اپنے نفس اور اعمال کے شر سے پناہ مانگنے کا بیان !

عبد الرحمن یحیی نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏دسمبر 20, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,313
    اپنے نفس اور اعمال کے شر سے پناہ مانگنے کا بیان !
    اور یہ اس لیے ضروری ہے کہ شیطان ہماری رگوں میں خون کی طرح گردش کرتا ہے :

    سنن ابو داؤد: کتاب: سنتوں کا بیان (باب: مشرکوں کی اولاد کا بیان)

    4719 . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: >إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ<.
    حکم : صحیح

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بلاشبہ شیطان ابن آدم کے جسم میں اس طرح گردش کرتا ہے جیسے خون ۔ “

    1- جامع الترمذي: أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ دُعاء اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي)
    جامع ترمذی: كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں (باب: اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتاہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے)
    3492 . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ حَدَثَنِي سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ أَبِيهِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي تَعَوُّذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ قَالَ فَأَخَذَ بِكَتِفِي فَقَالَ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي يَعْنِي فَرْجَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى
    حکم : صحیح

    3492 . سیدنا شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا تعویذ (پناہ لینے کی دعا) سکھا دیجئے جسے پڑھ کر میں اللہ کی پناہ حاصل کرلیا کروں، تو آپ نے میرا کندھا پکڑا اور کہا: کہو (پڑھو) : 'اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي يَعْنِي فَرْجَهُ' ۱؎ (منی سے مراد شرمگاہ ہے۔)

    2- جامع الترمذي: أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ دُعَاءِعَلِّمهَا اَبَا بَكر...)
    جامع ترمذی: كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں (باب: دعا جو آپﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو سکھائی)
    35299 . حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ قَالَ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْنَا مِمَّا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَى إِلَيَّ صَحِيفَةً فَقَالَ هَذَا مَا كَتَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مَا أَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ قُلْ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
    حکم : صحیح

    3529 . ابوراشد حبرانی کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے کہا: آپ نے رسول اللہ ﷺ سے جو حدیثیں سن رکھی ہیں ان میں سے کوئی حدیث ہمیں سنائیے، تو انہوں نے ایک لکھا ہوا ورق ہمارے آگے بڑھادیا، اور کہا: یہ وہ کاغذ ہے جسے رسول اللہ نے ہمیں لکھ کر دیا ہے ، جب میں نے اسے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسی دعا بتادیجئے جسے میں صبح اور شام میں پڑھاکروں، آپ نے فرمایا:' ابوبکر !(یہ دعا) پڑھاکرو: ' اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ رَبَّ كُلِّ شَيْئٍ وَمَلِيكَهُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوئًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ' ۔

    3- سنن ابن ماجه: كِتَابُ الدُّعَاءِ (بَابُ مَا تَعَوَّذَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِﷺ)
    سنن ابن ماجہ: کتاب: دعا سے متعلق احکام ومسائل (باب: رسول اللہﷺ نےجن چیزوں سے پناہ مانگی ہے)
    38399 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ دُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ
    حکم : صحیح

    3839 . سیدنا فروہ بن نوفل اشجعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہﷺ کی دعا کے بارے میں سوال کیا، جو آپ مانگتے رہے ہوں۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہﷺ فرمایا کرتے تھے: [اللهم! إنّي أعوذبك من شرّ ما عملت ومن شرّ ما لم أعمل] ’’اے اللہ! میں اس عمل کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جو میں نے کیا اور اس عمل کے شر سے بھی جو میں نے نہیں کیا۔‘‘
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,316
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,870
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں