امام اهلسنت ابو الحسن اشعرى کى توبه

salfi_8 نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏اگست 26, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. salfi_8

    salfi_8 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 9, 2009
    پیغامات:
    150
    امام اهلسنت ابو الحسن اشعرى کى توبه

    اشاعره

    يه گروه ابو الحسن اشعرى کى طرف منسوب هے , جو تيسرى صدى هجرى کے نصف ميں پيدا هوا اور تھوڑے هى عرصے ميں شهرت و پذيرائى حاصل کى - جوينى باقلانى اور بيضاوى جيسى عظيم شخصيتيں اس سلسله المذهب کى مشهور کڑياں هيں , اشعرى معتزله کے امام ابو على جبائى کے شاگرد رشيد تھے بلکه ان کے سوتيلے بيٹے بهى تھے اس لئے ان کو ان کے آغوش تربيت ميں چاليس سال تک رهنے کا موقع ملا - اس عرصے ميں انهونے نے فکر و تعقل اور بحث و نظر کے تمام دقائق پر عبور حاصل کيا که جنهيں عموما معتزله اپنے دفاع ميں پيش کرتے هيں علم الکلام ميں انهيں بهت مهارت تهى اس کا انداذه ابن عساکر كى اس تصريح سے لگائيے که خود جبائى مناظرات ميں انهيں اپنا نائب اور قائم مقام قرار ديتے تھے ( حواله طبرى مطبع الحسينيه ص 365)

    چاليس سال تک ابو الحسن اشعرى معتزله عقائد و افکار ميں ڈوبے رهے ليکن اس دوران ان کو سکون اور طمانيت نه ملى بڑے فور اور فکر کرنے که بعد ايک دن بصره کے جامع مسجد ميں يه که کر هميشه کے لئے معتزله فکر سے عليحده هوگئے .

    لوگوں .. تم ميں سے مجهے جو شخص جانتا هے وه تو جانتا هے اور جو نهيں جانتا اسے معلوم هونا چاهئے ميں فلاں بن فلاں هوں اس سے پهلے ميں قرآن کو مخلوق جانتا تها - ميں يه بهى کهتا تها که ان آنکھوں سے رويت بارى ممکن نهيں - اعمال کا خالق ميں خود هوں- آج ان تمام عقئد سے ميں توبه کرتا هوں اور اس حلقه معتزله سے برآت کا اعلان کرتا هوں - مجهے ان تمام مسائل ميں معتزله سے بحث و منظرے کرنا هے اور ان کے فکر و عقيده کى کمزوريوں کو کهول کهول کر بيان کرنا هے "لوگوں " ميں اس عرصه تک تمهارى نظروں سے اوجهل رها اس کى وجه يه تهى که ميں نے معتزله کے انداز استدلال پر اچهى طرح غور و فکر کيا اور چهان بين کے بعد ميں اس نتيجے پر پهنچا که جهاں تک عقلى منهاج فکر کا تعلق هے نفى و اثبات کے دلائل برابر سرابر هيں اور ميں اس لائق نهيبں که ان ميں کسى کو بهى راحج سمجھ سکو - لهذا ميں نے اس معاملے ميں الله تعالى سے هدايت چاهى اور الله کا شکر هے که اس نے مجھے هدايت بخشى آج ميں اعتزال کے لبادے کو اتار پهينکتا هون اور الله سے توبه کرتا هوں الله مجهے صحيح دين پر موت دے آميں .... (المذهب الاسلاميه ص 266)

    يه وهى ابو الحسن اشعرى هيں جن کى ديوبند ابوالحسن اشعرى کى سابقه عقيدے ميں تقليد کرتے هيں , جب کے ان کے توبه کے بعد کے عقيدے کى نفى کرتے هيں ...

    الله تعالى ان پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے اور ان کى مغفرت کرے آمين



    معتزله کے عقائد و افکار
    اس فرقه نے بنواميه کے عهد خلافت ميں جنم ليا اور خلافت عباسيه ميں عرصه دراز تک اسلامى فکر پر چهايا رها – اس فرقے کا بانى واصل بن عطاء هے جو غزال کے لقب سے مشهور تها يه سنه 80ھ ميں پيدا هوا اور سنه 131ھ کو هشام بن عبدالملک کے عهد خلافت مين فوت هوا –
    بيان کيا گيا هے که ايک شخص حسن بصرى کى خدمت ميں حاضر هوا اور کها که دور حاضر ميں کچھ لوگ (خوارج) يه عقيده رکهتے هيں که کبائر کا مرتکب کافر هے – اور ايک دوسرا فرقه يه عقيده رکهتا هے که ايمان کى موجودگى ميں گناه سے کچه نقصان نهيں پھنچتا – جس طرح کفر کے هوتے هوئے عبادت سے کچه فائده حاصل نهيں هوتا, اس بارے ميں آپ کا کيا فيصله هے ؟ حسن بصرى سوجنے لگ گئے اس سے قبل که وه کوئى جواب ديتے "واصل بن عطاء" بولا ,
    ميرا خيال هے که کبائر کا مرتکب نه تو پورا مومن هے اور نه کافر , پهر ايک ستون کے پاس کھڑے هوکر حضرت حسن بصرى کے شاگردو کے سامنے اپنے عقيدے کى وضاحت کرتے هوئے کهنے لگا که گناه کبيره کا ارتکاب کرنے والا اسلئے مومن نهيں که يه ايک مدحيه نام هے اور کناهگار هونے کے اعتبار سے وه مدح کا اهل نهيں – اور وه کافر بهى نهين کيونکه کلمه گوهے اور اس کے ساته ساته ديگر اعمال صالحه بهى انجام ديتا هے ايسا شخص اکر بلا توبه کے مرجائے تو ابدى جهنمى هوگا’ اس لئے که آخرت ميں صرف دو جماعتيں هوگى ايک اهل جنت کى اور ايک اهل جهنم کى تيسرى کوئى جماعت نهيں هوکى , لهذا اسکو هلکا ذاب ديا جائے گا .
    يه سن کر حسن بصرى نے فرمايا "اعتزل عنا" هم سے الگ هوجا اور واصل بن عطاء کو معتزله کها جانے لگا.
    معتزله کو قدريه و معطله بهى کها جاتا هے – قرديه اس لئے کها جاتا هے که وه افعال العباد کو انسانى قدرت کى جانب منسوب کرتے هيں ,اور تقدير کا انکار کرتے هيں ...
    اور معطله کى وجه تسميه يه هے که وه الله رب العزت کے صفات معانى کى نفى کرتے هيں ( جيسا که ديوبندى حضرات صفات بارى تعالى کى تعويل کرکے انکار کرتے هيں )
    اعتزال کے اس عقيدے نے عراق کے شهر بصره ميں جنم ليا اور بهت جلد يه پورے عراق ميں پهل گيا – أموى خلفاء ميں سے يزيد بن وليد مروان بن محمد نے بهى معتنزلى نظريات کو اختيار کيا – خلافت عباسيه ميں اس فتنه اعتزال کو بڑا فروغ حاصل هوا – اس دور کے اهلسنت و الجماعت کے علماء سينه سپرهوگئے – اس دور ميں معتزله کے دو بڑے مکتب فکر تھے – (1) بصره کے و بستان کى بهاگ دوڑ واصل بن عطاء کے هاته ميں تهى (2) مدرسه بغداد کا قائد بشربن معتمر تها – ان دونوں مکتبه هائے فکر کے مابين بهت سے مسائل ميں فکرى نزاع تها .(تاريخ تفسير و مفسرين )
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں