قرآن مجید پر اعراب از شیخ رفیق طاہر

بابر تنویر نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏نومبر 22, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,316
    سوال : قرآن پر اعراب لگانا بدعت ہے کیا؟ کیونکہ یہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے جانے کے بعد لگائے گئے ہیں۔
    الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
    قرآن مجید فرقان حمید اللہ تعالى نے جب نازل فرمایا اس وقت سے ہی اسکے اعراب (زیر , زبر, پیش, جزم, شد, مد , وغیرہ) موجود ہیں۔ اور صرف عربی زبان ہی نہیں بلکہ دنیا کی کوئی زبان بھی ایسی نہیں ہے جسکا کوئی ایک جملہ تو کجا کوئی ایک حرف بھی اعراب سے خالی ہو۔ ہر لفظ کے ہر حرف پہ اعراب ہوتا ہےخواہ اسے تحریر میں لایا جائے یا نہ لایا جائے۔ اور بدعت اس عمل کو کہتے ہیں جسکی اصل دین میں موجود نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ یقینا سچی ترین بات کتاب اللہ ہے, اور بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے, اور بد ترین کام اس (شریعت) میں نو ایجادہ شدہ کام ہیں,اور ہر نو ایجاد شدہ کام بدعت ہے, اور ہر بدعت گمراہی ہے, اور ہر گمراہی (کا ٹھکانہ) جہنم ہے۔ سنن النسائی:1578 جبکہ اللہ تعالى نے اعراب سمیت قرآن نازل فرمایا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی نازل شدہ وحی کو لکھنے کی اجازت دی ہے۔ کاتبین وحی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یہی کام کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ پہ اترنے والی وحی کو لکھا کرتے تھے۔ اور شریعت اسلامیہ نے لکھنے کے لیے امت کو کسی خاص رسم الخط یا طریقہ کار کا پابند نہیں ٹھہرایا ہے بلکہ کھلی چھوٹ دی ہے کہ وہ جس رسم الخط میں اور جس طریقہ سے چاہیں لکھیں۔ بشرطیکہ الفاظ ومعنى میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہو۔ لہذا قرآن مجید پہ اعراب لگانے کو بدعت کہنے والوں کا قول باطل ہے۔

    مصدر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں