رزق کی بے حرمتی اور ہماری ذمہ داری

عائشہ نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏دسمبر 24, 2016 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    کچھ دن پہلے ایک تقریب میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ تعلیم یافتہ لوگوں کا اجتماع تھا۔ ظہرانے کے وقفے میں بہت اچھے لوگوں سے ملاقات ہوئی لیکن افسوس ذرا دیر بعد رزق کی جو بے حرمتی ہوتی دیکھی بیان سے باہر ہے۔یہاں تک کہ رزق زمین پر گرگیا اور گزرنے والے اس پر پاؤں رکھ کر گزرتے رہے۔مجھے دعوت پر جانا اسی لیے برا لگتا ہے کہ لوگ عجیب طریقے سے پلیٹ بھر لیتے ہیں پھر نہ کھاتے ہیں نہ کسی اور کے استعمال کے قابل رہنے دیتے ہیں۔ایسے منظر دیکھ کر کئی دن تک دل خراب رہتا ہے۔ عام شادی بیاہ پر ایسا ہو تو سمجھ آتا ہے کہ تقریب میں ہر عمر اور طبقے کے لوگ ہو سکتے ہیں۔ لیکن تعلیم یافتہ لوگ بھی اگر طلب سے زیادہ کھانا نکال کر ضائع کریں تو دکھ کے مارے سمجھ نہیں آتی کیا کیا جائے۔ تعلیم تو شعور دیتی ہے۔ کیا ایک باشعور انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ اسے کتنی طلب ہے اور اس کی پلیٹ میں کیا اضافی ہے؟ میرا جی چاہ رہا تھا کہ ان لوگوں کو دنیا کے قحط زدہ علاقوں کی تصویریں دکھاؤں تا کہ ہمیں رزق کے ہر لقمے کی قیمت کا احساس ہو۔ جو کھانا پیروں تلے آ کر ضائع ہوا اس سے بلاشبہ کئی انسانوں کی بھوک مٹائی جا سکتی تھی۔ اسی طرح دنیا کی کئی حصوں میں جو رزق ضائع ہو رہا ہے وہ کئی براعظموں پرپھیلے قحط اور غذائی کمی کا تریاق بن سکتا ہے۔
    وہاں افسوس سے سر جھکائے مجھے اپنے بزرگوں کی باتیں یاد آ رہی تھیں جن کی محبت بھری تربیت ان سے جدا ہو کر بھی ہمارے ساتھ ہے۔ کتنے بھلے لوگ تھے جو روٹی کا ایک ٹکڑا زمین پر گرا دیکھ کر کانپ جاتے تھے اور اسے اٹھا کر مناسب جگہ پر رکھ دیتے کہ کسی ذی روح کے کام آ جائے۔ میری نانی جان دسترخوان سمیٹتی تھیں تو روٹیوں کے بچے ٹکڑے اونچی جگہ رکھواتیں کہ پرندوں کے کام آ جائیں، آٹے کے بچے ہوئے ذرے مرغیوں کو ڈال دیے جاتے اور گوشت کے ٹکڑے وغیرہ بلیوں کے لیے مخصوص جگہ رکھوا دیتیں۔ میرے ابو جان کھانا کھاتے تو جلی ہوئی روٹی کا جلا حصہ احتیاط سے اتار کر باقی کھا لیتے، پلیٹ میں صرف اتنا نکالتے جتنی طلب ہوتی، کبھی پلیٹ میں کھانا نہیں چھوڑتے اور ہمیں بھی سمجھایا کرتے کہ رزق کی قدر کریں۔
    میں خود تدریس سے وابستہ ہوں اس لیے سوچ رہی تھی کہ یہ بحیثیت اساتذہ ہماری ناکامی ہے۔ ہم نئی نسل کو وہ نہیں سکھا رہے جو ہمارے بزرگ ہمیں سکھا کر ہماری پختہ عادت بنا کر گئے۔ نئی نسل کی تربیت اگر مشکل ہے تو ہمارے بزرگوں نے بھی ہماری تربیت میں ایسی ہی مشکل اٹھائی تھی لیکن وہ گھبرائے نہیں، مستقل مزاجی سے اپنا کام کرتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان سے کچھ نہ کچھ اثر لے لیا۔ کیا ہم اپنے ارد گرد انسانوں کو باشعور بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں؟ یہ بہت بڑا سوال ہے جو ہماری زندگی کے بعد آخرت کے امتحان میں بھی ہم سے پوچھا جائے گا۔ ہم وہاں کیا جواب دے سکیں گے اگر آج اپنی ذمہ داری کو پورا نہ کیا۔
     
    • متفق متفق x 3
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  2. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    کیا ایک باشعور انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ اسے کتنی طلب ہے اور اس کی پلیٹ میں کیا اضافی ہے؟

    اکثر کھانے کی دعوتوں میں اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ انسان بچپن سے لے کر آخر تک سب سے زیادہ کھانا کھانے کا اہتمام کرتا ہے اور اسے پتا ہوتا ہے کہ اس کو بھوک کتنی ہے اور کتنی مقدار چاہیے ہوتی ہے۔ مگر دعوت عام میں یہ بھول جاتا ہے کہ اس کی ضرورت کتنی ہے۔ بہرحال یہ اک المیہ ہے ہمارے معاشرے کا جہاں لوگ بھوک و افلاس کی وجہ مایوسی میں انتہائی قدم بھی اٹھا لیتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    جی بالکل ہر فرد جانتا ہے کہ وہ اس کی خوراک کتنی ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی ضرورت سے زیادہ کھانا اپنی پلیٹوں میں ڈال لیتا ہے اور اس کے کھانے کے بعد بہت سا کھانا بچ جاتا ہے بلکہ ضا‏‏ئع ہو جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ جہاں بھی کھانا سروو کیا جا رہا ہو وہاں ایسے لوگوں کی بڑی بڑی تصاویر لگا دینی چاہئیں جو کہ غذا کی کمی اور بھوک و افلاس کا شکار ہیں۔ شائد انہین دیکھ کر لوگوں کو کچھ شرم آ جاۓ کہ ہم جو کچھ ضائع کر رہے ہیں شائد وہ کسی ضرورت مند کے کام آجاۓ۔
    ویسے سعودیہ میں میں تو چںد تنظیموں نے یہ کام شروع کیا ہے کہ جہاں کسی دعوت وغیرہ میں کھانا بچ گيا تو انہیں فون کر دیا جاتا ہے وہ اپنی گاڑی وغیرہ لے کر آجاتے ہیں اور وہ کھانا پیک کرکے کسی یتیم خانے میں دے آتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    دو تین باتیں ہیں ۔ کچھ تو میرا اپنا ذاتی تجربہ ہے ۔ پہلے انہی کا ذکر کر دوں ۔ کسی بھی دعوت میں جائیں خاص طور پر شادی کی دعوت تو وہاں پر کئی طرح کے کھانے موجود ہوتے ہیں ۔ اور دعوت میں آنے والے اکثریت مہمانوں کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ تمام کھانے چکھنے سے محروم رہ گئے تو دعوت میں آنے کا مقصد فوت ہو گیا۔ اس لیے جب آپ پہلی مرتبہ کھانا نکالنا جاتے ہیں تو سب کچھ اپنی پلیٹوں میں بھر کر لاتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اگلی مرتبہ جائیں تو وہ ڈش ختم ہو چکی ہو اور آپ محروم رہ جائیں۔ دوسری بڑی وجہ سستی ، پہلی مرتبہ ہی اتنا بھر لاؤ اور اپنی ٹیبل پر رکھ لو کہ دبار ہ اٹھ کرنا جانا پڑے ۔دو لوگوں سے فرمائش کی جاتی ہے تکہ اور چاول بھر لاو ۔ تو دو لوگ سالن اور نان بھر کر لاتے ہیں اور ٹیبل پر منی دستر خوان لگ جاتا ہے۔ بھلے بعد میں پوری پلیٹ ضائع ہو جائے۔ سانوں کی۔
    اور اگر یہ حکم کسی بڑے بزرگ کی طرف سے آیا ہو تو اور بڑی مصیبت کہ آپ لانے کی حامی بھریں تو نقصان اور نا کریں تو مسئلہ۔ ایک مرتبہ کسی بزرگ خاتون کو میں نے پلیٹ بنا کر لا کر دی تو انہوں نے شکایت کی کہ بیٹا آپ نے تو فلاں چیز بھی نہیں لا کر دی اور فلاں بھی نہیں دیا۔ پھر انہوں نے مجھے دوبارہ بھیجا ۔اب کی مرتبہ جب پلیٹ بھر دی تو میزبان ایسی نظروں سے دیکھنے لگے کہ شرمندہ ہی ہو گئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    یہاں بھی کچھ تنظیموں کا سنا ہے۔ایک طلبہ تنظیم یہ ہے
    https://www.facebook.com/Rizq.Sharefood/
    یہ کام تب ہو گا نا جب ہم اس طرح چھوڑیں کہ کسی کے کھانے کے قابل رہے اور جو بچ جائے وہ کسی کو دیا جائے۔ افراد کی تربیت کی ضرورت ہے کہ طلب کے مطابق ہی نکالیں۔ ورنہ جس طرح ہماری قوم پلیٹ میں نکالتی ہے 100 لوگوں کے لیے 500 لوگوں کا کھانا بھی کم پڑ جائے۔

     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    بڑے تکنیکی مسائل ذکر کیے ہیں @انا جزاک اللہ خیرا۔ وقت نکال کر اس پر بات کریں گے۔ یہ باتیں سکھانا بھی امربالمعروف میں سے ہے۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم انسانوں میں شعور بیدار کرنے میں کوئی حصہ ڈال سکیں۔
    اگر انسان یہ سوچ کر قناعت کر لے کہ جو رزق میرے نصیب کا ہے وہ کسی کو نہیں ملنا، اور میرا معدہ ایک وقت میں محدود ہی کھا سکتا ہے تو سب ممکن ہے۔ بات صرف سوچ بدلنے کی ہے۔ ہمیں یہ شعور پیدا کرنا ہو گا کہ جی بھر کر کھانا ہمارا حق ہے ضائع کرنا ہمارا حق کسی صورت نہیں چاہے سامنے دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پیٹ بھر جاتا ہے آنکھ کبھی نہیں بھرتی۔ اس لیے طلب کے مطابق کھا کر تمیز سے آنکھ نیچی کر لینی چاہیے۔ اسی کو سیر چشمی کہتے ہیں۔ اب وہ لوگ کہاں گئے جو سیرچشم ہوتے تھے؟
     
    • متفق متفق x 1
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    تعلیم یافتہ لوگوں سے توقع ہوتی ہے کہ انہیں دنیا کے حقائق معلوم ہوں گے۔ علم ہونے کے باوجود ایسے کام کرنے کو بے حسی ہی کہہ سکتے ہیں۔
    ایک مرتبہ میں نے اپنی سٹوڈنٹس کو پلیٹ میں کھانا چھوڑ کر جاتے دیکھا۔ بعد میں ان سے کہا کہ اگر بھوک کم ہو تو کچھ کھانا پہلے ہی ایک طرف کر دیا کریں۔ اس کو پیک کر کے کسی کو دے دیں۔ اتنے لوگ راستے میں نظر آ جاتے ہیں جن کو کھلایا جا سکتا ہے۔
    لوگ اپنی سہولت کے لیے سو تدبیریں کرتے ہیں۔ کسی کی مدد کے لیے ذہانت کا استعمال کم کرتے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 1
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    میں تو ایسی خوش اخلاقی سے صاف انکار کر دیتی ہوں : ) اللہ بچائے ایسے بزرگوں سے۔
    ایک واقعہ لکھ دوں دل خراب ہو گا ویسے سب کا۔
    ایک شادی کی تقریب میں ایک آنٹی اپنی تقریبا آٹھ دس سالہ بیٹی سے پوچھ رہی تھیں کیا کھانا ہے اور وہ مسلسل ناک چڑھا کر انکار کر رہی تھی۔ آخر انہوں نے اس کی پلیٹ میں لیگ پیس ڈال دیا کہ یہ کھالو۔ اس نے پیس اٹھا کر زمین پر پھینک دیا اور کہا مجھے یہ نہیں چاہیے۔ ہم سب سناٹے میں رہ گئے۔
     
  9. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    محاورہ ہے نا کچه اسطرح
    مال مفت دل بے رحم
    کسی نے خوب کہا کہ کهانا تو دوسروں کا ہے مگر پیٹ تو اپنا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    یہ دیکھیے
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں