خالص توحید ہی جنت کا واحد راستہ ہے

فیاض ثاقب نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏نومبر 12, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فیاض ثاقب

    فیاض ثاقب رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 12, 2016
    پیغامات:
    37
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کے لیے مقرر کیا ہے ۔
    توحید تمام اعمال صالحہ کی اصل (جڑ ) ہے ، اگر توحید میں ذرہ سی بھی ملاوٹ ہو
    تو اعمال صالحہ بیکار ہو جاتے ہیں، توحید نہیں تو ایمان نہیں، توحید اور شرک ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔

    اللہ تعالیٰ نے ہر کام کی حدود مقرر کی ہیں لہذا ان مقرر کردہ حدود کا احترام ہی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرکے اللہ کی خوشنودی کی امید رکھنا بے کار ہے، اپنے آپ کو دھوکا دینا ہے ۔

    توحید کا معاملہ انتہاہی اہم ہے اور بہت ہی نازک ، اکثر لوگ اس کی نزاکت سے واقف ہی نہیں ہوتے، شعوری اور غیر شعوری طور پر شرک میں ملوث ہو جاتے ہیں۔
    ایمان والوں کے لیے ضروری ہے کہ شرک کی تمام اقسام سے بچا جائے۔
    کیوں کہ شرک کی موجودگی میں کوئی عمل اللہ تعالیٰ کو قبول نہیں اور نہ ہی شرک کی بخشش ہوتی ہے ۔

    توحید کے تقاضے اور شرک کی وہ اقسام جن میں لوگ شعوری اورغیر شعوری طور پر مبتلا ہو جاتے ہیں۔
    توحید کی اقسام
    ا:۔ توحید فی الذات ب:۔ توحید فی الصفات ت :۔ توحید فی الحقوق

    توحید فی الذات اور توحید فی الصفات پر تو اکثر لکھا جاتا ہے ، مگر توحید فی الحقوق اور شرک فی الحقوق کے بارے میں کوئی کچھ کیوں نہیں لکھتا ؟
    یہ وہ شرک ہے جو نظر نہیں آتا ۔ مگر ہے بہت خطرناک!
    اس وقت اشد ضرورت ہے کہ اس شرک کو چھوڑاجائے ۔

    تاکہ پھر سے یہ امت ایک ہو سکے، یہ ایک شرک چھوٹ جائے تو سارے شرک چھوٹ جائیں گے۔ اسی شرک کی وجہ سے ہی فرقہ بندی جنم لیتی ہے اوراس فرقہ بندی کی وجہ سےدوریاں بڑھتی ہیں۔اور انہی دوریوں کی وجہ سے اختلافات کو اپنی جڑیں مضبوط کرنےمیں مدد ملتی ہے ۔اور پھر آہستہ آہستہ دشمنیاں پیدا ہو کر جھگڑے شروع ہوتے ہیں اور پھربات جنگ وجدال اورقتل وغارت تک پہنچ جاتی ہے۔
    جس کی وجہ سے ایک اللہ، ایک رسول، ایک قرآن اور ایک اسلام کو ماننے والے ایک دوسرے کے دشمن بن کر آپس میں لڑ کر فائدہ اسلام کے اور اپنے دشمنوں کو پہنچاتے ہیں ۔

    یہ خطرناک شرک شریعت سازی ( قانون سازی ) ہے ۔

    اللہ تعالیٰ ہمارا خالق اور مالک ہے اسی نے انسانوں اور جنوں کو پیدا کیا اور وہ ہی ان سے حساب لے گا، اور سزا یا جزاء دے گا ، اس لیے اللہ تعالیٰ ہی مقرر کرےگاکہ کون سے عمل پرثواب ہے اور کون سے عمل پر عذاب ، لہذا اللہ تعالیٰ کایہ حق ہےکہ وہ اپنی مخلوق کے لیے ضابطہِ حیات ، قانون و شریعت اور ہدایت کا راستہ مقرر کرے ، اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے شریعت ( دینی قوانین ) بنا کر دین اسلام کے نام سے اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےذریعے انسانوں تک پہنچا دیا ہے ۔

    ترجمہ !! اللہ نے تمارے لیے دینی قوانین (شریعی قانون) بنائے۔ (شوریٰ ۱۳ )

    ترجمہ !! اللہ نےانسان کےلیےہدایت کاواضح راستہ مقرر کردیاہےاب اُس کی مرضی ہے کہ وہ شکرگزار بندہ بنے یا وہ کفر کرے۔( سورۃ الدھر ۳ )

    خالص دین اسلام یعنی قرآن مجید اور صحیح احادیث پر عمل کر کےہی اللہ کے شکر گزار بندے بن کرجنت کی امید رکھ سکتے ہیں ۔
    اللہ تعالیٰ نےجب انسان کوزمین پرآزمائش کیلیئے بھیجا تو ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ میری طرف سے جو احکامات آئیں ان کی پیروی(اتباع کرنا) کرنا ، یہ ہی جنت میں واپس آنے کے لیے کامیابی کا راستہ ہے ۔
    اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع کیا کہ جو اللہ کی طرف سے نازل نہ ہوا ہو تو اسکی پیروی نہ کرنا، چائے کہنے والاکوئی بھی ہو انسان ، جن ، دوست یا بڑے سے بڑا عالم ہو کسی کی بھی دینی معاملات میں اتباع(پیروی) نہیں کرنی ہے ۔

    ترجمہ !! جو چیز تمہارے ربّ کی طرف سے تم پر اتری ہے اس کا اتباع کرو اور اس کے علاوہ دوسرے دوستوں (ولیوں)کی پیروی(اتباع) نہ کرو، مگر تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو۔ (سُوۡرَةُ الاٴعرَاف ۳ )

    اللہ تعالیٰ نے ہماری بھلائی کے لیے ہمارے لیے دین اسلام نازل کیاہے۔
    صرف دین اسلام ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور باقی تمام مذاہب ، مسالک اور مکتبہِ فکر اسی زمین پر بسنے والے لوگوں نے اپنی اپنی ذہنی اختراع اور ایک دوسرے کی مخالفت میں بنائے ہیں
    جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام سے منع کیا تھا۔

    ترجمہ !! کیا انہوں نے اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں، جو ان کے لیے دینی قوانین(شریعت ) بناتے ہیں، جبکہ اللہ نے اس کی اجازت نہیں دی اور اگر فیصلہ کا دن مقرر نہ ہوتا تو ان کا دنیا ہی میں فیصلہ ہو گیا ہوتا ۔ (شورٰی ۲۱ )

    ترجمہ !! تو ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے (آئی)ہے، تاکہ اس کے عوض تھوڑی سے قیمت (یعنی دنیوی منفعت) حاصل کریں۔ ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ (بےاصل باتیں) اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور (پھر) ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ ایسے کام کرتے ہیں ( سورۃ البقرہ ۷۹ ) +( الیونس ۱۵ ) + (المائدہ ۷۷ )

    اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا کہ دین اسلام کے علاوہ سب کچھ رد کر دیا جائےگا کوئی مذہب ، مسلک یا مکتبہ فکر قبول نہ ہو گا سوائے دین اسلام کے ۔

    ترجمہ!! جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین تلاش کرے، اس کا وہ دین قبول نہ کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہو گا ۔ (سورۃ آل عمران ۸۵)

    ان آیات سے معلوم ہوا کہ جو اللہ کی طرف سے نازل نہیں ہوا وہ دین اسلام نہیں ہے، اس لیے ایمان والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف اور صرف اللہ کی طرف سے نازل شدہ دین اسلام ( یعنی قرآن مجید اور صحیح احادیث ) پر ہی عمل کریں، اس کے علاوہ کوئی بھی مذہب،
    مسلک یا مکتبہِ فکر اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں کیا جائےگا ۔اس لیے ہم پر فرض ہے کہ ہم صرف دینِ اسلام پرعمل کریں جس کے قبول ہونے کی سند موجود ہے۔
    ہم کیوں اس چیز پر عمل کرکے وقت ضائع کریں جو اللہ تعالیٰ کو قبول ہی نہیں، یہ زندگی بہت تھوڑی اور ناقابل یقین بھی ہےموت یقینی ہے کب آئے کچھ معلوم نہیں ، کل کیا ہونے والا ہے کوئی نہیں جانتا ہمارے پاس آج ہی آج ہے کل کے لیے آج کا عمل کام آئے گا۔
    اس لیے آج ہی سے اپنی اصلاح کر کے خالص دین اسلام پر عمل کرنا ہو گا ۔

    اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو دین نازل ہوا وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر مکمل نازل ہوا، تو جو اللہ کی طرف سے نازل نہیں ہوا وہ کیسے دین اسلام ہو سکتا ہے ، اللہ کا دین تو کامل ہے اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو مکمل کر کے اعلان کر دیا ۔

    ترجمہ !! آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر دیا، اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور میں نے تمہارے واسطے اسلام ہی کو بطور دین پسند کیا ہے ۔ (سورۃ المائدہ ۳ )

    اب قیامت تک اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہو گی کیوں کہ نبیوں کا سلسلہ بند ہو گیا ہے ۔ اور نئی چیز(بات) دین اسلام میں داخل نہیں کرسکتے کیونکہ یہ ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے ۔
    اب قیامت تک یہی دین اسلام نافذ عمل رہے گا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل اور مکمل ہوا۔اس کے بعد جو لوگوں نے بنایا وہ اسلام نہیں ہو سکتا اسلیئے اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت بھی نہیں دی اور خود دین بنانے کا اعلان بھی کر دیا ،اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کیئے دینی قوا نین بنائے۔
    جس کی مخلوق ہے وہی قانون بھی بنائے گا تو بہترہوگا۔ مخلوق اپنے لیے قانون نہیں بنا سکتی اور نہ ہی اس پر چلنے کیلئے کسی کو پابند کیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ اللہ کا قانون ابدی اور مکمل ہے اس میں کسی کو کمی یا زیادتی کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ انسان کیلئے کیا اچھا ہے اور کیا بُرا ہےاوراس نے ہی حساب لینا ہے نہ کہ غیر اللہ نےحساب لینا ہے ۔
    اللہ کے بنائے ہوئے قانون و شریعت یعنی دین اسلام کے مقابلے میں کسی اور کے قانون اور بنائے ہوئے مذاہب ، مسالک اور مکتبہِ فکر پیش کرنایہی تو فرقہ بندی کا شرک ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا، اس سے بڑا شرک اور کیا ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا فعل قرار دیا ہے،۔
    ترجمہ !! مشرکین میں سے نہ ہو جانا (۳۱) ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑےٹکڑے کردیا اور ہو گئے فرقہ فرقہ ،جو کچھ جس فرقے کے پاس ہے وہ اسی میں مگن ہے۔(سورۃالروم ۳۱،۳۲)

    فرقہ بندی کی وجہ سے آپس کی لڑائی ،قتل غارت، ایک دوسرے پر کفراور شرک کے فتوے ، برداشت اور صبر کا ختم ہونا ، اخلاقی پستی،
    معاشرتی برائیاں اور غیر مسلم اقوام کے سامنے مغلوب ہوجانا۔
    یہ سب فرقہ بندی کی وجہ سے ہی ہے ۔
    کیا ہم نے اس پہلو پر کبھی غور و فکر کیا ؟
    کہ اسکی وجہ کیا ہے ؟
    اسکی وجہ یہی ہے کہ ہم نے خالص دین اسلام یعنی قرآنِ مجید اور صحیح احادیث کو چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ہم کو فرقہ بندی کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔
    ترجمہ !! کہہ دیجیئے کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر سےعذاب بھیج دے یا تمہارے پاؤں کے نیچےسے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے اور آپس میں الجھا کر لڑائی کا مزہ چکھا دے، دیکھیئے ہم کس
    طرح اپنی آیات کو بدل بدل کر پیش کرتے ہیں تاکہ یہ (لوگ) سمجھ جائیں۔ (سورۃ الانعام ۶۵)

    آج ہمارے پاس وقت کم ہے مگر اپنی اصلاح کر سکتے ہیں ۔ ہم سب کو اپنی آنے والی نسل کو اس عذاب سے بچانے کے لیے مثبت اقدام کرنے ہوں گے ۔ خود بھی خالص قرآنِ مجید اور صحیح احادیث کا علم حاصل کر نا ہوگا اور عمل بھی کرنا ہوگا ۔اور آنے والی نسل کو بھی اسی راستے پر چلانے کے لیے اقدام کرنے ہوں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ ہمیں اس عذاب سے نکال کردنیا پر غالب کر دے گا اورپھر آخرت میں بھی جنت کی امید رکھی جاسکتی ہے۔

    ترجمہ !! اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ان لوگوں سے جو ایمان والے ہوں گےاور عملِ صالحہ کرتے رہیں گے، تو اِن کو اس زمین میں خلافت عطاءکروں گا جس طرح ان کو خلیفہ بنایا جو تم سے پہلے تھے، اور یقیناً ان کے لیے دین کو مضبوط کر دے گا، جسے ان کے لیے وہ پسند فرما چکا ہے اور ان کے خوف و خطر کو امن و امان میں بدل دے گا ، وہ میری ہی عبادت کریں گےاور میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھرائیں گے، اس کے بعد جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وہ یقینا ً فاسق ہیں۔ ( سورۃ النور ۵۵ )

    ترجمہ !! ہمت نہ ہارو ، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان والے ہوئے (سورۃ آل عمران ۱۳۹)

    اللہ تعالیٰ کا وعدہ صرف ایمان والوں کے لیے ہے ۔ اور ایمان کا تقاضہ ہے کہ خالص قرآن مجید اور صحیح احادیث پر عمل کیا جائے ۔

    فرقہ بندی شرک ہے ، اور شرک کسی صورت بھی معاف نہیں ہے ۔

    ترجمہ !! بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اِس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے علاوہ ہر گناہ کو بخش دیگا جس کے لیئے چاہے گا اورجو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے تو اس نے (بہت) بڑے گناہ کا ارتکاب کیا۔ ( سورۃ النساء ۴۸ و ۱۱۶)

    اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا دین ، صرف دین اسلام ہے اسی پر چلنے کا ہمیں حکم بھی دیا گیا ہے ۔
    لوگوں کے بنائےگئے فرقےاللہ تعالیٰ کےمقابلے میں شریعت سازی ہے ، اور یہ شرک ہے ۔

    ترجمہ!!بیشک اللہ کےنزدیک تودین،اسلام ہی ہے۔(سورۃ آل عمران ۱۹)
    دین اسلام کی خصوصی امتیازی حثیت
    • دین اسلام کی ہرہر بات و ہرہرجزءاللہ ربّ العالمین کی مقرر کردہ ہے ۔
    • کوئی بھی مذہب،مسلک اور مکتبہِ فکر اللہ کی طرف سے مقرر نہیں ہوا۔
    • دین اسلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوا ۔
    • مگر دیگر مذاہب اورمسلک وغیرہ لوگوں نے زمین پر بنائے ۔
    • دین اسلام کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لیا ہے ۔
    • مذاہب کے لیے ایسی کوئی سند یا دلیل نہیں ہے ۔غیر محفوظ ہیں ۔
    • دین اسلام میں اللہ اور رسول کا قول پوچھاجاتا ہے ۔
    • مذاہب میں انسانوں کے اقوال اور رائے پوچھتے ہیں ۔
    • دین اسلام اللہ تعالیٰ نے کامل کیا، قیامت تک تبدیلی ناممکن ہے۔
    • مذاہب میں نت نئے اضافے ہوتے رہیں گے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آئیے ہم سب مل کر خالص قرآن مجید اور صحیح احادیث پر عمل کر کے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کا حق ادا کریں ۔

    ترجمہ!! اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو ۔(سورہ النساء ۵۹ )

    کیونکہ !!خالص توحید ہی جنت میں لے جانے والا واحد راستہ ہے،اور توحید وہ جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے اسی پر چل کر ہی اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی رحمت سے جنت عطا فرمائے۔
    خالص توحید قرآن مجید اور صحیح احادیث میں محفوظ ہے ۔
    اور یہ ہی خالص ، سچا اور سیدھا دین اسلام ہے ۔

    اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ اللہ ہمیں ( دین اسلام کے ماننے والوں کو) دین اسلام کی سمجھ بوجھ بھی عطاء فرمائے ،، آمین ثم آمین ،،
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں