اقبال اوپن یونیورسٹی کے امتحان کا سوال بے ہودہ ہے یا اردو صحافت بے ہودہ سنسنی خیزی کا شکار ہے؟

عائشہ نے 'ذرائع ابلاغ' میں ‏نومبر 11, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    آج کل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے بارے میں کچھ لوگوں نے فضول کا طوفان کھڑا کر رکھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس یونیورسٹی نے میٹرک کے انگریزی پرچے میں ایک بے ہودہ سوال شامل کر دیا ہے۔
    کری ایٹو رائٹنگ کا عام سا سوال میں بڑی بہن کا شخصی خاکہ لکھنے کا کہا گیا ہے ۔ لکھنے والے لیے کچھ پوائنٹرز مذکور ہیں ہیں کہ کن باتوں کو مدنظر رکھنا ہے۔ جس میں ایج،ہائیٹ، فزیک،لکس،ایٹی ٹوڈ وغیرہ شامل ہیں۔
    سوال یہ ہے کہ اگر فزیک کے جواب میں سکنی یا بونی لکھ دیا جائے تو اس سے کون سی بے ہودگی ہو گی؟
    ایٹی ٹوڈ میں اپنی بہن کو ایکسٹروورٹ ، انٹرورٹ یا ایگری ایبل بتانے سے کیا ہو جائے گا؟ اپنی بہن کے لیے سوفٹ سپوکن، چیٹی، کلیور، فرینڈلی،کائنڈ، ہارڈ ورکنگ لکھنے سے کون سی اخلاقی قدر زائل ہو گی؟ کیا بہن کے پرسنالٹی ٹریٹس پر بات کرنا گناہ ہے؟
    ہائیٹ میں ٹال یا شارٹ بتانے میں کیا شرم ہے؟
    یہ سادہ سے سوالات ہیں جن میں پرسنالٹی ایڈجکٹوز استعمال کرنا سکھائے گئے ہیں۔ جو لوگ خود میٹرک کا انگریزی کا امتحان پاس کر چکے ہوں اور کری ایٹو رائٹنگ سے واقف ہوں ان کو اس خبر کی حقیقت معلوم ہے۔
    اتنی سی بات کا افسانہ بنا کر سوشل میڈیا پر جو لکھا گیا وہ تو سمجھ آتا ہے کہ عام لوگوں میں ہر طرح کی رائے سامنے آتی ہے لیکن صحافتی اداروں نے جو سنسنی پھیلائی وہ دیکھنے کے لائق ہے۔
    اردو پوائنٹ کی خبر دیکھ کرحیرت ہوئی۔
    http://daily.urdupoint.com/livenews/2016-11-10/news-787675.html
    مجھے حیرت ہے کہ ان اداروں کے مدیر کہاں سو رہے ہیں اور یہ کس قسم کی صحافت ہے؟
     
    Last edited: ‏نومبر 11, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    تلاش کرنے پر اصل سوال کا حوالہ نہیں مل سکا. لیکن بہتر ہو گا کہ اس طرح کے سوال کا شرعی حکم فتاوی میں دیکھ لیا جائے.. بات صرف حرج کی نہیں بلکہ شرعی حدود اور اثرات کی ہے. جب اس طرح کے سوال کی اجازت دی جائے. تو بہت سے دوسرے سوالات کی بھی اجازت دینی ہو گی.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  3. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    اگر اسی سوال میں 'بہن' کے بجائے 'بھائی' ہوتا تو شاید کسی کو اعتراض نہ تھا۔
     
    • متفق متفق x 2
    • ظریفانہ ظریفانہ x 2
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    اصل سوال کا امیج خبر میں موجود ہے، جس کو دیکھا جا سکتا ہے کہ ترجمہ کرنے والے نے کتنی مبالغہ آرائی کی ہے۔ لکس کا ترجمہ خوب صورتی کر کے خبر میں جان ڈالی گئی ہے۔ لکس میں ہائیٹ، بلڈ، ٹائپ آف کمپلیکشن بتانی ہوتی ہیں۔ یہ بیان کرنے کے لیے مناسب الفاظ سکھانے میں کیا برائی ہے؟ کیا ہمیں دوسروں کی لکس بیان کرنے کے لیے مناسب الفاظ نہیں سیکھنے چاہئیں؟ اگر ایسا ہے تو مذہبی کتابوں سے حلیہ بیان کرنے والے الفاظ نکال دینے چاہییں۔
    اس طرح کے سوالات حقیقی نہیں ہوتے نہ ہی ہر طالبہ یا طالب علم کی بڑی بہن ہوتی ہے کہ ان کا اصلی ڈیٹا مانگا گیا ہو۔ ہمارے سکول میں خواتین معلمات تھیں لیکن ہمیں ایک مرتبہ اپنے پسندیدہ ٹیچر پر دو مضمون لکھنے تھے ایک میں مرد معلم اور دوسرے میں خاتون معلمہ کا۔میرے آئیڈیل استاد ابوجان تھے تو میں نے ان پر مضمون لکھ دیا تھا۔ میرا نہیں خیال اس میں کوئی بدنیتی تھی یا معصوم بچوں کو کچھ غلط سکھایا جا رہا تھا۔یہی کری ایٹو رائٹنگ ہے۔ آپ کی تخلیقی صلاحیت اور تہذیب کا امتحان ہے کہ موضوع سے کیسے انصاف کیا جائے۔
     
    Last edited: ‏نومبر 11, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    مجھے اس بات سے کچھ شروط کے ساتھ زیادہ اختلاف نہیں ہے. لیکن ہر شخص مناسب الفاظ کیسے استعمال کر سکتا ہے. بہرحال...
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    اسکے ساتھ ساتھ بالغ نظری اور دور بینی کا بھی امتحان ہے!
    کہ بیمار دلوں میں بڑی بہن کا شخصی خاکہ پڑھتے ہوئے لکھنے والے طالبعلم کے خاکے کو سامنے رکھ کر جمع تفریق کے ذریعہ 'مجسم بڑی بہن' کو دماغ لانے اور 'طمع' کے کئی باب کھلنے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
    بالکل جس طرح عورت کا بوقت ضرورت غیر محرم مرد سے بات کرنا جائز ہے لیکن اللہ نے 'فلا تخضعن بالقول' کی قید لگاتے ہوئے 'فيطمع الذي في قلبه مرض' کی علت بھی بیان فرمائی ہے۔
    اور پھر نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان : «لاَ تُبَاشِرُ المَرْأَةُ المَرْأَةَ، فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا»بھی ملحوظ رہنا چاہیے۔
    اور میٹرک کے نوعمر بچوں سے جب بڑی بہن کا خاکہ پوچھا جائے گا تو ان میں سے ہر ایک 'تخیلاتی' بہن نہیں بنا سکے گا بلکہ ننانوے فیصد کا حال یہی ہوگا۔ سو وہ یا تو حقیقی بڑی بہن یا حقیقی چھوٹی بہن کو تصور میں لاکر اسکا خاکہ بیان کرے گا یا کوئی من چلا 'کسی ہمسائی وغیرہ' کا تصور کرکے اسکا حلیہ مبارک بیان کرے گا۔
    شیخ سعدی اور ان جیسے پرانے بزرگوں کی نقل کردہ حکایات پڑھنے سے معلوم ہوتاہے کہ 'عاشق لوگ' اپنی معشوقہ تک پہنچنے کے اسکے چھوٹے بھائی سے یارانہ لگایا کرتے تھے۔
    خبردار!
    میرا یہ بیانیہ نیتوں پہ شک نہ سمجھا جائے میں تو ممکنہ صورتوں اور خدشات کی طرف اشارہ کر رہا ہوں۔ تاکہ دوسروں کی تخلیقی صلاحیت اور تہذیب کے امتحان لینے والوں کو علم ہو سکے کہ وہ اپنی بالغ نظر اور دور اندیشی کے امتحان میں کہاں کھڑے ہیں!

    اس لیے آئندہ کے لیے احتیاط سے کام لیتے ہوئے بہن یا بھائی کے بارہ میں ایسا سوال کرنے کی بجائے طالب علم سے اسکے 'ابا حضور' کے بارہ میں یہی سوال کر لیا جائے۔ تو یقینا کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور تخلیقی صلاحیتوں کا امتحان بھی ہو جائے گا۔ یعنی سانپ بھی مرجائے گا اور لاٹھی بھی بچ جائے گی!
     
    Last edited: ‏نومبر 13, 2016
    • متفق متفق x 1
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    بہت افسوس کی بات ہے۔ایک آسان سے سوال کے سادہ سے لفظوں کو ہماری قوم نے کیا بنا دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شرح خواندگی کے گرنے کا تو علم تھا اب اخلاقی زوال کی آخری حد تک جاتے بھی دیکھ لیا۔
    رفیق بھائی آپ بھی اسی میڈیا ہائپ کا شکار ہو گئے؟ میں سمجھتی ہوں کہ اس معاملے پر صائب رائے صرف وہ دے سکتا ہے جو انگریزی زبان وادب جانتا ہو اور اسلام کا علم بھی جانتا ہو۔ برائے کرم آپ ایسی باتیں مت لکھیں۔اس سے زیادہ فحاشی اسلامیات کے پرچوں سے نکالی جا سکتی ہے جہاں کتاب الطہارۃ یا کتاب الطلاق کے سوالات ہوں۔ اور بائیولوجی میں جینیٹکس کا باب تو معصوم بچوں کے لیے زہر قاتل ثابت کیا جا سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے آپ سے ان باتوں کی توقع نہیں تھی۔
    اوپن یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ایگزام رسول بخش بہرام صاحب نے اتنی عمدہ وضاحت کی ہے بلکہ لکس کا بہت اچھا ترجمہ کیا ہے وضع قطع، جس کو صحافی نے خوب صورتی بنادیا تھا۔ لیکن افسوس یہ جاہل صحافی اپنے دماغ کا گند اس پرچے میں ڈالنے پر مصر ہیں۔ جو لوگ انگریزی زبان وادب کے طالب علم نہیں ان کو چاہیے کہ وہ مان لیں ان کو انگریزی نہیں آتی۔وہ ایک ایسی چیز میں دخل دے رہے ہیں جس کو وہ نہیں جانتے۔ اور جس قوم کے لوگ بلاعلم ہر چیز میں بولنے لگیں وہاں فساد لازمی ہے۔ میں اسلام اور انگریزی کی ادنی طالبہ ہونے کے حیثیت سے پوری ذمہ داری سے کہتی ہوں کہ اس سوال سے اسلام یا اخلاقیات کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ لیکن صحافت کا اخلاقی زوال سب نے دیکھ لیا۔ خوامخواہ ایک تعلیمی ادارے کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
     
    Last edited: ‏نومبر 13, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    یہ خدشات یکسر غلط ہیں، امتحان میں سوال مریخ سے نہیں آیا۔ جس کتاب سے آیا ہے اس کے متعلقہ باب میں بچوں کو مناسب حلیہ بتانا سکھایا گیا ہے۔ اگر جامعات کے اساتذہ باوقار لفظوں میں حلیہ بیان کرنا نہیں سکھائیں گے تو طلبہ وطالبات کو فلمی شاعری کے واہیات الفاظ اور ادبی لطیف انداز میں فرق پتہ کبھی نہیں چلے گا۔ عورت کو آپ دنیا سے کاٹ کر الگ نہیں کر سکتے کہ اس کے متعلق بات نہ کی جائے۔ نہ ہی ہمیشہ اس کے حسن کے قصیدے کے لیے الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی گمشدہ عورت کا حلیہ بھی بتانا پڑ سکتا ہے۔ کوئی جرائم پیشہ جو آپ کے ہاں واردات کر گئی ہو، اس کا حلیہ بتانا پڑے توپہلے سیکھنے بیٹھیں گے بیضوی اور کتابی چہرے میں کیا فرق ہوتا ہے؟ زبان کا ہر استاد بچوں کو بتاتا ہے کیا لفظ مناسب ہے۔ کیا غیر مناسب ہے۔
    اسی قسم کی "اخلاقی" ذہنیت کی وجہ سے بعض مذہبی اور ضرورت سے زیادہ اخلاقی لوگ صنف مخالف کو مخاطب کرنے کا صیغہ بھی نہیں جانتے۔ کہنے کو دیوان حماسہ اور طوق الحمامہ گھول کر پی چکے، عربی میں سب پڑھتے شرم نہیں آئی، لیکن صنف مخالف سے بات کریں گے تو مردانہ صیغہ تخاطب سے کہ " بہن آپ لکھتے بھی ہیں، آپ پڑھاتے بھی ہیں" ۔ میں تو ضرور پوچھوں گی کہ یہ کون سا اسلام ہے بھئی؟ اسلام لوگوں کو گونگا بنانے کا نام نہیں ہے۔ مردو عورت دونوں سے بات کرنا اور دونوں کی بات کرنا سیکھنا چاہیے۔ایک تعلیمی ادارہ اپنا کام کر رہا ہے۔ اہل صحافت خود ہر وقت فحاشی نشر کرتے ہیں تب تو انہیں شرم نہیں آتی۔
     
    Last edited: ‏نومبر 13, 2016
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  9. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    ایک تو یہ ہائپ وائپ شائپ جیسے الفاظ رومن میں بھلے لگتے ہیں۔ سیدھی سادی معصوم سی اردو کو ان گول مٹول الفاظ کی مشقتوں سے بچا کر ہی رکھنا چاہیے۔ فورم اردو مجلس ہے تو اس میں گلابی اردو کی اجازت تو سمجھ آتی ہے فرنگی اردو خطرناک لگتی ہے۔!
    رہا میڈیا تو مجھے علم ہی نہیں کہ میڈیا اس موضوع پہ کیا گلفشانیاں کر رہا ہے۔ سو اسکا شکار ہونا تو ناممکن ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس میڈیا کا شکار کرنے مجلس میں اترا تو علم ہوا کہ میڈیا نے پھر 'کچھ' کیا ہے۔

    خیر۔۔۔ ہمیں میڈیا کو ایک طرف رکھ کر ممکنہ خدشات کی طرف بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ اور اپنے معاشرے کے حالات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔ بہت کچھ جائز ودرست ہونے کے باوجود ترک کرنا پڑتا ہے کہ 'ہماری قوم' اسکی اجازت نہیں دیتی۔
    " لولا أن قومك حديث عهد بشرك أو بجاهلية , لهدمت الكعبة فألزقتها بالأرض , و جعلت لها بابين , بابا شرقيا , و بابا غربيا , و زدت فيها من الحجر ستة أذرع , فإن قريشا اقتصرتها حين بنت الكعبة " .
     
    • متفق متفق x 1
    • غیر متفق غیر متفق x 1
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    یہ کتاب کئی سال سے پڑھائی جا رہی ہے۔ یکایک ہماری قوم کو زیادہ شرم آنے لگی ہے۔ ان چینلز پر دن رات جو کچھ ہوتا ہے قوم اس کی اجازت دیتی اور بچوں کو دکھاتی بھی ہے۔ ساری فحاشی ایک تعلیمی ادارے کے پندرہ نمبر کے سوال میں رہ گئی تھی۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے کیفے میں بم کا دھماکا ہوا تھا تو میں نے کچھ لوگوں کو کہتے سنا کہ اللہ معاف کرے طالبان نے یہاں حملہ اس لیے کیا کہ یہاں ڈانس پارٹیز ہوتی تھیں۔ یہ تو اس قوم کے افواہ سازوں کا حال ہے۔ صحافیوں نے یہ خبر سوشل میڈیا سے اٹھائی لیکن اس کے معیار پر غور نہیں کیا۔ صرف اس لیے چلا دی کہ یہ مقبول ہو رہی تھی۔ ایسے میں ایک تعلیمی ادرے کی ساکھ کا غیرنفع بخش خیال کسے آنا ہے؟
     
    Last edited: ‏نومبر 13, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    ویسے پہلی پوسٹ کرتے ہوئے مجھے یہی خیال آیا تھا کہ شاید یہ کہ دیا جائے کہ جو انگریزی ادب جانتا ہے وہی صائب رائے دے سکتا ہے ۔ دوسرا کوئی نہیں ۔ اس لئے رائے دینےکی بجائے شرعی حدود کا کہ دیا ۔اب دو ادب توکچھ نا کچھ پڑھ لیے ۔ تیسرا ادب جب پڑھیں گے پھر تفصیل سے دیکھیں گے ۔
    میڈیا کیا کہتا ہے ۔ کہتا رہے ۔ میں تو صرف یہ چاہا رہا تھا کہ اگر یہ کتاب کئی سال سے پڑھائی جارہی ہے ۔ اساتذہ نے بھی یقینا ترجمے کیے ہوں گے ۔ پیپرز میں پہلے بھی سوال آئے ہوں گے ۔ اور طلباء نے وہی پڑھا ہوا جواب میں نقل کیا ہو گا ۔اوروہی ترجمہ کیا ہوگا ۔ اگرکسی کے پاس ایسے کچھ حوالے ہوں تو ذکر کردیے جائیں ۔ تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو ۔
     
    • مفید مفید x 2
    • متفق متفق x 1
  12. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    پہلی نظر میں امتحانی پرچہ پر سوال پڑھتے ہوئے تو کسی قسم کی منفی سوچ ذہن میں نہیں آتی۔ سادہ اور بہت آسان سا سوال ہے۔اتنا آگے اور منفی سوچ لانے کے لیے تو بہت کوشش کی ہے جس نے بھی کی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    ہماری آج کل کمیونیکیشن -Communication کے کورس میں پریزینٹیشن ہو رہی ہیں Project proposal پر۔آپ نے کسی بھی فیلڈ کے کسی بھی موضوع پر ایک پراجیکٹ پروپوزل تیار کر کے دینا ہے (اگرچہ ہم سب آئی ٹی کے طلبہ و طالبات ہیں)
    کچھ لوگوں کے بہت اچھے موضوعات تھے معاشرتی مسائل پر ، تعلیم پر ، پھرایک نے بلیوں کے کیفے کا منصوبہ دیا، وغیرہ وغیرہ۔
    ایک لڑکے نے جو کہ مسلمان بھی ہے اس نے کہا کہ میں جہاں کام کرتا ہوں وہاں کے باتھ روم میں urinalsلگے ہیں ۔ تو میرا آئڈیا یہ ہے کہ اس کے ساتھ hand sanitizer انسٹال ہونے چاہئے کہ جب چھینٹے پڑیں تو آپ انہی ہاتھوں سے بیسن کے پاس نہ جائیں ۔ فورا ہاتھ صاف کریں اور پھر بیسن کی ٹوٹیاں کھولیں۔
    سب لوگوں نے تمیز اور سکون کے ساتھ اس کی پریزینٹیشن دیکھی اور اس آیڈیا کو سراہا۔ اگر یہی چیز پاکستان میں پیش کی جاتی تو طلبہ یا طالبات کی کھسر پھسر ایک طرف ، ہنسی نہین رکتی۔ یا شاید اس بات کو بھی ایک بہت بڑا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا۔
    مقام فکر ہے کہ 2016 میں آ کر بھی بہت بنیادی چیزوں اور رویوں پر قابو نہین پایا جا سکا۔ کن موضوعات ، کن الفاظ اور حالات کے درمیان ذہنی رو بھٹکنی چاہیے اور کب اداروں کے تقدس کا خیال کرتے ہوئے سوچوں کو قابو میں رکھنا چاہیئے۔اس پورے واقعہ پر احتساب ضرور ہونا چاہیے، لیکن ان اساتذہ کا نہین جنہوں نے یہ پرچہ بنایا ، بلکہ ان طلبہ کا جنہوں نے سوشل میڈیا پر اس چیز پر احتجاج کیا۔ کہ یہی وقت ہے کہ ان کی تربیت کی جائے۔ اس کے بعد میڈیا کا احتساب جو مزید معاملہ کو بگاڑ رہا ہے۔
    ایک اور چیز جو بہت غیر ذمہ دارانہ نظر آ رہی ہے وہ یہ کہ کبھی بھی اداروں کے اندر معاملات اس طریقے سے نہین سلجھائے جاتے ۔ جو شکایت ہے وہ آپ اپنے پروفیسر سے ، ڈپارٹمنٹ ہیڈ سے تفصیل سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جب ساری کوشش بیکار ہو جاتی ہے تب آپ ادارے سے باہر سہارا ڈھونڈتے ہیں جیسے میڈیا وغیرہ۔
    یونی ورسٹی کو سخت کاروائی کرنی چاہئے اس بارے میں ۔ باقی طلبہ کیا سیکھیں گے اس چیز سے؟ آپ کا ادارہ اتنا سستہ ہے کہ کوئی بھی کچھ بھی کہہ دے۔
    میں نے ابھی اس حوالے سے مزید خبر دیکھنے کی کوشش کی تھی لیکن کوئی خاص چیز نہیں ملی۔ ایک دو ویب سائٹس نے اسی طرح کی خبر اس امتحانی پرچے کے ساتھ لگائی ہوئی ہے۔ کسی بڑے اخبار کا ذکر نہیں ہے ۔ ویسے تو اردو پوائنٹ پر مین نے پہلے کبھی کوئی جھوٹی خبر نہین دیکھی۔لیکن لوگوں سے کوئی بعید نہین ، غلط تصویر کے ساتھ جھوٹی خبر لگا دیں ۔ اگر مزید کوئی پیش رفت ہوئی ہے اور کسی اخبار یا ٹی وی میں بتایا ہے تو ضرور بتائیں ۔
     
    • متفق متفق x 1
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    یہ بات یہاں ہو چکی ہے کہ مجتہد کو زبان آنی چاہیے
    www.urdumajlis.net/threads/علمِ-نحو-کی-برتری.30955/
    اردو مجلس پر ایسی کئی بحثیں موجود ہیں کہ حضرت، مولا، خدا کہنا کچھ "مذہبی" لوگوں کو غیر شرعی لگتا تھا۔ مجلس پر وہ اسلام نافذ نہیں ہو سکا تو جہاں ہجرت کر کے گئے وہاں بھی اردو زبان سے یہ الفاظ نابود نہیں کروا سکے۔ اس پرچے پر تنقید کرنے والے بھی اسلام کو خوامخواہ استعمال کر رہے ہیں۔
    اوپن یونیورسٹی کی انگریزی کتاب مکمل انگریزی میں ہوتی ہے۔ ترجمہ وغیرہ اس میں نہیں ہوتا۔ میں نے کچھ بچوں کو میٹرک اور انٹر کی یہ کتابیں پڑھائی ہیں۔ بہت مفید نصاب ہے۔ اس میں کبھی کوئی غیر اخلاقی چیز نہیں دیکھی۔
     
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    جی بالکل، حالاں کہ اس طالب علم کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے کہ اس نے فزیکل ہائی جین کو بہت اہمیت دینے والوں میں طہارت کی کمی کو محسوس کیا اور اسلامی طہارت کے اصولوں کو متعارف کروانے کی کوشش کی۔
    پہلے میں بھی یہی سمجھتی تھی کہ ہماری قوم واقعی بڑی شرمیلی ہے اس لیے ایسی باتوں کا مسئلہ بن جاتا ہے لیکن تدریس کے دوران محسوس کیا کہ ہمارے لوگ میڈیا پر ہر طرح کی برائی ہضم کر لیتے ہیں، تعلیمی اداروں میں کسی بات کاشعور دیا جائے تو بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے۔ ہماری ایک ٹیچر سے کچھ لوگ لڑنے پہنچ گئے جب انہوں نے ترجمہ قرآن پڑھاتے ہوئے گزشتہ قوموں پر عذاب کی وجوہات بیان کیں۔ بعد میں وہی خاتون جنہیں شکوہ تھا کہ ہم معصوم بچوں کے دماغ خراب کیے جا رہے ہیں، ایک قسم کے ڈانس کے حق میں دلائل دیتی پائی گئیں۔ آپ سوچیں کہ شرم کن چیزوں پر آتی ہے اور کہاں اڑ جاتی ہے۔
    جس چینل کا کلپ میں نے سنا، اس کا اینکر کوئی پڑھا لکھا آدمی نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے ڈائریکٹر ایگزام کو بات نہیں کرنے دی، اپنی ہانکتا رہا۔ ہر کوئی صحافی بن گیا ہے آج کل۔ رہے طلبہ تو طالبان کی ذہنیت عام ہے۔ انگریزی تو کافروں کی زبان ہے۔ اس کا پرچہ تو کفر ہی لگنا ہے۔
     
  16. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,865
    اس تھریڈ میں مینشن کرنا چاہیے تھا کہ انگریزی زبان پر دسترس رکھنے والے ہی کمنٹ کریں.اگر کسی نے تبصرہ کردیا ہے تو پھر اہل زبان کا حوالہ درست نہیں ہے.جس موضوع کا حوالہ دیا ہے، اس کے مطابق مجتہد کو زبان آنی چاہیے. لیکن اس پرچہ سے مجتہد تیار نہیں کرنے تھے، نا ہی یہ علم النحو کا پرچہ تھا. بات کتاب یا نصاب کی نہیں ہو رہی تھی بلکہ صرف اس سوال کی ہورہی تھی. مزید جو لوگ اسلام کا نام استعمال کررہے ہیں ان کا مسئلہ ہے.سب کو شامل کرنا انصاف نہیں. ہاں، یوں کہا جا سکتا ہے کہ اوپن اور اسلامک یونیورسٹی کے علاوہ کہیں مجتہد اور اہل زبان نہیں پائے جاتے.جو اس سوال کو سمجھ سکیں.
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں