کتاب میں ہے ذکر کچھ تو دیکھنے میں اور ہے

ابوعکاشہ نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏دسمبر 15, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,902
    امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پر کرب کا اظہار کیا گیا ہے.

    دید شنید

    کتاب میں ہے ذکر کچھ تو دیکھنے میں اور ہے
    عجیب تجھ پہ وقت ہے عجیب تجھ پہ دور ہے

    نماز تجھ پہ بار ہے زکوٰة تجھ پہ شاق ہے
    تو نیکیوں میں سست ہے برائیوں میں چاق ہے

    دماغ میں غرور ہے خیال میں فتور ہے
    نگاہ نشہ خیز ہے شراب کا سرور ہے

    زبان بھی کرخت ہے کلام بھی درشت ہے
    تو جنگ جو تو تند خو پسند خون و کشت ہے

    یہ عرس ہے مزار پر یہ نغمہ و سرود ہے
    یہ راگ رنگ ہے ادھر یہ ناچ اور کود ہے

    تو عقل کا اسیر ہے تو عقل کا غلام ہے
    حرام اب حلال ہے حلال اب حرام ہے

    نہ گرم تجھ سے بزم ہے نہ گرم تجھ سے رزم ہے
    تو پست جان و تنگ دل نہ حوصلہ نہ عزم ہے

    نہ قلب ہی سلیم ہے نہ ذہن تیرا صاف ہے
    عزیز تر ہے تجھ کو وہ جو دین کے خلاف ہے

    نہ عہد استوار ہے نہ قول میں قرار ہے
    گرا ہے پستیوں میں تو زبون و خستہ خوار ہے

    یہود سے ہنود سے مشابہت کا رنگ ہے
    وہ طرز ہے وہ طور ہے وہ رنگ ہے وہ ڈھنگ ہے

    خدا کا دین چھوڑ کر تو آپ بے ضمیر ہے
    تو دشمنانِ دین کی لکیر کا فقیر ہے

    فراق اَلکتاب سے فراق اَلحدیث سے
    تو سیکھتا ہے علم و فن فرنگیِ خبیث سے

    کتاب میں ہے ذکر کچھ تو دیکھنے میں اور ہے
    عجیب تجھ پہ وقت ہے عجیب تجھ پہ دور ہے

    ***
    محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی


    فرنگی خبیث،، سے علم و فن سیکھنا منع نہیں. یہاں عمومی رحجان کی طرف اشارہ لگتا ہے (ابوعکاشہ) .
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • اعلی اعلی x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    واہ بہت عمدہ!
    جزاک اللہ خیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں