام لکھتے ہیں، سب سے پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی دینے والے کی طرح لکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی دینے والے کی طرح پھر مینڈھے کی قربانی کا ثواب رہتا ہے۔ اس کے بعد مرغی کا، اس کے بعد انڈے کا۔ لیکن جب امام ( خطبہ دینے کے لیے ) باہر آجاتا ہے تو یہ فرشتے اپنے دفاتر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

    3 ۔ جمعہ کے دن غسل کرنے میں سستی کرنا
    جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْجُمُعَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ)
    جامع ترمذی: كتاب: جمعہ کے احکام ومسائل (باب: جمعہ کے دن غسل کی فضیلت کا بیان)
    496 . حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَأَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَغَسَّلَ وَبَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَدَنَا وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا أَجْرُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا قَالَ مَحْمُودٌ قَالَ وَكِيعٌ اغْتَسَلَ هُوَ وَغَسَّلَ امْرَأَتَهُ قَالَ وَيُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ يَعْنِي غَسَلَ رَأْسَهُ وَاغْتَسَلَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَسَلْمَانَ وَأَبِي ذَرٍّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي أَيُّوبَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَأَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ اسْمُهُ شَرَاحِيلُ بْنُ آدَةَ وَأَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْقَصَّابُ الْكُوفِيُّ
    حکم : صحیح

    496 .سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:'جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اورغسل کرایا، اورسویرے پہنچا،شروع سے خطبہ میں شریک رہا،امام کے قریب بیٹھااورغورسے خطبہ سنا اورخاموش رہا تو اُسے اس کے ہرقدم کے بدلے ایک سال کے صیام اوررات کے قیام کا ثواب ملے گا'۔ وکیع کہتے ہیں: اس کا معنی ہے کہ اس نے خودغسل کیااور اپنی عورت کو بھی غسل کرایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اوس بن اوس کی حدیث حسن ہے۔

    4 ۔ دوران خطبہ بات چیت یا کوئی اور حرکت کرنا
    ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجُمُعَةِ (بَابُ الإِنْصَاتِ يَوْمَ الجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ)
    صحیح بخاری: کتاب: جمعہ کے بیان میں (باب: خطبہ کے وقت چپ رہنا)
    934 . حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ
    حکم : صحیح

    934 .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تو اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہے کہ “چپ رہ” تو تو نے خود ایک لغو حرکت کی۔
    صحیح مسلم حدیث نمبر 1988 کے الفاظ ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" جس شخص نے وضو کیا اوراچھی طرح وضو کیا،پھر جمعے کے لئے آیا،غور کے ساتھ خاموشی سے خطبہ سنا،اس کے جمعے سے لے کر جمعے تک گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔اورتین دن زائد کے بھی ۔اور جو(بلاوجہ) کنکریوں کو ہاتھ لگاتا رہا(ان سے کھیلتا رہا)،اس نے لغو اورفضول کام کیا۔"

    5 ۔ لوگوں کے اوپرسے گزرنا اور گردنیں پھلانگنا
    سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ تَخَطِّي النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ)
    سنن ابن ماجہ: کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ (باب: جمعے کے دن لوگوں کے اوپر سے گزرنے کی ممانعت کا بیان)
    1115 . حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَعَلَ يَتَخَطَّى النَّاسَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ حکم : صحیح
    1115 . سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جمعے کے دن رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، وہ (قریب آکر بیٹھنے کے لئے) لوگوں کے اوپر سے گزرنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بیٹھ جا، تو نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی اور دیر سے آیا۔‘‘

    6 ۔ آگے جگہ ہونے کے باوجود پیچھے بیٹھنا
    صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ)
    صحیح مسلم: کتاب: نماز کے احکام ومسائل (باب: صفوں کو برابر اور سیدھا کرنا اور اولیت کے حساب سے صفوں کی فضیلت، پہلی صف میں شرکت کے لیے ازدحام اور مسابقت، جن لوگوں کو (دوسروں پر) فضیلت حاصل ہے ان کو آگے کرنا اور امام کے قریب جگہ دینا۔)
    982 . حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ لَهُمْ: «تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللهُ»
    حکم : صحیح

    982 . ابو اشہب نے ابو نضرہ عبدی سے اور انہوں نے سیدنا ابو سعید خدری﷜ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھیوں کو (صف بندی میں) پیچھے رہتے دیکھا تو ان سے کہا: ’’ آگے بڑھو اور (براہ راست) میری اقتدا کرو اور جو لوگ تمہارے بعد ہوں وہ تمہاری اقتدا کریں، کچھ لوگ مسلسل پیچھے رہتے جائیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ان کو پیچھے کر دے گا۔‘‘

    7 ۔ جب مؤذن اذان دے رہا ہو تو کھڑے ہوجانا
    اکثر لوگ جب مسجد میں آتے ہیں اور مؤذن اذان دے رہا ہو تو کھڑے ہو جاتے ہیں ، کچھ مؤذن کی اذان کا جواب دینے کے لیے کھڑے رہتے ہیں اور کچھ جب لوگوں کو کھڑا دیکھتے ہیں تووہ بھی خاموش کھڑے رہتے ہیں اور تحیۃ المسجد پڑھنا شروع نہیں کرتے ، حالانکہ جب آدمی مسجد میں آئے تو اسے آتے ہی دورکعت نماز پڑھ لینی چاہیئے تاکہ وہ خطبہ سن سکے ۔

    8 ۔ دورانِ خطبہ دعا کے لیے ہاتھوں کا اٹھانا
    صحيح مسلم: كِتَابُ الْجُمُعَةِ (بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ)
    صحیح مسلم: کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل (باب: نماز جمعہ اور خطبے میں تخفیف)
    2016 . و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ قَالَ رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ رَافِعًا يَدَيْهِ فَقَالَ قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الْمُسَبِّحَةِ
    حکم : صحیح

    2016 . عبداللہ بن ادریس نے حصین سے اور انھوں نے سیدنا عمارہ بن رویبہ(ثقفی) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ،کہا:انھوں نے بشر بن مروان(بن حکم،عامل مدینہ) کو منبر پر(تقریر کے دوران) دونوں ہاتھ بلند کرتے دیکھا تو کہا:اللہ تعالیٰ ان دونوں ہاتھوں کو بگاڑے،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس سےزیادہ اشارہ نہیں کرتے تھے اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔
    دورانِ خطبہ ہاتھوں کا اٹھانا صرف استسقاء کے لیے ثابت ہے ۔

    9 ۔ بعض لوگوں کا نماز جمعہ میں آخر میں شامل ہونا اور صرف دو رکعت پڑھنے پر اکتفا کرنا
    سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ (بَابُ مَنْ أَدْرَكَ مِنْ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً)
    سنن ابو داؤد: کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل (باب: جس شخص کو جمعے کی ایک رکعت مل جائے)
    1121 . حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ.
    حکم : صحیح

    1121 . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ” جس نے نماز سے ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی ۔ “
    اور سنن ابن ماجہ میں ہے :
    سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ أَدْرَكَ مِنْ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً)
    سنن ابن ماجہ: کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ (باب: جس کو جمعہ کی ایک رکعت ملے)
    1121 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ مِنْ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً فَلْيَصِلْ إِلَيْهَا أُخْرَى
    حکم : صحیح

    1121 . سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جسے جمعے کی ایک رکعت ملے، وہ اس کے ساتھ دوسری ملا لے۔‘‘
    اسی سے ملتی جلتی ایک حدیث کچھ اضافے کے ساتھ إرواء الغليل میں علامہ البانی رحمہ اللہ حدیث لائے ہیں :
    عن عبدِ اللهِ إذاأدرَكْتَ ركعةًمن الجمعةِفأضِفْ إليْهاأُخْرَى فإذافاتَكَ الرُّكوعُ فصَلِّأرْبَعًا
    الراوي : عوف بن مالك بن نضلة أبو الأحوص | المحدث : الألباني | المصدر :إرواء الغليلالصفحة أو الرقم: 3/81 | خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح

    '' جسے جمعہ کی ایک رکعت ملے، وہ اس کے ساتھ دوسری ملا لے ، اور جسے رکوع بھی نہ مل سکے پس وہ چار رکعات پڑھے ۔''

    10 ۔ نبی علیہ الصلاۃ والسلام پر کثرت سے درود نہ پڑھنا
    أكثرواالصلاةَعليّ يومَالجمعةِوليلةَالجمعةِ، فمَنْ صلّى عليّ صلاةً صلّى اللهُ عليهِ عشرا
    الراوي : أنس بن مالك | المحدث : الألباني | المصدر : السلسلة الصحيحةالصفحة أو الرقم: 1407 | خلاصة حكم المحدث : حسن لشواهد
    ه
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ''جمعہ کے دن اور رات کثرت سے مجھ پر درود بھیجو ، جو مجھ پر ایک بار دورد پڑھے ، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔''
     
    • اعلی اعلی x 4
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بہت اعلی شیخ
    اللہ تعالی جزائے خیر عطا کرے۔
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,859
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  5. ام مطیع الرحمن

    ام مطیع الرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2013
    پیغامات:
    1,549
  6. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,313
    11 ۔ دوران خطبہ نیند کا غلبہ ہونے پر جگہ تبدیل نہ کرنا
    سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ (بَابُ الرَّجُلِ يَنْعَسُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ)
    سنن ابو داؤد: کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل (باب: خطبے کے دوران میں کسی کا اونگھ آنے لگے تو...؟)
    1119 . حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ عَبْدَةَ عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ إِلَى غَيْرِهِ
    حکم : صحیح

    1119 . سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ” جب کسی کو اونگھ آنے لگے اور وہ مسجد میں ہو تو چاہیئے کہ اپنی جگہ بدل کر کسی اور جگہ بیٹھ جائے ۔ “

    12 ۔ دو آدمیوں کے درمیان گھسنا
    صحيح البخاري: كِتَابُ الجُمُعَةِ (بَاب الدُّهْنِ لِلْجُمُعَةِ)
    صحیح بخاری: کتاب: جمعہ کے بیان میں (نماز جمعہ کے لئے بالوں میں تیل کا استعمال)
    883 . حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ ابْنِ وَدِيعَةَ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ ثُمَّ يُصَلِّي مَا كُتِبَ لَهُ ثُمَّ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الْإِمَامُ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى
    حکم : صحیح

    883 .سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور خوب اچھی طرح سے پاکی حاصل کرے اور تیل استعمال کرے یا گھر میں جو خوشبو میسر ہو استعمال کرے پھر نماز جمعہ کے لیے نکلے اور مسجد میں پہنچ کر دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے، پھر جتنی ہو سکے نفل نماز پڑھے اور جب امام خطبہ شروع کرے تو خاموش سنتا رہے تو اس کے اس جمعہ سے لیکر دوسرے جمعہ تک سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

    13 ۔ جمعہ کے دن اور رات کو عبادت اور روزہ کے لیے مخصوص کرنا
    صحيح مسلم: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ كَرَاهَةِ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مُنْفَرِدًا)
    صحیح مسلم: کتاب: روزے کے احکام و مسائل (باب: صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا ناپسندیدہ ہے)
    2684 . وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي، وَلَا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ»
    حکم : صحیح

    2684 . سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام کےساتھ مخصوص نہ کرو اور نہ ہی دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ مخصوص کروسوائے اس کے کہ تم میں سے جو کوئی روزے رکھ رہا ہو۔
    صحیح بخاری شریف میں ہے :
    ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّوْمِ (بَابُ صَوْمِ يَوْمِ الجُمُعَةِ)
    صحیح بخاری: کتاب: روزے کے مسائل کا بیان (باب : جمعہ کے دن روزہ رکھنا)
    ترجمة الباب: فَإِذَا أَصْبَحَ صَائِمًا يَوْمَ الجُمُعَةِ فَعَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ، يَعْنِي: إِذَا لَمْ يَصُمْ قَبْلَهُ، وَلاَ يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ بَعْدَهُ
    ترجمۃ الباب : اگر کسی نے خالی ایک جمعہ کے دن کے روزہ کی نیت کر لی تو اسے توڑ ڈالے
    1986 . حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ فَقَالَ أَصُمْتِ أَمْسِ قَالَتْ لَا قَالَ تُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا قَالَتْ لَا قَالَ فَأَفْطِرِي وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ سَمِعَ قَتَادَةَ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ أَنَّ جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَتْهُ فَأَمَرَهَا فَأَفْطَرَتْ
    حکم : صحیح

    1986 . سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لے گئے، ( اتفاق سے ) وہ روزہ سے تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دریافت فرمایا کے کل کے دن بھی تو نے روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزہ توڑ دو۔ حماد بن جعد نے بیان کیا کہ انہوں نے قتادہ سے سنا، ان سے ابوایوب نے بیان کیا او ران سے جویریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور انہوں نے روزہ توڑ دیا۔

    14 ۔ نماز کے بعد اذکار کیے بغیر چلے جانا
    صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ)
    صحیح مسلم: کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں (باب: نماز کے بعد ذکر کرنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ)
    1352 . حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيِّ - قَالَ مُسْلِمٌ: أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَبَّحَ اللهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَتْلِكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَقَالَ: تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ "
    حکم : صحیح 1352 .سیدنا ابو ہریرہ ﷜ سے اور انھوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے روایت کی :’’جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ تینتیس دفعہ الحمد اللہ اور تینتیس بار اللہ اکبر کہا ، یہ ننانوے ہو گے اور سو پورا کرنے کے لیے لا الہ الا اللہ وحد ہ لا شریک لہ ،لہ الملک ولہ الحمد ، وھو علی کل شیء قدیر ‘‘ کیا اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ، چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔‘‘

    15 ۔خطبے کے دوران میں احتباء ممنوع ہے ( گو ٹھ مار کر بیٹھنا)
    سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ (بَابُ الِاحْتِبَاءِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ)
    سنن ابو داؤد: کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل (باب: خطبے کے دوران میں احتباء ( ممنوع ہے ))
    1110 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحُبْوَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ.
    حکم : حسن

    1110 . سہل بن معاذ بن انس اپنے والد سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے روز جب امام خطبہ دے رہا ہو «حبوة» ( بیٹھنے کی ایک صورت ) سے منع فرمایا ہے ۔
    فوائد (ابو عمار عمر فاروق سعیدی حفظہ اللہ) :
    الِاحْتِبَاءِ یا حبوة اس انداز کے بیٹھنے کو کہتے ہیں کہ انسان اپنے گھٹنے اکٹھے کر کے سینے سے لگا لے اور پھر ہاتھوں سے ان پر حلقہ بنا لے یا کمر اور گھٹنوں کے گرد کپڑا لپیٹ لے ۔ اسی کو احتباء اور حبوہ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ یہ نشست سے بے پروائی اور عدم توجہ کی علامت سمجھی جاتی ہے ، نیز اونگھ بھی آنے لگتی ہے ۔ تہبند پہنے ہوئے ہو تو ستر کھلنے کا بھی اندیشہ رہتا ہے اور بعض اوقات انسان بے وضو بھی ہوجاتا ہے اور اسے پتہ بھی نہیں چلتا ، الغرض جمعہ میں بالخصوص اس طرح بیٹھنا ممنوع ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  8. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    459
    زبردست!
    اللہ آپکے علم میں اضافہ عطا فرمائے آمین
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں