ابن صفی ناولوں کے کرداروں پر ابن صفی کی رائے

باذوق نے 'گوشۂ ابن صفی' میں ‏جون 7, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    ابن صفی ناولوں کے کرداروں پر ابن صفی کی رائے

    ابن صفی کے مطابق "علی عمران" کا کردار قطعی طور پر ان کا تخلیقی کردار ہے۔ ان کے بقول :
    اس کردار کی مثال نہ تو مقامی سری ادب میں پائی جاتی ہے اور نہ ہی بین الاقوامی سری ادب میں۔
    البتہ فریدی ، حمید اور قاسم کے کردار برطانوی ہندوستان اور اس کی ریاستوں میں سراغرسانی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے معروف افراد اور ان کے کارناموں سے متاثر ہو کر تخلیق کیے گئے ہیں۔
    مثلاً قاسم ہی کے کردار کو لیجئے۔
    ریاست مہوبہ کے ایک پولیس انسپکٹر کے لحیم شحیم صاحبزادے جن کا نام بھی حسن اتفاق سے قاسم ہی تھا ، "قاسم" کے کردار کی وجۂ تخلیق رہے ہیں۔
    یہ اصلی تے وڈّے قاسم بھی گریجویٹ ہونے کے باجود بہکی ہوئی ذہنی رو کے مالک تھے۔ اپنی اسی غائب دماغی کا مظاہرہ انہوں نے شبِ عروسی میں دلہن کو مرعوب کرنے کے لیے فرمایا تھا۔ وہ کچھ اس طرح کہ بچاری کو چھپر کھٹ سمیت سر کے اوپر اٹھا لیا۔ وہ بچاری ڈر کر جو بیہوش ہوئی تو ہوش میں آنے کے بعد پھر کبھی موصوف کو قریب نہ پھٹکنے دیا۔
    اس لیے قاسم ایک ایسا کردار ہے جس کو صرف ابن صفی ہی نباہ سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ اس کردار کے پس منظر اور ذہنی کیفیات سے بخوبی واقف ہیں۔
    ابن صفی کے کرداروں کے چربہ نگاروں کے قلم اسی ایک کردار پر آ کر جام ہو جاتے ہیں۔

    قاسم کے بارے میں ابن صفی کے قارئین کی اکثر یہ رائے رہتی ہے کہ اسے بھی صاحبِ اولاد دکھایا جائے۔ اسی قسم کی خواہش حمید ، فریدی اور عمران کے بارے میں بھی پائی جاتی ہے کہ ان کے بھی سہرے کے پھول کھلیں۔ بعض خواہش مند تو فیاض کو بھی صاحبِ اولاد دیکھنا چاہتے ہیں۔
    ابن صفی کے نزدیک ان خواہشات کا حل بڑا ہی دلچسپ ہے۔
    قاسم کو تو وہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیتوں سے اس وقت تک کے لیے مبرّا قرار دیتے ہیں جب تک اس کے جوڑ کی کوئی خاتون پیدا نہ ہو جائے جس کی جسمانی وضع قطع اور ذہنی رو قاسم جیسی ہی ہو۔
    رہے عمران ، حمید اور فریدی ۔۔۔ تو ان کی شادی اس لیے نہیں کرانا چاہتے کہ اس طرح وہ گھریلو تفکرات میں گھر جائیں گے اور ان میں وہ بےجگری نہیں رہے گی جو ان کے کردار کا خاصہ ہے ، ہو سکتا ہے شادی ہونے کے بعد انہیں انشورنس کی سوجھے۔
    ابن صفی اسی ضمن میں آگے کہتے ہیں :
    پھر میرا تو یہی مصرف رہ جائے گا کہ میں خالص گھریلو مسلم سوشل اصلاحی رومانی یا تاریخی ناول تحریر کرنے لگوں۔
    اپنے فیاض صاحب تو ویسے ہی کیا کم بور کرتے ہیں کہ ان کی اولاد بھی منظرِ عام پر آئے۔ بفرض محال ایسا کیا بھی گیا تو پھر قارئین کے ہاتھوں میں ابن صفی کی کتابوں کے بجائے "بور بور" اور "کرداروں کا استحصال بند کرو" کے پلے کارڈ ہوں گے۔ ویسے بھی یہ عوامی دور ہے۔

    ابن صفی پر ایک بڑا الزام یہ عائد کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے کرداروں کو مستقلاً تجرد کی زندگی بسر کرتے دکھا کر تجرّد کی تبلیغ کرتے ہیں۔ اس بارے میں ابن صفی کا موقف یوں ہے کہ :
    انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے نہ تو کبھی تجرد کی تبلیغ کی اور نہ ہی کبھی اپنے کرداروں (حمید ، فریدی ، عمران وغیرہ) کو بےراہ روی کی طرف مائل دکھایا۔
    بقول ان کے :
    وہ اپنے کرداروں میں جنس کے جذبے پر قابو پانے کی صلاحیت سے وہ قوت پیدا کرتے ہیں جس کی ضرورت مہمات کو سر کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کردار تنہائی میں صنف نازک سے گزوں پرے رہتے ہیں اور اس نظریے کو ان کے قارئین من و عن تسلیم کرتے ہیں کیونکہ انہیں ابن صفی کے کرداروں کی اخلاقی پختگی پر پورا یقین ہے۔
    ابن صفی مزید کہتے ہیں کہ :
    اگر ان کا قلم کرداروں کو تجرد آمیز زندگی بسر کرتے دکھاتا ہے تو یہ ایک فنی ضرورت بھی ہے۔ ویسے بھی نفسیاتی طور پر جنس کے جذبے کو بڑی آسانی سے ریاضت ، عبادت اور جفا کشی کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے اور یہ کوئی خلافِ فطرت عمل نہیں ہے۔ لیکن وہ اس عمل کی تبلیغ بھی نہیں کرتے ساتھ ہی ساتھ وہ بےراہ روی کو اخلاقی موت سمجھتے ہیں اس لیے اپنے قلم سے اس کی تکذیب کرتے رہتے ہیں۔
     
  2. pakispow1r

    pakispow1r -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 18, 2008
    پیغامات:
    15
    بہت اعلیٰ
    آپ تو بہت زیادہ چاہتے ہیں ابن صفی کو، مجھے بہت خوشی ہوئی اس دھاگے سے۔
     
  3. Rashid Ashraf

    Rashid Ashraf -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مئی 22, 2008
    پیغامات:
    89
    wadi-e-urdu.comI invite you to see

    نام راشد اشرف، کیمیکل انجینیر، مقیم کراچی ۔۔۔ ابن صفی پر نئی ویب سائٹ کا اجرا جولائی میں www.wadi-e-urdu.com ۔۔۔ 23 اگست کے جنگ انٹرنیٹ ایڈیشن میں تقریب ابن صفی ایک مکالمہ کی مکمل رپورٹ لکھی --- 25 جولائی کو بزنس ریکارڈر میں ابن صفی پر آرٹیکل لکھا ---- 26 جولائی کو ابن صفی کی برسی کے موقع پر آج ٹی وی پر خبر میں آمد۔
    zest70pk@gmail.com
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں